Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 13

زینی میں میں تم سے معافی مانگنے آئی ہوں خبہ زینی کے پاس آئی تھی جو برائڈل سائیڈ پر اکیلے بیٹھی ہوئی تھی کیونکہ سب بارات کے لیے باہر گیے ہوئے تھے
کیا یہ اب تمہاری نئی چال ہے زینی نے آئبرو اُٹھا کر پوچھا تھا جو لب بیچے اس کی طرف دیکھ رہی تھی
نہیں ایسا بالکل بھی نہیں ہے پلیز میں میں غلط تھی مجھے ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا مجھے شرمندگی ہے ہر چیز کے لیے مجھے سمجھ آ چکی ہے کہ تبریز میرے کبھی تھے ہی نہیں اور نہ ہو سکتے ہیں وہ صرف تمہارے ہیں اور تمہارے ہی رہیں گے
اسی لیے تم سے اپنے کیے ہر غلط عمل کی معافی چاہتی ہوں وہ اس کے پاس بیٹھتی اس کے ہاتھ تھام کر بولی تھی
کوئی بات نہیں خبہ مجھے تم سے کوئی گلا نہیں ہے تم تو ہمیشہ سے میری دوست اور بہن رہی ہو وہ اسے مسکرا کر بولی تھی
خبہ بھی اس کے گلے لگ گئی تھی دونوں مسکرا دی تھیں
تم پر اعتبار کبھی نہیں کر پاؤَں گی کبھی بھی نہ تم پر نہ کسی پر وہ دل میں سوچتے ہوئے خود سے بولی تھی
میں باہر دیکھ کر آتیں ہوں وہ اس کے گال تھپتھپا کر باہر نکل گئی تھی
پیچھے زینی زہمی سی مسکراہٹ لیے سر کو جھکا گئی تھی
رج کے رولایا
رج کے ہسایا
میں نے دل کھو کے
عشق کمایا
پر آپ کو کبھی بھی نہیں معاف کروں گی آپ نے مجھے بے یقین کیا ہے مجھ پر تمت لگائی ہے میری محبت کو جھٹلایا ہے
سوچتے ہوئے اپنی آنکھوں میں آئی نمی کو خود میں اتار کر آنکھوں کو زور سے بند کر گئی تھی
❤️❤️❤️❤️
فریحہ اور پری حاضر کے ساتھ اس کی گاڑی میں بیٹھی ہال کی طرف جا رہیں تھیں حاضر کی نظر شیشے میں سے پیچھے بیٹھی فریحہ پر تھوڑی تھوڑی دیر میں پڑھ رہی تھی
فریحہ اس کی نظروں کو خود پر پڑھتے ہوئے دیکھ کر جھنجلاہٹ کا شکار ہورہی تھی
پری آج بارات کے بعد مجھے گھر جانا ہے ماما کا فون آیا تھا اسی لیے فریحہ پری کے پاس ہوتے ہوئے اس کے کان میں بولی تھی کے حاضر تک آواز نہ جانے پائے
کیا کیا سوچنا بھی مت فریحہ تمہیں تو شادی کے بعد بھی دو تین دن تک میں جانے نہیں دوں گی پری اونچی آواز میں بولتے ہوئے اس کو انگلی سے وارننگ دیتے ہوئے بولی تھی
فریحہ نے پری کے اونچا بولنے پر سر پکڑ لیا تھا اور لب بیچے کوئی دوسرا لفظ منہ سے نہیں نکالا
میری جان تم دیکھتی جاؤ اب تو تم کو یہاں سے سوائے میرے کوئی بھی نہیں لے کر جا سکتا وہ پر اسرار سا مسکرایا تھا
احد ان دونوں کو اندر لے جاؤ حاضر گاڑی سے باہر نکلا کر احد کو آواز دے کر بولا تھا
تم دونوں سیدھا اندر جاؤ باہر نہ نظر آؤ تم دونوں مجھے وہ ان کو بولتے ہوئے خود دوسری طرف مردوں کے پاس چلا گیا تھا جہاں بارات نے اندر جانا تھا
پری منہ بناتے ہوئے فریحہ کو ساتھ لیے احد کے ساتھ اندر چلی گئی تھیں
پری چڑیل آج تو بہت پیاری لگ رہی ہو اور پیاری لڑکی تم تو اور بھی پیاری ہو گئی ہو وہ ان دونوں کو بولتے ہوئے مسکرایا تھا
فریحہ مسکرائی تھی جبکہ پری نے منہ بنا کر اسے دیکھ تھا
پری اس چڑیل والی شکل سے میں نہیں ڈرنے والا اس سے تم عالی شاہ کو ڈرا سکتی ہو وہ منہ بنا کر بولتے ہوئے وہاں سے چلا گیا تھا
ہاہاہاہاہا پری وہ مزاق کر رہیے تھے فریحہ پری کا چہرا دیکھ کر قہقہہ لگاتے ہوئے بولی تھی
میری جان ناراض مت ہو تم سچ میں پری ہو اور پری ہی لگ رہی ہو وہ اس کے گال پر پیار کرتے ہوئے بولی تھی
تم بھی بہت پیاری لگ رہی ہو وہ بھی اس کے گلے لگتے ہوئے بولی تھی
بارات اندر آ گئی تھی پری اور فریحہ علیشہ شاہ کے پاس کھڑی تھیں جو انہوں کو خبہ کو دیکھنے کے لیے بولا تھا
چھوٹی ماما خبہ آپو زینی آپو کے پاس ان کے کمرے میں بیٹھی ہوئی ہیں
پری ان کو بول کر فریحہ کو لے کر مڑی تھی
سامنے آتے عالی کی نظر جب پری پر گئی تو مڑنا بھول گئی تھی
نیلے رنگ کی میکسی پہنے بالوں کو کھولا چھوڑئے مسکراتے ہوئے فریحہ سے باتیں کر رہی تھی
نظر لگاؤ گے کیا اپنی چڑیل پری کو احد پیچھے سے آیا کر اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر بولا تھا
احد منہ بند بھی رکھ لیا کرو کبھی آ لینے دو تمہاری باری پھر تم دیکھنا وہ اس کا ہاتھ اپنے کندھے سے ہٹا کر بولا تھا
دعا کر جلدی مل جائے پھر تم اسے تنگ کر سکو عالی کے کہنے سے احد کسی کو سوچ کر مسکرا دیا تھا اور اپنے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے وہاں سے چلا گیا
عالی پری کو دیکھ کر مسکراتے ہوئے احد کے ساتھ مردوں کی طرف چلئے گے تھے
❤️❤️❤️❤️
اف یہ یہاں کیسے اٹک گیا خبہ جو برائڈل روم سے باہر نکل رہی تھی پاس سے گزرتے ہوئے ریلنگ پر اس کا ڈوپٹہ اٹک گیا تھا
ہائے اللہ کھنچا تو یہ تو کسی کام کا نہیں رہیے گا آج کا دن نکل جاو اس میں سے پھر چاہے کل خراب ہو جانا وہ ڈوپٹہ سے ایسے باتیں کر رہی تھی جیسے وہ کوئی انسان ہو
ہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہا واہ آپ تو چیزوں سے بھی باتیں کرتیں ہیں انٹرسٹنگ پاس سے گزرتا ہوا واجب خبہ کو ڈوپٹے سے باتیں کرتے ہوئے دیکھتے ہوئے قہقہہ لگا گیا تھا
خبہ نے اس کے قہقہہ لگانے سے سر اوپر کر کے اسے گھوری سے نوازا تھا اور منہ بناتے ہوئے پھر سے اپنے ڈوپٹے کو نکالنے لگ گئی تھی
یہ لیے بس زبان کی جگہ تھوڑی سی عقل استعمال کر لیا کریں وہ اس کے ڈوپٹے کو ریلنگ سے نکل کر بولا تھا
ویسے بھی مجھے زبان چلانے والی لڑکیاں پسند نہیں اس لئے آئندہ زیادہ مت بولنا ورنہ اپنے بولنے پر پچھتاوا ہو گا تمہیں وہ اس کے چہرے پر آئی لیٹ کو اس کے کان کے پیچھے کرتے ہوئے بولا تھا
خبہ اس کی اس خرکت سے بدک کر پیچھے ہوئی تھی اور اس کا ہاتھ جھٹکا تھا
ہاتھوں کو کابو میں رکھو اپنے اور میری زبان ہے جتنا دل کرئے گا اتنی چلاؤں گی تم کون ہوتے ہو مجھے روکنے والے وہ اسے کو انگلی سے ورن کرتے ہوئے بولتی جانے لگی تھی
بہت جلد پتہ چل جائے گا میں کون ہوں اور آئندہ تمیز سے بات کرنا تم نہیں آپ آپ کا لفظ استعمال کرنا اور اپنے عاشق کو بھول جاؤ آج سے سنا تم نے واجب کے بولنے پر اس نے مڑا کر اس کی طرف دیکھ تھا
جو اسے یہ سب بول کر خیران چھوڑ کر جا چکا تھا پیچھے خبہ سے کھڑے رہنا محال ہو چکا تھا
تو کیا مامی اس کے بارے میں رات کو مجھ سے پوچھ رہیں تھی دادا شاہ نے اس کو میرے لیے پسند کیا ہے وہ آنکھوں میں نمی لیے سوچتے ہوئے خود سے بولی تھی
نہیں نہیں ایسا نہیں ہو سکتا وہ نہ میں سر ہلا رہی تھی
اب ایسا ہو چکا ہے مس خبہ خبہ کو اس کے دماغ سے آواز آئی تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔یہ تمہارے ہی کیے کی سزا ہے دوسروں کے ساتھ جو کیا ہے اب خود بھی بھگتنا تو پڑھے گا
وہ وہی ریلنگ سے لگے پاس سیڑھیوں پر بیٹھ گئی تھی
❤️❤️❤️❤️
زینی کو تبریز کے ساتھ لا کر کھڑا کیا گیا تھا تبریز زینی کو دیکھ کر اسے دیکھتا ہی رہ گیا تھا اس نے آگے ہوتے ہوئے زینی کا ہاتھ پکڑا تھا جو سرد ہو رہا تھا
اس کے ہاتھ پکڑنے سے زینی نے اپنا سر اُٹھ کر اسے دیکھا تھا جو اسے دیکھ کر مسکرا رہا تھا وہ پھر سے اپنے لب بیچے سر کو نیچے جھکا گئی تھی
وہ دونوں ایک دوسرے کے ہاتھوں میں ہاتھ دیے اب ہال میں چلتے ہوئے سٹیج تک جا رہیے تھے دونوں اطراف سے ان پر پھولوں کی بارش ہو رہی تھی ہلکے سے چلتے سونگ کے ساتھ وہ سٹیج تک جا رہیے تھے پھر تبریز اور زینی دونوں اب سٹیج پر بیٹھے تھے
اب سب کزنز ان کے پاس آئے تھے رسموں کے لیے
چلو فری تم بھی میرے ساتھ کل بھی نہیں آئی تھی پلیز آج تو چلو مزا آئے گا ابھی اتنی رسمے ہوں گئی تمہیں مزا آئے گا پری اس سے بول رہی تھی پر وہ نہ میں سر ہلاتے ہوئے اس سے اپنا ہاتھ چھوڑا رہی تھی
جاؤ بیٹا آپ بھی کوئی بات نہیں جاؤ لے جاؤ پری خنا شاہ کے بولنے پر فریحہ چپ چاپ پری کے ساتھ چلی گئی پری کو اور کیا چاہیے تھا
سٹیج پر کھڑی آنیہ شاہ اور اس کی دوسری کزنز نے فریحہ کو دیکھ کر منہ بنایا تھا
پر پری اسے کھینچتے ہوئے اپنے ساتھ سٹیج پر پڑھی چیر پر بیٹھا چکی تھی اور خود اس کے پاس کھڑی آنیہ کی باتوں کا لطف لے رہی تھی جو اب دودھ پلائی کی رسم کرتے ہوئے تبریز سے پیسے لے رہی تھی
لالہ دوسری رسم میں کروں پری آگے بڑھ کر بولی تھی جس پر سب نے اسے مسکرا کر دیکھا تھا
عالی کی نظر پری پر ہی تھی
بچہ تم میرے ساتھ ہو کے ان کے ساتھ تبریز کے بولنے پر پری مسکرا دی تھی
لالہ میں تو دونوں کے ساتھ ہوں ادھر یہ رسم کروں گی اور گھر جا کر دروازہ روکنے والی پری کے ہنس کر بولنے سے سب ہی ہنس دیے تھے
لالے کی جان میرے تو سارے پیسے تمہارے ہیں وہ مسکراتے ہوئے پری اور آنیہ کو بولا تھا
زینی بھی پری کی باتوں سے مسکرا رہی تھی تبریز نے مسکراتی ہوئی زینی کو دلچسپی سے دیکھا تھا
اس عنایت کے قربان جاؤں
وہ اس کو دیکھتے ہوئے سرغوشی کے اندز میں بولا تھا کے آواز صرف زینی تک ہی پہنچ سکے اس کے بولنے پر اس نے تبریز کی طرف دیکھا تھا جو اسے ہی دیکھ کر مسکرا رہا تھا
زینی کو اپنا دل تیز دھڑکتے ہوئے محسوس ہو رہا تھا وہ اسے دیکھ کر نظریں پھر سے نیچے جھکا گئی تھی
لالہ پلیز زینی اپکو کو بعد میں دیکھ لینا پہلے ہمارے پیسے نکالیے جلدی پری کے بولنے پر تبریز نے جان دار قہقہہ چھوڑ تھا
یہ لو تم دونوں اب جان چھوڑو میری وہ دونوں کو پیسے دیتے ہوئے بولا تھا پری اور اب لڑکیاں مسکراتے ہوئے نیچے چلیں گئیں تھیں
پری بھی فریحہ کو لے کر نیچے چلی گئی تھی کیونکہ اب بڑوں کی رسموں کی باری تھی
فریحہ یہ پیسے آدھے تمہارے اور آدھے میرے ہوئے پری اس سے مسکرا کر بولی تھی
ہاہا میری جان مجھے نہیں ضرورت پیسوں کی تم سب ہی رکھ لو وہ اس کے گال کھینچتے ہوئے بولی تھی
دور کھڑے حاضر کی نظریں فریحہ کا طواف کر رہیں تھیں جو مسکرا مسکرا کر پری سے باتیں کر رہی تھی
اب رخصتی کی جارہی تھی احد زینی کو قرآن کے سائے میں تبریز کے ساتھ چلتے ہوئے لے جا رہا تھا اب بڑے پیچھے پیچھے تھے
پر حاضر کی نظریں ابھی بھی فریحہ کی طرف تھی
عاقب شاہ آنیہ کے کندھے پر بازوں پھیلائے اس سے باتیں کرتے ہوئے نیچے آ رہیے تھے
فریحہ کی مسکراتی ہوئی نظریں جب سٹیج سے اترتے ہوئے عاقب شاہ پر پڑھی تو اس کے مسکراتے ہوئے لب سکڑ گیے تھے
آنکھوں میں پانی بھر آیا تھا جس سے سارا منظر دھندلا گیا تھا فریحہ سے کھڑے رہنا مشکل ہو گیا تھا آنکھوں سے آنسو نکلنے لگے تھے
آج اسے حیاء کی باتیں کان میں گونجنے لگی تھیں
ہمیں ایسے چھوڑ کر بھی وہ مطمئن کیسے ہو سکتے ہیں ماما انہوں کو شرمندگی نہیں ہوتی
آج اسے سچ میں لگ رہا تھا اس انسان کو زرا سی بھی شرمندگی نہیں ہو رہی وہ سوچتے ہوئے اپنے ہاتھوں کی پشت سے اپنے آنسو کو صاف کر رہی تھی
دور کھڑا حاضر فریحہ کی سیچویشن سمجھنے کی کوشش کر رہا تھا تب ہی اسے دادا شاہ کا بولاوا آ گیا تھا اسے نہ چاہتے ہوئے بھی جانا پڑھا تھا وہ فریحہ کو روتے ہوئے دیکھتا خود باہر نکل گیا تھا
پ پ پری وہ وہ شخص کون ہے فریحہ خود کو بمشکل سنبھل کر پریوش سے پوچھ رہی تھی
وہ وہ تو سب سے چھوٹے بابا ہیں آنیہ اپو اور عالی کے بابا
تو کیا بابا ماما سے پہلے بھی شادی شدہ تھے فریحہ کے سب کچھ سوچ کر رنگ اُڑ گئے تھے
نہیں نہیں وہ اپنی سوچوں کی نفی کرتے ہوئے پری کے ساتھ چلنے لگی جو اب گھر جانے کے لیے اس کا ہاتھ تھماتے ہوئے اسے اپنے ساتھ لے کر جا رہی تھی
وہ دونوں گاڑی میں بیٹھیں تھیں فریحہ اپنی ہی سوچوں میں گم تھی
ڈرائیور انکل آپ نیا ہیں کیا یہاں سے کہاں سے جا رہے ہیں یہاں تو شانیوں کی زمینے ہیں دوسرا راستہ لے
چھوٹی بی بی یہاں سے جلدی پہنچ جائیں گے ہم صاحب نے جلدی آنے کا بولا ہے ہماری گاڑی ہی رہ گئی ہے باقی تو سب ہی گھر پہنچ گئے ہیں بس ہماری گاڑی رہ گئی ہے
ہم اچھا ٹھیک ہے پر یہاں سے جلدی نکال لینا ڈرائیور انکل یہاں خطرہ ہے وہ اسے بولتے ہوئے اپنے موبائل کی طرف متوجہ ہو گئی تھی یہ جانے بغیر کے ڈرائیور ان کو غلط راستے کی طرف لے کر جا رہا ہے
❤️❤️❤️❤️❤️
ساری تیاریاں مکمل ہو چکی ہے عادل کے بتانے پر نورین نے سر اُٹھ کر دیکھ تھا جو اپنے کمرے میں بیٹھی کسی سوچ میں گم تھیں
کیا ہوا ہے کسی چیز سے پریشان ہیں کیا وہ ان کو پریشان دیکھ کر بولے تھے
پتہ نہیں میرا دل بہت گھبرا رہا ہے جیسے کچھ غلط ہونے والا ہو وہ ان کی طرف چہرا کیے پریشان سے لہجے میں بولی تھی
پلیز پریشان مت ہوں سب ٹھیک ہو جائے گا کس چیز کی پریشانی ہے جب آپ کی بیٹیاں بھی خوش ہیں اس سے تو پریشان مت ہوں سب ٹھیک ہو جائے گا
اور رہی بات زویا کی تو اس معاملے کو میں خود حل کر لوں گا اس بات پر ٹینشن مت لیے
نورین ان کی بات سے مسکرا دی تھیں چلیں نیچے اب تھوڑی دیر میں زرتاشہ اور سلال کا نکاح ہے
وہ ان کا ہاتھ پکڑ کر بولے تھے
کیونکہ ان دونوں کا نکاح نورین کی ضد پر پہلے ہی کر دیاگیا تھا جب کہ زرتاشہ اور سلال کا اب سب کے سامنے کچھ دوستوں کی محفل میں کیا جانا تھا
عادل اپنے نکاح کا بھی سب کو بتانے والے تھے
آپ کی ضد تھی ورنہ میں سب کے سامنے اپنا اور آپ کا نکاح چاہتا تھا پر اب سب کو بتاؤں گا کہ آپ کا مجھ سے کیا رشتہ ہے چلیں جلدی چلیں سب نیچے ہمارا ویٹ کر رہیں ہیں
وہ نورین کا ہاتھ پکڑ کر اپنے ساتھ لے کر جانے لگئے
نورین مطمئن تھی اپنے فیصلے پر اللہ نے ان کو بہت سی آزمائشوں کے بعد ایک مخلس ہمسفر دیا تھا جس سے باقی زندگی اچھی گزرنے والی تھی
❤️❤️❤️❤️
زری میری سوئٹی تم تو بہت پیاری لگ رہی ہو حیاء زرتاشہ کو تیار دیکھ کر بولی تھی
جو شرارے شرٹ میں تیار ہوئی چھوٹی سی دلہن بنی بہت پیاری لگ رہی تھی
آپو مجھے ڈر لگ رہا ہے زرتاشہ حیاء سے بولی تھی
کچھ نہیں ہوتا میری جان ہم پاس ہے نہ تمہارے ویسے بھی کون سا رخصتی ہے اور سلال بھی اتنا اچھا لگا ہے مجھے تو حیاء اسے سمجھاتے ہوئے بولی تھی
جی جی آپو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔آپ کیا جانے وہ وہ کتنی سختی کرتا ہے مجھ پر وہ حیاء کو بولتے ہوئے باقی بات دل میں سوچ کر رہ گئی تھی
چلیں باہر عادل اور نورین اندر آ کر بولے تھے
میں اپنی بیٹی کو خود لے کر جاؤں گا عادل صاحب آگے بڑھ کر اس کے سر پر ہاتھ رکھ کر بولے تھے اور پھر ایک سائیڈ پر نورین اور دوسری طرف عادل نے اسے پکڑا تھا
حیاء کے چہرے پر یہ منظر دیکھ کر مسکراہٹ آ گئی تھی آنکھوں میں نمی لیے وہ وہ بھی اپنی ماما کے ساتھ زویا کو لے کر چلی گئی
آج سہی معنی میں نورین کو کسی ساتھی کی ضرورت محسوس ہوئی تھی عادل نے ہر قدم پر آج زرتاشہ کا باپ بن کر دکھائے تھا
نورین مسکرا کر دیکھ رہی تھی عادل کیسے باپ کی طرح نکاح کے وقت اس کے سر پر کھڑے تھے ہر معاملے میں وہ سب کچھ اچھی طرح ہینڈل کر رہے تھے
نکاح کے بعد دونوں کو اکٹھے بیٹھا دیا گیا آج سلال کی خواہش پوری ہو گئی تھی
فائنلی تم آج میرے نام ہو گئی ہو زر وہ اس کے ہاتھ کو اپنے ہونٹوں کے ساتھ لگا کر بولا تھا
زرتاشہ نے خیریت سے اسے دیکھا تھا اس کے اس عمل سے زرتاشہ کو کرنٹ لگا تھا جلدی سے اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ سے کھنچ چکی تھی
اف زر تمہاری یہ عادت مجھے بہت بری لگتی ہے جبر دار جو آئندہ مجھ سے دور جانے کی کوشش کی ہو سمجھی وہ اس کا ہاتھ پھر سے پکڑ کر بولا تھا
زر چپ کر کے بیٹھ گئی تھی وہ بس اسے مسکراتے ہوئے دیکھ رہا تھا
❤️❤️❤️❤️❤️
گاڑی ایک جھٹکے سے روکی تھی دونوں نے سر اُٹھ کر دیکھ تو گاڑی کے اطراف میں کچھ بندے گنز لے کر کھڑے تھے پری اور فریحہ دونوں نے پریشانی سے ایک دوسرے کی طرف دیکھا تھا
پری یہ کون لوگ ہیں اور ہم کہاں ہیں فریحہ نے پریشانی سے پرویوش سے پوچھا تھا
فریحہ مجھے لگتا ہے ڈرائیور انکل شانیوں کی جگہ پر آ گیے ہیں اور وہ تو دادا کے دشمنوں کی جگہ ہے پری بھی ڈرتے ڈرتے بولی تھی
بیٹا جلدی سے گھر فون کر کے حاضر صاحب کو بتاؤ ہمارے بارے میں جلدی میں نے دروازے لاک کر دیے ہیں ان کے کھولنے سے پہلے جلدی کریں
ہیلو لالہ جلدی جلدی آئیے ہم ہم شانیوں کی جگہ پر آ گیے ہیں پری جلدی سے ڈرتے ہوئے بولی تھی پلیز لالہ جلدی پری رونے لگی تھی
پری کیا ہو گے ہے تم ڈر کیوں رہی ہو ہم نے کون سا کچھ غلط کیا ہے وہ ہمیں کیوں نقصان پہنچائیں گے فریحہ ڈر تو رہی تھی پر پھر بھی خود کو سنبھال کر پری کو تسلی دیتے ہوئے بولی تھی
فری تم نہیں جانتی یہ ہمیں نقصان پہنچا سکتے ہیں تم مہمان ہو نہ یہاں وہ تمہیں اور مجھے لے جائیں گے یہ ان کا رول ہے اگر ہمارا تم سے کوئی گہرا رشتہ ہو تو وہ نقصان نہیں پہنچا سکتے پر تم میری دوست ہو کوئی خون کا رشتہ تو نہیں ہے نہ ہمارا اسی لئے وہ تمہیں لے جا کر نقصان پہنچا سکتے ہیں
وہ سامنے سے آتے ہوئے آدمیوں کو دیکھ کر بولی تھی جو اب ان کی گاڑی کی طرف بڑھ رہیے تھے
پری کی بات سن کر فریحہ کی سہی معنوں میں جان نکلی تھی اسے اپنا دل بند ہوتا محسوس ہو رہا تھا
دروازہ کھول جلدی باہر سب دروازہ کھولنے کی کوشش کر رہیے تھے پری اور فریحہ ڈر کر ایک دوسرے کے ساتھ چیپک گئیں تھیں
❤️❤️❤️❤️
حاضر فون سنتے ہوئے باہر کی طرف دوڑ لگا چکا تھا اس کے پیچھے پیچھے انس احد اور عالی بھی نکلے تھے
اور ایک گاڑی میں علیشان شاہ اور خیسن شاہ بھی نکلے تھے
حاضر وہاں گاڑی کے پاس پہنچا تھا جہاں ڈرائیور کے سر پر چوٹ لگی ہوئی تھی اور وہ وہاں کھڑا تھا
پری اور فریحہ کہاں ہیں حاضر گاڑی سے نکل کر اس سے پوچھنے لگا
چھوٹے سرکار وہ ان کو شانیوں کے لوگ لے گئے ہیں اور آپ کے لے پیغام دیا تھا
سب شانیوں کی خویلی میں پہچا جائیں ڈرائیور کے بولنے پر حاضر گاڑی لے کر جلدی سے نکال گیا تھا اور باقی سب کو بھی میسج کر دیا تھا
رعب تمہاری ہمت بھی کیسے ہوئی ان کو یہاں لے کر آنے کی حاضر وہاں پہنچ کر غصے میں پورے گاؤں کے جرک کے لوگوں میں پہچا کر بولا تھا
باقی سب بھی وہی پہچ گیے تھے دادا شاہ بھی وہی آ چکے تھے
ہاہاہاہاہا حاضر شاہ یہ رہی تمہاری بہن پر دوسری لڑکی کو ہم نہیں چھوڑنے والے رعب کے کہنے پر حاضر نے غصے سے اسے دیکھا تھا
دوسری سائیڈ پر کھڑی پری اور فریحہ ڈر گئیں تھیں فریحہ نے ڈرتے ہوئے پری کو زور سے پکڑ لیا تھا وہ ڈرتے ہوئے نم آنکھوں سے حاضر کی طرف دیکھا رہی تھی
حاضر شاہ تم جانتے ہو یہ لڑکی اب نہیں جاسکتی یہاں سے تم اسے لو اور جاؤ وہ پری کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولا تھا
خبر دار اپنا یہ بے خود روج ہم لوگوں پر تھوپا ہو تو یہ دونوں لڑکیاں ہمیں چاہیے یہ ہمارے گھر کی عزت ہیں پیچھے سے آتے ہوئے دادا شاہ روب سے بولے تھے
یہ لڑکی تو آپ کو تب ہی ملے گی بڑے شاہ جی جب آپ کا اس سے کوئی تعلق نکلے گا ورنہ آپ جانتے ہیں یہ ہم شانیوں کا رواج ہے رواد شانی مونچھوں پر ہاتھ پھیرتے ہوئے بولا تھا
تو ٹھیک ہے آج ابھی یہ لڑکی شاہوں کی بہوں بنے گی ابھی اسی وقت نکاخ ہو گا اس کا میرے حاضر سے تب تو تمہارا رواج پورا ہو جائے گا نہ دادا شاہ کے بولنے سے سب نے ان کی طرف دیکھ تھا
فریحہ نے نہ میں سر ہلایا تھا حاضر نے فریحہ کی طرف دیکھ تھا اسے روتے ہوئے نہ میں سر ہلاتے دیکھ کر غصے اور غم سے مٹھیوں کو زور سے بیچا تھا
پھر سب کی رزمندی سے فریحہ کے لاکھ انکار کرنے کے باوجود بھی اسے حاضر کے نام کر دیا گیا تھا
رعب غصے سے سب دیکھ رہا تھا اسے خود کا پلن ناکام ہونے کا غم تھا وہ غصے سے سب کو نظر انداز کرتے ہوئے وہاں سے نکل گیا تھا
فریحہ گاڑی میں بیٹھی روئے جا رہی تھی پری اسے کب سے چپ کروانے کی کوشش کر رہی تھی
فریحہ دیکھو لالہ اور دادا جائیں گے تو تمہاری ماما سے بات کریں گے سب ٹھیک ہو جائے گا پری اپنی سوچ کے مطابق فریحہ کء رونے کا خل بتا رہی تھی
فریحہ روتے ہوئے لب بیچے بیٹھی ہوئی تھی اپنی سسکیوں کو روکنے کی کوشش کر رہی تھی
حاضر اور دادا آگے بیٹھے صرف اسے سن رہے تھے حاضر خود پر بہت مشکل سے خود پر کنٹرول کر کے بیٹھا تھا
نفرت ہے مجھے تم سے حاضر تم سب سے نفرت ہے مجھے ہمیں برباد کرنے والوں سے میں کوئی رشتہ نہیں رکھنا چاہتی
وہ سوچ کر پھر سے رونے لگی تھی کہ یہ سب اس کے باپ کا خاندان ہے جس نے ساری زندگی ان کو پوچھا تک نہیں
باہر شام کے سائے ہٹ کر رات کی تاریکی بڑھ رہی تھی
فریحہ کو خود کی زندگی بھی تاریخ ہوتی لگی تھی خود کو بہت زیادہ روکنے کے باوجود بھی اس کے منہ سے پھر سے سسکیی نکلی تھی
❤️❤️❤️❤️❤️
شکریہ رعب میرا ساتھ دینے کے لئے حاضر خویلی میں داخل ہونے سے پہلے فون پر کھڑا بات کر رہا تھا
یار تم ہر چیز ڈھانکے کی چوٹ پر کرتے ہو تو ایک لڑکی کو حاصل کرنے کے لیے یہ سب ڈرامہ کیوں اور بہت بڑی بات ہے اس ڈرامے میں سب بڑوں نے بھی تمہارا ساتھ دیا ہے رعب دوسری طرف سے بولا تھا
دادا کو بہت مشکل سے منایا تھا میں نے اور وہ لڑکی نہیں جان ہے میری ایسے وہ مان نہیں رہی تھی تو یہ سب ناٹک کرنا پڑھا حاضر مسکرا کر بولا تھا
اگر اسے پتہ چلا گیا تو
نہیں چلے گا پتہ کبھی بھی میں ایسا ہونے نہیں دوں گا حاضر شاہ ہوں میں اور میں جو چاہتا ہوں وہ پا کر رہتا ہوں
تمہارا شکریہ رعب اپنے بڑوں کے ساتھ مل کر میرا ساتھ دینے کا ۔۔۔۔۔۔۔۔
حاضر گاڑی میں سوار اپنی اور رعب کی ہوئی باتوں کو سوچتے ہوئے مسکرا رہا تھا
فریحہ کا رونا اسے تکلیف دہ رہا تھا پر اسے پانے کے لئے یہ سب حاضر نے کیا تھا
پہلے خود ڈرائیور کو وہاں بھیجنا اور پھر وہ سب ڈرامہ وہ پیچھے فریحہ کو دیکھ کر سوچ رہا تھا
تم نے اور کوئی راستہ نہیں چھوڑا تھا میرے پاس مجھے تمہیں پانے کا یہ سب سے بسٹ آپشن لگا تھا
❤️❤️❤️❤️