Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 16

اسنے نقاہت سے آنکھیں کھولیں ان دنوں اسکی طبعیت اچھی خاصی ناساز رہتی تھی اور ناسازی کی وجہ کم خوارک اور علاج کی کمی تھی وہ سامنے دیکھنے لگی
فوجی یونیفارم میں کافی خوبصورت مرد اسکے سامنے کھڑا تھا اسنے ذرا گھبرا کر اردگرد دیکھا لیکن وہاں کوئی بھی نہیں تھا سوائے اس مرد کے وہ ذرا گھبرا کر سیدھی ہو گئ
ٹیک ایٹ ایزی روح ” وہ ہلکا سا مسکرائے اور اسکے بیڈ کے پاس چئیر رکھ کر بیٹھ گیا
کیسی ہو تم ” وہ اسکے پاس کچھ سامان کھانے پینے کا رکھتے بولے
روح نہ انھیں جانتی تھی نہ ہی انکے ساتھ کمفرٹیبل ہو رہی تھی وہ ڈر رہی تھی ۔۔
تم ڈرو مت مجھ سے میں صرف تم سے ملنے آیا ہوں
تمھاری ماں کو جانتا ہوں یوں سمجھو انھوں نے ہی بھیجا ہے ” وہ مسکرایا اسکے سر پر ہاتھ رکھا
ماں” روح کی انکھوں میں غصہ سا اترا اور ہاتھ جھٹک دیا ۔۔
شاید سامنے والا سمجھ سکتا تھا تبھی اسکے رویے پر کچھ بولے بنا ہی سر ہلا گئے ۔
تم اس سے نفرت کرتی ہو “
حد سے زیادہ ” وہ دانت پیس کر بولی
اچھا ریلکس ہو جاؤ میں نے سنا ہے تمھاری طبعیت نہیں ٹھیک” وہ بولے تو روح سر جھٹک گئ
میں شاید بہت جلد مر جاؤ م ۔۔ لیکن مجھے میری ماں سے منسلک کسی شخص سے نہیں ملنا جائیں اپ ” اسنے وہ سامان بھی پھینک دیا
سامنے کھڑے شخص نے اسے غور سے دیکھا اور پھر سے اسکے سر پر ہاتھ رکھ کر وہ وہاں سے چلے گئے
یہ اسکی علی شاہ سے پہلی ملاقات تھی اچانک وہ ذرا خواب سے جاگی اور سامنے دیکھنے لگی
کچھ ماضی کو سوچتے ہوئے وقت گزر گیا تھا کافی اسنے اٹھ کر کمرے کی لائٹس اون کیں
اسکی پیشانی پر بل تھے
یہ کچھ الجھی ہوئ سی گتھی تھی وہ کچھ دیر یوں ہی بیٹھی رہی اور پھر اچانک دروازہ بجا اسنے دروازے کی سمت دیکھا
میم سر کے آرڈرز ہیں اپ ریڈی ہو جائیں
انھوں نے کچھ لوگوں سے ملنے جانا ہے اور آپ کو تیار ہونے کا کہا ہے”
صبح تک تو مجھے میری عقل کے مطابق معلومات مل رہی تھی” وہ ذرا دانت پیس کر بولی
سوری میم مجھے اتنے ہی آرڈرز ہیں “
ہمممم اگر اس آدمی سے میرا کام نہ ہوتا تو میری جوتی مانتی اسکی بات ” وہ غصے سے اٹھی اور کپڑے تبدیل کرنے چلی گئ
جینزی کچھ دیر وہیں کھڑی رہی اور کچھ ہی دیر میں وہ باہر ائ
بلیک جینز اور بلیک شرٹ پر ریڈ جیکٹ پہنے وہ اپنے بالوں کو سیدھا کر کے سرخ لیسٹک لگا کر بلیک ہیلز پہن کر وہ بڑی مورنی سی چال چلتی باہر نکلی اور بہزاد بھی اسی وقت اندر داخل ہو رہا تھا بہزاد نے اسے اوپر سے نیچے تک دیکھا
کمال ہی تھی کسی کو بھی اسکی جگہ سے ہلا دیتی ۔۔
وہ ذرا نکھرا دیکھاتی ہوئی سینے پر ہاتھ باندھ گئ
بہزاد نے اسکے سامنے گن میں گولیاں ڈالیں اور وہ گن روح کیطرف اچھال دی
مجھے تمھاری ٹرینگز دیکھنی ہے افکورس جب تم میرے ساتھ کام کرنا چاہتی ہو تو تمھارے اندر پورے گٹس ہونے چاہیے ۔
تم جاو گی سب سے پہلے ” وہ اسے انگلی کے اشارے سے باہر آنے کا کہہ کر باہر نکل گیا
روح نے سانس حلق میں اتارا وہ اس سے کسی کو مر نہ دے وہ بہزاد کو ہی مار دے گی دنیا میں سے گندگی ختم چلو سکون ا جائے گا
وہ اسکے پیچھے چلنے لگی اور اسکے قدموں سے قدم ملا گئ بہزاد اسکی ٹک ٹک سن سکتا تھا ۔
وہ اپنی ڈیمپل کو چھپائے گاڑی پر سوار ہوا اور انکی گاڑیاں آگے پیچھے نکلیں تھیں
وہ جب تک گاڑی میں رہا مہروز کو کچھ نہ کچھ سمجھاتا رہا اور جب وہ اس جگہ پر پہنچے تو تقریبا اندھیرا تھا روح ایکدم بہزاد کا بازو پکڑ گئ ۔
بہزاد نے روح کے ہاتھوں کو دیکھا
نہیں میں ڈر نہیں رہی مجھے بس اندھیرے میں نظر نہیں آتا ورنہ گولیاں تو میں چلا لیتی ہوں فکر نہ کریں “
وہ اٹکتی اٹکتی بولی جبکہ بہزاد یوں ہی آگے بڑھنے لگا اچانک ہمارے آدمی چیونٹیوں کیطرح چارو سمت پھیل گئے اور بس یہ دیکھتے ہی روح شیرنی ہو گئ ۔
اسنے ہاتھ جھاڑ اور ایکساٹیڈ سی بہزاد کو دیکھنے لگی
جاؤ اندر ” بہزاد نے کہا روح نے اسکی جانب دیکھا
میں میں نہیں مارنا چاہتی ابھی” ۔
روح مچل کر پلٹی اور مہروز اسکے سامنے ا گیا
یہاں ہمارے گارڈز سے زیادہ بندہ ہے دو منٹ میں ہمیں بھون کر کھا جائے گے ذرا سٹائل مارو ریم واک کرتی ہوئی اندر جاؤ ۔
اور انھیں ذرا اپنے جال میں پھنساو ہمیں اس اوپری کمرے تک جانا ہے ” مہروز بولی جبکہ روح کو اپنے آنے کا مقصد سمجھ ا گیا
وہ افسوس سے سر ہلانے لگی
میڈیم بعد میں افسوس کرنا ابھی نکلو پہنچو اندر ” مہروز نے اسے دھکیلا
نہیں کر سکتی ۔۔ کسی اور کو لے کر اتے ” بہزاد گاڑی سے ٹیک لگا کر اسپر جیسے جلتی تلی گیرہ گیا
مجھ سے بیسٹ ایکٹنگ کوئی نہیں کر سکتا ائ پرو مائے سیلف ” ۔
سانس مت بھول جانا ” بہزاد کی خری جملے سے ٹپ چڑھائے وہ آگے بڑھی اور بڑی ہرنی سی چال چلتی اندر داخل ہو گئ
اندر اسکی سوچ اور توقع سے زیادہ لوگ تھے
وہ لیکن اپنے کنفیڈنس کو بحال کرتی فائل جو یہاں سے اٹھانی تھی اسے دیکھانے لگی ۔
اب روح اندر تھی جبکہ اسکے پاس گن بھی تھی جو بہزاد نے دی تھی اور دوسری طرف سے جیسے ہی انکا دھیان ہٹا بہزاد اور مہروز اوپر چڑھنے لگے
کیا تمھیں لگتا ہے وہ سنبھال لے گی ” مہروز کو فکر ہوئی
کچھ تو سیکھاہا ہی ہو گا شجر نے تم ٹارگٹ پر دھیان دو گو ہیڈ ” وہ اسے آگے بڑھنے کا کہنے لگا جبکہ روح اندر کون سا جلسہ کر رہی تھی معلوم نہیں تھا
بہزاد چند لمہے اسے دیکھتا رہا
وہ اپنے ٹارگٹ تک سہولت سے پہنچ گئے تھے مہروز نے اسے گرین سگنل دیکھایا اور بہزاد علی شاہ اندر گھس گیا ۔
اسنے بلکل اسی طریقے سامنا کچھ دیکھے تین گولیاں اسکے ماتھے میں اتاریں اور اس بچی کو اٹھا لیا ۔
جس کے لیے مجبوری وہ یہاں آیا تھا ورنہ مبین خان سے تو سخت جھگڑا چل رہا تھا جب سے اسکے گھر پر شجر نے ریڈ ڈالی تھی وہ بچی خوفزدہ تھی
بہزاد نے اس بچی کی ناک پر رومال رکھا اور مہروز نے اسے بازوں میں اٹھا لیا ۔
گولیاں بنا آواز کے لگیں تھیں تبھی نیچے سے کوئی اوپر نہیں آیا تھا وہ لوگ نیچے اترے اور مہروز نے روح کو اشارہ کیا ۔۔
اسکے کان میں لگی بلوٹوتھ پر سگنل دیا تھا اسے باہر نکلنے کہا۔۔۔
اوکے غائز اب میں چلتی ہوں ” وہ بولی اور بال جھٹکتی نکلنے لگی
کہاں ” ایک آدمی نے اسے پکڑا
ارے ہٹو بس میرے پاس تنا ہی ٹائم تھا ” وہ بولی جبکہ وہاں سب مرد کھڑے ہو گئے
روح پریشان سٹیپ پلٹتی لیکن اسکے گرد گھیرہ بنا لیا تھا ان لوگوں نے ۔۔۔۔
نکلو یہاں سے ” بہزاد نے سب کو آرڈرز دیے
روح نہیں آئی یار ” مہروز پریشانی سے بولا
ا جائے گی شجر عباس کے سکیلز چیک کرنے دو مجھے ” وہ کہہ کر خود بھی گاڑی گھما گیا
ب۔۔۔۔بہزاد ” کانپتے لہجے میں اسکی آواز اسکے کان سے ٹکرائی تھی غصے سے اسنے گاڑی روکی سٹرلنگ پر مکہ دے کر مارا
باقی سب کی گاڑیاں نکلی چکی تھیں وہ پلٹا
کہاں چلی محترمہ ” وہ مزے سے اسکے نزدیک ہونے لگے تھے
میں ۔۔۔ میں تم لوگوں کو شوٹ کر دو۔۔دوں گی ” وہ کانپ سی گئ تھی وہ پیچھے قدم لینا چاہتی تھی
کر نہ دل پر مار ” ان میں سے ایک نے کہا اور روح کی جیکٹ کھینچی
ہٹ ہٹو ” روح کی سانسیں اکھاڑنے لگی
اور اچانک اس حال میں تیز فائرنگ ہوئی تو سب مڑے تھے وہ تنہا تھا ان سب کے سامنے ۔۔۔
وہ بہزاد کو دیکھ رہی تھی سر چکرانے لگا تھا
ان سب نے گنز نکال لیں کچھ اوپر بھاگے کچھ بہزاد پر بندوق تان گئے
اچانک بہزاد نے ایک گیس بم پھینکا اور چارو طرف دھواں پھیلنے لگا سب کھانستے ہوئے ادھر ادھر ہوئے
اور اسنے کھڑی کھڑی مردہ بنی روح کو کھینچا تھا اپنی طرف ۔۔۔
وہ سب کو مار چکے ہیں پکڑو انھیں ” وہ باہر دوڑے ۔
بہزد گاڑی میں سوار ہوا روح بھی جلدی سے بیٹھی اور خود کو ان ہیل کیا
بہزاد نے گاڑی گھمائی اور ابھی وہ بھگاتا کہ اسکی گاڑی کے ٹائرز پر فائرنگ کی تھی ان لوگوں نے ۔۔۔
گاڑی کے ٹائر پھٹنے اور وہ باہر نکلے
بھاگو جاؤ ” اسنے اسے گھنے جنگل میں اترنے کا کہا
ن۔۔۔نہیں جنگل جنگل میں جانور ہوتے ہیں “
یو میڈ ایڈیٹر یہ مار دیں گے ” وہ دھاڑا روح روتی ہوئی جنگل میں اتری اور بہزاد نے فائرنگ شروع کر دی
وہ فائرنگ کر رہا تھا روح ایک درخت کے پیچھے چھپ گئ
وہ کانپ رہی تھی وہ یہ سب کرنے کی اہل نہیں تھی کہ وہ اتنی گولیوں کی اواز سن بھی سکے وہ کانوں پر ہاتھ رکھے وہیں بیٹھ گئ
اور کچھ دیر بعد بہزاد علی شاہ کے کودنے کی آواز پتوں پر محسوس ہوئی
روح ” ہلکی آواز میں وہ بولا تھا لیکن روح تو وہیں تھی ۔
روح ” وہ پھر بولا ۔
ب۔۔۔بہزاد ” وہ کانپتے لہجے میں اسکی جانب ہاتھ بڑھا گئ
روح کہاں ہو تم ” وہ پھر بولا آواز مدھم تھی
یہاں اترے ہیں وہ دونوں “
اسکے کان کھڑے ہوئے اب وہ اس اندھیرے میں روح کو کہاں ڈھونڈے اسنے مٹھیاں بھینچ لیں وہ پلٹا
اور روح کع سامنے درخت کے پاس ہاتھ بڑھائے دیکھ وہ ذرا تھاما تھا وہ کسی مظلوم بچے کیطرح بیٹھی تھی بے بس لاچار وہ آگے بڑھا اور اسکو بانہوں میں اچک لیا وہ اسکے سینے سے لگ گئ
اسے لے کر بھاگنا اسکے لیے نا ممکن تھا
معلوم نہیں کہاں پھنس گیا تھا وہ انکے پیچھے تیزی سے قدم بڑھا رہے تھے وہ جانتا تھا وہ جتنا بھاگے گا اتنا پکڑا جائے گا اسے رکنا ہی تھا کیونکہ اب اسکے پاس ہتھیار بھی کوئی دوسرا نہیں تھا
وہ دوسری سمت درختوں اور جھاڑیوں کی اوٹ میں ہو گیا
صبح ہونے کا انتظار کرو وہ یہاں سے کہیں نہیں جا سکتے ” وہ بولے
نہیں چھوٹے مالک کا حکم ہے کہ بہزاد علی شاہ کو پکڑو ” دوسرا بولا روح اسکے سینے سے چپکی اسکی گود میں بیٹھی تھی ۔۔جبکہ دونوں انکی گفتگو سن رہے تھے
لیکن اس اندھیرے میں کیسے ڈھونڈیں گے ہم ان لوگوں کو ایسا کرتے ہیں چارو اطراف سے گھیر لیتے ہیں ان دونوں کو یا تو یہ رات رات میں ہی کسی جانور کا کھانا بن جائیں گے یہ پھر صبح یہ ہمارے ہاتھوں مریں گے “
شاید ان سب کا اکتفا ہو گیا تھا اس بات پر ۔۔۔۔
تبھی انکے قدم پلٹے اور وہ لوگ شاید اس خوفناک جنگل سے باہر نکل گئے تھے بہزاد نے سکھ کا سانس لیا ۔
جبکہ روح اب بھی چپکی ہوئی تھی اسکے سینے سے جبکہ اسکے بازو پر چوٹ لگی تھی روح ” اسنے اسے دور کرنا چاہا ۔
نہیں میں “
وہ جا چکے ہیں ” وہ اہستگی سے بولا ۔
روح نے آنکھیں کھولیں
اب اب ہم کیا کریں گے کیا فائدہ اپکے مافیا ہونے کا آپ دبک کر بیٹھیں ہیں ” وہ اسکے بازو پر تھپڑ مار گئ
اہ” بہزاد نے اپنا بازو پکڑا
اپکو چوٹ لگی ہے ” وہ ایکدم سیدھی ہوئی اور اسکا بازو پکڑا
نہیں میں جنت میں ہوں تمھارے ساتھ بہت مزاہ ا رہا ہے ” وہ چیڑ کر بولا ذرا جو وہ اسکی گود سے ہل بھی رہی ہو اسنے اپنی ٹانگیں پھیلائیں اور پتوں کی آواز سی ابھری روح نے ہونٹوں پر انگلی رکھ کر اسے شور کرنے سے روکا جبکہ بہزاد اسے اگنور کر کے اپنی شرٹ کر بٹن کھولنے لگا
روح اسکے چوڑے سینے کو دیکھنے لگی اور ایکدم اسکی شرٹ پکڑ لی
آپ اپ میرے سامنے شرٹ کیسے اتار سکتے ہیں کتنی بدتمیزی ہے یہ” وہ بھڑکی تھی
روح میرے بازو پر چوٹ لگی ہے کیا تم دیکھنے دو گی پہلے ہی میرے سینے پر بیٹھی ہو اب زبان بند کر لینا ورنہ مجھے بخوبی آتا ہے تمھارا منہ بند کرانا ” وہ دانت پیس کر بولا جبکہ روح ناخن دانتوں میں دبا گئ
میں تو ” وہ گھورنے لگا جبکہ وہ چپ ہو گئ بہزاد سے ذرا فاصلے پر ہوئی بہزاد نے شرٹ اتار دی
ایکدم ہی اسنے شرٹ اتاری روح آنکھیں کھولے اسکے چوڑے سینے اور مظبوط بازوں کو دیکھنے لگی
بہزاد کی توجہ البتہ اسپر نہیں تھی اسنے اپنا زخم دیکھا اسے گھیری چوٹ لگی تھی جس میں سے خون بھی کافی تیزی سے نکل رہا تھا
یا اللّٰہ ” وہ ایکدم اسکا بازو پکڑ گئ
چوٹ لگ گئ پہلے بتا دیتے اب کیا کریں اپکو ہاسپٹل جانا چاہیے بہزاد “
روح شیٹ یور ماؤتھ فور ون سیکنڈ ” وہ سختی سے گھورتا اسے جھڑک گیا اور روح منہ بنا کر خاموش ہو گئ جبکہ بہزاد نے مٹی اپنے بازو پر مل لی
روح آنکھیں پھاڑے دیکھنے لگی
کچھ ہی دیر میں خون رکا اور اسنے شرٹ بازو پر باندھ لی اور گھیرہ سانس بھر کر اسکی جانب دیکھ جو اسی کیطرف سانس روکے دیکھ رہی تھی ۔
اسکی سرد سانس پر بہزاد کا ڈیمپل نمایاں ہوا اور پھر غائب ہو گیا
اٹھو ” وہ بولا
کہاں ” وہ نا سمجھی سے اسے دیکھنے لگی
تم میری گود میں بیٹھی ہو اب اٹھ جاو ہمیں یہاں سے جانا ہے ” وہ زیچ ہوتا بولا
ہاں تو سیدھا سیدھا کہیں کہ روح گھر چلنا ہے “
بس سنا رہے ہیں یوں سمجھتے ہیں جیسے ساری عقل تو آپکے پاس ہے سہی سے مافیا کا کام بھی آتا نہیں ہے بندہ چھ سات چلو کم ہیں دس بارہ گنز اپنے ساتھ رکھے ایک گن لے کر گھومتے منہ بند کرو اپنا اور سامنے دیکھو ” اسنے اسکا ہاتھ پکڑ کر پیچھے کھینچا ورنہ وہ درخت میں جا کر بجتی “
اوہ تھینکس ” وہ مسکرائی اور اسکے ساتھ چلنے لگی
دونوں درختوں اور جھاڑیوں کو ہٹاتے آگے بڑھ رہے تھے
بہزاد ” وہ تو سوالوں کی دوکان تھی ۔
وہ کچھ نہیں بولے رہا تھا ۔۔
بہزاد یہاں جانور بھی ہیں “
ہمم ہیں کیا یہاں خرگوش ہیں ” وہ کافی پرجوش دیکھ رہی تھی
رات میں نہیں دیکھیں گے ” وہ سنجیدگی سے بولا ۔
کیوں ” وہ اداسی سے بولی
وہ اپنی ماں کے پاس ہوں گے سو رہے ہوں گے ” وہ ادھر ادھر دیکھتا بولا
ہممم ماں کے پاس کتنے خوش نصیب ہوتے ہیں جانور انکے ماں باپ انکے ساتھ ہوتے ہیں ” وہ کچھ حسرت سے بولی بہزاد نے اسکی سمت دیکھا
تم اپنے شوہر سے کہنا وہ تمھارے بچوں سے بہت محبت کرے گا ” وہ بولا جبکہ روح تو ایسے شرمائی کہ بہزاد ائ برو اچکا گیا
ہاں میں بہت سارے بچے کروں گی اور انھیں یتیم خانے نہیں دوں گی ” وہ مزے سے بولی بہزاد نے اسکی جانب دیکھا
کیا لائف تھی تمھاری وہاں ” اسنے ویسے ہی پوچھ لیا
لائف ۔۔ لائف تو مجھے شجر نے دی ہے ۔ ۔ سب چیز جو میں نے مانگی مگر غصہ بھی کرتے ہیں
خیر وہاں ۔۔ وہاں میں زیادہ تر بیمار رہتی تھی بہت سارا بیمار سب کہتے تھے مر جاؤں گی
اور بہت بار ایسا ہوا مرنے کے قریب پہنچ گئ
لیکن پٹاخ سے موت کو چھو کر واپس ا گئ ایسی ہوں بس پھر میں تو ” وہ ہنسنے لگی بہزاد بھی ہنس دیا اور سر ہلانے لگا
تمھیں کیا کچھ یاد ہے ” وہ روڈ پر نکل آئے تھے
ہاں سب کچھ یاد ہے
۔۔ مجھے لیکن بتایا نہ کہ میں بیمار رہتی تھی “
تو تمھارے فادر کیا کرتے تھے” ۔
بہزاد نے اسکی عقل پر توبہ کر لی کہ اسے یاد سب تھا لیکن ایک بات یاد نہیں تھی یہ شاید یاد ہو بتانا نہیں چاہ رہی تھی ۔
روح نے ایکدم اسکی جانب دیکھا
میرے بابا ” وہ حیران ہوئی آج تک کسی نے پوچھا ہی نہیں تھا اسکے بابا کے بارے میں ۔۔
ہاں ” بہزاد دیوار سے ٹیک لگا گیا جبکہ روح اسکے سامنے کھڑی تھی
میرے بابا انڈین تھے میں بھی انڈین ہوں ” وہ مسکرائی بہزاد نے چونک کر اسکیطرف دیکھا
میرے بابا نہ انڈین آرمی میں تھے اور میری ماما بھی انڈین آرمی میں ڈاکٹر ہم بہت خوش تھے ” وہ سرد سانس کھینچ گئ
بہزاد کی آنکھوں میں سوالات کا بچھار سہ تھا ۔
تم یہاں” ؟؟؟؟؟
ہارون بیگ ۔۔۔ ” اسے جیسے کچھ یاد آیا۔۔ اسکی سانسیں عجیب سی ہونے لگی
سانسوں کی بے ہنگامی ہوتے ہی اسکی آنکھیں سرخ ہو گئیں
اور وہ اپنا ان ہیلر ڈھونڈنے لگی جو کہ اسکے پاس نہیں تھا بہزاد نے اسکی جانب ان ہیلر بڑھا دیا اور روح نے جلدی سے ان ہیلر لبوں سے لگایا
جبکہ سامنے والا اسطرح بے چین ہو گیا تھا گویا ۔۔ بے چینی اسکے انگ انگ سے واضح تھی
ہارون بیگ کون ” وہ لاعلمی کا اظہار کرنے لگا
روح نے سرخ آنکھیں اسپر گاڑھ دیں
وہ اچھا آدمی نہیں تھا ۔۔” وہ کانپنے لگی ۔۔۔
جبکہ بار بار اسکی سانسیں پھولنے رہی تھیں
بہزاد اسکے نزدیک آیا اور اسکا چہرہ دونوں ہاتھوں میں تھام لیا
ریلکس ” وہ پیار سے بولا
وہ واقعی اچھا آدمی نہیں تھا اسنے ۔۔۔ اسنے مجھے ” وہ سسک اٹھی بہزاد شاکڈ تھا اتنا حیران کہ وہ اسے بانہوں میں بھر گیا وہ اسکے سینے سے لگی بڑی طرح رو دی
اسنے مزید سوال نہیں کیے کانپتے ہاتھوں سے ان ہیلر جو لبوں سے لگا رہا تھا اب اسے سمھجہ ا گئ تھی اسکو مارنا کون چاہتا تھا
وہ جانتا نہیں تھا کہ کیوں لیکن اسے اندازہ ہو رہا تھا کہ شجر بھی صرف اسے استعمال کر رہا تھا اسکے چہرے کا غصہ اور آنکھوں میں شعلے تھے ۔
اور وہ اسکے سینے سے تادیر لگی رہی اور جب شاید دل ہلکا ہوا تو وہ الگ ہوئی ۔۔ اور کچھ جھجھک گئ
آپ ننگے ہیں جن بھی چپک سکتے ہیں ” اسنے ذرا منہ بنا کر کہا بہزاد اپنی پیشانی پیٹ لیتا
میرا بازو زخمی ہے روح
تو کپڑے اتارنے کا مقصد ” وہ بھڑکی
کپڑے پہن لوں تو پھر سے سینے سے لگ جاؤ گی ” وہ ائ برو اچکا گیا
جبکہ روح نے اسے ہیل دیکھائی تھی اپنی بہزاد لب دبا گیا
مار بھی دوں گی سر پر آئے بڑے ” وہ آگے چلنے لگی جبکہ بہزاد کی پر سوچ نگاہوں نے اسے دیکھا تھا
نہ سمجھی اسکی آنکھوں میں تھی
معلوم نہیں کیوں اسکا دل اپنی زندگی میں ملنے والی ہزار لڑکیوں پر بھی نہ آیا اور ایک کم عقل بیوقوف جھلی سی لڑکی پر آنے لگا تھا ممکن تھا رشتے کا احساس اسے روح کی جان کھینچتا تھا ۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔