No Download Link
Rate this Novel
Episode 37
بدقسمتی تھی یہ کچھ بھی وہ چاروں ایک ہی جگہ پر تھے بس فرق اتنا تھا جس جگہ پر بہزاد تھا وہ تھوڑی پرانی خستہ حال ہٹ تھی اور شجر پلوشہ کو زبردستی ہی سہی ایک لگژری ہوٹل میں لے آیا تھا دونوں طرف پیسوں کا فرق تھا بہزاد کے ہاتھ میں اتنا پیسہ فلحال تھا نہیں ورنہ وہ یہ پوری جگہ بھی خرید لیتا ۔
اسے شجر سے لینا دینا کچھ نہیں تھا علاقہ ٹھنڈا تھا تبھی وہ سکون میں آ گیا تھا اسے تو کم فرق پڑ رہا تھا لیکن روح کی روح تلملا گئ تھی شجر کو لغاری ریزورٹ میں دیکھ کر ۔۔۔۔
بہزاد بیڈ پر سکون سے لیٹا سو رہا تھا معلوم نہیں کیسا انسان تھا اچانک ہی اسکے لیپ ٹاپ پر بلنک ہونے لگا ۔
روح یہ بات کافی عرصے سے محسوس کر رہی تھی وہ موبائل بہت کم یوز کرتا تھا ۔
اسنے ایک آنکھ کھولی لیپ ٹاپ کو اگنور کر کے اسنے موبائل کان سے لگا لیا
لوکیشن تمھیں سینڈ کر دوں گا تم میرے پاس آ جاؤ اور باقی سب کو کہہ دو جب تک میں نہیں لوٹو کوئی بھی واپس نہ ائے ” اسنے سنجیدگی سے کہا تو دوسری طرف سو فیصد مہروز ہی تھا ۔
اسنے کال کٹ کی اور پھر سے لیٹ گیا جبکہ روح سامنے کھڑی اسے گھور رہی تھی
بہزاد نے چہرے پر تکیہ رکھ لیا لیکن روح نے پھر بھی اسپر سے نگاہیں نہیں ہٹائی
تم چاہتی کیا ہو ” وہ چیڑ کر اسکی صورت تکنے لگا
آپ غریب کیوں ہوئے ہیں میں نے تو سنا تھا ائی ایس ائی آفیسر ہیں تو کیا اپکو تنخواہ نہیں ملتی وہ لوگ اتنی خوبصورت جگہ پر رہ رہے ہیں اور ہم یہاں اس ٹوٹی پھوٹی ہٹ میں ۔۔۔۔
مجھے فرق نہیں پڑتا ” بہزاد دوبارہ لیٹ گیا
آہ آ آ آ” اسنے پاوں پٹخ اور ٹھک ٹھک کرتی وہ کمرے سے باہر ا گئ جبکہ بہزاد نے اسپر توجہ نہیں دی ۔
دوسری طرف اسے چین ہی نہیں ا رہا تھا ۔
تھوڑی دیر بیٹھنے کے بعد اسنے اپنا موبائل تلاشنا چاہا جو کہ اسے نہیں ملا تو وہ گاڑی کی سمت بڑھ گئ وہ باہر آئی تو ہریالی گاؤں کے چھوٹے چھوٹے گھر اور خوبصورتی دیکھ کر بے ساختہ مسکرا دی
شاید سامنے اس لگژری ہوٹل سے ایسا حسین نظارہ کبھی نہ دیکھ پاتی
اسنے سانس اندر اتارا اور گول گول گھومنے لگی خوشی بھی ہوئی کہ وہ اس سے بلاوجہ لڑ رہی تھی وہ گاڑی کی جانب بڑھ گئ اسنے دروازہ کھولا اور موبائل نکالا تو گاڑی میں چھیڑ چھاڑ اور پنگے لینا اسکا فرض تھا
اسنے ڈگی کھول دی اور وہ جیسے ہی پیچھے آئی شاکڈ رہ گئ ایکدم اسکے لبوں سے چیخ نکلی اور اسنے لہنگا اٹھا لیا
اب اسے کام مل گیا تھا فرصت ختم ہو گئ تھی وہ جلدی سے اندر ا گئ اس ہٹ میں چھوٹے چھوٹے کمرے تھے وہ جلدی سے ایک کمرے میں گھس گئ
فلحال اسکے پاس کوئ سامان نہیں تھا لیکن اسکا شوق تھا پہننے کا اسنے جلدی سے باہر نکالا اور پہننے لگی ۔
لیکن صد افسوس کے دروازہ بند کرنا بھول گئ
اسنے لہنگا پہنا اور اوپر چھوٹی سی کرتی اسکے شفاف بے داغ وجود پر سرخ کندھاری رنگ باکمال لگ رہا تھا اسکے شانے پر بھاری کام پھسل سا گیا
وہ ہلکا سا مسکرائی اور اوپر کرنے لگی لیکن دونوں شانے پر فلحال وہ لہنگا چڑھ نہیں رہا تھا اور وہ آفت لگ رہی تھی خود سے بے پرواہ سی کھڑی تھی ۔
جب تک کوئی اسکی مدد نہ کرتا تب تک یہ پہنا نہ جاتا اچانک ہونے والے کھٹکے پر وہ آئینے میں دیکھنے لگی بہزاد تھا
چند لمہے یہ چونکا دینے والا منظر دیکھتا رہا روح جلدی سے دوپٹے کی سمت بڑھ گئ
اسکے چہرے پر شرم اور عجیب سی بے قراری اسے دیکھ کر سانسوں میں لیپٹی ہوئی تھی۔
بہزاد نے اپنے بھاری قدموں کو اسکی سمت اٹھانا شروع کیا
ہوا میں بے ساختہ بوجھ سا بڑھ گیا جو روح کے ناتواں شانوں پر پڑ رہا تھا وہ انگلیوں کو بار بار آپس میں الجھانے لگی چہرے پر گھیرہ شرم کا رنگ تھا وہ جانتی تھی بہزاد کے رنگ اڑ جائیں گے اسکو دیکھ کر اور وہ اسپر دھیان دے گا اور ایسا ہی ہوا
اسکی ہلکی ہلکی مسکراہٹ لبوں کے کناروں میں تھی بہزاد نے آگے بڑھ کر اسکا نرم ہاتھ تھام لیا
روح کا ہاتھ ہلکا سا کانپ گیا جبکہ شرم سے پلکیں جھک گئیں چہرہ سرخ ہو گیا اور ایسا لگا اسکے ذرا سا چھونے پر سارے جسم کا خون اکٹھا ہو گیا ہو چہرے پر کہ اسے کسی لالی اور سرخی کی ضرورت نہ پڑی ہو ۔۔۔
بہزاد نے اسکے ہاتھ پر نرمی سے انگوٹھا پھیرا اور اسکا موبائل اسکے ہاتھ سے نکال لیا روح نے ذرا سا چونک کر اسکی سمت دیکھا
مجھے موبائل چاہیے ” کہہ کر وہ اسے ایک اور نگاہ دیکھ کر باہر چلا گیا جبکہ روح کا منہ پورا کھل گیا وہ جذبات کے طوفان جو اسپر اٹھ رہے تھے ایکدم اسکا پورا محل ریزہ ریزہ ہو گیا اور غصے سے اسکا خون کھول گیا
بدتمیز جاہل انسان ایسا بھی کوئی روڈ ہوتا ہے اسطرح اسطرح مجھے چھوڑ گئے بھلا ایسے کوئی کسی کو دیکھ کر چھوڑ جاتا ہے یہ انسان ہے یہ مشین کہیں روبوٹ سے تو محبت نہیں کر لی میں نے لیکن پہلے تو ایسا نہیں تھا ” وہ منہ بسور کر رو دینے کو تھی
اسنے سر جھٹکا اور احتجاج میں یوں ہی بیٹھ گئ لیکن وقت گزرنے اسے احساس ہوا کہ یہ آدمی رومانس سے بہت دور ہے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جگہ خوبصورت تھی وہ کھڑکی میں کھڑی باہر کا نظارہ کر رہی تھی جبکہ شجر پیچھے سے اسے ہی دیکھ رہا تھا
چلو باہر چلتے ہیں ” اسنے کہا تو پلوشہ نے سر ہلایا شجر نے کچھ حیرانگی سے اسے دیکھا
کمال ہے اتنی سیدھی کھیر تو نہیں ہے کہ کھا ہی جاوں ” وہ بڑبڑایا اور پلوشہ نے سنا نہیں ورنہ اسکے پیچھے لازمی پڑ جاتی
شجر نے موبائل چیک کیا اور اسے پتہ چلا کہ ہارون اسکے بھی پیچھے لگ چکا ہے کیونکہ حمزہ غائب تھا اور اسے شک ان دونوں پر ہی تھا ۔
شجر نے سنئیرز سے بات کی تھی کہ مبین خان کا دوبارہ ٹرانسفر کیا جائے اسی ایریے میں اور اسے یقین تھا کہ وہ اسکی درخواست پر ضرور توجہ دیں گے وہ انھیں سوچوں میں گم تھا ڈارک مہرون رنگ کا لباس پہنے وہ بالوں کو ہلکے سے کیچڑ سے باندھے خود سے انجان باہر آ گئ اور اسکے پاس کھڑی ہو گئ
چلیں “
کہاں” وہ کھویا کھویا سا بولا
ہم نے باہر جانا تھا ” پلوشہ اسکی نگاہوں سے خفیف سی ہوئی
یقینا میرا موڈ تو نہیں لیکن جانا مجبوری ہے ” وہ ذو معنی سا کہتا اسکا ہاتھ پکڑ گیا
پلوشہ نے ذرا تیوری چڑھا کر ہاتھ چھڑانا چاہا لیکن شجر کی گرفت مظبوط تھی اسنے پھر کوشش ترک کر دی اور وہ دونوں باہر ا گئے
سب سے پہلے انھوں نے کھانا کھایا تھا ۔
یہ کیا ہے ” شجر کو سی فوٹو شاپ پر دیکھ وہ برا سا منہ بنا کر بولی
ٹرائے کر کے دیکھو اچھا ہے ” اسنے اپنا کانٹا اسکی سمت بڑھا دیا
پلوشہ نے نفی کر دی
کھا لو میری پسند کا بھی کچھ کھانے چاہیے تمھیں کیا فضول بوائل چاولوں میں گھسی ہوئی ہو ” وہ بولا تو زبردستی اسکے منہ میں لقمہ دے دیا پلوشہ کو عجیب تو لگا لیکن ذائقہ اچھا تھا
اور پھر بے دھیانی میں وہ اسے اپنے ہاتھ سے کھلانے لگا اور وہ کھانے لگی ۔
وہ دونوں کافی دیر تک اس ایریے میں گھومے پھیرے تھے پلوشہ جیسے بے فکر سی تھی شجر اسے دیکھ دیکھ کر مسکرا رہا تھا اور اچانک مہروز وہاں ا دھمکا
اے بے وفا عورت رنگے ہاتھوں پکڑی گئ ہو تم ” مہروز بہزاد کے پاس جا رہا تھا راستے میں ان دونوں کو دیکھ کر وہ اسکے سر پر سوار ہو گیا ۔
تم تھینک گاڈ یہاں ا گئے مجھے فکر تھی تمھاری ” شکل اور یہ سرخ جذبات میں ڈوبا لباس تو کچھ اور بتا رہا ” اسنے ائ برو اچکائ جبکہ پلوشہ خاموشی چہرہ سا پھیکا ہو گیا
تم اپنی چونچ بند کر کے ادھر ادھر ہو جاؤ “
شیٹ اپ “
واٹ ” شجر نے گن نکالی
شجر ” پلوشہ نے غصے سے اسے دیکھا
گرل فرینڈ ہے میری سمجھا “
یا اللّٰہ تم کہیں تو رک جایا کرو ” پلوشہ سر تھام گئ جبکہ شجر کا تو خون ہی کھول گیا تھا
رکنے کے پیسے لگتے ہیں وہ منحوس آدمی میرا کارڈ اپنی کم عمر بیوی کے چونچلے اٹھانے میں ختم کر چکا ہے مجھے پیسے دو بھوک لگی ہے مجھے “
پلوشہ کے چہرے پر بے ساختہ مسکراہٹ ا گئ اسنے بیگ سے پیسے نکالے ہی تھے کے شجر نے اپنے پوکٹ سے پیسے نکال کر اسکی سمت بڑھائے
نہیں ہم بہنوئی سے پیسے نہیں لیتے ” اسنے خوب اٹیٹیوڈ میں کہا
بہت غیرت مند ہو بہن سے لے رہے ہو ” شجر نے بھی طنز اچھالا
میرے دماغ میں میری مرضی کی غیرت ہے تیرے باپ کا کیا جا رہا ہے ” مہروز تھا سامنے بھلا کہاں رکتا وہ ۔۔۔۔
کیا کیا بکواس کی ہے تم نے بولنے کی تمیز ہے تمھیں ” شجر تو اگ بگولہ ہوتا اسپر چڑھتا کہ پلوشہ بیچ میں ا گئ ۔
سمجھ تو گئے ہو گے زیادہ ہیرو گیری نہیں چلنی مجھ پر تم لوگوں کی ” اسنے پلوشہ سے پیسے لیے اور وہاں سے چلا گیا پلوشہ اسکی حرکتوں پر ہنس دی
میں پورے دن سے خوار ہو رہا ہوں ہنسی نہ آئی تمھیں اپنوں کو دیکھ کر چہک رہی ہو ” وہ برا مانتا بولا
ہم تب کے ساتھی ہیں جب لوگوں نے ہم سے ہمارے سارے ہمارے سہارے چھین لیے تھے
ہم تب ہی بڑے ہو گئے تھے جب لوگوں نے ہمارے بڑوں کو بنا قصور کے مار دیا تھا ” وہ ترچھی نگاہ اسپر ڈالتی آگے چلی گئ شجر وہیں کھڑا رہا
چند لمہے بعد وہ اسکی سمت بڑھا اور اسکا بازو پکڑ کر اپنی جانب موڑا ۔۔۔۔
میں نے نانی جان کو نہیں مارا اور جو کچھ میں نے کیا اسپر شرمندہ ہوں میں اور میں سب ٹھیک بھی کر دوں گا “
کیا ٹھیک کریں گے آپ بہزاد کو ایک نارمل لائف دے سکتے ہیں ساری زندگی اسنے صرف ایک مقصد پر لگا دی شجر عباس کہ وہ اپنے باپ کو بے قصور ثابت کرے ۔
وہ ثابت کرے کہ اسکا باپ غدار نہیں آج تک پرانے خطوں میں برے نام سے یاد کیا جاتا ہے انکل کو میں نے دیکھا ہے اسے اپنے باپ کے لیے تنہا تڑپتے اپنی نانی کی گود میں سر رکھنے کے لیے ۔۔۔۔۔
آپ نے تو کامیابی بہزاد کے کندھوں پر حاصل کی اور اسنے مر مر کر ۔۔۔
معلوم نہیں کتنی نفرت ہے اسکے دل میں اپکے لیے اور آپکی آرمی کے لیے وہ صرف یہاں اگر موجود ہے تو علی شاہ کو انوسینٹ ثابت کرنے کے لیے اسکے بعد وہ یہ سب چھوڑ کر ہم سب کو چھوڑ کر چلا جائے گا “
کہتے کہتے اسکی آنکھیں بھیگ گئیں تھیں شجر چپ رہ گیا
وہ چھپتا پھر رہا ہے اسکی ساری جائیداد اسکی اپنی ہے آپکی حکومت کی نہیں ۔۔۔
آپکی آرمی کی نہیں اسکی اپنی ہے پھر کس لیے سیل کی گئ ہے
کیا آپ بہزاد کا آزاد کر سکتے ہیں سب کچھ ۔۔۔ نہیں آپ صرف مطلب پرست انسان ہیں اور اپن` مطلب پورا کرنا جانتے ہیں مجھ سے معلوم نہیں اپکو محبت ہے یہ نہیں لیکن اتنا مجھے پتہ ہے آپ فائدہ جہاں ہو وہاں پائے جاتے ہیں خود غرضی آپ میں کوٹ کوٹ کر بھری ہے میں کیسے ایسے انسان پر بھروسہ کروں جو اپنے دوست کا نہ ہوا تو میرا کیسے ہو گا “
اچھی خاصی سنا کر اسنے اپنے قدم ہوٹل کی سمت اٹھا لیے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تھینکیو سو مچ مہروز کتنے اچھے ہو تم ورنہ اس آدمی نے تو غربت دیکھا دیکھا کر مجھے مار دینا ہے ” وہ آہستہ آہستہ بول رہی تھی
تمھیں پتہ ہے پلوشہ سے پیسے مانگے ہیں تبھی کھانا نصیب ہوا ورنہ یہ انسان تو پورا دن منہ لپیٹ کر پڑا رہے ” وہ بہزاد کو گھورنے لگا جس نے پلیٹ اٹھا کر اپنا کھانا نکال لیا تھا
وہ دونوں اسے گھورتے رہے جبکہ وہ سکون سے کھانا کھانے لگا
ویسے مہروز بہزاد کی روح کیسے مریل سی ہے نہ رومانس ہی نہیں کرنا آتا ” وہ چپکے سے بولی تو مہروز نے بہت ہی افسوس سے روح کو دیکھا
تمھارے ساتھ رومانس نہیں کرتا یہ شاپر ” وہ بولا جبکہ روح نے اسقدر معصوم م منہ بنایا کہ مہروز کو ہنسی ا گئ
تم ہنس رہے ہو “
تم اتنی ہاٹ ہو ذرا جادو دیکھاؤ اپنا “
کیا کروں میں اس خوبصورتی کا ” وہ کھونا چھوڑ کر بیٹھ گئ جبکہ مہروز کھل کر ہنسا اور بہزاد نے ان دونوں کو دیکھا
کل ہم یہاں سے جا رہے ہیں ” وہ بولا
نہیں میں نے نہیں جانا ” روح جلدی سے بولی
پوچھا نہیں ہے “
لیکن لیکن ہم لوگوں کی بھی تو کوئی مرضی ہوئی چاہیے ” وہ بولی تو مہروز مسکرانے لگا
بہزاد کھانا کھا کر اٹھ گیا روح غصے سے لال پیلی ہونے لگی
مجھے نہیں رہنا یہاں ” وہ غصے سے وہاں سے اٹھ کر باہر نکل گئ
کیا ہے تمھیں اس لڑکی کے ارمانوں کا دہی بھلا کیوں بنا رہے ہو ” مہروز نے کہا تو بہزاد نے اسے گھورا
اوکے ٹھیک ہے جا رہا ہوں گاڑی میں سو جاؤ گا “
یہ پیسے پکڑو اور ہوٹل میں چلے جاؤ یہ تمہیں یہاں دیکھ کر نکھرے دیکھاتی رہے گی “
مہروز کو اسکی بات پر ہنسی آئی اور وہ اس سے پیسے لے کر سر ہلاتا چلا گیا بہزاد نے کچھ دیر انتظار کیا کہ وہ واپس ا جائے لیکن وہ نہیں ائ تو وہ خود باہر ا گیا وہ گاڑی میں منہ پھلائے لیٹی ہوئی تھی
باہر آؤ “
نہیں آنا مجھے آپ مجھے سے پیار نہیں کرتے “
پیار زبردستی نہیں لیا جاتا ” اسنے اسکا ہاتھ کھینچا جبکہ وہ سیٹ سے چمٹ گئ
زبردستی بھی ہوتا ہے لیکن یہ اپ کا کام ہوتا ہے ” بہزاد نے ائی برو اچکائی
جبکہ روح زبان دانتوں تلے دبا گئ کہ یہ وہ کیا بول گئ تھی
ٹھیک ہے ا جاؤ پیار کرتا ہوں تمھیں “
ن۔۔نہیں میرا مطلب وہ نہیں تھا ” وہ پریشان سی ہوئی
کم اون اب کیا شرمانا ” بہزاد نے اسے کھینچا اور شانے پر ڈال لیا
اسکی تھائی پکڑے وہ اندر لے ایا
ب۔۔بہزاد میر۔۔میرا مطلب تھا
ہم ہم بتاؤ کیا مطلب تھا ” اسنے ایک جھٹکے سے اسے نزدیک کھینچ لیا روح اسکے توانا سینے سے ا لگی ۔
میں تو بس مذ۔۔۔ مذاق “
لیکن میں سیریس ہوں “
اسنے سر اٹھایا وہ اسے ہی دیکھ رہا تھا روح کا چہرہ پھیکا ہو گیا اور بہزاد نے اسکے گلابی ہونٹوں پر انگوٹھا رکھا اسکی سانسیں بھاری ہوتی پھول رہی تھیں
بہزاد محسوس کر سکتا تھا جبکہ روح کو لگا اسے ان ہیلر کی ضرورت ہے
وہ اپنی پوکٹ سے ان ہیلر نکال کر لبوں سے لگاتی کہ بہزاد نے ان ہیلر صوفے پر پھینک دیا
روح کانپ سی گئ معملہ سیریس جو ہو گیا تھا بہزاد اسکے گلابی ہونٹوں کو اپنے انگوٹھے کے نیچے بے رحمی سے ملتا ایکدم اسکے لبوں پر جھکا اور اسکی سانسوں کی یہ کمزوری اپنے ذریعے مکمل کرنے لگا ۔
یہ تمھیں ہمیشہ یاد رہے گی اسنے جذبات میں چور ہوتے کہا اور
روح کو بازوں میں اٹھا لیا جبکہ روح اسکی گردن میں بازو حائل کر گئ ۔
سونے پر سہگا ایکدم لائیٹ کے چلے جانے سے اسکے انداز میں جنوں کا اندر بڑھ گیا اور روح اسکا ساتھ دینے کی کوشش میں بار بار سانس بھول جاتی اور بہزاد بار بار اسے اپنی سانسوں کے ذریعے سے ثابت کرتا کہ ان دونوں کے لیے اسکی سانسیں کافی ہیں
بہزاد اسکی گردن پر جھکا اسکی گردن پر خوبصورتی سے اپنے لمس کو پھیلاتے وہ جیسے سب بھول چکا تھا اس وقت ایک روح تھی جو اسکے بازوں میں تھی جسے وہ چاہتا تھا اور چاہ رہا تھا
اور ایسا ہی ہوا لیکن روح کو یاد تھا ابھی بہت کچھ ۔۔۔
اچانک اسکے منہ سے نکالنے والی آواز اسے خود ہی شرمندہ کر گئ اور بہزاد کے جذبات میں آگ لگا گئ
وہ اور بھی جنونی ہو گیا جبکہ دوسری طرف روح نے اسکے بالوں میں انگلیاں چلائیں اور اسے روکا
دونوں کی سانسوں میں ناہمواری تھی
آپ ۔۔۔ اپ نے مجھے ” وہ کچھ جھجھک گئ مجھے معاف کر دیا نہ بہزاد میں میری غلطی ” اچانک بہزاد نے اسے چھوڑ دیا
روح اسکی شرٹ نہ پکڑتی یقینا گیر جاتی
وہ اسے سنجیدگی سے اندھیرے میں چاند کی روشنی میں دیکھتا رہا روح کو لگا کہ اسکی خاموشی نفی کا اظہار ہے
بہزاد ” وہ اسکے ہاتھ تھام گئ
میں زندگی میں ہر اس جگہ اپکے ساتھ ہوں گی جہاں اپکو میری ضرورت ہو گی میرا اعتبار کریں “
تمھاری ضرورت نہیں مجھے تمہیں کہا تھا اگر میرے سکون کا سامان بننا چاہتی ہو تو شوق سے بناؤ گا مجھ سے اچھے کی امید نہ رکھو ” سنجیدگی سے کہہ کر وہ اس چھوٹے سے دل کو کئی بار توڑ چکا تھا ۔۔۔
بس ایک کال گرل جو بنا احساس اور جذبات کے اپکو سکون مہیا کرتی رہے ” وہ ذرا غصے اور غم سے بولی
یہ تمھاری چوائس ہے ورنہ میں نے اپنی جانب سے تمھیں پلکوں پر بیٹھایا تھا “
مجھ سے غلطی ہو گئ ” روح رو پڑی
مجھے تمھیں معاف کر کے کوئ فائدہ نہیں ایک بار کھو دینے والا معیار کوئی انسان دوبارہ نہیں بنا سکتا
نہیں جھوٹ مرد بے وفا کرے تو عورت کے دل میں اتنی وسعت ہوتی ہے کہ وہ اسے دوبارہ جگہ دے مرد کے دل میں نہیں ہوتی “
وہ صاف مکر گیا جبکہ روح گھائل سی ہو گئ
بہزاد اسکی سمت دوبارہ بڑھا کس نیت یہ ارادے سے روح دور ہو گئ
یعنی اب تم یہاں بھی بے وفائی کرو گی ” وہ انکھوں کو گھما کر بولا
میں محبت چاہتی ہوں “
تم اسے میری محبت سمجھ سکتی ہو “
لیکن یہ محبت نہیں ہے صرف ضرورت ہے ” بہزاد کے ہاتھ میں اپنی کلائی دیکھ کر وہ آنسو صاف کرتی ہاتھ کھینچ گئ
اگر اج تم نے مجھے روکا تو یقینا ایک اور ضرب تم لگا دو گی میرے دل پر ” وہ بولا روح نہ چاہتے ہوئے بھی ہار مان گئ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جاری ہے
