Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 21

وہ اپنے اندر ہمت مجتمع کرتی ہوئی کھڑی تھی جبکہ اندر شاور کھل گیا تھا یقینا وہ شاور لے رہا تھا ۔۔
اسنے غصے سے گن بھی پھینک دی ۔۔۔
کبھی بھی وہ کمرہ صاف نہیں کرے گی ۔۔ وہ اپنے آپ ہی ناراض ہو گئ تھی اور دیوار پر مکے مرنے لگی کہ اس کمرے کا دروازہ کھل جائے لیکن آج تو حیران ہی ہوئی کہ دروازہ ہی نہ کھلا ۔
اور اتنی محنت مشقت کے باوجود بھی جب وہ باہر نہ نکل سکی تو جلدی سے بیڈ کی جانب بھاگی اور گن اٹھا لی دوسری طرف بہزاد گیلے بال لیے باہر نکلا وہ ٹاول میں تھا اسنے ایک نظر روح کو دیکھا پھر کمرے کا ویسا ہی حلیہ دیکھا اور ایک لمبا سانس کھینچ کر ۔ بال پیشانی سے ہٹاتا کھڑا ہو گیا
چلاؤ گولی لیکن وجہ بتا دینا ” اسنے سنجیدگی سے کہا اور سینے پر بازو باندھ لیے روح اسکے سینے سے نگاہ چرا گئ اسکے پیکس کافی اٹریکٹیو تھے
وہ سنجیدگی سے اسے دیکھ رہا تھا
آپ اپ نے مجھے کس کیوں کی ” وہ غصے سے بولی
کیونکہ مجھے تم سے محبت ہے ” وہ لاپروہی سے شانے اچکا گیا
لیکن مجھے نہیں ہے تو مجھے جانے دیں یہاں سے اور اپنے ان گندے ہونٹوں کو مجھ سے دور رکھیں ” وہ گھورتی ہوئی بولی اور بہزاد اسکی جانب بڑھنے لگا
آپ میری طرف کیوں آ رہے ہیں ” وہ رونے والی ہو گئ
جبکہ بہزاد اسکے قریب آیا اور گن اس سے کھینچ لی اتنی ہلکی سی تو تھی کہ گن بھی نہیں مکمل سنبھال سکی اور وہ سکون سے چئیر کھینچ کر بیٹھ گیا
اب تمھیں کیا لگتا ہے اس بند کمرے میں جو کہ ساونڈ پروف ہے اگر گولی چلے تو کیا کوئی تمھاری مدد کے لیے آئے گا ؟
اسکی جانب دیکھتا وہ بولا جبکہ روح اسکے اس بے باکی سے بیٹھنے پر پسینے سے شرابور ہو گئ
اسکی نگاہ اسکے وجود پر پھسلتی جا رہی تھی وہ خود سے ہی تنگ ہوتی منہ موڑ گئ ۔۔۔
آپ مجھے نہیں ماریں گے اب میں جانتی ہوں “
وہ منہ موڑ کر تقریبا نارمل فیل کر رہی تھی ورنہ اسکی جانب دیکھنا دنیا کا سب سے مشکل کام تھا ۔
ایسا کیوں ” وہ شاید کھڑا ہو گیا تھا روح کو اپنی پشت پر اسکا اثر محسوس ہو رہا تھا ۔۔
بہزاد نے اسکے بازو کو پکڑ کر موڑا اور روح عین اسکے سامنے ا گئ ۔۔
آپ ۔۔۔۔ یہ آپ اپ کپڑے کیوں نہیں پہنتے ” وہ آنکھیں بند کر گئ
کیوں تمھیں گھبراہٹ ہو رہی ہے ” اسکا ڈیمپل بے ساختہ ابھرا ۔
نہیں عجیب آدمی ہیں اپ دور رہیں مجھ سے اور جانے دیں مجھے ” اسنے اسے دور دھکیلا اور اس سے دور جا کر کھڑی ہو گئ
سب سے پہلے انسانوں کیطرح یہ سارا کباڑا سمیٹو ” وہ گن سے اسے سارا کباڑا اٹھانے کا کہنے لگا جبکہ روح نے نفی میں سر ہلایا اور بہزاد نے اسکے پیٹ کا نشانہ بنایا اور روح سر جھٹک کر کھڑی ہو گئ جیسے اسے یقین ہو اب وہ اسے مار ہی نہیں سکتا
بہزاد البتہ اپنا نشانہ نیچے لے جانے لگا وہ آکڑ کر کھڑی رہی
جبکہ بہزاد نے ایک دم شوٹ کیا اور روح دونوں ٹانگوں کو جوڑ گئ کیونکہ گولی روح کی ٹانگوں کے بیچ سے نکلتے دراز میں جا کر لگی تھی
منہ اسکا مکمل کھل گیا جبکہ بہزاد نے گن پر پھونک ماری
اگر ذرا سا اوپر ہوتا تو کافی اچھا نشانہ بن جاتا ” وہ معنی خیزی سے اسے دیکھنے لگا
روح آنکھیں پھیلائے تھوک حلق میں اتار گئ جبکہ بہزاد نے اسے فورا وہ سب کباڑا صاف کرنے کے لیے کہا
اور روح ڈرتے ڈرتے نیچے بیٹھی اور ٹشو اٹھانے لگی جبکہ اسے
الگ سے رونا ا رہا تھا
اسنے روتے روتے سارا کمرہ صاف کیا تب تک بہزاد بھی تیار ہو چکا تھا ۔
وہ ریڈی تھا اسکی جانب بار بار دیکھ رہا تھا جو سوں سوں کرتی پورے کمرے میں چیزیں پٹخ رہی تھی وہ صوفے پر بیٹھا اور اسے دیکھنے لگا لبوں پر ہلکی سی مسکراہٹ تھی اسکے الجھے بکھرے بال اسکی کمر پر ناچ رہے تھے رف سی کھلی شرٹ اور ٹراوزر میں تھی جبکہ رونے کے باعث سبز آنکھیں بہت خوبصورت لگ رہی تھیں وہ اسے دیکھتا رہا یہاں تک کے وہ تھک کر بیٹھ گئ اور اپنا ان ہیلر ڈھونڈنے لگی
بلا کی نزاکت تھی ذرا سا کمرہ کیا صاف کیا سانسیں مشکل ہو گئیں
وہ ہلکا سا مسکرایا اسکے پاس آیا اسکا گال تھپتھپایا مگر وہ تو ہری مرچ بنی ہوئی تھی جھٹکے سے اسکا ہاتھ دور کیا اور گھور کر دیکھنے لگی
غصہ نہیں ہو بتاؤ کیا چاہیے تمھیں کیوں تپ رہی ہو اتنا ” وہ اہستگی سے بولا تھا ۔
موبائل ” اسنے ہاتھ آگے بڑھایا بہزاد نے ایک سانس کھینچا اور اسکے ہاتھ پر موبائل رکھ دیا
روح نے پہلے اپنا موبائل غور سے دیکھا اور پھر سر جھٹک دیا
اور ؟ وہ مزید سوال کرنے لگا ۔
مجھے یہاں سے جانا ہے ” وہ سنجیدگی سے بولی
کہاں ؟ اسنے پھر سوال کیا
آپ سے دور آپ کے اس منحوس گھر سے دور جب سے یہاں آئی ہوں تب سے میرے ساتھ کچھ نہ کچھ ہو رہا ہے مجھے جانا ہے بس ” وہ ضدی لہجے میں بولی
تم کہیں نہیں جا سکتی ان باتوں کی ضد نہ کرنا جو کہ میں نہ مانوں سو سکون سے یہاں رہو یہاں بہت کچھ ہے جس سے تم انجوائے کر سکتی ہو ” وہ اسکے سر پر ہاتھ رکھتا بال سہلا گیا
ایک تو آپ مجھے ہاتھ نہ لگائیں دوسرا آپ ہوتے کون ہیں مجھے قید کرنے والے ” وہ بیڈ پر کھڑی ہو گئ تاکہ اسکی آنکھوں میں دیکھ سکے بہزاد نے پھر اپنی مسکراہٹ کو روکا ۔
بار بار کیوں پوچھ رہی ہو کہا تو ہے پیار کرتا ہوں تم سے ” وہ لاپرواہی سے بولا
یہ یہ کون سا طریقہ ہے پیار کرنے کا ؟
پیار کرتا ہوں تم سے ” وہ اسکی نقل اتارنے لگی
اتنا اکڑ کر کون پیار کرتا ہے آپ کو مجھ سے پیار نہیں ہے درحقیقت اپکو پتہ لگ چکا ہے میں اپکو ابزرو کرنے آئی تھی اور تبھی اب آپ نے مجھے قید کر لیا تو ۔۔
کبوتر آیا میرے ہاتھوں میں مجھے تو کچھ بھی آپکے بارے میں پتہ نہ لگا تو اب جانے دیں مجھے ” وہ سینے پر بازو باندھ کر بولی جبکہ بہزاد نے انکھوں کو دلکش جنبش دی اور لبوں کی مسکان کو روکا
ہمم اس حساب کتاب سے تو تمھاری سزا بہت سخت ترین ہونی چاہیے کہ تم بہزاد علی شاہ کی ریکی کرنے ائ تھی
تو سزا کی مستحق بن گئ ہو تم تو “
سزا ۔۔سزا کیسی جب میں نے جرم ہی نہیں کیا اور ۔۔۔ اور آپ نے تو ایکسٹرا ہی وصول کر لیا ہے مجھ سے ” وہ گھورنے لگی جبکہ بہزاد بے ساختہ ہنس پڑا
روح اسکے ہنسنے پر حیرانگی سے اسے دیکھنے لگی اور وہ بھی اپنی ہنسی فورا سمیٹ گیا
اتنے بھی برے نہیں ہیں اگر اپنی آکڑ سے باہر نکل آئیں تو ” وہ آنکھیں سکیڑ کر بولی جبکہ بہزاد نے کوئی ری ایکشن نہیں دیا
تو سزا سنو سزا یہ ہے کہ اس گھر تو کیا اس کمرے سے باہر نہیں جا سکتی تم اور اگر تم نے کوشش کی تو تمھاری ٹانگیں توڑ کر اسی بستر پر ڈال دوں گا ۔۔ کیونکہ تم مجھے یہیں چاہیے ہو ٹھیک ہے اب اچھے بچوں کیطرح نیچے اترو اور کھانا کھانے چلو ” روح دانت پیس کر اسے دیکھ رہی تھی ۔
کافی میلی کچلی رہتی ہو بٹ اٹس اوکے ایز یو وش ” وہ اسے زبردستی نیچے گھسیٹ کر پلین دیوار پر پش کر گیا اور دروازہ کھلا تو وہ دونوں باہر ا گئے
روح کو ایک تو یہ منسٹری دروازہ بہت برا لگا تھا کہ یہ دروازہ اس سے تو نہیں کھلتا تھا اور بہزاد معلوم نہیں کیسے کھول لیتا تھا اسنے زبردستی اپنا بازو چھڑایا
اور جا کر ٹیبل پر بیٹھ گئ بہزاد بھی بیٹھ گیا جبکہ مہروز اور پلوشہ بھی کھانا کھانے ا گئے
پلوشہ نے روح کو دیکھا اور اسکی خوش قسمتی پر رشک کرنے لگی اپنی نگاہ چرا کر اسنے کھانے پر فوکس کیا تھا جبکہ مہروز تو بار بار روح کو چھیڑ رہا تھا اور روح نے چمچ کھینچ کر ماری
آہ آہ توڑ دیا میرا ہاتھ جاہل لرکی ” وہ دھاڑا بہزاد نے سنجیدگی سے دونوں کو دیکھا
تم مجھے نہ گھورو اس نے میرے ہاتھ پر چمچ ماری ہے “
اور یہ جو مجھے چھیڑ رہا ہے بیٹھے ہوئے بار بار آنکھیں گھمائیں جا رہا ہے ” وہ بھی غصے سے بولی
بہزاد نے دونوں کو ہی جواب نہیں دیا اور فون کی بیل پر کھڑا ہو گیا
جبکہ روح نے بہزاد نے کھانے میں نمک اٹھا کر الٹ دیا اور ہاتھ جھاڑ کر مزے سے پلوشہ کو دیکھنے لگی جبکہ مہروز بھی ائ برو اچکا کر اسے ہی دیکھ رہا تھا
یہ کیا کیا ہے تم نے ” پلوشہ نے ذرا خفگی سے کہا
وہ یہ ہی ڈیزرو کرتے ہیں اور ڈرتی تھوڑی ہوں ان سے ہمم ” وہ سر جھٹک کر کھانے لگی تبھی بہزاد بھی ا گیا اور موبائل پر کچھ دیکھتے ہوئے اسنے چمچ لگایا اور بنا تاثر کے کھانے لگا جبکہ وہ تینوں اسے ہی چمچ پر چمچ بھرتا دیکھ رہے تھے جو موبائل میں مصروف سا یہ کھانا کھا رہا تھا
روح کی پیشانی پر تیوری سی چڑھی پہلے تو وہ دفع کر کے اپنا کھانا کھانے لگی اور پھر غصے سے پلیٹ کھینچ لی
محسوس نہیں ہو رہا اس میں نمک تیز ہے ” وہ بھڑکی
تو ڈالا کیوں جب کھانے نہیں دینا تھا ” وہ سختی سے بولا
میں یہاں سے جانا چاہتی ہوں ” روح نے کہا جبکہ بہزاد کو معلوم نہیں کس بات کا بے ساختہ ہی غصہ چڑھا گیا تھا
اسنے ٹیبل پر لمکہ مارا اور چھری اٹھا کر روح کی گردن پر رکھ دی
بتاؤ کہاں جانا ہے تم نے ہاں کہاں جانا ۔۔ ہے کام سنبھالو یہ تمھیں ۔۔۔ یہاں سے نکلی تو سیدھا اوپر اپنے باپ کے پاس جاو گی میں آئندہ نہ سنوں یہ سب سمجھی کھانا کھانا ہے تو کھاو ورنہ اندر چلی جاؤ ” اسنے کافی برہمی سے کہا تھا روح نے ایک نظر سامنے بیٹھے مہروز اور پلوشہ کو دیکھا آنکھوں میں پانی لیے وہ حلق میں انسو اتار کر وہاں سے اٹھ کر چلی گئ جبکہ بہزاد نے سر تھام لیا
کیا ہوا ہے تمھیں کیوں ڈانٹ رہے ہو اسے۔” مہروز نے سنجیدگی سے پوچھا
اور بہزاد نے اپنا موبائل اسکے سامنے پھینک دیا
جس میں دھماکوں کی ویڈیوز تھیں مہروز ایکدم سیٹ چھوڑ کر کھڑا ہوا ۔
لیکن یہ سب ہم نے کنٹرول کر لیا تھا ” وہ خود دنگ تھا پلوشہ کھانا چھوڑے دونوں کو دیکھ رہی تھی
یہ سب میری غلطی ہے سب میری غلطی ہے ” وہ ٹیبل پر دو مکے مار کر کھڑا ہو گیا ۔۔۔ مہروز سر تھام گیا
انکا سارا پلین کیسے فیل ہو سکتا ہے وہ بے توجہی کا شکار ہو ہی نہیں سکتے دوسری طرف مبین خان کی کالز آنے لگی جس کو بہزاد نے اٹھا لی اور وہ باہر نکل گیا
جبکہ مہروز بھی اسکے پیچھے نکلا تھا پلوشہ کو کچھ عجیب سا لگا آج سے پہلے ایسا کبھی نہیں دیکھا تھا اسنے بہزاد کو ۔۔۔۔کسی بات کا کر لے یقین ہی نہیں تھا وہ تو دوسروں کو افسوس میں ڈال دے وہ ونڈو سے جھانکنے لگی وہ مہروز کو کچھ کہہ رہا تھا دونوں کے چہروں پر پریشانی تھی اور پھر دونوں ہی باہر نکل گئے جبکہ انکے پیچھے کئ گارڈز بھی نکلے تھے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ سرد نظروں سے سامنے بیٹھے شخص کو دیکھ رہا تھا جو پاگلوں کیطرح ہنس رہا تھا
دیکھو دیکھو کیسے رونے کی آوازیں ا رہی ہیں یہ سارے چھوٹے چھوٹے بچے اور یہ عورتیں ہوتی ہی چونٹی کی طرح مسل دینے کے لیے ہیں
اب ان فوجیوں کو پتہ چلے گا ہم سے پنگا لینے کا کیا انجام ہے ” وہ بولا اور بہزاد کو دیکھنے لگا وہ معمولی سا مسکرایا ۔
لیکن ہمارا ٹارگٹ یہ نہیں تھا اجمل صاحب “
ارے جانے دو دیکھو کیسے تڑپ رہے ہیں تم بس یہ آوازیں انجوائے کرو ” ہممم خیر آپ مجھے کسی سے ملانے والے تھے ” اسنے لاپرواہی کا اظہار کیا
ہاں نہ ملوانا ہے تمھیں لو ا گئے “
اجمل قادری دہشت گردی کی تنظیم کا سب سے بڑا کھلاڑی تھا اس وقت بہزاد اسکے ساتھ ہی تھا ۔
اور اسکے ساتھ کچھ عرصے سے کام کر رہا تھا ۔
کرنل ضیاء کو اندر داخل ہوتے دیکھ اسے نہ حیرانگی ہوئی نہ ہی کوئی اور جذبہ اسکے چہرے پر تھا البتہ ضیاء اسے دیکھ کر کچھ جھجھک کا شکار ہوا تھا معلوم نہیں کیوں جبکہ وہ جانتا تھا آج وہ بہزاد سے ملنے والا ہے اجمل نے سے پہلے ہی اطلاع دے دی تھی
بہزاد اسے خاموشی سے دیکھتا رہا
یہ ہمارے مرشد ایرانی پشت پر نہ ہو تو ہم آج اس مقام پر نہ ہوتے ” اجمل بولا تو بہزاد مسکرا دیا
ضیاء خاموشی سے اسکے ایکشن دیکھنے لگا ۔
بہزاد اب بھی کچھ نہیں بولا
یہ میرا بچہ میری جان بہزاد ہے تمھیں کہا تھا نہ شیر کی نگاہ رکھتا ہے اور آج تک کسی میدان میں نہیں ہارا “
اجمل نے بہزاد کا شانہ تھپتھپایا اور بتایا ضیاء کو ۔۔۔۔ ضیاء سر ہلا گیا
تم ” ضیا کچھ بولتا کہ بہزاد نے آگے بڑھ کر ہاتھ ملایا اور ضیاء نے اسکا ہاتھ تھام لیا ۔
آپ سے مل کر اچھا لگا ” وہ بولا لہجہ بے حد نارمل تھا نا ماضی کی شناسائی تھی نہ کوئی اور بات ۔۔۔۔
مجھے بھی تمھیں دوبارہ دیکھ کر اچھا لگا ” بہزاد نے سر ہلایا
دوبارہ ” اجمل نے شراب پیتے ہوئے سر اٹھایا
کچھ نہیں اب جب ہم اکٹھے کام کرنے والے ہیں تو ایک کام سب سے پہلے تمھیں میرا کرنا ہو گا جس کی بنا پر مجھے تم پر یقین آئے “
وہ بولا اور اب بہزاد کی انکھوں میں شاطر نگاہوں سے دیکھنے لگا
شرط تو میں نے کبھی اپنے باپ کی نہیں مانی آپ ہوتے کون ہیں مجھے شرائط پر لانے والے ” سنجیدگی سے جواب دیا تھا اسنے اجمل دل کھول کر ہنسا
اسکی یہ ہی ادائیں میرے دل کو لگتی ہیں ذرا جو کسی کا اثر لے لے یہ ” اجمل خوش ہوا اور ضیاء کیطرف دیکھا
صرف کام کہو باتیں نہ بناو ” وہ سنجیدگی سے بولا اور ضیاء نے سر ہلایا اسنے ایک تصویر الٹی کر کے رکھ دی اور بہزاد کو دیکھنے کے لیے کہا
سب سے پہلے اس کی لاش میرے آفس میں پہنچا دو ” وہ بولا جبکہ بہزاد نے آگے بڑھ کر تصویر اٹھائی تصویر پلٹی شجر عباس کی تصویر تھی
اسکی آنکھوں میں لمہہ بار کے لیے بھی کوئی شناسائی نہیں اتری اور اسنے تصویر کو چار ٹکڑوں میں بانٹ دیا
اور ضیا کی آنکھوں میں دیکھا
یہ میری سوچ سے بھی زیادہ معمولی کام تھا ” وہ شانے اچکا کر کھڑا ہو گیا
ٹھیک ہے پھر ملاقات ہو گی ” وہ اجمل کو کہتا نکل گیا جبکہ اجمل پیچھے سے سر ہلانے لگا تھا
ضیاء اسے جاتے ہوئے دیکھنے لگا
اگر لاش تمھارے افس تک نہ آئے تو کہنا اجمل لونڈے میں دم نہیں تھا
سیرو خون بڑھا دیتا ہے یہ میرا ” وہ بولا تو ضیاء مسکرایا
اتنی بھی جلدی کیا ہے اجمل صاحب تعریف اکھٹے کریں گے ذرا امتحان میں لڑکے کو کامیاب ہونے دو ویسے تمھارے ساتھ کیوں کام کرتا ہے “
مال لیتا تھا پہلے اس سے پھر اسکے اندر کا جنون مجھے اچھا لگنے لگا اور اسے میرا کام بس مل بیٹھ گئے ” اجمل مسکرایا تو ضیا نے سر ہلایا بہزاد پر یقین کر لینا اتنا آسان نہیں تھا فلحال اسکے لیے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اپنی سٹڈی سے نکلا تو آج معلوم نہیں کیوں اسنے اپنی سٹڈی کا دروازہ کھلا چھوڑ دیا
پلوشہ کو عجیب لگ رہا تھا سب تبھی وہ اسے چھپ کر نوٹ کر رہی تھی وہ سٹڈی میں آ گئی
وہاں ایک تصویر تھی جو کہ پھٹی ہوئی تھی اور اسے ٹیپ سے جوڑا تھا
وہ اس وقت کچھ نہیں جانتی تھی لیکن جاننے کی خواہش ہو رہی تھی کہ ایسا کیا کام تھا جو وہ کر رہا تھا کیونکہ جو وہ سمجھ رہی تھی وہ ۔۔۔ وہ نہیں تھا اور جو دنیا سمجھتی تھی وہ ۔۔۔ وہ بھی نہیں تھا پھر کیا تھا معملہ ؟
اسنے تصویر الٹی اور دل تھام گئ
شجر کی تصویر پر ریڈ پن سے Kill لکھا تھا
پلوشہ کی جان قدموں سے نکلی تھی
یہ تو کافی پرانی دشمنی تھی آج تک اسنے بہزاد کے پاس شجر عباس کے متعلق کچھ نہیں دیکھا تھا لیکن آج دیکھ کر اسکے اندر فکر سی سما گئ اور تصویر وہیں پھینک کر وہ اپنے کمرے میں بھاگ گئ
بہزاد نے پلٹ کر دیکھا
سنجیدگی سے پلوشہ کے کمرے کے دروازے کو دیکھتا رہا اور اسکے بعد وہ اپنی ہری مرچ کے پاس ا گیا جو کہ سوفیصد ناراض تھی وہ چاہ کر بھی خود کو پینیک ہونے سے نہیں روک پایا تھا لیکن اس وقت اسنے کوشش کی کہ وہ نارمل ہو جائے
اور وہ کمرے میں آیا وہ بستر میں تھی منہ بھی ڈھکا ہوا تھا
بہزاد نے دروازہ بند کیا اور اسکے نزدیک ا گیا
اٹھو تمھیں باہر لے کر چلتا ہوں ” اسنے اسکے چہرے پر سے کمبل کھینچا رو رو کر آنکھیں سوجھا لیں تھیں اسنے ناک الگ سرخ ہو رہا تھا
تم بہت تنگ کرتی ہو بچی بن گئ ہو ” وہ سرد دباتا پیشانی پر بل ڈالے بولا ۔
میری زندگی میں صرف ڈانٹ کھانے لکھا ہے آپ نے بھی ڈانٹ لیا کیا فرق پڑ گیا اب مجھے باہر کیوں لے کر جانا چاہتے ہیں ” وہ اکھڑی کر بولی
چیز کھاو گی “
واٹ “
میں چھوٹی بچی نہیں ہوں ” وہ بھڑکی
مجھے لگا تم خوش ہو جاو گی۔” ان رومانٹک ۔۔۔۔ محبت کرنے والے نہ ڈانٹتے ایسے ہیں نہ مناتے ایسے ہیں ” ۔
اوووو روح کو تو بہت کچھ پتہ ہےتو شادی سے پہلے رومانٹک ہو جاؤ تمھارے ساتھ دیکھو میری بے حیائ تو تم دیکھ ہی چکی ہو تو حکم کرو تمھاری جان نہ نکل دوں تو کہنا “
ش۔۔۔شی۔۔شیٹ ا۔۔اپ ” وہ لال سرخ ہو گئ
بہزاد کمبلوں پر ہی لیٹ گیا
مجھے جانے دیں ” روح نے پھر سے کوشش کی
نیور ایور ” وہ آنکھیں بند کرتا بولا
پلیز ” وہ منت کرنے لگی
نو ” وہ پھر بولا گیا
دل تو کرتا ہے آپکی گردن دبا دوں دنیا پر بوجھ ہیں اپ ” روح نے دانت پیس لیے
چلو میں کچھ تو کرتا ہوں اصل مفت کی روٹیاں تم توڑ رہی ہو ” وہ گردن اٹھا کر بولا وہ سامنے صوفے پر بیٹھ گئ
تو نکال دیں مجھے یہاں سے نہیں توڑوں گی آپکی مفت کی روٹیاں ” وہ سر جھٹک گئ
بہزاد نے باقاعدہ تکیہ رکھا اور اسپر کہنی رکھ کر چہرہ ہتھیلی پر سجائے سہل طریقے سے بیٹھا اسے دیکھنے لگا
ایک لمہے کے لیے نگاہ نہ پھیری روح ادھر ادھر دیکھنے لگی
کیا بدتمیزی ہے ” وہ چیڑ گئ
لیکن بہزاد نے پلکیں نہ جھکائیں ۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جاری ہے