No Download Link
Rate this Novel
Episode 39
مہروز کی حالت کافی سیریس تھی ڈاکٹرز نے اسے جواب دے دیا تھا بہزاد کو لگا ایک بار پھر اسکے اندر کھنڈر سا اتر گیا ہو ۔
روح کو ہارون لے گیا ہے ” شجر اسکے نزدیک آیا کافی پریشان دکھائی رہا تھا
بہزاد نے ایک نگاہ سپر ڈالی اور بنا کچھ بولے وہ وہاں سے نکل گیا لیکن جاتے جاتے پلوشہ کو کہہ گیا تھا
مجھے مہروز زندہ چاہیے “
یہ تو قدرت ہی جانتی تھی کہ وہ بامراد ہونے والا ہے یہ ہمیشگی کی تشنگی سینے میں چھپانے والا تھا
شجر بھی اسکے ساتھ نکلا تھا وہ جانتا تھا وہ ساتھ نہیں چاہتا لیکن اس وقت اسے اسکی ضرورت تھی ۔
دوسری طرف عدالت سے آنے والا نوٹس دیکھ کر بہزاد ایک لمہے کے لیے شاکڈ ہوا تھا اسے عدالت میں بلایا گیا تھا اپنے باپ کے کیس کی وجہ سے اس سے اسکی سیٹ بھی چھین لی گئ تھی ۔
یہ سب وہ کیا سب جانتے تھے ہارون کا کیا دھرا ہے وہ کوئی عام آدمی نہیں تھی بہزاد نے اس نوٹس کو خاطے میں نہیں رکھا اور وہ اپنی گاڑی لے کر نکلا تھا اسکے پیچھے شجر بھی تھا
اسنے روح کی لوکیشن کو ٹریپ کیا تھا وہ جہاں بھی تھی وہ اسے بآسانی مل جاتی کیونکہ روح کو موبائل ساتھ رکھنے کی بیماری تھی اور یہ بات اسکے حق میں سب اچھی تھی وہ زیادہ دور نہیں گئے تھے
کچے علاقے میں تھے وہ گاڑی کو ہوا میں اڑا رہا تھا پیچھے شجر یہ منظر دیکھ رہا تھا ۔
وہ ایسا ہی تھا اپنے ہر رشتے کے لیے اتنا ہی حساس اور پھر روح تو اسکی محبت تھی وہ جو اسکے جسم پر قدرتی نقش تھا لیکن آج تک اس نام کا پتہ نہ چل سکا کہ کیسے یہ نام اسکے وجود پر درج تھا وہ دوڑا رہا تھا گاڑی اڑی ترچھی پگڈنڈیوں میں گاڑی کا یوں بے مہار چلنا کچھ اچھا بھی نہیں تھا لیکن وہ پرواہ نہیں کر رہا تھا اور شجر ارادہ کیے ہوئے تھا کہ آج وہ اسے چھوڑ کر کہیں نہیں جائے گا یہاں تک کے بہزاد کے سامنے ہارون کی گاڑی ا گئ
ہارون نے گاڑی کو گھمایا اور ان دونوں کے بیچ اور بھی گاڑیاں آنے لگی جس کے باعث بہزاد پیچھے رہ گیا اور ہارون آگے نکل گیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہاتھ چھوڑو میرا جاہل آدمی دل تو کر رہا ہے تمھیں جان سے مار دوں”
تم جسے جان سے مارو گی ” ہارون کو ہنسی آئی
چھوڑو مجھے ” روح آج ہار ماننے کو تیار نہیں تھی یہ غلیظ آدمی اب مر جانا چاہیے تھا
مگر معلوم نہیں اس شیطانی آدمی کی رسی اتنی دراز کیوں تھی اسنے روح کو ایک بیسمنٹ کے کمرے میں قید کر لیا
بہزاد تمھیں جان سے مار دے گا ” وہ چلائی
فلحال تو بہزاد کو جان کے لالے پڑے ہوئے ہیں روح بے بی ” اسنے اسکے ہاتھ پاوں باندھے اور مسکرا دیا
دیکھو میں زیادہ گھمانے پھیلانے والا انسان نہیں تم خاموشی سے مجھے سے شادی کر لو ۔۔۔۔
اور میں کوشش کروں گا تمھارے بہزاد کا پیچھا چھوڑ دوں ورنہ پھنسا تو میں اسے ایسے چکا ہوں ساری زندگی بھی کیس لڑتا رہا آزاد نہیں ہو سکے گا ” وہ بولا جبکہ روح نے سر جھٹکا
تلخی سے مسکرا دی
وہ صرف تمھیں مارے گا اب تمھارا آخری وقت شروع ہو گیا ہے ہارون بیگ تم نے بے قصورواروں کو مارا
میں جانتی ہوں تم نے میری ماں سے علی شاہ کو مروایا لیکن علی شاہ مرے نہیں تھے وہ زندہ تھے اور تم نے انھیں زندہ کو جلا ڈالا تاکہ ان کا نام و نشان بھی نہ ملے مجھے سب پتہ ہے میں جانتی ہوں میں عدالت میں گواہی دوں گی میرا بہزاد بے قصور ہے اسکے ساتھ تم سب نے ظلم کیا ہے اسکا سب ختم کر دیا ” وہ چلا رہی تھی ہارون کی آنکھیں پھیل گئیں یہ بات تو انیسا اور رضا بھی نہیں جانتے تھے وہ زہر پینے کے باوجود بھی علی شاہ زندہ رہا تھا ۔
معلوم نہیں اسکی قوت مدافعت زیادہ تھی یہ وہ زہر اسپر اثر نہیں کر کے گیا تھا ۔
لیکن ہارون نے اسے جلا کر مارا تھا اسکی خبر ہارون کے علاوہ کسی کو نہیں تھی پھر روح کو کیسے تھی ۔
ہارون کی پھیلتی آنکھوں میں سفاکیت سی اترنے لگی بلکل ویسے ہی جیسے اسنے انیسا کو مار دیا تھا
ہاں مجھے سب پتہ ہے علی شاہ نے مجھے بتایا تھا انھوں نے مجھے بتایا تھا میں مرنے والا ہوں میرے بیٹے سے میرا رابطہ نہیں ہو پا رہا اور انھوں نے ہی مجھے بتایا تھا کہ میرے باپ کو تم نے مارا بے رحمی اور سفاکیت سے میری ماں کے ساتھ مل کر اور کتنے مظلوم اور بے قصور لوگوں کو ۔۔۔۔
علی شاہ کی ساری ریکارڈنگ میرے پاس ہے جس میں انھوں نے اعتراف کیا ہے کہ انھیں انیسا اور ہارون بیگ سے جانی خطرہ ہے
اور اسی رات تم نے میٹنگ بلوائی
اور علی شاہ جو وہاں سے شہر میں تھے انھیں با مجبوری دوبارہ اس ایریے میں داخل ہونا پڑا اور وہ ” وہ رو پڑی
وہ آخری سانس تک تم سے لڑے تھے تم نے مام کی شادی جان بوجھ کر ان سے کرائی ۔۔
یہ سارا پلین تمھارا اور مام کا تھا
یہ بس تمھارا تم نے ہمارا ہنستا کھیلتا گھر برباد کر دیا ۔
تم دوستی کے روپ میں دشمن نکلے میرے باپ سے دوستی کی آڑ میں تم نے دشمنی نبھائی اور پھر انھیں انیسا کی وجہ سے مارا انھیں تم پاکستان لے کر آئے اور علی شاہ سے حسد رکھتے تھے تم جس طرح تم نے بہزاد کے خلاف شجر کو استعمال کیا ۔
کیونکہ وہ تمھارا دوست تھا اسکے پاس اتنا مال اتنی دولت تھی اور پھر وہ سیٹ جس کے لیے تم نے جان توڑ محنت کرپشن سب کیا وہ تمھیں پھر بھی ملی تب تم نے اپنی ہی بیوی کی شادی کرائی
علی شاہ سے اور میری ماں ” وہ بری طرح رو دی
اتنے بڑے گناہ کا ارتکاب کر گئ تمھاری محبت میں نکاح پر نکاح کر لیا اسنے وہ علی شاہ کے ساتھ ایک ماہ رہی تمھاری وجہ سے ناجائز اور ایک مہینے بعد تم نے اور انھوں نے پلین بنایا جس کی بھنک علی شاہ کو ہو گئ ۔
اور انھوں نے جب تم لوگوں کے خلاف ایکشن لیا تب تم لوگوں نے انھیں مار دیا انھوں نے تمھارے خلاف سارے ثبوت اکٹھے کیے تھے وہ فائل میرے پاس ہے ” وہ دھاڑی ہارون کے رنگ اڑ رہے تھے ۔
اب تم یہ سوچ رہے ہو نہ کہ علی شاہ اور میرا کیا تعلق ہے وہ اپنی موت سے دو ہفتے پہلے سے میرے پاس آتے جاتے تھے شاید انھیں مجھ پر ترس ا گیا تھا ۔
اور پھر انھوں نے وہ سب چیزیں میرے پاس رکھوائے اور وہ ریکارڈ بھی دیا کہ تم انکی موت کے ذمہ ہو ۔
وہ غدار نہیں تھے اصل غدار تم ہو ۔
اور تمھاری موت بہت بھیانک ہو گی ہارون بیگ بہت بھیانک ” وہ غرائی جبکہ ہارون نے گھیرہ سانس بھرا
تم کہانی کا اتنا اہم مہرہ ہو اور میں تمھیں صرف ایک خوبصورت لڑکی سمجھ رہا تھا جس کے ساتھ چند راتیں گزار کر اپنے نفس کو تسکین دیتا ۔۔۔۔
لیکن نہیں بہت اچھا کیا تم نے یہ سب مجھے بتا کر ” وہ مسکرا دیا
تم اتنا گھیرہ راز لیے بیٹھی ہو
یہ شک تو مجھے تھا کہ میرے خلاف ثبوت بہزاد کے پاس ہیں تبھی اسکے باپ کی فائل شجر اور تمھارے ذریعے اپنے پاس منگوا لی تاکہ وہ میرے خلاف ثبوت نہ استعمال نہ کرے لیکن لیکن لیکن ” وہ ہنسا
وہ تو تم ہو جو میرے خلاف ثبوت لیے بیٹھی ہو ” وہ ہنسا
اور ایکدم اسکی گردن جکڑ لی
کہاں ہیں وہ سب ثبوت ” وہ غرایا
میں نے پوچھا کہاں ہیں “
ن۔۔نہیں”
تم برا مرو گی روح تمھیں بتانا ہو گا مجھے “
نہ۔نہین نہیں بتاو گی “
ٹھیک ہے پھر تم اپنے پیارے پیارے ناخن گنوا دو گی ” وہ مسکرایا اور اسکے نزدیک بیٹھ گیا
روح کانپ سی گئ کیونکہ اسکی آنکھوں میں ذرا بھر بھی لچک نہیں تھی
بہزاد ” وہ چلائی
ا گیا تمھارا عشق ” وہ نفرت سے ایک پلاس سے روح کی انگلیوں کے ناخن چھیڑنے لگا
ن۔۔۔۔ نہیں ” وہ تڑپ سی گئ خوف کے مارے سانس پھول گئے
بتاؤ روح ” اسنے روح کا ہاتھ پکڑ لیا
کہاں ہیں وہ ثبوت “
نہیں ” وہ اب بھی اپنی بات پر تھی اور ہارون نے اسکا ناخن پکڑ کر جڑ سے کھینچ دیا
روح کی دل خراش چیخیں تھیں کہ مردے بھی جاگ اٹھتے اور اسکے بعد وہ اسی انگلی پر پلاس مارنے لگا
بتاؤ بتاؤ روح کہاں ہیں وہ ثبوت ۔
بتاؤ بتاؤ ” وہ دھاڑا
اورفن اورفن میں ” وہ چیخوں کے درمیان بولی اور ہارون مسکرا دیا
ویری گڈ بے بی ڈول
دیکھو نقصان کر لیا تم بے اپنا ” وہ اسکا گال سہلانے لگا روح سے یہ تکلیف نا قابل برداشت تھی جبکہ اچانک ہارون نے سر اٹھایا بھاری قدموں کی آواز پر وہ چونک گیا
اسکا اتنا بندہ باہر تھا بہزاد ا بھی جاتا تب بھی اس تک نہ پہنچ پاتا لیکن وہ بھول گیا تھا اس وقت شجر عباس اسکے ساتھ ہے جس کی ایک کال پر ہزاروں سولجرز کھڑے ہو جائیں
اور ہوا کچھ یوں ہی تھا وہ خاموشی سے اسکا راستہ آسان کر رہا تھا اور بہزاد بیسمنٹ میں اتر گیا
روح کی حالت دیکھ کر بہزاد اس سے پہلے ہارون کی جانب بڑھتا ہارون نے گن روح پر تان لی اور بہزاد کے قدم وہیں رک گئے ۔
تمھیں کیا لگتا ہے ہر کھیل میں تم ہیرو کیطرح انٹری مار گے اور جیت جاؤ گے بہزاد علی شاہ ” وہ بولا اور روح کے پیچھے جا کھڑا ہوا اور تڑپتی ہوئی روح کے سر پر گن رکھ دی بہزاد نے اسکی انگلی کی جانب دیکھا جس کی وجہ سے وہ تکلیف سے بلبلا رہی تھی
اسی طرح اسے خوشیاں راس آنی بھی نہیں تھی اکثر وہ خوشیوں کے اتنے قریب ا کر اپنے کو ہی نقصان میں ڈال دیتا تھا اسنے اپنی گن نیچے کی اور ہارون مسکرا دیا
بیٹھ جاؤ ” ہارون نے کہا تو اسے چار نچار بیٹھنا پڑا جبکہ وہ خوش ہو گیا
دیکھو تم یہاں سے کہیں دفع ہو جاؤ میں تم سے مزید الجھنا نہیں چاہتا ” ہارون کو جب تسلی ہوئی کہ اب وہ کچھ نہیں کرے گا تبھی وہ روح کے پاس سے ہٹا
میں تمھیں باہر کا ویزہ لگوا دیتا ہوں تم چین سے اپنی زندگی گزارو باقی یہ لڑکی اور یہ پاکستان اسے میرے پاس رہنے دو ” وہ بولا جبکہ بہزاد اب بھی خاموش بیٹھا تھا وہ تھوڑی دیر روح کے آگے پیچھے چلتا رہا اور اسکے بعد مسکرا کر جیسے ہی پلٹا بہزاد نے اسکی ٹانگوں پر فائر کیا
ہارون کے لیے ان ایکسپیکٹیڈ تھا کہ بہزاد اسپر گولی چلائے گا ۔
اور اسنے روح پر گولی چلانی چاہی کہ بہزاد نے اسی ہاتھ پر لات ماری اور گن دور جا پڑی ۔۔ لمہوں میں بازی بدل گئ تھی
ایسا ہی ہوتا ہے ” کبھی عرش پر تو کبھی فرش پر “
کیا تمھیں لگتا ہے تم فرش پر ا گئے ہو ” اسنے بڑی خبیث مسکان سے اسے دیکھا
ہارون نے اپنا آپ اس سے چھڑانا چاہا جبکہ شجر بھی اتر گیا
بہزاد تم اسکو کچھ نہیں کہہ سکتے اس سے نپٹنا ہمارا کام ہے چھوڑ دو اسے “
شجر کے یہ کہنے کی دیر تھی وہ اگ کے شعبے کیطرح پھٹ پڑا شجر پر گن تانے وہ سرخ نظروں سے اسے دیکھنے لگا
اگر اسکے اور میرے بیچ کوئی بھی آیا میں جان سے مار دوں گا پھر وہ کوئی بھی ہو یہ عام شہری ہے نہ اسے لے کر یہاں سے دفع ہو جاؤ اور اپنی اس ٹیم کو بھی “
لیکن تمھارے خلاف نوٹس ہے تم زیادہ دیر کہیں نہیں رک سکتے تمھیں عدالت میں پیش ہونا ہے ” شجر نے اسے یاد دلایا
میں نے کہا ہے دفع ہو جاؤ ” اسکی دھاڑ بیسمنٹ میں گونجی
شجر ۔۔۔ شجر نہیں تم یہاں سے کہیں کہیں جاؤ گے تم ٹھیک کہہ رہے ہو مجھے قانون کے حوالے کر دو ” ہارون چلایا جبکہ بہزاد مسکرا دیا اسکی آنکھوں میں بہزاد کا خوف تھا جیسے وہ اسپر جھپٹا ہوا تھا شجر نے ایک قدم دور لیا
وہ بہزاد سے الجھ نہیں سکتا تھا کتنی ہی دیر وہ اسے کہتا کرنی اسنے اپنی ہی تھی وہ جان بوجھ کر دور ہوا کہ اس آدمی کو اسکے کیے کی سزا سو فیصد ملنی چاہیے اسنے روح کو آزاد کرایا
روح الگ جانے کے لیے تیار نہیں تھی لیکن بہزاد اس وقت کسی رشتے کو نہیں دیکھ رہا تھا شجر بمشکل اسے وہاں سے لے گیا اور پھر وہاں بہزاد اور ہارون رہ گئے
بہزاد نے اسے آزاد کر دیا اور بیسمنٹ کا دروازہ بند کر دیا
تم میرے ساتھ کچھ بھی نہیں کر سکتے کیونکہ یہاں بم لگے ہوئے ہیں اگر میں مرو گا تو تم بھی مرو گے “
مجھے گھنٹہ فرق نہیں پڑتا کم اون کھڑے ہو جاؤ “
اسنے اسکا گریبان پکڑ کر اسے کھڑا کرنا چاہا لیکن اسکی ٹانگ پر لگی گولی نے اسے کھڑا ہونے نہیں دیا
نہیں اسطرح نہیں ہارون بیگ یوں نہیں مرو گے تمھیں میں ماروں گا ” اسنے اسکے منہ پر مکے مارنا شروع کیے
اور دس سال کی بھڑاس تھی جو اس وقت وہ اسپر نکال رہا تھا اسنے ہر طرح سے اسے پیٹ ڈالا یہاں تک کے وہ ادھ موا سا ہو کر ایک طرف لڑھک گیا
تم یوں نہیں مرو گے تمہیں میں ایسی موت دوں گا کہ تم سوچوں گے ” وہیں اسے بند کر کے وہ وہاں سے نکل گیا
نکالو مجھے یہاں سے ” ہارون کی آواز باعث سکون تھی اسکے لیے ۔۔۔
اسنے سب سے پہلے وہ بم تھا جو ڈسپوزل کرنا ضروری تھا ورنہ وہ صرف ایک بار مرتا بہزاد علی شاہ اسے روز تھوڑا تھوڑا مارنا چاہتا تھا ۔
بہت محنت کے بعد اسے وہ بم ملا جس کو ڈسپوزل کرتے ہوئے اسے بس اتنا یاد تھا کہ لال وائیٹ اصل جڑ ہے اگر وہ غلط کاٹ دے گا تو اسکے وجود کا ایک ٹکڑا بھی کسی کو نہیں ملنا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اسلام و علیکم سر ” مبین خان کا ٹرانسفر جیسے ہی اپرو ہوا شجر اسنے کمرے میں پہنچ گیا
وعلیکم اسلام ” وہ خود بھی متفکر تھے
اتنا سب کچھ کیسے ہو سکتا ہے تم نے مجھے بتایا کیوں نہیں “
سر اس وقت عدالت سے رہائی ضروری ہے ہارون بیگ کے کارندے بہزاد کو گرفتار کرنے کے لیے کتوں کیطرح پھیر رہے ہیں ” شجر بولا تو مبین خان نے سر ہلایا اور موبائل اٹھایا شجر جانتا تھا وہ یہ کام آسان کر دے گا ۔۔۔۔۔۔۔۔
بہزاد دوبارہ شہر میں آنے کے بعد اگر گرفتار ہو گیا تو ۔۔۔ ہارون آزاد ہو جاتا اور اب ہارون کو باہر نہیں نکلنا چاہیے تھا وہ مبین خان کی جانب دیکھ رہا تھا جو کسی سے فون پر بات کر رہے تھے جبکہ دوسری طرف مہروز زندگی اور موت کی بازی لڑ رہا تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ سب بھلا چکا تھا اپنا پرایا روح مہروز سب کچھ ۔۔۔۔
عدالت نے اسکے باپ کا کیس دوبارہ اوپن کر دیا تھا یہ پھر ہارون کروا چکا تھا
پچھلے ایک ہفتے سے اسنے ہارون روح اور مہروز کسی ایک کی بھی شکل نہیں دیکھی تھی وہ صرف علی شاہ کے کیس کے لیے پھیر رہا تھا اس وقت اسے کچھ یاد تھا تو صرف علی شاہ جس کے حق میں بولنے کے لیے اسکے پاس کچھ بھی نہیں تھا
وہ گرفتار نہیں ہوا تھا لیکن اپنے باپ کے کیس میں آج دس سال بعد عدالت تک ضرور پہنچ گیا تھا ۔۔۔۔
وہ نہیں جانتا تھا حالت اس نہج پر ا جائیں گے کہ وہ آج اکیلا کھڑا ہو گا ۔۔۔۔
شجر عباس اسے عدالت میں ہی دیکھائی دیا تھا مبین خان بھی لیکن اسے کسی کی مدد کی ضرورت نہیں تھی ایک جھوٹا کیس اسکی زندگی کو اتھل پتھل کر گیا تھا
وہ پاوں جھلاتا کافی پر سکون تھا ۔
اسنے سامنے دیکھا اسکا وکیل مسلسل بول رہا تھا سامنے سے ڈینش کیا جا رہا تھا
حالانکہ اسکی کشادہ پیشانی پر پسینے کے کئ قطرے تھے لیکن وہ فائل جو اسنے علی شاہ کے لیے تیار کی تھی جس میں صاف لکھا تھا وہ بے گناہ ہے وہ فائل وہ عدالت میں پہنچا چکا تھا
علی شاہ کا قتل ہوا تھا یہ صاف صاف واضح تھا لیکن اس فائل میں یہ درج تھا کہ علی شاہ نے زہر خود پیا اور یہاں ا کر جب گھنٹوں کی بحث ان کے حق میں اترنے سے قاصر ہوئی تو وہ بے چینی سے کھڑا ہو گیا
اتنا قریب ا کر وہ ہار نہیں سکتا تھا ۔
ہارون بیگ اسکی قید میں تھا لیکن وہ تنہائی میں بھی نہیں جیت سکتا تھا ۔۔
میرے پاس ایک اور ڈینش ہے سر اور اسکے بعد شاید یہ کیس اور مظبوط ہونے کے ساتھ آج اپنے انصاف کو پہنچ جائے گا ” اسکا وکیل بولا ۔
اور اسنے مڑ کر دیکھا کیونکہ ساری عدالت اس شخص کو دیکھنے کے لیے موڑی تھی جو آخری سہارا تھا اس کیس کا ۔۔۔۔۔
روح ” بہزاد اسے حیرانگی سے دیکھنے لگا یہ ہی حال شجر کا بھی تھا
روح سنجیدگی سے چلتی ہوئی اس جگہ ا کھڑی ہوئی اسنے بہزاد کو مسکرا کر دیکھا اور پھر سوالات شروع ہو گئے بہزاد کھڑا ہو گیا
وہ کیوں آئی وہ سارا بنا بنایا کھیل بگاڑ دیتی اسے یاد آیا جب اسنے کہا تھا کہ وہ اسکے ساتھ کھڑی ہو گئ جب اسے ضرورت ہو گئ
لیکن اسے ایسا ساتھ نہیں چاہیے تھا جو دس سال پیچھے لے جاتا اسے ۔
اسنے بہت محنت کی تھی بس ان سب لوگوں کی نظروں میں اپنے باپ کو بے گناہ ثابت کرنے کی اسکی بے چینی عروج پر تھی
روح اہستگی سے بولنا شروع ہوئی اسکے ہاتھ پر پٹی بندھی تھی یقینا اس ناخن کی وجہ سے ۔۔۔
اسنے بولنا شروع کیا اور بولنے سے پہلے ان ہیل کیا خود کو تاکہ وہ کانفیڈنس سے بولے وہ صرف بہزاد کو دیکھ رہی تھی
اور آہستہ آہستہ بولتی چلی گئ
اسنے وہ سب کچھ وہاں بتایا جو کہ علی شاہ اور اسکے درمیان تھا جو وہ ہارون کو بتا چکی تھی
اسنے وہ چیزیں پیش کیں جس میں علی شاہ کی ریکارڈنگ تھی ۔۔۔۔
محترمہ ۔۔۔ محترمہ یہ سب کیا ڈرامہ ہے کیا آپ بتا سکتی ہیں کہ علی شاہ اپ سے کس طرح یہ سب کہہ گئے “
انھیں اپ ہی کیوں لگی قابل یقین ایک بیمار حال لڑکی جو یتیم خانے میں پڑی ہے اس سے ہمارے آرمی چیف آفیسر اپنے راز شئیر کر رہے ہیں
واٹ دا ہیل ” وہ ہنسنے لگا تو ساری عدالت ہنس پڑی ۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جاری ہے
