Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 30

وہ کمرے میں تھی باہر کھٹ پٹ کی آواز ہوئی تو اسنے گھبرا کر مٹھیاں بھینچ لیں وہ جس سنجیدگی سے صبح کہہ کر نکلا تھا اسکا دم نکل گیا تھا اور پورا دن بس اسی سوچ میں نکل گیا کہ وہ کیسے اپنی حفاظت کرے گی کیا کہے گی اسے کس طرح لڑے گی ۔۔۔۔
کیا کچھ کرے گی مگر اب اسکی آمد پر وہ لمہوں میں پریشان ہو گئ تھی وہ ایک بھرپور مرد تھا پھر میجر تھا وہ اسکو منٹوں میں قابو میں کر لیتا لیکن لیکن پلوشہ کا دل تو اس سے بدظن ہی تھا نہ باغی تھا وہ اسکے وجود کا مالک کیسے بن سکتا تھا ۔
اس کی عادت تھی وہ چابیاں رکھتا تھا ٹیبل پر اسکی چابیوں کی آواز پر وہ چونک کر کھڑی ہو گئ صبح کے بعد اس سے اب تک کچھ کھایا بھی نہیں گیا تھا
وہ باہر جھانکنے لگی جبکہ شجر صوفے پر دراز تھا اسکے وجود میں ہلچل نہیں ہوئی تھی وہ دروازہ کھول کر باہر ا گئ
دور سے شجر کو دیکھا تو وہ اپنے ہاتھ کو پکڑے بیٹھا تھا پلوشہ جھانک کر دیکھنے لگی اور اسکے ہاتھ سے بہتے خون کو دیکھ کر وہ ایک منٹ کے لیے پریشان ہوئی تھی
لیکن پھر اسنے اسکے ہاتھ سے بہتے خون یہ کسی بھی چیز کو اہمیت نہیں دی اچھا تھا زخمی تھا اسپر کم طاقت آزماتا وہ نارمل ہو گئ اور اسکے سامنے کھڑی ہو گئ
مجھے جانا ہے آپ نے کہا تھا میں اپنی ڈیوٹی جوائن کر سکتی ہوں اب مجھے جانے دیں ” پلوشہ بولی تو شجر نے سرخ نظریں اٹھا کر اسکی سمت دیکھا اور اپنا ہاتھ ہٹایا پلوشہ ایکدم اسکے ہاتھ ہر لگے اتنے گھیرے کٹ سے نکلتے خون کو دیکھ کر بہت پریشان ہو گئ بےساختہ اسکی جانب بڑھی
یہ بہت گھیرہ ہے کٹ ” وہ بولی تو شجر نے ہاتھ ہٹا لیا اسنے آنکھیں بند کر لیں جبکہ وہ صرف ایک ڈاکٹر کی حیثیت سے اسکی ڈریسنگ کرنے لگی جب تک وہ ڈریسنگ کرتی رہی شجر ایک لفظ نہیں بولا
اور جب وہ دور ہوئی تو شجر نے اسکی کلائی پکڑ لی
پلوشہ کے ہاتھوں پر اسکے خون آلود ہاتھ تھے پلوشہ نے اسکے ہاتھ سے جھٹکے سے ہاتھ چھڑایا
تم جانتی ہو بہزاد کہاں ہے ” شجر کے سوال پر پلوشہ نے آنکھیں سکیڑ کر اسے دیکھا
وہ جہاں بھی ہیں انھیں چین سے رہنے دیں ” وہ کافی تلخی سے بولی تھی
تم جانتی ہو یہ نہیں؟؟ شجر نے سختی سے پوچھا
جانتی بھی ہوتی تو نہ بتاتی اپکو ” وہ بھی غصے سے بولی
پاگل نہ بناؤ مجھے بتاو یہ ارجینٹ ہے “
اوہ اچھا اتنا ارجینٹ ہے یقینا انھیں پکڑ کر کسی جھوٹے کیس میں پھنسانا مقصد ہو گا ” پلوشہ اسکے بھڑکنے پر خود بھی بھڑکی تھی
شجر خاموش ہو گیا جبکہ پلوشہ اسکے پاس سے چلی گی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مبین خان کا ٹرانسفر کرا دیا ہے مجھے بہزاد کو مارنا ہو گا وہ میرے ادمیوں کو ختم کر رہا ہے پیچھے ہی پیچھے ” وہ ہارون کے پاس ایک فائل کی ڈسکشن کرنے جا رہا تھا تبھی اندر سے آنے والی آواز پر وہ رک گیا
آج سے پہلے اسنے کبھی ایسی حرکت نہیں کی تھی لیکن وہ ایک بات پر رک گیا تھا جہاں تک اسکے علم میں تھا مبین خان کو اوپر سے آرڈرز آئے تھے ٹرانسفر کے تبھی وہ یہاں سے گئے تھے کچھ وقت کے لیے وہ نہیں جانتا تھا ہارون نے اسکا ٹرانسفر کرایا ہے اور اس بات پر وہ رک گیا ۔
ہاں شجر کو لگایا ہوا ہے اسکے پیچھے اور میں جانتا ہوں وہ میرے کام کا بندہ ہے دس سال سے اسے اپنے ساتھ رکھا ہوا ہے اور خبر اسے بھی نہیں کہ اسے کس مقصد کے لیے رکھا ہے ” ہارون کی سنجیدہ آواز پر شجر کے قدم پیچھے ہوئے تھے
ضیا کی موت اور پھر یہ بہزاد ۔۔۔۔
پیچھے ہی پڑ کر رہ گیا ہے میرے ۔۔۔ خیر اسنے میرے بازو توڑیں ہیں اسکے بازو بھی ٹوٹیں گے اسے بھی یہ تکلیف ہو گی ” ہارون کافی پریشان تھا
ہاں انیسا کو بھی معلوم نہیں کیا ہو ” ابھی وہ بات مکمل کرتا کہ شجر اندر داخل ہوا ہارون خاموش ہو گیا شجر نے اسکے سامنے فائل رکھی
ہارون اسکے چہرے کی جانب دیکھنے لگا جو مصروف سا تھا
سر یہ فائل پڑھ لیں پھر کل ہم اس پر ڈسکس کر لیتے ہیں ابھی مجھے جانا بھی ہے “
وائے ناٹ شیور ” ہارون مسکرایا شجر بھی مسکرا کر نکل گیا جبکہ ہارون پرسوچ سا ہو گیا ۔
شجر سیدھا اپنی جیپ کی جانب بڑھا اور ابھی جیپ میں بیٹھتا کہ اسکی جیپ کی ایک سائیڈ اسکے بازو پر پر گئ
کافی گھیرہ کٹ لگا تھا اسکے بازو پر اور اسکا یونیفارم بھی پھٹ گیا تھا ۔
اسنے بازو پر ہاتھ رکھا اور گھر کی جانب ا گیا لیکن اسکا دماغ ان لفظوں پر الجھ گیا تھا
کس کام کے لیے رکھا ہوا ہے ہارون بیگ نے اسے ۔۔۔۔
وہ تو اپنی ڈیوٹیز پوری کر رہا تھا اپنا کام کر رہا تھا ہارون اسکا سنئیر تھا وہ ہارون کے آرڈرز مانتا تھا بہزاد کو اس لیے مارنا چاہتا تھا کیونکہ وہ غدار کا بیٹا تھا اور غداری کر رہا تھا کتنی معصوم جانیں تھیں ایسی جو مر رہیں تھیں روز اسکے لیے ۔۔۔
وہ تو سب ٹھیک کر رہا تھا لیکن ہارون کے ان الفاظ نے اسے اتنا سوچنے پر مجبور کر دیا کہ اسکا دماغ الجھ کر رہ گیا
اور گھر آتے ہی اسنے پلوشہ سے بہزاد کے بارے میں جاننا چاہا لیکن اسنے جواب نہیں دیا ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اگلی صبح وہ اپنی ڈیوٹی پر پہنچا تو ہارون نے اسکے آگے ایک تصویر رکھ دی
اسے مارنا ہے تم نے ” وہ تصویر مہروز کی تھی
شجر نے ہارون کیطرف دیکھا ایسا لگا جیسے وہ کسی تنظیم کا حصہ ہو اور وہ جس بندے کو مارنے کا کہتا ہو وہ مارتا ہو
اسکی آنکھوں کے سوال پر ہارون نے سر ہلایا ل ۔۔۔۔۔
دیکھو شجر ہم نے بہزاد کو ختم کرنا ہے اور اسکے آرڈرز بھی ہمارے پاس ہیں تو اسکے ساتھ جتنے لوگ ہیں جو اسکا ساتھ دے رہے ہیں تو انھیں بھی ہمیں ختم کر دینا چاہیے سمجھ رہے ہو نہ ” شجر نے وہ تصویر ویسے ہی رکھ دی
میں ایسا کچھ نہیں کروں گا ” شجر کی بات پر ہارون نے حیرانگی سے اسے دیکھا
ہمارا دشمن بہزاد ہے مہروز نہیں تو بہتر ہے ہم اسی ٹارگٹ پر فوکس کریں جس سے ہمارے ملک کو خطرہ ہے “
وہ اسکا ساتھ دے رہا ہے ” ہارون بولا لہجے میں غصہ تھا
وہ اریسٹ ہو سکتا ہے سر لیکن مارنے کا اسے کوئی مقصد نہیں ” شجر نے ذرا غصے سے کہا اور باہر نکل گیا ہارون نے اسکی پشت دیکھی اور موبائل اٹھایا
تم ٹھیک کہہ رہے تھے یہ کام اب تمھاری ذمہ داری ہے مہروز کو ختم کر دو اور اسکی لاش بہزاد کے گھر میں سجا دینا ” ہارون کی بات سن کر شجر کی آنکھیں پھیل گئیں تھیں
زندگی میں پہلی بار وہ اتنا شاکڈ تھا کہ خود بھی اپنی حیرانگی پر قابو نہیں پا سکا ۔
ہارون کو جان بوجھ کر انکار کیا تھا اسنے اور انکار کرنے کے بعد وہ چھپ کر اسکی بات سننے لگا اور جو اسکا شک تھا تقویت پکڑنے لگا
وہ اپنے افس میں آ گیا ۔
اور بہت کچھ تھا جسے وہ سوچنے پر مجبور تھا لیکن اب تک اسے مکمل یقین نہیں ہوا تھا دس سال پرانی پٹی تھی ایکدم تو کھل نہ جاتی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
روح مسکراتی ہوئی اچھلتی ہوئی نیچے اتری اور انیسا کے پاس ا کر بیٹھ گئ وہ صرف رات کا انتظار کر رہی تھی مشکل سے اللّٰہ اللّٰہ کر کے شام کے سائے پھیلے تھے پھر رات ہوتی اور پھر گھیری رات تب جا کر وہ اسکے پاس آتا اور یہ اسے لگ رہا تھا کہ وہ اسکے پاس آتا یہ الگ بات تھی کہ وہ اب مزید کیا کرنے جا رہا تھا
کافی خوش ہو ” انیسا نے سوال کیا تو وہ مسکرائی
ہمم ہوں بس خوش ہو جاتی ہوں نہ میں ایسے ہی جب دل کرتا ہے ” وہ مزے سے بولی تھی
اور خوشی کی وجہ ” انیسا نے جاننا چاہی
وہ وجہ بہت بہت زیادہ خاص ہے اب میں اپکو نہیں بتا سکتی ” وہ جھولتی ہوئی بولی جبکہ انیسا نے اسکے اطوار دیکھے اور سر ہلایا
مجھ سے شئیر نہیں کرو گی ” انیسا نے اسکا گال چھوا
روح جلدی سے نفی میں سر ہلا گئ
یہ میرا سیکرٹ ہے مما اچھا اب میں جا رہی ہوں ” وہ اٹھی گئ
روح ” انیسا نے پکارا روح نے مڑ کر دیکھا
اچھی لگ رہی ہو ” وہ ہلکا سا مسکرائی روح بھی مسکرا دی آج اسنے بلڈ ریڈ کلر کی شرٹ اور وائیٹ جینز پہنی ہوئی تھی
بھورے بال کھلے ہوئے تھے جبکہ سبز آنکھیں محبت کی چمک لیے ہوئے تھیں جس کو کوئی اندھا بھی دیکھ لیتا انیسا تو پھر بہت چالاک عورت تھی
وہ کھلی کھلی سی بہت ہی اچھی لگ رہی تھی روح گاڑی میں سوار ہوئی اور ویسے ہی سڑکوں پر گھومنے نکل گئ
کاش اسے پتہ ہوتا بہزاد کہاں ہے تو وہ پہنچ جاتی اسکے پاس لیکن اسے خبر نہیں تھی وہ تادیر گھوم پھر کر آئی تھی لیکن کچھ خریدنے کے لیے پیسے نہیں تھے اسکے پیسے تو وہ لے گیا تھا
معلوم نہیں کتنے خرچ کر دے اسکے پاس تو بس اتنے ہی تھے جو اس اکاونٹ میں تھے لیکن وہ خوش تھی فلحال ۔۔۔۔۔
وہ گھر لوٹی تو ہارون کی گاڑی بھی عین اسکے ساتھ گھر میں داخل ہوئی ہارون نے آنکھیں سکیڑ کر اسکی جانب دیکھا جو ہونٹوں کو گول کیے کوئی دھن بجا رہی تھی اور پھر وہ گاڑی سے جمپ لگا کر نکلی اور اندر بڑھتی کہ ہارون بھی گاڑی سے باہر نکلا اور اچانک روح کے سامنے ا گیا
روح نے ایک قدم فورا دور لیا
ہیلو بیوٹیفل ” وہ مسکرایا روح نے حلق تر کیا اردگرد دیکھا
اور اسے اگنور کر کے جو کہ وہ اچھے سے سے کر دیتی تھی اندر بڑھنے لگی
اوہ لیٹل پرنسیز تمھیں یہ سب چیزیں مجھے لگتا ہے پسند ہیں یتیم خانے سے جو آئی ہو میں تمھیں اور مزید عیاشی کرا سکتا ہوں ” وہ اسکا راستہ روکتا دانت نکوستا بولا تھا
اور بدلے میں زیادہ کچھ نہیں چاہیے مجھے تم سے ” وہ فورا سے بولا روح اب بھی اپنی سبز آنکھوں میں خوف سا بھرے اسے دیکھ رہی تھی اور ہر ممکنہ کوشش تھی کہ نہ ہی وہ گھبرائے اور نہ ہی ڈرے لیکن سامنے ہارون بیگ جیسی فرعونیت سے بھرپور شخصیت ہو تو خوف اپنے آپ طاری ہو سکتا تھا
بس تمھارے ان گلابی ہونٹوں کو میرے ہونٹوں پر تھوکنا ہو گا ” اور اسنے یہ بات کہی اور جیسے ہی کہی روح مزید اس سے دور ہو گئ
لیٹل پرنسز گھبرا کیوں رہی ہو کیا تمھیں یہ نہیں ” وہ ہنسا
روح کو ماضی کا منظر بھی یاد آیا
جب اسکے والد گھر پر نہیں تھے اور ہارون گھر میں آیا تو انیسا اسکے لیے چائے بنوانے کچن میں گئ تو اس آدمی نے ہوم ورک کرتی بچی کی پونی پکڑ کر اوپر کھینچی اور زبردستی اسے کس کی یہاں تک کے اسکے ہونٹ بھی پھٹ گئے اور جب اسنے اپنی ہی ماں کو یہ بات بتائی تو انھوں نے اسے بڑی طرح ڈانٹ دیا
ہارون اسکی آنکھوں میں ماضی اترتا دیکھ مسکرا دیا
روح نے حلق میں تمام آنسو بڑی مشکل سے اترے کیونکہ اسکے بعد اسے اس آدمی سے خوف محسوس ہوتا تھا کیونکہ وہ اکثر یہ کام کرنے لگ گیا تھا اور انیسا مانتی نہیں تھی ۔۔۔۔
اگر اب بھی ایسا ہو جائے تو کتنا اچھا ہو جائے گا
میں تمھیں بلینک چیک دوں گا تم اپنی مرضی کی رقم نکلوا سکتی ہو “
شاید اپکو بھی ابھی کل کی بات یاد دلانی چاہیے مجھے جب اپکو میرے بہزاد نے مارا مجھے چھونے کی کوشش بھی کی نہ اب تو وہ اپکے اتنے ٹکڑے کرے گا کہ آپ انھیں سمیٹ نہیں سکو گے “
معلوم نہیں کیسے اس میں اتنی طاقت آئی کہ اسکے سامنے بول پڑی بہزاد کا نام سنتے ہی ہارون کے لب دب گئے یعنی روح کو خبر تھی
میرے گھر میں تیرا عاشق آتا ہے ” وہ ایکدم ہی دھاڑا روح گاڑی سے چپک گئ
ہارون ” انیسا کی آواز پر ہارون نے پلٹ کر دیکھا
تم یہ کیا کر رہے ہو اسے ڈرا رہے ہو ” انیسا حیرانگی سے بولی جبکہ ہارون مزید کچھ بھی بولے وہاں سے اندر چلا گیا
روح کی آنکھیں بھیگ گئیں
روح تم اندر چلو میں پوچھتی ہوں ” انیسا بات مکمل کرتی کہ روح اپنا ہاتھ چھڑا گئ
مجھے آپکی مدد نہیں چاہیے مما ” وہ کہہ کر اپنے کمرے میں بند ہو گئ اور کمرے کو ایسا تالا لگا دیا کہ کوئی کھول نہ سکے اور ٹیرس کے دروازے کھول دیے تھے اسکے لیے ۔۔۔۔
اسکے بعد رات کا ایک بج گیا اور وہ بیڈ پر بیٹھی صرف ٹیرس کو دیکھتی رہی بہزاد نہیں آیا
وقت گزرتا رہا اور وہ باقائدہ روتی رہی کسی کی وجہ سے نہیں صرف بہزاد کی وجہ سے کہ وہ کیوں نہیں آیا اسے انا چاہیے تھا اسنے تو اے سی بہت زیادہ تیز کیا ہوا تھا ۔
کمرے میں بہت ٹھنڈک تھی وہ نہیں آیا ۔۔۔۔۔
یہاں تک کے تین بج گئے اسکی آنکھیں بھری ہو گئیں اور وہ لیٹ گئ سکڑ کر غصے سے اے سی کم نہیں کیا
ٹھیک تھا وہ بھی یوں ہی لیٹے گی اسنے اپنے نائیٹ ڈریس کی شرٹ کھولی اور ایکطرف پھینک دی
لیکن اسے اے سی کی ہوا ایسی لگی جیسے اسکی ہڈیاں سن کر دے گی لیکن ضدی تو وہ بہت تھی جبکہ آج رات صرف روح ہی نہیں اور بھی دو لوگ بہزاد کے منتظر تھے جو آنکھوں میں رات کاٹ رہے تھے
ہارون ہاتھوں میں گن پکڑے روح کی ٹیرس کی جانب متوجہ تھا جبکہ انیسا لاونج میں بیٹھی روح کے کمرے کا دروازہ دیکھ رہی تھی ۔۔
لیکن اس رات نہ ہی بہزاد علی شاہ نے آنا تھا نہ وہ آیا یہاں تک کے صبح ہو گئ اور ان سب کا انتظار رائیگاں گیا کیونکہ آج اسنے رات میں نہیں دن دھاڑے انا تھا ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
صبح ساڑھے چھ بجے کے نزدیک جب سب تھک کر اپنی نیند کے مزے لے رہے تھے اسنے ہارون بیگ کے گھر میں چھلانگ لگائی تھی آج اسے خاصی مشکل ہوئی تھی کیونکہ اول تو رات بھر وہ ایک کام کرتا رہا تھا اور اس چوبارے پر رہ کر کام کر کے شدید جھلس گیا تھا اسے واقعی ریسٹ کی ضرورت تھی اور دماغ کی خرابی تو اتنی تھی کہ ریسٹ کرنے بھی دشمن کے گھر پہنچا تھا ۔
اسنے اس دن ایک بات نوٹ کی تھی رات کی نسبت اس وقت ہارون بیگ کے گارڈز اتنے الرٹ نہیں تھے ہر دوسرا دوسرے پر پڑا اونگھ رہا تھا ۔
وہ سر جھٹک کر اندر ایا تو اسکی نگاہ اس کتے پر گئ اس کتے کو اسنے مارا نہیں تھا لیکن آج وہ یہ کام کر کے جاتا آخر کو وہ ایا تھا یہ بات ہارون بیگ کو پتہ تو ہونی چاہیے
وہ روح کے ٹیرس پر پہنچا یہ اسکے لیے اتنا مشکل کام نہیں تھا لیکن فلحال ایک مصیبت کا سامنا کرنا پڑا اور وہ مصیبت اسکے سامنے آئی تھی
وہ ماہ نور تھی جو اپنے ٹیرس میں سے اسے دیکھ رہی تھی
بہزاد وہیں تھم گیا اسنے اس لڑکی کو ہائے کیا جو مسکراتی ہوئی اسے بھی ہائے کر گئ
بہزاد روح کے ٹیرس کے بجائے اسکے ٹیرس میں اتر گیا
ماہنور گھبرا کر ایک منٹ کے لیے اسے دیکھنے لگی جو مکمل کسی مافیا کی طرح دیکھ رہا تھا
اسکی بڑی بڑی آنکھوں میں سوال تھا جس کا جواب بہزاد نے اپنے منہ پر سے ماسک اتار کر دیا تو ماہنور لبوں پر ہاتھ رکھ گئ
وہ حد سے زیادہ خوبصورت آدمی تھا
آپ کون ہیں “
ماہ نور کے سوال پر بہزاد نے ایک نظر روح کے ٹیرس پر ڈالی دل تھا کہ وہ اس وقت اسکے نرم گدے پر سو جائے مگر آنکھیں بند کرنے سے موت مزید قریب ا جاتی جو فلحال وہ چاہتا نہیں تھا
امم تمھارا ” اسنے دس سال پرانی سکلز کو دہرایا اور اسکی بالکنی میں رکھے جھولے پر بیٹھ گیا سکون سے جھولا لینے لگا
م۔۔مطلب ” وہ لڑکی اسکے شکل و صورت اسکی شخصیت کے روابط اور ماحول میں چھا جانے والے اس بےساختہ وزن پر مرعوب سی دیکھ رہی تھی
بائیس سال کی ہی تو تھی وہ ہارون کے بھائی کی بیٹی تھی جس سے ہارون کو بہت محبت تھی جبکہ اسکے بس ایک بار کہنے پر انیسا نے بھی اسے اپنے بچوں کیطرح ہی رکھا اور وہ ان دونوں سے بہت پیار کرتی اور ان دونوں کو ہی ماں باپ کا درجہ دیتی تھی
مطلب میں نے تمھیں دیکھا تم مجھے پسند ا گئ اور میں یہاں ا گیا “
ک۔۔۔کیا ” ماہنور اس قدر سیمپل بات پر حیران ہوئی
آپ ۔۔۔ اپ یہ کیا میں اپکو میرا مطلب آپ جانتے بھی ہیں میں کس کی بیٹی ہوں “
ہاں پتہ ہے کیوں کوئی پریشانی ہے “
تمھیں میں پسند نہیں آیا آئی تھنک چلو خیر مرضی ہے ” وہ اترا کر اٹھ گیا
آ۔۔آ نہیں ایسا تو نہیں کہا میرا مطلب آپ اپ کو مجھ سے کوئی بات کرنی ہو گی تبھی تو ائے ہیں۔۔ ” وہ بولی تو بہزاد نے گھیرا سانس بھرا
لڑکیوں کو پٹا لینا دنیا کا سب سے آسان کام ہے کیونکہ انکے دماغ کے آدھے سیل یہ سوچ کر ہی خوش اور مطمئین ہو جاتے ہیں کہ کوئی مرد انکی چاہت میں دیواریں پھلانگ کر یہاں پہنچا ہے
اور یہ ہی بات ماہ نور پر بھی اپلائے ہوتی تھی
ہاں تم سے ملنا تھا تبھی تو آیا ہوں خیر کیا تم مجھے کچھ کھانے کو نہیں دو گی بوائے فرینڈ ہوں آخر کو تمھارا ” اسکی شخصیت میں جو ڈومینینس تھا ماہ نور پاگل سی ہونے لگی اور اسنے جلدی سے سر ہلایا
پھر نیچے چل لیتے ہیں “
بلکہ نہیں ڈیڈ غصہ کریں گے سیدھی طرح آپ آتے تو میں ملوا دیتی لیکن اب تو وہ غصہ کریں گے اور مومی بھی نہیں مانیں گی کیونکہ اپ بڑے ہیں مجھ سے “
اٹس اوکے تم یہاں ہی لے آؤ ایک کافی کا مگ اور ساتھ کچھ سٹرنگ سا ” اسنے اپنے ڈیمپل دیکھائے اور ماہ نور کی چمکتی آنکھیں مزید چمک گئیں
وہ جلدی سے نیچے چلی گئ اور بہزاد کی مسکراہٹ سمٹ گئ اسنے روح کی بالکنی میں ایک نگاہ پھر گھمائی اور شانے اچکا کر ماہ نور کے بیڈ پر دراز ہو کر اے سی فل کر لیا
اتنی گرمی لگتی تھی اسے یہ محسوس ہی اب ہوا تھا کہ سورج بھی اسکا دشمن ہے “
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہارون سکیورٹی ٹائیٹ کر لینے پر مطمئین ہوا کہ بہزاد نہیں آیا اسنے آج ایک ضروری میٹنگ میں جانا تھا یہ بورڈ میٹنگ تھی اور انیسا بھی ساتھ تھی انیسا بھی مطمئین سی ہو گئ تھی کیونکہ روح آج سیدھی طرح نیچے اتری تھی ناشتہ کیا تھا اور کچھ طبعیت خراب لگ رہی تھی ماہ نور بھی انھیں کے پاس بیٹھ گئ جب اسے پتہ چل ماں باپ تو دونوں جا رہے ہیں
اور حمزہ رات سے آیا نہیں تھا رہ گئ روح تو وہ بیمار ہو رہی تھی
اسکے چہرے پر بار بار پھیلتی مسکراہٹ اور دل میں گدگداہٹ کافی مزاہ دے رہا تھا اسے ۔۔۔۔
سکیورٹی ہے اچھی خاصی اور ساتھ میں گھر پر صرف تم دونوں ہو اپنا خیال رکھنا بیٹا ” دونوں بیٹیوں کو پیار کیا تھا اسنے ہارون تو گاڑی میں جا کر بیٹھ گیا اور گارڈز کو الرٹ کیا تھا
بہزاد البتہ سیگریٹ پیتے ہوئے اسی کی بیٹی کے کمرے میں سے اسے دیکھ رہا تھا جہاں باہر وہ ہدایت بھی بہزاد علی شاہ کے بارے میں دے رہا تھا ۔۔۔۔۔
انیسا بھی وہیں آ گئ اس عورت کو نفرت سے دیکھ کر رہ گیا ۔۔۔
روح کو اسنے بہت سارا پیار کیا تھا اور بار بار تاکید کی تھی کہ وہ
گھر سے اول تو باہر نہ جائے اور دوائی بھی لے لے ۔۔۔
اپنی جانب سے وہ دونوں سب سیکٹر کے گھر سے نکل گئے اور ماہنور انکے جاتے ہی کھڑی ہو گئ
روح ” اسنے روح کو پکڑا جس نے اداس نظریں اوپر اٹھائیں
ایکچلی میرے بوئے فرینڈ آئے ہوئے ہیں میرے روم میں ہیں مام ڈیڈ کی وجہ سے بتایا نہیں میں نے تو تم ہمیں پرائیویسی دے سکتی ہو پلیز اور کوشش کرنا مام ڈیڈ کو نہ بتاؤ اور میں سرونٹس کو بھی بھیج رہی ہوں ” وہ بولی روح نے ذرا گھور کر دیکھا
پلیز روح ” وہ منت کرنے لگی روح شانے اچکا گئ بہزاد کی پھر سے یاد ائی تو اسکے ہونٹوں ہی باہر نکل آئے اور پھر وہ سر ہلا کر اوپر اپنے کمرے میں چلی گئ
ماہنور نے سرونٹس کو بھی بھیج دیا کہ کہیں وہ مام ڈیڈ کو کمپلیین نہ کرے اور وہ جلدی سے اوپر ا گئ
بہزاد بیڈ پر دراز تھا ماہنور کا دل تیزی سے دھڑکا
آئیں آپ نیچے ا جائیں میں ناشتہ بنا رہی ہوں آپکے لیے وہ بھی خود ” وہ بولی
وائے ناٹ ہنی ” وہ اٹھ کر نیچے اسکے ساتھ اترنے لگا تمھارے گھر میں اور کون ہوتا ہے “
اس وقت تو میرے سٹیٹ سسٹر ہے اسکی طبعیت نہیں ٹھیک اپنے کمرے میں ہے “
ویری گڈ ” اسنے ماہنور کا گال چھوا
پھر تو ہم دونوں کو پیار بھری باتیں کرنے میں آسانی ہو گی ” وہ ادھر ادھر دیکھتا لاونج میں بیٹھ گیا ماہنور شرما گئ
جاؤ کچھ بنا کر لاؤ ” اسنے کہا جبکہ دوسری طرف ماہنور جلدی سے اندر چلی گئ اور بہزاد گھر کا جائزہ لینے لگا یہ ایک زبردست موقع تھا
وہ پورے گھر کو ایک نظر میں ہی دیکھ گیا تمام کمرے کھلے ہوئے تھے سوائے ایک کمرے کے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔