Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 28

ماضی
یہ میری بیٹی نہیں ہے ہو ہی نہیں سکتی یہ میری بیٹی عاقب شاہ چھوٹی سی گلابی گالوں والی معصوم سی بچی کو بول ریے تھے جس کو دنیا میں ابھی آئیے ہوئے ابھی کچھ گھنٹے ہی ہوئے تھے
نورین نے خیران ہو کر عاقب شاہ کی طرف دیکھا تھا جو سوچ رہی تھی کے شاید اب یہ انسان ٹھیک ہو جائے گا اس کی آخری امید بھی توڑ چکا تھا اس نے روتے ہوئے اسے اپنے ساتھ لگا لیا تھا
یہ تمہارے عاشق کی نشانی ہے نہ اسی لیے اپنے ساتھ لگا رہی ہو یہ اسی رات کی غلطی ہے
نورین رو رہی تھی پر بولی کچھ نہیں تھی وہ ان کو بتا بتا کر تھک چکی تھی کہ یہ ان کی ہی اولاد ہے پر عاقب شاہ پہلے پہل تو ٹھیک تھا پر جب سے علم ہوا تھا کہ ان کی بیٹی پیدا ہوئی ہے وہ نورین پر الزام ہی لگا رہیے تھے جس کو وہ بس بے بسی سے سہا رہی تھی
پر وہ نہیں جانتی تھیں کہ یہ ہی چیز آگے جا کر ان کی بیٹی کے لیے کتنی نقصان دے ہونے والی ہے
عادل صاحب ہسپتال میں آئیے تھے بچی کے لیے کچھ سامان لے کر جن کو دیکھ کر سہی معنی میں نورین کے رنگ اُڑ گیے تھے
آؤ آؤ تم بھی آؤ تمہاری ہی تو اولاد ہے تمہارے پاس ہی تو رات گزار کر آئی تھی یہ لے کر جاؤ اپنی بچی کو دفعہ ہو جاؤ عاقب شاہ نورین کے ساتھ لگے چھوٹے سے وجود کو ہقارت سے دیکھتے ہوئے بولے تھے
تم ایک گرے ہوئے انسان ہو عاقب شاہ عادل اتنا نہیں گرا کے اپنی محبت کو پیسے کے لیے برباد کر دیے
تم نے نورین کو میرے پاس پیسوں کے لیے بھیجا ضرور تھا پر جس طرح وہ پاک صاف میرے پاس آئی تھی اسی طرح وہ تمہارے پاس سے گئی تھی
میری محبت ابھی اتنی نہیں گری کے میں اسے رسوا کروں اللہ اس بچی کے نصیب اچھے کرے وہ اس کے سر پر ہاتھ رکھ کر بولے تھے اور روتی ہوئی نورین کو ایک نظر دیکھ کر وہاں سے مڑ کر چلیے گیے تھے
باتیں کرنے میں تو آگے ہی یہ ماہر ہے میں کبھی مان ہی نہیں سکتا کہ اتنی رقم اس نے تم کو چھوئیے بینا دے دی تھی عاقب شاہ نورین پر اپنا زہر اگلا کر وہاں سے چلے گئے تھے
حیاء ہو تم میری میری حیاء کی نشانی میری حیاء جو ہمیشہ میری پاکیزگی کی گواہی دے گی اللہ تمہیں ہر خوشی دیے
نورین وہاں اکیلی بیٹھی اپنی بیٹی کی قسمت کی دعائیں اللہ سے مانگ رہیں تھی
پر قسمت میں حیاء کے لیے کتنی تکلیفیں لکھی تھیں کوئی نہیں جانتا تھا
❤️❤️❤️❤️❤️
ماضی
وقت کا کام تھا گزارنا وقت گزر رہا تھا پر عاقب شاہ کا روئیہ دن با دن بد سے بدتر ہو رہا تھا
فریحہ کی پیدائش پر ان کو کچھ غلط تو نہیں سننا پڑھا تھا وہ اسے اپنا خون مانتے تھے اسی لیے اسے گود میں بھی لیا تھا پر وقت کے ساتھ اس سے بھی دور ہو گیے تھے
نورین حیاء لوگوں کے سکول ہی ٹیچر تھی فریحہ اور حیاء دونوں ساتھ جاتیں تھی ماں کے نورین ہی گھر کو چلا رہی تھی عاقب شاہ صرف اپنی دنیا میں مگن تھا
عادل کے دیے پیسوں سے وہ اپنی ہر ضرورت پوری کر رہا تھا پر اپنی بیوی اور بیٹیوں کو مکمل بھولا اپنی دنیا میں مست تھا
جب پیسے ختم ہوئے تو روزانہ نورین کو مارنے لگا
اس کو بولوں اپنے باپ سے پیسے لے کر آئے وہ حیاء کی طرف بڑھتے ہوئے چلایا تھا تمہارے عاشق کی اولا ہے نہ یہ نورین عاقب کی طرف نہیں حیاء کی طرف دیکھ رہی تھی جو سن ہوئی اپنے باپ کی باتوں کو سمجھنے کی کوشش کر رہی تھی
حیاء اور فریحہ کو باپ کی بے رحی نے وقت سے پہلے سمجھ دار بنا دیا تھا
بابا آپ میرے بابا ہے میں آپ کی بیٹی ہوں وہ روتے ہوئے بولی تھی
نہیں نہیں تم میرا نہیں اپنی ماں کے عاشق کا گندا خون وہ اسے بلیٹ سے مار رہا تھا فریحہ تھوڑا دور کھڑا اسے دیکھ رہی تھی آنکھوں میں خوف تھا
بابا نہیں مارے بابا پلیز نہیں مارے وہ روتے ہوئے چلا رہی تھی فریحہ اپنی بہن کو دیکھ کر ڈر کر وہی کھڑی روئی جا رہی تھی
نورین اپنے آپ کو سنبھال کر اس طرف آئی تھی اور حیاء کو اپنی آغوش میں لے لیا تھا اب عاقب شاہ کے بیلٹ نورین کے اوپر برس رہیے تھے وہ لب سیے سب برداشت کر رہیں تھی پر تین وجودوں کی سسکیاں پورے کمرے میں گونج رہیں تھی
عاقب شاہ کب کا اپنا کہر ان پر ڈاتا سب کو اکیلا چھوڑ کر جا چکا تھا
ماما آپ نے بولا تھا میں بابا کی پیاری بیٹی ہوں وہ کیوں بول رہیے ہیں میں ان کی بیٹی نہیں ہوں وہ روتے ہوئے نورین کو بول رہی تھی جن کے پاس کوئی جواب نہیں تھا
پھر یہ سب روزانہ کا معمول ہونے لگا تھا حیاء باپ کے آنے پر جلدی سے فریحہ کو الماری میں چھپا دیتی اور خود ماما کے ساتھ اپنے باپ کو ہر زہم سہتی تھی
اپنی ماں پر لگی تہمت اور اپنے وجود کو اندر ہی اندر گندا کہنے لگی تھی
ماما میں گندی ہوں بابا آپ کو میری وجہ سے مارتے ہیں نہ کیوں کہ میں میں بری ہوں وہ روتے ہوئے بولی تھی
نورین اپنی دونوں بیٹیوں کو سینے سے لگا لیتی تھیں
❤️❤️❤️❤️❤️
ماضی
حیاء کیا ہوا میرا بچہ آج سکول نہیں جانا کیا نورین صبح صبح حیاء کو اُٹھانے آئیں تھی جو لیٹی ہوئی تھی
نہیں اماں جانی آج میں ٹھیک نہیں ہوں آپ آج مجھے نہ لے کر جائیں وہ ان کو پیار کرتے ہوئے بولی تھی
اوکے میری جان جیسی تمہاری مرضی وہ اس کے ماتھے پر پیار دے کر ناشتہ کا اس کو بول کر نکل گئیں تھی
حیاء اپنے بستر سے اُٹھی تھی اور کچن میں جا کر چاکو لیا تھا اور اپنی وین پر رکھ کر مار دیا تھا اور یہ ہی عمل دوسری سائیڈ پر بھی کیا
اب ماما آپ کو بابا نہیں ماریں گے روتے ہوئے اس چھوٹی سی بچی مسکرا کر کہا تھا کوئی نہیں کہا سکتا تھا کے یہ ایک چھوٹی سی بچی نے کیا ہے
نورین جو کے اپنی رجسٹر فائل لینے آئیں تھی حیاء کو ایسے دیکھ کر دھنگ رہی گئیں تھی روتے ہوئے کیسے انہوں نے حیاء کو ہسپتال شیفٹ کیا وہ ہی جانتی تھی کٹ اتنے گہرے نہیں تھے
نورین دروازے کے ساتھ سر لگا کر کھڑی تھی جہاں سامنے ہی اس کی چھوٹی سی جان پیٹوں میں لیپٹی پڑھی ہوئی تھی
ان کی سسکی نکلی تھی جو اس کی دوست شانزے نے سنی تھی اور اسے اپنے ساتھ لگا لیا تھا شانزے میری بچی کا بچپنا تک مار دیا اس انسان نے وہ دیکھو کیسے اس نے خود کو مارنے کی کوشش کی ہے کیونکہ وہ ہمشیہ کہتی تھی ماما بابا آپ کو میری وجہ سے مارتے ہیں
فریحہ بھی پاس ہی گھبرائی ہوئی کھڑی تھی اپنی بہن اور ماں کو دیکھ رہی تھی
وقت سے پہلے بڑا کر دیا ہے حیاء کو ان سب غموں نے اسے تم کو ہی سنبھالنا ہے اسے ڈاکٹر نے بولا ہے وہ دماغی تور پر ٹھیک نہیں ہے وہ پھر سے ایسا کر سکتی ہے اسی لیے اس کا دھیان رکھنا ضروری ہے
شانزے اسے سمجھاتے ہوئے بولی تھی جس کو نورین نے خیران ہوتے ہوئے سنا تھا
پھر شانزے کے ساتھ لگی پھوٹ پھوٹ کر رونے لگیں تھی
❤️❤️❤️❤️
حال
وہ دونوں شاپنگ کر کے گھر واپس جا رہیے تھے فریحہ گاڑی میں بیٹھے بیٹھے ہی سو چکی تھی
اف کتنا ٹریفک ہے ادھر حاضر سڑک پر ٹریفک جام میں پھنسا بولا تھا
کتنے دکھ دیکھ ہے تم لوگوں نے جن کی وجہ سے تم اعتبار کرنا چھوڑ چکی ہو وہ فریحہ کی طرف دیکھتے ہوئے اس کے چہرے پر آئیے بالوں کو پیچھے کرتے ہوئے بولا تھا
عاقب چاچو ایسے ہوں گے میں نے کبھی نہیں سوچا تھا پر مجھے یقین ہے میری محبت تمہیں واپسی سے اعتبار کرنا سکھا دے گی وہ فریحہ کے چہرے کو مسکراتے ہوئے دیکھ کر خود سے بول رہا تھا
زندگی ہو تم میری بس مجھے کبھی چھوڑ کر مت جانا فریحہ وہ اس کے ماتھے پر پیار کر کے بولا تھا
تب ہی آہستہ آہستہ گاڑیاں آگے بڑھانے لگی تھیں حاضر نے بھی فریحہ کو مسکراتے ہوئے ایک نظر دیکھ کر گاڑی آگے بڑھ دی تھی
گھر پھنچ کر فریحہ کو اُٹھا کر اپنے روم کی طرف لے جانے لگا تھا
زیبا گاڑی میں سے شاپر نکل کر روم میں دے جاؤ وہ سامنے کھڑی زیباکو بولتے ہوئے فریحہ کو اُٹھئے ہوئے اوپر چلا گیا تھا
حاضر میں اٌٹھ چکی ہوں مجھے چھوڑ دیں فریحہ حاضر سے بولی تھی جس نے اسے مسکرا کر دیکھا تھا
حاضر نے اس کو کمرے میں داخل ہو کر آرام سے بیڈ پر رکھا تھا
فریحہ جلدی سے اپنا ہلاک تر کرتے ہوئے اپنے اوپر کمبل لے کر سوتی بن گئی تھی
کپڑے چینج کر لو فریحہ پھر آرام سے سو جانا اُٹھ جاؤ شاباش وہ اس پر سے کمبل اتارتے ہوئے بولا تھا
حاضر میرا دل نہیں ابھی بعد میں کر لوں گی چینج وہ دوسری سائیڈ پر رح کر گئی تھی
فریحہ وہ ابھی کچھ بولتا باہر دروازہ نک ہوا تھا وہ فریحہ سے پیچھے ہو گیا تھا
آیا جائیں حاضر کے بولنے پر زیبا کپڑے رکھا کر وہاں سے چلی گئی تھی
حاضر ایک نظر فریحہ کو دیکھتے ہوئے باہر بالکنی میں چلا گیا تھا
سگریٹ جلا کر لبوں سے لگا لیا تھا
آپ نے بولا تھا آپ سگریٹ چھوڑ دیں گیے فریحہ اس کے پیچھے آئی تھی اور اس کے منہ سے سگریٹ نکل کر نیچے پھینک دیا تھا اور دوبارا اندر جانے لگی تھی
حاضر نے آگے بڑھ کر اس کی کلائی سے پکڑا کر اسے اپنی طرف کھینچا تھا اور اسے سامنے کرتے ہوئے اس کے ہونٹوں کو اپنی قید میں لیا تھا جس سے فریحہ کی پوری آنکھیں کھل گئیں تھی
اس نے خود کو سنبھالنے کے لیے حاضر کا بازو پکڑ کر خود کو گرنے سے روکا تھا جو پوری طرح سے اب اسے اپنی قید میں کر چکا تھا
اب نہیں پیوں گا سگریٹ بس تم ایسے ہی مجھے اپنا عادی بنا لو وہ اسے چھوڑتے ہوئے اس کے ماتھے سے اپنا ماتھا ٹکا کر بولا تھا جو گہرے سانس لیتے ہوئے لال ٹماٹر ہوئی تھی
حاضر مجھے جانے دیں میں ۔۔۔۔۔میں چینج کر لوں وہ اس کا لمس اپنی گردن پر محسوس کرتے ہوئے بولی تھی جو آج اس کی جان لینے کے در پر تھا
نہیں اب نہیں جانے دیے سکتا تمہیں میں سگریٹ سے بھی زیادہ تمہارا عادی ہونا چاہتا ہوں وہ اس کے کان میں سرگوشی کرتے ہوئے اپنے ہونٹوں سے اس کی کان کی لوں کو دباتے ہوئے بولا تھا
فریحہ نے کانپتے ہوئے ہاتھوں سے اسے خود سے دور کرنا چاہا تھا
حاضر پلیز مجھے آپ آپ سگریٹ پی لیں مجھے جانے دیں فریحہ ڈرتے ہوئے بولی تھی
کیا مطلب میں تمہارے قریب نہ آؤں بلکہ سگریٹ پی لوں تم فریحہ وہ اسے چھوڑتے ہوئے غصے سے پیچھے ہوتے ہو
ریلنگ کے پاس کھڑا ہو گیا تھا
جاو یہاں سے ٹھیک ہے میں نہیں آتا تمہارے قریب وہ پھر سے غصے سے سگریٹ نکال کر پینے لگا تھا
فریحہ لب بیچے اسے بس دیکھ رہی تھی جس نے غصے سے اپنا رح دوسری طرف کر لیا تھا اور سگریٹ سلگا کر پینے لگا تھا
جاؤ یہاں سے اب کیوں کھڑی ہو اب کیا ہے وہ غصے سے اس کی طرف رح کر کے چلایا تھا
فریحہ ڈرتے ہوئے دو قدم پیچھے ہوئی تھی آنکھوں میں آنسو لیے اسے دیکھتے ہوئے اندر بھاگ گئی تھی
ڈیم حاضر نے غصے سے سگریٹ کو پھینکتے ہوئے ریلنگ پر مکا مارا تھا
کب سمجھوں گی تم مجھے کیوں نہیں کر پارہی یقین وہ غصے سے کمرے میں آیا تھا جہان وہ کمبل میں منہ دیے رونے میں مصروف تھی اس کی سسکیوں کی آواز حاضر کے کانوں تک پہنچا رہی تھی
اب کس بات کو رونا ہے چھوڑ تو دیا ہے پاس آؤں تب بھی روتی ہو دور جانے کو بولوں تب بھی تم روتی ہو فریحہ تم چاہتی کیا ہو
مجھے اتنا مت آزماؤں فریحہ کے میں تم سے دور ہو جاؤں اور پھر تمہارے ہاتھ خالی ہو جائیں وہ اس کے چہرے سے کمبل اتار کر پیچھے کرتے ہوئے اس کی طرف دیکھ کر بولا تھا جس کی آنکھیں رونے سے لال ہو رہیں تھی
حاضر کو اس کے رونے سے تکلیف ہوئی تھی وہ سائیڈ ٹیبل سے کیز اُٹھا کر باہر جانے لگا تھا
حاضر پلیز مت جائیں فریحہ اس کا ہاتھ پکڑ کر بولی تھی
فریحہ مجھے جانے دو اگر میں نہ گیا تو تمہارے لیے مشکل ہو جائے گی اور تم برداشت نہیں کر پاؤ گی
حاضر اسے دیکھ کر بولا تھا اور اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ سے نکل کر باہر نکل گیا تھا
پیچھے اس کے کانوں میں فریحہ کے سسکیوں کی آوازیں سنائی دی تھی جس کو لب بیچے اس نے اگنور کیا تھا اور باہر نکل گیا تھا
❤️❤️❤️❤️❤️
انس صبح کا گیا رات کو واپس آیا تھا روم کی طرف گیا تو دروازہ ابھی بھی بند تھا گھبراتے ہوئے جلدی سے دروازے کی کیز لے کر دروازہ کھولا تھا
حیاء بستر پر لیٹی ہوئی تھی انس نے اس کی طرف بڑھ کر اسے دیکھا تو اس کا چہرا سرخ ہو رہا تھا
ہاتھ بڑھا کر اس کے چہرے کو چھوا
حیاء اُٹھوں تمہیں تو بہت تیز بخار ہے وہ لیٹی ہوئی تھی آنکھیں رونے سے سوجھی تھی
تم ٹھنڈے پانی میں کھڑا کرو گے تو مجھے بخار ہی ہو گا نہ اتنی سردی میں کون کرتا ہے ایسا وہ بھی مجھ جیس نازک مزاج لڑکی کو حیاء لیٹے ہوئے اس کا ہاتھ پیچھے جھٹکتے ہوئے اپنا رح دوسری سائید پر کر کے بولی تھی
اس کے بولنے سے انس کے چہرے پر مسکراہٹ آ گئی تھی
ہیلو طالب جلدی سے ڈاکٹر کو لے کر پہنچوں فلیٹ میں دس منٹ کے اندر
ہاں سب ٹھیک ہے حیاء کو بخار ہو رہا ہے کہتے ہی انس نے فون بند کر دیا تھا
تھوڑی دیر بعد طالب ڈاکٹر کو لے آیا تھا ڈاکٹر اب حیاء کو چیک کر رہا تھا
سب ٹھیک ہو جائے گا بخار شاید سردی کی وجہ سے ہے میں نے انجکشن لگا دیا ہے یہ میڈیسن ہیں آپ ان کو دے دیجئے گا ویسے بھی یہ ویک ہیں اور شاید کسی بات کی ٹینشن بھی ہے ان کو کیر کی ضرورت ہے
جی شکریہ طالب ان کو ڈراپ کر دو ان کے گھر یا کلنک انس طالب سے بولا تھا اور خود کچن کی طرف چلا گیا تھا وہاں اس نے حیاء اکیلے سینڈوچ اور چائے بنائی تھی اور روم میں لے کر گیا تھا
حیاء اَٹھ جاؤں شاباش یہ کھا لو پھر میڈیسن بھی کھانی ہے وہ اس کی کمر کے کرد حصار بنا کر اسے اُٹھاتے ہوئے بولا تھا
اتنی کیر انس شاہ وہ بھی میری انس اسے سینڈوچ کھلا رہا تھا
نہیں کھانا بس حیاء نے دو بائٹ کھا کر پیچھے کر دیا تھا
یہ لو اب یہ بھی کھا لو وہ اسے میڈیسن کھاتے ہوئے بولا تھا
انس تم اس لیے میری کیر کر رہیے ہو نہ کہ میں مر نہ جاؤں وہ اس کی گردن کے گرد اپنی باہوں کو باندھتے ہوئے اس کے گلے لگ کر آنکھوں کو بند کیے بول رہی تھی
فکر مت کرو نہیں مروں گی بہت ڈھیٹ ہڈی ہوں یہ اتنا سا بخار میرا کچھ نہیں بگاڑ سکتا
تمہیں پتہ ہے میں نے دس دفع خودکشی کی کوشش کی تھی میں پھر بھی نہیں مری وہ اس کا چہرہ اپنے ہاتھوں میں لے کر منہ بناتے ہوئے بولی تھی
اس کی بات سن کر انس نے خیران ہوتے ہوئے اسے دیکھا تھا
پر جب تم نے مجھ پر تہمت لگائی میں اس وقت مر گئی تھی انس میری محبت مر گئی وہ نم آنکھوں سے مسکراتے ہوئے بولی تھی
میرا باپ بھی میری ماں پر ایسے ہی تہمت لگاتا تھا مجھے اور میری ماما کے جسموں سے لے کر روحوں تک کو زہمی کر دیتا تھا
تم نے بھی ایسا ہی کیا انس کیوں میں تو تم پر اعتبار کرنے لگی تھی محبت کرنے لگی تھی میں بھولنے لگی تھی اپنے اوپر لگائے گئے الزامات کو اپنے جسم پر لگے زہموں کو پر تمہارے لفظوں نے پھر سے مجھے وہی لا کر کھڑا کر دیا جہاں سے میں نکالنا چاہتی تھی
میں پھر سے وہی حیاء بن گئی ہوں جو زہم سہتے سہتے اندر سے مرنے لگتی ہے میں جب بھی تمہاری پناہ میں سانس لینے کی کوشش کرتی ہوں تم میری سانسوں کو چھین لیتے ہو
انس اس کی باتوں کو بے خود ہوتے ہوئے سن رہا تھا
حیاء میں نہیں جانتا تھا تم اتنی گہری ہو میں تم پر پورا بھروسہ رکھتا ہوں جان ہو تم میری یہ میں تمہیں بتا چکا ہوں اپنے رات کے عمل سے
اگر مجھے تم پر اعتبار نہ ہوتا تو میں تم سے کبھی بھی یہ رشتہ نہ بناتا یہ اعتبار ہی ہے کہ میں نے تم کو بیوی کا درجہ دیا ہے وہ اس کے ماتھے پر پیار دیتے ہوئے بولا تھا جو آنکھوں کو بند کیے خود سے ہی باتیں کر رہی تھی
میں تمہارے ماضی کے ہر پہلو سے واقف ہو چکا ہوں عاقب چاچو اتنا گر جائیں گے میں نہیں جانتا تھا کل رات ہی مجھے سب معلوم ہوا تھا اسی لیے میں نے تمہارے اور اپنے رشتہ کی دیوار کر ختم کر دیا ہے تاکہ کوئی بھی ہمارے بیچ نہ آ سکے
وہ اسے اپنے ساتھ لگائے بول رہا جو غنودگی کی حالت میں تھی بخار اور دوائی کا اثر تھا
میں تم سے اپنے ہر برے روئیہ کی معافی مانگ لوں گا جلد ہی پر ابھی بہت سی چیزیں کو سہی ہونا ہے تمہیں سمجھنا ہو گا مجھے وہ اسے بستر پر لیٹ کر اس کے ہونٹوں کو اپنے ہونٹوں سے چھو کر بولا تھا
خود بالکنی میں باہر آ کر کھڑا ہو گیا تھا
تمہیں اس رات جو ہوا عاقب چاچو کا بھی ہاتھ تھا اس میں تمہاری ماما کی طرح تہمت لگائی تھی وہ تمہیں آج بھی اپنی بیٹی نہیں مانتے حیاء میں کس طرح تم کو بتاؤں پر جب میں ان کے سامنے ثبوت دوں گا پشتاوا ان کا مقدر بن جائے گا
عاقب شاہ کے ساتھ ساتھ میں بھی تمہارا گناہ گار ہوں میں نے تم پر شک کیا تم پر تہمت لگا کر تمہیں توڑ دیا پر جلدی ہی سب سمیٹ لوں گا کوئی بھی تم کو مجھ سے جدا نہیں کر سکتا کوئی بھی نہیں
وہ ٹھنڈی ہوا کو اپنے اندر اتارتے ہوئے کمرے میں آیا تھا حیاء کے ساتھ لیٹ گیا تھا
اسے اپنے سینے سے لگا لیا تھا جو خود بھی سردی سے بچنے کے لیے اس کی آغوش میں آ گئی تھی
اس کے سر پر پیار کرتے ہوئے آنکھوں کو بند کر گیا تھا