No Download Link
Rate this Novel
Episode 17
اچانک جیسے دم گھٹنے پر اسکی آنکھیں کھل گئیں اور ایسے کھلیں کہ وہ چلا نہیں سکی کیونکہ وہ جو بھی تھا اسنے اسکے ہاتھ پاوں سختی سے جکڑے ہوئے تھے اور ساتھ لیٹا ہارون بھی جاگ نہی سکا اسکے منہ پر زبردستی ٹیپ چپکا کر وہ جو بھی تھا اسے سکون سے دیکھنے لگا جبکہ انیسا چاہ کر بھی ہاتھ نہیں بڑھا سکی کیونکہ سامنے والا شخص اسپر بندوق تانے ہوئے تھا
میں تمھیں مار دوں ” وہ گردن کو کچھ ترچھی کرتا بولا ۔
انیسا کی انکھوں سے آنسو ٹپکنے لگے اور وہ نفی میں سر ہلا گئ
تمھیں بڑی محبت ہے اپنی زندگی سے ” وہ مسکرایا چمکتی آنکھیں اسی کی بے بسی پر پرمزاہ تھیں۔۔۔۔
خیر ” وہ گھیرہ سانس بھر گیا
اور ابھی بندوق نیچے ہی کی تھی کہ انیسا نے جلدی سے ہارون کو جکڑا اور عین تین گولیاں انیسا کی پیشانی میں جا کر بجی تھیں
وہ چیخی تھی اسکی چیخ سے مردے بھی جاگ جاتے ۔۔۔ ایسی حولناک چیخ تھی اور اسکے چلانے پر ہارون ایکدم اٹھا
انیسا” اسنے انیسا کو جھنجھوڑا جو اپنی ہی گردن اپنے ہاتھوں سے دبا رہی تھی
انیسا ” وہ چلایا جبکہ انیسا نے پٹ سے آنکھیں کھول دیں
بہزاد بہزاد اسنے اسنے مجھے گولیاں مار دیں ہارون اسنے میرے سر میں تین گولیاں ماری ہیں وہ یہیں تھا ابھی کچھ دیر پہلے وہ مجھ سے بات کر رہا تھا
یہ ۔۔۔ یہ دیکھو میرے منہ پر ٹیپ لگی ہے وہ یہاں ایا تھا بہزاد وہ مجھ سے بات کر رہا تھا اسنے کہا مجھے جینے کا شوق ہے وہ تھا یہاں میرا یقین کرو ” وہ بے بسی سے اسے بتانے لگی جبکہ ہارون نے دانت پیس لیے وہ اٹھا وہ سی سی ٹی وی فوٹیج دیکھنے کے لیے نکل گیا اور جب وہ واپس آیا تو اتنے غصے میں تھا کہ اسنے واس اٹھا کر پھیک کر مارا
انیسا ایکدم سہم گئیں
پاگل عورت مجھے بھی پاگل کرنا چاہتی ہے ” وہ دھاڑ اٹھا
تجھے یہ کیوں نہیں سمجھ ا رہی کہ وہ اس گھر میں داخل بھی نہیں ہو سکتا ” وہ جیسے اسپر بھڑکا تھا انیسا کی زبان تالو سے جا کر لگ گئ
جبکہ ہارون غصے سے اسے دیکھ رہا تھا
اسکی بے بس آنکھیں دیکھ کر وہ اپنے غصے پر قابو پاتے اسکے پہلو میں بیٹھ گیا
انیسا وہ میرے گھر میں داخل نہیں ہو سکتا یہ بات تمھیں سمجھ کیوں نہیں آ رہی “
بہزاد میں سچ کہہ ۔۔۔۔
” ہارون ہے میرا نام ” وہ غصے کی کیفیت سے دھورا ہو رہا تھا جبکہ انیسا کانپ سی گئ اور بری طرح رو دی
تم پاگل ہو چکی ہو ایک لڑکے کو اتنا سوچ چکی ہو کہ اب تمھارے دماغ پر بس وہ ہی سوار ہے ” وہ کہہ کر باہر نکل گیا جبکہ انیسا بری طرح رو دی
وہ پاگل ہو رہی تھی ہو سکتا ہے وہ اسے پاگل کرنا چاہتا ہو ہارون اسکی بات پر یقین نہیں کرتا وہ سچ بول رہی تھی ایسا کیسے ہو سکتا ہے ” اسنے اس ٹیپ کیطرف دیکھا
اور اٹھی خود جا کر سی سی ٹی وی فوٹیج چیک کیا جو انکے پرسنل روم کا تھا
لیکن وہاں کچھ نہیں تھا واقعی بس اچانک انیسا اپنا ہی گلا دبانے لگی اور چلانے لگی
اسطرح تو حقیقت میں ہارون اسے پاگل سمجھنے لگ جاتا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تمھیں پتہ ہے مہروز پھر میں نے گھما کر لات ماری اور دو بندے گیر گئے”
اچھا ” مہروز حیرانگی سے اسے دیکھنے لگا
سارے ملازموں اور سارے گارڈز کو اکٹھا کر کے وہ قصے سنا رہی تھی ۔۔ وہ بھی سراسر جھوٹے ۔۔۔
میں نہیں مانتا ” مہروز صاف مکر گیا
روح کا منہ بن گیا
چلو بس پھر تم بہزاد سے پوچھ لینا
میں ہیل کے ساتھ دو انچ اچھلی ہوں دو انچ ہوا میں اور کھینچ کھینچ کر انکے منہ پر ہیل ماری ۔۔۔ سب نے تالیاں بجانی شروع کر دیں ۔۔
روح تو پھولے نہیں سمائی تھی ۔۔۔خوشی سے داد وصول کرنے لگی
مہروز نے سر جھٹکا
سب جھوٹ لگ رہا ہے
بلاؤں پھر بہزاد کو بلاؤں” ۔
وہ اسپر چڑھ دوڑی بہزاد اب تک کمرے سے نہیں نکلا تھا تبھی وہ چوڑی ہو رہی تھی وہ لوگ بہت مشکلوں سے ہی سہی لیکن یہاں پہنچ چکے تھے اور اسکے بعد وہ سو کر فریش ہو کر بھی اٹھ گئ بہزاد نہیں اٹھا تھا تبھی چوڑی ہو رہی تھی
ہاں بلاؤ میں بھی دیکھتا ہوں پھسکی سی تم اور اتنی لمبی چوڑی باتیں ” مہروز نے اسے گھورا
یہ لڑکا میرے ہاتھوں مرے گا ” روح نے ہاتھ جھاڑ دیے جیسے بات ختم ہو گئ ہو
شکل دیکھو پہلے اپنی ” وہ گھورنے لگا
تم” روح ابھی چیختی کہ بہزاد کی آمد پر سب خاموش ہو گئے
یہ کیا تماشہ ہے ” بہزاد کی سخت آواز پر ایکدم سب کھڑے ہو گئے
روح بھی کھڑی ہو گئ
تم سب یہاں اسی لیے ہو کہ یہاں بیٹھ کر جھوٹی کہانیاں سنو آئندہ مجھے ایسی حرکت کرتے ہوئے نہ دیکھائی دینا ” بہزاد سنجیدگی اور سختی سے بول رہا تھا
سوری سر کہہ کر وہ سب رفع دفع ہو گئے جبکہ مہروز صوفے پر لوٹ پوٹ ہو رہا تھا ۔۔ہنس ہنس کر اسکا برا حال تھا روح سر جھکا گئ آنکھیں بھیگ گئیں ۔
کیا ہوا جھانسی کی رانی تم یوں اچھلی یہ کیا وہ کیا کہاں گئ اب تمھاری کہانی ” وہ ہنستے ہوئے پوچھنے لگا
چپ رہو ” وہ پھاڑ کھانے کو دوڑی تھی بہزاد نے اسکی سمت دیکھا اور وہ تن فن کرتی وہاں سے جانے لگی
اچھا سوری بھئ تم آرام سے مجھے سناو اپنی کہانی “
نکلو یہاں سے آئے بڑے سچے ذرا جو جھوٹ بول لیتے تو کیا چلا جاتا اپکا ” وہ بہزاد سے بولی جو ناشتہ کرنے میں مگن تھا
مبین خان کیطرف سے دعوت ہے تیار رہنا دونوں ۔۔۔
وہاں بلاسٹ ہو گا ” بہزاد کی بات پر ایکدم روح کا رنگ فق ہوا
ب۔۔بلاسٹ کیوں ” وہ سوال کر گئ جبکہ بہزاد مہروز سے باتوں میں لگ گیا اسکے سوال پر توجہ نہیں دی
روح اب بھی کھڑی ان دونوں کو دیکھ رہی تھی اسکا دم سا گھٹنے لگا وہ پلٹی ۔۔۔۔
یہ موبائل مجھے دے دو ” بہزاد کی پکار پر اسنے اپنے ہاتھوں میں موجود موبائل کو دیکھا
ک۔۔کیوں “
جب تک میرا کام نہیں ہو جاتا تم موبائل استعمال نہیں کرو گی اور اگر یہ خبر باہر نکلی تو بلاسٹ تو ہو گا لیکن ویکٹم تم ہو گئ
تم پر باندھ کر بلاسٹ کراو گا ” وہ اسے اچھا خاصا ڈرا گیا اور روح کے ہاتھ سے موبائل چھین لیا
مہروز خاموشی سے اسے دیکھ رہا تھا
بہزاد نے اپنی پوکٹ میں موبائل ڈالا اور وہاں سے باہر نکل گیا
یار تو اسے کیوں ڈراتا ہے ” مہروز کو کھجلی ہوئی
بہزاد نے البتہ جواب نہیں دیا اور سیدھا گاڑی میں سوار ہوا
جبکہ روح بے چینی سے آتما کیطرح پورے گھر میں پھیر گئ کہ کہیں سے کوئی ایسا ذریعہ مل جائے جس سے وہ شجر سے رابطہ بحال کرے۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جینزی کیا تمھارے پاس موبائل ہے ” وہ کچن میں کام کر رہی تھی اور بھی ملازمائیں تھیں وہ پریشانی سے پوچھنے لگی اس سے جینزی نے اسکا گھبرایا ہوا اترا ہوا چہرہ دیکھا تو اسکے نزدیک آئی
کیا ہوا ہے میم آپ “
پلیز تم مجھے موبائل دے دو ” وہ بولی
جی ” اسنے اپنی جیب سے نکال کر اسے تھما دیا
تھینک۔۔۔تھنیکیو سو مچ جینزی تم کتنی اچھی ہو ” وہ اسکے گال چوم گئ اور جینزی ہنس دی
دوسری طرف اس نے تو سب سے پہلے شجر کے نمبر کا رٹا لگایا تھا وہ جلدی سے نمبر ڈائل کر گئ
دوسری سمت سے کچھ توقف سے کال اٹھا لی گئ اسنے ایک ہی سانس میں اسے سب بتا دیا
کیا ” دوسری طرف حیرانگی تھی جیسے علم نہ ہو روح کو لگا اسنے بہت خاص انفارمیشن دی یے جو شجر بھی نہیں جانتا اور تھا بھی ایسا ہی ۔۔۔۔
ٹھیک ہے میں دیکھتا ہوں “
تم اسکے ساتھ اس پارٹی میں جانے اور اپنی سیفٹی کے لیے جو چیزیں دیں ہیں انھیں استعمال بھی کرنا ہے ” شجر نے سمجھایا تو روح سر ہلا گئ اور شجر کال کٹ کر گیا
وہ لوگ واپسی کے سفر پر تھے
اتنی دلیری سے بہزاد روح کو اتنی بڑی بات بتا کر کیسے جا سکتا تھا وہ کچھ حیران تھا پلوشہ نے بھی اسکے چہرے کی پریشانی دیکھی لیکن وہ اسے اتنا برا لگ رہا تھا کہ اسے دیکھنے کا بھی دل نہیں تھا وہ لوگ بنا مزید نقصان کے اپنا آپریشن پورا کر کے واپس لوٹ رہے تھے ۔ ۔
اور پلوشہ چاہتی تھی یہ سفر جلد ہی ختم ہو جائے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
انیسا ہارون سے چھپ کر گھر سے باہر نکل گئ تھی معلوم نہیں کیسے آج اسے خیال آیا ہی گیا
شاید وہ اپنے کیے گئے فعل پر پچھتا رہی تھی
وہ گاڑی میں سوار کب سے یہ سوچ رہی تھی کہ وہ جب اس کے سامنے جائے گی تو وہ کیا کہے گی شاید اسکے گلے لگ جائے اور بہت سارا روئے
لیکن ممکن یہ بھی تھا کہ ہو سکتا ہے وہ مر گئ ہو
وہ اس وقت بھی بہت بیمار تھی جب وہ اسے اس جگہ پر چھوڑ کر گئ تھی
وہ جانتی تو نہیں تھی وہ اس سے مل پائے گی یہ نہیں لیکن وہ ملنے کے لیے پہنچ ضرور گئ تھی
اس کی یتیم خانے کے سامنے گاڑی رکی تو ماضی اسکی آنکھوں میں اپنی پوری بے بسی سے اتر آیا
” مما آپ یہاں کیوں لائی ہیں مجھے مما ہم بابا کے پاس کیوں نہیں جا رہے مما آپ پلیز مت جائیں ” وہ نقاہت سے مسلسل بول رہی تھی
جبکہ اسنے اسکو زبردستی جھٹک کر چھوڑ دیا
ایسا نہیں تھا اسکا علاج نہیں ہو سکتا تھا لیکن 6 ،7 سال کی بچی سے وہ جان چھڑانا چاہتی تھی
وہ جان چھڑانے اور کسی کو پانے کے لیے اسے وہاں چھوڑ گئ اور اسے یاد تھا اسکی چیخوں اسکی آوازیں لیکن اسنے پلٹ کر نہیں دیکھا کہ کہیں ممتا جوش نہ مار دے
وہ اندر داخل ہو گئ وقت ایک سا نہیں رہتا ہر چیز بدل جاتی تھی وہ اندر آئی اور اسنے ریسیپشن پر یہاں کی ہیڈ سے ملنے کی بات کی
فوجی کی بیوی تھی ہاتھوں ہاتھ اسے لیا گیا اور وہ میم کے افس تک ا گئ
چند لمہے خاموشی سے گزر گئے
اسے سمجھ نہیں ا رہا تھا وہ نام کیسے لے کہ اس واقعے کو عرصہ گزر گیا تھا
ر۔۔روح” مدھم آواز میں وہ بولی
روح سے ملنا تھا مجھے ؟؟ وہ بولی
روح جیسے انھیں یاد ا گیا انیسا نے سر ہلایا
اسے تو لے گیا ایک نوجوان لڑکا ۔۔۔
شادی کر کے بس ہم لوگوں نے بھی بیوقوفی میں اس کی باتیں مان کر اسکا نکاح کرا دیا تھا بہت بیمار رہتی تھی۔۔
پھر کچھ سالوں بعد ایک نوجوان آیا اور اسے لے کر چلا گیا
آپ ۔۔۔ اپ نے دے دیا اس نوجوان کو “
وہ خود جانا چاہتی تھی اسکے ساتھ تو ہمیں کیا دقت ہو سکتی تھی ” وہ شانے چکا کر بولی
اس لڑکے کا کوئی نام پتہ ” انیسا نے پوچھا اور سامنے والے نے لاعلمی کا اظہار کر دیا
آپ کیسے کر سکتی ہیں یہ کام ایک شخص کا نام ۔۔۔ نام نہ ہو اور آپ نے میری بیٹی کو اسکے ساتھ ۔۔۔۔
دیکھیے میڈیم
آپ اتنا غصہ تب دیکھیے جب آپ لوگوں کو پرواہ ہو اپنی اولاد کی” وہ تیکھے تیوروں میں بولی
کچھ لوگوں کی مجبوریاں بھی ہوتی ہیں ” انیسا کی آواز بے دم ہوئی
“ہمیں تو عیاشیاں لگتی ہیں ” اسنے بات دے کر ماری انیسا کھڑی ہو گئ
اگر وہ اپکے پاس دوبارہ آئے تو میرا نمبر دے دیجیے گا ” انیسا نے اہستگی سے کہا اور اٹھ کر باہر نکل گئ
اسے لگا اسکا دم گھٹ جائے گا بہت جلد ۔۔۔
لیکن کھلی فضا میں سانس لے کر بھی اسے سانس نہیں رہا تھا وہ گاڑی میں سوار ہو گئ
سر ایک عورت آئی تھی روح کا پوچھنے ” فورا ہی کال ملائی تھی اسنے
نام کیا بتایا “؟؟؟ سوال کیا گیا
انیسا ہارون بیگ “
یہ روح کی ماں ہے میں جانتی ہوں اسکو ” وہ بولی اور شاید دوسری طرف گھیرا سناٹا چاہ گیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ جا رہا تھا روح کا دم سا نکل رہا تھا یہ سوچ سوچ کر کوئی بے قصور پھر مارا جائے گا ۔۔ وہ اسکے پیچھے پیچھے ہو لی
بہزاد نے رک کر اسے دیکھا
کیا ؟؟؟
اسکے سوال پر روح نے بلاوجہ دانت دیکھائے
ہی ہی ۔۔۔ میں بھی چلوں پلیز “
باتھروم جا رہا ہوں چلنا ہے واقعی ” وہ واشروم کیطرف اشارہ کرتے بولا
روح کو تو نہ نظر آیا کوئی باتھروم بہزاد نے ایک تصویر پر ہاتھ مارا اور باتھروم کھل گیا روح کا دل کیا کوئی چیز مارے اس آدمی کے سر پر ہر چیز ہیڈن واشروم بھی لائک سریسلی ۔۔۔۔۔
وہ نفی میں سر ہلا گئ
کیوں ؟ وہ سینے پر ہاتھ باندھے اسے دیکھنے لگا
نہیں میں تو وہاں جانے کا کہہ رہی تھی “
” ابھی تم کہہ رہی تھی آجاؤ شاور لینا ہے مجھے بھی “
آپ اپ گھٹیا دو نمبری انسان میں ۔۔ میں تو “
ہمم تم تو ” وہ ائ برو اچکا کر پوکٹس میں ہاتھ ڈالے بولا
وہ تو میں بس وہ نہیں کہہ رہی تھی ” وہ بولی ذرا شرمندگی سے
لیکن مجھے تو وہ ہی لگا ” وہ معصومیت سے بولا
ارے نہیں آپ میرے ٹائیپ کے نہیں ہیں ” وہ گردن نفی میں ہلاتی مڑی
ویٹ میں نے کہا نہیں کہ جاؤ ۔۔ یہ تمھاری ٹائیپ کون سی ہے ” وہ ائ برو اچکاتا سوال کرنے لگا ۔
اف ہو آپ ۔۔۔ اپ بہت مسکلر ہیں ” وہ اسکی باڈی سے نگاہ چرانے لگی
بہزاد محسوس کر سکتا تھا وہ کنفیوز ہو رہی تھی اور اسی کنفیزن میں وہ الٹا سیدھا بول رہی تھی ۔
وٹ ایور “
جاو یہاں سے ” وہ ذرا جھڑک کر بولا اور خود واشروم میں چلا گیا
جبکہ وہ اندر گیا اور روح باہر نکلنے کے بجائے دانت نکالتی دوبارہ اندر گھس گئ یہ ہی وقت تھا اب وہ اس کمرے کی تلاشی لیتی یہاں اسے کچھ نہ کچھ ضرور ملتا
اسنے جلدی سے سارے دراز کھولے بہت سارے کاغذات تھے لیکن لینویج مختلف وہ تو شکل ہی بارہ پڑھی ہوئی تھی کیا خاک سمجھتی بہت اہم کاغذات کو اسنے بے کار کہہ کر پھینکا اور اندر مزید گھسی لیکن کچھ نہ ملا وہ اسکی وارڈ روب کی جانب گئ اور وہاں اسکے کپڑوں میں گھس کر کچھ نہ کچھ تلاشنا لگی
اور اسے تقریبا پندرہ منٹ ہو چکے تھے یہ حرکتیں کرتے ہوئے اور
وہ اسکے کپڑوں میں گھسی معلوم نہیں کیا کیا نکال باہر پھینک رہی تھی ۔
تبھی بہزاد شاور لے کر ٹاول سے بال رگڑتے اپنی وارڈروب کے نزدیک آیا تو روح کے ہاتھ میں اسکا پرسنل سامان تھا
روح کھٹکے کی آواز پر پلٹی دونوں کی نگاہ روح کے ہاتھ میں پکڑی چیز پر گئ اور وہ چیخ مارتی اسے بہزاد کے منہ پر پھینک گئ ۔
بہت ضبط سے اسنے اپنے منہ پر سے وہ ہٹانے کی زحمت کی اور روح کو دیکھا
تمھیں یہ چاہیے ” اسنے سوالیہ نگاہوں سے اسے دیکھا
ن۔۔۔نہیں ۔۔ نہیں بلکل بھی نہیں “
تمھیں یہ آئے گا نہیں تمھیں لگتا نہیں یہ بڑا ہے تمھیں “
اسنے ذرا ائ برو اچکا کر دیکھا روح کا چہرہ بلکل ہی پھیکا پڑ گیا
استغفر اللّٰہ میں ۔۔۔ میں تو ” وہ باہر بھاگنے لگی کہ بات بن نہیں پا رہی تھی اور بہزاد نے غصے سے اسکا نازک بازو پکڑ اور اسے دیوار پر دھکیل دیا
روح نے سانس حلق میں اتارا وہ سبز خوفزدہ انکھوں سے اسے دیکھنے لگی
زیادہ چالاکی نہیں ۔۔۔ ” وہ اسے وارن کرنے لگا اور روح کا سانس اٹک گیا وہ دل پر ہاتھ رکھ گئ ۔۔
میں تو “
کیا منمنا رہی ہو بکری کی طرح ” وہ بھڑکا
روح نظریں جھکا گئ
آئندہ میرے کمرے میں مت آنا ویسے ” وہ اسے گھورتا سوال پر ا کر رکا اور پھر نفی میں سر ہلا گیا
آوٹ ” اسنے سنجیدگی سے کہا
میں “
اوٹ ” وہ بلند آواز میں بولا اور وہ ہونٹ نکالتی باہر نکل گئ اسنے اسکی انسلٹ کی تھی بلاوجہ وہ باہر آئی اور گھر سے ہی نکلنے لگی کہ گارڈ نے روک دیا
سر نے اپکا باہر نکلنا بند کیا ہے “
تمھارے سر کا سر پھاڑ دیں گی زیادہ فری نہ ہونا مجھ سے ” وہ گال رگڑتے اگ بگولہ ہوئی
جبکہ اپنے ٹیرس سے بہزاد سیگرہٹ کے دو گھیرے کش لگاتا یہ سب دیکھ رہا تھا
نہیں میم پلیز “
تمھاری تو ” اسنے اپنے بوٹ سے بندوق نکالی اور گارڈ کے سر پر تان لی بہزاد کی انکھوں میں دلچسپی بھر گئ
دروازہ کھولو ” وہ اتنی کانفیڈنس سے بولی تھی کہ بہزاد بھی داد دینے لگا اور گارڈ کو چارنچار کھولنا ہی پڑا وہ باہر نکلی اور جھٹکے سے مڑی وہ سیگریٹ منہ میں رکھے ہاتھ سے تالی بجاتا اسے داد دینے لگا جبکہ روح نے کافی غصے سے دیکھا تھا
اور پھر باہر نکل گئ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آگے پیچھے اٹھ گاڑیاں نکلیں تھیں جو کہ مبین خان کی دعوت کے رنگ میں بھنگ ملا دیتی ۔۔۔
روح کہاں تھی فلحال اسے علم نہیں تھا لیکن سیاہ رات میں ایک لڑکی کو بے کار میں روڈ پر پھیرتے دیکھ اسے یقین ہو گیا کہ یہ وہ ہی ہے اسکے گارڈز اسکے آگے پیچھے تھے تبھی فلحال کوئی نقصان نہیں ہوا تھا اسنے گاڑی اسکے قدموں میں رکی آنکھیں سکیڑ کر روح نے دیکھا تھا
بیٹھو گاڑی میں ” بہزاد بولا
کبھی نہیں ” اسنے دانت پیسے اور آگے چلنے لگی
روح ” بہزاد مٹھیاں بھینچ گیا
جبکہ روح تین گاڑیاں چھوڑ کر چوتھی گاڑی میں سوار ہو گئ
بہزاد کو کچھ تسلی ہوئی اور اسنے آگے چلنے کے لیے کہا لیکن گاڑیاں آگے نہیں جا رہیں تھیں
اب اسکا ٹیمپل لوس ہو رہا تھا اسنے مہروز کو دیکھا ۔
مہروز گاڑی سے نکلا اور روح کے پاس آیا
یار کیا مسلہ ہے تمھارا ” روح نے منہ موڑ لیا
روح دیکھو بعد میں کر لینا یہ تماشہ ۔۔۔۔
ابھی ہمیں ارجنٹ ہے اور روح کے دماغ نے فورا حرکت کی تھی اگر یہ لوگ وہاں نہیں پہنچیں گے تو کوئی بلاسٹ نہیں ہو گا
نہیں جائیں گی کوئ گاڑیاں اگے “
روح ” مہروز نے غصے سے اسے دیکھا روح ابھی جواب ہی دیتی کہ بہزاد نے اسکے کندھے پر ہاتھ رکھا آنکھوں میں سختی تھی ۔۔۔
مہروز دور ہو گیا
کیا چاہتی ہو ” وہ جھک کر پوچھنے لگا
بتاؤ مانو گے اپ ” وہ پرشوق نگاہوں سے دیکھنے لگی بہزاد کا ڈیمپل دیکھا اور سر ہلا گیا
گاڑی سے اتر جائیں پیدل آئیں ہم گاڑی میں جائیں گے اور میری نظریں آپ پر ہیں ” اسنے گاڑی کی روف کھلوائ اور اوپر کھڑی ہو گئ
بہزاد دونوں ہاتھ اٹھا کر گھیرہ سانس بھر گیا مہروز کو البتہ غصہ ا گیا
ان مشغلوں سے بہت اہم انکا کام تھا جس پر بہزاد کی نگاہ کم ہوتی جا رہی تھی ۔
مہروز غصے سے بہزاد کو دیکھنے لگا جس نے اسکی بات مان لی اور مہروز آگ بگولہ ہوتا اپنی گاڑی انکی گاڑیوں کے بیچ سے نکال گیا جبکہ روح تو کیا بہزاد کو بھی فرق نہ پڑا
وہ کھڑی بہزاد کو دیکھ رہی تھی جو گاڑیوں کے پیچھے چل رہا تھا
معافی مانگیں کہیں آئندہ بدتمیزی نہیں کریں گے ” روح کو چین کہاں تھا
تم میری پرسنل چیزوں کو ہاتھ لگاؤ اور میں غصہ بھی نہ کروں ” ۔وہ ۔۔ وہ میرا وہ مقصد نہیں تھا ” وہ جھجھک سی گئ
جبکہ بہزاد مدھم سا مسکرایا ۔
اور روح نے تازی ہوا میں بہت خوبصورت سا سانس بھرا تھا اور پھر اسکی جانب دیکھنے لگی
جو ایک ٹک اسے دیکھتا دور سے چلتا آ رہا تھا
روح چند لمہے اسے دیکھتی رہی اسکی آنکھوں میں کچھ تھا جو اسے اپنی جانب کھیچنے لگا
روح اسکی آنکھوں کے پیغام میں کیسے بندھ گئ کہ وہ پلک بھی نہ جھپک سکی
جبکہ بہزاد اپنے ہر جادو سے واقف تھا ڈیمپل بڑی خوبصورتی سے دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
