Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 28

ہارون گھر میں داخل ہوا تو وہ کسی کو مسلسل کال ملا رہا تھا مگر مقابل اسکی کال اٹینڈ نہیں کر رہا تھا ۔
اسنے موبائل بند کیا اور اپنے کمرے کی جانب بڑھنے لگا کہ اچانک اسے خیال سا گزرا اور اسکے دماغ پر فرعونیت سی اجاگر ہوئی
وہ گلابی گڑیا اب بڑی ہو گئ تھی تیور دیکھا رہی تھی اور اسکی سبز آنکھیں ۔۔۔
اف ” ہارون کے دل میں گدگدی سی بھر رہی تھی وہ اپنے کمرے کی سمت سے پلٹا اور سیدھا رخ روح کے کمرے کی سمت بڑھا دیا
وہ اہستگی سے قدم اس جانب بڑھا رہا تھا کہ اگر کوئی اسے دیکھ لے گا تو اختلاف تو یقینی ہے اور انیسا ہی نہ دیکھ لے
اسنے روح کے کمرے کے دروازے پر ہلکا سا دباو ڈالا
اسے لگا تھا دروازہ لاک ہو گا لیکن دروازہ کھلا دیکھ کر وہ حیران رہ گیا اسنے کھلتا دروازہ دیکھ کر خوشی سے اندر قدم رکھے اور اندر سے دروازہ لاک کر دیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ دیوار ٹاپ کر اترا تو اسکے اترنے کی آواز بھی محسوس نہیں ہوئی تھی اسنے نیچے سے ہی اوپر کی جانب نگاہ اٹھائی
یہاں آنے کا مقصد صرف ایک تھی
وہ نگاہ سے بچتا ہوا اندر کی جانب بڑھنے لگا
وہ بہزاد علی شاہ تھا اسے پکڑنا ناممکن تھا
مہروز کو بھیجنا اسکا غلط فیصلہ تھا وہ انیسا کو انجان خود سے رکھنا نہیں چاہتا تھا اور اب ۔۔۔ اب تو اسکے پاس کچھ نہیں تھا نہ رہنے کو چھت نہ ہی کوئی لگزری چیز اسکی ہر چیز پر حکومت نے سیل لگا دی تھی اور شجر عباس کتوں کیطرح اسکے پیچھے پڑا تھا
ہفتہ گزر گیا تھا اسنے تو اپنی شکل تک نہیں دیکھی تھی ماسک چہرے پر چڑھائے وہ اندر داخل ہوا اور انیسا کے کمرے کی جانب ننھا
اسکے ہاتھ میں ایک چاقو تھا وہ انیسا کے لیے بے رحم ہی رہے گا یہ بات پتھر پر لکیر تھی
اسنے وہ دروازہ کھولا اور انیسا کے کمرے کا دروازہ کھولا جبکہ وہ دروازہ لاک تھا
وہ دروازہ کھول کر وہ اندر داخل ہوا اور انیسا کو پرسکون نیند سوتا دیکھ اسکی آنکھوں کی سرخی بڑھ گئ
وہ صوفے پر بیٹھ گیا
انداز میں اتنی لاپرواہی تھی کہ دروازہ بھی بند کرنے کی زحمت نہیں کی اور صوفے پر بیٹھ گیا
عجیب جوتے کی دھمک سی کمرے میں گونجنے لگی جو انیسا کی نازک مزاجی پر گراں گزری تھی
لیکن جوتے کی دھمک تو کم ہوئی ہی نہ تھی وہ ایکدم گھبرا کر اٹھ بیٹھی اور سامنے ہی بہزاد علی شاہ کو دیکھ کر اسکے وجود پر خوف کی کپکپی سی طاری ہو گئ ۔
اسکا چہرہ لٹھے کی مانند سفید ہو گیا بہزاد اسے دیکھنے لگا
ہ۔۔۔۔ہارون ” اسنے چیخنے کی کوشش کی لیکن اسکی آواز اس کمرے میں ہی کہیں دم توڑ گئ
بہزاد پنی جگہ سے اٹھا اور اسکے نزدیک ا گیا
جیسے ہی وہ اسکے نزدیک آیا اسکی زبان تالو سے جا چپکی
بہزاد نے لیمپ بھی بھجا دیا
انیسا نے کانپتے ہاتھوں سے سائیڈ کے دراز سے ریوالور نکالنا چاہا مگر چاقو کی خوفناک آواز دے اسکی دل خراش چیخ ابھری
وہ بولا کچھ نہیں تھا لیکن اسکی ہاتھ کی پشت پر چاقو مارا جس سے اسکی رگ سے نکلتا خون پچکاری کی مانند سفید شیٹ کو داغدار کر گئ
آہ۔۔۔۔۔ جا۔۔۔جاو یہاں سے کیوں کیوں میرے پیچھے پڑے ہو ” انیسا روتے ہوئے بے سبی سے بولی
اور بہزاد نے اسکی شاہ رگ پر چاقو رکھا وہ بہزاد کو دیکھ نہیں پا رہی تھی البتہ محسوس ضرور کر رہی تھی
چ۔۔۔چھوڑو ہٹو ہارون ہارون حمزہ یہ مجھے مار دے گا یہ پھر ا گیا
حمزہ ” وہ حلق کے بل چلانے لگی اور اچانک کمرے کی لائٹس اون ہو گئیں
مام ” حمزہ دوڑ کر سکے پاس آیا تھا انیسا کے ہاتھ میں چاقو تھا اور اسنے اپنی رگیں کاٹ لیں تھیں
یہ کیا کیا ہے آپ نے خون بہت تیزی سے نکل رہا ہے چلیں ” وہ چلایا
انیسا کی آنکھیں باہر کو نکل آئیں خون زیادہ بہنے کی وجہ سے اسے چکر تو ضرور آ رہے تھے لیکن پھر بھی وہ آنکھیں پھاڑے اس کھڑکی کو دیکھ رہی تھی جس کا دبیز پردہ اب بھی ہل رہا تھا
یہ کیا کیا ہے آپ نے ” حمزہ کافی غصے سے بولا تھا
ڈیڈ کہاں ہے ” اسکے پاس کئی سوال تھے جس کا جواب وہ نہیں دے رہی تھی وہ ماں کو گھسیٹ کر باہر لے گیا
اور وہ دونوں گھر سے باہر جا چکے تھے
جبکہ بہزاد علی شاہ نے اس پردے سے اپنا چاقو صاف کیا اور ایک نگاہ گھر سے باہر نکلتی گاڑی پر ڈالی اور انیسا کی بالکنی سے وہ ایک اور بالکنی میں کود گیا ۔
وہ جیسے ہی کودا وہاں سے آگے بڑھنے لگا کہ اچانک اسکی نگاہ ایک منظر پر ٹہر گئ
وہ یقینا ہارون بیگ تھا
کمرے میں اندھیرا زیادہ تھا بس موبائل کی ٹارچ جلی ہوئی تھی بہزاد نے دو قدم پیچھے لیے اور سامنے دیکھنے لگا
وہ بیڈ کے پاس بیٹھا تھا ٹارچ کی روشنی میں روح کا چہرہ بڑا واضح تھا اور وہ روح کے ہونٹوں سے کھیل رہا تھا
اسکے گلابی ہونٹوں پر ہارون کی انگلی کسی ناگ کیطرح سستی سے چل رہی تھی جبکہ وہ کسمسا رہی تھی
ہارون نے لبوں پر زبان پھیری ۔۔اور ذرا آگے ہوا
اسنے موبائل کی ٹارچ ایک طرف رکھی روح کے چہرے پر اسکی بھاری انگلی چلنا شروع ہوئی اور اسکی بھاری انگلی اسکے نائیٹ سوٹ کے گریبان تک پہنچ گئ
اسنے اسکے گریبان پر انگلی چلانا شروع کی اور دانت نکوستا ہنسنے لگا اور بہزاد کھڑکی سے اندر کود گیا
چونکہ کمرے میں اندھیرا تھا اس لیے ہارون بھی ایکا اسکی سمجھ نہیں سکا کوئی کودا تھا لیکن کون ؟ اسنے سب سے پہلے لات مار کے اسکا موبائل اپنے پاوں کے نیچے دبایا اور کمرے میں مکمل اندھیرا ہو گیا اور دوسری لات اسنے ہارون کے سینے پر ماری تھی
ہارون جا کر بکس ریک میں لگا تو ایک شور سا برپا ہو گیا جس پر وہ ایکدم اٹھ کر بیٹھ گئی کمرے میں مکمل اندھیرا تھا روح اس اندھیرے میں کچھ سمجھنا چاہ رہی تھی لیکن فلحال وہ گھیری نیند سے جاگی تھی تبھی وہ سمھجنا چاہ رہی تھی ہارون حق و دق تھا
جبکہ بہزاد نے ایک اور لات اسکے منہ پر ماری اسکی آواز نہیں تھی
ہارون کراہ اٹھا اسکے کراہنے پر ایکدم روح پہچان گئ پریشانی سے وہ بورڈ کی جانب دوڑی مگر کسی کی مظبوط گرفت میں اسکی کلائی جکڑی گئ
چھوڑو کون ہو تم ” وہ خود کو چھوڑنے کی کوشش کرنے لگی مگر اسکی گرفتار سے آزاد نہ ہو سکی
ہارون پیچھے سے نکلنے لگا جبکہ بہزاد نے اسکے ہاتھوں پر جوتا رکھ کر اسکی انگلیوں کو اس بڑی طرح زخمی کیا کہ ہارون نہ چاہتے ہوئے بھی چیخنے لگا اسکی چیخ و پکار روح سن رہی تھی وہ سمجھ گئ تھی کمرے میں تیسرا کوئی اور شخص بھی اور ہارون کی چیخ و پکار بھی سن سکتی تھی ۔
بہزاد نے اسکی انگلیوں کو بلکل کچل ڈالا تھا اور ہارون نے زبردستی اسکے جوتے کے نیچے سے اپنی انگلیاں کھینچی درد سے دھورا ہوتا وہ باہر بھاگا اور ایکدم دروازہ کھلا کمرے میں روشنی ہوئی روح نے ایک ہی نظر میں پہچان لیا تھا وہ کون ہے اور دروازہ بند ہو گیا
دروازہ بند ہوتے ہی اسکی کلائی کو بھی بہزاد نے آزاد کر دیا
بہزاد ” وہ تڑپ کر بولی
مگر اسکے بوٹ کی دبی دبی آواز دور جا رہی تھی روح اسکے عکس کو سمجھتی فورا اسکے آگے ا گئ اور اسکے چوڑے سینے میں سما گئ
ب۔۔۔بہزاد میری بات “
اگر وہ کچھ سننا چاہتا ہوتا تو سنتا اسے ان سب باتوں سے بیزاری تھی تبھی روح کی گردن پر انگلی رکھ کر ایک مخصوص رگ دبائی اور وہ اسکے ہاتھوں میں ہی منٹوں میں بے ہوش ہو گئ
بہزاد نے اسے لاپرواہی سے بیڈ پر پھینکا اور وہاں سے نکل گیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
انگلیوں کا زخم ایک طرف جہاں ہارون چھپا رہا تھا وہیں حمزہ نے باپ کو انیسا کی رات والی حرکت چپکے سے بتا دی تھی ہارون کو یقین تھا کل رات اسکے گھر پر کون آیا تھا تبھی انیسا کی خاموشی پر کچھ نہیں بولا اور ناشتہ کرتا رہا لیکن اچانک موبائل بجنے کی آواز پر اسنے الٹے ہاتھ سے موبائل اٹینڈ کیا اور جو خبر اسے ملی تھی وہ اسکے قدموں تلے زمین کھسکی گئ
بہادر خان کی موت کا سن کر وہ کھانا بھول گیا تھا
کیسے کب ” وہ دھاڑا انیسا حمزہ اور ماہ نور تینوں نے اسے دیکھا تھا
ایسا کیسے ہو سکتا ہے تمھیں غلط فہمی ہے کوئی ” ہارون بھکلا کر کہتا باہر بھاگا جبکہ حمزہ نفی میں سر ہلانے لگا
آرمی آفیسر ہونا بھی ایک جرم ہے انسان اپنی فیملی کے ساتھ دو لمہے بیٹھ کر ناشتہ نہیں کر سکتا
میں تو کبھی زندگی میں یہ کریں چوز نہیں کروں گا ” حمزہ نے اکتا کر کہا اور ماہ نور ہ نے بھی سر ہلایا تبھی روح بھی وہیں ا گئ اسنے ٹیبل پر ان تینوں کو اور پھر انیسا کے ہاتھ پر بندھی پٹی کو دیکھا
انیسا نے بھی روح کو دیکھا اپنا ہاتھ چھپا لیا ہلکا سا مسکرائی
روح او بیٹے ناشتہ کرو ” وہ بہت محبت سے بولی تھی
آپکے ہاتھ پر کیا ہوا ہے ” اسنے سیدھا سوال کیا
بس چوٹ لگ گئ ” وہ ویسے ہی بولی ۔
روح چپ ہو گئ اور ان سب نے ناشتہ کیا تھا اکٹھے جبکہ دوسری طرف ہارون نے اپنے افس کی ایک ایک چیز توڑ دی تھی اسکا سارا ڈیٹا ہیک تھا اور غائب تھا
اس میں اسکے ہر جرم کی فہرست تھی ۔
بہزاد علی شاہ ” دانت پیس کر وہ بہزاد سے شاید اب اسکا کلیجہ چھیننے کا ارادہ کر چکا تھا یہ دوسری چوٹ تھی جو وہ اسے اتنے دھڑلے سے دے کر گیا تھا اور رات اسکے گھر میں گھسا تھا وہ پسینہ پونچھ کر وہاں سے چلا گیا
اور شجر پر بھی الٹا سیدھا چلایا خاصا برسا تھا کہ وہ کیا کر رہا ہے ایک ادمی نہیں مارا اس سے ۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اسنے دروازے کو لے مار کر کھولا اور ایک ٹوٹے پھوٹے کمرے میں ا گیا ۔
فلحال رہنے کے لیے اس کے پاس بس یہ چوبارہ تھا جو ایک بوڑھی عورت نے اسے دیا تھا ۔
وہ بدقسمتی سے اسکے گھر کے باہر تھا جبکہ اس عورت نے ترس کھا کر اسے وہ چوبارہ دے دیا
اور بہزاد اس چوبارے میں ا گیا لوگ اسے گونگا سمجھ رہے تھے کیونکہ وہ ایک لفظ منہ سے نکالنے کے لیے تیار نہیں تھا پورے ایک ہفتے بعد اسنے اپنے چہرے پر سے ماسک ہٹایا اور کیپ اتاری جوتے اتار کر ایک طرف پھینکے
اور ٹوٹے ہوئے صوفے پر ایکدم گیرہ اسکی آنکھوں میں فلحال ایک منظر ٹہرا ہوا تھا اور وہ تھا ہارون کی انگلی کا روح کے چہرے پر گھومنا ۔۔۔۔
پاوں جھلاتے وہ جیسے دماغ میں اٹھنے والی کئی سوچوں سے تھک کر سیدھا ہوا اور اس چوبارے کی چھت کو گھورنے لگا وہاں سے گرمی اسطرح برس رہی تھی جیسے سورج نے ٹھان لی تھی کہ وہ بہزاد کو پگھلا دے گا لیکن جس کے وجود کے اندر بھی آگ لگی ہو وہ ان سب سے کیسے گھبرا سکتا تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ گاڑی لے کر اسی جگہ پر ا گئ وہاں مہروز اور وہ سب لوگ موجود تھے روح ڈرتے ڈرتے اندر داخل ہوئی اور ان میں سے ایک گارڈ نے روح کو دیکھا لیکن بنا کچھ بولے ہی منہ موڑ لیا
پلیز مجھے بہزاد کا پتہ بتا دیں آپ لوگ “
ہمیں علم نہیں ” کڑک لہجے میں وہ بول کر اپنی گنز اٹھا کر وہاں سے چلا گیا
جبکہ اندر سے مہروز باہر آیا اور اسنے روح کو دیکھا تو غصے سے بھڑکا اٹھا
تم نے کیا تماشہ لگایا ہو ہے کیوں آئی ہو یہاں “
پلیز مہروز مجھے ایک بار بہزاد سے ملنے دو صرف ایک بار “
شیٹ اپ روح اسکے پیچھے پولیس آرمی کتے کیطرح پڑی ہے تم صرف بہزاد کو مارنا چاہتی ہو اسی لیے یہاں آئی ہو تاکہ میں تمھیں بتاؤ اور تم اپنے شجر کو اسکی چھاتی پر چڑھا دو ” وہ چلا اٹھا جبکہ روح اس بے اعتباری پر اپنی نم آنکھوں کو پونچھ بھی نہ سکی
م۔۔۔۔میں اتنی بے اعتبار ہوں تمھارے لیے لیکن اس اسوقت میں واقعی اسے نقصان نہیں پہنچانا چاہتی میں خود آئی ہوں دیکھو میرے پاس موبائل بھی نہیں ہے میرے پس کچھ نہیں ہے پلیز مہروز مجھے ایک بار بہزاد سے ملنے دو ایک بار اسے کہنے دو کہ مجھے اس سے محبت ہو گئ ہے
پلیز بس ایک بار ” وہ اسکے آگے ہاتھ جوڑ گئ جبکہ مہروز کو اسپر بلکل ترس نہیں آیا اور سر جھٹک کر اسنے روح کا ہاتھ پکڑا اور اسے گھسیٹ کر گھر سے باہر نکال دیا
آئندہ یہاں نہ آنا اگر تم یہاں آئی تو تم شاید اب جان چکی ہو ہم کون ہیں تبھی تمھاری یہ بھناہٹ گڑگڑاہٹ اور محبت میں چھپ گئ ہے اپنے کام سے کام رکھو لڑکی ورنہ تمھارا نام و نشان مٹانے میں چند لمہے لگیں گے ہمیں ” وہ بھڑک کر بولتا دروازہ اسکے منہ پر بند کر گیا
روح نے ایک نظر بند دروازے کو دیکھا کچھ دیر بیٹھی رہی اور پھر وہاں سے اٹھ کر شکستہ قدموں سے وہ پلٹ گئ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مہروز اس چوبارے میں پہنچا وہ پورے چاند کی چاندنی کے نیچے ایک لکڑی کے پھٹے پر دراز تھا مہروز نے اردگرد دیکھا
اس سے زیادہ رومانٹک جگہ نہیں تھی تمھارے پاس ” بہزاد نے گردن گھما کر اسکی سمت دیکھا اور پھر سے سیاہ رات کو دیکھنے لگا مہروز دیکھ سکتا تھا اسکی پیشانی پر پسینے کے قطرے چمک رہے تھے اور اسکی باڈی پر بھی پسینے کے قطرے تھے جن سے وہ خود الجھن کا شکار تھا
مہروز کو ایک لمہے کے لیے اسپر ترس بھی آیا لیکن پھر بھی وہ کچھ نہیں بولا
تم واپس لوٹ او میں مبین خان سے رابطے کی کوشش کر رہا ہوں لیکن یہ سب ہارون نے کرایا ہے اسنے راتوں رات ٹرانسفر کرایا ہے اسکا لیکن زیادہ دیر نہیں ہو جائے گا سب ٹھیک ہمارے ساتھ بہت کچھ ہے تمھیں کچھ نہیں ہو گا ” وہ بولا
مجھے وہ فائل دوبارہ چاہیے ” وہ سپاٹ لہجے میں بولا
وہ تمھاری روح آئی تھی رو رہی تھی تمھارا پتہ پوچھ رپی تھی بیٹھے بیٹھائے اسے تم سے محبت ہو چکی ہے نہایت چالاک اور مکار لڑکی ہے ” مہروز غصے سے بھنایا
بہزاد نے کوئی ری ایکشن نہیں دیا
میں تو کہتا ہوں کہ اسکو اب ہم ٹریپ کرتے ہیں اور دوبارہ وہ فائل منگاتے ہیں اس سے “
بچوں جیسی باتیں نہ کرو تم جاو یہاں سے ” بہزاد نے کہا اور جلتی ہوئی آنکھیں بند کر لیں
بہزاد تم لوٹ او ہم اب بھی بہت کچھ کر سکتے ہیں مل کر تم اکیلے نہیں ہو تم یہ کیوں سوچ رہے ہو کہ ہمارے جانوں کو تمھاری وجہ سے نقصان ہے یہ مشن ہمارا ہے ہمیں دیا گیا ہے ہم سب لڑیں گے “
تم جاؤ مہروز ” صاف لفظوں میں اسے یہاں سے چلے جانے کا وہ کہہ چکا تھا مہروز چند لمہے کھڑا رہا اور گھیرہ سانس بھر کر وہ اس چوبارے سے اتر گیا
اور جس طرح وہ آیا تھا ویسے ہی چلا گیا جبکہ دوسری طرف روح کی گاڑی کچھ فاصلے پر کھڑی تھی اسنے دروازہ کھولا اور جلدی سے باہر نکلی وہ اس جگہ کو دیکھنے لگی
اسکی آنکھیں بھیگ رہی تھیں
اسنے پورا دن انتظار کیا تھا اور اب اسکا انتظار تمام ہو گیا اور وہ اپنے گال صاف کرتی جلدی سے اس چوبارے کی جانب بڑھی اسکے گال سرخ ہو گئے تھے گرمی کی شدت سے اور اسکی پیشانی پر بھی ہلکا ہلکا پسینہ بڑھ رہا تھا
وہ اندر داخل ہوئی تو بڑی مشکل سے اندر آئی تھی
کیونکہ وہاں سے چڑھتے ہوئے جس طرح مہروز کو دیکھا تھا اس طرح ایک لڑکی کی حیثیت سے دیکھنا بے حد مشکل تھا وہ بھی اس جیسی لڑکی کا ۔۔۔۔
وہ اوپر چڑھی تو اسکے ہاتھ پاوں پر خراشے سی آ گئیں
اور جب وہ اس ٹوٹے ہوئے دروازے سے اندر داخل ہوئی تو اسنے اپنی بے ہنگم ہونے والی سانسوں کو سنبھالنے کی ہر ممکن کوشش کی تھی
تھوڑے ہی فاصلے پر چھت تھی اور وہ اس چھت پر موجود ایک لکڑی کے پھٹے پر لیٹا ہوا تھا شرٹ لیس تھا اسکا وجود دور سے ہی چمک رہا تھا جبکہ مچھر شاید اسے تنگ کر رہے تھے روح کی انکھیں بھیگ گئیں کہ ایسے تو اس شخص کو اسنے دیکھا ہی نہیں تھا وہ اسکی وجہ سے تکلیف میں تھا وہ اسکی وجہ سے تکلیف میں آ گیا تھا ۔
اسنے سب سے پہلے جھک کر اپنی ہیلز اتاری اور بنا آواز کیے وہ وہاں سے اس چھت پر ا گئ تو اسے گرمی کا احساس اسے شدت سے ہوا
لیکن خود میں ہمت نہیں پائی تھی کہ وہ اسکے سامنے جائے لیکن ضدی تو تھی نہ وہ یہاں تک پہنچ گئ تھی اب پیچھے لوٹنے کا تصور کوئی نہیں تھا
اسنے آگے قدم بڑھایا اور بہزاد کے سامنے ا گئ وہ آنکھیں بند کیے لیٹا ہوا تھا
پسینے سے اسکی رنگت اور بھی چمک اٹھی تھی جبکہ بہزاد نے ایکدم انکھ کھولی تو سامنے روح کو دیکھ لب دبائے وہ آنسو روکنے کی کوشش میں تھی
وہ کچھ نہیں بولا جبکہ روح نے اپنے بیگ سے رومال نکالا اور اسکی پیشانی صاف کی
شاید میں دنیا کی واحد لڑکی ہوں جسے آپ دیکھنا نہیں چاہتے یہ پھر “
اس سے بات نہیں بن پڑی کیونکہ بہزاد نے اسکا ہاتھ جس فولادی گرفت میں پکڑا تھا اسکا خون سا سفید ہو گیا
وہ ڈر کر اسے دیکھنے لگی اسنے روح کو دور دھکیلا اور کھڑا ہو گیا
روح پیچھے قدم لینے لگی
یہاں تک کہ وہ دیوار سے ٹکرا گئ جو اسکے ٹکرانے پر ایکدم ہلی اور روح نے قدم بہزاد کیطرف اٹھایا
بہزاد نے اپنی فولادی بے رحم گرفت میں اسکی گردن دبوچ لی
کیا لینے آئی ہو کس نے پتہ دیا ہے تمھیں میرا یہ تم یہاں ا کر ریڈ پڑوانا چاہتی ہو شجر عباس کتنا دیر میں پہنچے گا کیا بچا ہے جس کی کھوج میں یہاں آئی ہو ” ایک ساتھ کئی سوال بمباری کیطرح برسے تھے اسپر ۔۔۔۔
روح کی آنکھوں کے گوشے بھیگ گئے شاید وہ یہ بے اعتباری ڈیزرو کرتی تھی
م۔۔۔مجھے سچ جاننا ہے “
کیوں تم نے بھی فوج جوائن کر لی ہے ” وہ طنزیہ ہنسا اور اسکی گردن جھٹکے سے چھوڑی
میں پاگل ہو رہی ہوں ” روح بے بسی سے اسے دیکھنے لگی
ہو جاؤ مجھے کیوں بتانے آئی ہو تمھاری وجہ سے یہ جگہ بھی چھوڑنی پڑے گی ” وہ اردگرد دیکھنے لگا
بہزاد ” روح نے اسکے نم پسینے میں ڈوبے بازوں کو اپنی گرفت میں لیا
میرا اعتبار کریں گے “
شاید کسی آس کے تحت پوچھا تھا لیکن وہ یہ سوال کرنے کا حق کھو چکی تھی
تمھاری جھجھک اس بات کا جواب ہے ” اسنے اسکے ہاتھ جھٹکے تو پسینے سے اسکی انگلیاں اسکے وجود پر پھسلتی ایک سرخ لکیر کھینچ گئیں
روح سمیت بہزاد نے بھی اس نشان کو دیکھا تھا
سوری ” وہ جھجھک سی گئ بہزاد نے سر جھٹک دیا
ائی ایس آئی آفیسر بہزاد علی شاہ ۔۔۔۔
اگر آپ سچے ہیں تو آپ کے ساتھ کوئ کیوں نہیں ہے اپ کی ٹیم اپکے سنیرز آپ ۔۔ اپ کی سچائی سچ کیوں نہیں لگ رہی ” وہ بھیگے لہجے میں اپنی کنفیوزن دور کرتی پوچھنے لگی
میں دہشت گرد ہوں ” مظبوط اٹل لہجے میں آنکھیں نکالتا وہ بولا تھا
اور میں رفتہ رفتہ تم سب کو مار دوں گا سب سے پہلے تمھاری ماں کو ” اسکے لہجے میں ایسی نفرت تھی کہ روح کانپ اٹھی ۔۔۔۔
کیوں ” وہ تڑپی
تم مجھ سے سوال نہیں کر سکتی ” اسنے اسکے ہاتھ پھر جھٹکے
بہزاد میں “
دور رہو مخھ سے ۔۔۔۔
میرے باپ کے قاتل کی بیٹی ہو اگر شروع دن سے پتہ ہوتا تو اپنے سچے جذبوں کو تم پر ضائع نہ کرتا
آینی ویز جا رہا ہوں میں ” اسنے اپنی شرٹ ڈالی سر پر کیپ رکھی
کہیں نہیں جائیں گے اپ ” اسنے اسکے سر سے کیپ کھینچ لی
بہزاد نے اسکی جانب دیکھا
اگر آپ کہیں گئے میں ۔۔۔ میں یہاں سے کود جاؤں گی میرا یقین کریں میں صرف آپ سے بات کرنے آئی ہوں سچ جاننے آئی ہوں آپ کے ” وہ ایکدم رکی کیونکہ وہ انگلی اٹھا چکا تھا
تم مجھ سے ہر ٹاپک پر اپنی جھوٹی سچی کہانی سنا سکتی ہو سوائے اسکے کہ تم میرے باپ کا نام تک لو زبان کاٹ کر ہتھیلی پر سجا دوں گا ” روح سنبھل گئ
بہزاد نے اسے پھر سے جھٹکا
میں کود جاؤں گی ” وہ دور ہوئی
شوق سے کودو یہاں سے کود کر دو ہڈیاں ٹوٹیں گی تمھاری مرو گی پھر بھی نہیں ” وہ کہہ کر پلٹ گیا
بہزاد ” وہ پھر اسکے آگے ا گئ جبکہ اب وہ دنوں چھت کے بجائے ملگجے سے اندھیرے کمرے میں تھے جہاں روشنی کے نام پر کوئی چیز نہیں تھی خشک گرم ہوا دونوں کے چہروں پر گرمی سے گلابی پن بکھیر رہی تھی
اگر میں آپ سے کچھ کہوں ” اسکے الفاظ روکے بہزاد سپاٹ نگاہوں سے اسے دیکھ رہا تھا
ایم سوری ڈ روح کو آخری حل یہ ہی لگا اور وہ اسکے تیز دھڑکتے سینے سے لگ گئ
ایم سوری ۔۔۔
میں دھوکا نہیں دینا چاہتی تھی لیکن مجھے مجھے اب بھی سچ نہیں بتایا جا رہا مجھے لگتا ہے سب جھوٹ ہے اور آپ سچ ہیں لیکن سب اپکے خلاف ہے کیوں پلیز پلیز اللّٰہ کے واسطے ایک بار مجھے سچ بتا دیں میں آپکی ہیلپ کرو گی ہر طرح “
ریڈ فائل لا کر دو ” وہ بولا تو روح نے اسکے سینے سے سر اٹھایا
وہ ہی فائل جس کے لیے مجھے دھوکا دیا
وہ ہی فائل مجھے لا کر دو شجر کو دھوکا دے کر اسکے بعد تمھاری شاید کوئی بات قابل اعتبار ہو جائے ” وہ کہہ کر اس سے دور ہو گیا
روح چپ رہ گئ
بہزاد ہلکا سا مسکرایا
جبکہ اچانک دونوں ہی چونکے کیونکہ باہر سائرن کی آواز تھی
بہزاد نے ذرا بے یقینی سے اسے دیکھا
روح نفی میں سر ہلانے لگی
کیونکہ وہ اس بارے میں کچھ نہیں جانتی تھی
بہزاد ۔۔۔ میں وہ فائل لا کر دوں گی میں لا کر دیں گی میں “
وہ آگے بڑھی جبکہ بہزاد نے اسکے بازو جھٹکے اور معلوم نہیں وہ کیسے کیسے اسکی آنکھوں کے سامنے اتر کر کود کر کہاں غائب ہو گیا روح اس دیوار کو پکڑے رہ گئ ۔۔ جبکہ دھرا دھڑ اس چوبارے پر فوجی چڑھے تھے یوں لگا وہ چوبارہ گر جائے گا
کہاں ہے بہزاد روح ” شجر نے اردگرد دیکھا
میرے دل میں ۔۔۔۔ نکال لیں ” وہ زخمی نگاہوں سے سرخ چہرے سے اسے دیکھنے لگی
شجر لب بھینچ گیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔