Wondering in love By Natasha Ali Readelle50222
Last updated: 8 September 2025
Wondering In Love
By Natasha Ali
بارات آ گئی تھی پہلے عالی آیا تھا پھر ریان اور پھر واجب تینوں کے لیے علیحدہ علیحدہ سٹیج تھے نکاحِ ہو چکا تھا اسی لیے اب کھانے کے بعد دلہنوں کو لے کر آنا تھا سب ہی اپنی اپنی جگہ مصروف تھے خبہ کے تو ہاتھ پاؤں ٹھنڈے ہو رہیے تھے مہندی والی رات واجب کا جنونی روئیہ دیکھ کر خبہ کے رہیے سہیے اوسان بھی ختہ ہو چکے تھے وہ گھبراہٹ لیے بیٹھی ہوئی تھی آنیہ کہی حد تک خود کو نارمل رکھے ہوئے تھی پری فریحہ کا ہاتھ پکڑ کر بیٹھی ہوئی تھی گھبراہٹ اس کے چہرے پر بھی تھی حیاء چلتے ہوئے آنیہ کے پاس آئی تھی آنیہ نے نظریں اُٹھا کر اسے دیکھا تھا اور پھر مسکراتے ہوئے صوفے سے اُٹھ کر اسے گلے لگا لیا تھا سوری حیاء میں نے تمہارے ساتھ بہت برا روئیہ رکھا اب میں نئی زندگی تمام پورانی رنجشوں کو بھول کر شروع کرنا چاہتی ہوں جو بھی ہو سوتیلی ہی سہی تمہاری بڑی بہن ہوں حیاء نے بھی مسکرا کر اسے گلے لگا لیا تھا وہاں بیٹھے سب مسکرا دیے تھے حیاء پری سے اور پھر خبہ سے بھی ملی تھی شکریہ بہت بہت حیاء مجھے پھوپھو بنانے کے لیے میں بہت خوش ہوں کہ جلدی ہی کوئی مجھے پھوپھو بولے گا خبہ اسے کے گلے لگی بولی تھی اور مجھے کیا بولے گا پری بھی جلدی سے بولی تھی تمہیں بولے گا ظالم مامی آنیہ ہنستے ہوئے بولی تھی اور مجھے اور فریحہ کو خالہ آنیہ ہنستے ہوئے حیاء کی طرف دیکھ کر بولی تھی جو مسکرا رہی تھی انس باہر کھڑا اسے مسکراتے ہوئے دیکھ کر خوش ہوا تھا چلیں اب سب لڑکیوں کو باہر لے کر جانا ہے خنا شاہ اندر آ کر بولی تھی چلو میں حاضر کو بھیجتی ہوں تم لوگ بس آ جانا وہ بولتے ہوئے باہر نکل گئیں تھی پری کو حاضر اور فریحہ نے دونوں سائیڈ سے پکڑا تھا خبہ کو انس اور حیاء نے اور آنیہ کو زویا اور زینی نے پکڑا ہوا تھا اور تینوں کو سٹیج تک لے کر گیے تھے عالی نے پری کی طرف ہاتھ بڑھایا تھا ۔۔۔۔ میری بہن کا بہت سا خیال رکھنا حاضر نے پری کا ہاتھ اس کے ہاتھ میں دیتے ہوئے کہا تھا پری کی نظریں نیچے جھکی ہوئی تھی عالی نے پری کا ہاتھ پکڑا کر اسے اپنے ساتھ بیٹھا لیا تھا بالکل پری لگ رہی ہے آج میری پری وہ پری کے پاس بیٹھا اس کی طرف رح کیے بول رہا تھا جو گھبرائیں اس کی طرف دیکھ بھی نہیں پا رہی تھی یار اگر تو نے میری بہن کو ایک بھی دکھ دیا تو منہ توڑ دوں گا تمہارا انس واجب کے ہاتھ میں خبہ کا ہاتھ دیتے ہوئے بولا تھا بس کر یار تیری یہ بہن ہی کافی ہے مجھ جیسے معصوم کا منہ توڑنے کے لیے واجب مسکراتے ہوئے اسے بولتا خبہ کے ہاتھ کو اپنے ہاتھ میں لے کر سٹیج پر اپنے ساتھ لے گیا تھا واجب اپنی گرفت میں خبہ کی لرزش صاف محسوس کر رہا تھا جو اس کے قریب بیٹھے ہوئے بھی لرزہ رہی تھی واجب نے اس کے گود میں پڑھے ہاتھ کو اپنے ہاتھ میں لے لیا تھا ابھی مت گھبراؤں ابھی کچھ نہیں کروں گا گھر جا کر ہی سارے بدلے پورے کروں گا جو جو بدتمیزی تم نے میرے ساتھ کی ہے اس کا حساب دینا ہے واجب اس کے قریب جھکا اس کے کان میں سرگوشی نما بولا تھا آنیہ ہاتھ خولا رکھنا ہمارے بچارے لڑکے پر جوتے سے نہ مارنا بس تھپڑ ہی مارنا ورنہ نشان بن جاتے ہیں تو اگر نشان بن گیے تو ہمارا بچارا آفیسر کسی کو منہ دکھانے لائک نہیں رہیے گا زینی کے ہاتھ میں سے ریان کے ہاتھ میں آنیہ کا ہاتھ رکھتے ہوئے احد بولا تھا آنیہ سے جس پر ریان نے اس پر لانت بھیجی تھی اور آنیہ کے ہاتھ کو اپنے ہاتھ میں لے کر سٹیج کی طرف بڑھ گیا تھا احد کی بات سے آنیہ کے چہرے پر مسکراہٹ آئی تھی مسکرا لو جتنا مسکرانا ہے میڈم گھر جا کر سارے حساب لوں گا ریان مسکراتے ہوئے آنیہ کو بولا تھا جو اس کی بات سے اسے دیکھنے لگی تھی زویا احد کی بات پر کھلکھلا دی تھی احد اس کی ہنسی میں کہی کھو گیا تھا وہ بس اسے ہی دیکھ جا رہا تھا جو زینی کے پاس کھڑی احد کی بات پر ہنستی جا رہی تھی بس کر دو جاناں نظر لگ جائے گی احد اسے کے گرد اپنا حصار بنا کر اسے اپنے قریب کرتے ہوئے بولا تھا نہیں لگتی آپ کی نظر مجھے کیوں کہ آپ کو مجھ سے پیار ہے اور پیار کی نظر نہیں لگتی وہ مسکراتے ہوئے بولی تھی احد بھی اسے دیکھ کر مسکرا دیا تھا پھر کچھ سوچ کر اس کی مسکراہٹ سکڑ گئی تھی
