No Download Link
Rate this Novel
Episode 26
بہزاد خاموشی سے اسے دیکھ رہا تھا
اپکو سلاخوں کے پیچھے ہی ہونا چاہیے کیونکہ آپ ایک دہشت گرد ہیں اپ نے کتنے معصوم لوگوں کی جان لی ہے اور آج بھی بہت سارے معصوم لوگ جو اپکے ساتھ کام کر رہے تھے جان گنوا بیٹھے مجھے افسوس ہے لیکن انکا قصور یہ ہے کہ وہ ایک دہشت گرد کا ساتھ دے رہے ہیں
اور آپ ۔۔۔ اپ کو شاید اس دنیا میں جینے کا حق نہیں کیونکہ آپ انسانیت کے قاتل ہیں ” سفاکیت سے کہتی وہ سامنے والے کی سرد آنکھوں میں دیکھ رہی تھی بہزاد نے ایک طویل سانس کھینچا اور صوفے پر بیٹھ گیا
کچھ دیر اسکی انکھیں روح کی ہیل کو گھورتی رہیں وہ گن اسپر تانے کھڑی تھی اور انگلیاں صوفے کے بازو پر بجتی رہی یہ خاموشی روح کو سمجھ نہیں آئی اب وہ اسپر حملہ کرے گا اسے قید بھی کر سکتا ہے ہو سکتا ہے اس دغا بازی پر اسے مارے پیٹے بھی ۔۔۔۔
یہ سب ممکنات اس وقت اسے دیکھائی دے رہے تھے
اسنے اپنی گرفت اور مظبوط کی گن پر کہ وہ صرف فائر کرے گی مگر بہزاد نے ایسا کچھ کرنے کی کوشش کی اسے سیلف ڈینش اسی لیے سیکھایا گیا تھا
کچھ دیر بعد اسنے نگاہ اٹھائی اور دو انگلی کے اشارے سے اسے وہاں سے چلے جانے کے لیے کہا
وہ منہ سے کچھ نہیں بولا تھا لیکن اسے جانے کے لیے کہہ دیا تھا روح حیرانگی سے اسے دیکھنے لگی وہ سمجھ نہیں پائی وہ کیا سوچ رہا تھا اسکی آنکھوں میں وہ طوفان تھا جو اندر سب کچھ جلا چکا تھا اور باہر سے خاموش کھڑا تھا ۔
دھوکا اور ٹوٹا ہوا اعتماد پھر بہزاد جیسا شخص جس نے پہلے بار دس سالوں میں کسی پر بھروسہ کیا صرف معصومیت کے سبب
دس سال پہلے شجر عباس نے اسے دھوکا دیا تھا اور آج دس سال بعد سامنے کھڑی اس لڑکی نے ۔۔۔۔۔
روح سامنے کھڑی تھی شاید خود بھی ٹوٹ گئ تھی اسکی آنکھوں کی اضطرابی اور بے چینی دیکھ کر لیکن پھر بھی وہ پتھر کا بنا بیٹھا تھا ۔
اسکی آنکھوں میں آگ نہیں تھی بلکہ سرد نفرت تھی جو کسی کو بھی اندر سے جلا کر راکھ کر دیتی ۔۔۔
وہ کچھ نہیں بولا تھا بس اسے اوپر سے نیچے تک دیکھا تھا
بہزاد اسکے کھڑے رہنے اور خاموشی سے اسے دیکھنے پر اپنی جگہ سے اٹھا دل تو کیا تھا اسپر ہاتھ اٹھائے اور وہ بس اسکا ایک تھپڑ کھا کر ہی سیدھی ہو جاتی لیکن یہاں معملہ دل کا تھا ۔
کیونکہ وہ جانتا تھا، کچھ دھوکے ایسے ہوتے ہیں، جہاں مارنے سے زیادہ… خاموشی سزا دیتی ہے۔
“میں نے تمہیں دل دیا تھا…
تم نے اسے مشن بنایا مگر یاد رکھنا، روح…
جس دن بہزاد دل سے ٹوٹتا ہے…وہ دن کسی کی زندگی کا آخری ہو جاتا ہے ” وہ چیخا نہیں تھا لیکن اسکے لہجے میں ایک گونج تھی جو روح کو دبا رہی تھی اسنے سر اٹھا کر دیکھا تھا
جاؤ یہاں سے اگر زیادہ دیر تم یہاں کھڑی رہی تو میں محبت کو بھلا کر انتقام پر اتر جاو گا ” اسکی آنکھوں میں سرد مہری سے دیکھتا وہ اسے آخری موقع دے رہا تھا
روح نے دو قدم دور لیے اور وہ باہر نکلنے لگی
بہزاد نے پیٹھ موڑ لی ۔
روح کی انکھیں بھیگ گئیں تھیں وہ باہر چلی گئ جبکہ وہ اندر چلا گیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ شجر عباس کے پاس بیٹھی تھی پلوشہ کو شجر اپنے گھر لے ایا تھا لیکن پلوشہ ایک لمہے کے لیے بیٹھنے کو تیار نہیں تھی تبھی اسنے اسے ایک کمرے میں بند کر دیا تھا ۔
روح خاموشی سے اسکے پاس بیٹھی تھی ۔
روح نے شجر کو فون کیا تھا کہ بہزاد نے اسے جانے کے لیے کہہ دیا ہے تو شجر مسکرا دیا کیونکہ اسے سو فیصد امید تھی کہ وہ ایسا ہی کرے گا اور شجر اسے لے ایا تھا اپنے پاس ۔۔۔۔۔
روح نے اسکے گھر کی جانب بھی نہیں دیکھا معلوم نہیں کیوں اسکا دل اکتایا ہوا تھا ہر چیز سے اور وہ سنجیدگی سے بیٹھی تھی
تمھاری طبعیت ٹھیک ہے؟ اسکے سوال پر روح نے سر ہلایا
ہارون بیگ کون ہے ” روح نے نگاہ اسپر اٹھائی
جنرل ہارون بیگ میرے سنیر میرے دوست میرے اچھے ساتھی ” وہ بولا جبکہ روح سپاٹ تاثرات سے اسے دیکھتی رہی
جس کا دوست ہارون بیگ ہے وہ اچھا آدمی ہو ہی نہیں سکتا تو میں اپکو کیا سمجھو ” وہ اس روح سے بہت مختلف لگ رہی تھی جس کو اب تک سب نے دیکھا تھا شجر نے ایک آئی برو اچکا کر اسکی جانب دیکھا
سر ہارون میم انیسا کے ہزینڈ ہیں
مجھے اس بکواس سے کچھ لینا دینا نہیں
آپ نے کہا تھا کام ہو جائے گا تو آپ میرے لاہور ٹکٹ کرا دیں گے اور آپ مجھے کسی سیف مقام پر پہنچا دیں گے تاکہ میں اپنی زندگی اچھے سے شروع کر لوں بہزاد علی شاہ کے ساتھ جتنا کام کرنا تھا وہ مکمل ہو گیا اور جو میرے پیسے تھے وہ میرے اکاؤنٹ میں پہنچا دیں تاکہ میں ان سب معملات سے دور جا سکوں ” ۔
روح تم اکیلی لڑکی ہو “
جب آپ نے مجھے بہزاد کے پاس بھیجا تھا تب تو نہیں کہا تھا کہ میں اکیلی لڑکی ہوں ” وہ ذرا تڑخ کر بولی
ہاں کیونکہ وہ تمھارا شوہر ہے ” شجر بولا تو روح شانے اچکا گئ
مجھے ان معملات میں نہیں پڑنا دس سال ایک دوسرے سے بات نہ ملاقات کوئی نکاح ویسے بھی نہیں رہتا تو ان سب چیزوں کی مجھے پروہ نہیں ہے آپ مجھے پیسے دیں اور میری ٹکٹس کرا دیں “
روح میم تم سے ملنا چاہتی ہیں کم از کم ایک بار تم ان سے لو “
مجھے نہیں ملنا ” وہ اکھڑ گئ
جب اپکو کہہ دیا تو کہہ دیا آپ مجھے مجبور نہیں کر سکتے “
وہ کافی غصے میں لگ رہی تھی شجر محسوس کر سکتا تھا کہ
بات کچھ اور بن گئ ہے
ہم کامیاب ہیں اپنے مشن میں پھر تم اتنا اکھڑا اکھڑا رویہ کیوں دے رہی ہو ایک ایسا انسان جو انسانیت کو مار رہا ہے جو چھوٹے چھوٹے بچوں کی جان لے رہا ہے اسکے ڈیتھ وارنٹ ہیں میرے پاس وہ جہاں دیکھا میں اسے مار دوں گا اور اس نیک کام میں تم نے ہمارا ساتھ دیا تمھیں اجر الگ ملے گا اور رقم الگ تو تم کس فکر میں ہو “
شجر کی بات پر اسنے نگاہ اٹھائی یہ سب سچائی تھی پھر وہ کیوں اچھا محسوس نہیں کر رہی تھی اسکی آنکھیں بھیگ سی گئیں
ہاں شاید میں تھک گئ ہوں اور میں نے آج تک کسی کو دھوکا بھی نہیں دیا بس لیکن مجھے یہاں سے جانا ہے “
اچھا ریلکس ہو جاؤ ” شجر نے اسکے سر پر ہاتھ رکھا
تم ریسٹ کرو صبح میں انتظام کرتا ہوں ان چیزوں کا ” وہ بولا تو روح کو تسلی ہو گئ اور وہ سر ہلا گئ پھر شجر نے اسے جس کمرے میں جانے کا کہا وہ وہاں چلی گئ
لیکن آج رات کسی کو نیند نہیں آنی تھی ان چاروں میں سے ۔۔۔۔ سب اپنی اپنی جگہ خاموش تھے ۔
پلوشہ اس غم میں نڈھال تھی کہ بہزاد ایک بار پھر ٹوٹ گیا
روح اس دھوکے کو جو اسنے جان بوجھ کر دیا اس پر بار بار اپنی بھیگتی آنکھوں کو صاف کر رہی تھی جبکہ دوسری طرف شجر عباس تھا اسے یہ خوشی تھی کہ وہ اپنے مقصد میں کامیاب ہے لیکن ہارون بیگ کی انکھوں میں روح کا نام سنتے ہی جو لالچ اسے نظر ا رہا تھا اسپر وہ فکرمند ہونے کے باوجود کچھ نہیں کر سکتا تھا اور ایک بہزاد علی شاہ تھا ۔۔۔۔
جس نے اپنا گٹار پکڑا اور رات سے صبح ہو گئ
اسکے کمرے میں سے ایک خطرناک میوزک کی آواز تھی
مہروز زخمی ہونے کے باوجود اسکو سمجھ رہا تھا کہ ایک بار وہ پھر ٹوٹ گیا ہے
اسکے گارڈز اسکے جاننے والے سب چپ تھے لیکن اسکا گٹار رکا نہیں تھا
اسکی انگلیاں زخمی تھیں وہ جہاں بیٹھا گٹار بجا رہا تھا وہاں مسلسل اور متواتر بجانے کے باعث اسکی زخمی انگلیاں سے نکلنے والا خون اسکی شرٹ اور اس جگہ کو ہلکا پھلکا سرخ کر چکا تھا
معلوم نہیں یہ گٹار کب رکتی کب وہ کمرے سے نکلتا کب کوئی فیصلہ کرتا وہ سب اسکے فیصلے کے منتظر تھے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سر وارنٹ میرے پاس ہیں بہزاد علی شاہ کی لوکیشن ٹریس کر لی ہے ہم وہاں پہنچ کر آپ کو اپڈیٹ کرتے ہیں ” شجر نے لاونج میں کھڑے ہو کر یہ بات کہی فون بند کیا اور روح کو دیکھا
لگتا ہے تم سوئی نہیں “
آپ نے میری ٹکٹس کرا لی ” وہ اجنبی ہو گئ تھی لمہوں میں جبکہ شجر جانتا تھا کہ یہ دیر میں اس سے انیسا ملنے آنے والی ہے
ہاں میں کچھ دیر تک کر دیتا ہوں “
کب تک “
شام تک “
میں یہاں کیا کروں گی “
میڈ نے کھانا بنا دیا ہے تم اور پلوشہ کھانا کھا لو چلی جانا اتنی کیا جلدی ہے اچھا میں مصروف ہوں میں ا کر بات کرتا ہوں ” وہ عجلت میں کہہ کر نکل گیا جیسے جان بوجھ کر وہ روح سے مزید بات نہیں کرنا چاہتا تھا
روح چند لمہے اس جگہ کو گھورتی رہی اور پھر تھک کر صوفے پر بیٹھ گئ
کیوں اسکا دل راضی نہیں تھا اسے کیا فکر تھی بہزاد کی جو اسکی انکھ کا آنسو رک نہیں رہا تھا
وہ انھیں سوچوں میں ڈوبی ہوئی تھی کہ دروازہ بجنے کی آواز پر ایکدم چونکی
کوئی سامنے کمرے کا دروازہ جھنجھوڑ رہا تھا اور شاید وہ جانتی تھی وہ کون ہے وہ اٹھی اور اسنے وہ دروازہ کھول دیا
دروازے میں لاک نہیں تھا شجر کا گھر زرا پرانی طرز کا حکومتی گھر تھا تبھی اسنے دروازے کی کنڈی کھول دی کیونکہ اس دروازے کو بس کنڈی سے بند کیا گیا تھا
دروازہ کھلا اور پلوشہ نے دونوں پٹ کھول دیے اسے سامنے روح دیکھائی دی
جو سنجیدگی سے اسے دیکھ رہی تھی جبکہ پلوشہ کی حالت رو رو کر بہت بری تھی وہ باہر نکلی اور بنا کچھ سوچے سمجھے اسنے روح کے منہ پر تھپڑ دے مارا
یہ گھر چھوٹا تھا زیادہ بڑا نہیں تھا پلوشہ خاموشی میں جب رات شجر اور روح لاؤنج میں بات کر رہے تھے ان دونوں کی تمام گفتگو سن چکی تھی
اسکے اندر ایک آگ لگی تھی جو روح کے منہ پر سرخ نشان چھوڑ گئ
روپیوں کی خاطر بیچ دیا تم نے خود کو “
وہ چلائی روح فرش پر بیٹھی تھی اسے لگا اسکا گال سن ہو جائے گا
میں نے جو بھی کیا بلکل ٹھیک کیا میں حیران تھی کہ تمھارے ساتھ اتنا برا کیا پھر بھی تم کوئی ری کیشن نہیں لیتی
آخر کو تم نکلی یتیم خانے کی غیر خاندانی لڑکی تم نے ایک معصوم کو دس سال پیچھے کر دیا ۔۔۔۔
روح اسکا بھگوان بہت سخت ہونا چاہیے تمھارے ساتھ ” وہ ساکت بیٹھی تھی لیکن پلوشہ کو فلحال کوئی روک نہیں سکتا تھا
وہ جھکی اور روح کا چہرہ اونچا کیا
اسکی انکھ سے انسو تو بہہ رہے تھے لیکن چہرے پر تاثر نہیں تھا
جھوٹی دھوکے باز لڑکی ہو تم جانتی بھی ہو بہزاد علی شاہ کون ہے اور وہ کیا کر رہا ہے ” وہ چلا اٹھی اسکی آواز اس چھوٹے سے گھر میں گونج رہی تھی
وہ کچھ غلط نہیں کر رہا روح کچھ بھی غلط وہ الٹا ہارون بیگ انیسا شاہ کو پکڑنا چاہتا ہے
ان دونوں نے مل کر علی شاہ کو مارا ہے ان دونوں نے مل کر کتنے معصوم لوگوں کی جان لی ہے ان دنوں نے مل کر کیا سب کچھ ۔۔۔۔
لیکن یہ دونوں ہمارے ملک کے معزز ادارے کی بھیس میں چھپے دو گیدڑ ہیں جو تباہ کر رہے ہیں سب کچھ اور سامنے نہیں ا رہے ۔۔۔۔
بہزاد آئی ایس آئی کا بندہ ہے
یہ تو تمھیں پتہ ہی ہو گا کہ ائی ایس آئی کیا ہے
پاکستان کی میلٹری انٹیلیجنس کا حصہ ہے
اور ملک کی سب سے بڑی اور سیکرٹری ایجنسی ہے یہ ائ ایس آئی کا کام نیشنل سکیورٹی کاونٹر انٹیلیجنس اور فووریجن انٹیلیجنس آپریشن کو انجام دینا ہماری جب ہمارے اپنے ملک کے لوگ ہمارے ساتھ غداری کر رہے ہیں تو انکا انجام کیا ہونا چاہیے یہ بات تمھارے اس شجر کو نہیں پتہ ۔۔۔۔۔
اور تم بھی اسے دہشت گرد مان کر چلی ہو ملک کی حفاظت کرنے
ہاں تم لوگ اس قابل ہی نہیں کہ اسکے ہوتے یہ پھر تم اس قابل ہی نہیں ہو ۔۔۔۔
دہشت گرد ہے وہ دہشت گرد کمال ہو گئ
تم کون ہو روح یہ پھر یہ شجر عباس کیا ہے
جس نے بہزاد علی شاہ کی پوری فیملی کو جلا کر راکھ کر دیا
جس نے تمھارا بھی استعمال کیا بہزاد تک پہنچنے کے لیے اور تم ۔۔۔ تم اسکے ساتھ رہ کر بھی اس سے محبت نہیں کر سکی تم دنیا کی سب سے بدنصیب لڑکی ہو سمجھی تم ۔۔۔
وہ میرا ہو نہیں سکتا مجھے علم ہے لیکن تم نے اسے کھو دیا
یہ لوگ اب اسے مار دیں گے
اور تم بہزاد کی موت کی وجہ ہو
تم اور صرف تم ۔۔۔
وہ فائل بہت اہم تھی روح جو چند کاغذ کے ٹکڑوں کے ایوز تم نے بیچ دی ۔۔۔۔
وہ اپنے باپ کو بے گناہ ثابت کرنا چاہتا ہے اسکے باپ کو مارا گیا ہے
علی شاہ ایک سچے اور ایماندار افسر تھے انکی موت کو غداری کا نام دے کر انکی فیملی تباہ کی اور اب اسے مارنے پر تل گئے ہیں ۔۔۔ میں ۔۔۔ میرا دل کرتا ہے میں تم سب کو مار دوں کیونکہ اصل دشمن ہم لوگوں کے اس ملک کے تم لوگ ہو تمھارے جیسی خود غرض پیسے کی لالچ میں اپنا آپ بیچنے والی لڑکیاں اور وہ لالچی جو صرف آگے آنا چاہتا تھا
لیکن یہ بھی یاد رکھنا اگر بہزاد مرے گا تو تم سب بھی مرو گے کیونکہ ایسے ہی تو وہ تم لوگوں کو چھوڑ نہیں دے گا ” وہ اسے حقارت سے دیکھ رہی تھی جس کی سانسیں ایکدم اکھڑا گئیں
لیکن پلوشہ کو اسپر نہ ہی رحم آیا نہ ترس ۔۔۔
جو لڑکی اپنے دماغ کا استعمال نہیں کر سکتی تھی وہ یہ ہی ڈیزرو کرتی تھی ۔۔۔۔ وہ کمرے میں دوبارہ بند ہو گئ اور روح کو لگا کسی نے خار دار جھاڑیوں پر ایک نازک کپڑے کیطرح اسے گھسیٹ لیا ہو اسنے ان ہیلر کو لبوں سے لگا لیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
انیسا کافی خوش تھی وہ روح سے ملنے جا رہی تھی جبکہ ہارون اسے ہی دیکھ رہا تھا
آج میں بہت خوش ہوں ہارون تم بہت اچھے ہو ایسے ہی پوری دنیا کو چھوڑ کر تمھارا انتخاب نہیں کیا میں نے ” وہ ہنستی ہوئی بولی
اور ایسے ہی میں نے دو قتل نہیں کیے تمھارے لیے ” ہارون نے اسے نزدیک بلایا تو وہ فورا اسکی بانہوں کا حصہ بنی
انیسا دل کھول کر ہنسی اور اسکے سینے سے لگ گئ
میں حیران ہوئی تھی جب تم نے صفدر کو مارا تھا کہ کیا میں اتنی حسین ہوں کہ کوئی میرے لیے کسی کو مار دے ” وہ اسکے چہرے پر اپنی مخروطی انگلیاں چلانے لگی
لیکن ایک بات حیرانگی کی یہ ہے کہ کم بخت جو تمھارے چکر میں پھنسے وہ تم سے محبت ٹکا کر کرتا ہے صفدر نے تم سے محبت کی ۔۔ دوست تھا میرا اچھا ۔۔۔ اسے مار کر تو دکھ ہوا مجھے لیکن تھوڑا ذہنی سکون بھی ملا کہ اب تم صرف میری ہو پھر روح کا قصہ تم نے خود ہی نکال دیا اور اب اچانک اس سے محبت امڈ ائی ” وہ سر جھٹک گیا
ہاں میں نے خود اسے یتیم خانے چھوڑا تھا ہارون میں نہیں چاہتی تھی ہماری زندگی میں کوئی بیمار مایوسی سے بھری بچی بھی رہے جسے دیکھ کر تمھیں صفدر یاد آئے
میں نے اسی لیے اسے یتیم خانے چھوڑ دیا
لیکن اب میں یہ چاہتی ہوں کہ سب ٹھیک ہو گیا ہے ہم اسے ساتھ رکھ سکتے ہیں اور تم نے اجازت دے کر میرا دل خوش کر دیا ” وہ اسکا گال چوم گئ
جبکہ دوسری طرف ہارون مسکرا اٹھا
تمھیں یاد ہے جب میں تمھارے پاس پہلی بار آیا تھا
ہارون ماضی یاد کرنے لگا انیسا نے سر ہلایا
تم بہت ہینڈسم لگے تھے مجھے اور پھر تمھاری نظروں سے بڑی گدگدی ہوتی تھی ” وہ قہقہہ لگا اٹھی جبکہ ہارون بھی ہنسا ۔۔۔
چلو تمھیں اپنا بنا کر ایک بار ہی تمھارے سارے ارمان پورے کر دیے میں نے “
ہاں تم کسی کا بھی خواب ہو سکتی ہو میری جان ” وہ بھی اسکا گال چوم گیا
تمھیں میں پسند ا گئ اور وہ بیوقوف صفدر مجھے شروع دن سے ہی پسند نہیں تھا لیکن کیا کریں کچھ شادیاں ماں باپ ایسے ہی کر دیتے ہیں لیکن جب تم زندگی میں آئے تو سوچ لیا تھا اگر تم میرا ہونا چاہو گے تو میں تمھاری ہی ہوں گی ” اور ہم ایک ہو گئے
اور علی شاہ ” اسے جیسے یاد آیا اور ہارون کی آنکھیں سرد ہو گئیں
اوہو تم کیوں پریشان ہو گئے ہو “
میں علی شاہ کو نہیں تمھیں ہی پسند کرتی تھی تبھی تو تمھارے کہنے پر اس سے نکاح کیا تھا مجھے تو شروع دن سے یہ بہزاد بہت برا لگتا تھا منہ پھٹ بدتمیز جو دل میں آتا تھا کہہ دیتا تھا ” وہ سر جھٹک گئ
مجھے ان جگہوں پر پہنچنا تھا انیسا جو میں ڈیزرو کرتا تھا
اگر علی شاہ سے یاری نبھاتا رہتا تو اج تک ایک سپاہی ہی رہتا
میں نے اسے مار کر اسکی جگہ حاصل کی ہے
اور یہ تمھاری وجہ سے ممکن ہوا ہے ” وہ اسے سینے سے لگا گیا جبکہ انیسا مسکرا دی
تمھارے لیے کچھ بھی ” اب میں روح کو گھر لے آؤں گی ہمارے بچوں کے ساتھ رہے گی خوش رہیں گے ہم لوگ ” وہ مسکرائی
ٹھیک ہے ” وہ اسکا گال تھپتھپا گئ جبکہ انیسا مسکرا کر اٹھ گئ اور باہر نکل گئ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ معلوم نہیں کتنے گھنٹوں سے وہیں بیٹھی تھی ان ہیلر اسکے ہاتھ سے گر کر سائیڈ پر پڑا تھا اور وہ ایک ہی جگہ کو گھورتی جا رہی تھی ان لوگوں نے کچھ نہیں کھایا تھا
نہ روح نے نہ کمرے کے اندر پلوشہ نے ۔۔۔
اچانک گھر میں ہلچل ہوئی اور روح نے پلٹ کر دیکھا انیسا کو اندر آتے دیکھ وہ اسے دیکھتی رہ گئ
اس عورت کا سچ وہ جانتی تھی
علی شاہ کو اسنے مارا یہ بات وہ جانتی تھی
وہ اسے دیکھتی رہی جبکہ وہ روح کے پاس آئے اور کافی محبت سے بولی
روح میری جان کیا ہو گیا ہے ایسے کیوں بیٹھی ہو چلو گھر میں لینے ائی ہوں تمھیں ” وہ اسے اٹھانے کی کوشش کرنے لگی
روح نے اپنا ہاتھ چھڑایا اپنے انسو صاف کیے اور کھڑی ہو گئ
وہ باہر نکلنے لگی
وہ بہزاد کے پاس جائے گی وہ اسکا سر بھی قلم کر دے وہ اسی کے پاس جائے گی اسے چند منٹوں میں اندازہ ہو گیا کہ اسکا کون تھا اور وہ کیا کر کے ائی ہے
انیسا نے اسکا ہاتھ پکڑ لیا کہاں جا رہی ہو روح “
ہاتھ چھوڑیں میرا آپ کیوں پوچھ رہی ہوں آپ ہوتی کون ہیں یہ سوال کرنے والی مجھ سے ” وہ دھاڑ اٹھی
انیسا نے ذرا سنجیدگی سے اسے دیکھا پھر مسکرائی
روح میری جان تم مجھے مل گئ ہوں میری بیٹی تم “
کھوتے وہ ہیں انیسا ہارون بیگ جو گم ہو گئے ہوں جنھیں زبردستی جہنم میں دھکیل دیا گیا ہوں انھیں یہ نہیں کہا جاتا کہ مل گئ ۔۔۔۔ مجھے اپنے شوہر کے پاس جانا ہے چھوڑیں “
روح ” لمہوں میں انیسا کو اسکے بگڑے تیوروں کا اندازہ ہوا اور اسنے پینترا بدلنے کا سوچا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جاری ہے
