Akhari Kinare Par By Tania Tahir Readelle50106 Last updated: 22 July 2025
Rate this Novel
Akhari Kinare Par By Tania Tahir
کہاں یے وہ اسکے لہجے میں آتش فشاں تھا سرد خانے میں " ۔ اسنے دانت پیس لیے ۔۔۔۔ لیکن انکھوں میں وہ ہی گھیرہ سکون تھا ۔ جبکہ ٹیبل پر بجتی اسکی انگلیاں جو ایک دھن بنا رہی تھیں یکدم رک گئیں سر شجر عباس نے انھیں سرد خانے میں قید کر رکھا ہے" ۔اسنے اسکی خاموشی کو محسوس کرتے دوبارہ اپنی بات کو مکمل کیا تھا ۔ شجر عباس کو دھماکے کچھ زیادہ ہی پسند ہیں" ۔ وہ بس اپنی کرسی چھوڑتا دیکھائ دیا ۔ اسنے وہ کرسی چھوڑی تو کرسی تیزی سے گھومنے لگی اور وہ باہر نکل گیا ۔ وہ سوار ہوا تھا گاڑی میں ۔ صرف تین منٹ ۔ صرف تین منٹ میں وہ وہاں پہنچا اور اسکا نشانہ چوکتا کبھی نہیں تھا ۔ عین سامنے والے کی کھپڑی میں سوراخ کر دیتا تھا اور اسنے اپنی گاڑی کے شیشے کے پیچھے سے ہی سامنے بیٹھے دو گارڈز کا نشانہ بنایا اور سیدھے تین فائیر ایک ساتھ ایک کے ماتھے میں سوراخ کر گئے اور دوسرے کے بھی یہ اسکا سگنیچر نشانہ تھا گاڑی کا نقصان ہو چکا تھا لیکن ۔ یہ حملہ گواہ تھا یہاں آنے والا کون تھا ۔ وہ باہر نکلا ۔۔ مردانہ وجاہت سے بھرپور اسکی چال میں دباو تھا جیسے اس سرد خانے کی مٹی کو قدموں تلے ملتا وہ اندر بڑھا جو بھی اسکے سامنے آ رہا تھا اسکا نشانہ بلکل ویسا ہی تھا ۔۔ مہروز دوڑ کر اس جگہ تک پہنچا تھا جہاں روح " تھی ۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ ان ہیلر کو لبوں سے لگائے بیٹھی تھی رنگ لٹھے کی مانند سفید تھا ۔۔ اسکی پیشانی اسکی گردن پسینے سے چمک رہی تھی اسکی آنکھوں میں رونے کے سبب سرخی تھی ایک ایسی گھیری سرخ لکیر جو کسی کا بھی ایمان ڈگمگا دے ۔ وہ آگے بڑھا اسے بازوں کے حلقے میں بھر لیا ۔ وہ خاموش تھا البتہ روح کی ہچکیاں ان مردوں کو بھی جگا دیتی اسے سانس لینے میں دقت ہو رہی تھی ۔۔ وہ بار بار سانس کھینچتی لیکن شاید مکمل آکسیجن حاصل نہیں رک پا رہی تھی مقابل نے اسکا چہرہ جو پسینے سے تر تھا اوپر کیا جو وہ اسکے سینے میں چھپا رہی تھی اور اسکے کانپتے ہونٹوں کو اپنی انگلی سے کھولا تھا ۔۔ جیسے جب وہ اسے زبردستی کھانا کھلاتا تھا اور وہ جھکا نرمی سے ان ہونٹوں کو خود میں بھرا اور مردہ خانے میں مہروز اس کس کا مطلب جان نہیں سکا وہ سر پیٹ کر دوسری طرف منہ موڑ گیا جبکہ اسنے اپنی سانسوں کو اسکی سانسوں میں گھول دیا وہ تو اسکے ہونٹوں کو چھوئے ہوا تھا بس ۔ روح خود ہی اسکی سانسوں کو خود میں کھینچ کر سانسیں بھر رہی تھی تقریبا یہ دورانیہ دو منٹ کا تھا ۔۔ مہروز مداخلت تو نہ دیتا اگر وہ اپنے پرائیویٹ کمرے میں ہوتے لیکن یہ مردہ خانہ تھا مردے بھی تلملا کر جاگ جاتے ۔۔۔ تبھی وہ دروازہ بجا گیا ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اجاو دیکھ لو " ۔ سیگریٹ کا کش بھر کر ہوا میں گولے کی صورت چھوڑتا وہ کال پر مخاطب تھا کسی سے ۔۔ کسی بےقصور کو اپنا نشانہ مت بنانا بہزاد" ۔ گونج تھی للکار تھی اس آواز میں جیسے تڑپ گیا ہو ۔۔ وہ مسکرایا ۔ اور کال ڈسکنیکٹ کر دی اسکی پوری وڈیو شجر عباس کے پاس پہنچا دینا زندہ انسان کو قبر میں اہتمام سے ڈال دینا انسانیت تو کہیں سے نہیں تھی ۔ آخری سلیب رکھتے ان میں سے کسی کا دل نہیں کانپا جبکہ اندر سے اتی آوازیں وحشت زدہ سی تھیں کیونکہ وہ جو بھی تھا زندہ تھا سانسیں بھر رہا تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔
