No Download Link
Rate this Novel
Episode 08
میڈیم پلوشہ آئیں ہیں” بہزاد نے سیگریٹ کی راکھ ایش ٹرے میں چھڑک دی اور سامنے اپنے گارڈ کو دیکھا جو مکمل سیاہ لباس میں تھا بلیک جینز اور بلیک ہی ٹی شرٹ پر ماسک لگا کر گن ہاتھ میں تھامے وہ بہزاد کو دیکھ رہا تھا۔۔۔
ہمم اندر لے آؤ ” اسنے اجازت دی اور دوبارہ سے اپنی سیگرہٹ منہ میں رکھ کر وہ گردن کو پیچھے ڈال کر آنکھیں بند کر گیا
پلوشہ اندر آئی تو قدموں کی کوئ آہٹ نہ تھی ۔۔
جبکہ دوسری طرف بہزاد کے ذہن میں ہیل کی ٹک ٹک کی بازگشت سی ہوئی
وہ بے ساختہ ہی مسکرایا تھا اور اسنے لبوں سے سگریٹ نکال کر سامنے دیکھا
اسکے چہرے پر سرخ اور نیلا نشان دیکھ کر بہزاد سیدھا ہو گیا
روح کون ہے “
پلوشہ بھیگی نظروں سے اسے دیکھنے لگی بہزاد نے جواب نہیں دیا
یہ وہ ہی روح ہے نہ بہزاد ” وہ اب بھی غمزدہ دل سے اسکی جانب دیکھ رہی تھی جو کہ جیسے کسی بات کو حیثیت دینے کو تیار نہیں تھا
مجھے علم نہیں ” لاپرواہی سے بولا بہزاد کی بات پر پلوشہ نے آنکھیں صاف کر لیں کبھی اسنے اسکے معصوم سے دل کی پرواہ نہیں کی تھی ۔۔
پلوشہ خاموشی سے سر جھکا گئ ۔
وہ شجر عباس کو پسند کرتی ہے ” اسنے گال صاف کیے اور اسکی جانب دیکھا اسکے چہرے پر اب بھی کوئی تاثر نہیں تھا
تم شجر سے ملی ہو ” اسنے الگ ہی سوال کیا
ہاں ” اسے ذرا رونا انے لگا تھپڑ کی تکلیف اب بھی محسوس ہو رہی تھی
اسنے تمھیں مارا ہے “
ہممم لیکن آپ کو کیا فرق پڑتا ہے ” اسنے سرد نگاہوں سے اسکی جانب دیکھا
بہزاد میں ” تم شجر کی ہو مجھے دوسروں کی چیزوں پر ڈاکا ڈالنے کا شوق نہیں پلوشہ تم میرے لیے بہت اہم ہو کیونکہ شاید تم آخری رشتہ ہو میرے پاس لیکن میرے بارے میں کم سوچا کرو ۔
اینی ویز تم یہیں رہو کچھ دن باقی شجر عباس اس تھپڑ کا جواب دے پہلے ” وہ بولا سیگریٹ لبوں سے نکالی اور ایش ٹرے میں مسل کر چلا گیا
پلوشہ پچھلے دس سال سے یہ سب ہی سنتی آ رہی تھی
وہ اسکے لیے اہم ہو سکتی تھی لیکن وہ وہ جگہ لے ہی نہیں سکتی تھی جو جگہ وہ شاید اسکے علاوہ کسی بھی لڑکی کو دے دیتا ۔۔
یا جیسا وہ کہتا تھا اسے کسی عورت کی ضرورت ہی نہیں وہ بہت بدل گیا تھا بہت زیادہ ۔
بہزاد اٹھ کر چلا گیا تو وہ کچھ سکون دہ دن یہاں گزارنے کے لیے اٹھ کر اپنے مخصوص کمرے میں ا گئ ۔۔۔
یہاں سے وہ بہزاد کے کمرے کی بالکنی جھانک سکتی تھی جہاں وہ پورے چاند کے دنوں میں موسیقی سے جادو بکھیرتا تھا
جب تمام دنیا خواب خرگوش کے مزے لیتی تب وہ رات میں زندگی بھر دیتا ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آپ میرے ساتھ چلیں مجھے اس آدمی پر ایک روپیہ کا بھی بھروسہ نہیں وہ تو مجھے جان سے مار دے گا ” وہ آنسو صاف کرتی بولی تھی لہجہ ضدی تھا
روح بچوں کیطرح بیہیو کرنا بند کرو میں تمھارے ساتھ نہیں رہ سکتا بہزاد بلکل سامنے ہے “
تو ۔۔۔۔ انھیں پتہ چلنا چاہیے میری پروٹیکشن کے لیے آپ ہیں” وہ سوں سوں کرتی بولی تھی کہ جیسے اسکی کوئی بات نہیں مانے گی اب
ہم کوئی بچوں کا کھیل نہیں کھیل رہے روح وہ بہت بڑا کریمنل ہے وہ 15 کمنڈرز چھپائے بیٹھا ہے میرے معلوم نہیں کب کیا ڈیمانڈ کر دے تم ہوش سے کام لو یہ تو بس ایک گولی تھی :”
شجر صاحب کل کو وہ میری کھوپڑی میں گولیاں اتار دے تب بھی یہ ہی کہہ دیجیے گا
مجھے نہیں پتہ میرے ساتھ چلیں چلیں آج آج تو رہ لیں کم از کم ورنہ مجھے نہیں کرنا یہ کام ” وہ ضدی ہوئی تو شجر ایک سانس کھینچ گیا
اچھا ٹھیک ہے کھڑی ہو جاؤ اب “
لیکن مجھے بہت پین ہے شجر “
سر” اسنے تصیحی کی اور گھور کر دیکھا جبکہ وہ بھیگی انکھوں میں شرارت بھرتی لب دانتوں میں دبا گئ ۔
شجر سر تھام گیا
جو اسکی تھی لیفٹ دینے کو تیار نہیں تھی اور یہ روح بد روح کیطرح اسکے پیچھے پڑ گئ تھی ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بس آمنے سامنے کا سفر تھا ۔۔۔۔۔
شجر عباس عین اسکے سامنے والے گھر میں تھا بہزاد کے گھر میں کئ بار جھانکنے کے باوجود صرف سیاہ لباس میں گارڈز کے سوا کچھ نہیں دیکھا تھا
گھر کے اندر گارڈز کی ضرورت کس کو ہوتی تھی ۔۔
وہ بالکنی سے ہٹ گیا روح بڑی مشکلوں سے سوئی تھی وہ سمجھ سکتا تھا وہ ایک نازک سی لڑکی ہے ایک گولی کا بوجھ اٹھانا مشکل تھا اسکے لیے لیکن وہ ایسا کر کیا رہی تھی کہ سیدھا کندھے میں ہی بہزاد نے گولی مار دی بنا رحم کھائے “
یہ سوال اسکے دماغ میں بھی جاگا تھا اور یہ ہی سوال پلوشہ کے بھی ذہن میں تھا یہ تو روح جانتی تھی کہ وہ اسے کس طرح بہکا رہی تھی ۔۔ اپنا شانا دیکھا کر اور اسنے اسی شانے میں سوراخ کر دیا تھا
شجر کمرے میں چلا گیا اور لائٹس بند ہو گئیں
پلوشہ بار بار آنکھیں جھپک جھپک کر کھولنا چاہتی تھی کہ وہ بہزاد کا وہ روپ دیکھے جو شاید وہ کسی کو نہیں دیکھاتا تھا وہ دیکھنا چاہتی تھی مگر نیند کا غلبہ بہت شدید تھا اور آج اسنے ڈیوٹی بھی کی تھی تبھی وہ سو گئ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
” شمع کو پگھلنے کا ارمان کیوں ہے
پتنگے کو جلنے کا ارمان کیوں ہے “
حسین سی آواز فضا میں گونجی تھی ۔۔
اس لڑکی کی آواز پر روح کی ایکدم انکھ کھلی اور اسنے گھڑی میں وقت دیکھا رات کا تیسرا پہر تھا ۔
3 بجے کے قریب کا وقت تھا وہ جلدی سے باہر نکلی
آج سفید نائیٹی میں تھی بلکل ویسی ہی جو اسکی تھائی پر ا کر ختم ہو جاتی اور اسکی ٹانگیں اس میں واضح نظر آتی۔۔
وہ باہر آئی اسے عجیب لگا آج ایک لڑکی کی آواز کیوں تھی اسکے ساتھ ۔۔۔
وہ جیسے ہی آئی تو باہر کا منظر دیکھ کر جیسے اسکے سحر میں جکڑی گئ ۔
سامنے وہ ریڈ کارپیٹ پر سفید قمیض شلوار میں بیٹھا تھا اور اسکے آگے طبلہ رکھا تھا
جس پر اسکی انگلیوں کی حرکت عجیب خوفناک سا ماحول بنا چکی تھی
اسی شاخ کا امتحان زندگی ہے ۔۔۔۔
اسکی آواز میں عجیب ہی بات تھی کہ اسکے دل کی دھڑکن اسے کانوں میں محسوس ہونے لگی وہ بجا رہا تھا اپنی ہی دھن میں اسے ارد گرد کی پرواہ نہیں تھی وہ لڑکی اٹھ کر چلی گئ
لائٹس بند ہو گئیں
اور اسکی انگلیاں طبلے پر بج رہی تھیں اور اس طبلے کا شور خوف سا برپا کر رہا تھا ۔۔ اسنے اچانک آنکھیں کھولیں
اور نگاہ روح کی نگاہوں سے ٹکرا گئ
روح کی سانسیں پھولنے لگیں اسے اسکی نگاہ سے خوف سا محسوس ہوا اور وہ سانس لینا ہی بھول گئ
اسنے اپنے دل پر ہاتھ رکھا وہ سانسیں لینا چاہتی تھی لیکن سانسیں ساتھ نہیں دے رہی تھیں ۔
وہ روح کی انکھوں میں ہی دیکھ رہا تھا اور وہ اندر بھاگی خود کو ان ہیل کرنے کے لیے ۔۔
اسنے کانپتے ہاتھوں سے ان ہیلر اٹھا کر سانسیں بھری اور خوف سے پیشانی پر کئی بوندیں بن گئیں
اسنے کچھ توقف سے باہر جھانکا وہ اب بھی بالکنی میں کھڑا گھور رہا تھا
روح نے کچھ ہمت مجتمع کی کس حق سے اسنے اسپر گولی چلائی تھی
اسکی ماں کی” ۔۔ غصے سے اٹھ کر وہ وہاں سے باہر نکل آئی
اور اسکی نظروں سے خفیف ہوتی نائٹی کو خود پر سمیٹ لیا مگر وہ بلکل ایسا لباس نہیں تھا کہ اسکا وجود چھپا پاتا ۔
بہزاد کی نگاہوں میں غصہ تھا جو روح دیکھ سکتی تھی
ہے یو کیا سمجھتے ہیں اپ اپنے آپ کو گولی چلائی ہے آپ نے مجھ پر مجھے بھی بخوبی چلانی آتی ہے ذرا ٹھیک ہو جاؤں بتاتی ہوں اپکو پھر ” وہ بھڑکی اسکے سامنے کھڑی ہو گئ تھی
مجھ پر گولی چلانے سے پہلے سوچتے میرے ہاتھ بہت لمبے لمبے ہیں ” اسنے بھڑک کر کہا بہزاد نے اسکے بازوں پر نگاہیں گھمائی
مطلب مطلب اونچیں ہیں ” اسے لگا جیسے وہ اسپر طنز کر رہا ہو وہ بات کی ڈیفینیشن دینے لگی
مطلب شجر عباس میرا بوائے فرینڈ ہے وہ آپکو جان سے بھی مر سکتا ہے
کام کرو گی میرے ساتھ ” اسے لگا وہ کچھ نہیں بولے گا
دنگ نظروں سے اسے دیکھنے لگی ۔۔
اور پھر اترا کر اسنے بال جھٹکے
نہیں سوری میرا موڈ نہیں اب ” بلاوجہ بھاؤ دیکھا کر وہ بال جھٹکتی اندر چلی گئ بہزاد کچھ نہیں بولا جبکہ وہ اندر جا چکی تھی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اگلی صبح شجر عباس کو اپنے کمرے میں دیکھ کر اسکی آنکھوں میں جو چمک تھی وہ دیکھنے لائق تھی ۔۔ اسنے ایک بھرپور انگڑائی لی اور کیا نشیلی انگڑائی تھی شجر نگاہ پھیر گیا
اپنا لباس درست کرو ” شجر سختی سے بولا تو وہ منہ بناتی اپنی نائیٹی کی ڈوریاں باندھ گئ ۔
آپ یہیں رہیں نہ صبح صبح اپکا دیدار “
چپ رہو تم سے زیادہ ٹھرکی لڑکی نہیں دیکھی میں نے اور ایک بات بتاو جو تمھارا کام ہے اسپر توجہ دینے کے بجائے تم مجھ پر ساری توجہ ڈالے بیٹھی ہو میں کہیں بھاگ نہیں رہا ۔۔
رات جب اسنے تمھیں اپنے ساتھ کام کی آفر کی تو تم کس لیے منع کر گئ “
آپ ہمیں دیکھ رہے تھے” وہ اچھلی شجر نے اسے گھورا کہ یہ کوئی اتنی انوکھی بات بھی نہیں جس پر وہ حیران تھی
میں کیوں کروں اب اسکے ساتھ کام میری مرضی ۔۔۔ تھوڑا بھاؤ دیکھاؤ گئ ” اسنے بال جھٹکے
وہ تمھارے بھاو نہیں دیکھے گا اٹھو ڈریس اپ ہو اور جا کر اسے کہو کہ تم نے اسکی آفر قبول کر لی ہے ” وہ بولا جبکہ روح گھیرہ سانس بھر گئ
اچھا یہ بات میں کل کہوں گی آج ہم دونوں ایک چھوٹی سی بریک۔فاسٹ ڈیٹ پر چلیں پلیززززززز” ۔
اسنے ہاتھ جوڑ دیے شجر مٹھیاں بھینچ گیا اور اٹھ کر باہر جانے لگا
کہاں جا رہے ہیں وہ جلدی سے اسکے پیچھے بھاگی “
واپس ” اسنے ایک لفظ میں بات ختم کر دی
اچھا سوری ” وہ پاوٹ بنا گئ
گڈ گرل جاؤ فریش ہو جاؤ “
مجھے ٹھیک تو ہونے دیتے ” وہ گھیرہ سانس بھرتی بولی جبکہ شجر کی برداشت سے باہر تھی وہ ۔۔۔
شجر نے کوئی جواب نہ دیا اور روح کو چار نچار فریش ہونے جانا پڑا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ فریش ہو کر نیچے آئی تو بلیک پینٹ اور بلیک ٹی شرٹ پر اسنے ریڈ جیکٹ ڈالی ہوئ تھی ۔۔۔
بال کھلے تھے اور اسنے دونوں طرف سے آگے کیے ہوئے تھے پہلے اسکے حسن میں کمی نہیں تھی جو اسنے سرخ لیپسٹک بھی لگا لی تھی کانوں میں ائیرینگ چاند کی شیپ کے تھے گلے میں ایک گولڈ کی چین تھی جو اسنے زبردستی خریدی تھی اور وہ آئی اور شجر کے سامنے بیٹھ گئ
شجر بار بار اس سے نگاہ چراتا تھا اور خاموشی سے ناشتہ کرنے لگا ۔
روح بھی ناشتہ کر رہی تھی
تمھیں زخم میں زیادہ تکلیف تو نہیں ” شجر نے پوچھا روح نے نفی میں سر ہلایا
مجھے لگتا ہے میں بھی کمانڈر سیف گارڈ بن گئ ہوں ” وہ مسکرائی جبکہ شجر نے سر ہلایا
پروٹیکٹ یور سیلف فرسٹ وہ اتنا جنگلی نہیں ہے جتنا تمھیں دیکھا چکا ہے “
آپ کیسے جانتے ہیں انکو ” وہ ناشتہ کرتی ہوئ بولی ۔
دشمن کے بارے میں خبر نہ ہو تو آفیسر ہونے کا کوئ فائدہ نہیں” وہ سنجیدگی سے بولا
لیکن اپکو یہ بھی پتہ ہے کہ اپکا دشمن جنگلی نہیں کمال ہے ” وہ ذہین تو تھی جس کا ثبوت جگہ جگہ پر شجر کو دیتی ا رہی تھی ۔۔
شجر نے اسکی جانب دیکھا
تمھیں اسے ٹریپ کرنا ہے اسکے اتنے قریب جانا ہے کہ وہ صرف تم پر بھروسہ کرے اور اسکا اگلا ہر قدم میرے علم میں ہونا چاہیے مجھے سب سے پہلے اپنے کمانڈرز چاہیے ” شجر کافی غصے میں لگا روح نے سر ہلایا
اوکے بائے ” وہ کہہ کر اٹھی اور اپنا موبائل اٹھا کر وہ آگے بڑھ گئ اسکی ہیل کی ٹک ٹک گھر میں گونجی اور شجر اسے دیکھنے لگا ۔۔
وہ بلا کا حسن رکھتی تھی بہزاد کیسے نہ دیوانہ ہوتا
وہ پر سوچ نگاہوں سے دیکھ رہا تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بہزاد کی گاڑی روڈ پر بڑی تیزی سے چل رہی تھی وہ مقابل بیٹھے شخص کو کچھ سمجھا رہا تھا ۔۔۔
ہمم پورا ٹرک ا رہا ہے توجہ رکھنا ۔” بہزاد رات وہ ٹرک انٹری لے چکا ہے صرف ہمیں مال کی سپلائی کرنی ہے ” ۔
ایک اور ٹرک بھی ا رہا ہے “
تم نے دوسرا بھی منگا لیا تمھیں پتہ ہے کتنی سختی ہو رہی ہے ” ہونے دو جو سختی کر رہے ہیں وہ اس وقت یہ سوچ رہے ہیں کہ بہزاد کو مارنا کیسے ہے اینی ویز مجھے شکایت نہ ملے سب کو وقت پر مال پہنچا دینا ” وہ سنجیدگی سے بول رہا تھا
اچھا اسکے علاوہ ایک اور ٹرک بھی ہمارے قبضے میں ہے ” مہروز نے ذو۔معنی سے لہجے میں کہا بہزاد مسکرا دیا
اگ لگا دو لیکن عین ہارون بیگ کے گھر کے سامنے “
ٹھیک ہے ” مہروز بھی مسکرایا اور ایکدم گاڑی کے ٹائر چڑچڑائے اور آگے پیچھے کئ گاڑیاں رک گئیں
بہزاد نے سامنے دیکھا وہ روڈ پر کھڑی تھی اسنے سرد سانس کھینچی
مہروز تو اس اپسرا کو دیکھ کر رہ گیا بہزاد نے ایک نگاہ مہروز پر پھر اپنے گارڈز پر ڈالی جو اسے ایسے دیکھ رہے تھے جیسے وہ۔۔ انکے منہ میں رس گھول دینے والا رس گلہ ہو ۔۔
اور پھر وہ بن ٹھن کر بھی تو ایسے ہی کھڑی تھی ۔
وہ گاڑیوں کے رکنے پر آگے بڑھی اور بہزاد کی گاڑی کے قریب آ گئ بہزاد مٹھیاں بھینچے بے تاثر چہرے سے اسے دیکھنے لگا ۔۔۔
مجھے آپکے ساتھ کام کرنا ہے ” وہ سکون سے بولی
بہزاد نے مہروز کیطرف دیکھا جو گاڑی سے اتر گیا ۔
بیٹھو ” سنجیدگی سے وہ بولا تھا اس سے اور روح مسکراتی ہوئی ادا سے گاڑی میں بیٹھ گئ
وہ گاڑی میں بیٹھی تو اسے لگا وہ دنیا کی سب سے لگژری جگہ پر ہے بلکل بلیک مرسٹیز جو اسقدر وارم تھی اور اس میں خوشبو ۔۔۔
وہ بچوں کیطرح گاڑی کو دیکھ رہی تھی
بہزاد کے اگے ایک کافی کا کپ چند سیگریٹیں اور ایک سینڈویچ پڑا تھا
روح حالانکہ اچھے سے کھا پی کر آئ تھی لیکن اب وہ اس سینڈویچ کو گھور رہی تھی جبکہ بہزاد روڈ پر نگاہ ڈالے بیٹھا تھا ۔
روح کی انگلیوں نے ہلکی سی حرکت کی ۔۔ اور سینڈویچ اٹھا لیا
ہاں یہ بری طرح شرمندگی کی بات تھی لیکن اسے شرمندگی محسوس نہیں ہوئی بہزاد کا کوئ ری ایکشن نہ دیکھ کر اسنے سکون سے کھانا شروع کر دیا
آپ بھی سوچ رہے ہوں گے میں کتنی بے تکلف ہوں لیکن مہمانوں کا حق ہوتا ہے یہ خیر مجھے بتائیں مجھے کیا کرنا ہے ” وہ مزے سے کھاتی پوچھنے لگی
کیا کرتی ہو تم ” بہزاد نے اسے سینڈویچ کھاتے دیکھا اور سوال کیا چہرے پر اب بھی کوئی تاثر نہیں تھا
میں بہت کچھ ۔۔۔ ایک منٹ “
اچانک اسے یاد آیا اسنے سینڈویچ پٹخا اسکے سامنے چھوٹی سی ٹیبل پر اور ہاتھ جھاڑ کر منہ موڑ گئ
بے ساختگی میں بہزاد اسکے رویے کو سمجھ نہیں سکا
آپ نے مجھے گولی کیوں ماری میں مر جاتی تو ۔۔
ذرا سی گولی میرے کندھے سے یوں یوں ہٹتی سیدھا میری گردن میں جاتی اور اس وقت یہ سینڈویچ نہ کھا رہی ہوتی میں ۔۔۔
دیکھیں مسٹر خبردار آج کے بعد مجھے گولی “
گاڑی روکو ” اسکی آواز پر لمہوں میں گاڑی رکی ۔۔۔۔
باہر نکلو ” وہ سنجیدگی سے بولا
لیکن “
گیٹ اوٹ” وہ اسکی اس فرینکنیس پر تیش کھا گیا تھا
کیوں ” اسکا لہجہ بھرانے لگا بہزاد نے اسکی سبز انکھوں میں سرخیاں اور سینڈوچ کا لقمہ وہیں منہ میں رکھ دیکھا
وہ جان نہیں سکا رونے کی وجہ کو کیوں شاید اسے برا لگا تھا وہ اسے چند لمہے دیکھتا رہا
میرے پاس اتنا زیادہ بولنے والوں کے لیے کوئی کام نہیں ہے “
ٹھیک ہے میں نہیں بولوں گی اب اور یہ بھی نہیں کھاو گی ۔۔۔
یہ لیں اپکا سینڈویچ ” وہ بولی اور بڑی بڑی انکھوںسے اسے دیکھنے لگی ۔
بہزاد نے نگاہ پھیر لی اسے حسن میں واقعی کمال حاصل تھا
پھر اسکی حرکتیں وہ سامنے دیکھنے لگا
ٹھیک ہے مہروز تمھیں بتا دے گا کیا کرنا ہے تم نے جاؤ اب ” وہ بولا ۔
اوہ سچ میں تھینکیو تھینکیو سو مچ بہزاد ” وہ اسکا ہاتھ تھام گئ جوش میں بہزاد نے اسکا ہاتھ اپنے ہاتھوں پر دیکھا
روح سوری کرتی ہاتھ ہٹا گئ ۔۔۔
اور گاڑی سے اترنے لگی کہ بہزاد نے اسکے بالوں کو پیچھے سے اپنے ہاتھ کی مٹھی میں جکڑ لیا
اور اسکے لبوں پر اپنی ہتھیلی جما دی کہ وہ کچھ بھی نہ بول پاتی
روح کی انکھوں میں خوف اتر آیا اور وہ خوف سے ہلکان سی ہوتی سانس ہی بھول گئ ۔۔ وہ ہاتھ پاوں مارنے لگی ۔۔۔
ٹرسٹ می تم نے غداری کی کوشش کی مجھ سے میں تمھاری زبان کاٹ دوں گا ” سرسراتی لہجے میں وہ بولا تھا
م۔۔۔میرا۔۔۔۔ میرا سا۔۔۔نس ” وہ اسکی ہتھیلی ہٹاتی اسکی بات سے زیادہ اپنی سانس بھال کرنے کے لیے کانپتے ہاتھوں سے اپنا بیگ کھولنا چاہ رہی تھی
بہزاد اسے شکاری نظروں سے دیکھنے لگا ہلکا سا مسکرایا اور اسکا بیگ گاڑی سے باہر پھینک دیا
روح کی انکھوں سے انسو گالوں پر گرنے لگے چہرہ ایکدم سرخ پڑ گیا جبکہ ۔۔۔
آنکھوں کی سرخی دیکھنے لائق تھی
م۔۔میرا سانس ” وہ کانپی بہزاد مسکرانے لگا ۔۔۔
اسنے گاڑی کا دروازہ کھولنا چاہا مگر بہزاد اسے اپنے ظلم سے روشنائی کرانا چاہتا تھا ۔۔
ہ۔۔ہاتھ چھوڑیں میرا بہزاد ” اور جب اسکی ہمت سے سب باہر ہونے لگا ۔
اسنے روح کا سر پکڑا اور اپنے چہرے کے قریب لے ایا ۔۔
روح لمبے لمبے سانس کھینچ رہی تھی
لیکن اسے سانس لینے میں بے حد دقت تھی ۔۔ کہ اسے لگ رہا تھا ابھی جان جسم سے نکل جائے گی جبکہ بہزاد کے لیے یہ منظر کافی دلچسپ تھا
اسنے اپنے ہونٹوں کو اسکے ہونٹوں پر رکھ دیا
روح کو لگا اگر وہ اسکے لبوں سے سانس نہیں کھینچے گی تو وہ جان سے جائے گی
بہزاد نے تو بس مختصر سا ملن کرایا تھا ۔
روح اسکا چہرہ دونوں ہاتھوں میں سمیٹے اسکی سانسوں کو خود میں کھینچنے لگی ۔۔
جبکہ بہزاد یوں ہی بیٹھا رہا ۔۔۔البتہ اسے مزاہ آیا تھا
روح کے ٹھنڈے پڑتے ہاتھ اسکی گردن اسکے بالوں میں جا بجا گردش کر رہے تھے کافی بے چینی سے ۔۔جیسے وہ اسکی سانسیں ایک بار میں ہی کھینچ لے گی
جبکہ اسکے نرم ہونٹ بہزاد محسوس کر سکتا تھا ۔
کافی نرمی تھی اسکے لبوں میں پہلی بار کسی نے اسے کس کیا تھا
اور پہلی بار اسے کسی لڑکی کے اس عمل سے گھن نہیں آئی
اگر وہ خود بھی حیران ہوتا تو ہاں وہ عرصے بعد حیران ہوا تھا ۔۔
روح کی سانسیں ہموار ہوئیں اور ایکدم اسے احساس ہوا کہ وہ کیا کر رہی ہے وہ پیچھے ہٹتی جھٹکے سے کہ بہزاد کے ہاتھ نے اسے پیچھے ہٹنے سے روک دیا
اب باری بہزاد علی شاہ کی تھی یہ شاید پہلی کس تھی تبھی جوش زیادہ تھا
وہ اسکے نرم ہونٹوں کو زخمی کر چکا تھا ۔۔۔ روح اسکے شانے پر تھپڑ برسانے لگی جبکہ بہزاد اپنی مرضی سے اسکے ہونٹوں کو خود سے آزاد کرتا دور ہوا اور اسکی پھیلی ہوئی لیپسٹک دیکھی ۔۔۔
روح آنکھیں پھاڑے اسے دیکھنے لگی بہزاد نے اسے جھٹکے سے دور کیا ۔
روح کا دماغ بہک سے اڑا تھا یہ اسنے کیا کیا تھا
بہزاد بھی منہ موڑ گیا اسنے ٹشو اٹھایا اور لبوں کو صاف کر کے ٹشو پھینک دیا وہیں
روح اب تک کچھ سمجھ نہیں سکی تھی ۔
اسنے گاڑی کا دروازہ کھولا اور اس سے پہلے باہر نکلتا کہ دنگ بیٹھی روح کو دیکھا ۔
” اب شجر عباس کے ساتھ مت دیکھنا ” اسنے اسکے شانے پر ہاتھ رکھا ۔۔
روح کی اچانک چیخ نکلی
آہ۔۔” اسکا انگوٹھا اسکے زخم پر تھا
اہ” وہ چلائی دور ہونے لگی
ورنہ تم نقصان زیادہ اٹھا لو گی “
انگوٹھے سے اسکے زخم کو کریدتا وہ اسے جھٹکے سے دور کرتا وہاں سے چلا گیا جبکہ گارڈ نے اس کا بیگ اٹھا کر اندر رکھا وہ کسی اور گاڑی میں سوار ہو چکا تھا ۔
وہ گاڑی اگے چلنے لگی
روح بری طرح رو دی اسکے زخم سے خون نکل رہا تھا ۔۔
یہ سب کیا تھا اسکی سمجھ میں کچھ بھی نہ آیا اور وہ زخم کے درد کے باعث ہل بھی نہ سکی تھی اسنے صرف ان ہیلر لبوں سے لگایا تھا ۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہارون بیگ کے گھر کے سامنے ایک جلتا ہوا ٹرک کوئی چھوڑ گیا تھا اس ٹرک کا نام نمبر وہ سب جانتے تھے۔۔
ہارون اس ٹرک کو دیکھ رہا تھا اسکے گارڈز آگ بھجوانا چاہ رہے تھے لیکن آگ بھجنے کے بجائے اور بھی زیادہ آسمان کیطرف شعلوں کی صورت اڑ رہی تھی اور یہ ہی شعلے ہارون کی انکھوں میں بھی تھے ۔۔
وہ اپنے گھر کے اندر چلا گیا
جبکہ اسکی بیٹی نے باپ کی جانب دیکھا
یہ سب کیا ہے ڈیڈ “
کچھ نہیں اندر چلو ” وہ بولا اور بیٹی کو اندر لے ایا جبکہ اسکی بیوی بھی ہارون کو دیکھ رہی تھی
اسکے دو بیٹے بھی باہر ا گئے دونوں چھوٹے تھے
ہارون ان سب کو اندر لے گیا جبکہ اسکے اندر جو اشتعال اٹھ رہے تھے وہ کافی تباہی دیکھا رہے تھے جنھیں وہ زبردستی روکنے کی کوشش کر رہا تھا اسکی فیملی کو حراس کیا گیا تھا
اور وہ شک کی بنیاد ہر کیس کر چکا تھا ۔۔ بہزاد علی شاہ پر ۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
