Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 10

کہاں جا رہیں ہیں ہم پری…….. فریحہ پری کو بول رہی تھی جو اسے اپنے ساتھ لے کر جا رہی تھی
روکو تو ابھی پتہ چلا جائے گا تمہیں کہاں جا رہیں ہیں ہم وہ اوپر والی سیڑھیوں سے اوپر جاتیں ہوئے بولی تھی
وہ اسے اوپر ٹیرس پر لے آئی تھی
جلدی سے پہلے آنکھوں کو بند کرو یار وہ فریحہ کی آنکھیں پر ہاتھ رکھ کر بولی تھی
اچھا یار کر لی ہے وہ اپنی آنکھوں کو بند کرتے ہوئے بولی تھی
چلو بس میرے ساتھ چلتی جاؤ وہ اسے اپنے ساتھ ٹیرس کے کنارے پر ریلنگ کے پاس لے گئی تھی
چلو اب آنکھوں کو کھولوں
واہ ہ ہ ہ کتنا خوبصورت ہے سب یہ پری فریحہ چارو طرف دیکھ کر بولی تھی جہاں سے پوری خویلی نظر آ رہیں تھی اور باہر سے گزرنے والی راہداری بھی خویلی کا کونا کونا خوبصورت طریقے سے سجایا گیا تھا
باہر ارد گرد کی ہر جگہ کو سجا کر ہر طرف روشنیوں کا جہاں آباد تھا
فریحہ مسکراتے ہوئے سب دیکھ رہی تھی پری یہاں ایسا لگ رہا ہے یہ تو دنیا ہی الگ ہے وہ بچوں کی طرح مسکرا کر بولی تھی
میں نے آج تک ایسا کبھی بھی نہیں دیکھ میری تو پاکستان میں پہلی شادی کی تقریب ہےواہ سب بہت خوبصورت ہے وہ یہ سب دیکھنے میں اتنی مگن تھی کہ وہ دیکھ نہیں سکی کی پری شازیہ کے بلانے پر نیچے گئیں تھی
آپ سے زیادہ تو کچھ خوبصورت نہیں ہے یہاں پر حاضر کی آواز اسے اپنے کانوں کے بالکل نزدیک سنائی دی تھی
فریحہ نے ڈر کر مڑ کر پیچھے دیکھ تھا اپنے قریب حاضر کو کھڑے پایا تھا
حاضر اسے مسکرا کر دیکھ رہا تھا جو دل پر ہاتھ رکھ کر کھڑی آنکھوں میں ڈر لیے…….مہندی کے مناسبت سے تیار حاضر کو اپنے دل میں اترتیں ہوئی محسوس ہو رہی تھی
فریحہ نے گرین لکر کا لہنگا اوپر ویلٹ کی کام والی کرتی پہنے بالوں کو کھولے ہلکے سے میکاپ اور سائیڈ پر نیٹ کا ڈوپٹہ جس کے کناروں پر زری کا کام تھا لیے خوبصورت لگ رہی تھی
حاضر اسے غور سے دیکھ رہا تھا مڑنے سے فریحہ اس کے سامنے تھی وہ بھی اس کی آنکھوں میں دیکھ رہیں تھی جہاں اسے اپنے لیے محبت کا ایک جہاں نظر آ رہا تھا
فریحہ نے پیچھے ہوتے ہوئے اپنی نظروں کو جھکا لیا تھا وہ لب کچلتے ہوئے سائیڈ سے ہو کر گزرنے لگی تو حاضر نے ریلنگ پر ہاتھ رکھ کر اس کے جانے کا راستہ بند کر دیا تھا
پلیز میرا راستہ چھوڑیں وہ نظروں کا جھکائے ہوئے بولی تھی کیونکہ حاضر نے اس کے دونوں طرف ہاتھ رکھ کر راستہ بند کر دیا تھا
فریحہ کیوں بھاگ رہیں ہیں مجھ سے میں جب بھی آپ کے قریب آتا ہوں آپ سے بات کرنا چاہتا ہوں آپ سب میری فیلنگز بھی سمجھ رہیں ہیں پھر بھی مجھ سے بھاگ رہیں ہیں جب کہ میں کوئی بھی غلط رشتہ آپ سے نہیں رکھنا چاہتا
میں اپنی فیملی کو آپ کے گھر بھیجنا چاہتا ہوں آپ کے لیے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور اس کے لیے مجھے آپ کی رضامندی چاہیے
فریحہ نے خیریت سے اپنی آنکھوں کو اُٹھا کر اس کی طرف دیکھا تھا جو اسے ہی دیکھ رہا تھا
میں میں کسی بھی رشتے کے لیے تیار نہیں ہوں اور نہ ہی کوئی بھی رشتہ آپ کے ساتھ بننا چاہتی ہوں ایسی لیے مجھ سے دور رہیں وہ اسے بولتے ہوئے اس کا ہاتھ پیچھے کرتے ہوئے وہاں سے جانے لگی
مجھے وجہ جاننی ہے ایسا کیوں کر رہیں ہو تم وہ اسے جاتے دیکھ کر اس کی کلائی کو پکڑ کر اسے اپنی طرف کھینچتے ہوئے بولا تھا
آپ نے مجھ سے میری رضامندی پوچھی تو میں نے آپ کو جوب دے دیا ہے اب آپ مجھے سے کوئی بھی زبردستی نہیں کر سکتے اسی لئے چھوڑیں مجھے ۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ خود کو مضبوط ظاہر کرتے ہوئے بولی تھی ورنہ تو وہ حاضر سے ڈر رہی تھی
وجہ تو میں جان سکتا ہوں اتنا تو میرا حق بنتا ہے یا آپ کی زندگی میں کوئی اور ہے حاضر اس کی بات سن کر خود کو ریلکس کرتے ہوئے بول رہا تھا ورنہ اس کا دل کر رہا تھا کے اسے جھنجھوڑ کر رکھ دے جس نے اپنی باتوں سے حاضر شاہ کی دنیا کو ہلا کر رکھ دیا تھا
میں آپ کی پابند نہیں ہوں سنا آپ نے چھوڑیں مجھے میں نے غلطی کر دی جو میں یہاں آ گئی مجھے آپ کے اس گھٹیا پن کا پتہ ہوتا تو میں کبھی بھی یہاں نہ آتیں وہ غصے سے اس پر دابے ہوئے لہجے میں غرائی تھی
ششش چپ کر جاؤ ایک لفظ بھی اور نہیں ۔۔۔۔۔۔۔ ورنہ پھر تم دیکھو گی گھٹیا پن ہوتا کیا ہے وہ غصے سے سرد لہجے میں کہتے ہوئے اس کی کلائی کو جھٹکتے ہوئے بولا تھا
چلی جاؤں یہاں سے فریحہ اس سے پہلے کے میں غصہ سے کچھ غلط کر دوں وہ اس کی آنکھوں میں اپنی آنکھوں کو ڈالتے ہوئے سرد لہجے میں بولتے ہوئے فریحہ کو ڈرا گیا تھا
فریحہ حاضر سے ڈر کر پیچھے ہوئی تھی پیچھے ہوتے ہوئے بھاگ کر نیچے جانے لگی
فریحہ وہ اسے آواز دیتے ہوئے مڑا تھا
ایک بات ہمیشہ یاد رکھنا تمہیں ہونا میرا ہی ہے چاہیے تمہاری مرضی ہو یا نہ فریحہ کے روکنے پر اسے بولا تھا جو نہ میں سر ہلا کر پیچھے ہوتے ہوئے وہاں سے بھاگ گئی تھی
ڈیم یہ لڑکی کب سمجھے گی۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ ریلنگ پر زور سے مکا مارتے ہوئے بولتا سگریٹ جیب سے نکال کر جلا کر لبوں سے لگا لیا
بھاگ لو جتنا بھاگنا ہے آنا تمہیں میرے پاس ہی ہے تم حاضر شاہ کی پہلی اور آخری چاہت ہو وہ دھواں ہوا میں چھوڑتے ہوئے خیالوں میں فریحہ سے محاتب تھا
❤️❤️❤️❤️❤️
مہندی کی رسم شروع کرنے سے پہلے ہی دونوں کا نکاح کر دیا گیا تھا اور اب اسی لئے آرام سے مہندی کی رسم شروع کرنی تھی
تبریز اپنی مہندی کی شلوار سوٹ میں کندھوں پر چادر رکھیے شان سے چلتے ہوئے آیا تھا جہاں پہلے ہی زینی سر جھکائے پیلے شرار سوٹ میں پیلے رنگ کے ساتھ بیٹھی ہوئی تھی تبریز اسے دیکھ کر مسکرا دیا تھا
پیلے سوٹ میں اسے اپنے دل میں اترتی ہوئی محسوس ہو رہی تھی
وہ چلتے ہوئے اس کے پاس بیٹھ گیا تھا زینی نے ایک نظر بھی اُٹھا کر اسے نہیں دیکھ تھا
ہا۔۔۔ہاتھ چھوڑیں میرا تبریز نے بیٹھتے ہوئے اس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے لیا تھا اسی لئے زینی اپنی نظریں اوپر اُٹھ کر اسے دیکھتے ہوئے بولی تھی
یہ ہاتھ چھوڑنے کے لیے نہیں پکڑ میں نے محبت ہے مجھے تم سے اور آج تو تم میرے نام لکھی جا چکی ہو پورا حق رکھتا ہوں میں اور یہ حق تم بھی مجھ سے نہیں چھین سکتی سنا تم نے وہ سامنے دیکھتے ہوئے آخری بات اس کی طرف چہرا کیے جھکا کر بولا تھا
سامنے آتیں خبہ کو دیکھ کر تبریز نے زینی کے ہاتھ کو مضبوطی سے اپنے ہاتھ میں پکڑ لیا تھا اور زینی کی طرف دیکھتے ہوئے اس کے ہاتھوں کو اپنے ہونٹوں سے لگا لیا
زینی اس کی اس خرکت سے شرم سے اپنا سر جھکا گئی تھی
تبریز اسے دیکھتے ہوئے مسکرا دیا تھا
دور کھڑی جبہ اپنی آنکھوں میں آئی نمی کو روکتے ہوئے دوڑتے ہوئے گارڈن کے دوسرے کونے کی طرف چلیں گئی تھی جہاں کم لوگ تھے
تبریز اور زینی کو ایک ساتھ دیکھ کر خبہ کے آنسو نکلنے لگ گئے تھے وہ دیوار سے سر ٹکا کر بے آواز رونے لگی تھی
تھوڑی دور کھڑا وجب رانا جو سب سے علیحدہ ہو کر خاموش کونے میں کھڑا سگریٹ پی رہا تھا کسی کے وہاں آنے سے دوسری طرف مڑ کر دیکھا تھا
روتی ہوئی خبہ کو دیکھ کر وہ بے اختیار ہی اسے دیکھنے لگا جو نارنجی رنگ کے لہنگے کرتی میں ہلکے سے میکاپ کے ساتھ خوبصورت لگتی اسے خود سے نظریں ہٹانے سے روک رہی تھی وہ بس یک ٹک اسے ہی دیکھی جا رہا تھا
یہ لے لیں آپ کا ڈوپٹہ خراب ہو جائے گا خبہ جو اپنی آنکھوں میں آئے آنسو اپنے ڈوپٹہ سے صاف کرنے لگی تھی وجب کے رومال دینے سے آنکھوں کو اُٹھ کر خیریت سے اسے دیکھنے لگی
خیران مت ہو میں انس کا دوست ہوں اور آپ مجھے لگتا ہے بہن ہیں اس کی بڑی کے چھوٹی وہ اپنے سر پر ہاتھ مارتے ہوئے سوچنے کے انداز میں بولا تھا
پر آپ رو کیوں رہیں تھی.۔۔۔۔۔ چلیں جو بھی ہو جس کے لیے بھی رو رہیں تھیں اس انسان کو آپ کے آنسو کی کدر نہیں ہے تو اس کے لیے خود کے آنسو کو بے مول مت کریں بلکہ خود کو ان کے لیے خوش رکھیں جو آپ کو خوش دیکھنا چاہتے ہیں
وہ خبہ کو دیکھتے ہوئے بولا جو اس کی باتوں کو بہت غور سے سن رہی تھی
یہ لے اس سے صاف کر لیں ۔۔۔۔۔۔۔ورنہ رونے سے آپ کا میکاپ نہ خراب ہو جائے اور مجھے پتہ ہے لڑکیاں کتنی پوزیسو ہوتیں ہیں اپنے میکاپ کے بارے میں وہ مسکرا کر بولا تھا
نہ نہ نہیں مجھے نہیں ضرورت وہ بولتے ہوئے جانے لگی تھی
اوکے آپ کی مرضی وہ رومال کو دوبارہ جیب میں رکھنے لگا تھا
دے دیں پلیز وہ پھر سے بے چارگی لیے اس سے بولی تھی کیونکہ اندر جاتیں تو سب اس نے رونے کی وجہ پوچھتے اور صاف کرنے کے لیے کچھ تو چاہیے تھا اسی لیے اس سے جھجکتے ہو سب سوچ کر پھر سے لے لیا
پلیز انس کو کچھ نہیں بتائیں گا وہ اپنے آنسو اور آنکھوں کے کرد پھیلا ہوا کاجل صاف کرتے ہوئے بولی تھی
کیا نہیں بتانا اسے وہ سگریٹ کا دھواں ہوا میں چھوڑتے ہوئے مسکرا کر بولا تھا
ہوا میں دھواں چھوڑنے جبہ نے بے زار سا اسے دیکھتے ہوئے منہ بناتیں وہاں سے جانے لگی تھی اس کی مسکراہٹ بھی خبہ کو کچھ کہتی ہوئی محسوس ہو رہیں تھی
ہاہاہاہاہاہا انسان کسی کو شکریہ بھی بولا سکتا ہے وہ اس کے منہ بنانے پر قہقہہ لگاتے ہوئے بولا تھا
جبہ اسے گھوری سے نوازتے ہوئے وہاں سے چلی گئی تھی
پیچھے واجب بس مسکرا کر اسے جاتے ہوئے دیکھتا ہی رہ گیا
انس شاہ تمہاری بہن تو تم سے بھی بڑی پاگل ہے
پر یہ پاگل مجھے پسند آئی ہے واجب رانا کے دل کو چھو گئی ہے یہ پاگل لڑکی وہ مسکرا کر خود سے بولتے ہوئے سگریٹ کا آخر کش لیتا اسے زمین پر پھینکتے ہوئے کچھ سوچنے لگا تھا
❤️❤️❤️❤️❤️
یہ انس چاہتا کیا ہے مجھ سے کیوں کرتا ہے ایسا میرے ساتھ مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہی یہ بدلہ ہے یا۔۔۔۔۔
وہ سوچ رہی تھی پر اپنے ہی لفظوں کو زبان نہیں دے پا رہی تھی
میں نہیں چاہتی تم جیسا پارٹنر اپنی لائف کے لیے انس شاہ میں اپنی لائف میں کسی ایسے انسان کو نہیں چاہتی جو مجھے عزیت دے مجھے جینا ہے خوش رہنا ہے
مجھے عزت چاہیے پیار چاہیے میرے پارٹنر سے مجھے وہ ہر چیز چاہیے جو ایک لڑکی کی خواہش ہوتی ہے
میں کبھی بھی تمہیں خود سے کھیلنے کی اجازت نہیں دے سکتیں کبھی نہیں انس شاہ
تمہیں مجھے ہر خوشی دینی ہو گی ورنہ ہمارے راستے علیحدہ ہو جائیں گے میں کبھی بھی اس رشتے میں کمپرومائز نہیں کرنے والی
مجھے میری ماں کی طرح نہیں بننا نہ میں کوئی عاقب شاہ اپنی زندگی میں چاہتی ہوں
وہ آنکھوں میں آنسو لیے اپنی بالکنی میں ننگے پاؤں ریلنگ پر ہاتھ رکھ کر کھڑی تھی
اس نے بے اختیار آنکھوں کو بند کیا تھا آنسو آنکھوں سے نکل رہیے تھے
فون کی بیل پر اس نے آنکھوں کو کھول کر ہاتھوں سے آنسو صاف کرتے ہوئے فون کو اُٹھایا تھا جو پاس پڑھنے ٹیبل پر رکھا ہوا تھا
جاناں اتنی سردی میں ننگے پیر کھڑی مجھے کیوں سوچ رہی ہو تمہارا ہی ہوں زیادہ مت سوچوں اور اندر جاؤ بیمار ہو جاؤ گی
حیاء کے فون اُٹھانے پر انس کی باتیں سن کر حیاء حیرانی سے کبھی فون کو دیکھتی اور کبھی اپنے آس پاس
جاناں خیران ہونے کی ضرورت نہیں ہے تم بالکل میری نظروں کے سامنے ہو زارا نظروں کو باہر اپنی سڑک پر تو کرو وہ اپنی گاڑی کے بونٹ پر لیٹا سگریٹ کے کش لیتے ہوئے فون کان سے لگا کر حیاء سے بات کر رہا تھا
حیاء نے جلدی سے باہر کی طرف دیکھ جہاں سے صاف اس کی بالکنی پر نظر پڑھتی تھی وہاں اسے وہ نظر آیا تھا سٹریٹ لائٹ کی روشنی میں اسے مسکراتے ہوئے دکھائی دیا تھا
ہاتھ میں پکڑ سگریٹ جس پر حیاء نے نحوست سے سر کو جھٹکا تھا
انس ایک بات بولوں وہ ایک ہاتھ ریلنگ پر رکھے اسی کی طرف دیکھ رہی تھی
تمہیں مجھ سے اجازت لینے کی ضرورت کب سے پڑھنے لگی تم تو مجھے حکم دو جاناں وہ مسکراتے ہوئے بولا تھا
تم مجھے پوری طرح اپنا بنا لو یا پھر چھوڑ دو مجھے مجھے بیچ راستے کا مسافر نہیں بننا نہ ہی میں اپنے لائف پارٹنر کو بانٹ سکتیں ہوں مجھے میری زندگی مکمل چاہیے حیاء اسے دیکھتے ہوئے آنکھوں کو بند کر کے دوسری طرف چہرہ کرتے ہوئے بولی تھی وہ اس پر اپنا آپ ظاہر نہیں کرنا چاہتی تھی
آنیہ میری منگ ہے حیاء میں اسے کبھی بھی نہیں چھوڑ سکتا اور تم میری بیوی ہو تو تمہیں کیسے چھوڑ دوں وہ سرد لہجے میں بولتے ہوئے حیاء کو چپ کروا گیا تھا
انس ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اس کا نام پکار کر حیاء ریلنگ کے ساتھ لگتے ہوئے نیچے بیٹھ گئی تھی فون کو بند کر دیا تھا اور گھٹنوں میں سر دیے سسکیوں کے ساتھ رونے لگیں تھی
ماما آپ کی طرح میں بھی نامکمل ہو گئی یہ شخص دو منٹ میں مجھے میری اوقات بتا گیا ہے وہ کبھی نہیں اپنائے گا مجھے جیسے بابا نے آپ کو نہیں اپنائے ماما میں حالی ہاتھ رہ گئی ہوں ۔۔۔۔۔۔وہ رو رہی تھی سسک رہی تھھ
ہیلو ہیلو حیاء بولو تو فون کے بند ہونے پر وہ غصے سے اُٹھا تھا حیاء کو ٹھنڈی زمین پر بیٹھا دیکھ کر اسے بار بار فون کر رہا تھا پر وہ فون نہیں اُٹھا رہی تھی
انس دیوار کو پھلانگتے ہوئے دوسری سائیڈ سے ہو کر اس کی بالکنی تک پہنچا آیا تھا اور دوسری سائیڈ سے ہوتے ہوئے اب اس کے سامنے کھڑا تھا جو اپنا سر گھٹنوں میں دیے سسکیاں لے رہی تھی
وہ نیچے بیٹھتے ہوئے اس کو اپنی طرف کھینچ کر اپنے سینے سے لگا چکا تھا
چھوڑ دو مجھے انس چھوڑ دو نہیں رہنا مجھے تمہارے ساتھ کیوں مجھے برباد کرنا چاہتے ہو کیوں چاہتے ہو کے میں مر جاؤں کیوں انس شاہ وہ سر اُٹھا کر اس کا کلر اپنے ہاتھ میں دبوچ کر روتے ہوئے بول رہی تھی
ی ی یہ دیکھو میرے ہاتھ میں معافی مانگتی ہوں تم سے میں اپنی انا کو مار کر تم سے معافی مانگتی سب کے سامنے مانگنے کے لئے تیار ہوں پر میری لائف سے چلیے جاؤ
مجھے چھوڑ دو پھر چاہے آنیہ کے پاس جاؤ یا کسی کے پاس مجھے فرق نہیں پڑتا مجھے طلاق چاہیے تم سے انس شاہ طلاق سنا تم نے وہ غصے سے اسے پیچھے دھکیل کر بولی تھی
حیاء انس شاہ تم صرف اور صرف میری ہو صرف میری سن لو تم بھی چھوڑنے کا نام مت لینا وہ اس خود کے قریب کرتے ہوئے اس کی آنکھوں میں دیکھ کر بولا تھا
آج تو طلاق لفظ اپنی زبان سے نکل لیا ہے آئندہ اس زبان سے یہ لفظ نکلا تو تمہیں میں بتاؤں گا کہ ایک شوہر کے حقوق کیا ہوتے ہیں وہ اس کے رخسار کو سہلاتے ہوئے سرد لہجے میں بولا تھا
تو پھر آنیہ تمہاری زندگی میں نہیں آ سکتی میں اس رشتے میں کبھی بھی شرکت برداشت نہیں کر سکتی آنیہ یا میں چننا تمہیں ہے میں نے تمہارے ساتھ زبردستی نہیں کی تم نے میرے ساتھ زبردستی نکاح کیا ہے حیاء اس کے ہاتھ کو پیچھے جھٹکتے ہوئے بولی تھی
حیاء جاؤ تم آرام کرو تمہیں آرام کی ضرورت ہے وہ اسے زمین سے اُٹھ کر بولا تھا
جاؤ یہاں سے دفع ہو جاؤ میں مرو یا جیوں تمہیں مطلب نہیں ہونا چاہیے بس تم یہاں سے چلے جاؤ جو اب کرو گی میں خود کرو گی یا تو تم میرے ہو گے یا آنیہ شاہ کے شرکت حیاء کو کبھی بھی نہیں پسند امن شاہ بھی تو ہے نہ وہ پر اسرار سا مسکرا کر بولتے ہوئے اسے دھکیل کر اندر روم میں چلی گئی تھی
حیاء تم نے امن شاہ کو بیچ میں لا کر اچھا نہیں کیا وہ غصے سے اندر گیا تھا اور حیاء پر جھک کر بولا تھا جو جو اپنے کمبل میں آنکھوں کو بند کر کے لیٹی تھی
حیاء تم نے ہمارے رشتے میں شرکت لا کر میرے غصے کو ہوا دی ہے وہ اسے کے دونوں اطراف ہاتھ رکھ کر اس پر جھکے بولا رہا تھا
انس شاہ تم بھی جب جب ہمارے درمیان انیہ کو لے کر آؤ گے تب تب میں بھی ہمارے رشتے میں امن شاہ کو لے کر آؤں گی
وہ بھی غصہ سے اس کا کلر پکڑ کر اسے اپنے اور بھی قریب کرتے ہوئے بولی تھی
You are a beast of my life
And you are a beauti of my life
اور تمہیں معلوم تو ہے نہ بیوٹی ہمیشہ آخر میں بیسٹ کی ہی ہوتی ہے
حیا کے بولنے پر انس نے اسے جواب دیا تھا
کیا کر رہے ہو انس پیچھے ہٹ جاؤ انس کے ہونٹوں کو اپنی گردن پر محسوس کرتے ہوئے حیاء چلا کر بولی تھی جو اس کی گردن پر جھکا وہاں اپنا لمس چھوڑ رہا تھا
یہ تمہاری سزا ہے جاناں اب تمہیں انس شاہ بتایا گا حق کسے کہتے ہیں میں نے تمہیں پہلے بھی بولا تھا تم صرف اور صرف انس شاہ کی ہو پھر تمہاری ہمت بھی کیسے ہوئی کسی اور کا نام ان ہونٹوں سے لینے کی وہ اب اپنے ہاتھ کا انگوٹھا اس کے لبوں پر پھیرتے ہوئے بولا تھا
حیاء ڈرتے ہوئے اسے پیچھے دھکیل رہیں تھی جو اب اس کے ہاتھوں کو کابوں میں کیے اس کے ہونٹوں پر جھک کر اپنا جنون ان پر اتار رہا تھا
حیاء کے لاکھوں کوششوں پر بھی وہ اس سے دور نہ ہوا تھا
آئندہ اپنی زبان سنبھل کر بات کرنا ورنہ آج تو اتنے پر روک گیا ہوں دوبارہ کرنے پر میں تمہیں بالکل بھی نہیں بخشنے والا ۔۔۔۔۔۔۔۔
So be a good girl…..
And just be mine
Sweet heart
اس کے گال تھپتھپا کر مسکراتے ہوئے باہر نکل گیا تھا
پیچھے حیاء نے اپنا روکا ہوئے سانس بخال کیا تھا آنکھوں میں نمی آ گئی تھی اور غصے سے اپنے ہونٹوں اور گردن کو رگڑ رگڑ کر صاف کرنے لگی تھی
❤️❤️❤️❤️❤️
ماما مجھے آپ سے ایک بات کرنی ہے زویا نورین کے پاس آج نورین کے کمرے میں تھی اسی لیے اس کے پاس لیٹے ہوئے بولی تھی
جی بیٹا بولو کیا بات کرنیں ہے میری جان نے وہ اس کا گال تھپتھپا کر بولیتی صبح کے لیے اپنا ڈریس نکالنے لگ گئی تھی
ماما جانی پلیز میرے پاس آ کر بیٹھے بہت ضروری بات کرنیں ہے مجھے وہ ان کا ہاتھ پکڑ کر اپنے قریب بیٹھاتے ہوئے بولی تھی
ماما پرسوں میری دوست کا نکاح تھا اور آج وہ آئی تھی اس نے مجھے بتایا کہ یہ سب شادی کا اسی لیے مجھے آپ سے ایک بات کرنیں تھی وہ سر کو نیچے کیے نورین کا ہاتھ پکڑ کر بولی تھی
کون سی ایسی بات ہے جو میرے بیٹے نے کرنی ہے وہ اس کے سر کو ہاتھ سے پکڑا کر بولیں تھیں
ماما مجھے کچھ بتانا ہے آپ کو میرے ساتھ لندن میں ہوئے ایک واقعہ کے بارے میں وہ سر نیچے کیے بولی تھی
ماما اس دن جب میں سکول گئی تو مجھے کسی نے کڈنیپ کر لیا تھا اور پھر
ماضی
پلیز مجھے جانے دو میں نے کیا کیا ہے تمھارا اس کے دونوں ہاتھ بیڈ کے ساتھ بندھے ہوئے تھے اور وہ روتے ہوئے چلا رہی تھی
ہاہاہاہاہ ہاہاہاہاہ آف تم چیز ہی ایسی ہو کہ میرا دل آ گیا ہے تم پہ وہ آنکھوں میں خبست لیے بولا تھا اور ہاتھ میں پکڑے حرام مشروب کو پیتے ہوئے قہقہہ ہوا میں چھوڑا تھا
سوچا تھا آج کی ڈیل میں تم کو آگے بھچ دوں گا پر کیا کرو وکی کا دل آ گیا ہے تم پر وہ اس کے چہرے پر اپنی انگلی پھیرتے ہوئے بولا
نہیں نہیں پلیز جانے دو مجھے میری ماما میرے ویٹ کر رہیں ہو گئے
آف اتنی قیامت چیز کو کون چھوڑ دے چھوئے بنا وہ اس پر جھکنے لگا تھا کے پیچھے سے اس کسی نے پکڑ کر نیچے گرا دیا اور اس کے ہاتھ پر گولیاں ماری اور دوسری طرف اس کے ساتھیوں میں سے ایک لڑکی آگے بڑھ کر اس لڑکی کی ریسوں کو کھولا تھا
وہ ڈر کے مارے اس کے پیچھے چھپ گئی تھی
پلیز مجھے گھر جانے دیے مجھے میری ماما کے پاس جانا ہے
وہ چھوٹی سی لڑکی تھی جو ان سے ڈر کے چھپ
رہی تھی جو اس کے محسن تھے
اُٹھاؤ اس خرم خور کو وہ اپنے ساتھیوں سے بولا تھا اور آفسر آپ ان سے پوچھ کر ان کو ان کے گھر تک پہنچانے کا انتظام کریں وہ ڈری ہوئی معصوم صورت لیے کسی کے بھی دل میں اترنے کی کششِ رکھتی تھی
اور وہ اسے بہت دلچسپی سے دیکھا رہا تھا بالکل پاک خسن تھا اسکا
حال
اور پھر وہ ان کو اپنے اور اس آفسر کے نکاح کے بارے میں سب بے بتا دیا
ماما مجھے کچھ نہیں سمجھ آئی اس وقت کیا ہو کیا نہیں وہ کون ہیں مجھے کچھ نہیں پتہ ماما بس میں نے ان کو دیکھ تھا اور ان کا نام معلوم تھا مجھے وہ ان کے گلے لگی بولی تھی
نورین کو لگ رہا تھا آج سہی معنی میں ان کو کسی سہارے کی ضرورت ہے اور یہ ہی چیز ان سے ایک اور بھی فیصلہ کروا گئی تھی