Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 40

روح کے مزاج پر اسکا یہ طنز بری طرح لگا تھا اسنے ایک نگاہ سب پر ڈالی اور جج کیطرف دیکھا جس نے سب کو گھورا تھا
میں سچ بول رہی ہوں اور میں نے یہ سارے ثبوت بھی دے دیے ہیں میری کڑی کہیں نہ کہیں علی شاہ سے جا کر جڑتی تھی تبھی انھیں ایک بیمار حال لڑکی قابل اعتماد لگی بانسبت کرپٹ لوگوں کے ” ذرا گھور کر وہ بولی تو اس وکیل کی ہنسی سنجیدگی میں بدل گئ
میرے والد کو مار دیا تھا ہارون بیگ نے ۔۔۔
اور انیسا میری ماں تھیں جنھیں ہارون نے مارا کیونکہ وہ یہ جان گئ تھی کہ ہارون کیسا انسان ہے اور علی شاہ صرف اپنی بیوی کے پہلے شوہر کی بیٹی کو دیکھنے آئے تھے جب انھیں اپنی بیوی اور اپنے بہترین دوست پر شک ہوا اور مجھ سے ملنے کے بعد انھوں نے یہ سب مجھے کیوں بتایا اور کیوں دیا مجھے علم نہیں جا کر ان سے پوچھ لیں ” وہ منہ بنا کر بہزاد کو دیکھنے لگی جو اسے ہی دیکھ رہا تھا جس کی ناک پر نکھری بیٹھ گیا تھا ۔۔۔۔
سر ہمارا صرف وقت ضائع ہو رہا ہے ۔۔۔
عدالت ایک فالٹ لڑکی پر کیسے ٹرسٹ کر سکتا ہے ” وہ وکیل بولا جبکہ بہزاد نے اب اس وکیل کو دیکھا جس نے روح کو فالٹ کہا تھا اور روح کی آنکھوں میں تیرتے آنسو دیکھ کر وہ مسکرا دیا ۔
وہ لڑکی جس کے پاس سانس لینے کے لیے آلات ہیں جو خود سے سانس لے نہیں سکتی
لیکن یہ میرا مسلہ ہے اس سے اس کیس کا کیا تعلق ہے ” روح سے خاموش نہیں رہا گیا جبکہ وہ وکیل اسے جان بوجھ کر ٹیز کر رہا تھا
مسٹر شجاع آپ کسی کی توہین نہیں کر سکتے ثبوت ہمارے سامنے ہیں اور عدالت ثبوتوں پر یقین رکھتی ہے ” جج نے سنجیدگی سے کہا تو روح نے آنکھیں سکیڑ کر اس گنجے وکیل کو دیکھا ۔
اگلی پیشی کا انتظار کریں ” وہ بریک دے کر وہاں سے اٹھ کر چلا گیا
اگلی پیشی پانچ بجے کی تھی ابھی دو گھنٹے تھے وہ اچھل کر اسکے پاس آ گئ اور مسکرانے لگی
میں نے کہا تھا نہ جب اپکو میری ضرورت ہو گی تو میں اپکے کام آؤں گی کہا تھا نہ ” وہ سب کے سامنے اسکی گردن میں بازو حائل کر گئ بہزاد سر ہلا گیا ۔
ہممم دیکھا میں سچی ہوں اور یہ ہی راز چھپا کر بیٹھی تھی میں اب ہم کیسے جیت جائیں گے ” وہ کافی خوش تھی
ہاں وہ تو ٹھیک ہے لیکن تم نے مجھے بتایا کیوں نہیں ” وہ بھی اسکی کمر میں سب کے سامنے بازو حائل کر گیا
روح شرما سی گئ ۔
مجھے لگا تھا پہلے کہ آپ غدار ہیں ” اسنے اسکی ناک کھینچی بہزاد نے گھورا کر اسے دیکھا
واقعی ” وہ بولا تو وہ کھلکھلا گئ جبکہ وہ پرسکون سا اسے سینے میں بھر گیا
یہ یہ گنجا مجھے فالٹیڈ کہہ رہا تھا ” وہ بھڑکی
چھوڑو ” بہزاد نے اسکا رخ اپنی جانب کر لیا
نہیں کبھی نہیں ایسی کی تیسی اسکی تو “
روح ” وہ باہر نکلی ایڈوکیٹ شجاع کسی سے بات کر رہا تھا روح نے بٹا اٹھایا اور وہیں شجر نے اسکا ہاتھ پکڑ لیا
روح نے غصے سے دونوں کو دیکھا کیونکہ بہزاد نے شجر سے فورا اسکا ہاتھ چھڑا لیا تھا ۔
اسکے سر میں سوراخ کر کے اسے بھی فالٹیڈ کروں گی ” وہ مٹھیاں بھینچ گئ جبکہ شجر ایک قدم دور ہوا ۔
ہم کیس جیت جائیں گے ” شجر نے بہزاد کی جانب دیکھا بہزاد کے چہرے پر پھیلی ناگواری وہ محسوس کر سکتا تھا روح نے دونوں کو دیکھا تھا بہزاد اسکا ہاتھ پکڑ کر اسے دوسری سمت لے گیا ۔
وہ شرمندہ ہے ” روح اسکے پاس ہی بیٹھ گئ
مجھے اس وقت کسی بات کی فکر نہیں ہے میں صرف یہ دیکھنا چاہتا ہوں دس سال میں نے ضائع کیے ہیں یہ میرے باپ کو انصاف مل سکتا ہے ” وہ بولا تو روح اسکا ہاتھ تھام گئ
یقینا ملے گا وہ بہت بہادر تھے اور میری ماں اچھی عورت نہیں تھی ” وہ سر جھکائے بولی
کاش اسے میں مارتا ” دانت پیس کر وہ بولا تو روح خاموش ہو گئ
انکا انجام اچھا نہیں تھا بہزاد کچھ بدلے ہمارے صبر پر قدرت خود با خود لے لیتی ہے ۔
انکی محبت نے ہی انھیں مار دیا انکے پیچھے انکے لیے رونے والا کوئی نہیں انکی سگی اولاد ان سے بدظن ہے ۔۔۔
اس سے زیادہ بدتر اور کچھ نہیں ہو سکتا
اور آپکے ڈیڈ کتنے خوش نصیب ہیں انکے بیٹے نے دس سال انکے لیے گزار دیے اور اب بھی وہ بے سکون ہے
بہت محبت کرتے ہیں اپ ان سے ” وہ مسکرا کر پوچھ رہی تھی بہزاد کو لگا اس سے یہ بات برسوں بعد کسی نے پوچھی ہو ۔
ہاں بہت وہ میرے لیے سب کچھ تھے میں انکے ساتھ رہنا چاہتا تھا ۔
ان سے لڑتا تھا روح کون ہے اور میرے جسم پر یہ نام کیوں لکھا ہے اینڈ یو نو انھوں نے کبھی میرا یقین نہیں کیا انھیں لگتا تھا روح میری کوئی گرل فرینڈ ہے جس کا ٹیٹو میں نے بنوایا ہوا ہے اور میں جھوٹ بولتا ہوں ” وہ سر نفی میں ہلاتا ہنس پڑا
یعنی میں تو آپکی ہی تھی ” وہ خوش سے پھولے نہیں سمائی جبکہ بہزاد نے اسکے نازک شانے پر ہاتھ رکھ کر اسے خود سے نزدیک کر لیا
ہاں صرف میری ” وہ اسکے کان کے قریب ہوا روح انگلیاں موڑنے لگی
جبکہ بہزاد کھل کر ہنس دیا شاید اسے تسلی ہو رہی تھی کہ آج اسکے باپ کو انصاف ضرور ملنے والا ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عدالت نے علی شاہ کی موت کو قتل قرار دیا اور ہارون بیگ کو سخت اور کڑی سزا سنا دی کہ اسکے خلاف سخت سے سخت قانونی کروائی کی جائے اور علی شاہ کو اینوسینٹ قرار دیا کہ وہ ملک کے ایماندار اور اپنے ملک کے لیے جان بھی لٹا دینے والے انسان تھے
وہ خاموشی سے کھڑا سب سن رہا تھا وہ واپس نہیں آ سکتے تھے
لیکن وہ غدار نہیں تھے آج کے بعد کوئی اسے غدار کا بیٹا نہ کہتا
ساتھ ہی بہزاد علی شاہ کی ساری پراپرٹی اور بینک اکاؤنٹس اور سب چیزیں اسکو دے دینے کا اعلان کر دیا گیا
شجر اور روح بے حد خوش تھے ۔
لیکن معلوم نہیں وہ کیوں نہیں مسکرا سکا
شاید بعض اوقات زندگی میں ہم اتنا صبر کر لیتے ہیں کہ جس چیز کی خواہش ہو وہ جب مل بھی جائے تو اسکے لیے دل میں کوئی احساس نہیں رہتا ۔
ہر احساس سے عاری ہو جاتا ہے انسان صبر اس طرح زندگی کے کڑوے پن سے گزار دیتا ہے
روح بچوں کیطرح اچھل رہی تھی
بہزاد ہلکا سا اسے دیکھ کر مسکرایا
چلو ” اسنے اسکا ہاتھ تھاما
آپ خوش نہیں ہیں ” روح حیران ہوئی
خوش ہوں ” وہ سنجیدگی سے بولا
پھر یہ کیسی بے کار خوشی ہوئی نہ آپ مسکرائے نہ ہی آپ نے کچھ کہا “
میں ایسے ہی خوش ہوتا ہوں اپنا ٹیپ ریکارڈر بند کرو گھر چلتے ہیں ” وہ اسکے بال بکھیر گیا اور گاڑی میں سوار ہوا کہ پیچھے سے آنے والی آواز پر قدم رک گئے
مبارک ہو تمھیں ” شجر نے کہا بہزاد نے صرف گردن موڑ کر اسے دیکھا تھا اور گاڑی میں بیٹھ گیا
جبکہ روح کو شجر کا اترا ہوا چہرہ اچھا نہیں لگا وہ جب شرمندہ تھا تو وہ اسے معاف کر سکتا تھا
پریشان نہ ہوں اپ کوشش کریں مان جائیں گے جیسے مجھ سے مان گئے ” وہ انکھ دبا کر بولی تھی
تم بیوی ہو میں نہیں ” شجر اداس سا ہو گیا
روح کچھ کہتی کہ تیز ہارن پر وہ جلدی سے پلٹ کر گاڑی میں بیٹھ گئ وہ لوگ ہاسپٹل کی جانب چل دیے تھے
سفر کافی حسین لگ رہا تھا ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
چھوٹی سی کال کوٹھڑی جہاں وہ اپنی ٹانگیں بھی کھول نہیں سکتا تھا گردن سیدھی نہیں کر سکتا تھا ایک ہفتے سے وہ وہاں قید تھا اسکے زخموں سے خون ریس ریس کر زمینی حشرات اب نکلنے لگے تھے ۔
جبکہ ایسے ایسے حشرات تھے کہ وہ جب اسکے زخموں کو کاٹ کاٹ کر کھاتے تو دہشت ناک چیخوں سے کسی بھی انسان کا دل پھٹ جاتا لیکن بہزاد علی شاہ کا نہیں پھٹ رہا تھا
اسنے اس کال کڑھی سے نکلنے کی اس ایک ہفتے میں بارہا کوشش کی اپنے زخموں پر سے اسنے حشرات رو رو کر نوچ نوچ کر ہٹائے انھیں مارا لیکن ایک مارتا اور دوسرا چڑھ جاتا وہ زندہ تھا ابھی اور یہ حشرات یہ زمینی خوفناک مخلوق اسے نوچ نوچ کر کھا رہی تھی
وہ چلاتا رہا وہ روتا رہا لیکن اسکی شنوائی کے لیے کوئی نہیں تھا ۔
یقین نہیں ا رہا تھا اسے ہارون بیگ جو زمین پر ایسے چلتا تھا جیسے سب اسکا ہے ۔
آج ایک اندھیری کوٹھڑی میں زندہ ہونے کے باوجود حشرات کی خوراک بن گیا تھا اب تک اسے مر جانا چاہیے تھ کیونکہ اسکے پاس کھانے پینے کے لیے بھی کچھ نہیں تھا پھر وہ زندہ کیوں تھا وہ تڑپ رہا تھا ۔
اسنے وہ چھوٹا سا دروازہ پیٹ ڈالا اسکے ہاتھوں کی ہمت ختم ہو گئ اب ہمت اپنے زخموں پر سے حشرات کو نوچ کر ہٹانے کی بھی نہیں رپی تھی
وہ بے جان پڑا اپنی آخری سانسوں میں اس ایک ایک معصوم کو سوچتا رہا جس کے ساتھ ظلم کرتے نہ اسنے رحم کھایا نہ اسے ترس آیا ۔
اسکی ناک میں ایک کیڑا سا بڑی تیزی سے گھس گیا اسنے ہمت کر کے ہاتھ مارا لیکن شاید یہ اسکی زندگی کے آخری مراحل تھے ان آخری وقتوں میں اسنے بڑی عجیب و غریب سی حشرات کی آوازیں سنیں جو اسکے منہ ناک اور کانوں میں گھس رہے تھے تکلیف سے نہ وہ چیخا رہا تھا نہ ہی اس میں بولنے کی ہمت تھی آخری وقت میں اسنے اپنے لیے موت کی دعا خود کی تھی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اتنی گولیاں کھا کر بھی جو انسان زندہ رہے اسکے اندر شادی کی خواہش کے علاوہ اور کچھ نہیں ہو سکتا ” مہروز کو دیکھ کر اسنے اسکی ٹانگ پر ہاتھ مارا اور بولا تو وہ اہ آہ کر گیا اس وقت وہاں پلوشہ روح شجر بہزاد اور مہروز خود تھا
ہاں تو مزے لینے کا حق دنیا میں سب کو ہے مجھے نہیں ایسے نہیں مروں گا ” وہ بمشکل تمام بولا جبکہ بہزاد نے گھیرہ سانس بھرا اسے دیکھ کر خوشی ہوئی تھی
کہ وہ ٹھیک ہے جبکہ روح نے ایک نرس سے بلیک مارکر لے کر اسکی پٹیوں پر کارٹونز بنا دیے
روح ” مہروز چلایا مگر وہ اچھے خاصے کارٹون بنا کر عجیب و غریب سی باتیں لکھ کر کھلکھلا اٹھی تھی ۔
مجھے ٹھیک ہونے دو میں تمھیں زندہ نہیں چھوڑو گا ” مہروز بھڑکا
لنگڑے ہو ابھی تو تم ” روح نے ناک پر سے مکھی اڑائی پلوشہ دبا دبا سا مسکرا رہی تھی جبکہ شجر اب بھی گلٹ میں تھا اسنے ایسا کچھ نہیں کیا تھا اسکے لیے کہ وہ اس پر ٹرسٹ کرتا شاید وہ کسی کے لیے قابل اعتبار نہیں رہا تھا وہ باہر نکل گیا
اور جس اداسی سے وہ باہر نکلا پلوشہ نے نوٹ کیا تھا
وہ کچھ بے چین سی ہوئی اسکے پیچھے نکل آئی
کہاں جا رہے ہیں ” اسنے پیچھے سے پکارہ
گھر تھک گیا ہوں شاید کچھ دیر ریسٹ کروں گا ” وہ سنجیدگی سے بولا
اگر ملامت ہے تو معافی مانگی جا سکتی ہے ” وہ بولی جبکہ وہ مسکرا دیا
جب معاف کرنے کا ارادہ ہی نہ ہو کسی کا تو معافی بے معنی ہے “
نہیں ایسا نہیں ہے وہ سخت دل نہیں ہے ” وہ اسکا بازو پکڑ گئ
کیا تم نے مجھ پر اعتبار کیا کہ میں نے نانی جان کو نہیں مارا ” شجر کے سوال پر وہ ایکدم چپ سی ہو گئ
کچھ دیر وہ اسے دیکھتا رہا اور پھر مسکرا دیا
بلکل ایسے ہی اسکے پاس مجھے معاف کرنے کا کوئی جواز نہیں ” وہ کہہ کر وہاں سے باہر نکلتا کہ وہ پیچھے سے پکار اٹھی
آ گیا ہے یقین ” ٹوٹے پھوٹے لفظوں میں وہ بات مل کر گئ
شجر ایڑھیوں کے بل پلٹا
کیا تم سچ کہہ رہی ہو ” وہ مسکرایا جبکہ پلوشہ بھی مسکراہٹ روک گئ
اوہ تھنک گاڈ کہیں سے تو امید کی کرن دیکھائی دی ” وہ اسے سینے میں بھینچ گیا جبکہ پلوشہ سٹپٹا گی
شجر یہ یہ ہاسپٹل ہے میرا ” وہ بولی تو شجر نے سر جھٹکا
اور بیوی ہو تم میری ” وہ اسے مزید خود میں قید کرتا کافی خوش دیکھ رہا تھا ۔
ائ لو یو پچھلے دس سالوں میں ایک لمہہ بھی ایسا نہیں تھا جس میں تمھیں نہ سوچا ہو لیکن شاید میں ساری زندگی شرمندہ ہی رہوں گا کیونکہ میں نے بہت اپنوں کا بہت دل دکھایا ہے ” وہ بولا تو انکھون میں بھی ندامت تھی
آپ زندگی میں ایسے موقع لائیے گا جس میں سب کے دلوں میں یہ گرد کیطرح بیٹھ جائے بات ” وہ بولی تو وہ سر ہلا گیا
بہزاد کبھی نہیں مانے گا “
ہاں خیر اسے منانا آسان نہیں ” وہ مسکرائی
چلو تم تو مانی ایسا لگ رہا ہے سینے پر سے ہلکا سا بوجھ ہٹا ” وہ بولا تو وہ مسکرا دی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
روح مہروز کا جینا حرام کرنے کے لیے وہیں تھی جبکہ بہزاد کچھ دیر کے لیے غائب ہو گیا تھا اب وہ کہاں گیا تھا اس بات کا علم نہیں تھا کسی کو بھی جبکہ پلوشہ اور شجر بھی یہیں موجود تھے لیکن پلوشہ اپنی ڈیوٹی پر تھی اور شجر بھی مبین خان کے پاس گیا ہوا تھا ۔
دروازہ بجا وہ دونوں لڑ رہے تھے ماہ نور اندر داخل ہوئی اسکی آنکھوں میں آنسو تھے
میرے بابا کہاں ہیں روح ” وہ روح کی سمت بڑھی جبکہ مہروز نے جھٹکے سے سر اٹھایا
بہت دن گزر گئے کسی کو نہیں پتہ حمزہ بھی انھیں ڈھونڈ رہا ہے ہمیں بابا نہیں مل رہے”
وہ جیسے ہی روئی روح نے اسے گلے سے لگا لیا
یہ تو وہ بھی نہیں جانتی تھی کہ ہارون کہاں ہے کیا کر رہا ہے زندہ ہے یہ مر گیا ہے ۔۔۔
ماہ نور اسکے گلے لگ گئ
میرے دل میں ہے تمھارا باپ ا جاؤ میرے پاس میں دیتا ہوں تمھیں ” وہ سر اٹھا کر بولا جبکہ روح نے اسے گھور کر دیکھا
مہروز نے بھی گھورا کہ وہ اپنی چونچ بند کرے
کیا مطلب ” ماہ نور کو سمجھ نہیں ایا
یہ لنگڑا تمھیں کیا مطلب سمجھائے گا میں بہزاد سے پوچھتی ہوں اسے علم ہو گا “
بہزاد ” ماہ نور حیران ہوئی
آ۔۔۔ہاں ” روح اسے بتا گئ کہ بہزاد کون ہے
تو اس روز وہ کیوں ” ماہ نور کو سمجھ نہیں آئی تھی یہ بات جبکہ روح اسے سب سچ بتا گئ
ماہ نور ذرا خاموش رہ گئ
تم پریشان نہ ہو تھارے والد محترم کو میں ڈھونڈو گا ” وہ اٹھ کر بیٹھ گیا
تم سچ کہہ رہے ہو ” ماہ نور اسکی سمت بڑھی
سو فیصد بھئ ” وہ جیسے سیدھا ہو گیا جیسے اسے کوئی تکلیف تھی نہ غم ۔۔۔
یہ تو اچانک اتنا صحیح کیسے ہو گئے ہو ” روح نے اسے گھورا تو وہ دانت نکالنے لگا جبکہ ماہنور بیوقوفوں کی طرح ان دونوں کو دیکھ رہی تھی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہارون کی لاش دیکھ کر شجر کا دل دہل سا گیا
اسکی ہڈیوں پر بھی کیڑے لگے ہوئے تھے جبکہ بہزاد نے بس ہلکی سی مسکراہٹ سے دیکھا تھا ۔
شجر جان بوجھ کر اسکے ساتھ ساتھ تھا لیکن پھر بھی بہزاد نے اب تک اس سے کوئی بات نہیں کی تھی ۔
بیسمنٹ سے اسکی لاش کی گلی سڑی ہڈیاں نکلوا کر اسنے اپنے ہاتھوں سے ایک ایک کر کے انھیں جلایا تھا
اسکی آنکھوں میں ذرا بھر بھی رحم نہیں تھا
اسکے ہاتھ ذرا بھر بھی کانپے نہیں تھے وہ اسکی ہڈیوں کو آگ میں جھلسا رہا تھا
اسکے باپ کو زندہ اسنے آگ میں پھینکا تھا اسنے اپنے باپ کو آخری ایک نظر نہیں دیکھا تھا کتنا اسکا دل اس بات کو لے کر گھٹا ہوا تھا
اسکی ہڈیاں اگ کو مزید بھڑکا رہی تھیں
پولیس ہارون بیگ کو ڈھونڈ رہی ہے ” شجر کی آواز پر بہزاد نے اسکی جانب دیکھا
تمھیں مل تو گیا لے جاؤ ” نہایت سنجیدگی سے اسنے کہا تھا
میں تمھارے اس بدلے میں تمھارے ساتھ “
ابھی اسکی بات بھی پوری نہیں ہوئی تھی کہ بہزاد نے سیگریٹ منہ میں دبا لی ور ہاتھ کے اشارے سے اسے مزید بولنے سے روکا
تمھیں تمھاری وردی کی فکر ہے ” ان دونوں کے اردگرد صرف ہارون بیگ کی ہڈیوں کا دھواں تھا شجر نے اسے دیکھا ۔۔۔
فکر نہ کرو میں اس سارے کھیل سے نکل جاؤ گا مجھے تمھاری فوج میں دلچسپی نہیں اور ویسے بھی اوپن ہینڈی کیس ہے مجھ پر ہارون بیگ کو بے رحمی سے مار دینے کا اور تم جانتے ہو یہ بات تم کبھی بھی مجھے اریسٹ کرا سکتے ہو
I fuc* care “
کہہ کر وہ گاڑی کی جانب بڑھا لیکن شجر نے اسے روک لیا
میں معافی چاہتا ہوں “
مرد پر معافی نہیں جچتی ” وہ گلاسز لگا کر گاڑی میں سوار ہوا
لیکن مرد سے غلطیاں ہو جاتی ہیں ” وہ اسکی گاڑی کے شیشے سے اندر جھانکنے لگا
اور سالہ مرد ہی معاف نہیں کرتا ” کہہ کر وہ گاڑی اگے بڑھا گیا
شجر نے مڑ کر ہارون بیگ کو دیکھا ۔
شاید وہ کہیں نہیں تھا اسکے وجود کا نام و نشان بھی نہیں چھوڑا تھا اسنے اور یہ بات صرف شجر جانتا تھا کہ اسے کس نے مارا ہے اب یہ شجر پر تھا کہ وہ کیا کرتا آگے ۔۔۔۔
کیونکہ ہارون بیگ کی پڑتال تو اب تک جاری تھی وہ مشکل میں پھنس گیا تھا لیکن خود کو ثابت کرنے کا آخری موقع تھا کہ وہ واقعی اپنے کیے پر شرمندہ ہے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔