Rate this Novel
Episode 12
اسلام وعلیکم انکل آپ صبح صبح یہاں میری ماما کی ایک چھٹی کرنے پر آپ ان کو یہاں لینے آ گیے ہیں آپ کا ایک دن بھی گزارا نہیں ہوتا میری ماما کے بینا حیاء عادل صاحب جو آج صبح نورین کے بلانے پر گھر آئے تھے حیاء ان کو سلام کر کے ان کو بولنے کا کوئی بھی موقع دیے بینا بولتی جا رہی تھی
آپ بابا کو بولنے کا موقع دیں گی تو وہ بولیں گے نہ مس جو بھی آپ کا نام ہے سلال جو عادل صاحب کے ساتھ آیا تھا حیاء کو نان سٹاپ بولتے دیکھ کر بولا تھا
حیاء حیاء بنتِ نور ہے میرا نام ویسے انکل یہ کون ہے سڑی ہوئی شکل والا حیاء سلال کو اپنی بےعزتی کا بدلہ لینے کے لیے جان بوجھ کر ایسے بولی تھی
مس سڑی شکل ہو گی آپ کی میں ایک ہنڈسم لڑکا ہوں مرتیں ہیں لڑکیاں مجھ پر آپ پہلے اپنی شکل دیکھے چشمش کہی کی سلال بھی کہاں حساب رکھنے والا تھا وہ بھی اسے اسی کی طرح جواب دیتے ہوئے بولا تھا
یو کوجے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حیاء تمیز سے بھائی ہے آپ کا پیچھے سے نورین کی آواز سن کر حیاء نے اپنی زبان کو بند کیا تھا سلال کو گھورتے ہوئے وہاں صوفے پر بیٹھا گئی تھی
سلال کی تو نورین کے ساتھ آتیں زرتاشہ کو دیکھ کر ہی آنکھوں میں خوشی پھیل گئی تھی
نورین زویا اور زرتاشہ کو لے کر وہی پاس ہی صوفے پر بیٹھی تھی سلال کی ساری نظر زرتاشہ پر تھی جو سلال کو دیکھ کر ڈر کر نورین کے ساتھ چپکی ہوئی تھی
مجھے آپ تینوں بہنوں سے بات کرنیں تھی اسی لئے ہم دونوں نے تم چاروں کو اکٹھے کیا ہے عادل کے بولنے پر سب نے ان کی طرف دیکھا تھا
سلال کے علاوہ وہ تینوں تجسس سے عادل صاحب کو دیکھ رہیے تھے سلال کی نظروں کا مرکز صرف اور صرف زرتاشہ تھی جو اس سے کنفیوز ہوتیں ہوئی نورین کے پیچھے گھسنے کی کوشش میں تھی
میں اور نورین ۔۔۔۔۔۔ہم دونوں ایک دوسرے کے ساتھ نکاح کرنے والے ہیں رات کو عادل صاحب ٹھیر ٹھیر کر بولے تھے
دوسری طرف نورین نے اپنی بیٹیوں کو دیکھ تھا جو خیران ہوئی تھیں نورین اپنی بیٹیوں کے ریکشن سے ڈر رہیں تھیں
یہ یہ کیسے ہو سکتا ہے حیاء کھڑے ہوتے ہوئے منہ پر ہاتھ رکھ کر بولی تھی
نورین نے بے بسی سے کبھی عادل کو اور کبھی حیاء کو دیکھا رہیں تھیں
ماما ابھی تو فریحہ کو آنے دیں پھر بڑا سا فنکشن رکھیں گئے آپ دونوں کے نکاح کا حیاء خوش ہوتے ہوئے بولتی نورین کو خیران کر گئیں تھی
جب کے دوسری طرف عادل اپنا سانس بہلا کرتے ہوئے مسکرا دیے تھے
آ.۔۔۔آ ۔۔۔۔آپ کو کوئی اعتراض نہیں ہے اس بات پر حیاء نورین نے ڈرتے ڈرتے اس سے بولیں تھیں
ماما مجھے کیوں اعتراض ہو گا آپ کی لائف ہے کل کو ہماری شادیوں کے بعد آپ اکیلے کیسے رہتی میں اور فریحہ تو پہلے ہی آپ اور عادل انکل کی شادی کا سوچ رہیں تھی میں تو بہت خوش ہوں
ویسے بھی عادل انکل کے ساتھ ہمیں یہ سڑا ہو بھائی بھی مل جائے گا وہ خوش ہوتے ہوئے سلال کو جلانے سے باز نہیں آئی تھی
ہاں میں تم تینوں کا بھائی ہوں سوئے زرتاشہ کے وہ سیدھے زرتاشہ کی طرف دیکھ کر بولا تھا
نورین نے اور سب نے خیریت سے سلال کو دیکھ تھا زرتاشہ تو نورین کے اور بھی پیچھے چپ گئی تھی عادل صاحب نے اپنا سر پکڑ لیا تھا ان کو سلال سے ایسی امید نہیں تھی
آنٹی میں سیدھی بات کروں گا آپ سے مجھے زر چاہیے میں بہت پیار کرتا ہوں آپ کی بیٹی سے اور شادی کرنا چاہتا ہوں اور رات کو آپ کے نکاح کے ساتھ میرا اور زر کا نکاح بھی ہے
ویسے بھی آپ کی بیٹی آپ کے سامنے رہیے گی ہمیشہ اس سے بڑی کیا بات ہو سکتی ہے آپ کے لیے پلیز آنٹی آپ مان جائیں زرتاشہ ابھی بہت نہ سمجھ ہے
نورین نے خیریت سے اس کی طرف دیکھا تھا اور پھر عادل صاحب کی طرف جو اپنے بیٹے کو دیکھ کر مسکرا رہیے تھے
نورین آپ کی جو بھی مرضی ہو گی اس میں میں آپ کے ساتھ ہوں پر اتنا ضرور کہنا چاہتا ہوں کہ میرے بیٹے کی زندگی میں آنے والی یہ پہلی لڑکی ہے
اور آخری بھی سلال کے بولنے پر نورین نے اس کی طرف دیکھ تھا اور پھر زرتاشہ کی طرف جو سب کو خیران ہو کر دیکھ رہی تھی
ہم مجھے منظور ہے وہ کچھ سوچ کر بولیں تھیں میں اپنی بیٹی کو ہمیشہ خوش دیکھنا چاہتی ہوں وہ زرتاشہ کے سر پر پیار دیتے ہوئے بولیں تھیں
ماما تو پھر ہم شاپنگ پر جائیں حیاء کے بولنے پر عادل اور نورین نے مسکرا کر اسے دیکھ تھا
جی بیٹا آپ جاؤ رات تک سب تیاریاں مکمل کرنیں ہیں مجھے بھی اب تو دو دو رشتے جڑنے والے ہیں عادل حیاء کو بولتے ہوئے سلال کو دیکھ رہیے تھے جو زرتاشہ کو مسکرا کر دیکھ رہا تھا
ہاں تو چلو سلال اُٹھ جاؤ ہمیں شاپنگ پر لے کر جاؤ تم ویسے بھی زری کو بھی تو ڈریس لے کر دینا ہے
زری تو جائے گی نہیں اس کا ڈریس میں پسند کروں گی
حیاء کے بولنے پر سلال نے اسے گھوری سے نوازا تھا
جبکہ نورین اور عادل کے چہرے پر ایک مطمئن سی مسکراہٹ آ گئی تھی
ماما میں جاؤں اپنے روم میں زرتاشہ کے بولنے پر سلال نے اسے گھور کر دیکھا تھا جو اس کی طرف نہیں دیکھ رہیں تھی
نہیں بالکل بھی نہیں تم بھی ہمارے ساتھ جا رہیں ہو تمہاری تو شاپنگ کرنیں ہے میں نے ساری اسی لئے تمہارا جانا ضروری ہے سلال پورے دھونس جمانے والے انداز میں بولا تھا
اوہ ہیلو چلو نکلو خبر دار میرے ہوتے ہوئے میری بہن پر دھونس جمائی ہو حیاء آنکھوں کو چھوٹا کر کے اسے انگلی دکھاتے ہوئے بولی تھی
تم دونوں بس کر دو لڑنا زری بیٹا آپ بھی جاؤ اس کے ساتھ سلال لے جائیں اپ اسے بھی پر پہلے سب ناشتہ کر لیں نورین کے بولنے پر سلال مسکرا دیا تھا اور حیاء نے منہ بنا لیا تھا پر وہ خوش تھی کہ اس کی بہن کو اس کی خوشیاں مل جائیں گی ایک پیار کرنے والا انسان ۔۔۔۔۔۔اور دوسرا وہ ہمیشہ ماں کے سائے میں رہیے گی
حیاء بھی سب کے ساتھ مسکراتے ہوئے ڈائنگ ٹیبل کی طرف چلی گئی تھی
❤️❤️❤️❤️❤️
انس بیٹا جاؤ خبہ کے ساتھ شاپنگ مال وہاں اس کے ڈریسز ہیں اس نے وہاں سے لینے اور اس وقت کوئی بھی فری نہیں ہے
علیشہ شاہ لیٹے ہوئے انس کو بولی تھیں
اوکے ماما آپ اسے بولیں وہ تیار ہو جائے میں بس دس منٹ تک فریش ہو کر آیا انس نے اپنے کمبل سے سر نکل کر جواب دیا تھا علیشہ سر ہلاتے ہوئے اسے جلدی آنے کا بول کر باہر نکل گئیں تھیں
حیاء کیوں میرے دماغ پر سوار ہوتیں جا رہی ہو انس بیڈ پر بیٹھے اپنا سر ہاتھوں میں گرائے سوچ رہا تھا
انس کن سوچوں میں گرئے ہو جلدی چلو پھر وقت ہی کتنا رہ جائے گا خبہ کے دروازہ کھول کر بولنے پر وہ جلدی سے فریش ہونے چلا گیا تھا
❤️❤️❤️❤️❤️
فریحہ چلو باہر چل کر ناشتہ کرتے ہیں پری فریحہ کے پاس آئی تھی جو باہر بالکنی میں کھڑی ہر طرف مسکرا کر دیکھ رہی تھی
کتنا پیارا ہے نہ تمہارا گاؤں پری اور یہاں کے لوگوں بھی کتنے اچھے ہیں تمہارے سب کزنز بھی کتنے اچھے ہیں کتنا پیار ہے آپس میں سب کے وہ پری کو بولی تھی خود اس کی نظریں سامنے کی طرف تھیں
ہاں سچ میں سب بہت پیارے ہیں اور میرے سب لالہ بھی پیارے ہیں بس ایک عالی کو چھوڑ کر باقی سب تو اچھے اور مجھے پیار کرتے ہیں
ہاہاہاہا پری کیوں وہ تمہیں ڈانٹتے ہیں کیا وہ پری کے منہ بنا کر کہنے پر قہقہہ لگاتے ہوئے بولی تھی
جی ہاں وہ مجھے بہت زیادہ ڈانٹتے ہیں اسی لیے مجھے نہیں پسند ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بری بات ہے پری ہمارے بڑے ہمیں ہمارے اچھے کے لیے ہی ڈانٹتے ہیں کبھی کبھی ہمیں کچھ باتوں کی سمجھ نہیں آتیں پر بعد میں سب پتہ لگ جاتا ہے فریحہ اسے مسکرا کر بولی تھی
فریحہ تم کتنی اچھی ہو یار تم نہ ایسا کرو میرے لالہ سے شادی کر لو پھر تم ہمیشہ میرے پاس ہی رہو گی
پری چلو ناشتہ کریں.۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مجھے لگ رہا ہے ناشتہ نہ کرنے کی وجہ سے تمہارا دماغ بند ہو رہا ہے فریحہ اسے گھورتے ہوئے بولی تھی
ہاہاہاہا اوکے وہ ہنستے ہوئے بولتی اسے اپنے ساتھ لے کر نیچے چلیں گئی تھی
حاضر کی نظر نیچے آتیں ہوئی فریحہ پر گئی تھی جو سادہ سی قمیض ٹرؤزر میں بھی اسے اپنے دل میں اترتیں ہوئی محسوس ہو رہی تھی
دادا کی نظر حاضر پر گئی تھی جو ان کو سامنے آتیں ہوئی لڑکی کو دیکھ کر مسکرا رہا تھا دادا کو آج اس کی نظروں میں بہت کچھ پڑھنے کو ملا تھا پر اس دفعہ ان کا سب سے ضدی اور پیارا پوتا تھا جس کے لیے وہ کسی بھی حد سے گزر سکتے تھے
اور ان کی نظروں نے اپنے پوتے کی پسندیدگی پڑھ لی تھی
فریحہ کی جب نظر حاضر پر پڑھی تو وہ اسے غصے سے گھورتے ہوئے سر کو نیچے کر گئیں تھی
اسلام وعلیکم دادا پری دادا شاہ سے ملتے ہوئے بولی تھی
دادا یہ دیکھیں یہ میری دوست ہے فریحہ اور فریحہ یہ میرے دادا ہیں وہ ان دونوں کو ملاتے ہوئے بولی تھی
اسلام وعلیکم فریحہ نے بھی ان کو سلام کیا تھا جس سے وہ ان دونوں کو جواب دیتے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے مسکرائے تھے
پری فریحہ چلوں تم دونوں بھی وہاں دوسرے روم میں ناشتہ کرنے سب لڑکیاں وہیں ہیں
خنا شاہ کے بولنے پر وہ دونوں اُٹھ کر چلیں گیں تھیں
حاضر شاہ کی نظریں سب کے موجودہ ہوتے ہوئے بھی بے باقی سے فریحہ پر تھیں اسے کسی کی پرواہ نہیں تھی
حاضر جاؤ باہر عاقب شاہ کے پاس کچھ ضروری کام ہے وہاں سائیڈ پر وہاں کے انتظامات دیکھنے ہیں کسی چیز کی کمی نہیں رہنی چاہیے دادا شاہ حاضر کو دیکھ کر بولے تھے جو خود میں ہی گم تھا
جی دادا آپ فکر ہی مت کریں سب انتظامات ہوجائیں گے میں جاتا ہوں ابھی
خنا تمہارے بیٹے کے تیور دیکھ کر مجھے لگتا ہے تمھاری دوسری بہوں بھی جلد ہی آنے والی ہے دادا شاہ کے اس طرح مزاق میں بولنے پر خنا نے خیران ہوتے ہوئے ان کو دیکھا تھا
ج جی وہ ان کو خیریت سے دیکھ کر بس اتنا ہی بول پائیں تھیں
ہم ہمیں ہمارے پوتے کی خواہش سے بڑھ کر کچھ بھی نہیں پتہ کرو اس لڑکی کے بارے میں سب کچھ اور حاضر سے بھی پوچھوں تاکہ ہم اپنے بیٹے کے سر پر سہرا دیکھ سکیں وہ مسکرا کر بولتے ہوئے خنا شاہ کو خیران چھوڑ کر باہر نکل گیے تھے
پر کوئی نہیں جانتا تھا کہ قسمت کیا فیصلہ کرنے والی ہے
❤️❤️❤️❤️
سلال کب سے زرتاشہ سے اکیلے میں بات کرنے کا موقع ڈھونڈ رہا تھا پر وہ حیاء ہی کیا جو اس کے ہاتھ میں موقع دیے دے
وہ زرتاشہ کا ہاتھ ایک پل بھی نہیں چھوڑا رہی تھی وہ پورے مال میں سلال کو جان بھوج کر گھوما چکی تھی یہ اس کی نظر میں سلال کے لیے سزا تھی
ورنہ کپڑے تو حیاء کو پہلی ہی شاپ پر پسند آ گیے تھے زویا کا پاؤں آتے ہوئے مڑا گیا تھا اسی لیے وہ نہیں آئیں تھی سلال کے ساتھ صرف زرتاشہ اور حیاء ہی آئیں تھیں
تم اب اس شاپ پر کیا کر رہی ہو اس پر تو تم سب سے پہلے انکار کر کے گئیں تھی سلال اسے پھر سے پہلی والی شاپ میں داخل ہوتے ہوئے دیکھ کر بولا تھا
مائے ڈیر بردار مجھے یہی سب پسند آیا ہے میں تو بس سب جگہ دیکھ رہی تھی کہ اس سے اچھے بھی کوئی ہیں یا نہیں وہ اسے دل جلانے والی مسکراہٹ سے بولی تھی
جس. سے سلال کا دل کیا وہ اس کا خون پی جائے
جاؤں ہنڈسم سڑی شکل والے لے جاؤ زرتاشہ کو تب تک میں یہاں سے سامان پیک کروا لوں وہ اس کے گال کھینچتے ہوئے ہونٹوں کا پاؤٹ بنا کر بولی تھی
حیاء کی اس خرکت کو دور کھڑے انس نے بہت ہی ناگواری سے دیکھا تھا اس کے ماتھے پر کہی بل آ گیے تھے وہ آنکھوں میں شرارے لیے حیاء کو اب شاپ میں جاتے دیکھ کر خبہ کے پاس گیا تھا
خبہ تم یہاں سے اپنے کپڑے پیک کرواؤں میں ابھی آتا ہوں
دوسری طرف سلال اب زرتاشہ کو اپنے ساتھ مسکراتے ہوئے لے کر جیولری شاپ میں چلا گیا تھا
حیاء نے اپنے مطلوبہ ڈریسز نکلوا کر پیک کرنے کا بول کر خود ایک ڈریس اُٹھاتے ہوئے ڈریسنگ روم کی طرف چلیں گئی تھی
وہ ابھی ڈریسنگ روم کا دروازہ بند کرنے ہی لگی تھی کہ انس بھی اندر داخل ہو گیا تھا
تم یہاں کیا کر رہے ہو کیوں نہیں پیچھا چھوڑ دیتے میرا وہ غصے سے اس پر غرائی تھی
کون تھا وہ جس کے ساتھ کھڑی تھی تم وہ اس کے بالکل قریب ہوتے ہوئے اسے دیوار کے ساتھ لگے دیکھ کر دونوں اطراف ہاتھ رکھتے ہوئے اس کے چہرے کے قریب اپنا چہرا کرتے ہوئے بولتا اس کے ہواس کو معطل کر چکا تھا
د۔۔۔۔۔۔۔۔ د۔۔۔۔۔۔دور رہو مجھ سے انس کیا بدتمیزی ہے یہ وہ انس کی لال ہوتیں آنکھوں میں غصہ دیکھ کر ڈر اور اس کی قربت سے اٹک اٹک کر بولی تھی
میرے نزدیک آنے سے تمہیں تکلیف ہو رہی ہے اور اس کے نزدیک ہو کر ان ہاتھوں سے اس کے گال کھینچتے ہوئے تمہیں شرم نہیں آئی تھی وہ اس کے دونوں ہاتھوں کو اپنے ہاتھوں میں لے کر خود کے اور اس کے بیھچ موجود تھوڑے سے فصیلے کو بھی ختم کرتے ہوئے غرا تے ہوئے بولا تھا
انس چھوڑو مجھے تم پاگل جنونی انسان ہو اس کی ہاتھوں کی گرفت سے حیا کو اپنی کلائیوں میں جلن محسوس ہونے لگی تھی حیاء کو اس کی باتوں سے اور انداز سے ڈر لگنے لگا تھا وہ اسے خود سے دور دھکیلنے کی کوشش کر رہیں تھی
بہت تکلیف ہو رہی ہے ابھی تو تم نے میرا جنون اور پاگل پن دیکھ نہیں ہے حیاء انس شاہ بس تھوڑا صبر کر لو پھر تمہیں اپنا پاگل پن بھی دکھاؤ گا اور جنون بھی پھر تمہیں اپنے ہونے پر پیچتاوا ہو گا وہ اس کی گردن میں منہ چھپائے وہاں اپنا لمس چھوڑتے ہوئے حیاء کو اپنی گرفت میں کانپتے ہوئے محسوس کر رہا تھا
انس پلیز وہ بس زرتاشہ کا ہونے والا ہزبنڈ ہے اور میرے لیے میرے بھائی جیسا ہے وہ کانپتے ہوئے لہجے میں بولی تھی انس کے لمس سے حیاء کو اپنی گردن میں جلن محسوس ہو رہی تھی
بھائی ہے تو نہیں نہ آج تو چھوڑ رہا ہوں آئندہ کسی کے پاس بھی مجھے تم دکھائی دی تو اپنے ہاتھوں سے ایسے جان لوں گا کے تڑپو گی تم مسیز انس شاہ ہاں تیاری پکڑوں اب رخصتی کی تم بھی جلد ہی آؤں گا میں تم پر کہر ڈھانے
وہ اس کے چہرے پر آئے پیسنے کے قطرے دیکھ کر مسکرایا تھا
اچھا لگا تم پر اپنا ڈر دیکھ کر حیاء دی جنگی بھی ڈرتی ہے وہ بھی اپنے محرم کی قربت سے گریٹ وہ اس کے چہرے پر پھونک مارتے ہوئے اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے باہر لے کر آیا تھا
وہ بینا کچھ بولے اپنی سانسوں کو بحال کرتے ہوئے لب بیچے اس کے ساتھ کھینچی جا رہی تھی جو وہاں پڑھے ڈریسز میں سے ایک ڈریس اُٹھ کر کاؤنٹر پر رکھ کر اب اس کی پیمنٹ دیے رہا تھا حیاء کا ہاتھ چھوڑ چکا تھا
پیمنٹ کر کے شاپر اس کے ہاتھ میں دیتا اس کے گال تھپتھپا کر مسکراتے ہوئے وہاں سے نکلا تھا پھر مڑ کر فلائنگ کس دیتا اسے آنکھیں مارتے ہوئے وہاں سے نکلتا چلا گیا
حیاء نے بے بسی سے سامنے جاتے ہوئے انس کو دیکھ کر اپنی آنکھوں میں آئی نمی کو دور کیا تھا اور خود پر پھر سے ہنسی کا مکھوٹا اُڑا لیا تھا
❤️❤️❤️❤️
سلال زرتاشہ کو ایک جیولری شاپ میں لے کر گیا تھا
یہ دیکھا دیے وہ سامنے پڑھی ایک چین کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولا تھا
یہ کیسا ہے زر ۔۔۔۔،۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ اسے دیکھتے ہوئے بولا تھا
مجھے حیاء آپو کے پاس جانا ہے زرتاشہ نم لہجے میں بولی تھی
چلو وہ غصے سے اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے ایک خاموش کونے کی طرف لے کر گیا تھا
کیا مسئلہ ہے تمہارے ساتھ ابھی تمہاری آپو کے پاس ہی سے لے کر آ رہا ہوں نہ تمہیں پھر اتنا ناٹک کیو کر رہی ہو
وہ اسے آنکھیں دکھاتے ہوئے غصے سے غرا کر بولا تھا
چھوڑیں مجھے آپ بہت بدتمیز ہیں میں ماما کو بتاؤں گی آپ کا وہ اس کے ہاتھوں سے اپنے بازوں کو چھوڑوتے ہوئے بولی تھی
کیا بتاؤں گی اپنی ماما کو اگر تم نے رات کو نکاخ کے وقت کوئی بھی ناٹک کیا نہ تو پھر دیکھنا بہت برا کروں گا تمہارے ساتھ سوچ ہے تمہاری وہ اسے غصے سے جھنجھوڑتے ہوئے بولا تھا
زرتاشہ مجھے غصہ مت دلاؤں یہ نہ ہو میں کچھ برا کر دوں اسی لئے چپ چاپ جو میں کہوں ویسے ہی کیا کرو کیوں نہیں سمجھتی تم یار پیار کرتا ہوں تم سے عشق بنا گئی ہو تم سلال کا تم صرف سلال کی ہو اور صرف میرا حق ہے تم پر سنا تم نے
پلیز رونا بند کرو ایک بھی آنسو نکلا نہ پھر دیکھنا
نہیں میں تو نہیں رو رہی وہ بچوں کی طرح اپنے آنسو صاف کرتے ہوئے بولی تھی
سلال اسے اس طرح دیکھتے ہوئے مسکرا دیا تھا پر جلدی ہی اپنی مسکراہٹ کو چھپا کر سیرس سا اسے دیکھنے لگا
سیرسلی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تم نہیں رو رہی نہ وہ آئبرو اُٹھ کر بولا تھا
نہیں نہیں تو میں ماما کو بھی کچھ نہیں بتاؤں گی کسی کو بھی نہیں ۔۔۔۔۔۔۔وہ چہرہ نہ میں ہلاتے ہوئے بولی تھی
ہم چلو اب گھر چلیں سارا موڈ آف کر دیا تم نے میرا وہ آگے اس کے ساتھ چلتے ہوئے بولا تھا
❤️❤️❤️❤️❤️
یار پری تمہاری تیاری کب مکمل ہو گی تم اتنا ٹائم کیوں لگا رہی ہو وہ پری کو کب سے آئینہ میں خود کو دیکھتے ہوئے دیکھ رہی تھی
یار فری میں نہ بس ہو رہی ہوں تیار بس تھوڑی سی رہ گئی ہوں یہ لائنر لگا لو اوہ شیٹ یار میں نہ ماما سے اپنی چین لے کر آئی تب تک تم بیٹھوں دو منٹ بس وہ اسے ہاتھوں سے اشارہ کرتے ہوئے بولتی ہوئی باہر نکل گئی تھی
کیا مصیبت ہے یہ پری بھی نہ اوپر سے یہ نیند بھی پیچھا نہیں چھوڑ رہی فری آنکھوں کو بند کر کے بیڈ کی پشت سے سر ٹکا کر لیٹ چکی تھی
پری کے روم کے آگے سے گزرتے ہوئے حاضر کی نظر پری کے کمرے کا دروازہ کھولا ہونے کی وجہ سے فریحہ پر پڑھی تھی جو آنکھوں کو بند کیے ہوئے خود ہی سے بڑبڑا رہی تھی
نیلے رنگ کی میکسی پہنے جو پری اور اس کی ایک جیسی تھی
بالوں کو کھولا چھوڑ کر ہلکے سے کیے ہوئے میکاپ سے وہ حاضر کو پری ہی لگ رہی تھی وہ مسکراتے ہوئے اسے دیکھی جا رہا تھا
بہت خوبصورت لگ رہی ہے آپ وہ اپنی پنٹ کی پاکیٹوں میں ہاتھ ڈالے کھڑا اسے دیکھتے ہوئے بولا تھا
فریحہ اس کیا آواز سن کر جلدی سے سیدھی ہوتی ہوئی اسے دیکھنے لگ گئی تھی جو تھری پیس پہنے بالوں کو سیٹ کیے شہزاد لگ رہا تھا
ہاہاہاہاہا ہنڈسم لگ رہا ہوں نہ اتنا غور سے دیکھ رہیی ہیں وہ جھک کر اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بولا تھا
آپ کا ہی ہوں دیکھ سکتی ہیں آپ کو ہی دیکھنے کی اجازت دوں گا میں مجھے کھل کر دیکھنے کی اور پلیز یہ بات بات پر ان پر ظالم مت کیا کریں
وہ اسے نظروں کو جھکاتے ہوئے دیکھ کر اس کے لب چبانے پر چوٹ کرتے ہوئے بولا تھا
بھائی آپ یہاں ہے میں آپ کو باہر ڈھونڈ رہی تھی پری باہر سے آتے ہوئے بولی
ہاں میں یہاں ہوں کیوں کیا ہوا وہ جلدی سے سیدھا ہوتے ہوئے پری سے بولا تھا
کچھ نہیں لالہ میں یہ جوتا پہن لو پھر آپ مجھے اور فری کو اپنے ساتھ میں لے جائیں ماما لوگ سب نکل گیے ہیں بارات کے ساتھ ہم آپ کے ساتھ جائیں گے
آپ کو تو پتہ ہے نہ بارات وہاں دور شانی ھال کی زمینوں سے آگے ہے تو اسی لیے ماما نے بولا ہے آپ کے ساتھ آئیں ہم پری اسے جوتا پہنتے ہوئے بولی تھی
جو دلچسپی سے فریحہ کو دیکھ کر مسکرا رہا تھا
چلو جلدی آ جاؤ تم دونوں میں نیچے ہوں وہ ان کو بولتے ہوئے خود نیچے چلا گیا تھا
پری کیا تم نے تو بولا تھا ہم تمہاری ماما کے ساتھ جائیں گے فریحہ اس کا ہاتھ پکڑ کر آنکھوں کو چھوٹی کر کے بولی تھی
یار کیا کرو دیر ہونے کی وجہ سے ماما جا چکیں ہیں اب لاسٹ آپشن لالہ ہی ہیں جلدی چلو ورنہ وہ بھی چلیں جائیں گے اور ہم دونوں ادھر ہی رہ جائیں گے پری آگے جاتیں ہوئے بولی تھی
پیچھے فریحہ منہ بناتیں ہوئی اس کے پیچھے جانے لگی تھی
آ۔۔۔۔۔۔۔ آ ۔۔۔۔۔۔۔۔آپ یہاں آپ تو نیچے چلیے گے تھے حاضر کے کھنچنے پر فریحہ ہکلاتے ہوئے بولی تھی
وہ اسے کھنچا کر دیوار کے ساتھ لگا چکا تھا
کیوں میرے ساتھ جانے سے ڈر لگا رہا ہے کے کہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پیار نہ ہو جائے مس فریحہ کو حاضر شاہ سے وہ اسے دیوار کے ساتھ لگائے ہوئے بولا تھا جو اپنی نظروں کو نیچے کیے ہوئے تھی
فریحہ کی زندگی میں پیار لفظ کی کوئی جگہ نہیں ہے سنا آپ نے مجھے نفرت ہے پیار سے اور آپ سے بھی میں آپ سے کیا کسی سے بھی شادی نہیں کرنا چاہتی مجھے نفرت ہے اس رشتے سے سب دھوکا ہے آپ بھی دھوکے باز ہو جب دل بر جائے گا چھوڑ دیں گے اسی لئے دور رہیے مجھ سے اپنے لئے کو دوسرا شکار ڈھونڈے سنا آپ نے فریحہ آپ کے چارے میں نہیں آنے والی
وہ اس کو خود سے پیچھے دھکیلتے ہوئے بولی تھی اور وہاں سے نکلتیں چالیی گئی تھی
ڈیم بہت ہوا اب میں تمہیں بتاؤں گا فریحہ حاضر شاہ ہے کون بہت ڈیل دے دی تمہیں اور بہت سن لی تمہاری باتیں اب تمہارا سامنا اصلی والے حاضر شاہ سے ہو جانا چاہیے
وہ پراسرا سا مُسکراتے ہوئے خود سے بولا تھا
