Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 24

بہزاد کے سخت وجود میں روح کی موجودگی ایک نرم سا لمس بن رہی تھی اور وہ اپنے دل میں پہلی بار کسی کے لیے کچھ خاص محسوس کر رہا تھا ایک بیوقوف لڑکی کے لیے جسے خود بھی نہیں پتہ وہ زندگی سے کیا چاہتی ہے ۔۔۔ وہ نازک سی تھی کانچ کیطرح کہ وہ اسے چھوئے گا بھی تو ٹوٹ جائے گی جبکہ کبھی اتنی اتھری ہو جاتی تھی کہ اسے سنبھالنے کے لیے اسے وہ ہی کرنا پڑتا جو وہ چاہتی کیونکہ اسے یاد تھا جس وقت اسنے اسکا گریبان پکڑ کر کہا تھا کہ وہ اسکی بےعزتی پر خاموش رہا اس دن پہلی بار یوں لگا کہ کسی نے اس سے اتنا گھیرہ شکوہ کر دیا اور وہ کچھ بھی نہ کر سکا پھر اسنے اس شخص کو ہی ختم کر دیا ۔
یہ عجیب ہی تو تھا کہ وہ اسکے ایک بار کے ضد کرنے پر اسے بائے روڈ کراچی لے جا رہا تھا سفر لمبا تھا لیکن وہ انکھوں کے گرد ہلکی پھلکی سی تھکاوٹ لیے اسکو خود میں سمیٹے یہ سب سوچ رہا تھا
روح کو اسنے پہلے وقت میں ہی پہچان لیا تھا
شجر سے کبھی اسے جیلسی نہیں ہوئی کیونکہ اسکے پاس ایسا کچھ تھا ہی نہیں جو بہزاد کو چاہیے اور وہ جانتا تھا کہ یہ روح وہ ہی ہے آج تک وہ خود سمجھ نہیں پایا کہ اسکے وجود پر روح کا نام کس لیے لکھا ہے کس وقت ایسا ہوا جب اسکے وجود پر یہ نام لکھ دیا گیا وہ لڑکی مر گئ تھی اسے بس اتنا پتہ تھا پر اسکی زندگی نے ایسا تغیر کھایا کہ وہ حواس بختہ رہ گیا اور جیسے زندگی میں جگہ صرف انتقام نے لے لی ۔
اس سب میں لڑکی اور کسی بھی لڑکی کے وجود کی ضرورت کو اسنے محسوس نہیں کیا جبکہ اسکے گرد ہزار لڑکیاں تھیں جنھیں ہاتھ بڑھا کر چھو لیتا جیسے اپنے باپ کے ہوتے ہوئے مزاج اوارہ سا تھا اسکے باپ کو ناحق مارا تھا اور اس بات کا بدلہ وہ انیسا کی نسلوں سے بھی لیتا ۔
اور وہ ایسا کر رہا تھا اور ایسا ہی کرے گا اسکے پاس کسی کے لیے گنجائش نہیں تھی اور نہ ہی رکھنی تھی اسنے لیکن روح کی آمد نے اسکی زندگی میں تبدیلی ڈال دی تھی
وہ اسے خاص سمجھنے لگا تھا شجر اسکے بارے میں جاننا چاہتا تھا تبھی اسے اسکی زندگی میں لایا تھا ۔
جبکہ وہ ایسی تھی کہ آج کی بات کل یاد نہ رکھتی بے ساختہ وہ مسکرا دیا اسکے گالوں پر پڑنے والے گھیرے گڑھے بھی مسکرائے اور روح کے بالوں میں انگلیاں چلانے لگا ۔
ایک ایسی لڑکی سے اسکی انویسٹیگیشن کرا رہا تھا جو خود سے بھی لاپرواہ تھی اسکی زندگی میں کوئی بھی فیس آئے وہ اسے سوچنا ہی نہیں چاہتی اسکے ساتھ کچھ بھی ہو جائے معلوم نہیں وہ کس یقین سے جینے لگتی تھی پھر سے ۔۔۔۔
کیا تھا اس میں ۔۔۔ ایسا نہیں تھا آج تک اسنے کوئی خوبصورت لڑکی نہیں دیکھی لیکن یہ بھی حقیقت تھی آج تک اسنے روح جیسی بھی نہیں دیکھی تھی ۔
وہ صبح سے ڈرائیو کر رہا تھا اور اب ایک سنسان سڑک پر گاڑی روکے اسے سوچ رہا تھا جو اسکے سینے پر سر رکھے گھیری نیند میں تھی
رات گہری تھی اور چاندنی کھڑکی میں سے اندر جھانک رہی تھی
روح کی مدھم بھاری سانسیں سستی سے بہزاد کے سینے کو چھو کر اسکے اندر بار بار عجیب احساس اجاگر کر رہی تھیں وہ خاموشی سے اسے دیکھ رہا تھا
بلکل خاموش پھر بے ساختہ اسکا دل کیا وہ گنگنائے اسکے لیے ۔۔۔ وہ سو رہی تھی زیادہ اسے گنگنانے بھی نہ کرتی وہ خود پر ہی ہنس دیا کیا وہ اس سے ڈر رہا تھا
ہاں شاید اسکے ٹیپ ریکارڈر سے ڈر رہا تھا ۔
بن تیرے مدھم مدھم ۔
بھی چل رہی تھی دھڑکن ۔۔۔
جب سے ملے تم ہمیں آنچل سے تیرے بندھے ۔۔۔۔
دل اڑ رہا ہے ۔۔۔
سنو نہ آسمانوں کے یہ ستارے ۔۔۔۔💫
کچھ بھی نہیں ہے ۔۔۔ اگے تمھارے ۔۔” ۔
اہستگی سے سر اٹھایا تھا اسنے عجیب گدگدی سی ہوئی تھی اسکے اندر کیونکہ وہ گا رہا تھا ہمیشہ بالکنی سے جھانک کر اسنے دیکھا تھا اتنی پر اثر رات میں وہ گاتا تھا اسے سنگر ہونا چاہیے تھا معلوم نہیں وہ بگڑ کر دہشت گرد کیوں بن گیا اتنا حسین اتنا خوبصورت گاتا تھا جس لڑکی کے لیے وہ گائے گا کتنا خوش قسمت ہو گی وہ ۔۔۔
اوہ کہیں وہ میں تو نہیں ” ایکدم سیدھی ہوتے اسنے ہونٹوں پر اپنے دونوں ہاتھ رکھ دیئے بہزاد جو آنکھیں بند کیے ہوئے تھا اسنے ایک آنکھ کھول کر اسے دیکھا
وہ اسپر تھی بے حد حسین بے حد خوبصورت بس کچھ اپنی سی لگی ۔۔۔ یہ اسنے اسکے لیے ہی گایا تھا اسکی آنکھیں گواہی دے رہی تھیں اسکی انکھوں کا بوجھل پن روح ذرا خفیف سی ہوئی تھی
اسنے فورا گاڑی کا دروازہ کھولا اور گاڑی سے باہر نکل گئ
روح ” بہزاد بولا
روح روڈ پر چلنے لگی وہ بھی گاڑی سے اتر گیا معلوم نہیں اب کیا ہو گیا تھا وہ گاڑی سے ٹیک لگا کر اسے دیکھنے لگا جو رک گئ
آپ مجھے اپنی طرف کھینچ لیتے ہیں زبردستی کس کرتے ہیں مجھ پر حق جماتے ہیں تو یہ سب مجھے غلط کیوں نہیں لگتا “
وہ کنفیوز تھی شاید تبھی سوال کر رہی تھی بہزاد کے ڈیمپلز مسکرائے
کیونکہ تم بھی مجھ سے محبت کرتی ہو ” وہ نرمی سے بولا
جی نہیں ایسا کچھ نہیں ہے میں کوئی پتھر اٹھا کر مارو گی اب آپکے سر پر آپکے دماغ پر سوار ہو گئ ہے میری محبت ” وہ برہمی سے بولی
بہزاد گھیرہ سانس کھینچ گیا
چلو تمھیں بھوک لگی تھی کچھ کھا لیتے ہیں
نہیں جانا مجھے واپس لے کر چلیں ” وہ منہ بنا کر سینے پر ہاتھ باندھ گئ
ہوا کی دوش پر اسکے بال اڑ رہے تھے جبکہ وہ ہیل میں نہیں تھی سلیپر پہن رکھا تھا وہ بھی گھر کا رف ۔۔۔۔
تمھارے دماغ میں کیڑے ہیں مجھے لگ رہا ہے ” وہ گاڑی میں بیٹھ گیا
گاڑی میں بیٹھو ” غصے سے بولا
نہیں جانا مجھے اپکے ساتھ ۔۔۔۔
ٹھیک ہے یو ڈیزرو ڈیتھ ” وہ کون سا سیدھا تھا
اسنے گاڑی سٹارٹ کی اور بنا لحاظ کے گاڑی کی سپیڈ بڑھا دی
روح ایکدم اچھل کر دوسری طرف ہو گئ
اگر نہ ہوتی تو گاڑی کے نیچے ہوتی
بہزاد نے البتہ بخشا نہیں ۔۔۔۔ گھوم کر گاڑی اسکے پیچھے لگا دی جبکہ وہ روڈ پر بھاگنے لگی
اچھا سوری میں جاؤں ۔۔۔۔ جاؤں گی بہزاد بہزاد میرا سانس ” وہ چلائی تو اسنے گاڑی روکی
بھاگ کر سانس پھول گیا تھا اسنے اپنے ٹراوزر کی پوکٹ سے ان ہیلر نکالنا چاہا مگر اس میں نہیں تھا بہزاد گاڑی سے نکلا وہ گھیرے گھیرے سانس بھر رہی تھی اسنے روح کے بال پکڑے اور اسکو اپنے نزدیک کھینچ کر اسے وہ سانسیں دینے لگا جو الجھ جاتی تھیں
روح کی ضرورت تھی یہ ۔۔۔۔
لوگوں کے لیے یہ سانسیں اسقدر قیمتی ہوں نہ ہوں اسکے لیے بے حد تھیں وہ نہ چاہتے ہوئے بھی بہزاد کی سانسوں میں سانسیں لینے پر مجبور تھی جبکہ وہ آج اسے شدت سے اپنا لمس دے رہا تھا جسے پا کر روح کے پورے وجود پر عجیب سنسناہٹ سی اٹھنے لگی یہاں تک کے بہزاد نے اسے خود پر کھینچ لیا اور گاڑی کی جانب چلنے لگا ۔
روح کو گاڑی میں بیٹھا کر وہ دور ہوا اور اسکے گال کو ہلکا سا چھوا
کیا اتنا کافی ہے یہ مزید درکار ہے تمھیں ” وہ گھیرے لہجے میں بولا تھا جبکہ اسکی سیٹی گم ہو گئ
وہ شرمندہ تھی وہ ایک اجنبی شخص کے ساتھ اتنا فرینک وہ بھی اس حد تک کیوں ہو گئ تھی وہ سر جھکا گئ جبکہ بہزاد دوسری طرف سے گاڑی میں بیٹھا اور گاڑی سٹارٹ کی
بہزاد کے لاکھ چاہنے کے باوجود اسکے بعد نہ اسکا سر اٹھا نہ وہ کچھ بھی بولی یہاں تک کے وہ اسے ایک ریسٹورنٹ میں لے آیا
اور جب وہ دونوں اندر داخل ہوئے تو کون تھا جو بہزاد کی شاندار پر اثر جادوئی سی شخصیت کو دیکھ کر اسکے سحر میں نہ جکڑا گیا ہوا ۔۔۔
دیکھ یار کس قدر ہینڈسم ہے یہ آدمی ” روح کے کانوں میں آواز پڑی تھی جھٹکے سے چڑیل کیطرح مڑ کر اسنے دیکھا
اور اسکے ساتھ دیکھ کتنی فضول لگ رہی ہے یہ لڑکی شکل سے ہی پاگل لگ رہی ہے ” دوسری لڑکی ہنسی جبکہ روح کے تن بدن میں آگ بھڑک گئ اسنے بہزاد کی جانب دیکھا اونچا لمبا وہ خوبصورت شاید نہیں تھا وہ خطرناک حد تک پرکشش تھا
جس کی انکھوں میں خاموش طوفان ، چہرے پر بے رحم سا سکوت تھا
بہزاد کی خوبصورتی اسکی مسکراہٹ میں نہیں تھی بلکہ اسکی سرد خاموشی سخت لہجے اور گھیری آنکھوں میں تھی
ٹیبل پر بیٹھنے تک اسنے اسکا اچھا خاصا معائنہ کر لیا اور نتیجہ یہ نکالا کہ وہ واقعی باکمال مرد تھا لیکن وہ بھی خوبصورت تھی یہ لڑکیاں اسکی برائی کیسے کر سکتی تھی کچھ دیر وہ چئیر پر اچھلتی رہی جیسے سکون نہ آ رہا ہو ۔۔۔۔ ہضم نہ ہو رہی ہو اپنی برائی اور اسکی تعریف وہ ائ برو اچکا اچکا کر اسے دیکھ رہی تھی جو کہ فلحال اپنے موبائل میں مگن تھا
وہ کھڑی ہو گئ ساتھ ایک مال ہے کیا میں جا سکتی ہوں وہاں ” اسنے پوچھا
نہیں “
ایسے کیسے جانا ہے مجھے پیسے دیں مجھے ” وہ سختی سے بولا
دماغ ٹھیک ہے تمھارا خطرہ ہو سکتا ہے کہیں نہیں جانا ” وہ مصروف سا بولا
مجھے جانا ہے بہزاد اور میں کہہ چکی ہوں پیسے دیں مجھے ” وہ اکھڑی جبکہ بہزاد گھیرہ سانس بھر کر اٹھا
چلو “
نہیں اپکو نہیں لے جانا خود جاو گی “
کچھ ہو جائے گا سمجھ نہیں آتی تمھیں ” وہ بہزاد کے قریب ائی اور اسکی پینٹ میں سے گن نکالی لی
اسکی آنکھوں میں جیسے ضد تھی
کوئی کہے ذرا اب مجھے کچھ “
میرا انتظار کریں آتی ہوں ” وہ غصے سے بولی
روح ” بہزاد پھر بھی مطمئن نہیں تھا جبکہ کارڈ لے کر وہ وہاں سے باہر نکلی اور پاس مال میں چلی گئ چبھ ہی تو گئ تھی اسکے دماغ میں یہ بات کہ بہزاد خوبصورت لگ سکتا ہے وہ نہیں اسنے سب سے پہلے اپنے لیے جینز شرٹ لی
اور آج تو کیپ حتی لی چینجنگ روم میں جا کر اسنے شرٹ پہنی اسپر بلیک اور گولڈ کوٹ پہنا اور باہر نکلی
تو سلیپر دیکھ کر وہ شوپ میں آ گئ وہاں سے اپنی پسند کی بلیک ہیل شوز لی اور پھر کاسمیٹکس کا کچھ سامان خریدنے کر اسنے لیپسٹک لگائی اور پرفیکٹ لکس نکال کر پورے اٹیٹیوڈ سے چلتی ہوئی وہ ہوٹل میں آئی تو شاید ہی ہوٹل میں کوئی ایسا وجود تھا جو اس پر سے نگاہ ہٹا پاتا ۔۔۔
اور وہ سیدھا چلتی ہوئی ان دونوں لڑکیوں کے آگے ہو گئ
میرے بارے میں میرے پیچھے بھی برائ کا حق نہیں رکھتا کوئی اور یہ جو آدمی ہے نہ مجھے سے پیار کرتا ہے تو اپنی آنکھوں کو اسپر سے دور رکھو
We are perfect with each other …. Mind it.
کہہ کر وہ ان دونوں کے کھلے منہ اگنور کر کے بہزاد کے سامنے جا کر بیٹھ گئ جبکہ بہزاد سنجیدگی سے اسکی یہ حرکتیں دیکھ رہا تھا
کافی خوش تھی اب وہ ۔۔۔
کیسی لگ رہی ہوں ” اسکے سوال پر بہزاد نے ذرا سر ہلایا
تو یہ ان لڑکیوں کو بتانے کے لیے تھا “
افکورس آپکی تعریف کر رہیں تھیں بس مجھے جیلسی ہو رہی تھی خیر یہ اپکا کارڈ آپکی بندوق اور اپکا بل “
بہزاد نے ڈیڈ لاکھ کا بل دیکھ کر کھانا آرڈر کیا
دے دوں گی سیٹی ہی گم ہو گئ آپکی تو ” وہ منہ بنا کر بولی
بہزاد ائ برو اچکا گیا
اور سر جھٹک کر اسنے کھانا آرڈر کیا جبکہ روح اسے حیرانگی سے دیکھنے لگی
اورفن میں تو فنڈ اتنا بڑا آتا تھا جتنا اس وقت وہ خرچہ کر کے آئی۔تھی اور اسنے بل کو بس ایک نظر دیکھا اور شجر کیطرح ڈانٹا بھی نہیں وہ مسکرا دی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شجر کو چین ہی نہیں تھا نہ ہی آنا تھا ضیاء کی موت اتنی جلدی ہضم نہیں کی جا سکتی تھی اسکا بس نہیں چل رہا تھا وہ بہزاد کے اتنی ہی گولیاں مارے جتنا اسنے بے قصور لوگوں کو تنگ کر رکھا تھا
کل پیشی پر ڈال دیا ہے شجر عباس کچھ کر کیوں نہیں رہا ” ابھی کچھ دیر پہلے ہارون اسپر دھاڑا تھا
سر میں کوشش کر رہا ہوں میم کو نہ جانا پڑے میں خود سب دیکھ لوں
کوشش کس لیے کیا کوشش ۔۔۔ میری بیوی کا نام اچھل رہا ہے تم چاہتے ہو میرے دشمنوں کے سینوں میں چین اترے انیسا نہیں جائے گی کہیں تو بہتر ہے تم یہ سب خود دیکھ لو ” اسنے فون کھٹاک سے بند کر دیا
جبکہ شجر حیران تھا پلوشہ بھی اسکے ساتھ شامل ہو گئ وہ بھی اسکا ساتھ دے رہی تھی
بڑی بے چینی سے یہ وقت گزرنا تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تمھاری طبعیت ٹھیک ہے ” انیسا کو بخار چڑھا گیا تھا ہارون نے اسکے قریب بیٹھتے سوال کیا جبکہ انیسا نے اسکی جانب دیکھا
ہارون مجھے روح سے ملنا ہے ” وہ بلاخر اسکے آگے ہار کر رو دی
ہارون کا چہرہ سپاٹ ہو گیا
مجھے لگتا ہے ہارون وہ مجھے مار دے گا وہ ۔۔۔ وہ بہزاد مجھے مار دے گا میری روح اسکے پاس ہے مجھے میری روح لا دو “
ہارون کا چہرہ اسقدر سپاٹ تھا کہ انیسا بھی خاموش ہو گئ
ہارون کھڑا ہو گیا
آرام کرو ” کہہ کر وہ باہر نکل گیا جبکہ انیسا بے ساختہ رو پڑی اسے بہزاد سے نفرت تھی سخت نفرت اسکی روح اسکے پاس تھی کیوں ؟
اسے اسکے پاس ہونا چاہیے تھا وہ کچھ دیر بعد اٹھ کر ہارون کے پیچھے آئی جو کہ باہر شراب نوشی میں مصروف تھا
ہارون “
انیسا میں فلحال کچھ نہیں سننا چاہتا
ہارون پلیز میں ہمارے بچوں کی حق تلفی کر ہی نہیں سکتی وہ ہم دونوں کے بچے ہیں ہم نے ایک دوسرے کو پانے کے لیے بہت کچھ کیا ہے تم جانتے ہو سب بس ایک بار روح کو مجھ سے ملنے دو تمھیں خدا کا واسطہ ہارون ” وہ رونے لگی
ہارون انیسا کو دیکھتا رہا اور پھر کچھ دیر بعد مسکرایا اور اسکے سر پر ہاتھ رکھا
فکر نہ کرو میں لے آؤ گا اسے یہاں ” وہ بولا تو انیسا خوش ہو گئ
جبکہ ہارون تادیر مسکراتا رہا اسے یاد ایا تھا کچھ اٹھ سال کی بچی اور اسکے گلابی ہونٹ
اس وقت ان ہونٹوں کا ذائقہ اتنا بہکا دینے والا تھا تو آج انکا ذائقہ کیا ہو گا
آنا چاہیے تھا اسے یہاں ۔۔۔۔
وہ مسکرا رہا تھا جبکہ انیسا اسکے سینے سے لگ گئ
وہ شکریہ ادا کر رہی تھی اسکا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ سو رہی تھی کہ اچانک اسکا دم سا گھٹنے لگا اور ایک جھٹکے سے وہ اٹھی جبکہ اسکا گلہ کوئی دبا رہا تھا
وہ بہزاد کے علاؤہ اور کوئ نہیں تھا
انیسا نے خود کو چھڑانا چاہا اسنے سر موڑ کر دیکھا ہارون نہیں تھا انیسا نے اس سے اپنا گلہ چھڑانا چاہا اور تبھی دروازہ کھلا
ہارون نے نشے کی کیفیت میں دیکھا تھا
انیسا نے رحم طلب نگاہوں سے اسے دیکھا جبکہ وہ جلدی سے اندر داخل ہوا اپنی بندوق نکالی وہ جو بھی شخص تھا وہ فورا پیچھے ہٹا اور کھڑکی سے کود گیا
ہارون نے کھڑی سے باہر جھانکا اور دو تین فائر کیے لیکن نشے کی وجہ سے ہاتھ چوک گیا انیسا بری طرح رو دی جبکہ ہارون نے غصے سے اس شخص کو دیکھا تھا جو اسکے گھر میں گھس بھی اور دیوار پھلانگ کر نکل بھی گیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مہروز نے سانس پھولتے ہوئے بہزاد کو انفارم کیا تھا
فورا نکل جاؤ یہاں سے ” وہ بولا تو مہروز نے سر ہلایا
اسنے گاڑی بھگائی لیکن اسکے پیچھے گارڈز لگ چکے تھے
بہزاد وہ لوگ میرے پیچھے ہیں ” مہروز نے مڑ کر دیکھا
تم نکلو وہاں سے میں دیکھتا ہوں ” وہ بولا اور روح اسے دیکھ رپی تھی بیڈ پر لیٹی جبکہ وہ باہر نکل گیا معلوم نہیں کیا ہو رہا تھا
وہ چلا گیا جبکہ روح نے آنکھیں بند کر لیں
بہزاد بہت لوگ ہیں میں اکیلا ہوں ” مہروز کی آواز گھبرائی ہوئی تھی بہزاد کا بس نہیں چلا کہ وہ اسکے پاس پہنچ جائے
گھبراؤ نہیں ڈرائیو کرو ” اسنے کال کاٹ کر کسی اور کو کال ملائی اور کچھ آرڈرز دیے
اور پھر سے مہروز کو کال ملائی مہروز نے کال اٹینڈ نہیں کی
بہزاد کے پتنگے سے ہی لگ گئے
مہروز ڈیم ایٹ کال اٹھاؤ ” وہ بے چینی سے دھاڑا تھا جبکہ دوسری طرف سے کال اٹھی
بہزاد “
مہروز کہاں ہو تم بتاؤ مجھے میں آتا ہوں “
نہیں “
تم کہاں ہو یار بتاؤ مجھے ” وہ چلایا جبکہ دوسری جانب خاموشی چھا گئ ۔
بہزاد کو یوں لگا اسپر تیزاب پھینک دیا ہو وہ بنا کچھ سوچے سمجھے کے ایک وجود یہاں پر ہے وہ دوڑ کر وہاں سے نکلا تھا اسنے پلٹ کر نہیں دیکھا کہ روح یہاں پر ہے ۔۔
مہروز کی فکر میں وہ بس چلا گیا تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اسکا سفر طویل تھا لیکن پھر بھی وہ نکل گیا تھا
اس وقت اسے ویسا ہی خوف محسوس ہوا تھا جیسا کہ علی شاہ کی خبر سن کر ہوا تھا اسنے پاگلوں کیطرح ڈرائیو کی وہ دن نکلنے کے بہت بعد پہنچا سیدھا گھر ۔۔
مہروز کہاں ہے ” داخل ہوتے ہی پہلا سوال یہ ہی تھا اسکے گارڈز بھی خاموش کھڑے تھے اسکا دل بیٹھ رہا تھا اسکے گارڈز نے اندر اشارہ کیا اور وہ تقریبا دوڑ کر اندر داخل ہوا اور مہروز کے کمرے میں جا گھسا ۔۔۔
مہروز بری طرح زخمی تھا اسکے سر پر اسکے ہاتھوں پاوں پر چوٹیں تھیں جن کی وجہ سے وہ گھائل تھا ۔
بہزاد نے دروازے کے پاس کھڑے ہو کر یہ منظر دیکھا تھا اسنے گردن موڑ کر پیچھے کھڑے گارڈز کو دیکھا اور غصے کی شدت سے واس اٹھا کر مارا تھا ۔
اگر وقت پر کچھ نہیں کر سکتے تو تم سب بے کار ہو ” وہ دھاڑ اٹھا
سر ہم سر کی لوکیشن نہیں ٹریپ کر پا رہے تھے ” ایک بولا جبکہ بہزاد نے اسکا گریبان جکڑ لیا
تم پندرہ لوگ ہو جسے ان بہانوں کی ضرورت نہیں تو میرے سامنے یہ بہانے بازی نہ کرو انڈرسٹینڈ دیٹ تم لوگوں کی ٹرینگ ایسی کی گئ ہے کہ اگر سو بندہ کھڑا ہے تو تم میں سے ایک بھی کافی ہے ” وہ انپر چیخ رہا تھا ۔
اور پھر وہ اندر ا گیا
مہروز کے پاس پلوشہ بھی تھی وہ دانت پیسے اسے دیکھ رہا تھا اور اچانک اسکے موبائل پر مبین خان کا فون رینگ کرنے لگا اور اس طرح وہ معملات میں ایسا الجھا کہ اسے یاد ہی نہ رہ سکا کہ وہ ایک معصوم جان کو چھوڑ آیا ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔