Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episodes 19


اسے دس سالوں میں پہلی بار خوف محسوس ہو رہا تھا وہ جانتا تھا ہارون اسکے پیچھے ہے وجہ معلوم نہیں تھی لیکن پھر بھی وہ سیو نہیں تھی اسکے پیچھے پانچ گاڑیاں تھیں جو اس وقت اسے بھی پروٹیکٹ کر رہی تھیں
کہاں جا سکتی ہے روح ؟
اسکا موبائل بھی اسکے پاس تھا ورنہ وہ اسے بآسانی ڈھونڈ لیتا ۔۔
اسنے اپنے پیچھے چلتے گارڈز کو گاڑیوں سے نکلنے کا آرڈر دیا اور خود بھی وہ گاڑی سے نکل گیا
ویسے تو یہ ایریا ایک بانڈری کے بعد خاصا کچے علاقے کیطرف نکلتا تھا لیکن اسے اتنا اندازہ تھا روح زیادہ دیر تک نہیں چل سکتی اگر اسکے پاس ان ہیلر نہ ہو ۔۔۔۔
وہ کہاں ڈھونڈے آخر اسے ۔۔۔۔
وہ پاگلوں کیطرح سڑکوں پر چٹیل خالی میدانوں میں اسے ڈھونڈ رہا تھا جبکہ اسنے بڑے بڑے آفیسرز کو کال گھوما دی تھی
اسنے راستے بھی بلاک کرا دیے تھے ۔۔۔ اسکی پیشانی پر پسینہ کی بوندیں تھیں
اچانک اسکے موبائل پر رینگ ہوئی اور اسنے کال پک کی
روح کو ہم ہاسپٹل لے جا رہے ہیں شی از انجرڈ ۔۔۔۔
تمھیں اڈریس سینڈ کر رہا ہوں پہنچ جاؤ فورا ” مہروز نے کہا بہزاد ۔۔ ادھوری بات سنتے ہی اڈریس دیکھتا گاڑی گھوما گیا تھا اسکی گاڑی کے شور نے چاروں اطراف میں ہنگامہ مچا دیا
انداز میں غصے کی جو آمیزش تھی کافی خطرناک تھی ۔
تقریبا بیس منٹ لگے تھے اسے ہاسپٹل پہنچنے میں اتنی رش ڈرائیونگ کے باوجود بھی وہ اندر بھاگتا ہوا داخل ہوا ۔
روح ” ریسیپشن پر پوچھتا کہ اسے مہروز نظر ا گیا مہروز کے ساتھ شجر عباس بھی کھڑا تھا لیکن بہزاد نے اسے نہیں دیکھا بلکل ایسے جیسے دوسرا کوئی اور ہو ہی نہ وہاں ۔۔۔
کہاں ہے روح ؟ سوال کرتا وہ کمرے میں گھس گیا
آکسیجن ماسک اسکے منہ پر لگا تھا اسکے چہرے پر چوٹوں کے نشان تھے جبکہ بازوں پر بھی پٹی بندھی تھی
وہ تیزی سے آگے بڑھا
روح ” اسنے پکارہ اور وہیں روح نے آنکھیں کھول دیں
اور بہزاد کو دیکھ کر بے ساختہ وہ روتی چلی گئ
وہ مر ہی نہ جاتا وہ رو رہی تھی اسکی آنکھیں آدھ کھلیں تھیں بہزاد جیسے دیوانہ لگ رہا تھا شجر دور سے یہ منظر دیکھ رہا تھا جبکہ مہروز بھی اندر ا گیا
شجر باہر ہی کھڑا رہا ۔
روح نے ہاتھ اٹھایا اور اپنا آکسیجن اتارنے کی کوشش کی لیکن بہزاد نے اسے روک دیا
ریلکس ” اسنے مہروز کے سامنے اسکی پیشانی پر پیار کیا تھا بنا جھجھکے
جبکہ روح اتنی خوفزدہ تھی کہ وہ اسے بتانا چاہتی تھی کچھ کہ وہ کتنی ڈر گئ ہے بہزاد نے اسکے چہرے پر ہاتھ رکھا اور گردن گھما کر مہروز کی جانب دیکھا
میں نے آدمی گھوما دہے ہیں کچھ ہی دیر میں سب پتہ چل جائے گا روح کہاں گئ تھی اور کس نے اسکا یہ حال کیا ہے ” وہ بولا جبکہ بہزاد نے دانت پیس لیے وہ جانتا تھا کس نے کیا ہے اسے کسی کی انفارمیشن کی ضرورت نہیں تھی
ڈاکٹر پین کلر لگائیں ” بہزاد نے ذرا غصے سے کہا
ج۔۔جی ” اسنے اسے پین کلر لگایا اور ساتھ بہزاد کی ضد پر نیند کا انجیکشن بھی لگوا دیا
روح کے سر پر ہاتھ پھیرتا رہا اور وہ چند ہی لمہوں میں اس درد سے بے گانی ہو گئ
جاو یہاں سے ” بہزاد نے مہروز سے کہا
تمھیں کیا لگتا ہے “
مجھے لگتا نہیں یقین ہے اور میں اب بخوبی بتاو گا کہ بہزاد علی شاہ کی بیوی کو چھونے کا انجام ” مٹھیاں بھینچتا وہ بولا اور ۔۔۔ وہیں بیٹھ گیا وہ اتنا ایکٹیو تھا کہ روح کے ہلنے پر بھی ایکدم ہی کھڑا ہو جاتا۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایم سو۔۔۔سوری بہزاد پلیز میری بات سنو میں نے میں ۔۔۔ بے دھیانی ۔۔۔ میری غلطی ہے “
پلوشہ روتی ہوئی اسکے پیچھے پیچھے تھی وہ بس کچھ دیر کے لیے گھر آیا تھا اور اب پھر واپس جا رہا تھا معلوم نہیں اسے کون سے سگنیچر کرنے تھے کہ مہروز اور بہزاد دونوں گھر آئے اور اب وہ فریش ہو کر وہاں سے جا رہا تھا کہ پلوشہ جو رات سے مارے شرمندگی کے سوئی نہ تھی وہ اسکے پیچھے لپکی لیکن بے سود کے کوئی فائدہ نہیں ہوا وہ سیڑھیاں اتر گیا ۔
اور پلوشہ اور بھی شرمندہ ہو گئ جبکہ بہزاد کے سامنے جینزی ا گئ
سر کیا میں میم کو دیکھنے ا جاؤ انکے لیے سوپ بنایا تھا ” وہ ذرا جھجھکی ہوئی سی لگی بہزاد سر ہلا کر نکلا گیا پلوشہ کیطرف تو دیکھنا بھی ضروری نہیں سمجھا تھا اسنے وہ اپنی گاڑی میں سوار ہوا اور نکل گیا جبکہ جینزی نے پلوشہ کو چپ کرایا آپ روح میم کو دیکھنے چلیں گی ۔
اچھا لگے گا انھیں بھی اور شاید بہزاد سر کا غصہ بھی کچھ کم ہو جائے ” اسنے مشورہ دیا تو پلوشہ سر ہلا گئ کہ یہ ٹھیک تھا کہ وہ اسکے پاس ہی جا کر معافی مانگ لے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہے روح آر یو اوکے ” شجر نے مسکرا کر اسے ٹیڈی بئیر دیکھایا روح مسکرائی اور اپنے چہرے پر سے آکسیجن ماسک ہٹا دی
تھینکیو شجر ” وہ جلدی سے بھالو پکڑتی بولی
یو لائیک ایٹ ” وہ مسکرا کر اسکے پاس چئیر کھینچ کر بیٹھ گیا
یس بہت زیادہ اپکو پتہ تھا مجھے ٹیڈی پسند ہیں شجر اپکو پتہ ہے ہمارے اورفن میں پھٹے پرانے ٹیڈی ہوتے تھے لیکن مجھے وہ بھی پسند تھے اب یہ میرا دوست بن گیا ہے ۔۔۔
وہ خوش ہو گئ تھی شجر مسکرا دیا
تم کچھ کھاؤ گی لائیک کیک “
ہائے ے ے آف اللّٰہ جی مجھے کیک کھانا ہے میں نے تو کچھ بھی نہیں کھایا آپ بیسٹ ہیں ” وہ اچھل پڑی شجر کھل کر ہنسا
ریلکس ریلکس بیبی تمھیں چوٹیں لگی ہیں ” وہ کیک کھولتا ہوا بولا روح ٹیڈی کو دیکھنے لگی ۔۔
شجر نے ایک نظر روح کو دیکھا اور مصروف سا سوال کر گیا
روح تم سے ایک بات پوچھوں “
ہمم پوچھو ” وہ اسے دیکھنے لگی
شجر نے اسکے ہاتھ میں کیک دے دیا روح کی چمکتی آنکھیں چاکلیٹ کیک پر تھی
تمھیں کس نے مارا اور تم کہاں گئ تھی جو یہ حال بنا لیا ” شجر نے کیک خود نہیں کھایا اس سے سوال جو کیا تو روح کیک کھاتے ہوئے گھیرہ سانس بھر گئ
وہ بہزاد کی منگیتر ہے نہ اسنے مجھے گھر سے نکال دیا تمھیں پتہ ہے ” وہ ایکدم چلا اٹھی
شجر نے ضبط سے اسے آہستہ بولنے کا کہا
اسنے کہا بہزاد مجھ سے محبت کرتے ہیں اہ مافیا مین مجھ سے محبت کرتا ہے ” وہ ہنسی میں بات اڑا گئ
پھر تم گھر سے نکل کر کہاں گئ تھی ” شجر کا سارا دھیان انویٹیشن پر تھا
میں چلی گئ تھی آگے پھر مجھے کسی نے پکڑ لیا “
کس نے تم نے اسکی شکل دیکھی تھی ” شجر بے چینی سے اٹھا
نہیں ۔۔۔ وہ ماسک میں تھا میں نے تمھیں پہلے بھی بتایا ہے کوئی مجھے مارنا چاہتا ہے ” وہ سنجیدگی سے بولی
شجر سر ہلا گیا اور بہزاد کے بارے میں کیا پتہ چلا تمھیں “
لو بھلا کیا پتہ چلتا ابھی تو اس کے گھر کا نہیں پتہ ہر دیوار بھول بھلیاں ہے تصویر کو چھو تو باتھروم کھل جائے گا بٹن دباو تو دیوار کھلے گئ
مطلب وہ پاگل ہے ” وہ کیک کھاتے کھاتے بتا رہی تھی
خیر مجھے لگتا ہے تم وہاں خوش ہو “
نہیں بلکل نہیں میں تو تمھارے ساتھ خوش تھی لیکن اسکی منگیتر بے مجھ پر بہت غصہ کیا ہے ہممم نک چری ڈاکٹرنی ” وہ ذرا بھڑکی
وہ اسکی منگیتر نہیں ہے
تو بیوی ہے “
اوہو بیوی بھی نہیں ہے ۔۔۔ شجر کو برا لگا تھا
تو کیا ہے “
بہن ہے “
تمھیں کیسے پتہ ؟
” اچھا چھوڑو بہت دماغ چلتی ہو کام میں زیرو ہو “
وہ اٹھا ٹشو اٹھایا اور نارمل اسنے روح کے ہونٹ کے کنارے پر لگی چاکلیٹ صاف کرنے کے لیے ہاتھ بڑھایا ہی تھا کہ کسی نے اسے زبردست دھکا دیا وہ میجر تھا فورا سنبھلا دوسری طرف بہزاد تھا روح کے ہاتھ سے پلیٹ لے کر اسنے سامنے پھینک دی اور ٹیڈی بئیر بھی اٹھا کر زمین بوس کیا اور اس ٹیڈی کے منہ پر جوتا رکھ کر وہ روح کے بیڈ پر بیٹھتا عین شجر کی انکھوں میں آنکھیں گاڑ گیا
سپاٹ نظریں دس سال بعد دونوں نے ایک دوسرے کو یوں آمنے سامنے دیکھا تھا بہزاد اسے دیکھتا رہا جبکہ شجر بھی روح البتہ شاکڈ سی بیٹھی تھی
چوہے کیطرح ڈر ڈر کر رہنے کی عادت تمھاری کبھی نہیں جائے گی آئندہ ” شجر کچھ بولتا کہ وہ انگلی اٹھا گیا
مجھے روح کے اس پاس نہ دیکھنا اور میری روح کو اپنے استعمال میں لانا بند کرو تمھیں یہاں سے کچھ میرے بارے میں پتہ نہیں چلے گا میجر صاحب ان بازوں میں اتنی ہمت ہے تو کوئ کلیم میرے اوپر ثابت کرو ناو گیٹ آوٹ اور یہ اپنا کچرا بھی لے جاؤ ” اسنے ٹیبل پر رکھا کیک بھی پھینک دیا
شجر نے ایک نگاہ ساری چیزوں پر ڈالی اور شانے اچکا گیا
چلو آمنے سامنے کھیلتے ہیں پھر تمھیں پتہ ہے بہزاد تمھارا آخری انجام تمھارے ماتھے پر میرے نام کی گولی ہے
۔۔ واقعی ۔۔ بہت ہو گیا چھپن چھپائی
کیوں نہ تمھیں اب تمھاری اصلیت دیکھائی جائے ۔۔۔
بلکل میری اصلیت دیکھاؤ لیکن پروبلم یہ ہے کہ تمھاری بندوق بھی مجھ سے خوفزدہ ہے ۔۔۔
وہ ہلکا سا مسکرایا اور ۔۔ شجر نے غصے سے اسے دیکھا
پلوشہ کو آزاد کرو ” شجر نے بھی مطالبہ کیا
ازاد ” وہ ہاتھ اٹھا گیا
لے جا سکتے ہو تو لے جاؤ ” وہ واضح بولا
جبکہ روح ان دونوں کو ایک دوسرے سے بھیڑتا حیرانگی سے دیکھ رہی تھی
یہ سب کیا ہو ریا ہے ” وہ بلاخر بولی
جبکہ شجر نے اسکی جانب دیکھا
میں پھر ملنے آؤ گا تم سے “
جان سے مار دوں گا میں ” بہزاد دھاڑا تھا
مارو ” شجر ہلکا سا مسکرایا سینے پر ہاتھ باندھ گیا
بہزاد نے مٹھیاں بھینچی اسکی جانب بڑھتا کہ روح نے گھبرا کر بہزاد کو پکار لیا اسکے قدم رکے
“عاشقی میں علی شاہ کا لونڈا پھنس گیا ہے “
اب تک تو اکیلا کھیل رہا تھا تبھی کامیاب تھا اب تمھاری قسمت ناکامی کیطرف تمھیں اپنے آپ لے جائے گی میری ضرورت نہیں پڑے گی لیکن یاد رکھنا بہزاد علی شاہ جہاں تم چونکے وہیں میں بازی مار جاوں گا ” وہ ہلکا سا مسکرا کر نکل گیا جبکہ روح حق و دق تھی
بہزاد پلٹا اور اسنے اس بھالو کو لات ماری شجر کی بات بکواس تھی
وہ اپنی جوتی کی نوک پر بھی نہ رکھتا
تبھی سر جھٹک کر اسکے سامنے بیٹھ گیا
مجھے بتاؤ تمھیں کیا پسند ہے میں دلاو گا تمھیں ” سنجیدگی اور کافی برہمی سے بولا کرنے لگا تھا وہ اس سے ۔۔۔
آپ اپ مجھے ڈرا رہے ہیں اپ ۔۔۔ اپ ایسے کیوں بات کر رہے ہیں اپ شجر آپ دونوں مجھے ایسا کیوں لگ رہا ہے کہ میں ۔۔۔ میں کچھ نہیں ” روح پریشان سی اپنے دل پر ہاتھ رکھ گئ
ہائے ایم سوری ایم سوری ” بہزاد جلدی سے اسکے بیڈ پر بیٹھ گیا
ایم سوری۔” وہ ہلکا سا مسکرایا
روح نا سمجھی سے اسے دیکھنے لگی بہزاد نے اسکق ہاتھ تھام لیا
کیا ؟؟؟
وہ گھور کر بولا اب بھی وہ اسکے چہرے پر کچھ کھوج رہی تھی جبکہ روح جلدی سے نفی میں سر ہلانے لگی
مجھے وہ کیک پسند تھا اور وہ ٹیڈی وہ میری زندگی کا پہلا ٹیڈی تھا “
میں تمھارے لیے بہت بڑا ٹیڈی خریدو گا ” وہ اسے پیار سے سمجھانے لگا
لیکن مجھے وہ ہی چاہیے ” وہ اسکے ہاتھ سے ہاتھ نکال گئ
روح اس میں کیا ہے فضول چیز ہے “
آپ بھی فضول ہیں بڈھے “
واٹ ” وہ تو دنگ ہی رہ گیا
ہاں ” روح کے دل میں جو آیا کہہ گئ تھی بہزاد حونک تھا ابھی
میں بڈھا یو سیلی گرل تمھاری زبان نکال لوں گا ” وہ آنکھیں دیکھا گیا
وہ اپکے سر میں وائٹ بال ہے ” وہ اسکے جھٹکنے پر وجہ بتا گئ
میرے سر میں ” بہزاد نروس ہو رہا تھا
روح اپنی ہنسی روکنے لگی
ایم تھرٹی ون اونلی “
وہ پریشانی سے سوچ رہا تھا کہ یہ سفید بال کہاں سے آیا اور روح ایکدم کھلکھلا گئ ۔
بہزاد نے اسکی جانب دیکھا
اپکو لگتا ہے بس آپ ہی لوگوں کو آنکھیں دیکھا سکتے ہیں میں نے بھی آپکو بیوقوف بنایا اب آپ مجھے وہ ٹیڈی لا کر دیں “
تم کچھ زیادہ ہی شاطر نہیں بن رہی ” وہ ائ برو اچکا گیا
نہیں میں نہیں ہوں لیکن آپ اچھے نہیں ہیں شجر میرے “
روح ” بہزاد سے برداشت نہیں ہوا کہ وہ بار بار اسکا نام لے جبکہ ایکدم وہ روح کے جبڑے اپنے ہاتھ میں جکڑ گیا
وہ خوفزدہ سی دیکھائی دی
تمھیں سمجھ نہیں ا رہی کہ میں نہیں چاہتا تم اسکا نام لو اب تم صرف میری ہو ۔۔
اور میں باتوں کو رکھنے کا گھمانے پھیرانے کا قائل نہیں ہوں سیدھا کہہ رہا ہوں محبت کرتا ہوں بات ختم مزید بات نہیں اور نہ ہونی چاہیے ” سختی سے کہہ کر یہ اسنے محبت کا اظہار کیا تھا روح آنکھیں پھاڑے اسے دیکھ رہی تھی جبکہ وہ اسے چھوڑ کر سیدھا ہو گیا
لیکن میں تو نہیں کرتی ” وہ آنکھیں جھپکتی منمنائی
پوچھا تم سے ” وہ ترچھی نگاہ گھما گیا
ل۔۔لیکن یہ تو غلط ہے میں نہی ” الفاظ وہیں رہ گئے جبکہ بہزاد کی گھوری کام کر گئ ۔
کتنا میس ہو گیا ہے ” وہ سر جھٹک کر اٹھا روح اسے حیرانگی سے دیکھ رہا تھا اسنے محبت کا اظہار بھی کر دیا اور کتنا نارمل تھا روح نے ریجیکٹ بھی کر دیا وہ پھر بھی نارمل تھا
مہروز ” بہزاد نے آواز لگائی اور وہ دانت نکالتا اندر ا گیا
ہائے روح بے بی کیسی “
یار کیک تو بندہ کھا ہی لیتا ہے دوشمن نے ہی کیوں نہ بھیجا ہو ” مہروز افسوس سے چاکلیٹ کیک دیکھنے لگا
اوئے کتنا پیارا ہے یہ ” اسنے ٹیڈی اٹھا لیا
روح اسے اشاروں سے کہنے لگی کہ وہ اسے دے دے یہ ٹیڈی ۔۔۔
بہزاد نے اس بھالو کو لیا اور جیب سے لائیٹ نکال کر اسنے وہ لائیٹر کی آگ بھالو میں لگا دی
ہا ” روح کی آنکھیں بھیگ گئیں
اب باہر پھینک دو یہ سب “
اوکے برو ٹیک ایٹ ایزی ایزی ” وہ روم کلینر کو بھیج چکا تھا جبکہ اس آگ لگا بھالو کو بھی لے گئے روح نے غصے سے آکسیجن لگایا اور آنکھیں بند کر کے لیٹا گئ وہ اسکے نزدیک آیا
روح ” پکارہ مگر بے سود ۔
ضدی لڑکی تھی ایسے ہی تو نہ مان جاتی “
وہ نفی میں گردن ہلاتا صوفے پر بیٹھ گیا جبکہ اسکے ہلکے ہلکے بڑبڑاتے کی آواز کمرے میں پھیل رہی تھی جسے بہزاد بار بار کان پر سے اتار دیتا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پلوشہ تھوڑی شام کے وقت آئی تھی وہ روح کے لیے چاکلیٹس اور کیک لائیک تھی وہ جھجھکتے ہوئے داخل ہوئی تھی کمرے میں مہروز اور بہزاد صوفے پر لیپ ٹاپ لیے بیٹھے تھے معلوم نہیں کیا کام کر رہے تھے جبکہ دوسری طرف روح ابھی سو کر اٹھی تھی اسنے اپنی آکسیجن اتاری تھی اور اب بوریت سے ارد گرد دیکھنے رہی تھی کہ پلوشہ ا گئ
ہائے پلوشہ ” روح کو وہ اس وقت فرشتہ لگی ۔
کہ اسکی بوریت جو ختم ہو گئ تھی پلوشہ اسے دیکھ کر حیران رہ گئ اور آج سے اندازہ ہوا کہ وہ بہت صاف دل کی لڑکی تھی اسکی بے وجہ نفرت ڈیزرو نہیں کرتی تھی اور شاید اسکے دل کا یہ بھولا پن ہی بہزاد کو پسند آیا تھا وہ اکثر حیران ہو جاتی تھی روح کو دیکھ کر ہاں وہ خوبصورت تھی لیکن پلوشہ بھی تو خوبصورت تھی
سب کچھ تھا اسکے پاس بھی جو روح کے پاس تھا لیکن صاف دل نہیں دل میں بغض تھا اور روح کے دل میں ایسا کچھ نہیں تھا وہ شرمندہ سی اسکے پاس آئی بہزاد کچھ نہیں بولا دوبارہ لیپ ٹاپ دیکھنے لگا
یار وہ کیک لائی ہے بہت بھوک لگی ہے کچھ تو کھانے دے ” مہروز کہتا اٹھا اور اسنے کیری میں سے کیل نکال لیا
پلوشہ اسے گھورتی رہی لیکن وہ سبز جھنڈی دیکھا گیا
امممممم بہت مزے دار ہے یار لو روح تم بھی کھاؤ ” اسنے روح کو دیا
واو امیزینگ ” روح بھی مزے لینے لگی بہزاد کی توجہ لیپ ٹاپ پر تھی
روح ” پلوشہ اسکے پاس بیٹھ گئ
ایم سوری ” اسکا لہجہ بھرا گیا
کس لیے ” روح حیران ہوئی
اوو بیوقوف لڑکی اسکے تمھیں گھر سے نکالا تھا ” مہروز نے یاد دلایا اور روح کو یاد ا گیا
اوہ ہاں ۔۔۔ پکڑو کیک پکڑو ذرا جلدی ہممم میرے پاس کیوں آئی ہو ” وہ اب کہ اترا کر بولی بہزاد کا ڈیمپل صاف نمایاں تھا
مہروز بھی کیک کھاتا ہنس رہا تھا
ایم سوری پلیز مجھے معاف کر دو میں سچ میں پاگل ہو گئ تھی ” پلوشہ شرمندہ تھی
اوکے ٹھیک ہے ” وہ سکون سے بولی اور مہروز سے کیک چھیننا چاہا مگر وہ دور ہو گیا
کیا مسلہ ہے تمھیں ” وہ چیخی
بہزاد نے روح اور مہروز کو دیکھا
میں تمھیں اور دے دیتی ہوں ” پلوشہ اس کے مان جانے پر حیران تھی روح جیسی ٹھیڑی لڑکی پر اسے یقین نہیں آیا کہ وہ کیسے اتنی جلدی ماں گئ
اسنے روح کو کیک دیا اور وہ کھانے لگی
جبکہ پلوشہ نے اسکا ہاتھ پکڑ کر پھر سوری کیا
مجھے برا نہیں لگتا کچھ چل کرو لیکن تمھاری سزا ہے تم میرے ہاتھ کے نوڈلز کھاو گی ” روح مسکرائ تو پلوشہ سر ہلا گئ
وہ مان گئ تھی
جبکہ پلوشہ خوش ہو گئ اسکا ہاتھ پکڑ کر ہلا سا دبایا اور مسکرائی ۔۔۔
بس بہت سارا کھا لیا تم نے اتنا صحت کے لیے اچھا نہیں تھوڑا سا سوپ پی لو جینزی تم اندر نہیں ائ ” پلوشہ نے پلٹ کر دیکھا وہ شاید بہزاد کی وجہ سے جھجھک رہی تھی پلوشہ کے بلانے پر وہ اندر آئی اور روح سے ملی
میم آپ ٹھیک ہیں “
بلکل فٹ تم باہر کیوں تھی “
روح کو اچھا لگ رہا تھا شجر کے ساتھ وہ اکیلی تھی اور بہزاد کے ساتھ اسکے پاس کئ لوگ تھے
وہ مجھے لگا سر کو اچھا نہیں لگے گا ” وہ کچھ جھجھکی
کھڑوس اکڑو پتہ نہیں جاتے کیوں نہیں ۔۔۔ تمھارے تو منگیتر ہیں بھگاؤ نہیں یہاں سے “
روح وہ میرے کچھ نہیں لگتے ” اسنے اہستگی سے کہا
تم نے بریک اپ کر لیا تبھی مجھ پر لمبی لمبی چھوڑ رہے تھے
ہممم ” وہ سر جھٹک گئ
کیا چیز تھی کسی بات کو سنجیدہ نہیں لینا تھا اسنے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ سو رہی تھی ۔۔۔۔
بہزاد اسکے پاس سے ایک لمہے کے لیے نہیں ہلا تھا
وہ پر سکون نیند لے رہی تھی کہ اچانک اسکے منہ پر کسی نے پانی کی بالٹی الٹ دی
روح سانس ہی لینا بھول گئ اور پانی کی بالٹی الٹنے کے بعد وہ جو بھی تھا رکا نہیں
روح نے ہاتھ پاوں ہلانے کی کوشش کی مگر وہ ہل نہ سکی اور سانس اسے ا ہی نہیں رہی تھی
وہ ادھر ادھر سر مارتی آنکھیں کھول گئ
پورا وجود بھیگا ہوا تھا اور روح کی سانسیں ایسی تھی ابھی روک جاتی
وہ چلانا چاہتی تھی لیکن پانی رک نہیں رہا تھا
ب۔۔۔بہزاد ” وہ چیخی
مگر بے سود وہ کوئی ماسک میں آدمی تھا جو ایک طرف اور پھر دوسری طرف کھڑا تھا اور پانی مسلسل الٹ رہے تھے
تبھی ایک نرس نے یہ جان لیوا منظر دیکھا اور دوڑی تو ایک ماسک میں آدمی نے دیکھ لیا وہ بالٹی پھینکتے جیسے آئے تھے بھاگ گئے روح خود کو آزاد کرانے کی کوشش میں چلا رہی تھی
جبکہ سانسیں پورے کمرے میں تھیں ۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔