Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 25

اسکی انکھ کھلی تو ناک کے نتھنوں سے عجیب سی بدبو ٹکرائی اور سردی کا احساس اسے سمیٹنے پر مجبور کر گیا
یہ بدبو اسکے حواس جگا رہی تھی اسنے آنکھیں کھولیں تو لگا کافی برسوں بعد وہ جاگی ہے اور حب وہ حوش میں آئی ایکدم سیدھی ہوئی اور یوں لگا جیسے ابھی وہ مر جائے گی اسکے سامنے مردے پڑے تھے
اسکے وجود پر تاری ہونے والی کپکپی بلکل فطری تھی وہ جھٹکے سے اٹھی اور دور دیوار سے لگ گئ
اسنے دروازے کی جانب دیکھا
دروازہ اسطرح سختی سے بند تھا جیسے قبر کو ڈھانپ دیا جاتا ہے اسکا دل پھٹنے کو تھا اس میں اتنی ہمت نہیں تھی کہ وہ مردوں کو اپنے سامنے برداشت کر لے اور اوپر سے یہاں اتنی بدبو تھی اسنے جیب ٹٹولی کانپتے ہاتھوں سے اسکا موبائل ۔۔۔
وہ جلدی سے موبائل پر نمبر ڈائل کرنے لگی لیکن یہاں سگنل ہی نہیں ا رہے تھے اسکی لاکھ کوشش کے باوجود سگنل نہ ملے نہ وہ کسی کو کال کر سکی اور اسپر اس جگہ کی دہشت اس قدر تھی نہ ہی اس سے کچھ بولا جا رہا تھا نہ رویا جا رہا تھا اسکے ہاتھ پاوں میں ہمت نہیں تھی کہ وہ آگے بڑھ پاتی نہ دماغ کچھ سوچ رہا تھا لیکن وہ اپنی سانسوں کو سنبھالتی ہوئی دروازے کی سمت دوڑی
ک۔۔۔کو۔۔کوئ ۔۔کوئی ہے
ب۔۔بہزاد ” اسنے پورا دروازہ جھنجھوڑ دیا اور اسے سانس لینے میں بھی مشکل تھی
اسنے اپنی دونوں کلائیاں دروازہ پیٹ پیٹ کر سرخ کر لیں یوں دروازہ نہیں کھلا ہر وجود یہاں بے جان تھا وہ آنکھیں پھاڑے خوفزدگی سے ان مردوں کو دیکھ رہی تھی جن کے چہرے لٹھے لی مانند سفید تھے کچھ دیر میں ہی وہ خوف سے مر ہی جاتی
اسنے چلانا شروع کر دیا وہ چلا چلا کر دروازہ پیٹنے لگی کہ کوئی دروازہ کھول دے وہ کانچ سی لڑکی جس کی سانسیں بھی مشکل میں رہتی تھیں وہ اس سرد خانے میں کیسے رک پاتی جہاں بڑے سے بڑا طاقت ور مرد آنا نہ چاہے وہ پاگلوں کیطرح دروازہ پیٹنے لگی
مگر بے سود تھا سب کچھ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کہاں ہے وہ ۔۔۔۔۔ اسکے لہجے میں آتش فشاں تھا ایک تو وہ اپنی عجلت میں اسے کیسے چھوڑ آیا یہ بات چین نہیں لینے دے رہی تھی پھر اسنے ہوٹل کی جانب فورا دوڑایا تھا اپنے خاص بندوں کو اور وہاں اسے روح کی غیر موجودگی کا پکا یقین تھا بیوقوفی اسنے کی تھی وہ مہروز کی وجہ سے اسے چھوڑ کر نکل آیا تھا یہ نقصان اسکا بنتا تھا
سرد خانے میں ” اسکے ایک گارڈ کرنے اسکے چہرے کے سخت پتھریلے تاثرات سے گھبراتے اسے بتایا
اسنے دانت پیس لیے ۔۔۔۔ آنکھوں میں جو سکون ہمیشہ رہتا تھا وہ غائب تھا نہ چاہتے ہوئے بھی اسکے اردگرد اسکی کمزوریاں بن گئیں تھیں اور اسکا دشمن خوب ان کمزوریوں کی خبر رکھتا تھا
ٹیبل پر بجتی اسکی انگلیاں جو ایک دھن بنا رہی تھیں یکدم رک گئیں
سر شجر عباس نے انھیں سرد خانے میں قید کر رکھا ہے ” اسنے اسکی خاموشی کو محسوس کرتے دوبارہ اپنی بات کو مکمل کیا تھا
شجر عباس کو دھماکے کچھ زیادہ ہی پسند ہیں ” اسنے سنجیدگی سے کہا جبکہ وہ کس گھیرے میں تنگ ہو رہا تھا یہ تو وہ جان بوجھ کر اتر رہا تھا یہ وہ بے خبر واقعی تھا
وہ بس اپنی کرسی چھوڑتا دیکھائی دیا ۔۔۔
اسنے وہ کرسی چھوڑی تو کرسی تیزی سے گھومنے لگی اور وہ باہر نکل گیا ۔
وہ سوار ہوا تھا گاڑی میں جگہ ٹریس کرنے کی اسے ضرورت نہیں پڑی تھی روح کے پاس جو موبائل تھا اس میں وہ ایسی ڈیوائز اٹیچ کر چکا تھا کہ جس کی وجہ سے وہ روح کے پاس کہیں بھی پہنچ جاتا ۔۔۔۔
صرف تین منٹ صرف تین منٹ میں وہ وہاں پہنچا اور اسکا نشانہ چوکتا کبھی نہیں تھا
عین سامنے والے کی کھوپڑی میں سوراخ کر دیتا تھا اور وہ بھی تب جب وہ ارادہ بندھ چکا ہو کہ وہ چھوڑے گا نہیں کسی کو اور اسنے اپنی گاڑی کے شیشے کے پیچھے سے ہی سامنے بیٹھے دو گارڈز کا نشانہ بنایا اور سیدھے تین فائیر ایک ساتھ ایک کے ماتھے میں سوراخ کر گئے یہ اسکی جنون کی گواہی تھی بے رحمی اسکے انگ انگ سے دیکھ رہی تھی اور دوسرے کے بھی ایسا ہی نشانہ باندھا یہ اسکا سگنیچر نشانہ تھا گاڑی کا نقصان ہو چکا تھا لیکن یہ حملہ گواہ تھا یہاں آنے والا کون تھا
شجر عباس بنا ثبوت کے بھی جان جاتا وہ آیا تھا
وہ باہر نکلا ۔۔ مردانہ وجاہت سے بھرپور اسکی چال میں دباؤ تھا جیسے اس سرد خانے کی مٹی کو قدموں تلے ملتا وہ اندر بڑھا جو بھی اسکے سامنے آ رہا تھا اسکا نشانہ بلکل ویسا ہی تھا ۔۔
اسکا گارڈ دوڑ کر اس جگہ تک پہنچا تھا جہاں ” روح ” تھی ۔۔
مگر وہ اسے چھو نہیں سکتا تھا اسنے سرد خانے کا دروازہ توڑ دیا ۔۔۔۔
وہ ان ہیلر کے بنا ہی سینے پر ہاتھ رکھے لبوں کو کھولے سانس لینے کی کوشش میں بیٹھی تھی رنگ لٹھے کی مانند سفید تھا ۔۔۔
خوف کے سبب کوئی بھی اسپر ترس کھا لیتا پھر شجر عباس کو کیوں نہ آیا ۔۔۔
اسکی پیشانی اسکی گردن پسینے سے چمک رہی تھی جبکہ سرد خانے میں سرد ماحول تھا
اسکی آنکھوں میں رونے کے سبب سرخی تھی ایک ایسی گھیری سرخ لکیر جو کسی کا بھی ایمان ڈگمگا دے ۔
بہزاد آگے بڑھا اسے بازوں کے حلقے میں بھر لیا
اور روح کو لگا اگر اسے یہ خوشبو اور یہ گرمائش نہ ملتی تو وہ ہوا میں معلق رہ جاتی وہ اسکی شرٹ مٹھیوں میں بھینچ کر بلکل اس سے چمٹ گئ ۔۔۔۔
وہ خاموش تھا البتہ روح کی ہچکیاں ان مردوں کو بھی جگا دیتی وہ ایسے رو رہی تھی بہزاد لب دبائے بیٹھا تھا
اسے سانس لینے میں دقت ہو رہی تھی ۔۔
وہ بار بار سانس کھینچتی لیکن شاید مکمل آکسیجن حاصل نہیں کر پا رہی تھی
مقابل نے اسکا چہرہ جو پسینے سے تر تھا اوپر کیا جو وہ اسکے سینے میں چھپا رہی تھی اور اسکے کانپتے ہونٹوں کو اپنی انگلی سے کھولا تھا ۔۔
اور وہ جھکا نرمی سے ان ہونٹوں کو خود میں بھرا
اور مردہ خانے میں اسکے بیچارے گارڈ اس کس کا مطلب جان نہیں سکے ۔۔۔
وہ سر پیٹ کر دوسری طرف منہ موڑ گئے کیونکہ بولنے کی جرت جو نہ تھی جبکہ اسنے اپنی سانسوں کو اسکی سانسوں میں گھول دیا وہ تو اسکے ہونٹوں کو چھوئے ہوئے تھا بس ۔۔۔۔
روح خود ہی اسکی سانسوں کو خود میں کھینچ کر سانسیں بھر رہی تھی
تقریبا یہ دورانیہ دو منٹ کا تھا ۔۔
اس کے گارڈز یہ مداخلت کبھی نہ دیتے اگر وہ اپنے پرائیویٹ کمرے میں ہوتے لیکن یہ مردہ خانہ تھا مردے بھی تلملا کر جاگ جاتے ۔۔۔
تبھی وہ دروازہ بجا گئے
سر ہمیں فوری یہاں سے نکلنا ہو گا ” وہ ادھر ادھر دیکھتے بولے
بہزاد نے اسے اپنی بانہوں میں اٹھا لیا روح اسکی گردن میں چہرہ چھپا گئ اور وہ اسے لیے جب نکلا تو اسکے آگے پیچے گارڈز تھے اگر نہ بھی ہوتے وہ تب بھی اپنے بازوؤں مین اتنی طاقت سمجھتا تھا کہ وہ اسے بچا لیتا ۔۔۔
وہ اسے تو بچا چکا تھا لیکن آنے والے طوفان سے نا واقف تھا
یہ کہیں ایسا تو نہیں تھا یہ جال تھا جو اسکے اردگرد بنا جا رہا تھا
بہزاد نے اسے گاری میں بیٹھایا
بہزاد ” روح بھیگی نگاہوں سے اسے دیکھنے لگی حالت کافی خستہ تھی
اٹس اوکے ہم ابھی گھر چل رہے ہیں ” اسنے پیار سے اسکا گال تھپتھپایا دروازہ بند کیا اور وہ گاڑی میں سوار ہوا تبھی اسکا سیل فون بجنے لگا تھا
مہروز کی کال تھی ۔
بہزاد نے فورا کال اٹینڈ کی اور کان سے موبائل لگ لیا
بہزاد ” مہروز کی نقاہت سے بھرپور آواز تھی
کیا ہوا کہاں ہو تم “
تم ۔۔۔ تم واپس مت لوٹنا ۔۔۔۔ تم واپس مت لوٹنا
یہ چال تھی یہ ٹریپ تھا
تم جہاں ہو وہیں رہو بہزاد واپس مت آنا “
مہروز کی بات پر اسنے گاڑی کو ریورس کی تھی اور اسقدر رش ڈرائیونگ کرتے اسنے گھیر لیا
ک۔۔۔کیا ہوا ” روح اسکے پاگل پن پر ایکدم بھکلا گئ لیکن بہزاد نے کوئی جواب نہیں دیا پیشانی پر تیوری ڈالے وہ ڈرائیو کر رہا تھا
کچھ ہی دیر میں وہ گھر کے باہر پہنچا
اور جیسے ہی وہ پہنچا اسپر گولیوں کی بوچھاڑ ہو گئ
اسنے گاڑی پھر پیچھے کھینچی
روح کی ایکدم چیخ نکلی تھی اور وہ اسکے بازو کو تھام گئ
یہ سب یہ کیا ہو رہا ہے ” وہ پلٹا
بہزاد اب بھی کچھ نہیں بولا اور روح اسکا بازو تھام گئ وہ خوفزدہ سی دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔
بہزاد نے اپنے گارڈز کو بھی پلٹنے کا کہا تھا جبکہ وہ نہیں جانتا تھا اسکے گھر کے اندر موجود لوگوں کا کتنا نقصان ہوا ہے
وہ پلٹا اسنے مہروز کو کال ملائی
تم کہاں ہو “
میں گھر سے کچھ فاصلے پر ۔۔
اور پلوشہ ” وہ فکرمند تھا
اسے شجر عباس لے گیا ہے ” مہروز کی آواز ٹوٹ رہی تھی
میں ا رہا ہوں تمھارے پاس تم فکر نہ کرنا ” اسکے تسلی بھرے لفظوں پر مہروز مسکرایا ۔۔۔۔
جبکہ بہزاد کال کاٹتا معلوم نہیں کہاں کہاں سے گاڑی گھما کر لے جا رہا تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ روح کو لینے گیا تھا انکے گھر میں گارڈز تھے مہروز زخمی تھا پلوشہ اسکے لیے سوپ بنایا کر لے جا رہی تھی کہ تبھی گھر کے باہر فائرنگ شروع ہو گئ
اور مہروز نے چونک کر نقاہت سے سر اٹھایا
وہ زخمی نہ ہوتا تو شاید آج ایک آدھے کو مار ہی دیتا
اسنے پلوشہ کو دیکھا جس کے ہاتھ سے خوف کے مارے باؤل چھوٹ گیا تھا وہ بمشکل تمام اٹھا
مہروز یہ سب “
پلوشہ تم نہ ” ابھی وہ اپنی بات حقیقت مکمل نہیں کر سکا تھا کہ باہر چیخوں کی آواز ابھری ان دونوں کے چہروں پر پسینے کی بوندیں سی بن گئ
تم۔۔جاو ” پلوشہ نے مہروز کو دھکیلا
نہیں میں تمھیں چھوڑ کر نہیں جاؤں گا “
میں جانتی ہوں مہروز یہ شجر عباس ہے وہ مجھے کوئی نقصان نہیں دے گا تم جاؤ ” وہ چلائی
مہروز نے ایک قدم دور لیا
پلیز بھاگو یہاں سے ۔۔۔۔۔
اور مہروز نہ چاہتے ہوئے بھی پیچھے بیسمنٹ میں اتر گیا اور پلوشہ نے اس جگہ پر کارپٹ درست کر دیا
یہ گھر مشکل حالت کے لیے کافی زبردست ڈیزائن کیا گیا تھا
کوئی جانتا تھا کہ بہزاد نکلے گا اور اسکے بعد ہی اسکے گھر پر حملہ کیا جا سکتا تھا اور شجر عباس کو یہ علم بخوبی تھا
وہ چھپ چھپ کر یہ بلی چوہے کہ کھیل کا خاتمہ کر چکا تھا اور اسنے بہزاد کے نام کے وارنٹ بھی نکلوا لیے تھے
ہارون نے اسے بہزاد کے گھر پر ڈائریکٹ حملہ کرنے کی لیے کہا تھا اور شجر کو بھی یہ مناسب لگا اسنے لات مار کر دروازہ کھولا پلوشہ پیلا زرد چہرہ لیے کھڑی تھی
شجر اسپر بندوق تان گیا وہ خوفزدہ سی اسے دیکھنے لگی
اور وہ بندوق ہٹا گیا اسنے اسکا بازو جکڑا اور اسے باہر کھینچ لیا
یہاں جو بھی ہے اسے جان سے مار دو ” اسنے آرڈرز دیے
نہیں ۔۔۔ نہیں “
گھر میں جینزی تھی اور بھی بہت لوگ تھے اور اسکے حکم پر گولیاں ایسے چلنے لگیں گویا بارش ہو رہی ہو وہ بھی موسلہ دھاڑ پلوشہ نے اپنی آنکھوں سے جینزی کو مرتے دیکھا تھا
وہ چلا اٹھی جبکہ شجر اسکے منہ پر ہاتھ رکھتا اسے باہر گھسیٹ کر لے آیا
یہ بلکل ویسا منظر تھا اس سے پہلے بھی بہزاد علی شاہ کا گھر اجڑا تھا بلکل اسی طرح ۔۔۔
پلوشہ کو گاڑی میں پھینکا اسنے اور اس سے پہلے وہ پیچھے ہٹتا پلوشہ نے کھینچ کر شجر کے منہ پر تھپڑ مار دیا
تم ۔۔ تم لوگ ہو اصل دہشت گرد تم لوگ ہنستے بستے گھر کو تباہ کر دینا چاہتے ہو ۔۔۔ تم لوگ ۔۔۔۔
تم بہزاد کو مار دینا چاہتے ہو لیکن وہ تم سب لوگوں کو مارے بنا نہیں مرے گا ” وہ دھاڑی
شجر دور ہٹ گیا اور دروازہ کھینچ کر مارا
جبکہ پلوشہ بری طرح رو دی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ لوگ تمھارے نکلنے کا انتظار کر رہے تھے
انیسا کو ہم نے ٹارگٹ کیا اور ہارون بیگ نے ہم لوگوں کو جان بوجھ کر مجھے زخمی کیا
مجھے شک ہے بہزاد مجھے شک ہے کوئی ہماری خبر اسے دے رہا ہے
ایسا نہیں ہو سکتا کہ ہارون بیگ اس طرح تمھارے گھر پر باقائدہ اٹیک کرا دے ہماری پلانگ پوری ہے
ہم نے انیسا کو ٹارگٹ کیا تھا یہ ہم لوگوں پر اس طرح منہ پھاڑ کر کیسے دھاوا بول سکتے ہیں کہیں وہ فائل “
وہ فائل کہاں ہے جس میں علی شاہ کے خلاف سارے ثبوت تھے
مہروز اسے جھنجھوڑ کر پوچھ رہا تھا جبکہ وہ اس وقت صوفے کے بازو پر آدھا بیٹھا تھا زمین کو گھور رہا تھا
وہ سارے ثبوت ہارون بیگ کے بنائے ہوئے تھے ہم نے وہ فائل بہت مشکلوں سے حاصل کی تھی جس کی بنیاد پر ہم دوبارہ اس کیس کو کھولتے تم مجھے بتاؤ وہ ساری فائلز کہاں ہیں “
مہروز نے اسکا بازو جکڑ کر پوچھا تھا لیکن وہ اب بھی کچھ نہیں بولا اور مہروز سر تھام گیا
ایک بار پھر تمھارے وجہ سے بہزاد صرف تمھاری وجہ سے کتنی قیمتی جانوں کا نقصان ہو گیا
وہ ہمارے لوگ تھے ” وہ دھاڑ اٹھا
بہزاد اب بھی چپ رہا جبکہ وہ اسکے ریسپونس نہ کرنے پر مٹھیاں بھینچتا ایک دیوار سے لگی خوفزدہ سی روح کو دیکھے بنا کمرے میں چلا گیا
یہ آرمی ایرے سے باہر فلیٹ تھا
وہ تینوں اور انکے گارڈز موجود تھے اس وقت یہاں جبکہ باقی جو گھر پر تھے جان گنوا چکے تھے انکے لیے ۔۔۔۔
بہزاد اٹھا اور صوفے پر بیٹھ کر صوفے کی پشت سے ٹیک لگا لی
روح کی انکھوں سے انسو نکلنے لگے
ہارون بیگ ۔۔۔
یہ نام اسکی زندگی کا سب سے بھیانک نام تھا اور جہاں تک وہ سمجھ پا رہی تھی بہزاد کا دشمن بھی وہ ہی تھا
علی شاہ کو ہارون بیگ نے مارا تھا اس کا مطلب اسکی ماں نے مارا تھا
وہ دیوار سے ٹیک لگاتی زمین میں دھنستی جا رہی تھی جینزی مر گئ تھی
اسے لگ رہا تھا یہ اسکی وجہ سے ہوا ہے
ہارون بیگ نہایت سفاک آدمی تھا اسنے اسکے باپ کو اسکی آنکھوں کے سامنے مار دیا تھا
وہ جانتی تھی یہ سب کچھ ۔۔۔ وہ بال مٹھیوں میں جکڑ گئ
جبکہ بہزاد کی کیفیت پر دل ایسا ہو رہا تھا جیسے گھٹ جائے گا
وہ اٹھی اور اسکے نزدیک آ گئ اسکے بالوں میں انگلیاں چلانے لگی
بہزاد نے اسپر آنکھیں اٹھائیں اور روح کو لگا یہ آنکھیں اس سے کچھ کہہ رہی ہوں
روح نہیں دیکھ سکی تھی اسکی آنکھوں میں ۔۔۔ بہزاد نے دوبارہ آنکھیں بند کر لیں اور روح نے ہاتھ کھینچ لیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رات کا پہر آخری تھا
اسے رات بھر سے نیند نہیں آئی تھی
وہ نہیں جانتی تھی وہ کیا کر چکی ہے کیا نہیں ۔۔۔
اسنے صرف اس سچ کا ساتھ دیا تھا جو اسے دیکھایا گیا تھا لیکن اب کیوں خوف محسوس ہو رہا تھا
اسنے مڑ کر ایک نظر دیکھا
بہزاد مہروز اسکے گارڈز سب اسطرح چپ تھے کہ یہاں پندرہ بیس بندہ ہونے کے باوجود کسی ایک کے منہ میں بھی زبان نہ تھی
وہ بالکنی میں ا گئ اور اسنے اپنا موبائل نکالا
شجر کا نمبر ڈائل کیا
بار بار مڑ مڑ کر وہ پیچھے دیکھ رہی تھی کہ کوئی یہاں نہ ا جائے
روح ” شجر کی آواز ابھری
مجھے یہاں سے کب نکالیں گے آپ ” اسکی آواز مظبوط تھی کہیں سے بھی ایسا نہ لگا کہ وہ ۔۔۔ وہ ہی روح ہو ۔۔۔۔
تمھیں کال نہیں کرنی چاہیے تھی “
آپ نے مجھے بہت ساری باتوں سے انجان رکھا ہوا ہے مجھے پتہ لگ گیا ہے آپ مجھے استعمال کر رہے تھے صرف ۔۔۔۔
ہمارا مقصد جو تھا اس سے ہٹ کر آپ ذاتی مفاد پر اتر گئے
ہارون بیگ کا قصہ نہیں بتایا تھا آپ نے مجھے آپ نے نہیں بتایا مجھے اس معاملے میں ہارون بیگ بھی شامل ہے
آپ نہایت مطلبی انسان ہیں ۔۔۔
وہ فائل آپ تک پہنچ گئ ہے لیکن میں یہاں بہزاد کی خوراک نہیں بنوں گی
تو بہتر ہو گا مجھے یہاں سے نکالیں اور اگر آپ یہ نہیں کریں گے تو میں خود جا رہی ہوں “
تم جلد بازی میں اپنا نقصان کرو گی تم جانتی نہیں ہوں اسے وہ جان گیا کہ یہ سب ہماری پلینگ تھی اس فائل تک پہنچنے کے لیے تو وہ تمھیں زمین میں گاڑ دے گا ” وہ تقریبا ایک ایک لفظ چبا چبا کر بولا
روح نے سر جھٹکا اسنے غصے سے فون بند کر دیا
جبکہ وہ مڑی شک تھا اسکے اردگرد کوئی نہیں تھا
یہاں رکنے کا مقصد نہیں تھا فلحال اسے شجر عباس پر شدید غصہ تھا اور وہ رات کے اس پہر دروازے تک پہنچی اور دروازہ کھولتی کہ کسی نے چابی اسکے قدموں میں پھینک دی
یہ اس سے کھلے گا لاک ہے ” سپاٹ آواز پر وہ مڑی
اور ایسا لگا قدموں تلے زمین کھسک گئ ہو
یوں لگا روح واقعی فنا ہو گئ ہو
وہ سینے پر بازو باندھے کھڑا تھا
روح ” وہ مسکرایا
روح کے الفاظ حلق میں ہی اٹک گئے اسکے ڈیمپلز دیکھ رہے تھے
ہممممممم لانگ پلانگ آئی لائیک ایٹ ” وہ پھر مسکرایا اور بالوں میں ہاتھ پھیرا
فلحال وہ چوک گیا تھا جس کا ملال شعلہ بن کر اسکی آنکھوں میں ناچ رہا تھا ۔۔۔۔
ایسا شعلہ جو کسی کو بھی جلا کر راکھ کر دیتا جبکہ روح دروازے کو جکڑ کر کھڑی ہو گئ
اور اچانک وہ جھکی اسنے اپنے بوٹ سے گن نکالی اور بہزاد پر تان دی
مسٹر بہزاد علی شاہ ۔۔۔۔
اگر مجھے نقصان پہنچانے کی کوشش بھی کی تو ائی سیور میرے ہاتھ سے مرو گے “
وہ اتھری ہوئی واقعی لگ رہی تھی بہزاد ایکدم مسکرا کر ہاتھ اٹھا گیا
آہ ۔۔۔ میں ڈر گیا ” وہ بولا جبکہ روح کے ہاتھوں کی مضبوطی گن پر بتا رہی تھی کہ وہ اچھی خاصی ٹرینڈ ہے
ہممم تو شروعات سے تم شروع کرو گی یہ میں بتانا شروع کروں کہ میں کیا سمجھا “
ضرورت نہیں ہے کیونکہ میں جانتی ہوں کہ اس حادثے کے بعد اپکا پہلا شک میں ہی ہوں اور بنتا بھی ہے ” وہ شانے اچکا گئ
بہزاد اسے سنجیدگی سے دیکھنے لگا
چلیں شروعات میں کرتی ہوں ۔۔۔۔ اسنے گن نیچے کی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
روح کو جس دن شجر عباس اپنے ساتھ لایا تھا اسی دن یہ آگاہی دے دی تھی کہ وہ بہزاد علی شاہ کی بیوی یے
اور روح کو بھی یاد تھا کہیں نہ کہیں لیکن وہ اتنا بیمار رہتی تھی کہ زیادہ کچھ یہ اس شخص کی شکل یاد نہیں تھی
شجر عباس نے اسے بہزاد کی ساری بائیو دیکھائی لیکن اس انکھ سے جس آنکھ سے آج تک ہارون شجر کو دیکھاتا آیا تھا
وہ ہی طریقہ اپناتے شجر نے روح کو وہ سب بتایا اور دیکھایا تو روح نے اسکا ساتھ دینے کی ٹھان لی اور شجر مسکرا دیا
لیکن ان دونوں کے بیچ بہزاد کے علاوہ کوئی بات نہیں ہوئی تھی نہ روح یہ جانتی تھی کہ شجر کا تعلق ہارون بیگ سے بھی ہے اور اسکی ماں انیسا سے بھی ۔۔۔۔
دنیا میں اگر اسنے کسی سے نفرت کی تھی تو وہ انیسا سے کی تھی
شجر نے اسے آٹھ ماہ ٹریننگ دی ۔۔۔۔
اور ان آٹھ ماہ میں وہ سیلف ڈینش سیکھ گئ تھی لیکن اسکا ان ہیلر بار بار ثابت کرتا تھا وہ ایک کمزور لڑکی ہی ہے بلاخر اور وہ کمزور تھی
وہ صرف شجر کا ساتھ دے رہی تھی اپنے ملک کے ان معصوم لوگوں کی حفاظت کے لیے ۔۔۔۔
جو کہ بہزاد علی شاہ مار دیتا تھا اور شجر نے اسے بتایا تھا اسکے علاوہ کوئی بھی یہ کام نہیں کر سکتا کیونکہ بہزاد کسی کے رام میں نہیں پھنسے گا اور روح کے قابو میں وہ اسکے نام سے ہی ا جائے گا
شروع دن سے ان دونوں نے یہ فیصلہ کیا تھا کہ وہ یہ بات نہیں چھپائیں گے کہ اسے شجر نے کس مقصد کے لیے بھیجا ہے تاکہ بہزاد حقیقت کیطرف نہ دیکھ سکے
اور شجر کے مطابق مرد ہمیشہ مظبوط عورت کی نسبت کمزور عورت پر اپیل جلدی کرتا ہے تبھی روح کی کمزوری کو بے حد کمزور بنا دیا تھا
اسپر بار بار اٹیک شجر عباس خود کراتا تھا اور اس باغ کی خبر روح کو بھی تھی تاکہ وہ الجھا رہے کہ روح کا کوئی دشمن بھی ہے
روح کی بے توجہگی روح کی لاپرواہی بہزاد علی شاہ کو اپیل کرتی چلی گئی اور انکے پلین کے مطابق وہ اسے گھر میں لے بھی آیا
اور گھر کے ساتھ ساتھ اپنے کمرے میں ۔۔۔۔۔
اور اسی کمرے میں سے روح کا ٹارگٹ وہ سرخ فائل تھی جسے حاصل کر کے اسنے شجر تک پہنچایا اور جان بوجھ کر بہزاد کو
لے کر گئ تھی وہ کراچی ۔۔۔۔ وہاں سے شجر کے کہنے پر اسے سرد خانے میں قید کیا گیا تاکہ بہزاد گھر سے نکلے
بہزاد روح کو بچانے نکلا اور شجر جس نے یہ بات روح کو بھی نہیں بتائی تھی وہ مہروز کو مارنے پہنچ گیا
اور اس سرخ فائل کے آتے ہی انھوں نے کوٹ میں انیسا کو بے قصور اور بہزاد علی شاہ کو غدار کا بیٹا ثابت کر دیا جس کے وجہ سے شجر عباس کو مکمل اتھرٹی دے دی گئ کہ وہ بہزاد کو مار دے
کیونکہ انیسا پر جانی حملوں اور ہر چیز کو شجر نے کوٹ کے آگے رکھ دیا تھا
جہاں سے بہزاد کے ڈیتھ وارنٹ وہ لے چکا تھا
اور یہ ساری پلینگ ہارون کے سامنے جس وقت شجر نے رکھی تو وہ اسے داد دیے بنا نہ رہ سکا اور پہلی بار اس کو اٹھ کر گلے لگایا لیکن ساتھ وہ اسے کہہ چکا تھا کہ روح کو اسکی ماں کو دے دیا جائے اب مزید اسے بہزاد کے پاس نہ رکھا جائے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔