Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 35

اگلا صبح کافی دیر سے ہوئی تھی وہ دونوں ہی دنیا سے بے خبر ایک دوسرے کے بازوں میں گھیری نیند میں تھے ۔
موسم نے بھی تھوڑی نرمی دیکھائی تو موسم کچھ خوشگوار ہو گیا تھا تبھی گرمی کا احساس بھی کم ہو گیا تھا
روح کو خود پر بوجھ سا محسوس ہوا تو وہ کسمسائی اور ہلنے کی کوشش کرنے لگی لیکن وہ اپنی جگہ سے انچ بھی ہل نہیں سکا اسنے بشکل آنکھیں کھول کر دیکھا تو بہزاد نے اسے خود میں اسے بھینچا ہوا تھا جیسے وہ کہیں بھاگ جائے گی اسکا بھاری ہاتھ اسکی کمر پر کسا ہوا تھا جبکہ ایک ٹانگ بھی اسپر تھی
آآ۔۔: وہ رونے والی ہوئی کہ لاکھ کوشش کی اسنے وجود وہ اس سے خود کو آزاد نہیں کرا پا رہی تھی اسکے منہ بسورنے پر اور بچوں کیطرح چیڑ کر آواز نکالنے پر بہزاد جاگ گیا اسنے سر اٹھا کر دیکھا
آپ بہت بھاری ہیں ” وہ بولی جبکہ بہزاد دور ہو گیا اسنے اپنی گھڑی کو ایک نظر دیکھا بارہ بج رہے تھے وہ اتنا گھیرہ اور اتنے اچھے سے کیسے سو گیا
کیا اسے کوئی کام نہیں تھا جو وہ اسکے پہلو میں پڑا رہا روح البتہ اٹھ چکی تھی وہ منہ بنائے بیٹھی تھی بال بکھرے بکھرے سے تھے جبکہ بہزاد ایک جست لگا کر کھڑا ہوا اسنے انگڑائی لی اور اپنا بازو سیدھا کیا کیونکہ اسکا سر رکھنے کی وجہ سے بازو سن ہو گیا تھا
ہم ناشتہ باہر کریں گئے مجھے بہت بھوک ہے ” وہ اٹھی اور ادھر ادھر واشروم تلاش کرنے لگی
اپنے گھر جاؤ “
ہاں ” وہ آنکھیں کھول کر اسے دیکھنے لگی
ہاں اپنے گھر جاؤ میرے سر پر سوار ہونے کی ضرورت نہیں ” اسنے کہا تو روح شرمندہ سی ہوئی ٹھیک ہے میں چلی جاتی ہوں اپ سے برداشت ہی نہیں ہو رہی میں ۔۔ میں ہاں میں جاو گی کسی اور کے پاس “
کیا ” اسکی بکواس پت وہ موڑا ائ برو اچکا کر اسے دیکھنے لگا
ہاں جا رہی ہوں” وہ اپنے بل سیدھے کرتی اس چوبارے سے نکلنے لگی
کہ بہزاد نے اسے کھینچ لیا
تم چاہتی ہو تمھاری ٹانگیں توڑ دوں ” وہ بولا جبکہ روح پورے دانت دیکھاتی سر ہلانے لگی
آہ کہاں پھنس گیا میں “
جاؤ فریش ہو ” وہ اسے دور کرتا بولا جبکہ روح اچھے بچوں کیطرح سر ہلا کر واشروم میں گھس گئ اور بہزاد اس بند دروازے کو دیکھنے لگا اسکے مزاج کو تو بہت برا لگا تھا وہ واشروم جبکہ وہ محترمہ خوش تھی
یہ مصیبت اب اسکے سر پر بیٹھ چکی تھی
وہ تادیر ٹیرس میں کھڑا روح کے بارے میں ہی سوچتا رہا یہاں تک کے وہ منہ دھو کر باہر ا گئ تو بہزاد بھی فریش ہونے چلا گیا وہ دونوں کچھ ہی دیر میں بہزاد کے فلیٹ پہنچ گئے تھے جہاں مہروز بھی تھا اور باقی سب بھی ۔
ہائے روح ” مہروز نے بلکل پہلے کی طرح اسکا استقبال کیا تو وہ شرمندہ ہو گئ کہ اسنے ان لوگوں کو دھوکا دیا تھا ۔
وہ مہروز کے پاس بیٹھ گئ ابھی وہ کچھ بات چیت کرتے کہ مہروز کے موبائل پر کال آنے لگی اور اسنے وہ کال پک کر لی
ہاں بولو “
کیا ” وہ ایکدم کھڑا ہو گیا اسنے روح کی جانب بھی دیکھا روح پھر سے کھڑی ہو گئ اسے ڈر لگا مہروز نے جیسے اسے دیکھا تھا کہیں پھر سے اس سے کوئی غلطی تو نہیں ہو گئ اور ایسا ہو جاتا تو ۔۔۔۔
بہزاد اسے جان سے مار دیتا ۔
روح خوفزدہ نگاہوں سے اسے دیکھنے لگی
بہزاد بھی اسکی آواز سن کر ا گیا کیا ہوا ہے ” اسکے سوال پر مہروز نے بہزاد کی جانب دیکھا اور اسکا ہاتھ پکڑ کر اسے سائیڈ پر لے گیا
انیسا ہارون بیگ انتقال کر گئیں ہیں آج جنازہ ہے انکا ” یہ بات بہزاد کے لیے بھی شاکینگ تھی اور جتنا شاکڈ تھا وہ اسے اتنی ہی تکلیف ہوئی اور غصے سے اسنے مہروز کا بازو جکڑا
ایسا کیسے ہو سکتا ہے وہ کیسے مر سکتی ہے ” وہ چلایا
روح مزید ڈر گئ
نہیں اسے صرف میں نے مارنا تھا اسے ” بہزاد جنونی سا ہونے لگا جبکہ مہروز بھی سر تھام گیا
بہزاد کی بے چین روح کو چین اسی دن ملنا تھا جب وہ انیسا کو بھی اسی طرح بے رحمی سے مارتا ۔۔
لیکن اس سے پہلے ہی اسے کوئی مار چکا تھا
روح انجان آنکھیں کھولے انھیں دیکھ رہی تھی بہزاد اور مہروز کی انکھوں میں ملامت تھی ۔۔۔۔۔
جیسے ہاتھ سے کچھ نکل گیا ہو
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ لوگ چلے گئے تھے اسنے گھر کو لاک کر لیا تا کہ وہ نہ جا سکے اور جب بہزاد واپس آئے تو وہ اسے یہیں ملے وہ سارے گھر میں گھوم پھر کر تھک گئ اور ایل سی ڈی اون کر لی
ویسے ہی چینلز سرچ کرتے ایک نیوز چینل پر اسکی نگاہ گئ تو ایکدم ریمورٹ چھوڑ کر وہ کھڑی ہو گئ ۔
وہ اسکی ماں تھی ہاں اسی کی ماں تھی وہ مر گئ ” وہ آنکھیں پھاڑے سکرین کو گھورنے لگی ہارون بیگ اسکے جنازے کو کندھا دے رہا تھا ماہنور اور حمزہ رو رہی تھے اور ایکدم خوفزدہ ہو کر اسنے ایل سی ڈی بند کر دی
اسکے وجود پر عجیب کپکپاتی تھی ہارون بیگ کی خطرناکی پر وہ سمجھ نہیں پا رہی تھی روئے یہ خود کو سنبھالے اسکی آنکھوں سے آنسو گیرنے لگے
اور اسے سارا ماجرا سمجھ آنے لگا انیسا نے یقینا ہارون سے اختلاف کیا تھا جس کے ایوز وہ اپنی جان گنوا بیٹھی
آج وہ مکمل یتیم ہو چکی تھی دنیا میں اسکا بہزاد کے سوا کوئی نہیں تھا وہ چہرے پر ہاتھ رکھتی نیچے بیٹھتی چلی گئ اور اپنی ماں کو یاد کرتی رو دی ۔
تادیر اسنے اسکے غم میں آنسو بھائے تھے تادیر اسکے اوپر ہارون کا خوف کپکپی کی صورت طاری رہا اور اسنے خود کو جیسے خود ہی چھپا لیا ان ہیلر لبوں سے لگائے وہ بار بار اپنی سانسیں ہموار کر رہی تھی کہ اچانک لائٹس بجھ گئیں اور روح کی دل خراش چیخ ابھری۔۔۔
اسنے اردگرد دیکھا کوئی بھی دیکھائی نہیں دیا اسکے اندر اتنی ہمت نہیں تھی وہ اٹھ سکے اسے لگ رہا تھا یہ اندھیرا اسے کھا جائے گا ۔۔۔۔
اچانک اسے کسی کے قدموں کی آہٹ محسوس ہوئ تھی تو اسنے سر موڑا اسے کوئی دیکھائ نہیں دیا
گھیرا اندھیرے تھا کیونکہ وہ فلیٹ کا ہر دروازہ کھڑی بند کر چکی تھی ۔۔۔۔
اچانک کسی نے اسکے بال مٹھیوں جکڑے
روح کی چیخ نکلی اسکے وجود کی کپکپاتی سامنے والا محسوس کر چکا تھا ۔
ک۔۔کون کون ہو تم ” وہ چلا اٹھی اور اسکے بعد اسکی چیخیں پورے فلیٹ میں گونجنے لگیں تھیں
وہ جو بھی تھا اس اندھیرے میں اسے بری طرح مارنے لگا تھپڑ مکے اپنے پاوں سے یہاں تک کے بیلٹ جب اسکے وجود پر پڑی تو اسکا دھان پان سا وجود ادھ موا ہی ہو گیا
وہ جو بھی تھا بے رحمی سے اسکی چیخوں کی پرواہ کیے اسے مار رہا تھا مسلسل ۔۔۔۔۔
یہاں تک کے وہ مدہوش سی ہو گئ اور وہ رک گیا
روح اسے دیکھنا چاہتی تھی لیکن اس اندھیرے میں کوئی دیکھائی نہیں دیا ۔
اسنے فلیش کھولا اور اسکی ایک ویڈیو بنائی
تکلیف بڑھانے کو اسکے پیٹ میں لات ماری جس پر وہ بچوں کیطرح تڑپ اٹھی اسکی سسکیاں فلیٹ میں گونجنے لگیں
مقابل نے ایک کال گھمائی اور بس دو لفظ بولے
سر اپکا کام ہو گیا ہے ” اور کہہ کر اسکے قدموں پیچھے کی جانب اٹھنے لگے
فلیٹ میں روشنی بھی ہو گئ اور روح کو پھر وہاں کوئی دیکھائی بھی نہ دیا
سوائے اسکے رونے کی آواز کے وہاں کچھ نہیں تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مبین خان کی بات چیت سن کر وہ جب واپس آیا تو اسکے پاوں گویا ٹوٹے ہوئے تھے اسے خود پر یقین نہیں ا رہا تھا وہ دس سال تک بیوقوف بنتا رہا اسنے ایک بار بھی یہ نہیں سوچا کہ کہانی کا رخ کچھ اور بھی تو ہو سکتا تھا اسنے گھر جانا تھا لیکن وہ آفس ا گیا اور جب وہ اپنے روم کی جانب بڑھنے لگا تو بے ساختہ ہارون کے کمرے کے باہر قدم رک گئے
اسے پتہ چلا تھا انیسا ہارون مر گئ ہے یہ بات یقینی تھی کہ اسے مارنے والا کوئی اور نہیں ہارون بیگ ہی ہے اور اس عورت نے جو کیا تھا اسکا انجام بہزاد کے ہاتھوں ہونا چاہیے تھا لیکن اسکا انجام ہارون نے ہی کر دیا وہ شاید اپنی بیوی کی تدفین سے فارغ ہو چکا تھا وہ کسی سے فون پر بات کر رہا تھا ۔
اتنا مارنا اسے اسکی چیخوں کی آواز میرے کانوں تک ائے ” وہ بولا تو شجر چونک گیا وہ آگے بڑھتا کہ قدم رک گئے
گڈ اور اسکی ویڈیو بنا کر مجھے سینڈ کر دینا ۔۔۔
اب تو میرا مقصد تمھاری خوبصورتی کو مسل دینا ہے روح اور جب تک میں تمھارے دل میں اپنا خوف نہیں ڈال دوں گا تب تک تمھیں قید نہیں کر پاوں گا ” وہ مسکرایا اسکا بھیانک روپ دیکھ کر شجر کا بس نہیں چلا اسے جان سے یہیں مار دے لیکن روح کی فکر ہوئی تھی سے وہ الٹے قدموں پلٹا تھا اسنے کال گھمائی اور پلوشہ کو ملائی جس نے بہت مشکلوں سے کال اٹھائی ۔
بہزاد ہاسپٹل میں ہے “
نہیں اب پھر اسپر ریڈ پڑوانا چاہتے ہیں ” وہ تڑخ کر بولی
شجر نے کال بند کر دی اور وہ مہروز کے پاس پہنچا تھا دوڑتا ہوا
وہ فلیٹ کے باہر اندھیرے دیکھ کر ایکدم چونکا
اتنا اندھیرا جبکہ باقی سب فلیٹس میں روشنی لگ رہی تھی
اور پھر کھڑکی سے کوئی باہر نکل کر بھاگ گیا شجر کو اپنے دیر سے پہنچنے پر وہ بھکلایا وہ اسکے پیچھے بھاگا
لیکن کوئی فائدہ نہیں تھا وہ جو بھی تھا جا چکا تھا اور دوسری طرف شجر نے دروازہ پیٹ ڈالا مگر اندر سے کوئی بھی جواب نہیں آیا اسے شک ہو گیا کہ اندر گڑ بڑ ہو چکی ہے
جب تادیر دروازہ نہ کھلا تو وہ اسی کھڑکی سے اندر کودا اندر لائٹس جل چکی تھی اور روح زخمی حالت میں زمین میں پڑی لمبے سانس بھر رہی تھی شجر نے تیزی سے اسکے منہ سے ان ہیلر لگا دیا اسکا سانس بحال ہوا ۔
لیکن اسکے انگ انگ میں ٹیسیں اٹھ رہی تھیں
روح تم ٹھیک ہو یہ کیا۔۔۔” شجر کافی پریشان تھا
روح بری طرح رو دی اسکو سمجھ نہیں آیا وہ کیا کرے اور شجر کے گلے لگ کر ہی وہ رو دی
وہ ۔۔ وہ مجھے مار ” وہ اٹکتے اٹکتے بولی
ابھی شجر اسے سنبھالتا ہی کہ دروازے کا لاک کھلا اور پلوشہ بہزاد اور مہروز تینوں ہی دروازے میں کھڑے تھے جبکہ شجر اور روح جس کی حالت غیر ہو رہی تھی بلکل شجر کے اوپر تھی وہ پہلی بار پلوشہ کے دل میں عجیب سے بے چینی اٹھی شجر نے بھکلا کر روح کو چھوڑا
روح ایکطرف لڑھک گئ بہزاد نے آگے قدم بڑھائے
شجر کا گریبان پکڑا اور اسے دور دھکیل دیا
روح ” اسنے روح کا چہرہ پکڑا
اسنے اپنی بھاری آنکھیں کھول کر جس طرح اسے دیکھا بہزاد کو دل مٹھی میں جکڑا گیا
اور روح اسے ایک ایک لفظ بچوں کیطرح بتاتی سسک سسک کر رو دی بہزاد لب دبائے بیٹھا تھا وہ روح سے غافل ہی کیوں ہوا ۔۔۔۔
جبکہ پلوشہ نہ چاہتے ہوئے بھی پلٹ گئ اور مہروز یہ انٹرسٹنگ سا منظر دیکھ کر شانے اچکا کر اپنے کمرے میں چلا گیا
ریلکس ۔۔ ” اسکے چہرے پر مسرخ اور نیلے نشان تھے
اسکے بازو پر بھی بہزاد اسے سمیٹے بیٹھا تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پلوشہ ” وہ اسکا ہاتھ تھام گیا
ہاتھ چھوڑیں میرا ” وہ بھڑکی
تم نے بے کار فلموں کی ہیروئنوں کیطرح انٹری مار دی ہارون نے اسے مارنے کے لیے بندہ بھیجا تھا اور یہ بات مجھے پتہ چل گئ اور میں صرف اسکی ہیلپ کے لیے یہاں آیا ” وہ اسے تفصیل دینے لگا تھا
مجھے آپ پر اعتبار نہیں ” اسکے چہرے پر صاف جیلسی تھی
شجر پھر سے اسکے آگے ا گیا
تم رک کر کبھی بات نہیں سنتی میری اور اعتبار کی جہاں تک بات ہے تو ۔۔ تو مجھے پتہ ہے تمھیں گلی کے کتے پر بھی ہے سوائے میرے “
شکریہ آپ نے سمجھ لی یہ بات ” پلوشہ نے جواب دیا اور آگے چلی گئ
بات سنو میری ” اسنے ایک جھٹکے سے اسکا بازو پیچھے کھینچا اور پلوشہ ایکدم اسکے سینے سے آ لگی
میری بات ساری ٹینشن اور ڈپریشن میں تم نےجھے ایک خوبصورت لمہے اس جیلسی سے دیا ہے دل کو یہ تو اطمینان ہے کہ تم کچھ تو احساس رکھتی ہو میرے لیے “
آپ کے لیے احساس کرنے سے بہتر ہے میں مر جاؤں چھوڑیں مجھے چیپکنے کی ضرورت نہیں ہے ” پلوشہ نے اسے دور کیا اور شجر گھیرہ سانس بھر گیا
پلوشہ روڈ پر چلنے لگی
اب تم میرے ساتھ بیٹھو گی بھی نہیں “
کیوں نہیں بیٹھو گی اور میں کہاں جاؤں گی جو میرے تھے انھیں تو اپ نے مار دیا ” وہ کھا جانے کو تیار تھی
میں نے کسی کو نہیں مارا ” وہ ہر بار یہ ہی جواب دیتا تھا شجر نے سر جھٹک دیا اور وہ گاڑی میں بیٹھ گئ
شجر خوشگوار حیرت سے مسکرایا اور گاڑی اگے بڑھا لی ۔۔۔۔
وہ مسرور سا ہو گیا جبکہ آج کا دن عجیب انکشاف کا دن تھا لیکن اس وقت وہ کچھ سوچنا نہیں چاہتا تھا
کیوں مسکرا رہے ہیں اپ ” پلوشہ کے اچانک بولنے پر شجر نے گردن
موڑی
آ ۔انسان ہوں مسکرا سکتا ہوں کوئی پابندی ہے ” وہ اسکی جانب دیکھتا ائ برو اچکا کر بولا ۔
نہیں مسکرا سکتے ہیں نا محرم کو سینے سے لگا کر آئے ہیں ” وہ بلاخر اپنے اندر اٹھنے والے اس طوفان کو زبان کی نوک پر لے ہی آئی
خدا کو مانو میں صرف مدد کر رہا تھا ” شجر ہڑبڑا کر بولا
سینے سے لگا کر اگر کوئی ٹریٹمنٹ دیا جاتا ہے پھر تو کمال ہے ہاسپٹل بند کر دینے چاہیے ہمیں ” وہ تڑخی جبکہ شجر لب دبا گیا
گناہ آنکھوں کے سامنے تھا اور وہ چاہ کر بھی خود کو ڈیفینڈ نہیں کر پا رہا تھا وہ گاڑی کی سپیڈ بڑھا گیا جبکہ وہ سینے پر بازو باندھے دوسری جانب منہ موڑ گئ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بہزاد نے اسے بستر پر لیٹایا اسکی آہ سی نکلی اسکے چہرے پر پچھتاوا تھا وہ اسے چھوڑ کر ہی کیوں گیا
لیکن روح آنکھیں بند کیے لیٹی ہوئی تھی
اسنے گرم پانی اور کاٹن سے اسکے بظاہر دیکھنے والے نشانوں کو صاف کیے اور انپر مرہم بھی لگایا جبکہ پین کلر کے ساتھ نیند کی گولیاں دے کر اسے تقریبا اس درد سے آزاد کرنا چاہا تھا
روح جلد ہی بلکل خاموش ہو کر نیند میں اتر گئ ورنہ پورے کمرے میں اسکی سسکی کی آواز تھی وہ باہر آیا تو مہروز اپنے لیے کافی بنا رہا تھا
وہ دونوں ہی خاموش تھے بہزاد چئیر گھسیٹ کر کچن میں ہی بیٹھ گیا
اس ہارون کو کتے کی موت مرنا چاہیے یہ ڈیزرو کرتا ہے ہم بس چند معملات کی وجہ سے پھنس گئے ہیں وہ فائل ہم لوگوں تک پہنچ جائے تو ڈر نہیں رہے گا لیکن اب ۔۔ اب ہاتھ بھی بندھے ہیں اور اپنا بدلہ لینے میں بھی کوئی جلد بازی نہیں کر سکتے ” اسنے وہ کپ بہزاد کے سامنے رکھ دیا
کہیں روح اور شجر کا نیا مہرا تو نہیں یہ ۔۔ یہ لڑکی اس سے پہلے بھی اسی حالت میں آئی تھی اور اسکے بعد کیا نکلی تھی
اب پھر کہیں یہ ہم لوگوں کو بیوقوف تو نہیں بنا رہے ” بہزاد کی بات پر مہروز خوش سا ہو گیا
شک ۔۔ شک ہی ہے وہ محبت کو سب سے پہلے ڈستا ہے
تمھیں لگتا ہے ایسا “
لگا تو پہلے بھی نہیں تھا لیکن اپنی وجہ سے نقصانات تم نے دیکھیے ہیں کتنے کرا دیے میں نے ” وہ اسکی جانب دیکھتا بولا جبکہ مہروز نے نفی میں گردن ہلایا اور اپنے لیے کافی بنانے لگا
مجھے ایسا نہیں لگتا فلحال کہ روح انوسینٹ نہیں وہ لڑکی شرمندہ ہے تم اسپر ٹرسٹ کر سکتے ہو “
ٹرسٹ تو مجھے اپنے سائے پر بھی نہیں لیکن میرے لیے ہر چیز سے اہم وہ فائل ہے ۔
ایک بار وہ فائل میرے پاس جائے تاکہ ہارون بیگ کے پاس میرے
لیے خلاف کچھ غلط استعمال کرنے کا کوئی ثبوت نہ رہے ۔۔۔
پھر آرمی جو دنیا کی سب سے بڑی گینگسٹر ہے میں اسے بخوبی بتاؤ گا ” وہ مٹھیاں بھینچ گیا
سر سے بات ہوئی ہے تمھاری ” ۔
مجھے کسی کے اصولوں پر نہیں چلنا نہ میں لحاظ رکھنے والا ہوں اس طرح جس طرح میرے گھر میں گھسے یہ لوگ میرا گھر میری پراپرٹی مبین خان کے ہوتے ہوئے سیل کر رہے ہے
اور انھیں ایسا لگتا ہے یہ سٹرجیٹی ہے دشمن کو لگنا چاہیے کہ وہ کامیاب ہے ۔۔۔۔۔
وہ کافی بھڑکا ہوا تھا مہروز چپ ہو گیا بہزاد نے سر جھٹکا اور کافی پینے لگا لیکن اسکا دماغ کچھ سوچ رہا تھا
۔۔۔۔۔۔۔
پلوشہ آتے ساتھ ہی سیدھا اسی کمرے میں گھسنے لگی
میں نے کھانا نہیں کھایا تم کچھ بنا کر دے سکتی ہو ” وہ نرمی سے بولا پلوشہ کے قدم رک گئے
اس سے بنوا لیں جسے سینے سے لگایا ہوا تھا ” اسنے غصے سے کہا جبکہ شجر سر تھام گیا
تمھیں ہر وقت میرے بارے میں غلط لگتا ہے اور افسوس تو یہ ہے بظاہر وہ غلط ہی سہی ہوتا ہے ” وہ سرد آہ بھرتا صوفے پر ڈھیر ہوا
پلوشہ اسے گھورتی رہی جبکہ وہ بھی اسے دیکھتا رہا
نہ چاہتے ہوئے بھی وہ کچن کی سمت بڑھی تو شجر کو خوشگوار سی حیرت ہوئی
جیلسی بعض اوقات انجانی خوشی دے دیتی ہے وہ اسے انہماک سا دیکھ رہا تھا اپنے لیے کام کرتے ہوئے پلوشہ بار بار اسے اگنور کر رہی تھی ۔
بلاخر اسنے جلدی میں جو بھی سالن بنا ۔۔ بنا کر روٹیاں ڈال کر اسکے سامنے رکھ دیا وہ جانے لگی
تم نہیں کھاؤ گی “
نہیں مجھے بھوک نہیں ” اسنے کہا تو وہ اسکی کلائی آگے بڑھ کر اپنے ہاتھ کی گرفت میں پکڑ گیا ۔
میرے ساتھ بیٹھو ” لو دیتی نظریں تھیں
پلوشہ نے ہاتھ چھڑانا چاہا
کیوں تم اتنی بدظن ہو مجھ سے ” وہ ہر شے بلائے طاق رکھے اس سے سوال کرنے لگا
پلوشہ جبکہ اپنا ہاتھ چھڑانے کی تگ و دو میں تھی
آپ میرا ہاتھ چھوڑیں ” وہ برہمی سے بولی
میں سچ کہہ رہا ہوں میں نے نانی جان کو نہیں مارا
ہو سکتا ہے ” وہ سپاٹ ہو گئ جیسے بلکل ہو سکتا ہے کہ آپ نے نہ مارا ہو لیکن آپ انکی موت کے ذمہ ہیں میں آپ پر کیسے بھروسہ کرو دس سال ایک ادمی اپکو بیوقوف بناتا رہا آگے مجھے لے کر اپکو کوئی اور بیوقوف بنائے گا اور آپ بن جائیں گے اس قسم کے مرد نہ ہی کسی کے ہوتے ہیں اور نہ ہی انکی یہ بے کار محبتیں سچ ہوتی ہیں تو “
شجر ابھی بولتا ہی کہ وہ اپنی بات جاری رکھتی بولی
تو مجھ سے کسی بھی قسم کی توقع رکھنا چھوڑ دیں ” اسنے جھٹکے سے ہاتھ چھڑایا اور کمرے میں چلی گئ جبکہ شجر اس بند کمرے کے دروازے کو دیکھتا رہا ۔
شاید وہ سچ کہہ گئ تھی وہ اعتبار کے قابل نہیں وہ واقعی دس سال بیوقوف بنتا رہا دس سال ایک بار بھی اسنے اپنی آنکھوں سے وہ پٹی نہیں اتار کر دیکھی جو بہزاد کے خلاف نہ جاتی ہو
اسکی بھوک اڑ گئ اور وہ ساتھ والے کمرے میں چلا گیا
پلوشہ کو کمرے کا دروازہ بند ہونے کی آواز آئی تو وہ اہستگی سے دروازہ کھول گئ اسنے جھانک کر دیکھا
کھانا ویسے ہی رکھ تھا اور وہ کمرے میں قید ہو گیا تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دن معمول کے مطابق گزرنے لگے بہزاد جو گھر سے فرار ہوتا تھا اب وہ تقریبا گھر پر ہوتا اور روح گھر سے ایک قدم بھی نکال نہیں سکتی تھی اسکی چوٹیں قدرے بہتر تھی لیکن مکمل ٹھیک نہیں ہوئی تھی وہ اور مہروز رات دیر دیر تک کسی بات پر ڈسکشن کرتے رہتے روح کو دینے کے لیے اسکے پاس وقت نہیں تھا
روح منہ بسور پورا دن یوں ہی گھر میں پھیرتی رہتی اسکے دماغ میں ایک شرارت سی آئی بہزاد اسکی جانب متوجہ نہیں تھا تبھی اسنے ایک پلین بنایا تھا ۔
جبکہ اسکے دماغ میں ایک اور بات بھی تھی ۔
لیکن اسپر عمل کرنا اسکی زندگی کا سب سے بڑا خطرہ تھا ۔
فلحال وہ ہارون سے بے پناہ خوفزدہ تھی تبھی ابھی بہزاد پر توجہ دینے کا سوچ تھا
وہ کمرے سے باہر آئی اور بہزاد کے پاس بیٹھ گئ
اسنے گردن موڑ کر دیکھا مہروز بھی اسے دیکھنے لگا
مجھے باہر جانا ہے “
منہ سجوا کر واپس آنا منہ کی حالت دیکھو تم اپنی ” مہروز نے ہی اسپر غصہ کیا
میں بور ہو جاتی ہوں کچھ بھی کرنے کے لیے نہیں ہے یہاں نا ہی انٹرنیٹ ہے ” وہ پاوں پٹخ کر بولی بہزاد نے مہروز کو ایک نظر دیکھا
انٹرنیٹ لگوا دو
ہممم یاد ہے مجھے ” اسنے فون نکال کر کمپنی کے لوگوں کو بلا لیا
روح خوش ہو گئ لیکن بہزاد مجھے باہر بھی جانا ہے ” وہ اسکا بازو تھام کر اسکے بازو پر اپنا چہرہ رکھتی پلکیں جھپکتے اسے اپنے قابو میں کرنا چاہ رہی تھی
بہزاد نے بازو زور سے جھٹکا روح منہ بسور کر دور ہوئی
زیادہ خوبصورت نہ بنو تم بلکل نہیں ہو “
آپ نے مجھے بند کیا ہوا ہے اس وجہ سے ورنہ مجھ سے زیادہ خوبصورت کوئی نہیں اس دنیا میں ” بال جھٹک کر بڑے فخر سے بولی تھی وہ ۔۔۔۔
اور تمھاری بہن کے بارے میں تمھارا کیا خیال ہے” مہروز کو وہ لڑکی یاد ائی
ماہ نور ” روح نے نام لیا
ہاں ہاں وہ ہی ” تم کیوں پوچھ رہے ہو
شکاری کو شکار کرنے کے لیے کچھ نہ کچھ تو چاہیے نہ ” وہ آنکھیں دبا کر بولا جبکہ روح نے اسکے منہ پر کشن مارا اور بہزاد ابھی تک فائل کو گھور رہا تھا
مہروز ہنسنے لگا
اچھا پلیز نہ جانے دیں ” نہیں ایک لفظ کہہ کر اسنے بات مختصر کر دی
پل۔۔۔پلیزززززززز ” وہ منت کرنے لگی
نہیں ” وہ پیچھے پلٹ کر پھر ویسے ہی بولا
پلیز نہ کیا ہو ” بہزاد نے سر اٹھایا اسکی زبان رک گئ
جانے دو نہ اب تو دو تین ہفتے گزر گئے ہیں اس واقعے کو چاروں اطراف میں خاموشی ہے “
خاموشی ہمیشہ طوفان کی آمد لاتی ہے میں کسی کو موقع نہیں دینا چاہتا ” اسنے فائل رکھی اور اپنا سر پیچھے ڈال کر آنکھیں دبانے لگا
روح جلدی سے بہزاد کے سر میں انگلیاں چلانے لگی
اسے لگا دنیا جہاں کا سکون اسے ملا ہو اسکی مخروطی انگلیاں اسکے گردن پر اسکے بالوں میں چل رہی تھی
ماحول گرم ہو رہا ہے میں چلتا ہوں ” اسنے وہ فائل اٹھائی اور چلا گیا جبکہ روح کے پاس ایک یہ ہی موقع تھا کہ وہ باہر نکل سکے ۔
روح میں تمھیں جانے نہیں دوں گا ” وہ نرمی سے بولا تھا
پلیز بہزاد ” اسنے اپنی انگلی اسکے ہونٹوں پر پھیری بہزاد نے آنکھیں کھول کر اسے دیکھا
س۔سوری ” وہ منہ بنا گئ
اچھا لگ رہا ہے پھر سے کرو ” وہ حکم دے گیا جبکہ روح تو اجازت طلب کرنے کے لیے بہانے لگا رہی تھی حلق میں انس اتار گئ
بہزاد نے اسکا ہاتھ پکڑ کر اپنے ہونٹوں پر اسکا انگوٹھا پھیرنا شروع کیا
ا۔۔۔آپ اپ یہ کیا کر رہے ہیں ” وہ جلدی سے دور ہوئی
کہاں جانا ہے تم نے ” اسنے اپنے اندر اٹھنے والے خمار کو دبایا
وہ شاپنگ ” وہ شرمائی بہزاد ائ برو اچکا گیا
شاپنگ کے نام پر شرمانے کا مقصد ” وہ کچھ نہیں آپ کو ابھی نہیں پتہ پلیز مجھے جانے دیں ” وہ بولی تو اسنے سر ہلایا
لیکن تمھارے ساتھ مہروز یہ گارڈز ہوں گے ” وہ بولا
تو اسکا منہ بگڑنے لگا اچھا مہروز نہیں بس گارڈز ۔۔۔۔
ہمم اوکے جاؤ ” وہ بولا اور روح اچھلنے لگی
وہ میرا کارڈ دے دیں ” اسنے کہا تو بہزاد نے اسکی جانب کارڈ بڑھا دیا اور روح چند ہی منٹوں میں غائب ہو گئ جبکہ بہزاد کے سر میں شدید درد تھا وہ آنکھیں موندے لیٹ گیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اسنے ایک سرخ جوڑا خریدا تھا وہ خود کو دلہن کے روپ میں دیکھنے کے لیے شاپنگ کرنے آئی تھی
اور جب وہ بہزاد کے پاس جاتی تو وہ اسپر توجہ بھی دیتا وہ کافی خوش تھی
لیکن جیسے ہی اسنے بل دیا خالی کارڈ اسکا منہ چیڑا رہا تھا وہ لمہہ بھر کے لیے خاموش رہ گئ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔