Rate this Novel
Episode 38
سلال جب ائرپورٹ پر اتر تو انس اور حیاء اسے سامنے کھڑے نظر آئے تھے
سلال خیریت سے ان کو دیکھتے ہوئے ان کی طرف بڑھا تھا
السلام علیکم وہ دونوں آپس میں ہی کسی بات سے لڑ رہیے تھے جب سلال نے ان کے پاس جا کر سلام کیا تھا
وعلیکم السلام وہ دونوں مسکراہٹ کے ساتھ بولے تھے
سوری میرے یار انس سلال کے گلے لگ کر بولا تھا جس پر سلال نے بھی مسکرا کر اس کے گرد ہاتھ باندھ لیے تھے
دیکھو میں اپنے چلغوزے بھائی کو کیسے ملے بینا جانے دیتی حیاء اس کے گال کھنچ کر بولی تھی جس پر سلال مسکرا دیا تھا اور اس کے سر پر ہاتھ رکھا تھا
شکریہ حیاء بس میری زر کو بہت خیال رکھنا وہ اس کے گال تھپتھپا کر بولا تھا
اف اللہ کبھی ہمیں بھی پوچھ لیا کرو حیاء ایکٹنگ کرتے ہوئے بولی تھی
حیاء یہ تھکے ہوئے ڈرامے مت کیا کرو انس منہ بنا کر بولا تھا
اچھا ڈرکٹر جی وہ اسے زبان دکھا کر بولی تھی
سلال ہنس دیا تھا
اپنا بہت بہت خیال رکھنا سلال میں تمہیں بہت یاد کرو گی اور زر کی فکر نہیں کرنی اس کا بھی خیال رکھوں گی وہ مسکراتے ہوئے اس سے بولی تھی
سلال دونوں سے مل کر ان کو بائے بولتے ہوئے اندر چلا گیا تھا انس اور حیاء اسے دیکھتے ہی رہ گیے تھے
انس نے حیاء کا ہاتھ پکڑ کر اسے اپنے ساتھ لے گیا تھا
❤️❤️❤️❤️
احد اپنے ساتھ لیٹی زویا کے بالوں پر ہاتھ پھیر رہا تھا جو پرسکون ہوئی سوئی ہوئی تھی
بہت یاد آئے گی تمہاری مجھے زویا وہ اس سے باتیں کرتے ہوئے اس کے چہرے کے ہر نقش کو چھو کر محسوس کر رہا تھا
اُٹھ جاؤ زویا وہ اس پر جھکا اس کے چہرے پر پیار پیار کرتے ہوئے بولا تھا
وہ نیند سے بھوجل آنکھوں کو کھول کر مسکراتے ہوئے احد کو دیکھنے لگی تھی جو اس پر جھکا ہوا تھا
بہت مسکرایا جا رہا ہے کوئی خاص وجہ وہ اسے مسکراتے ہوئے دیکھ کر بولا تھا
ہاں جی رات کو میں نے خواب دیکھا تھا آپ مجھے چھوڑ کر چلیں گے ہیں میں ڈر گئی. میں پر صبح صبح آپ کو اپنے پاس دیکھ کر خوشی میں مسکرا رہی ہوں وہ اس کے چہرے کو اپنے دونوں ہاتھوں میں لے کر بولی تھی
احد کے لب اس کی بات سے سکڑ گیے تھے
اُٹھا جاؤ زویا شاباش ناشتہ کرتے ہیں وہ اس بات کو اگنور کرتے ہوئے اسے اُٹھاتے ہوئے بولا تھا
نہیں مجھے بھوک نہیں ہے وہ اس کی گود میں بیٹھ گئی تھی اور اپنی باہوں کو اس کی گردن کے گرد باندھ لیا تھا
احد مجھے بھی ساتھ لے جانا اس دفعہ پلیز پلیز وہ اس سے لاڈ کرتے ہوئے بولی تھی
زویا جاناں اگلی دفعہ پکا لے جاؤں گا اس دفعہ مشکل ہے وہ اسے بہلاتے ہوئے بولا تھا
احد میں ناراض ہوں آپ سے وہ اُٹھ کر جانے لگی تھی جس کو احد نے ہاتھ بڑھا کر اپنی طرف کھینچ لیا تھا اسے پھر سے گود میں بیٹھا لیا تھا
زویا ضد نہیں کرو جلدی آؤں گا تو لے جاؤں گا وہ اس کی ناک پر اپنے ہونٹ رکھ کر بولا تھا اور اسے گود میں اُٹھا کر واشروم تک لے گیا تھا جلدی فریش ہو کر آؤ ناشتہ کرنا ہے پھر رات کو ریسیپشن بھی ہے ہمارا اسی لئے پھر تم کو تیار بھی ہونا ہے
وہ اس کے گال تھپتھپا کر خود اس کا باہر انتظار کرنے لگا تھا
زویا اسے زبان چڑھاتے ہوئے واشروم میں چلی گئی تھی
❤️❤️❤️❤️
زرتاشہ اَٹھی تھی تو کمرے کی طرف دیکھنے لگی وہ رات کو سلال کے ساتھ وہی کاٹیج میں سو گئی تھی پر ابھی وہ سلال کے کمرے میں تھی
انگڑائی لیتے ہوئے اَٹھی تھی جب ڈریسنگ ٹیبل پر دیکھا جہاں ایک گلاب کے پھول کے ساتھ کارڈ رکھا ہوا تھا
مسکراتے ہوئے اسے اٹھایا تھا
السلام علیکم
جاناں میری کیوٹ سی جاناں
Good morning
میری مارننگ تو آج سے گوڈ نہیں ہے کیونکہ کے میری جاناں میرے پاس نہیں ہے جب تم اُٹھو گی تو میں تم سے دور جا چکا ہوں گا میں تمہیں روتے ہوئے نہیں دیکھا سکتا تھا اسی لیے تم سے ملے بینا جا رہا ہوں
اپنا خیال رکھنا میرے لیے جلدی ہی آؤں گا اور میری جاناں کی دلہن بننے والی خواہش بھی پوری کروں
تمہاری الماری میں تمہارے لئے موبائل ہے میں روزانہ تم سے بات کیا کروں گا مجھے پتہ ہے تم سب پڑھ کر ناراض ہو گی پر معاف کر دینا میں آ کر تمہیں منا لوں گا سب دوریاں ختم کر دوں گا
صرف تمہارا اور صرف تمہارے سلال رئیس
زرتاشہ اس کو پڑھتے ہوئے رو رہی تھی
میں آپ سے ناراض ہوں سلال آپ نے مجھے جگایا بھی نہیں اور ملے بینا چلے گئے
میں آپ سے اب بات نہیں کروں گی وہ روتے ہوئے اپنے آنسو صاف کر کے اس کارڈ کو سینے سے لگا کر بولی تھی
وہ پھول اور کارڈ کو لے کر اپنے کمرے میں چلی گئی تھی وہاں جا کر اسے اپنے دراز میں رکھ دیا تھا الماری کھول کر دیکھی تو وہاں موبائل بھی تھا
اس نے موبائل بھی اٌٹھا کر اس درز میں رکھا
میں آپ سے کبھی بات نہیں کروں گی اب تب ہی بات ہو گی جب آپ یہاں آئیں گے وہ غصے سے درز کو بند کرتے ہوئے اپنے آنسو کو صاف کر کے بولی تھی
❤️❤️❤️❤️
حیاء یہ کیا بچوں والی ضد ہے کیوں نہیں کرنا چاہتی تم ریسیپشن وہ حیاء کے پاس بیٹھ بولا تھا جو بستر پر سکون سے بیٹھی ہوئی تھی صرف ایک ہی ضد تھی ریسیپشن نہیں کرنا چاہتی
انس میرا نہیں دل میں نے تمہیں پہلے بھی بولا تھا وہ منہ بنا کر بولی تھی
حیاء دماغ ٹھیک ہے تمہارا سب انتظامات ہو چکے ہیں بس دلہن کا تیار ہونا باقی ہے وہ اسے غصہ سے گھورتے ہوئے بولا تھا
میری ماما نہیں ہوں گی اس میں انس کیا میری ماما کے نصیب میں کسی ایک بیٹی کی خوشی دیکھنا بھی نہیں ہے وہ آنکھوں میں آنسو لیے بولی تھی
حیاء سوری اس میں میں تمہاری کوئی مدد نہیں کر سکتا پلیز اسی لیے برا مت مانوں اور اَٹھ جاو سب تیار ہو رہیں ہیں بس تم ہی نہیں ہو رہی تیار وہ اس کے ہاتھ تھام کر اسے منانے کی کوشش کر رہا تھا
اوکے انس جاتی ہوں وہ اس کی شکل دیکھتے منہ بسورتے ہوئے اَٹھ گئی تھی
شکریہ میری جان وہ اسے پیار کرتے ہوئے بولا تھا
حیاء اپنے کپڑے لے کر دوسرے روم میں چلی گئی تھی جہاں سب لڑکیاں تیار ہو رہیں تھی اور پالیر والی آئی ہوئی تھی
❤️❤️❤️❤️
پری تیار ہو کر آئی تو عالی جو ڈریسنگ روم سے نکل رہا تھا اسے دیکھتے ہوئے اس کی طرف بڑھا تھا جو ڈریسنگ کے سامنے کھڑی اب بالوں کو بریش کر رہی تھی
عالی اس کے پیچھے کھڑے ہو کر اس کے کندھے پر سر رکھ کر اسے سامنے شیشے میں دیکھنے لگا جو اب اپنے لب کچل کر اسے شیشے میں دیکھ رہی تھی
عالی جائیں تیار ہو جائیں وہ بمشکل اس کی نظروں سے بچتے ہوئے بولی تھی
کیوں جان میرا یہاں کھڑے ہونا تمہیں پسند نہیں وہ اس کے بالوں کو آگے کرتے ہوئے اس کی گردن پر ہونٹ رکھ کر بولا تھا
عالی پلیز وہ اپنے ہاتھوں کو مسلتے ہوئے بولی تھی اس کے ہاتھوں کو عالی نے اپنے ہاتھوں میں قید کر لیا تھا
نو میری جان تم اتنی خوبصورت لگ رہی ہو کے میں چاہ کر بھی پیچھے نہیں ہو پا رہا وہ اس کا رح اپنے سامنے کرتے ہوئے اس کے لاکٹ کو دیکھنے لگا جو اس نے تین دن پہلے دیا تھا
ایک نظر پری کو دیکھتے ہوئے مسکرا کر اسے اپنے قریب کھنچا تھا اور اس کے ہونٹوں کو قید میں لیا تھا پری نے اس کی گرد میں ہاتھ ڈال کر خود کو کمپوز کرنے کی کوشش کی تھی
جان یہ رہا گفٹ وہ اسے چھوڑتے ہوئے اس کے گال تھپتھپا کر بولا تھا
اتنا خوبصورت لگنے کا گفٹ وہ اس کی ناک سے اپنی ناک مس کرتے ہوئے بولا تھا
اس طرح کا گفٹ نہیں اصل کا گفٹ دیں مجھے وہ اسے سینے پر مکا مار کر بولی تھی
ہاہاہاہاہا جاناں وہ بھی دے دوں گا فکر مت کرو وہ اسے اپنے ساتھ لگا کر بول تھا
❤️❤️❤️❤️
واجب آپ تو لڑکیوں سے بھی زیادہ ٹائم لگاتے ہیں وہ ڈریسنگ کا دروازہ بجا کر بولی تھی خبہ تیار سی کھڑی واجب کا انتظار کر رہی تھی اسے ہال کے لیے نکالنا تھا اسی لیے
ٹھیک ہے مت آئیں میں جا رہی ہوں آپ آ جانا اکیلے ہی وہ وہاں سے جانے لگی تھی کہ واجب ڈریسنگ روم کا دروازہ کھول کر اسے اندر کھنچ لیا تھا اسے الماری کے ساتھ پن کیے اس کے ہونٹوں کو دسترس میں لیا تھا
سوچ بھی کیسے لیا کے مجھے چھوڑ کر جاؤ گی وہ اس کے ہونٹوں پر اپنا غصہ اتار کر اسے بالوں سے پکڑا کر بولا تھا
واجب۔۔۔۔۔۔۔۔۔ خبہ اس کے بال پکڑنے پر اسے غصے سے دیکھ کر بولی تھی
ابھی بتاتی ہوں آپ کو خبہ نے بھی واجب کے بال پکڑ لیے تھے اور زور سے کھنچے تھے
خبہ لڑاکوں عورت چھوڑ دو مجھے واجب اس کے بال چھوڑ کر اسے بولا تھا
اب آیا نہ مزا زارا سا غصہ ہوتے ہی میرے بال پکڑ لیتے ہیں اب جب جب آپ ایسا کریں گے میں بھی ایسا ہی کروں گی وہ اس کے بال چھوڑ کر اس کے چہرے کو ہاتھوں میں تھام کر پیار سے بولتے ہوئے اس کے گال پر اپنے لب رکھ گئی تھی
تمہاری ہمت بھی کیسے ہوئی میرے بال پکڑنے کی وہ اس کی کمر پر ہاتھ رکھ کر اسے اپنے قریب کرتے ہوئے بولا تھا
یہ ہمت مجھے واج. رانا کے پیار نے دی ہے سنا آپ نے مسٹر واجب وہ اس کے دل پر ہاتھ رکھ کر بولی تھی
واجب اس کی بات سن کر مسکرا دیا تھا
بہت تیز ہو چکی ہو تم مسیز واجب ٹھیک کرنا پڑھے گا تمہیں وہ اس کے ناک پر اپنے لب رکھ کر بولا تھا
تو کیوں نہ ہوں تیز میرے مسٹر کو پیار ہی بہت ہے مجھ سے اسی لیے ان کے پیار نے مجھے تیز کر دیا ہے وہ اس کی گال پر پڑھنے والے ڈنپل پر اپنا ہاتھ رکھ کر بولی تھی جو اس کے مسکرانے پر واضع ہو رہا تھا
رومنس ختم ہو گیا ہو تو چلیں مسٹر واجب رانا وہ مسکراتے ہوئے اسے دیکھ کر بولی تھی
جس طرح کی آج آپ لگ رہیں ہے آج میرا تو دل نہیں کر رہا کہی بھی جانے کو وہ اس کی گردن پر اپنے لب رکھتے ہوئے بولا تھا
پلیز واجب ہمیں دیر ہو رہی ہے وہ اس سے دور ہونے کی کوشش کرتے ہوئے منمائی تھی پر واجب نے اپنی گرفت مضبوط کر دی تھی جس سے وہ ہل بھی نہیں پا رہی تھی
آج نہیں جا رہیے ہم واجب اپنا چہرہ اس کی طرف کرتے ہوئے بولا تھا
واجب پلیز مزاق مت کریں وہ رونے والی شکل بنا کر بولی تھی
ہاہاہاہاہا بس اتنی ہی بہادر ہے میری بیوی وہ اس کی طرف دیکھ کر قہقہہ لگاتے ہوئے بولا تھا
رونا مت میری جان میں تمہارے آنسو نہیں دیکھ سکتا وہ اس کے ماتھے پر پیار دے کر بولا تھا اور تیار ہو کر اسے لے کر نکل گیا تھا
،❤️❤️❤️❤️❤️
ریان کے بچے میری چیزیں کہا رکھ دیتے ہو وہ الماری میں سے اپنا بیگ ڈھونڈ رہی تھی
ریان کے بچے ابھی نہیں آئے پر تم کہو گی تو بہت جلدی لے آؤں گا وہ اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے اپنی طرف کر کے الماری کا دروازہ بند کرتے ہوئے اسے الماری کے ساتھ لگا کر بولا تھا
بہت شوق ہے تمہیں بچوں کا ٹھرکی آفیسر وہ اس کی گردن میں دونوں ہاتھوں کو ڈال کر بولی تھی
جی میری مغرور سی حسینہ آپ کے شریف آفیسر کو بہت پسند ہیں بچے وہ اس کے چہرے پر پھونک مارتے ہوئے بولا تھا
جس پر آنیہ نے مسکرا کر اسے دیکھا تھا
پہلے میں ایک بچے کو سنبھال لوں پھر اور بھی لے آؤں گی وہ ریان کے گال کھنچ کر بولتے ہوئے اپنے لب اس کی گال پر رکھ کر بولی تھی
تم مجھے سنبھال لینا میں اسے سنبھال لوں گا بات ختم بس تم لے آؤ پلیز وہ منہ بنا کر بولا تھا
ہاں کل ہی بازار جا کے لے آؤں گی بتاوں کتنے لے کر آنے ہی دس کے بارہ وہ اسے گھورتے ہوئے بولی تھی
ہاہاہاہاہا سوئٹ ہارٹ تم ہی ٹھیک ہو بچوں کا انتظام میں خود کر لوں گا لڑکیاں بہت ہیں وہ اس کی گھوری کو اگنور کرتے ہوئے اس کے ہونٹوں کو چھو کر پیچھے ہو گیا تھا
کیا کیا بولا تم نے وہ اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے اپنے سامنے کرتے ہوئے چلائی تھی
کسی دوسری لڑکی کی طرف آنکھیں بھی اُٹھا کر دیکھی تو اس کو بعد میں گولی ماروں گی تمہیں پہلے نمبر پر اُڑا دوں گی آنیہ اس کی گردن میں ہاتھ ڈال کر اس کے بالکل قریب کھڑی بولی تھی
تم میری نیت خراب کر رہی ہو آنیہ تم نہیں جانا چاہتی کیا آج ریسیپشن پر وہ اس کی ناک سے اپنی انک مس کرتے ہوئے بولا تھا
آنیہ گھبراتے ہوئے پیچھے ہوئی تھی پر ریان نے اس کی کمر پر ہاتھ رکھ کر اسے پیچھے ہونے نہیں دیا تھا
اب کہاں اب تو میری نیت بالکل خراب ہو چکی ہے وہ اس کے ہونٹوں پر جھک کر بولا تھا
آنیہ نے زور سے آنکھوں کو بند کر لیا تھا
چلوں چلیں اب وہ پیچھے ہوتے ہوئے بولا تھا
آفیسر بہت ٹھرکی ہو سچ میں تم آنیہ غصے سے اسے دیکھ کر بولی تھی جو ڈریسنگ کے سامنے کھڑا اپنے بالوں پر بریش کر رہا تھا
ہاں وہ تو میں ہوں مغرور خسینہ کا ٹھرکی آفیسر وہ مسکراتے ہوئے آنیہ کی طرف دیکھ کر بولا تھا جو غصے اور شرم سے لال ہو رہی تھی
چلوں چلیں اب ورنہ میرا اردہ پھر سے نہ بدل جائے وہ اسے آنکھ مار کر اپنی طرف کھینچ کر بولا تھا جو منہ بسور کر اس کے ساتھ باہر نکل گئی تھی
ریان نے آنیہ کا ہاتھ پکڑ لیا تھا
آنیہ اس کے ہاتھ میں اپنا ہاتھ دیکھ کر مسکرا دی تھی
آنیہ کو مسکراتے ہوئے دیکھ کر ریان نے اس کے ہاتھ پر اپنے ہونٹ رکھے
❤️❤️❤️❤️❤️
فریحہ جلدی آؤ یار کب سے انتظار کر رہا ہوں میں تمہارا حاضر فریحہ کو فون کر کے بولا تھا جو ابھی تک نہیں آئی تھی
چلیں جلدی کریں ہم لیٹ ہو گیے ہیں فریحہ گاڑی میں بیٹھ کر حاضر سے بولی تھی جو خود جلدی میں تھا جلدی سے گاڑی کو آگے بھاگا کر لے گیا
فریحہ جو اپنی جوتی پہن رہی تھی حاضر کی نظر اس پر گئی تھی جو نیچے جھکی ہوئی تھی اس کے سارے بال نیچے اس کے چہرے پر پھیلا گئے تھے
حاضر نے مسکراتے ہوئے اس کے بالوں کو آ پیچھے کیا
فریحہ نے جوتے پہن کر مسکراتے ہوئے سر اوپر اُٹھا کر حاضر کو دیکھا تھا جو اسے ہی دیکھ رہا تھا
سامنے دیکھ کر چلائیں گاڑی ابھی مجھے آپ کے ساتھ بہت سا جینا ہے وہ مسکراتے ہوئے گاڑی کے بونٹ پر رکھے اپنے آویزوں کو اٹھا کر بولی تھی
کیا کروں میری جاناں لگ ہی اتنی پیاری رہی ہے کے میری نظر اس پر سے ہٹ نہیں رہی حاضر سامنے دیکھ کر اس سے بولا تھا
ادھر دو میں پہنچاؤں وہ اسے آویزوں کو ڈالتے دیکھ کر بولا تھا جو کوشش کے باوجود بھی نہیں ڈال پا رہی تھی
آپ گاڑی چلائیں میں کوشش کر رہی ہوں وہ حاضر کے ہاتھ نظرانداز کرتے ہوئے بولی تھی
دو ادھر وہ گاڑی کو روکتے ہوئے ہاتھ آگے بڑھ کر بولا تھا
فریحہ نے چپ چاپ اس کے ہاتھ میں رکھ دیے تھے
حاضر نے ایک کان میں پہنائیں تھے پھر دوسری طرف پہنا کر اس کے کان پر پہنا اس کی لو کو چوما تھا فریحہ نے گھبرا کر اسے دیکھا تھا جو شریر سی نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا
حاضر گاڑی چلائیں ہم لیٹ ہو رہیں ہیں فریحہ اس کی نظروں سے گھبرا کر بولی تھی
گھبرا کیوں رہی ہو جاناں وہ اس کے چہرے سے بال پیچھے کرتے ہوئے اسے اپنی طرف کھینچ کر بولا تھا جو اس کے کھنچے جانے سے ڈر کر اسے دیکھنے لگی تھی
حاضر ہم لیٹ ہو رہیے ہیں یہ رومنس کا وقت نہیں ہے وہ غصے سے اسے دیکھ کر بولی تھی
رومنس کے لیے وقت تھوڑی ہوتا ہے وہ اس کے ہونٹوں کو انگوٹھے سے سہلا کر بولا تھا
پلیز حاضر وہ آنکھوں کو بند کیے بولی تھی
حاضر اس کے ہونٹوں کو آرام سے چھو کر پیچھے ہو گیا تھا
فریحہ جلدی جلدی پیچھے ہوئی تھی اپنی دل کی دھڑکن بہت تیز محسوس ہو رہی تھی اپنے لب کچلتے ہوئے سامنے دیکھنے لگی
وہ خود پر حاضر کی نظروں کو محسوس کر رہی تھی
گاڑی ہال کے پاس روک کر خود باہر نکل کر دوسری سائیڈ سے اسے ہاتھ دے کر نیچے اتارا تھا جو کنفیوز سی اسے دیکھ رہی تھی
چلو اندر چلیں وہ اس کی کمر پر ہاتھ رکھ کر اسے اپنے ساتھ لے گیا تھا
❤️❤️❤️❤️❤️
ریسیپشن بڑے پیمانے پر رکھا گیا تھا احد اور انس کب سے بیٹھے اپنی اپنی والی کا انتظار کر رہے تھے
کیا مصبیت ہے ابھی تک آ کیوں نہیں رہیں یہ دونوں ادھر ہمارے کپڑے برباد ہو جائیں گے اور تم منحوسوں کی طرح اس کو منہ سے لگائے رکھا کرو بس احد انس کو آرام سے بیٹھ کر سگریٹ پیتے ہوئے دیکھ کر بولا تھا
تو کیا کرو تیری طرح ادھر سے اُدھر چکر لگا کر اپنے پاؤں تھاکا لوں تک پھر اپنی سوئٹ سی جان کے ساتھ کھڑا بھی نہ ہو پاؤں وہ سگریٹ کا دھواں ہوا میں چھوڑتے ہوئے بولا تھا
لانت ہے تم پر انس احد اسے ہاتھ کی پانچ انگلیاں دکھا کر بولا تھا
تم پر بھی انس دل جلانے والی مسکراہٹ کے ساتھ بولا تھا جس پر احد نے اسے گھوری سے نوازا تھا
احد یہ دیکھیں میں کتنی پیاری لگ راہیں ہوں زویا اس کے پاس آ کر بولی تھی جو اس کے بولنے پر بس اسے ہی دیکھی جا رہا تھا
جو لائٹ پنک کلر کی میکسی پہنے تیار کھڑی تھی پلکوں کو جھپکتے ہوئے مسکراہٹ کے ساتھ احد کی طرف دیکھ رہی تھی جو بس اسے ہی دیکھی جا رہا تھا
بہت خوبصورت میری جان وہ اسے دیکھتے ہوئے اس خود کے قریب کرتے ہوئے اس کے ماتھے پر اپنے لب رکھ کر بولا تھا
زویا مسکرا کر اس کے گلے لگ گئی تھی
ہمممممم پاس بیٹھے انس نے منہ سے آواز نکالی تھی
جا دفع ہو جا انس یہاں سے مجھے میری بیوی سے بات کرنی ہے احد بینا انس کی طرف دیکھے زویا کے گلے لگا بولا تھا
بات کرنی ہے یا رومنس کرنا ہے انس بولتے ہوئے وہاں سے چلا گیا تھا باہر
احد اس کی بات پر مسکراہٹ کے ساتھ زویا کو دیکھنے لگا تھا جو اسے اپنے کپڑے اور جیولری دکھا رہی تھی
❤️❤️❤️❤️❤️
انس باہر گیا تھا جہان حیاء گاڑی میں سے جھنجھلاتے ہوئے اپنا ڈوپٹہ کھینچتے ہوئے نکلی تھی
انس اس کو تیار ہوا دیکھ کر خیران رہ گیا تھا جو غصے میں اور بھی پیاری لگ رہی تھی آج آنکھوں میں گلسز نہیں تھے
حیاء نے انس کو دیکھ منہ بنایا تھا جو اس کی طرف بڑھ رہا تھا
حیاء چلتے ہوئے اس کی طرف آئی تھی پر اچانک اس کا پاؤں سامنے پڑھے چھوٹے سے پھتر پر گیا تھا اور وہ لڑکھڑاتے ہوئے گرنے لگی تھی
انس نے جلدی سے آگے بڑھ کر اسے اپنی پناہوں میں لے لیا تھا
حیاء نے ڈرتے ہوئے انس کی شرٹ کو زور سے پکڑ لیا تھا گہرے گہرے سانس لینے لگی تھی
کچھ نہیں ہوا میری جان میں ہوں نہ تمہارے پاس جب تک انس شاہ ہے کوئی بھی میری حیاء کو کچھ نہیں کر سکتا وہ اس کا چہرہ اپنے سامنے کرتے ہوئے بولا تھا جو خوف کے زیر اثر گھبراہٹ کا شکار تھی
ریلکس یار رونا مت ورنہ سارا میکاپ خرب ہو جائے گا اور پھر تم سچ میں چڑیل لگو گی وہ اس کی آنکھوں میں آنسو دیکھ کر بولا تھا
حیاء روتے ہوئے ہنس دی تھی
انس اگر میں گر جاتی تو وہ پریشان سی بولی تھی اس نے ابھی بھی انس کی شرٹ کو اپنی مٹھیوں میں پکڑا ہوا تھا
میں نے بولا نہ انس شاہ اپنی حیاء اور عدن اور ایک عدد تمہارے مطابق شیر ہے اسے کچھ نہیں ہونے دیتا کیوں نہ اس شیر کا نام ہم ازلان ہی رکھ دیں انس حیاء کا دھیان ہٹانے کے لیے بولا تھا
ایک اور بات آج تمہارے لیے سپرائز بھی ہے وہ اس کے ماتھے سے اپنا ماتھا ٹکا کر بولا تھا
حیاء مسکراتے ہوئے انس کے گلے لگ گئی تھی انس اس کے عمل سے خیریت کا شکار ہوا تھا اور اسے خود میں بھیچ گیا تھا
اہم اہم پیچھے سے عالیشان شاہ نے دونوں کا دیکھ کر کیا تھا علشیہ شاہ بھی پاس ہی کھڑی مسکرا رہیں تھی
حیاء جلدی سے پیچھے ہونے لگی تھی جس کو انس نے اس کی کمر میں ہاتھ ڈال کر اسے خود کے قریب کر لیا تھا
کیا بابا آپ سے ہی سکھا ہے میں نے سب انس مسکراہٹ کے ساتھ بولا تھا
میں تمہاری طرح بالکل نہیں ہوں عالیشان شاہ اسے گھورتے ہوئے بولے تھے
بابا یہ تو اب ماما ہی بتا سکتی ہیں آپ میری طرح ہیں یا نہیں میں چلا اپنی بیوی لے کر آپ اپنی کو سنبھالیں وہ حیاء کی کمر میں ہاتھ ڈال کر اسے اندر لے گیا تھا
علیشہ شاہ نے عالیشان شاہ کو گھور کر دیکھا تھا جو مسکراہٹ کے ساتھ ان کا ہاتھ پکڑ کر اندر لے گیے تھے
