Wondering in love By Natasha Ali Readelle50222 Last Episode
Rate this Novel
Last Episode
حیاء بے زار سی سٹیج پر بیٹھی ہوئی تھی انس بھی اس کے پاس تھا سب وہی آس پاس تھے
زویا خوش تھی اور احد کے ساتھ اس کا ہاتھ پکڑ کر بیٹھی اس سے باتیں کر رہی تھی احد اسے مسکراہٹ کے ساتھ سن رہا تھا پر آنکھیں خاموش سی تھی کیونکہ آج رات کو احد کو نکلنا تھا
السلام علیکم سلام کی آواز پر حیاء اور زویا نے سامنے دیکھا تھا
ماما آپ حیاء خوش ہوتے ہوئے ان کے گلے لگ گئی تھی زویا بھی اَٹھ کر ان کے پاس آئی تھی فریحہ بھی وہ اپنی بیٹیوں کے گلے لگی مسکرا دی تھیں
آپ سوچ بھی نہیں سکتی میں کتنی خوش ہوں وہ ان کے چہرے پر ہاتھ رکھ کر ان کے گال پر پیار دیتے ہوئے بولی تھی
میری بچیوں کی خوشی تھی اور میں کیسے نہ اتی وہ مسکراتے ہوئے حیاء سے ملنے کے بعد باقی سب ملنے لگیں تھی
کیسا لگا سپرائز انس کھڑی حیاء کے پاس آ کر بولا تھا
بہت اچھا ہے انس وہ اس کی طرف دیکھ کر مسکراتے ہوئے بولی تھی خوشی اس کے چہرے سے پھوٹ رہی تھی
پھر عادل صاحب اور زرتاشہ بھی اس سے ملی تھی
ٹھیک ہو تم زرتاشہ حیاء اسے دیکھ کر بولی تھی جس کی آنکھیں سوجی ہوئی لگی تھی اسے
جی آپو میں ٹھیک ہوں بس نیند نہیں پوری ہوئی اسی لئے وہ مسکراتے ہوئے بولتی اب فریحہ اور زویا سے مل رہی تھی
I love you so much
حیاء انس کا ہاتھ پکڑ کر اسے کے قریب جا کر بولی تھی
انس اس کی بات سے مسکرا دیا تھا پھر ارام سے اسے صوفے پر بیٹھا دیا تھا
ارام سے بیٹھوں
نورین وہاں سب سے ملی تھی اور پھر عادل اور وہ دونوں ایک سائیڈ پر بیٹھ گیے تھے
نورین اپنی بیٹیوں کو سٹیج پر بیٹھا دیکھ رہیں تھی جو ان کو بہت خوش اور مطمئن لگ رہیں تھی
جو بھی تھا وقت مشکل ہی سہی پر کٹ چکا تھا عادل صاحب نے ان کو اپنے ساتھ لگا لیا تھا
میں بہت خوش ہوں عادل آج میری بچیوں کو ان کی خوشیاں مل گئی ہے میری حیاء کی زندگی مکمل ہو چکی ہے وہ عادل صاحب کے کندھے پر اپنا سر رکھ کر بولی تھی
عادل صاحب بھی ان کی بات سے مسکرا دیے تھے اور ان کے گرد اپنے بازوں کو پھیلا کر ان کو تحفظ کا احساس دیا تھا
سامنے بیٹھی ان کی بیٹیاں بھی اپنی ماں کو خوش دیکھ کر مسکرا دی تھی
دور کھڑے عاقب شاہ کی زندگی صرف پشتاوا ہی بن کر رہ گئی تھی وہ چاہ کر بھی اب اپنی بیٹیوں کو پیار نہیں کر سکتے تھے نفرت کرتیں تھیں ان کی بیٹیاں ان
سے نورین کو حصرت کی نگاہ سے دیکھا کر باہر نکل گیے تھے
❤️❤️❤️❤️
السلام علیکم امن گاڑی چلاتے ہوئے امن اپنے ساتھ بیٹھی عائشہ سے بولا تھا
جس کو وہ اپنی ماں سے بہت ریکوسٹ کرنے پر آتے ہوئے اپنے ساتھ لے کر آیا تھا
وعلیکم اسلام وہ نظروں کو جھکائے ہوئے ہی بولی تھی امن سے گھبرا رہی تھی
آپ خوش تو ہے نہ اس رشتے سے وہ سامنے گاڑی چلاتے ہوئے مسکرا اس سے بولا تھا
ج۔۔۔۔۔۔جی ۔۔۔ میں خوش ہوں وہ نظروں کو جھکائے ہوئے ہی بولی تھی وہ اپنے ہاتھوں کو آپس میں مسل رہی تھی
امن نے مسکرا کر اس کے ہاتھ کو اپنے ہاتھ میں لے لیا تھا
عائشہ نے خیران ہوتے ہوئے اس کی طرف دیکھا تھا اور اپنا ہاتھ اس سے کھنچنے کی کوشش کی تھی پر امن کی گرفت مضبوط ہونے کی وجہ سے کوشش بند کر دی تھی
میں اس رشتے کو سچ دل سے نبھانا چاہتا ہوں عائشہ آپ بہت خوبصورت اور کیوٹ سی ہیں وہ مسکراتے ہوئے اس کے ہاتھ کو اپنے ہونٹوں سے چھو کر بولا تھا
عائشہ نے اس کی طرف دیکھا تھا جس کی نظر بھی اس کی طرف تھی
پھر آئسکریم پلر پر گاڑی روکی تھی
آئسکریم تو ضرو کھائے گی آپ کیوں کے کھانا تو کھا لیا ہے تو سوچا آئسکریم ہی کھالیتے ہیں وہ مسکراتے ہوئے اس کی طرف دیکھا کر بولا تھا اور باہر نکل کر آڈر دے کر آئسکریم لے کر آیا تھا
واپس اپنی گاڑی میں آ کر اسے آئسکریم دی تھی
آپ کو کیسے پتہ مجھے یہ فلور پسند ہے وہ اپنی پسند کا فلور دیکھا کر بولی تھی
ہر لڑکی کو ہی مجھے لگتا ہے یہ ہی فلور پسند ہے اور ویسے شکر ہے آپ بھی کچھ بولی ہیں وہ چاکلیٹ فلور کو دیکھ کر بولا تھا
پھر خود ایک بائٹ لے کر اپنی میں سے اسے کھلائی تھی جسے عائشہ نے خیران ہوتے ہوئے کھائی
اور پھر اس کے منہ کی طرف جاتی اس کی چمچ کو اپنے ہاتھوں سے اپنے منہ میں ڈال لی تھی
بہت مزے کی ہے آپ کی بھی وہ کھا کر بولا تھا
میری زندگی میں آنے والے آپ پہلے انسان ہیں میں بھی آپ کے ساتھ ہمیشہ محلس رہوں گی
وہ اس کے ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بولی تھی
امن نے اس کے ہاتھ کو مضبوطی سے تھام لیا تھا دونوں مسکرا دیے تھے
گھر چلیں اب عائشہ بولی تھی
جی جی چلیں امن نے مسکراتے ہوئے گاڑی آگے بڑھ دی تھی
❤️❤️❤️❤️
احد زویا کو کے کر روم میں آیا تھا اور باہر بالکنی میں لے گیا تھا جہان دونوں کھڑے ہو کر باہر کا منظر دیکھنے لگے تھے وہاں سے سامنے سبز ہریالی کھیت رات کو چمکتے ہوئے بہت خوبصورت لگ رہیے تھے
واہ کتنا پیارا ہے نہ یہ سب احد وہ سامنے دیکھتے ہوئے بولی تھی
ہاں جی بہت پیارا ہے پر میری جان سے زیادہ نہیں وہ اس کے پیچھے کھڑا اس کے کندھے پر سر رکھ کر سامنے دیکھتے ہوئے اس کی گال سے اپنا گال مس کرتے ہوئے بولا تھا
احد صبح ہم گھومنے کے لیے جائیں گے وہ کھوئے ہوئے لہجے میں بولی تھی
جی جان احد اس کی طرف دیکھتے ہوئے اس کی گردن پر اپنے ہونٹوں کو رکھ کر بولا تھا وہ زویا میں اتنا گم تھا کہ اسے زویا کی کوئی بھی بات سنائی نہیں دے رہی تھی وہ بس اسے دیکھی جا رہا تھا
جس کے چہرے پر بچوں جیسی معصومیت تھی اور وہ مسکراتے ہوئے سب دیکھ رہی تھی کیونکہ کے سامنے سب لائٹنگ احد نے
زویا کے لیے کی تھی وہاں پر ان دونوں کا نام شو ہو رہا تھا
احد نے اپنی جیب سے ایک چین نکل کر زویا کے گلے میں پہنائی تھی
یہ آپ میرے لیے لے کر آئیے ہیں وہ چین کو دیکھ کر بولی تھی جس پر دل بنا ہوا تھا اس میں دونوں کے نام کا پہلا حروف لکھا ہو تھا
بہت پیارا ہے یہ وہ اس کے گلے میں باہوں کو ڈال کر بولی تھی
احد نے اسے خود کے قریب کر لیا تھا احد کے قریب آنے پر وہ تھوڑا گھبراہٹ کا شکار ہوئی تھی پر احد اس کی گھبراہٹ کی پرواہ کیے بغیر اس کے ہونٹوں کو قید کر گیا تھا
زویا نے زور سے اس کی شرٹ کو پکڑ لیا تھا آحد آج جانے سے پہلے اسے محسوس کر رہا تھا
جب احد نے اسے چھوڑ تو وہ گھبرا ہوئی گہرے سانس لینے لگی تھی احد نے اسے خود میں بھیچ لیا تھا ایک آنسو کا قطر اس کی آنکھوں سے نکل کر زویا کے بالوں میں جزب ہو گیا تھا
میں آج سے پہلے خود کو اتنا کمزور محسوس نہیں کیا زویا جتنا آج کر رہا ہوں میں آج اپنی ننھی سی جان کو اکیلا چھوڑ کر جا رہا ہوں وہ دل میں سوچ رہا تھا
آج سے پہلے مجھے جانا تنا مشکل نہیں لگا جتنا آج لگ رہا ہے
احد اس طرح میرا سانس بند ہو جائے گا زویا منہ سامنے کرتے ہوئے بولی تھی
سوری میری جان وہ اس کے ماتھے پر لب رکھ کر بولا تھا
کوئی بات نہیں وہ مسکراتے ہوئے اسے دیکھ رہی تھی
احد ادھر کریں نیچے سر وہ اسے اشارہ کرتے ہوئے بولی تھی
احد نے آئبرو اُٹھا کر اسے دیکھا تھا اور اپنا سر نیچے کیا تھا
زویا نے اس کے ماتھے پر اپنے ہونٹ رکھے تھے
I love you so so so so so so so much
وہ مسکراتے ہوئے بولتی اس کے گلے لگ گئی تھی آپ مجھے چھوڑ کر کبھی بھی مت جانا احد وہ اس کے گلے لگی بولی تھی
احد کے مسکراتے ہوئے لب سکڑ گیے تھے
احد اسے لے کر چیر پر بیٹھ گیا تھا وہ دونوں ادھر بیٹھے باتیں کر رہیے تھے احد بس اسے دیکھی جا رہا تھا جیسے بعد میں دیکھ نہیں پائے گا
زویا احد سے باتیں کرتے ہوئے سو گئی تھی احد نے مسکرا کر اسے اٹھایا تھا بیڈ پر رکھا تھا اس پر کمبل دے کر خود الماری سے اپنے کپڑے بیگ میں رکھ لیے تھے
مسکراتے ہوئے زویا کے پاس آیا تھا اس کے ماتھے پر پیار دے کر اسے دیکھتے ہوئے باہر نکل گیا تھا
باہر آمنہ شاہ اور سب سے ملا تھا
ماما زویا کا سنبھال لینا پلیز اسے کچھ نہیں پتہ وہ ناراض ہو جائے گی مجھے سے وہ خود کو سنبھال کر اپنی ماں سے مسکرا کر ملا تھا
زویا کے لیے آ جانا جلدی ہی احد وہ اس کے ماتھے پر پیار دے کر بولی تھی
وہ سب سے مل کر وہاں سے چلا گیا تھا
❤️❤️❤️❤️❤️
انس حیاء کو اُٹھا کر روم میں لے کر آیا تھا اسے آرام سے بیڈ پر بیٹھایا دیا تھا
کیا تکلیف ہے انس پیچھے ہٹو میرے اوپر سے وہ انس کو اپنے اوپر جھکا دیکھ کر چلائی تھی
جانم تم اتنی پیاری لگ رہی ہو کے میرا دل کر رہا ہے بس تم کو ہی دیکھتا جاؤں وہ اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے بیٹھاتے ہوئے بولا تھا
مسکے تم اچھے لگ لیتے ہو وہ اپنے ڈوپٹہ میں سے پینے اتارتے ہوئے بولی تھی
چھوڑ میں اتار دیتا ہوں وہ اس کا ہاتھ ہٹا کر خود ہی اس کے ڈوپٹہ میں سے پینو کو اتارنے لگا پینے اتار کر اس کا ڈوپٹہ سائیڈ پر رکھا تھا ق
میں جب کر رہا ہوں تو تم کیوں اپنے ہاتھوں کو زحمت دے رہی ہو انس اس کے ہاتھ اس کے کانوں سے پیچھے کرتے ہوئے بولا تھا
انس کر لوں گی میں پلیز وہ اس سے پیچھے ہوتے ہوئے بولی تھی
نو بےبی میں کس لیے ہوں وہ اس کے کانوں میں سے آویزاں کو اتار رہا تھا پھر اس کا نیکلس بھی اتارنے لگا
حیاء نروس سی اس کے لمس سے کانپتے ہوئے اسے دیکھ رہی تھی جو اس کی حالت کا خوب مزہ لیا رہا تھا
میری جانم کو ڈر لگ رہا ہے وہ اس کی گردن پر ہاتھ پھیر کر بولا تھا
میں چینج کر لوں مجھے سونا ہے وہ اس کا ہاتھ پیچھے کرتے ہوئے وہاں سے جانے لگی تھی
میرا دل نہیں کر رہا آج سونے کو انس بیڈ پر لیٹتے ہوئے اسے خود پر گرا کر بولا تھا
تو مت سو مجھے سونے دو وہ اس سے پیچھے ہوتے ہوئے بولی تھی
ٹھیک ہے تم سو جاؤ میں کلب جا رہا ہوں انس مسکراہٹ کے ساتھ وہاں سے اٹھتے ہوئے بولا تھا
تمہاری تو ایسی کی ٹیسی بیٹھ جاؤ آرام سے وہ اس بیڈ پر کھنچتے ہوئے اس پر جھکی بولی تھی
خبر دار جو تم کلب میں گیے یسوچا بھی مت میں تم کو کسی چڑیل کے پاس جانے دوں گی وہ اس کے اوپر جھکی منہ بنا کر بولی تھی
گلا دبا دوں گی تمہارا میں انس شاہ خبردار جو تم نے میرے علاوہ کسی کو دیکھا بھی ہو
ایسا جنونی پاگل پیار ہی چاہیے مجھے وہ اس کے چہرے پر آئے بالوں کو کان کے پیچھے کرتے ہوئے مسکرا کر بولا تھا
حیاء اس کی بات پر مسکرا دی تھی
حیاء کو تم سے اس سے بھی زیادہ جنونی ٹائپ کا پیار ہے اگر تم نے غلطی سے بھی کسی کی طرف دیکھا تو جان لے لوں گی میں وہ اس کا کالر پکڑ کر بولی تھی
انس نے مسکرا کر اسے اپنے نزدیک کیا تھا اور اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے اس کے ہونٹوں کو اپنی دسترس میں لے لیا حیاء نے اپنی گرفت اس کی شرٹ پر مضبوط کر لی تھی
ششش جانم انس شاہ صرف اور صرف تمہارا ہے صرف اپنی حیاء کا وہ اسے آرام چھوڑتے ہوئے اس کا سر تکیہ پر رکھ کر اس کی گردن پر ہونٹ رکھ گیا
انس نے اس کے ہاتھوں کو اپنے ہاتھ میں لے کر اپنے ہونٹوں سے لگایا تھا
حیاء مسکراتے ہوئے اسے دیکھ کر آنکھوں کو بند کر گئی تھی
❤️❤️❤️❤️
زرتاشہ جب صبح اَٹھی تھی تو احد کو دیکھا جو اسے
کہی نہیں ملا تھا ٹائم دیکھا تو دوپہر کا ایک ہو رہا تھا
آج احد نے بھی نہیں اُٹھایا مجھے وہ بستر سے اُٹھ کر فریش ہو کر نیچے گی تھی جہاں سب بیٹھے ہوئے تھے
ادھر آؤ زویا آمنہ اسے اپنی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولی تھی
وہ مسکراتے ہوئے ان کے پاس جا کر بیٹھ گی تھی
طبیعت ٹھیک ہے نہ وہ اس کو اپنے ساتھ بیٹھا کر باتیں کرتے ہوئے بولی تھی
جی میں ٹھیک ہوں وہ بھی مسکرا کر بولی تھی
سکینہ زویا کے لیے ناشتہ بنا دو وہ سکینہ کو آواز دے کر بولی تھی
ماما احد کدھر ہیں آج مجھے اٌٹھایا بھی نہیں اتنا لیٹ ہو گئی میں آج ہم نے جانا تھا باہر گمنے کے لیے زویا ان کی طرف دیکھ کر بولی تھی
احد نے بولا تھا وہ مجھے لے کر جائیں گے باہر سب دکھا کر لے کر آئیں گے میں تو بہت ایکساٹیڈ ہوں باہر جانے کے لئے زویا جوش سے خوش ہوتے ہوئے بولی تھی
آمنہ اور وہاں بیٹھی خنا شاہ علشیہ رانیہ نے پریشان ہوتے ہوئے زویا کو دیکھا تھا
زویا تم اپنی پیکنگ کر لو ہم جاتے ہوئے تمہیں گھر چھوڑ دیں گے وہاں بیٹھی حیاء نے بات سنبھالتے ہوئے اس سے کہا تھا
پر آپو احد کے ساتھ جانا ہے مجھے اور ویسے بھی میں گھر گئی تو وہ ناراض ہو جائیں گے وہ منہ بنا کر بولی تھی
اور میں نہیں جانا جب تک احد یہاں ہے مجھے بہت سا انجوائے کرنا ہے وہ مسکراتے ہوئے ہاتھوں سے اشارہ کرتے ہوئے بولی تھی
زویا احد کو ضروری کام تھا تو وہ چلا گیا ہے واپس جب تک نہیں آتا تم گھر چکر لگا آؤ اور ایڈمیشن وغیرہ بھی تم اور زر دیکھ لینا اسی لئے بہتر ہے تم جاؤ گھر حیاء نے یہ فیصلہ گھر والوں کی رضامندی سے کیا تھا اسی لیے کوئی بھی نہیں بولا
پر ماما آپ بولے نہ آپو کو احد جلدی آ جائیں گے تب آ کر پھر سے ناراض ہو جائیں گے وہ آمنہ شاہ کو ہلا کر بولی تھی جو اس کے ساتھ ہی بیٹھی ہوئی تھی
بیٹا کوئی بات نہیں آپ چلی جاؤ وہ اسے اپنے ساتھ لگا کر بولی تھی
نہیں ماما وہ کل آ جائیں گے دیکھنا آپ انہیں نے بولا تھا وہ وہ جائیں گے تو ساتھ ہی آ جائیں گے اسی لیے میں کل چلی جاؤں گی جب وہ آئیں گے آپو پلیز زویا منہ بنا کر بولی تھی
وہ نہیں آئے گا اب پتہ نہیں کتی دیر نہیں آتا اسی لئے تم صرف اپنی سٹیڈی پر فوکس کرو حیاء سخت لہجے میں بولی تھی
زویا نے آنسو بھری آنکھوں سے اس کی طرف دیکھا تھا حیاء نے اپنے لب بیچے تھے اور ایک نظر اسے دیکھ کر وہاں سے چلی گئی تھی
ماما کیا آپو سچ بول رہیں ہے احد نے تو پرومس کیا تھا وہ جلدی آ کر لے جائیں گے مجھے وہ آمنہ شاہ کی طرف دیکھا کر بولی تھی جو اس کی آنکھوں میں آنسو دیکھ کر اسے اپنے ساتھ لگا گئیں تھی
جاؤ ناشتہ کر لو زویا بن گیا ہو گا وہ اس پیار سے بولی تھی
نہیں مجھے نہیں کرنا ناشتہ وہ روتے ہوئے وہاں سے بھاگ گئی تھی
آمنہ اور وہاں سب بیٹھے خاموشی سے ایک دوسرے کو دیکھنے لگ گے تھے
سکینہ جاؤ زویا کے روم میں دے کر آؤ ناشتہ آمنہ شاہ کچن میں جا کر بولی تھی
❤️❤️❤️❤️
زویا واپس گھر چلی گئی تھی دونوں بہنوں نے خود کو سٹیڈی میں مصروف کر لیا تھا
دونوں خود کی لائف میں الجھ کر رہا گئی تھی زرتاشہ اپنی ضد میں سلال سے کوئی رابطہ نہیں کر رہی تھی
پہلے سلال نے کوشش کی رابطہ کرنے کی پر زرتاشہ کے انکار پر اس نے بھی دوبارہ رابطہ نہیں کیا
زویا سے احد نے جانے کے بعد کوئی رابطہ نہیں کیا وہ زور اسی اس میں تھی وہ ضرور آیا گا پر دن گزرنے کے ساتھ امید بھی دم توڑتی جا رہی تھی
زویا خود میں الجھی اور بے زار سی رہنے لگی تھی
زر تم غلط کر رہی ہو سلال کے ساتھ اتنی ضد اچھی نہیں ہے یار رابطہ کرو اس سے اس سے پہلے کے وہ تم سے دور ہو جائے زویا اسے سمجھاتے ہوئے بولی
زویا کی بات سے زرتاشہ کے لکھتے ہاتھ روک گیے تھے وہ سر اُٹھا کر اسے دیکھنے لگی تھی
ٹھیک ہے میں کروں گی کال سلال کو رات کو وہ زویا کی طرف دیکھ کر بولی تھی
سلال بس آپ مجھے معاف کر دینا میں نے ضد میں آپ کے ساتھ رابطہ نہیں کیا زرتاشہ سوچتے ہوئے اپنے لب کاٹنے لگی تھی
اتنے مہینے ہو گیے ہیں وہ مجھ سے ناراض تو نہیں ہوں گے زرتاشہ ڈرتے ہوئے بولی تھی
ہوئے بھی تو منا لینا اس میں کون سی بڑی بات ہے زویا مصروف سے انداز میں بولی تھی
زویا کیا اگر کل احد بھائی آ جائیں گے تو تم ان کو معاف کر دو گی زرتاشہ نے اس کی طرف دیکھ کر کہا تھا جس نے سر اُٹھا کر اسے خیریت سے دیکھا تھا
پتہ نہیں میں کیا کروں گی بس دعا کرو وہ آجائیں وہ پھیکا سا مسکرا دی تھی اور پھر سے اپنے کام میں لگ گئی تھی
ہہہم تم واپس کب جا رہی ہو زرتاشہ منہ میں پینسل ڈالے اس کی طرف دیکھ رہی تھی
کچھ دن تک جاؤں گی بس چھٹیاں ہوتی ہیں تو آمنہ ماما نے بلایا تھا تم بھی جانا میرے ساتھ وہ کام کرتے ہوئے اپنا سر اٹھا کر اسے دیکھتے ہوئے پھر سے مصروف ہو گئی تھی
اوکے سہی ہے مسکرا کے کر وہ بھی اپنے کام میں مصروف ہو گئی تھی
❤️❤️❤️❤️❤️
السلامُ علیکم سلال جو تھکا ہوا آیا تھا بینا دیکھے فون کے رنگ کرنے پر فون اُٹھا کر بولا تھا
وعلیکم السلام زرتاشہ ڈرتے ڈرتے بولی تھی
سلال نے فون کان سے ہٹا کر نمبر دیکھا تھا اور پھر غصے سے دوبارہ کان سے لگایا تھا
دونوں طرف خاموشی تھی
اگر بات نہیں کرنی تو اپنے نازک ہاتھوں کو کیوں تکلیف دی ہے فون کرنے کی سلال کی سرد سی آواز سنائی دی تھی
کیسے ہیں آپ زرتاشہ نے آنکھوں میں نمی لیے خود کو کنٹرول کرتے ہوئے کہا تھا آٹھ مہینے ہونے والے تھے دونوں کو بات نہ کیے ہوئے
سلال نے اس کی آواز پر آنکھوں کو سکون سے بند کیا تھا
زندہ ہو اتنا جان لو تم بس پر تم نے مارنے کی کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی وہ تلخ سا مسکرا کر بولا تھا
اس کی بات پر زرتاشہ نے اپنے لب بیھچے تھے بمشکل خود کی سسکی کو روکا تھا
رونے کا ڈرمہ کیوں کر رہی ہو زر تم نے بہت دکھ دیا ہے مجھے میری چھوٹی سی بات پر اتنی بڑی سزا دی تم نے اسی لیے کے میں روتے ہوئے نہیں دیکھنا چاہتا تھا تمہیں اور تم نے آٹھ ماہ پورے آٹھ مجھے سے بات تک نہیں کی
کتنا تڑپا ہوں میں پل پل اعزیت میں جلا ہوں میں زرتاشہ بیگم پر اب نہیں بالکل بھی نہیں اب مجھے تمہارے ہونے یا نہ ہونے سے فرق نہیں پڑتا سنا تم نے
پلیز ایسا مت کہیے سلال میں مر جاؤں گی وہ روتے ہوئے بولی تھی
میں مر چکا ہوں زرتاشہ تمہاری بے رُخی نے مار دیا ہے مجھے سلال دوسری طرف سے سسکیوں کی آواز سن کر اپنے دل کو سخت کرتے ہوئے بولا تھا
اب تب ہی بات ہو گی جب میں وہاں آؤں گا بولتے ہوئے مقابل کی بات سنے بغیر فون کو بند کر دیا تھا زرتاشہ نے فون کے بند ہونے پر چہرے کو ہاتھوں میں گر لیا تھا
پلیز سلال ایک دفعہ معاف کر دیں صرف ایک دفعہ مر جاؤں گی آپ کے بغیر وہ روتے ہوئے اپنا سر ہاتھوں میں گرا کر بولی تھی
وقت کے ساتھ بہت دفعہ زرتاشہ نے اسے کال کی پر وہ فون تو اُٹھاتا زرتاشہ اس سے روتے ہوئے معافی مانگتی پر دوسری طرف سے سلال کی سانسوں کی آواز کے علاوہ کوئی آواز سنائی نہ دیتی
زرتاشہ کا زور کا مامول بن گیا تھا سلال کو فون کرنا وہ اس کی خاموشی کو ہی سن کر خوش ہو جاتی
❤️❤️❤️❤️
آنیہ کیا ہوا ہے تم رو کیوں رہی ہو ریان کمرے میں آیا تھا آنیہ کر روتے ہوئے دیکھ کر بولا تھا جو بیڈ پر بیٹھ کر رونے میں مصروف تھی
ریان یہ دیکھو وہ اس کے آگے اپنی رپورٹ کرتے ہوئے بولا تھا
یہ سچی تمہاری ہے ریان خوش ہوتے اسے گلے لگا کر بولا تھا
نہیں ساتھ والی آنٹی کی ہے ان سے لے کر آئی ہوں وہ برا سا منہ بنا کر بولی تھی
اس میں تو خوش ہونے کی بات ہے تم رو کیوں رہی ہو میرا دل تو ناچنے کو کر رہا ہے وہ اس کے گال پر پیار دیتے ہوئے اسے گلے لگا کر بولا تھا
میں تو خوش ہوں بہت زیادہ خوشی سے رونا آ رہا ہے وہ روتے ہوئے ریان کے ساتھ لگی بولی تھی
پر اب رونا نہیں ہے اب تو خوش ہونے کا وقت ہے جلدی ہی کوئی مجھے بھی بابا بولے گا میں کتنا خوش ہوں میں تمہیں بتا نہیں سکتا وہ اسے خود میں بھیچے ہوئے بولا تھا
ریان اس خوشی میں تم میرا سانس بند کر رہیے ہو وہ اسے تھوڑی دور کرتے ہوئے بولی تھی
سوری یار خوشی میں مجھے کچھ سمجھ نہیں آ رہا وہ مسکراتے ہوئے اس کے ماتھے پر اپنا لمس چھوڑ کر بولا تھا
چلو ماما اور بابا کو بتا کر آتے ہیں وہ اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے اپنے ساتھ لگا کر باہر لے گیا تھا
❤️❤️❤️❤️❤️
انس دورتے ہوئے ہسپتال میں داخل ہوا تھا جہاں حیاء کو لایا گیا تھا سب بڑے بھی وہی پہچا گیے تھے انس ہی تھا جو سب سے لیٹ تھا
ماما حیاء ٹھیک تو ہے نہ انس لیبروم کے باہر کھڑا اپنی علیشہ شاہ سے بولا تھا
ریلکس انس دعا کرو اللہ سب بہتر کر دے ڈاکٹر اندر لے کر گیے ہیں ابھی تک باہر کوئی اطلاع نہیں دی
نورین اور عادل صاحب بھی وہی کھڑے تھے
بہت بہت مبارک ہو آپ کو آپ کی بیوی کو بھی تھوڑی دیر تک روم میں شیفٹ کر دیا جائے گا نرس نے باہر آ کر سب کو بولا تھا اور پنک سے کمبل میں سوئے ہوئے چھوٹے سے وجود کو ان کی طرف بڑھایا تھا
جسے انس نے تیز ہوتی دھڑکن سے کانپتے ہوئے ہاتھوں سے اپنے ہاتھوں میں لیا تھا
ماما دیکھیں اسے یہ کتنی پیاری ہے سوئی ہوئی گول مٹول سی بچی کو چومتے ہوئے بولا تھا
اللہ تیرا شکر ہے وہ اوپر دیکھتے ہوئے بولا تھا سب ہی اسے دیکھ کر مسکرا رہیے تھے
یہ لے یہ آپ کا دوسرا بےبی نرس دوسرے بچے کو علیشہ شاہ کو پکڑاتے ہوئے بولی تھی جیسے عالیشان شاہ اور علیشہ شاہ نے اپنی آغوش میں لیا تھا اور اسے بے تحاشا چوما تھا
انٹی میں اپنی دونوں پریوں کو ہمیشہ خوش رکھوں گا وہ نورین کے سامنے اپنے ہاتھوں میں تھامی ہوئی بچی کو ان کی گود میں رکھ کر بولا تھا
اور وہ جن بابا اور ماما کا ہے انس مسکراہٹ کے ساتھ دوسرے بچے کی طرف دیکھ کر بولا تھا
خبر دار انس جو ہمارے پرنس کے بارے میں کچھ بولا ہو تو علیشہ شاہ اسے دادا اور بڑی بی کے پاس لے جا کر بولی تھی
اللہ نصیب اچھے کرے وہ نم آنکھوں سے اس کے ماتھے پر پیار دے کر بولی تھی عادل صاحب بھی نورین کے ساتھ بیٹھے تھے انہوں نے بھی اسے گود میں لیا تھا اور پیار کیا تھا
پھر انس نے اس کے کان میں اذان دی تھی دوسرے بچے کے کان میں حاضر نے اذان دی تھی
فریحہ اسے کہی دیر تک اپنی گود میں لیے بیٹھی تھی اسے بار بار چوم رہی تھی
سب کو اللہ نے خوشخبری دی تھی سوائے فریحہ کے وہ آنکھوں میں نمی لیے مسکراہٹ کے ساتھ حاضر کو دیکھ رہی تھی جو اس کی آنکھوں میں اپنے لیے دکھ بھی دیکھ سکتا تھا
فریحہ دیکھنا اس کی پرنسس ہم لے کر آئیں گے حاضر مسکراتے ہوئے فریحہ سے بولا تھا
جو نم آنکھوں سے مسکرا دی تھی
دادا شاہ نے سارے ہسپتال میں مٹھائی بانٹھی تھی سب خوش تھے پورے گاؤں میں مٹھائی بانٹھنے کا حکم دے دیا تھا
انس نورین کی گود میں رکھ کر خود اندار روم میں گیا تھا جہاں حیاء تھی
جہاں حیاء آنکھوں کو بند کیے لیٹی ہوئی تھی
بہت بہت شکریہ حیاء وہ اس کے قریب جا کر اس کی پیشانی پر اپنے لب رکھتے ہوئے بولا تھا
حیاء آنکھوں کو کھول کر مسکرا دی تھی
تمہیں پتہ ہے میری بیٹی تو ساری مجھ پر گئی. ہے بہت خوبصورت ہے وہ چھوٹی سی کیوٹ سی انس اسے بچوں کی طرح بتا رہا تھا
حیاء کے دل کو اس کی باتوں سے سکون پہچا تھا وہ مسکراتے ہوئے اسے سن رہی تھی
تب ہی سب بھی اندر آئے تھے
نورین نے مسکراتے ہوئے اس کی گود میں بچوں کو رکھا تھا
ماما یہ کتنے چھوٹے ہیں وہ ان کے ہاتھوں کو چومتے ہوئے بولی تھی فریحہ بھی اس کے پاس کھڑی تھی
فریحہ یہ دیکھو یہ ازلان تمہاری پرنسس کا ہو گا وہ اسے پکڑاتے ہوئے بولی تھی
آپو آپو یہ مجھے دے دیں یہ میرے پرنس کی ہو گی پری دروازے سے دورتے ہوئے آیا کر بولی تھی
ہاہاہاہاہا حیاء پری کی بات سے کھلکھلا کر ہنس دی تھی پری اب اسے اپنی گود میں لے کر کھڑی تھی
عالی نے حیاء کے سر پر ہاتھ رکھ کر اسے پیار دیا تھا
اور پری کی گود میں سے بچی کو اٹھا کر پیار کرنے لگا
لالہ یہ پری کی نہیں ہماری پرنسس ہے خبہ عالی کی گود میں بچی کو دیکھ کر بولی تھی
صبر صبر رکھو سب ایک اور پرنسس لے آئیں گے ہم تم لوگ فکر مت کرو ایک پری کی ہو گی اور ایک تم رکھ لینا پر پر ہمیں گھرداماد چاہیے منظور ہے تو ٹھیک ہے
لالہ مجھے منظور ہے آپ خبہ آپو سے پوچھ لیں اب پری ہنستے ہوئے بولی تھی
دفع ہو جاؤ پری پر لالہ آپ ہمیں جانتے نہیں ہم اپنی پری کو اُٹھا کر بھی لے جائیں گے انس کے گھور کر دیکھنے پر واجب نے کندھے اچکائے تھے
مجھے کیوں مار رہے ہو اپنی بہن سے جا کر بات کرو واجب انس کے مکا مارنے پر بولا تھا
آپو اب ہمیں دے دیں اسے زرتاشہ اور زویا آئیں فریحہ اور پری کے پاس کھڑی ہو کر بول رہی تھی
ماما یہ کتنے چھوٹے چھوٹے ہیں وہ دونوں ان کو اٹھائے اپنی ماں کے پاس بیٹھی بولی تھی
بچے اتنے ہی چھوٹے ہوتے ہیں نورین ان کی طرف دیکھ کر بولی تھی
تب ہی اندر عاقب شاہ داخل ہوئے تھے آہستہ آہستہ چلتے ہوئے زرتاشہ اور زویا کی طرف بڑھے تھے
خبر دار جو آپ نے میرے بچوں کو ہاتھ بھی لگایا ہو کوئی حق نہیں ہے آپ کا ان پر اسی لئے بہتر ہے چلیں جائیں یہاں سے حیاء چلا کر بولی تھی
عاقب شاہ اپنی جگہ پر وہی جم گیے تھے ایک حسرت کی نگاہ سے حیاء اور بچوں کو دیکھا تھا
معاف کر دو بیٹا وہ ادھر ہی کھڑے ہوئے بولے تھے
معاف واہ عاقب شاہ واہ حیاء ہنستے ہوئے بولی تھی
جائیں معاف کیا اس کی بات سن کر وہ مسکرایا تھے پر اس کی اگلی بات سے ان کے مسکراتے لب سکڑ گیے تھے
پر شکل مت دکھائیے گا اپنی ہمیں نہ مجھ سے نہ میری بہنوں سے نہ ہی میری ماں سے آپ کا کوئی تعلق ہے آپ جیسے انسان کا سایہ بھی میں اپنے بچوں پر نہ پڑھنے دوں چھونا تو دور کی بات ہے حیاء کے بولنے پر وہ اسے دیکھتے ہوئے شکست قدموں سے وہاں سے چلے گئے تھے
عاقب شاہ کا غرور خاکسار ہو چکا تھا ان کی چال میں شکست تھی رشتوں کو ہار جانے کی شکست اتنے رشتے ہونے کے باوجود بھی وہ اکیلے تھے
کسی نے بھی ان کو نہیں روکا تھا
باہر ان کے گرنے کی آواز آئی تھی سب عالی حاضر انس سب دورتے ہوئے باہر گیا تھا جہاں عاقب شاہ زمین بوس ہوئے تھے
❤️❤️❤️❤️
حیاء کو گھر لے کر آیا گیا تھا زینی اور تبریز خویلی تھے وہ بچوں کو پہلی دفعہ دیکھ کر خوش ہوئے تھے
زینی اور تبریز نے چھوٹی پری جس کا نام انس نے عدن رکھا تھا کو اُٹھایا ہوا تھا بار با پیار دے رہی تھی
ازلان کو آمنہ شاہ اور خنا شاہ نے پکڑ رکھا تھا
ماما یہ پرنس ہماری پرنسس کا ہے حاضر ساتھ بیٹھی ہوئی فریحہ کو اپنے ساتھ لگا کر بولا تھا جو آنکھوں میں خسرت لیے ان کی طرف دیکھ رہی تھی
ہاہاہاہاہا اسی لیے آج سے یہ پرنس آپ ہی سنبھالے گے لالہ انس کے مسکرا کر کہنے پر سب ہی ہنس دیے تھے گھر میں ہر طرف خوشی کا ساما تھا
آنیہ بھی ریان کے ساتھ آئی ہوئی تھی وہ حیاء کے پاس بیٹھی تھی دونوں نے اپنی ہر رنجش کو بھولا دیا تھا اب عدن اس کی گود میں تھی
آنیہ اس طرح کی پرنسس لے آنا پلیز پیاری سی میری طرح کی اپنی طرح کی نہ سڑی ہوئی لے کر آنا جو ہر وقت غصے ہی ہوتی رہیے مجھ بچارے پر ریان عدن کے ہاتھ کو چومتے ہوئے بولا تھا
اللہ نہ کرے میری اولاد تم جیسے ٹھرکی انسان پر جائے آنیہ منہ بنا کر بولی تھی
ریان اسے بس گھور کر رہ گیا تھا کیونکہ وہ سب کے درمیان بیٹھے ہوئے تھے
آمنہ شاہ نے دیکھا تھا زویا وہاں بیٹھی سب کو دیکھ رہی تھی آنکھوں میں دکھ تھا
بہت دیر کردی احد آنے میں تم نے رابطہ بھی نہیں کیا اس دفعہ تو وہ سوچتے ہوئے اس کی طرف دیکھ رہی تھی جو سب کی باتوں میں پھیکا سا مسکرا رہی تھی
اس دن کے بعد اس نے کسی سے کوئی بات نہیں کی تھیں بس چپ کر گئی تھی کبھی شاہ خویلی میں رہتی تو کبھی وہاں نورین کے پاس ہوتی تھی
