Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 14

اتنا سب ہو گیا تھا اسی لیے زینی کو کچھ رسموں کے بعد اس کے کمرے میں بیٹھا دیا گیا تھا
باقی سب کو بھی حاضر کے نکاح کی خبر ہو چکی تھی سب بڑے ہال میں بیٹھے بڑی بی انہی کے پاس بیٹھی ہوئی تھیں جہاں عاقب شاہ اور اکبر شاہ پہلے آ چکے تھے اسی لئے وہ بھی وہی بیٹھے تھے
انس احد اور عالی سب حویلی میں داخل ہوئے تھے اور ساتھ ہی پیچھے حاضر شاہ کی گاڑی بھی حویلی میں داخل ہو گئی تھی
پری فریحہ کا ہاتھ پکڑ کر اسے باہر لے کر آئی تھی فریحہ وہ لب بیچے خود کے آنسو کو کنٹرول کرتے ہوئے حویلی کے اندر حاضر اور دادا شاہ کے پیچھے پری کے ساتھ چل رہی تھی اس کی نظریں ابھی بھی نیچے تھیں
بڑی بہوں لے جاؤ بچی کو اس کے کمرے میں تھوڑا آرام کر لے دادا شاہ صوفے پر بیٹھتے ہوئے خنا شاہ سے بولے تھے
ہم کل جائیں گے اور آپ کی ماما سے بات کریں گے بیٹا اب جاؤ اور کمرے میں آرام کرو
مجھے میرے گھر جانا ہے فریحہ خنا شاہ کی طرف جانے کی بجائے دادا شاہ کے آگے کھڑی بولی تھی جو اسے ہی دیکھ رہیے تھے
بیٹا بولا تو ہے صبح چلیں گے ہم سب چلیں گے دادا شاہ کے بولنے سے اس نے نہ میں سر ہلائے تھا
مجھے آپ لوگوں کے گھر نہیں رہنا مجھے میرے گھر جانا ہے سنا سب نے مجھے حاضر شاہ سے کوئی رشتہ نہیں رکھنا مجھے اس گھر سے کوئی رشتہ نہیں رکھنا نفرت ہے مجھے آپ سب لوگوں سے نہیں رہنا مجھے اس گھر میں مجھے میری ماما کے پاس جانا ہے وہ روتے ہوئے چلا کر بولی تھی
سب نے حیران ہوتے ہوئے اسے دیکھا تھا حاضر اپنی جگہ سے کھڑے ہوتے ہوئے اس کی طرف غصے سے بڑھا تھا
کیا بکواس کی تم نے یہ رشتہ نہیں رکھنا چاہتی تم ہاں حاضر کسی کی بھی پرواہ کیے بغیر اس کی طرف بڑھا تھا اور اسے بازوں سے کھینچ کر اپنے قریب کرتے ہوئے غرایا تھا
مجھے طلاق چاہیے حاضر شاہ تم سے دفع ہو جاؤ دور رہو مجھ سے وہ اسے خود سے دور دھکیلتے ہوئے بولی تھی
سب نے خیریت اور پریشانی سے اسے دیکھا تھا حاضر کا دل کر رہا تھا کے ایک تھپڑ مارا کر اسے سیدھا کر دے وہ خود کو بہت مشکل سے کنٹرول کر رہا تھا
لڑکی زبان سنبھال کر بات کرو ہمارے خاندان میں طلاق کا رواج نہیں ہے ۔۔۔۔۔۔ دادا شاہ غصے سے غرائے تھے
کیا کیا کہا آپ نے آپ کے خاندان میں رواج نہیں ہے وہ ہنستے ہوئے بولی تھی حاضر کو اس وقت پاگلوں کی طرح حرکت کرتے ہوئے محسوس ہوئی تھی
بیٹا میری بات سنو عاقب شاہ کھڑے ہوتے بولے تھے جو پاس ہی صوفے پر بیٹھے ہوئے تھے
خبر دار جو میرے قریب بھی آئے ہو یا مجھے اپنے گندے ہاتھ لگائے ہوں وہ پیچھے ہٹتے ہوئے بولی تھی
اس کی بات سے سب نے اسے غصے سے دیکھا تھا
عاقب شاہ اپنی جگہ سن ہو گیے تھے
پری پلیز اپنے ڈرائیور کو بولو مجھے گھر چھوڑ دیے تم تو ماما کو بول کر لائی تھی نہ مجھے وہ پری کے پاس جاتے ہوئے اس کے ہاتھ پکڑ کر بولی تھی
بہت زبان چلا لی تم نے اب تم میرا قہر دیکھو گی حاضر فریحہ کا ہاتھ پکڑ کر اپنے ساتھ لے کر جانے لگا تھا
لالہ کہاں لے کر جا رہے ہیں مت لے کر جائیں پری اس کے آگے آ کر کھڑی ہو گئی تھی
اپنے کمرے میں لے کر جا رہا ہوں جہاں اسے اب ہونا چاہیے اور کوئی بھی مجھے نہیں روکے گا وہ غصے سے بولتے ہوئے اسے کھینچتے ہوئے اپنے ساتھ لے کر جا رہا تھا
چھوڑ دو مجھے چھوڑو دو مجھے میری ماما کے پاس جانا ہے وہ اس سے اپنا ہاتھ چھڑواتے ہوئے بول رہی تھی ساتھ رونے کی وجہ سے بولنا بھی مشکل ہو رہا تھا
پتہ نہیں کس کا گندا خون ہے بابا آپ نے اسے خاندان کی بڑی بہو بنا لیا رہنے دیتے ان شانیوں کے پاس ہی رانیہ شاہ عاقب شاہ کی بیوی بولی تھی
ہاں ہوں میں گندا خون میں سچ میں گندا خون ہوں عاقب شاہ کا گندا خون ہوں میں وہ روتے ہوئے بولتی اپنے ہوش کھو بیٹھی تھی حاضر نے جلد ہی اسے اپنی باہوں کے گھیرے میں لیا تھا
باقی سب بڑوں کو تو سکتا ہی ہو گیا تھا فریحہ کی بات سن کر عاقب شاہ کو کھڑے رہنے کے لیے سہارے کی ضرورت محسوس ہو رہی تھی فریحہ کے لفظ ان کے کانوں میں گونج رہی تھے
حاضر فریحہ کو اُٹھ کر کمرے میں لے گیا تھا اور جلدی سے ڈاکٹر کو کال کی تھی
بابا کیا یہ میری بیٹی ہے عاقب شاہ کے منہ سے یہ لفظ سن کر سب چھوٹے بڑے کو ایسے لگ رہا تھا جیسے انہوں کو سانپ سونگ گیا ہو
انس احد امن اور عالی نے خیران ہوتے ہوئے عاقب کی طرف دیکھا تھا جن کا چہرا عجیب ہی تاثر دے رہا تھا
دادا شاہ نے بھی پریشان ہوتے ہوئے ان کی طرف دیکھا تھا
❤️❤️❤️❤️❤️
کچھ نہیں ہوا ٹھیک ہے اب وہ شاید سٹریس کی وجہ سے بے ہوش ہو گئیں تھیں وہ میں نے انجکشن لگا دیا ہے تھوڑی دیر تک ہوش آ جائے گا ڈاکٹر فریحہ کو چیک کر کے باہر نکل کر حاضر سے بول رہیں تھیں
شکریہ آپ کا ڈرائیور باہر ہی کھڑا ہے آپ کو آپ کے گھر تک چھوڑ آئے گا حاضر مسکرا کر بولتے ہوئے ان کو دروازہ تک چھوڑ کر آیا تھا
دادا آپ مجھے بتانا پسند کریں گے وہ سب کیا ہے اس نے کیوں بولا کے وہ عاقب چاچو کی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آپ میری بات سمجھ تو گیے ہوں گے میں کیا کہنا چاہ رہا ہوں حاضر کے کہنے پر سب وہی موجود تھے اس کی طرف دیکھتے اب دادا شاہ اور عاقب شاہ کی طرف دیکھ رہے تھے
جو اپنا سر ہاتھوں میں گرائے خاموش بیٹھے ہوئے تھے
ہمیں نہیں معلوم اس بارے میں کے یہ میری بیٹی ہے کے نہیں مجھے تو ان کے نام تک نہیں یاد میں بدبخت تو ان کو کب کا بے سہارا چھوڑ کر اپنی دنیا میں مگن ہو گیا تھا یہ تک نہیں یاد رہا کے میرے خون کا حصہ بھی اس دنیا میں ہے جو باپ کے ہوتے ہوئے یتیمی کی زندگی گزار رہیں ہوں گی
وہ اپنی نظریں جھکائے ہوئے ہی نم لہجے میں بول رہیے تھے
سب خیریت اور غم سے ان کی طرف دیکھ رہیے تھے بڑے تو سب جانتے تھے پر ان کے بچوں کو آج اس حقیقت کے بارے میں پتہ چلا تھا اس لیے وہ حیران ہوتے ہوئے سب سن رہے تھے
حاضر غصے سے مٹھیوں کو بند کیے ان کو سن رہا تھا اس کو اپنا رویہ فریحہ کے ساتھ یاد آ رہا تھا کیسے اس نے اس پر غصہ کیاتھا اسے اب سمجھ آ رہیں تھی کہ وہ اس طرح کیوں کر رہی تھی اس کی شادی کے بارے میں نفرت ہر چیز کو سمجھنے کی کوشش کر رہا تھا
وہ غصے سے اُٹھ تھا اور کچھ بھی بولے بغیر اوپر اپنے روم کی طرف بڑھ گیا تھا
پیچھے سب بھی آہستہ آہستہ وہاں سے چلے گئے تھے رہ گیا تھا تو عاقب شاہ وہ آج خود کو زمین میں گھڑتے ہوئے محسوس ہو کر رہیے تھے
آپ نے میرے ساتھ ساتھ اس عورت کے ساتھ بھی غلط کیا گیا تھا پر آپ کی غلطیوں کا خمیازہ آپ کی اولادوں کو بگھتنا پڑھ رہا ہے رانیہ شاہ ان کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر بولی تھیں
❤️❤️❤️❤️
تبریز جب کمرے میں آیا تو اس کے بیڈ پر کوئی وجود کا نشان نہیں تھا اس نے حیران ہو کر کمرے میں دیکھ پر جب اچانک ہی اس کی نظر صوفے پر سوئے ہوئے وجود پر پڑھی تھی
اس نے سختی سے اپنے لب بیچے تھے
اپنا کوٹ اوتار کر بیڈ پر پھینکتے ہوئے ڈریسنگ روم میں چلا گیا چینج کر کے واپس آیا تو صوفے کے پاس کھڑے ہو کر ایک گہرا سانس لے کر خود کو ریلکس کرنے کی کوشش کر رہا تھا
زینی اُٹھ یہاں سے وہ اسے ہلاتے ہوئے بولا تھا جو شاید گہری نیند میں تھی یا نیند میں ہونے کی ایکٹنگ کر رہی تھی
ٹھیک ہے مت اُٹھ تبریز اسے اپنی باہوں میں اُٹھا کر بیڈ پر رکھ چکا تھا جو اب ہڑبڑا کر اُٹھی تھی اپنے اوپر جھکے تبریز کو دیکھ کر گھبراتے ہوئے اسے پیچھے دھکیلا تھا
کیا ہوا یہاں کیوں لے کر آئیں ہیں مجھے میں وہی ٹھیک ہوں وہ پھر سے اُٹھ کر وہی جانے لگی تھی تبریز نے اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے اپنی طرف کھینچ لیا تھا
کیا مسئلہ ہے معافی مانگ تو چکا ہوں تم سے اب کیوں کر رہی ہو یہ سب کتنے خواب تھے ہمارے پھر کیوں سب کچھ خراب کر رہی ہو
تھے مطلب سمجھتے ہیں آپ خواب تھے اب نہیں رہیے مجھے آپ سے کوئی غرض نہیں آپ نے مجھ پر شک کر کے سب کچھ ختم کر لیا ہے کچھ نہیں بچا ہمارے درمیان یہ رشتہ صرف اور صرف بڑوں کی خوشی کے لیے بنایا ہے میں نے سنا آپ نے اس لیے دور رہو مجھ سے وہ اسے پیچھے دھکیل کر بولی تھی
پھر سب صوفے کی طرف جانے لگی تھی تبریز نے غصے سے اس کی کلائی پکڑ کر اسے بیڈ پر دھیکا دیا تھا
خبر دار جو میری نرمی کا ناجائز فائدہ اٹھایا ہو وہ حال کروں گا تمہارا سب بھول جاؤ گی اور مرا نہیں جا رہا میں تمہیں ہاتھ لگانے کو اسی لیے ڈرامے بند کرو اور آرام سے لیٹ جاؤ ادھر ہی وہ اس کے دائیں بائیں ہاتھ رکھ کر اس پر جھک کر بولا تھا
زینی کی آنکھیں خوف سے کھل گئیں تھیں وہ حیرت اور خوف سے آنکھوں میں آنسو لیے اسے دیکھ رہی تھی
اسے خود پر جھکتے ہوئے دیکھ کر اس نے اپنا چہرا دوسری طرف موڑ لیا تھا چلیں جائیں تبریز میرے سامنے سے وہ دوسری طرف منہ موڑ کر بولی تھی
تبریز اسے سے پیچھے ہوتے ہوئے غصے سے اُٹھ کر اپنی سائیڈ پر آ کر لیٹ کر منہ تک کمبل لے کر سوتا بن گیا تھا
زینی بھی اُٹھی تھی اپنی آنکھوں میں آئی نمی صاف کرتے ہوئے آہستہ آہستہ قدم لیتی صوفے کی طرف بڑھ گئی تھی
زینی واپس آؤ ادھر ورنہ تم مجھ سے برا کسی کو نہ پاؤ گئی اسی لئے چپ چاپ یہاں واپس آ کر لیٹ جاؤ کمبل میں سے تبریز کی آواز آئی تھی
زینی لب بیچے واپس آ کر بیڈ پر دراز ہو گئی تھی تبریز نے ہاتھ بڑھا کر اسے اپنی طرف کھینچ لیا تھا
آئندہ مجھ سے دور جانے کی کوشش مت کرنا ورنہ تمہیں تبریز کا اصلی چہرہ دیکھنے کو ملے گا اسی لئے چپ چاپ آنکھیں بند کرو اور سو جاؤ وہ اسے خود میں بیچے اس کے بالوں پر لب رکھے بولا تھا
تبریز کے بولنے سے زینی کے لبوں پر مسکراہٹ آ گئی تھی اور اس نے سکون سے آنکھوں کو بند کر لیا تھا
ابھی اتنی جلدی کیسے معاف کر دوں آپ کو تبریز تھوڑی سزا دینے کا حق تو میں بھی رکھتی ہوں سوچتے ہوئے نیند کی وادیوں میں گم ہو گئی تھی
بہت جلدی تمہیں منا لو گا میں میری محبت تمہیں مجبور کر دے گی میرا ہونے سے مسکراتے ہوئے بولتا اسے خود میں بیچے آنکھوں کو اطمینان سے بند کر گیا تھا
❤️❤️❤️❤️❤️
کل تک تم سب اپنی پیکنگ کر لینا پھر کل میں لینے آؤں گا سب کو عادل صاحب حیاء زویا اور زرتاشہ کو بولے تھے
کیوں کہ میں چاہتا ہوں کہ اب تم سب ادھر میرے گھر رہو کیونکہ کے تم پانچوں اب میری زمہ داری ہو وہ مسکرا کر بولے تھے وہ تینوں بھی مسکرا دی تھیں
اوکے انکل اب ہم آرام کرتیں ہیں ہم صبح تک سب کام نپٹا لیں گے حیاء بولتے ہوئے زرتاشہ اور زویا کو لے کر اوپر اپنے رومز کی طرف چلی گئی تھی
پیچھے اب نورین اور عادل صاحب ہی رہ گئے تھے
آپ بھی اب آرام کریں صبح آؤں گا آپ سب کو لینے کے لیے میں اب آپ لوگوں کو اکیلے نہیں چھوڑا سکتا اب میری پہلی پیورٹی آپ سب ہیں اور میرا بیٹا ہے
وہ مسکراتے ہوئے بولتے اُٹھ گئے تھے
چلتے ہوئے دونوں باہر کی طرف جا رہیے تھے
اپنا دھیان رکھیے گا وہ مڑ کر بولتے ہوئے ان کے ماتھے پر اپنے لب رکھتے ہوئے نورین کو حیران چھوڑ کر ان کے گال تھپتھپا کر مسکراتے ہوئے باہر نکل گئے
پیچھے نورین ان کے لمس کو محسوس کرتے ہوئے نم آنکھوں سے مسکرا دیی تھیں
اللہ میں آپ کا جتنا شکر ادا کروں اتنا کم ہے آپ نے مجھے ایک سچ ساتھی اور اچھا سائباں دیا ہے میری بچیوں کو سایہ مل جائے گا وہ مسکراتے ہوئے اللہ کا شکر ادا کر رہیں تھی
❤️❤️❤️❤️❤️
میں نے تمہیں کچھ بھیجا ہے اس کے بارے میں مجھے سب انفارمیشن چاہیے شروع سے لے کر آخر تک ہر چیز کی انفارمیشن چاہیے مجھے حاضر بالکنی میں کھڑا فون پر کسی سے بات کر رہا تھا
پھر واپس اپنے کمرے میں آ کر بیڈ پر فریحہ کے پاس بیٹھ گیا تھا
کیا تم سچ میں عاقب چاچو کی بیٹی ہو سچ میں تمہارے ساتھ وہ سب ہو چکا ہے اور اس سب نفرت کی وجہ بھی عاقب چاچو ہیں وہ اس کا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیے چومتے ہوئے خود سے بول رہا تھا
فریحہ میں سب ٹھیک کر دوں گا تمہاری ہر محرومی کو دور کر دوں گا ہر غم کو تم سے چھین لوں گا ہر خوشی دوں گا ہر رشتہ دوں گا تمہیں جس کی طلب ہے تم کو تمہاری آنکھوں کی ویرانیوں کو دور کر دوں گا
بس ایک دفعہ مجھ پر بھروسہ کر لو فریحہ بہت محبت ہو گئی ہے مجھے تم سے عشق ہوتا جا رہا ہے
مر تو سکتا ہوں پر چھوڑ نہیں سکتا تم کو اس لیے مجھ سے دور جانے کی بات مت کرنا
وہ اس کے قریب جھک کر اس کے ماتھے کے ساتھ اپنا ماتھا ٹکا کر بول رہا تھا
حاضر کو فریحہ کی پلکوں پر حرکت محسوس ہوئی تھی جیسے وہ جان بوجھ کر اپنی آنکھوں کو بند کیے ہوئے ہو
حاضر اس کی پلکوں پر لرزش دیکھ کر مسکرا دیا تھا اور پھر مسکراتے ہوئے جان بوجھ کر اپنے لب اس کے گال پر رکھ دیے تھے
فریحہ نے جلدی سے اُٹھتے ہوئے اسے خود سے دور دھکیلا تھا اور خود بیڈ کے ساتھ لگی خود کی اوتھل پتھل ہوتیں سانسوں کو محسوس کرتے ہوئے خود اور بھی پیچھے ہونے کی کوشش کر رہی تھی
اور پیچھے ہوئی تو تم بیڈ کے بیچ ہی گھس جاؤ گی اس لیے زیادہ پیچھے مت جاؤ جگہ نہیں ہے اور ویسے بھی میں کوئی نامحرم تو نہیں ہوں محرم ہو چکا ہوں تمہارا وہ اس کے اور بھی قریب ہوتے ہوئے اس کی آنکھوں میں دیکھ کر بولا تھا جہاں اسے اپنے لیے ڈر دیکھا کر دُکھ ہوا تھا
فریحہ تم اُٹھ گئی پری دوڑتے ہوئے اس کے گلے لگی تھی آ کر حاضر خاموش سے اُٹھ کر پیچھے جا کر کھڑا ہو گیا تھا
فریحہ پری سے مسکرا کر ملی تھی پری اس سے مسکرا مسکرا کر باتیں کر رہی تھی فریحہ بس اس کی باتوں کا ہوں ہاں میں ہی جواب دے رہی تھی وہ حاضر کی نظروں کو بھی اپنے اوپر محسوس کر رہی تھی پر لب بیچے بیٹھی پری کی طرف ہی دیکھ رہی تھی
پری اب بس کرو جاؤ تم آرام کرو اور فریحہ کو بھی کرنے دو حاضر کے بولنے پر فریحہ نے ڈر کر جلدی سے پری کا ہاتھ پکڑ لیا تھا
پری میں بھی تمہارے ساتھ تمہارے روم میں جاؤں گی فریحہ بھی اس کے ساتھ کھڑا ہوتے ہوئے بولی تھی
پری میں نے کہا جاؤ تم حاضر کے غصے سے بولنے پر فریحہ نے حاضر کی طرف دیکھا تھا
فریحہ کی نظروں میں حاضر کو التجا دیکھی تھی پر حاضر نے اسے نظرانداز کر دیا تھا
لالہ فریحہ کو میں ساتھ لے کر جاؤں گی وہ فریحہ کا ہاتھ پکڑ کر اپنے ساتھ لے کر جاتے ہوئے بولی تھی
پریوش میں نے کہا صرف تم جاؤ گی سنا نہیں تم نے حاضر غصے سے اس کا پورا نام لے کر بولا تھا
پری جانتی تھی اب حاضر کبھی بھی نہیں مانے گا اسی لیے چپ چاپ فریحہ کو تسلی دیتے ہوئے چلی گئی تھی
فریحہ وہی اپنی جگہ پر سن کھڑی تھی اسے لگ رہا تھا اس کی جان نکل جائے گی اس نے آنسو بھری آنکھوں سے حاضر کو دیکھا تھا جو اس کی طرف بڑھ رہا تھا
فریحہ الٹے قدم پیچھے ہونے لگی تھی پیچھے ہوتے ہوئے دیوار کے ساتھ جا لگی تھی اپنی آنکھوں کو زور سے بند کر گئی تھی اور اپنے چہرے پر ہاتھ رکھ کر رونے لگی تھی
حاضر نے گہرا سانس لے کر اسے دیکھا تھا جو اپنے چہرے پر ہاتھ رکھ کر سسک رہی تھی
وہ لب بیچے اسے دیکھ رہا تھا جو اب دیوار کے سہارے نیچے بیٹھی اپنے گھٹنوں میں سر دیے رو رہی تھی
فریحہ اُٹھو یار وہ بھی نیچے بیٹھے کر اسے اپنی طرف کھینچ کر بولا تھا
پلیز حاضر میرے قریب مت آؤ وہ اسے خود سے دور کرتے ہوئے بولی تھی
حاضر اسے لب بیچے کافی دیر دیکھتا رہا پھر اُٹھ کر باہر نکل گیا تھا
فریحہ اُٹھ جاؤ چلو میرے ساتھ حاضر واپس آیا تو اس کے ساتھ پری تھی پری اسے اپنے ساتھ لگا کر بولی تھی
پری مجھے میرے گھر جانا ہے پلیز مجھے میرے گھر لے جاؤ میرا دم گھٹ رہا ہے یہاں مرا جاؤں گی میں یہاں مجھے سکون چاہیے اور وہ مجھے میری ماں کے پاس ملے گا فریحہ روتے ہوئے پری کے ساتھ لگی بولی تھی
پری تم دونوں ادھر ہی سو جاؤ میں تمہارے کمرے میں ہوں اور بتا دینا اسے اب گھر کو بھول جائے اسے ہمیشہ ادھر ہی رہنا ہے حاضر اپنا غصہ ضبط کرتے ہوئے بولا تھا
فریحہ نے نم آنکھوں سے حاضر کی طرف دیکھ تھا جو لال انگارا ہوئی آنکھوں سے اسے ہی دیکھ رہا تھا
لیٹ جاؤ ادھر میں خود دادا سے بات کر کے تمہیں تمہارے گھر چھوڑ آؤں گی تم ڈرو مت وہ اسے اُٹھا کر بیڈ پر لیٹاتے ہوئے بول رہی تھی
پری فریحہ کے پاس ہی بیٹھی تھی حاضر بھی اس کے پاس ہی کھڑا رہا جب تک وہ روتے روتے سو نہیں گئی تھی کچھ دوائیوں کا بھی اثر تھا اسی لئے نیند جلدی ہی اس پر مہربان ہو چکی تھی
لالہ آپ کو ایسا نہیں کرنا چاہیے پیار سے بھی سمجھا سکتے ہیں آپ اسے پری آج بات کرتے ہوئے حاضر کو بہت بڑی بڑی لگی تھی
حاضر کو بھی پری کی بات ٹھیک لگی تھی اسی لئے چپ ہو کر باہر جانے لگا تھا
لالہ آپ یہی سو جائیں میں جا رہی ہوں باہر اپنے روم میں پری حاضر کو بولتے ہوئے باہر نکل گئی تھی
حاضر بھی روم کا دروازہ بند کر کے اپنی جگہ پر لیٹ گیا تھا
فریحہ کی طرف دیکھا رہا تھا جس کی رونے کی وجہ سے آنکھیں سوجھی ہوئیں تھیں ابھی بھی نیند میں سسکیاں لے رہی تھی حاضر نے ہاتھ بڑھا کر اسے خود کے بہت قریب کر لیا تھا
حاضر کو لگ رہا تھا جیسے آج وہ سکون میں ہے اور پھر آنکھوں کو موند گیا تھا
❤️❤️❤️❤️
پری جب حاضر کے کمرے سے نکل رہی تھی عالی نے اسے اپنے کمرے میں کھینچ لیا تھا
آئندہ تم اس لڑکی کے ساتھ مجھے مت دکھائی دینا سمجھی اس سے پہلے کے پری چیختی عالی. نے اس کے منہ پر ہاتھ رکھ کر اس کی آواز کو بند کر دیا تھا
پری نے خوف سے اس کی طرف دیکھا تھا جس کی آنکھیں لال ہو رہیں تھی پری کو وہ ہوش میں نہیں دیکھ رہا تھا
آواز مت نکلنا ہاتھ منہ سے ہٹا رہا ہوں وہ آہستہ سے اس کے منہ سے ہاتھ ہٹا کر بولا تھا
پری اسے پیچھے کرتے ہوئے باہر کی طرف بھاگی تھی کیونکہ عالی شاہ سے اسے اس وقت خوف آ رہا تھا
پریوش باہر مت جانا ورنہ مجھ سے برا کوئی نہیں ہو گا وہ جلدی سے مڑ کر بولا تھا پر پری اس کی پرواہ کیے بغیر کمرے سے نکل کر اپنے کمرے کی طرف بھاگ گئی تھی
پری نے روم میں آ کر سانس لیا تھا پر یہ جانے بغیر کے اس کا سانس تو اب سہی معنوں میں بند ہونے والا ہے
ی۔۔.۔۔۔۔۔۔ی ۔۔۔۔۔۔یہ کیا کر رہے ہیں آپ جائیں یہاں سے پری عالی شاہ کو اپنے روم کا دروازہ بند کرتے ہوئے دیکھ کر بولی تھی
تمہیں میں نے کیا کہا تھا کہ مت جاؤ یہاں سے پھر کیوں آئی وہاں سے وہ اس کی طرف بڑھتے ہوئے بولا تھا
عالی جائیں یہاں سے آپ کے منہ سے سمیل آ رہی ہے آپ اپنے ہوش میں نہیں ہیں وہ ڈرتے ڈرتے بولتی اپنے قدموں کو پیچھے لے رہی تھی
پیچھے لیتے ہوئے بیڈ پر گر گئی تھی
پری مجھے تمہاری ضرورت ہے آج پلیز مجھے چھوڑ کر مت جاؤ وہ اسے کے قریب ہوتے ہوئے بول رہا تھا
پری میں ایک انچ بھی ہلنے کی ہمت نہیں رہی تھی وہ آنکھوں کو سختی سے موندے نہ میں سر ہلا رہی تھی عالی اس کے دائیں بائیں ہاتھ رکھ کر بہت پیار سے دیکھتے ہوئے اس کے چہرے پر آئی لیٹوں کو پیچھے کرنے لگا
پری بہت برا ہوں میں پر اتنا گرا ہوا نہیں ہوں کے اپنے عشق کو داغ دار کروں مجھ سے مت ڈارو وہ اس سے پیچھے ہوتے ہوئے بولا تھا
پری آج مجھے تمہارے لفظوں کی ضرورت ہے وہ زمین پر بیٹھا اس کے گھٹنوں پر سر رکھ کر بولا تھا
عالی پلیز پری جلدی سے سیدھا ہو کر بولی تھی
پلیز پری آج بتا دو تمہیں مجھ سے کتنا پیار ہے وہ اس کے قدموں میں بیٹھا بولا تھا
عالی مج۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مجھے آپ سے بہت بہت محبت ہے جتنی آپ کو ہے اس سے بھی زیادہ وہ ہکلاتے ہوئے بولی تھی
پر مجھے تم سے بھی زیادہ محبت ہے تم سے عالی کھڑا ہو کر بولا تھا کاش میں تمہیں اپنی پہلی پیار کی مہر دے سکتا پر ابھی نہیں ابھی مجھے جانا ہے ورنہ کچھ غلط نہ ہو جائے وہ اس سے دور ہوتے ہوئے بولا تھا
پری آج اگر تم اظہار نہ کرتی تو شاید میں پہلے سے ٹوٹا اور بھی ٹوٹ جاتا
عالی مسکراتے ہوئے باہر نکل گیا تھا
عالی میں آپ سے سچ میں محبت کرتی ہوں اور اگر سچ میں آج انا کو لے آتیں تو آپ چھوٹے بابا کے دُکھ سے تو ٹوٹے تھے پر میرا دکھ آپ کو تباہ کر دیتا پری سوچتے ہوئے مسکرا دی تھی
محبت اپنے قدر کرنے والوں کو ہمیشہ عزیز رکھتی ہے
آج پری اور عالی کی محبت بھی ایک ہو گئی تھی