Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 15

َماما ہماری پیکنگ تو ہو چکی ہے سب ہے یہ ویسے بھی کچھ رہ گیا تو کیا ہوا پھر لے جائیں گے ہمارا ہی گھر ہے حیاء صوفے پر بیٹھتے ہوئے بولی تھی
ہان ٹھیک ہے زری زویا تم سب کا بھی سب کچھ پیک ہے نہ کچھ رہ نہ جائے ضروری ہر چیز رکھ لینا نورین ان دونوں کو بولتے ہوئے اپنا سامان آئیے ہوئے ڈرائیور کو اُٹھوا رہیں تھیں جس کے بعد ان کو بھی یہاں سے نکلنا تھا
ماما فریحہ کے ساتھ رابطہ نہیں ہوا کل کا صبح بات ہوئی اس کے بعد اس نے فون نہیں کیا
شادی میں مصروف ہو گی میری بھی بات ہوئی تھی بول رہی تھی کے مصروف ہے آج کل شادی میں انجوائے کر رہی ہے نورین حیاء کی طرف دیکھ کر بولی تھیں
ماما ابھی کچھ بتایا نہیں اسے آگر وہ جلدی ائی تو پھر وہ کیسے آئے گی ہمارے پاس حیاء کچھ سوچتے ہوئے بولی تھی
میں باہر چوکیدار کو بول کر جارہی ہوں اور اڈریس بھی دے کر جارہیں ہوں اور ویسے بھی ساجدہ یہی ہے چوکیدار کی بیوی تو اسے سب پتہ ہے
آپ سب ہو گئیں ہیں تیار عادل کے بولنے پر سب نے ان کی طرف دیکھا تھا
جی انکل ہم سب ریڈی ہیں ہم تو سلال کے ساتھ جائیں گے آپ اور ماما آ جانا حیاء سلال کو دیکھ کر بولی تھی جو عادل صاحب کے ساتھ آیا تھا
حیاء کے کہنے پر جو زرتاشہ کو غور سے دیکھا رہا تھا اب غصے سے حیاء کو گھور کر دیکھنے لگا
جس نے دل جلانے والی مسکراہٹ سے سلال کو دیکھ کر پائٹ کی طرح کا منہ بنا کر اسے اور بھی جلا گئی تھی
ٹھیک ہے پھر چلو نکلو سب سامان تو سب رکھ لیا ہے عادل کے بولنے پر وہ سب باہر نکلے تھے حیاء کا دل سلال کی شکل دیکھ کر قہقہہ لگانے کو کر رہا تھا
آپ لوگوں چلیں میں ان کو لے کر آتا ہوں سلال کے بولنے پر عادل نورین کو لے کر باہر اپنی گاڑی کی طرف بڑھ گیے تھے
حیاء میں تمہارا خون پی جاؤں گا بہت بدتمیز لڑکی ہو تم سلال اسے غصے سے کھا جانے والی نظروں سے دیکھ رہا تھا
اوہ سلال تم مجھے غصہ دالا رہیے ہو ورنہ میں تو سوچ رہی تھی کہ میں اور زویا اپنی گاڑی میں آ جائیں گے اور تم اور زرتاشہ تمہاری میں پر اب میں اپنا ارادہ بدلنے والی ہوں وہ زہریلی سی مسکراہٹ چہرے پر سجا کر سلال کو تنگ کر رہی تھی
حیاء تم تو میری سب سے پیاری بہن ہو نہ مجھے پتہ تھا تم ایسا ہی کچھ کرنے والی ہو سلال کے اس طرح کہنے پر حیاء نے آئبرو اُٹھ کر اسے دیکھا تھا
زرتاشہ چلو جلدی سے میری گاڑی میں بیٹھ جاؤ حیاء اپنی گاڑی کا دروازہ کھول کر زرتاشہ کو آگے بیٹھا کر بولی تھی
پر مسکراتے ہوئے دیکھ سلال کو رہی تھی جو اب غصے سے اسے دیکھ رہا تھا
یہ لو میری گاڑی کی کیز وہ اس سے اس کی گاڑی کی کیز چھین کر اپنی گاڑی کی کیز اس کے ہاتھ میں دے کر اس کی گاڑی میں بیٹھ چکا تھا
اسے بائے بائے کرتے ہوئے گاڑی کو باہر نکال کر لے جا چکا تھا
حیاء پیچھے سر جھٹک کر سلال کی گاڑی کی طرف بڑھ گئی تھی
اور پھر وہ اور زویا اس کی گاڑی میں بیٹھ کر گھر کی طرف نکل گئیں تھیں
❤️❤️❤️❤️
بولنے کی آوازوں سے فریحہ اُٹھی تھی اس نے بیٹھتے ہوئے اپنے اردگرد دیکھ جہاں پری خود سے ہی بڑبڑاتے ہوئے ادھر سے اُدھر چکر لگا رہی تھی
کیا ہوا ہے پری تمہیں فریحہ نے اپنا سر اپنے ہاتھوں میں گرا کر بمشکل اس سے پوچھا تھا
تم تم اُٹھ گئی ہو فریحہ کی آواز سن کر پری اسے کے پاس گئی تھی
یار صبح سے تمہاری ماما اور حیاء کی بہت دفعہ کال آ چکیں ہیں پلیز ان سے ایک دفعہ بات کر لو ابھی ان کو اس بارے میں مت بتاؤ دادا ان کو سب بتا دیں گے
شاید وہ پریشان ہو رہیں ہیں اسی لیے وہ فون کر رہیں ہیں ہو سکے تو بات کر لو پر ان کو اس بارے میں نہ ہی بتاؤ پری اس کے ہاتھوں کو اپنے ہاتھوں میں لے کر اسے سمجھاتے ہوئے بولی تھی
پری کیا یہ تمہارے ہی لفظ ہیں تم کب سے اتنی سمجھ دار ہو گئی ہو فریحہ مسکرا کر بولی تھی
ہاہاہاہاہا میں بھی اس کی باتیں سن کر یہی سوچ رہا تھا کہ ہماری پری کب سے اتنی سمجھ داری والی باتیں کرنے لگی ہے باہر سے آتا ہوا احد فریحہ سے بولا تھا
فریحہ نے اسے دیکھ کر اپنے لب بیچے تھے
فریحہ پلیز غصہ مت کرنا میں تو تم کو پہلے بھی اپنی بہن سمجھتا تھا پر اب تو تم سچ میں میری بہن ہو وہ اس کے سر پر ہاتھ رکھ کر بولا تھا
عاقب چاچو کی سزا ہمیں تو مت دو اور ویسے بھی تم جتنا مرضی غصے ہو میں نہیں جانے والا یہاں سے کیوں کے زینی کے بعد اب تم ہی میرے سگی بہن ہو احد سیرس بات کرتے ہوئے بعد میں مزاق سے بولتا فریحہ کو ہنسا گیا تھا
ٹھیک ہے احد لالہ میں تو آپ کی کچھ نہیں لگتی نہ میں وہ منہ بنا کر بولی تھی
ہاہاہاہاہا جی ہاں میں کوئی بھی چڑیل بہن افورڈ نہیں کر سکتا اسی لئے آپ چھٹی کریں وہ اسے چھیڑاتے ہوئے بولتا اس کی ناک دابا گیا تھا
لالہ ایسا مت کیا کریں وہ جھنجھلا کر بولی تھی
ان دونوں کی نوک جھونک سے فریحہ مسکرا دی تھی
یہ لو فریحہ فون تم بات کر لو گھر میں تب تک تمہارا ناشتہ یہی لے کر آتیں ہوں پری اسے فون دے کر احد کو کھینچتے ہوئے باہر لے گئی تھی
چڑیل کہی کی ایسے ناخن مارتی ہو مجھے ہاتھ چھوڑو احد اس کے کھنچے جانے پر ایکٹنگ کرتے ہوئے بول رہا تھا
فریحہ ان دونوں کو اس طرح جاتے دیکھ کر مسکرا دی
پھر فون کو کافی دیر ہاتھوں میں پکڑا کر بیٹھی رہی اور پھر ہمت جمع کرتے ہوئے فون کیا تھا حیاء کو
اسلام وعلیکم فریحہ حیاء کے فون اُٹھانے پر بولی تھی
وعلیکم السلام بہن تم تو شادی میں جا کر ہمیں بھول ہی گئی ہو حیاء گاڑی چلاتے ہوئے موبائل کو سپیکر پر کر کے بول رہی تھی
نہیں ایسا تو کچھ نہیں ہے بس ویسے ہی رات کو طبیعت ٹھیک نہیں رہی تھی فریحہ اپنا سر بیڈ کی پشت کے ساتھ لگتے ہوئے آنکھوں کو بند کر کے بولی تھی
کیوں کیا ہوا طبیعت کو سب ٹھیک تو ہے نہ حیاء فکرمندی سے بولی تھی
ہاں ہاں ٹھیک ہے بس ویسے ہی مجھے چھوڑو تم اپنی سناؤ کیا کر رہی ہو اور ماما وغیرہ بھی سب ٹھیک ہیں کیا فریحہ زہمی سی مسکراہٹ کے ساتھ خود کو سنبھال کر بولی تھی
ہاں الحمدللہ سب ٹھیک ہیں اور اس وقت ہم شیفٹ ہو رہیں ہیں عادل انکل کے گھر اور میں گاڑی چلا رہیں ہوں کیوں کے ہم سب وہیں جا رہیں ہیں
عادل انکل کے گھر وہ کیوں حیاء کے بولنے پر فریحہ خیران ہو کر بولی تھی
تم جب آؤ گی تو سب پتہ چل جائے گا اسی لئے اب بس سیدھا عادل انک کے گھر ہی آنا حیاء گاڑی چلاتے ہوئے بولی تھی
حیاء کیا جو میں سوچ رہیں ہوں وہ سچ ہے فریحہ خوشی سے بولی تھی
مجھے کیا پتہ تم کیا سوچ رہی ہو فریحہ حیاء جان بوجھ کر اسے تنگ کرتے ہوئے بولی تھی
حیاء پلیز بتاؤ مجھے کیا سچ میں ماما نے وہ اپنی بات کو ادھورا چھوڑتے ہوئے بولی تھی
جی سچ میں ماما نے عادل انکل سے نکاخ کر لیا ہے کل ہی اور ہم وہاں سے اب عادل انکل کے گھر شیفٹ کر رہیں ہیں اور جب تم آؤ گی تو ایک اور بھی سپرائز ہو گا تمہارے لیے حیاء مسکرا کر بولی تھی
حیاء میں خوش ہوں ماما کے لیے کے انہوں نے بھی اپنی زندگی کا فیصلہ کر لیا اپنے لیے فریحہ سب سوچتے ہوئے مسکرائی تھی
چلو ٹھیک ہے تم آرام سے ڈرائیونگ کرو پھر فون کروں گی تمہیں فریحہ اسے مسکرا کر خدا حافظ بولتے ہوئے فون کو بند کر چکی تھی
وہ آنکھوں کو بند کیے مسکرا رہی تھی فون ابھی بھی ہاتھ میں ہی تھا
تب ہی حاضر کمرے میں آیا تھا اسے اس طرح مسکراتے ہوئے دیکھ کر اس کی طرف ہی دیکھی جا رہا تھا کل ساری رات رونے کے بعد آج اس کے چہرے پر مسکراہٹ دیکھ کر حاضر کو خود کے اندر سکون محسوس ہو رہا تھا
حاضر لالہ آپ کب آئے پری کے بولنے پر فریحہ نے چونک کر حاضر کو دیکھا تھا جو دروازے کے پاس کھڑا اب پری کی طرف دیکھ رہا تھا
میں میں تب آیا جب بہاروں میں پھول کھل رہیے تھے وہ مسکراتے ہوئے فریحہ کی طرف دیکھ کر بولا تھا جس کے لب حاضر کو دیکھ کر سکڑ گیے تھے
ہاہاہاہاہا لالہ آپ کی باتیں مجھے سمجھ نہیں آتیں وہ ناشتہ کو ٹیبل پر رکھتے ہوئے بولی تھی
کوئی بات نہیں پری بچے جس کا سمجھانا تھا وہ سمجھ گئی ہوں گی وہ مسکراتے ہوئے فریحہ کو دیکھتا صوفے پر جا کر بیٹھا گیا تھا
لالہ آپ بھی ناشتہ کر لیں اور فریحہ تم بھی فریش ہو کر ناشتہ کر لو اُٹھ جاؤ اب یار پری فریحہ کو کھینچ کر اُٹھاتے ہوئے بولی تھی
وہ فریش ہو کر باہر آئی تو پری وہاں نہیں تھی
ادھر آؤ فریحہ حاضر اسے آواز دے کر اشارہ کرتے ہوئے بولا تھا
فریحہ نے ڈرتے ہوئے اپنا سر اوپر اُٹھ کر اسے دیکھ تھا اسے اپنی طرف دیکھتے پا کر پھر سے اپنا سر جھکا کر اس کی طرف چلی گئی تھی
اس سے تھوڑا دور ہو کر بیٹھ گئی تھی
ادھر بیٹھ کر وہ اسے اپنی طرف کھینچتے ہوئے بولا تھا پھر اس کی پلیٹ میں بریڈ رکھ کر چائے ڈال کر اس کے آگے کی تھی
چلو شروع کرو اور یہ سب ختم کرو جلدی وہ اس کے آگے کرتے ہوئے بول کر خود اسے دیکھنے لگا جو کانپتے ہوئے ہاتھوں سے ناشتہ کرنے لگی تھی
حاضر اسے ایسے دیکھ کر ٹیبل پر پڑھے سگریٹ کے پیک میں سے سگریٹ نکل کر پینے لگا
پلیز اس کو بند کر دیں میری سانس بند ہو جاتیں ہے اس سے فریحہ منہ بنا کر حاضر کے سگریٹ پینے پر بولی تھی
حاضر مسکراتے ہوئے اُٹھ تھا اور باہر بالکنی میں باہر چلا گیا تھا
میرے لیے کیوں چھوڑیئے گئے اس خرافات کو وہ منہ بنا کر بولتی ہوئی ناشتہ کو پیچھے دھکیل کر چائے کے کپ کو لبوں سے لگاتے ہوئے طنزیہ سا مسکرا دی تھی
حاضر شاہ تم بھی عاقب شاہ کی طرح ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تم سب ایک جیسے ہو اس نے بھی پہلے میری ماں سے پیار میں پڑھ کر شادی کی اور پھر بیٹیاں پیدا ہونے پر مارنا اور ذلیل کرنا
پھر ایک دن سب کے سامنے رسوا کر کے چھوڑ دینا اس خاندان کا مشغلہ ہے وہ سوچتے ہوئے اُٹھی تھی اور پری کے کمرے کی طرف بڑھ گئی تھی
حاضر جب کمرے میں آیا تو اسے کمرے میں نہ پا کر مٹھیوں کو زور سے بند کرتے ہوئے دیوار پر مکا مارا تھا کیونکہ کے ناشتہ بھی ویسے کا ویسا ہی پڑھا ہوا تھا
غصے سے پری کے کمرے میں گیا تھا جہان وہ اسے اپنے کپڑے بیگ میں ڈالتے ہوئے دکھائی دی تھی
اچھا ہے پیک کر لو اور سب میرے روم میں شیفٹ کرو حاضر اس کے سر پر کھڑا ہو کر بولا تھا
آپ کے روم میں شیفٹ ہوتی ہے میری جوتی میں اپنے گھر جا رہیں ہوں وہ غصے سے بولتے ہوئے اپنی سب چیزیں بیگ میں رکھ رہی تھی
گھر جانے کا نام آئندہ مت لینا اب تمہیں یہی رہنا ہے ہمیشہ وہ اس کا بازو پکڑ کر اپنے سامنے کرتے ہوئے بولا تھا
آپ میرے ساتھ زبردستی نہیں کر سکتے میں نہیں رہنا چاہتی آپ کے ساتھ کیوں نہیں سن رہیے آپ میری بات وہ جھنجھلاتے ہوئے بولی تھی
کیونکہ تم بیوی ہو میری اور اب تمہیں میرے ساتھ ہی رہنا ہے چاہیے تمہارا دل ہو یا نہ ہو اور اب تو تم سے اور بھی رشتہ نکل آیا ہے وہ اس کے چہرے پر آئی لیٹ کو پیچھے کرتے ہوئے بولا تھا
ہاں آج ہمارا بھی ریسپشن ہے اس لیے تھوڑی دیر تک بیوٹشن آ جائے گی تیار ہو جانا کوئی ناٹک نہیں برداشت کر سکتا میں خود کو تیار کر لو ہر چیز کے لیے اس خویلی کی بیٹی ہو تم اور پورا حق رکھتے ہیں سب تم پر
دادا بات کر لئیے گے تمہاری ماما سے پر ہم آج سب کے سامنے علان کرنے والے ہیں ہمارے رشتے کے بارے میں اس لیے کوئی بھی ایسا کام مت کرنا جس سے تمہیں نقصان اُٹھانا پڑھے
ماں اور بہنوں سے بھی ملنے نہ دوں میں تم کو اس لیے میری جان کوئی بھی کوئی بھی غلط خرکت مت کرنا وہ اس کے گال تھپتھپا کر بولا تھا
فریحہ سے آنسوؤں کی وجہ سے زبان سے ایک لفظ بھی ادا نہیں ہو رہا تھا وہ آنکھوں میں نمی لیے بس اسے دیکھ رہی تھی
آ۔۔۔۔۔۔۔۔۔آپ ایسا کچھ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کچھ نہیں کریں گے میں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اپنی ماما۔۔۔۔۔۔۔ماما کے بغیر کسی سے کوئی بھی رشتہ۔۔۔۔۔۔رشتہ نہیں بنانا چاہتی وہ روتے ہوئے بے رابط طریقے سے بولی تھی
رشتہ تو بن چکا ہے اب رونے دھونے سے کیا فائدہ ہے فریحہ رو رو کر صرف تم خود کو ہلکان کر رہی ہو رونے سے کچھ نہیں بدلنے والا اسی لیے چپ چاپ خود کو سنبھالیں آپ سمجھی
وہ اس کے آنسو اپنے ہاتھوں سے صاف کرتے ہوئے بولا تھا
میں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔یہ رشتہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔. نہیں رکھوں گی ۔۔۔۔۔۔اگر اگر میری میری ۔۔۔۔۔۔۔ماما نہیں مانے گی تو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میں توڑ دوں گی یہ رشتہ اور آپ میرے ساتھ کوئی بھی زبردستی نہیں کریں گے
یہ رشتہ تو نہیں ٹوٹے گا پر اگر تمہاری ماما نے اس رشتے کو توڑنے کی کوشش کی تو تمہارا اور ان کو رشتہ ضرور توڑ دوں گا میں ساری زندگی نہیں ملنے دوں گا میں تم کو ان سے وہ فریحہ کی بات سن کر غصے سے سرد لہجے میں اس کو بالوں سے پکڑا کر بولا تھا
پھر اسے چھوڑتے ہوئے باہر کی طرف بڑھ گیا تھا
تیار ہو جانا چپ چاپ ورنہ میں خود آ کر تمہیں تیار کروں گا اور حاضر شاہ کبھی دھمکی نہیں دیتا جو کہتا ہے وہ سچ بھی کر کے دیکھتا ہے وہ مڑے بغیر بولتے ہوئے وہاں سے نکل گیا تھا
❤️❤️❤️❤️❤️
زینی کب سے اُٹھی ہوئی تھی وہ تیار ہو کر صوفے پر بیٹھی ہوئی تھی
تبریز نیند سے بیدار ہو کر جب بیڈ سے نیچے اترا تو زینی کی طرف دیکھا جو گھٹنوں میں منہ دیے صوفے پر بیٹھی ہوئی اس کی کمر سلکی بالوں. سے چھپی ہوئی تھی
وہ مسکرا کر اسے دیکھتا واشروم کی طرف بڑھ گیا تھا
دروازے کی آواز سن کر زینی نے سر اُٹھ کر دیکھا تھا دروازے کو بند دیکھ کر پھر سے چہرے کو جھکا گئی تھی
تھوڑی دیر بعد تبریز ٹاول سے بالوں کو صاف کرتے ہوئے باہر آیا تھا زینی کو اسی خالت میں دیکھ کر بالوں کو صاف کر کے ٹاول کو زینی کے اوپر اُچھالتے ہوئے خود آئینہ کی طرف جا کر اپنے بالوں کو کنگی کرنے لگا
زینی اپنے اوپر ٹاول گرنے کی وجہ سے جلدی سے ڈر کر صوفے کے اوپر سے اُٹھ گئی تھی
تبریز کو شیشے کے سامنے مسکراتے ہوئے دیکھ کر اس کی شرارت کو سمجھ کر غصے سے ٹاول کو اُٹھ کر زمین پر مارا اور خود پھر سے صوفے پر بیٹھ گئی تھی
زینی ادھر آؤ میرے پاس جلدی تبریز اپنے لہجے میں کوئی بھی لچک کے بغیر بولا تھا
.
زینی اسے دیکھتے ہوئے آہستہ آہستہ قدم اُٹھاتی اس کی طرف بڑھی تھی اس نے اسے کھینچ کر اپنے سامنے کھڑا کر لیا تھا
خود الماری کی طرف جا کر اس میں سے کچھ لے کر آیا تھا
جب زینی کی طرف آیا تو اس کے ہاتھ میں ایک ڈیبی تھی جس میں ایک چین تھی
یہ تمہارا منہ دکھائی کا گفٹ ہے اگر یہ نہ دیتا تو تم میرے گناہوں کی فرصت میں ایک. اور گناہ شامل کر دیتی وہ اس کو چین پہناتے ہوئے بولا تھا
پھر اپنے لب اس کے گال پر رکھے تھے
اتنا تو میرا بھی حق بنتا ہے نہ وہ آئبرو اُٹھ کر بولتا اس کے ماتھے پر لب رکھ گیا تھا
زینی بس اسے دیکھی جا رہی تھی
کیا اتنا ہنڈسم لگ رہا ہوں کے تمہاری نظر نہیں ہٹ رہی مجھ پر سے وہ اس کے گال سہلاتے ہوئے بولا تھا
زینی بینا بولے اس کے ہاتھ کو پیچھے کرتے ہوئے بیڈ پر پڑھی اپنی چادر کو اپنے کندھوں پر اُڑھ کر تبریز کا ہاتھ پکڑ کر اس کے ساتھ باہر جانے لگی
تبریز نے اس کے ہاتھوں میں سے اپنا ہاتھ نکال کر اس کی کمر پر اپنا ہاتھ رکھ کر اسے قریب کر لیا تھا
نہ چاہتے ہوئے بھی زینی کے چہرے پر مسکراہٹ آ گئی تھی جو تبریز نے دیکھ کر سکون کا سانس لیا تھا
❤️❤️❤️❤️❤️
ہیلو اس وقت کس کو موت پڑھ گئی ہے جو مجھے فون کر کے میری نیند خراب کر دی خبہ جو دن کے بارہ بجے تک سوئی ہوئی تھی فون کی بیل پر اُٹھتے ہوئے جھنجھلاتے ہوئے بولی تھی بیڈ پر اڑھی ترچھی لیٹی ہوئی تھی آنکھوں کو ابھی بھی کھولنے کی زہمت نہیں کی تھی
ہم یہ کون سا سونے کا وقت ہے مس خبہ شاہ آپ کے ماں باپ نے آپ کو کافی زیادہ بگاڑ کر رکھا ہوا ہے جتنی جلدی ہو سکے اپنی یہ بُری عادتیں بھول جائیں تو اچھا ہے ورنہ آگے جب آپ میرے پاس آئیں گی تو آپ کو بہت مشکل ہو گی دوسری طرف کی آواز سن کر خبہ نے اپنے لب بیچے تھے
اور ہاں تھوڑی تمیز بھی سیکھ لو بلکہ تھوڑی نہیں پوری تمیز سیکھوں ورنہ واجب رانا نے جب تم کو تمیز سکھائی نہ تو تم اپنے ہونے پر روئو گی کیونکہ کے واجب رانا جتنا اچھا ہے اس سے زیادہ برا ہے اسی لئے جتنی جلدی ہو سکھے اپنے آپ کو بدل لو
صبح چھ بجے اُٹھ کرو گی آئندہ تم سنا تم نے اور گھر کے کاموں میں بھی اپنی ماما کا ساتھ دو گی اچھی لڑکیوں کی طرح کا تمہارا رویہ ہونا چاہیے سب کے ساتھ ورنہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تم سمجھ گئی ہو گی
بھاڑ میں جاؤ تم واجب رانا خبہ کسی کے لیے نہیں بدل سکتی اور بہتر ہے اپنے لیے اپنی جیسی کوئی ڈھونڈ لو میرا پیچھا چھوڑ دو سنا تم نے وہ غصے سے غراتے ہوئے بولی تھی
ہو تو تم مجھ سے بڑی پر تمیز تم میں تھوڑی سی بھی نہیں ہے اب تم کو تو میں سیدھا کروں گا وہ غصے سے بولتے ہوئے فون کو رکھ چکا تھا
دفع جاؤ میری طرف سے وہ دل میں بولتے ہوئے فون کو اُٹھ کر پیچھے پھینکتے ہوئے پھر سے کمبل میں گھس گئی تھی
تو مس شاہ جلدی ہی تم کو خود راہراست پر لے کر آنا ہو گا بہت بگڑی ہوئی ہو تم اب یہ تمہاری ساری اکڑ واجب رانا ہی اُتارئے گا اکڑی ہوئی شہزادی وہ سگریٹ کا دھواں ہوا میں چھوڑتے ہوئے بولا تھا
❤️❤️❤️❤️
آج ولیمے کا دن تھا اسی لیے سب کے کہنے پر آج حاضر اور فریحہ کا ریسیپشن رکھ دیا گیا تھا
حاضر نے فریحہ کی ایک نہیں چلنے دی تھی
اور اب وہ سب کے بیچ سٹیج پر سر کو جھکا کر بیٹھی ہوئی تھی حاضر ابھی ابھی اس کے پاس سے اُٹھ کر سب مردوں کے درمیان گیا تیاری اور کھانے کو دیکھ رہا تھا
سٹیج پر ایک طرف زینی اور دوسری طرف فریحہ بیٹھی ہوئی تھی پری بھی فریحہ کے پاس بیٹھی ہوئی تھی وہ فریحہ سے باتیں کر کے اس کو ریلکس فیل کر وا رہی تھی
حاضر شاہ اچھا نہیں کیا تم نے میرے ساتھ مجھے ایسے سب میں اکیلے چھوڑ کر وہ خود سے سوچتے ہوئے بولی تھی آنکھوں سے بے اختیار ہی آنسو نکل آیا تھا
سامنے کھڑے حاضر کی نظر فریحہ پر ہی تھی جو پنک کلر کی میکسی جس پر سلور کلر کا کام تھا پہنے ولیمے کی دلہن کی مناسبت سے کیا میکاپ اور ہلکی پھلکی جیولری پہنے پیاری لگ رہی تھی
حاضر کو آج وہ اپنے دل پر پوری طرح سے قابض ہوتیں ہوئی محسوس ہو رہی تھی وہ سب کے بیچ بھی بار بار اسے ہی دیکھ رہا تھا جس نے پورے وقت ایک دفعہ بھی اپنا جھکا ہوا سر اوپر اُٹھا کر نہ دیکھا تھا
لالہ آپ نے تو سچ میں اپنا کیا سچ کر دکھایا آپ نے تو تبریز لالہ کا پورا پورا مقابلہ کیا ہے ویسے احد اس کے پیچھے آ کر بولا تھا
لالے کی جان تجھے ایسے کیسے جانے دیتا اپنی شادی کی بریانی کھائے بینا حاضر اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر بولا تھا
ہاہاہاہاہا لالہ آپ بہت تیز نکلے ہیں پیسے بچانے کے چکر میں شادی کر لی پر ہمیں آپ کے پیسوں کی بریانی اب کسی فائف سٹار ہوٹل میں ہی کھانی ہے اسی لئے اپنی جیب تھوڑی ڈیلی ہی رکھیے گا وہ قہقہہ لگاتے ہوئے بولا تھا
لالے کی جان تیرا لالہ اتنا خوش ہے تو جہاں کہے گا وہاں کھانا کھلا دوں گا حاضر اسے مسکرا کر بولا تھا
ہاہاہاہاہا شکریہ لالہ پھر آپ بھی اب دیکھیں ہم بھی آپ کی خوشی کو پوری طرح کیچ کریں گے اور بھرپور خرچہ ہو گا آپ کا احد بولتے ہوئے سٹیج کی طرف گیا تھا جہان پری فریحہ اور زینی بیٹھی ہوئی تھیں
حاضر کی نظر ابھی بھی فریحہ پر تھی جس نے پورے وقت میں پہلی دفعہ مسکرا کر احد کی طرف دیکھ تھا
اس کے مسکرانے سے حاضر کے دل نے ایک بیٹ مس کی تھی اور وہ بھی مسکراہٹ کے ساتھ سٹیج کی طرف بڑھ گیا تھا
کیا سنائے جا رہا ہے میری بہنوں اور بیوی کو حاضر کے بولنے پر فریحہ کے مسکراتے ہوئے لب سکڑ گیے تھے اس نے نظریں اُٹھ کر اس کی طرف دیکھا تھا اور پھر سے نظروں کا زاویہ بدل لیا تھا
آپ کی بہنیں تو ایک لفظ نہیں سنتیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔. ۔البتہ آپ کی بیوی میری پیاری سی بہن ہے اور وہ صرف میری ہی سنئیے گی احد کے مسکرا کر کہنے پر فریحہ نے اس کی طرف دیکھا تھا
عاقب شاہ دور کھڑے اسے دیکھ رہیے تھے وہ ایک دفعہ فریحہ کے قریب آئے تھے پر اس کا غصہ دیکھ کر پھر سے واپس چلیے گیے تھے