No Download Link
Rate this Novel
Episode 05
” After 10 years …..”
اس وقت کمرے میں گھیری خاموشی تھی اور اس گھیری خاموشی میں ہارون نے اپنے سامنے بیٹھے مبین خان کیطرف دیکھا اور جب ایک لمبا سانس کھینچا تو جنرل مبین خان مسکرا دیے ۔۔۔
جنرل ہارون ریٹائرمنٹ لے لیں آپ اپ کی طبعیت کچھ ٹھیک نہیں رہتی جس کی وجہ سے آپ غلط فیصلے لینے لگے ہیں” ۔
مبین خان کی بات پر ہارون نے اسکی جانب نگاہ گھمائی اور پھر سے مسکرایا ۔۔۔
جو بات کرنے آئے ہو وہ کرو ۔۔” ۔
اوکے سر 25 کمنڈر ٹریننگ کے لیے چھاونی نکلے تھے جن میں سے دس واپس آئے ہیں پندرہ کہاں ہیں اور دس بھی بری طرح زخمی ہیں ” ۔
مبین خان کا سوال نہایت کڑوا ضرور تھالیکن ہارون کے رویے پر وہ کچھ سختی سے انھیں دیکھنے لگے ۔۔
تم بہتر جانتے ہو اس پیپر پر سائین تمھارے تھے ۔
سر آپ بھول رہے ہیں اپ کے آرڈرز پر سائین کیے تھے میں نے
شہید ہو گئے اللہ انکی شہادت قبول فرمائے” ۔
وہ ہاتھ جھاڑ کر جگہ چھوڑ کر اٹھے ۔۔۔
جنرل مبین خان نے مٹھیاں بھینچ لیں ۔
ہمارے ہی علاقے میں ٹریننگ میں پندرہ کمانڈر جان سے چلے گئے کیا یہ حیران کن نہیں ہے آپکے لیے ” ۔
دیکھو مبین اب یہ سب تم نے ٹیکل کرنا ہے اگے جواب بھی تم نے دینے ہیں میں ان معملات میں کچھ نہیں کر سکتا ” ۔ وہ اپنی جان بچا گئے جبکہ مبین خان کا پہلا فیصلہ ہی غلط ثابت ہو گیا تھا وہ اس گیم کو اب سمھجہ چکے تھے ۔۔
وہ اٹھا اور اسکے سامنے ا گیا ۔
پیچھلے بیس سال سے اسی کرسی پر بیٹھا ہوں بہت کچھ دیکھا ہے میں نے یہاں اور بہت کچھ کیا بھی ہے ۔۔۔
وہ پندرہ کمانڈر ٹریننگ پر تھے انکے پاس ہتھیار بھی تھی اور بزدلوں کی یہاں کوئ ضرورت نہیں ہے میری باتوں سے اختلاف کرنے سے بہت بہتر ہے جنرل مبین خان آپ اپنی سیٹ سنبھالیں
کیونکہ یہ جگہ ۔۔۔ ہر کسی کو نصیب نہیں ہوتی پہلا ہی قدم اپکا غلط ثابت ہو گیا ہے اگے کیا کرنے والے ہیں اپ خیر آگے تو آپ خود جواب دیں گے ریٹائرمنٹ سے پہلے جتنے میرے مشن ہیں میں انھیں پورا کرنا چاہتا ہوں ۔۔
اسکے علاوہ گڈ لک زیادہ ہر چیز پر توجہ اپکو نقصان پہنچائے گی تو ریلکس رہیں” ۔
اسکا شانہ تھپتھپا کر وہ باہر نکلے تو جنرل مبین خان انھیں تیکھے چتونوں سے دیکھنے لگے
اور انکے نکلتے ہی وہ خود بھی باہر نکل گئے ۔۔
اور اپنے افس میں آ گئے ۔۔۔
فکر سے انکے ماتھے پر بل ڈال رہے تھے
انھوں نے فون گھمایا اور کسی سے بات کرنے لگے
جی سر ٹھیک ہے ۔۔۔ اوکے ۔۔ ائ ویل ” ۔ وہ بولے اور فون بند کر دیا ۔۔۔
گڈ مارننگ سر” ۔ ناک کر کے انکا پی این اندر ایا اور انھیں سلوٹ کیا جس کا جواب سر کو ہلا کر انھوں نے دیا ۔۔
بہزاد علی شاہ آئے ہیں” ۔ اسنے کہا تو انھوں نے سر ہلایا ۔۔اور ۔ وہ پھر سے سلوٹ مار کر باہر نکل گیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تم ٹینشن نہ لو آج تک کچھ نہیں ہوا تو آگے بھی کچھ نہیں ہو گا میں دیکھ لوں گا ” ۔ ہارون نے گلاس منہ سے لگایا اور بولے تو ضیا جو اس بات پر بے چین تھے کہ انکا رینک نہیں بڑھا گلاس منہ سے ہٹا کر ٹیبل پر پٹخ گئے ۔۔
وہ 15 ٹرینرز کہاں ہیں” ۔ضیا نے خود بھی سوال کیا
مجھے نہیں پتہ” ۔
ہارون اگر تم نے مبین کی وجہ سے یہ کام کیا ہے تو تم کام اتنا پکا کرو کہ بعد میں کوئ ثبوت نہ رہ جائے اور
بات صاف ہے ہارون مبین کی جگہ مجھے چاہیے ” ۔
میرا رینک تھا اگلا یہ اور مبین خان کو بیٹھا دیا ” ۔
وہ تلملا رہے تھے ۔
ہاں اس بات پر تو مجھے بھی حیرانگی ہے لیکن زیادہ کچھ نہیں بگڑا ۔۔ میں مبین خان کو چار دن بھی نہیں ٹکنے دوں گا فلحال تو وہ ان گمنام پندرہ ٹریندرز کا جواب دے اسکے بعد دیکھتے ہیں اور کیا کرنا یے ” ۔
تم کیسے کہہ سکتے ہو اگلے تین مہینوں میں تمھاری ریٹائرمنٹ کی ڈیٹس ا جائیں گی ” ۔
ضیا تم فکر لے رہے ہو تم شجر عباس کو بھول گئے ہو ” ۔ہارون نے یاد دلایا تو ضیا نے مٹھیاں بھینچ لیں
ہارون وہ بچہ تھا تب اب بچہ نہیں رہا وہ اپنی آنکھوں کا استعمال کر رہا ہے ۔۔” ۔
دیکھو میرے پاس وہم کا علاج نہیں ہے فلحال چھٹیوں کی ضرورت ہے چھٹیوں پر جاو ۔۔ اور سکون کرو ” ۔ہارون نے لاپرواہی سے کہا ۔
ان پندرہ ٹرینرز کا پتہ کرواو کہاں گئے ہیں ورنہ تم پھنس جاو گے”
میں پھنسوں گا ” وہ ہنسے کھل کر ۔۔۔
میں چھٹیوں پر جا رہا ہوں فلحال کچھ دن سکون سے گزار کر ایک پیپر سائین کرا لوں اسکے بعد ساری زندگی چین ہی چین ہے” ہارون ہنسا جبکہ ۔۔ ضیا کی سمجھ سے اسکا یہ رویہ باہر تھا
وہ پیپر مجھے دے دو مبین خان عام آدمی نہیں ہے ہارون ” ۔
ہارون بیگ نے بڑے بڑوں کو سنبھالا ہے ۔۔شاید تم بھول گئے ہو
دیکھو ضیا ایک بات یاد رکھنا
محنت سے زیادہ دماغ کی سمجھداری ۔کمال رکھتی ہے
کام چالاکی سے ہو جائے ۔ تو زیادہ بہتر ہوتا ہے با نسبت تم دن رات ایک ہی کام میں لگا دو ” ہارون اٹھے اور اسکا شانہ تھپتھپایا ۔۔۔
ضیا اسکی پشت دیکھنے لگا وہ سکون میں تھا
خیر بے عزتی جس کی ہوئ تھی بے سکون تو وہ ہوتا نہ
اسنے گلاس پھر لبوں سے لگایا اور ایک گھونٹ بھر کر وہ غیر مری نقطے کو گھورنے لگا ۔۔۔
شاید ہارون ٹھیک کہہ رہا تھا اسے چھٹیوں پر جانا چاہیے تھا ۔” ۔
وہ اٹھا ایک لیٹر لکھا اسے پاس مبین نے کرنا تھا ۔۔۔
ویسے تو اگلا جنرل وہ بنتا اگر مبین خان نہ اتا بیچ میں اسکا بس نہیں چل رہا تھا مبین کے ساتھ کیا کر دے لوٹینینٹ جنرل ضیا مٹھیاں بھینچے ۔۔۔ غصے کی کیفیت کو روکنا چاہ رہا تھا بس ایک رینک سے ضیا پیچھے اور مبین خان آج ہائیسٹ رینک پر تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میجر شجر عباس پلوشہ نے وہ فائل بند کی اور علاج کرنے سے انکار کر دیا ۔
ایم سوری ڈاکٹر نیہا میں انکا علاج نہیں کر سکتی آپ کسی اور ڈاکٹر کو بھیج دیں “
ٹن کمانڈرز زخمی ہیں بری طرح ۔
ہمارا سٹاف انکو بیسٹ ٹریٹمنٹ دینے میں لگا ہے اگر ڈاکٹر پلوشہ آپ انھیں لیڈ کریں گی تو میں تسلی میں رہو گی “
اسنے نگاہیں اٹھا کر دیکھا اور چہرے پر نفرت کے اثرات سے ابھرے
میم میری ڈیوٹی کسی بھی جگہ پر لگا دیں سوائے یہاں کے ” ۔
کیا میں وجہ جان سکتی ہوں” اب سامنے بیٹھی ڈاکٹر کو غصہ چڑھا
وہ کیا وجہ بتاتی وہ پیچھلے دو سال سے اس سے بچ رہی تھی
اور آج ڈاکٹر نیہا نے قسم کھا لی تھی ۔۔
جائیں اور کل سے آپ اپنی ڈیوٹی پر جائیں گی” ۔
وہ آخری بات کہہ کر اپنے کام میں لگ گئیں پلوشہ انھیں گھورنے لگی
کچھ توقف سے انھوں نے اسکی سمت دیکھا جبکہ وہ سٹپٹا گئ اور سلام کر کے باہر نکل گی
کیا پاگل عورت ہے یہ ۔۔۔”وہ خود سے بڑبڑائ ۔۔
میں اسکی جگہ ہوتی تو کسی کی مجبوری تو سمھجتی لیکن میں نے مجبوری کہاں بتائ ہے اسے لیکن میں اس انسان کی شکل بھی نہیں دیکھنا چاہتی” ۔
وہ بینچ پر بیٹھ گئ جبکہ اوپر صاف صاف لکھا تھا یہاں بیٹھنے کی اجازت نہیں یہ آرمی ایریا تھا یہاں ہر چیز اپنے اصول اور ضوابط کے ساتھ چلتی تھی
سٹاف گزرا اور اسے اشارے سے وہاں سے اٹھنے کا کہنے لگا
جان کو ہی ا گئے ہیں سب تو میری” ۔اب فکر سے اسکے پاس آخری حل صرف رونا تھا ۔ وہ سیدھا اپنے روم کی جانب بڑھ گئ حالانکہ وہ سنئیر ڈاکٹر تھی لیکن آج اسے احساس ہوا تھا کسی سنئیر پر کوئ سنئیر نہ ہو ۔
وہ سٹاف ایریے کی جانب بڑھ گئ اور پھر کسی خیال کے تحت اسنے فون نکالا اور ایک نمبر ڈال کیا
مہروز سپیکینگ ” ۔
بہزاد کہاں ہیں اور انکا موبائل اپنے پاس کیوں ہے” ۔
وہ ہر بار اس سے چیڑ کر یہ ہی سوال کرتی تھی
محترمہ جب جانتی ہیں بہزاد علی شاہ پیچھلے دس سال سے موبائل جیسے جدید آلے کو دنیا کا بے کار آلہ سمھجتا ہے اور وہ موبائل استعمال کرنے کا قائل نہیں تو آپ ہر بار یہ سوال کس بنیاد پر کرتی ہیں” ۔
اسکے لہجے میں مسکراہٹ تھی پلوشہ نے جیسے دل لگا کر گھورا تھا اپنے خیال میں ہی اسے ۔۔۔
جبکہ مہروز مسکرا دیا اسکے پاس ہر کسی سے چیڑنے کے علاوہ کوئ آپشن نہیں تھا
اچھا ٹھیک ہے مت خفا ہوں اپ وہ سو رہے ہیں ” ۔
اس وقت” وہ حیران ہوئ
جی بے وقت” ۔
وہ پھر مسکرایا
تم سے بات کرنا بے کار ہے” ۔
وہ فون بند کرنے لگی
ڈاکٹر صاحبہ حال دل بیان کرنے کا موقع دیں کوئ” ۔
شیٹ اپ” ۔ وہ دھاڑی اور فون بند کر دیا ۔
جبکہ مہروز نے گھیرہ سانس بھرا وہ جانتا تھا وہ شجر کے نکاح میں ہے پھر بھی اس سے محبت کا اظہار کھلم کھلا کرتا تھا ۔۔
شاید اسکے دل میں جگہ بنانا چاہتا تھا۔۔۔
جس میں کامیاب تو اب تک وہ ہوا نہیں تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پورا چاند جب آسمان پر اپنی روشنی کو اب و تاب سے پھیلا چکا تھا ۔۔
جب ہر چیز چاندنی میں نہائ ہوئ نکھری نکھری سی ۔۔۔ لگ رہی تھی
چارو طرف ایک عجیب پر اسرار سی خاموشی تھی
گویا اس خاموشی میں کچھ انہونی سی بات کچھ انہونی سی کہانی دفن ہو ۔
اور پھر اچانک سے ایک ساز کی آواز اٹھی
جیسے کسی نے اپنی انگلیوں کو ستار پر حرکت دی ہو ۔۔۔
وہ حرکت معمولی سی تھی لیکن اسکی گونج کافی پر اثر تھی ۔
اور پورے ہاتھ کی کمال حرکت ۔۔ جب ایک دھن بجانے لگی ۔
یہ کیا بات ہے اج کی چاندنی میں ۔۔۔
کہ ہم کہو گے رات کی راگنی میں۔
یہ بانہوں میں بانہیں یہ بہکی نگاہیں ۔۔لو انے لگا ہے زندگی کہ
مزاہ ۔۔
اتنی سنجیدگی تھی اس چہرے پر کہ اسکے گھنگریالے بال پیشانی پر بکھرے اور ایک گھیرا چتون سا اسکی پیشانی پر بن گیا ۔۔
اسکی انگلیاں ستار کی تاروں کو ایسی مہارت سے چھیڑ رہی تھیں کہ اگر کوئ سنے تو بس اسکے سحر میں ساری عمر کو جکڑا جائے ۔۔
یہ راتیں یہ موسم یہ ندی کا کنارہ یہ چنچل ہوا ۔۔۔
اسنے سر اٹھایا ۔۔
لبوں سے ایک لفظ بھی نہیں ادا ہوا تھا
بس ایک دھن تھی
جس نے ہر شے پر سکوت طاری کر دیا تھا ۔جیسے ہر چیز اسکے اثر میں ہو اسکے اختیار میں ہو ۔۔۔جو ہوا کے دوش پر چارو اطراف میں اپنا جادو بکھیرنے جا رہا تھا
اچانک ایک کھٹکے کی اواز پر اسنے اپنی گھیری ہری انکھوں کو اوپر اٹھایا اور عین سامنے نگاہ گئ تھی
یہاں پیچھلے کچھ سالوں میں کوئ نہیں ایا تھا ۔۔
اج اچانک ۔ لیکن وہ حیران نہیں تھا نہ اسکے لیے پیچھلے دس سالوں میں کوئ بات قابل حیران رہی تھی اسنے وہ ستار وہیں رکھا اپنی جگہ سے اٹھا اور دونوں ہاتھ ایک مظبوط سمٹ کی دیوار پر رکھ کر اسنے کچھ انکھوں کو سکیڑ کر دیکھا ۔
اس گھر میں روشنی کے سبب کو اگر وہ نہ جان پاتا ۔ تو وہ بہزاد علی شاہ نہ ہوتا۔
بہزاد ” اچانک اپنے عقب سے انے والی اواز پر اسنے گردن نہیں موڑی وہ جانتا تھا کون ہے اسکے پیچھے ۔
سامنے کوئ ایا ہے “
ہممم” اسنے ہنکارہ بھرا اب بھی وہ سامنے ہی دیکھ رہا تھا ۔
سامنے بننے والا عکس کسی لڑکی کا تھا ۔۔
وہ پلٹا اور اپنی جگہ پر جا کر بیٹھ گیا ۔
مہروز اسے خاموشی سے دیکھنے لگا
شجر عباس کا نیا مہرہ “
اسنے بات سمیٹ دی ۔
اسکے لب مسکرائے نہیں تھے ۔ لیکن انکھیں مسکرا دیں تھیں
یعنی ہمارے لیے خطرہ “
مہروز بھی سنجیدہ تھا ۔۔
بہزاد اب کہ ہلکا سا مسکرایا تو اسکے دانت بلکل چاندنی کی سی چمک لیے جگمگ کر اٹھے بڑا مسرور سا وہ گردن ہلانے لگا ۔۔
وہ کھیل زبردست کھیلتا ہے ۔۔ ” ۔
جبکہ مہروز نے ایک نظر اسے دیکھا اور خود بھی اس دیوار کے پاس ا گیا ۔۔۔
وہ سانس روکے سامنے کا منظر دیکھ رہا تھا
جبکہ بہزاد نے ایک بار پھر ستار اٹھا لی دھن ایک بار پھر سے وہ بجانے لگا تھا ۔۔۔
جبکہ مہروز سامنے اس لڑکی کا دیوار پر بنتا عکس دیکھنے لگا ۔۔۔
وہ جو بھی تھی اسوقت نہا رہی تھی وہ لب دبائے سامنے دیکھ رہا تھا جبکہ بہزاد آنکھیں بند کیے ۔۔
اپنی دھن کی لذت میں اتنا مگن تھا کہ اسے دنیا اور دنیا میں رہنے والے یہ لوگ ۔
کسی سے اسے کوئ لینا دینا نہیں تھا ۔
ہاں جب وہ اپنے میوزک انسٹرو منٹس کے ساتھ عاشقی میں مصروف ہوتا تو دنیا کا واحد معصوم شخص لگتا تھا جبکہ حقیقت اسکے برعکس تھی ۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ ایک خوبصورت مرد تھا جس کا چہرہ جاذبِ نظر تھا جیسے تراشیدہ سنگِ مرمر۔ اس کی پیشانی کشادہ اور صاف تھی، جو اس کی ذہانت اور وقار کی عکاسی کرتی تھی۔ اس کی آنکھیں گہری اور پُراسرار تھیں، جیسے رات کے آسمان میں چمکتے ستارے، جن میں ایک ایسی کشش ہوتی ہے جو دیکھنے والے کو اپنے سحر میں جکڑ لیتی ہے۔ اس کی بھنویں گھنی اور متناسب تھیں، جو اس کے چہرے کی نفاست میں اضافہ کرتی تھیں۔
ناک سیدھی اور متناسب تھی، جیسے کسی ماہر سنگ تراش نے بڑی مہارت سے تراشی ہو۔ اس کے لب گلاب کی پنکھڑیوں کی مانند نرم اور خوشنما تھے، جب وہ مسکراتا ہے تو یوں لگتا ہے جیسے کائنات میں روشنی بکھر گئی ہو۔ اس کا جبڑا مضبوط اور زاویہ دار تھا ، جو اس کی مردانگی کو اور بھی نمایاں کرتا تھا۔
اس کے بال گھنے، چمکدار اور قدرتی طور پر سنوارے ہوئے لگتے ہیں۔ وہ یا تو گھنگھریالے ہو سکتے ہیں، جو اسے ایک رومانوی انداز دیتے ہیں، یا سیدھے اور ملائم، جیسے ریشم کی لٹیں، جو ہوا کے ساتھ ہلکی سی جنبش میں دل موہ لینے والی کیفیت پیدا کر دیتے ہیں۔ بعض اوقات اس کی پیشانی پر بکھری ہوئی چند لٹیں اسے مزید پُراسرار اور دلکش بنا دیتی تھیں۔
یہ چہرہ محض خوبصورتی کا مجسمہ نہیں، بلکہ اس میں ایک کہانی ہے، ایک راز ہے، ایک ایسی کشش ہے جو الفاظ سے زیادہ محسوس کی جا سکتی تھی۔
وہ پیچھلے دس سالوں میں اتنا بدل گیا تھا کہ اب اسے کوئ وہ شرارتی لڑکا کہہ ہی نہیں سکتا تھا جس انسان کے پاس کھونے کے لیے کچھ بچا ہی نہ ہو وہ کتنا بے خوف دیکھائ دیتا ہے بس ویسا ہی دیکھتا تھا اب وہ سرد ۔۔۔ منجمند بے حس ۔۔
وہ کلف زدہ سفید سوٹ پہن کر سیڑھیاں اترتا نیچے آیا۔
ابھی ہفتہ پہلے وہ یہاں شفٹ ہوا تھا ۔۔
اور وہ جانتا تھا ایک تھرتھلی مچی ہوئ تھی کہ وہ یہاں کیسے اآ سکتا ہے ۔ اسے یہاں آنے کی اجازت کیوں دی گئ ۔
لیکن اسے ان چیزوں سے فرق نہیں پڑتا تھا ۔۔
وہ ڈائننگ ٹیبل پر بیٹھا اور کانٹے کو اٹھا کر اسنے آملیٹ کو توڑا اب صرف کھاتے ہوئے اسکے ڈیمپل نمایاں ہوتے تھے ۔۔ورنہ اسکے ڈیمپلز نہیں دیکھتے تھے جیسے وہ بھی روٹھ کر چھپ گئے ہوں
وہ سنجیدگی سے ناشتہ کر رہا تھا
پلوشہ کی کال ائ تھی میں کل بھی تمھیں بتانا چاہ رہا تھا بس تم سو رہے تھے” ۔
تم نے اویس کی لاش اسکے گھر والوں تک پہنچا دی” ۔
اسنے اسکی بات کو اگنور کر کے سوال کیا
ہاں ۔۔ اسکی ماں تمھیں بدعائیں دے رہی تھی ۔۔” مہروز نے بتایا وہ جزبات سے عاری سا بنا بنا شکن لائے پیشانی پر پلیٹ میں موجود کھانا اندر اتار رہا تھا
شجر جانتا ہے یہ بات” ۔
اسنے اگلا سوال کیا
ابھی وہ زخمی ہے 15 کمنڈرز غائب ہیں ۔
اور جو دس لوٹے ہیں وہ بھی زخمی ہیں ۔۔۔” ۔
ہممم ۔ ” ۔
اور وہ کمنڈر کہاں ہیں” ۔
ہمارے پاس اور کہاں جائیں گے” ۔
بہزاد نے گھونٹ بھرا تھا جوس کا ۔۔” ۔
اور کھڑا ہو گیا
ناشتہ تو پورا کیا کرو یار” ۔ مہروز ذرا برہمی سے بولا تو بہزاد نے ایک نگاہ اسکی جانب دیکھا
اسے یہ یار وار پسند نہیں تھے الفاظ ۔ نہ ہی دوستیاں ۔
سوری” ۔ وہ بولا بہزاد نے سر ہلایا
سامنے جو لڑکی ائ ہے کچھ خبر اسکی” ۔
ہم نکلوائ ہے رات تک فائل ا جائے گی”
گڈ ” وہ بولا اور باہر نکلنے لگا
منی لانڈرینگ کا کیس بن رہا ہے ہم لوگوں پر اور بہت جلد اور بھی کیسز بنیں گے ” ۔
مہروز نے اسے یاد دہانی کرائ ۔۔۔
یہ کراچی میں کچھ زیادہ ہی سکون یے آج کل ۔ ذرا ہلچل مچاو سارے کیس گرد آلود فائلوں میں بند ہو جائیں گے” ۔
اسنے سنجیدگی سے کہا ۔
اوکے ۔۔ تم بتاو کب کہاں اور کیسے ” ۔ وہ ذو معنی بات کر رہا تھا
بلکل اسی طرح ہنگامہ آرائی کرو جس طرح پیچھلے دس سالوں میں ہوتی ا رہی ہے ۔۔
اچھا اسکے ساتھ ہی ٹری ایڈز اور یاکوز اس وقت ایشیا کے سب سے بڑے منشیات فروخت ہیں
رابطہ کیا تھا انھوں نے ۔ انھیں گرین سگنل دیکھاو میں نہیں چاہتا کہ وہ لوگ کسی اور کو چنیں اس کام کے لیے” ۔
اوکے” ۔ مہروز نے سر ہلایا
بہزاد” ۔ اسکے قدم ابھی گھر کی دہلیز پار کرتے کہ مہروز کے پکارنے پر رکے ۔
میں ایک بات جاننا چاہتا ہوں
ہم بہت اچھی طرح کام کر رہے تھے اس ریڈ ایریے سے باہر آرمی کی بغل میں بیٹھ کر تمھیں لگتا یے ہم اپنے مشن پر فوکس کر پائیں گے” ۔
اب میرا مشن یہیں پر ختم ہو گا اور شاید زندگی بھی ۔۔
تم ان سے میٹنگ ارینج کرو “
وہ اسے کچھ سمھجاتے ہوئے باہر نکلا تھا کہ اچانک کوئ سامنے سے بھاگتا ہوا آیا ۔۔۔اور اسکے عین سامنے ا کر رک گیا
وہ لڑکی بہزاد کو حیرانگی سے دیکھنے لگی ۔
بہزاد اسے ماتھے پر تیوری ڈالے دیکھ رہا تھا
ہائے میرا نام ۔ ” ۔
ابھی بات بھی مکمل نہ ہوئ تھی کہ وہ آگے بڑھ گیا
مجھے بتاو کیا نام ہے
تمھارا پیاری انکھوں والی ” مہروز دانت نکال کر کھڑا ہو گیا بہزاد گاڑی میں سوار ہوا ۔
روح” ۔
منہ بناتی وہ اتنا ہی کہہ گئ
اور اس نام کی باز گشت بہزاد کے کانوں میں بھی ہوئ تھی اسنے بس آنکھیں اٹھا کر دیکھا ۔وہ منہ پھلائے اسے ہی دیکھ رہی تھی ۔۔۔
بہزاد نے چند لمہے بس دیکھا تھا اور گاڑی گھما گیا
واہ روح تمھارا نیم تو بہت پیارا ہے۔” ۔
مہروز بات بڑھاتا کہ بہزاد وہاں سے چلا بھی گیا جبکہ روح مہروز کو دیکھنے لگی
ہیں سچی کہہ رہے ہو مجھے بھی پسند ہے اپنا نام روح ۔ تمھارا نام کیا یے ۔۔ اور تم لوگوں میں کوئ اٹیکیٹس ہی نہیں پڑوسیوں کی کوئ تو خدمت کی جانی چاہیے” ۔
پڑوسیوں کی خدمت کرنے ہم لوگ پہنچے محترمہ تو پڑوسی سیدھا اللّٰہ کے پاس جائیں گے” مہروز ہنستا ہوا گاڑی میں بیٹھنے لگا
اچھا سنو ” روح نے بالوں کو جھٹکا ۔اور اسکی گاڑی کا دروازہ پکڑ لیا
وہ فوجی تھا” وہ بہزاد کے بارے میں پوچھ رہی تھی
نہیں مافیا تھا ۔۔ دور رہو اس سے بچی ” اسنے اسکی پیشانی پر انگلی رکھ کر دور کیا اور روح منہ پر ہاتھ رکھ کر جھوم گئ
اسے مافیا ہمیشہ سے پسند تھے
لیکن آرمی میں مافیا کیوں یہ کیا تھا “
؟؟؟؟؟؟؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
