Rate this Novel
Episode 33
فریحہ خنا شاہ کے پیغام ملنے پر ان کے پاس گی تھی جو اپنے روم میں بیٹھی ہوئی تھی
السلام علیکم وہ ان کو سلام کرتے ہوئے ان کے اشارہ کرنے پر ان کے پاس جا کر بیٹھ گی تھی
طبیعت ٹھیک ہے نہ وہ اس کے سر پر ہاتھ رکھ کر بولی تھی
جی ٹھیک ہوں ۔۔۔۔۔۔۔
فریحہ میں نے تمہیں اسی لیے اپنے پاس بلائے ہے کہ میں چاہتی ہوں تم اس رشتے کو اپنا لو تمہاری سٹیڈی بھی ساتھ ساتھ ہے پر جب تک رزلٹ نہیں آ جاتا تم حاضر کی سب زمیداریاں اُٹھا لو
مرد زات ہے اسے زیادہ اگنور کرو گی تو وہ آہستہ آہستہ تم سے دور ہو جائے گا
اسی لیے اسے اپنے پیار سے اپنے ساتھ باندھا لو فریحہ
وہ فریحہ کو سمجھاتے ہوئے بولی تھی جس پر اس نے ہاں میں سر ہلایا تھا
آنٹی میں پوری کوشش کروں گی وہ ان سے مسکرا کر بولی تھی
آنٹی نہیں تم بھی زویا کی طرح ماما بولا کرو مجھے اچھا لگے گا وہ اس کے سر پر ہاتھ رکھ بولی تھی
فریحہ نے ہاں میں سر ہلا دیا تھا
اوکے ٹھیک ہے میرے بچے جاؤ جا کر آرام کرو پھر صبح بارات ہے ابھی بھی تھک گئی ہو گی
فریحہ سر ہلا کر مسکراتے ہوئے اپنے روم کی طرف بڑھ گئی تھی
چینج کر لوں اب فریحہ روم میں داخل ہو کر خود سے ہی باتیں کرتے ہوئے بولی تھی پیچھے دروازے کے بند ہونے کی آواز سے مڑ کر دیکھا تھا پیچھے حاضر دروازے کے پاس آنکھوں میں پیار لیے کھڑا تھا
ادھر آؤ میرے پاس اس نے اشارہ کرتے ہوئے اسے اپنے پاس بلایا تھا جو کنفیوز سی اسے دیکھ رہی تھی.
فریحہ اپنا ہلک تر کرتے ہوئے چھوٹے چھوٹے قدم اُٹھاتے ہوئے اس کے پاس گئی تھی
میں نے بولا چینج کرنے کو جو چینج کرنے جا رہی تھی وہ اس کی کمر میں ہاتھ ڈال کر اسے اپنے قریب کرتے ہوئے بولا تھا
بہت خوبصورت لگ رہی ہو وہ اس کی گردن پر ہونٹ رکھتے ہوئے بولا تھا
پھر اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے باہر بالکنی کی طرف لے گیا تھا جہاں ٹیبل پر کینڈلز کے درمیان ایک کیک پڑھا ہوا تھا ساری بالکنی کو خوبصورتی سے سجایا گیا تھا نیچے ہر طرف پھول تھے
فریحہ خیران ہوتے ہوئے سب دیکھ رہی تھی
Happy birthday jaan
وہ اسے پیچھے سے ہگ کرتے ہوئے اس کے کان کے قریب جا کر بولتے ہوئے اپنے ہونٹوں کو اس کی گردن پر رکھ دیےتھے
میں نے اور حیاء نے کبھی بھی اپنی برتھ ڈیے نہیں منائیں مجھے تو یاد بھی نہیں تھی فریحہ مسکراتے ہوئے سب دیکھ کر بولی تھی
مجھے معلوم ہے پر آج سے تم میرے ساتھ اپنی ہر سالگرہ منائیں کرو گی وہ اس کا ہاتھ تھام کر اسے ٹیبل تک لے کر گیا تھا اور اس کا ہاتھ تھام کر دونوں نے مل کر کیک کاٹا
حاضر نے اسے کیک کھلایا تھا فریحہ نے مسکراتے ہوئے اس دیکھا
اب میری باری وہ اسے اپنی طرف کھینچ کر اس کے ہونٹوں پر جھک گیا تھا
شکریہ جاناں وہ اسے چھوڑتے ہوئے اس کے ماتھے سے اپنا ماتھا ٹکا کر بولا تھا
پھر اسے اپنی باہوں میں اُٹھ کر اندر لے گیا بیڈ پر بیٹھایا تھا
یہ تمہارے لیے میرا پہلا گفٹ وہ اس کے پاؤں کے قریب بیٹھ کر اس کے پاؤں میں پازیب پہنائی تھی
آپ کو کیسے پتہ مجھے یہ پسند ہے وہ اسے مسکراتے ہوئے دیکھ کر بولی تھی
جس سے پیار کیا جاتا ہے اس کی ہر خبر رکھی جاتی ہے وہ اس کے پاؤں پر ہاتھ پھیر کر بولا تھا
فریحہ نے گھبرا کر اپنا پاؤں پیچھے کر لیا تھا
ہاہاہاہاہا بہادر فریحہ ڈر گئی ہے وہ ہنستے ہوئے فریحہ کی گھبراہٹ محسوس کرتے ہوئے بولا تھا
آج ڈرنے کا دن نہیں ہے وہ اس کے قریب جا کر اس کے کان میں سرگوشی کرتے ہوئے اس کے کان کی لو کو کاٹتے ہوئے بولا تھا
فریحہ اس کے لمس سے کانپ رہی تھی وہ پیچھے ہونے کی کوشش کر رہی تھی پر پیچھے جگہ ختم ہو چکی تھی
آج مجھ سے دور جانے کی کوشش کی تو یہ جان لینا کے حاضر شاہ پھر دوبارہ تمہارے قریب نہیں آئے گا وہ اس سے دور ہو کر بولا تھا
فریحہ نے اس کے کالر پکڑ کر اسے خود سے دور جانے سے روک لیا تھا جس سے حاضر شاہ کی مسکراہٹ گہری ہوئی تھی وہ فریحہ کی کپکپاہٹ بھی محسوس کر رہا تھا
میری جان تم نے مجھے آج دنیا کی خوشی دے دی ہے اور یہ وعدہ ہے حاضر شاہ کا تم سے کے کبھی بھی دور نہیں جانے دوں گا تمہیں خود سے تمہارے ساتھ جھوڑئے ہر رشتے کی حفاظت کروں گا
بس یہ جان لو کہ حاضر شاہ سے اگر پیچھے کوئی غلطی ہوئی ہو تو اسے معاف کر دینا مجھے صرف تم سے محبت ہے تمھارے بغیر زندگی کا تصور کرنا بھی مشکل ہے میرے لیے وہ اس کے ماتھے پر اپنے لب رکھتے ہوئے بولا تھا
مجھے۔۔۔ بھی آپ۔۔۔ سے محبت۔۔۔ ہے حاضر وہ بھی اٹکتے ہوئے حاضر کی قربت میں خود کو اس کے حوالے کرتے ہوئے بولی تھی
شکریہ جاناں وہ اس کی گردن پر اپنے لمس چھوڑتے ہوئے بولا تھا ہاتھ بڑھا کر لائٹ آف کر دی تھی
حاضر کے ہر عمل میں فریحہ کو محبت ہی نظر آئی تھی محبت اپنا آپ مناوا ہی لتی ہے اگر سچی ہو تو فریحہ حاضر کے ساتھ خود کو محفوظ تصور کر رہی تھی وہ دونوں مکمل ہو چکے تھے
پر شاید قسمت میں ابھی امتحان باقی تھے پر محبت ہمیشہ ہی امتحانوں سے گزرتی ہے اور سچی محبت پار کر لتی ہے ہر امتحان
❤️❤️❤️❤️❤️
انس دادا کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا وہاں پر سب بڑے بیٹھے ہوئے تھے اور امن کی شادی کی بات بھی چل رہی تھی
امن کی بات انس کی خالہ کی بیٹی کے ساتھ تہہ کی گئی تھی اور اب سب اسی چیز پر بات کر رہے تھے کے شادی نکاح یا منگنی کی جائے
انس بھی سب میں بیٹھا ہوا تھا وہ تو خوش تھا کے دشمن سے جان چھوٹ جائے
انس کا فون رنگ ہو تھا سب نے اس کی طرف دیکھا تھا اس نے خجال سا ہوتے ہوئے فون کو دیکھا تھا جس پر طالب کی کال تھی
ہیلو کیا تکلیف ہے میں ابھی تھوڑا بیزی ہوں بعد میں بات کریں گے کہتے ہوئے ساتھ ہی فون بند کر چکا تھا
طالب وہاں ہیلو ہیلو ہی کہتا رہا گیا تھا پر انس فون رکھ کر اس کی آواز بھی بند کر دی تھی ایک دفعہ وہ طالب کی بات سن لیتا تو شاید ایسا نہ کرتا
انس کی مسکراہٹ گہری ہوئی تھی جب فیصلہ ہوا تھا کہ عالی کے ولیمہ پر امن کا بھی نکاحِ کر دیا جائے گا
یہ بلا تو ٹھل گئی انس مسکراتے ہوئے باہر نکل گیا تھا
تم آ جاؤ کل سارے حساب برابر کر دوں گا حیاء میڈم آج نہیں آئی
نہ آ کر میرا دل جلا دیا ہے تم نے وہ سگریٹ کا دھواں ہوا میں چھوڑتے ہوئے خود سے ہی بولا تھا
وہ ان سب باتوں میں بھول گیا تھا کے طالب کی کال بھی آئی تھی
❤️❤️❤️❤️
سلال نے گاڑی چلاتے ہوئے فون کیا آخر زرتاشہ نے فون اَٹھا ہی لیا تھا
ہیلو پلیز آ جائیں مجھے بہت ڈر لگ رہا ہے سلال کو روتے ہوئے زرتاشہ کی آواز آئی تھی فون سے
زر رو مت میں بس آ رہا ہوں ٹھیک ہے وہ ابھی بول رہا تھا فون کاٹ گیے
شٹ اس نے جلدی سے گھر پہنچا تھا سامنے ہی وہ صوفے پر گھٹنوں میں سر دیے رو رہی تھی
سلال کی آواز پر دورتے ہوئے اس کے پاس آئی
میں بہت ڈر گئی تھی وہ اس کے گلے لگی بول رہی تھی سلال نے اس کے گرد اپنے بازوں سے حصار بنا لیا تھا
ریلکس یار میں آ گیا ہوں وہ اس کے بالوں میں ہاتھ پھیر کر بول رہا تھا
بیٹھوں تم میں پانی لے کر آتا ہوں تمہارے لیے وہ اسے صوفے پر بیٹھا کر جانے لگا تھا
نہیں مجھے نہیں پینا آپ مت جاؤ وہ اس کا ہاتھ پکڑ کر اس کے ساتھ لگی بولی تھی
حیاء آپو ٹھیک ہیں اب ڈر تھوڑا کم ہوا تو اس نے سلال سے پوچھا تھا
جی میری جان وہ ٹھیک ہیں وہ اس کی ناک دبا کر بولا تھا جس پر وہ مسکرا دی تھی
تمہارے رونے سے تو میں ڈر گیا تھا اسی لے بھاگتے ہوئے آیا ہوں آگے کیا بنے گا جب میں چلا گیا تو کیسے رہوں گی میرے بغیر دو سال تم وہ اس کے بالوں میں چہرے کیے وہاں اپنے ہونٹ رکھتے ہوئے بولا تھا
میں آپ کو کال کر لیا کروں گی ہم روز بات کر لیا کریں گے ویسے میں آپ کو بہت زیادہ مس کروں گی وہ اس کے قریب اپنا چہرہ کرتے ہوئے بولی تھی
میں تم کو تم سے بھی زیادہ مس کروں گا وہ اس کے گال پر اپنے ہونٹ رکھتے ہوئے بولا تھا
چلو بہت رات ہو چکی ہے اب سو جانا چاہیے ماما اور بابا تو آج ہسپتال ہی رہیں گے وہ اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے اپنے ساتھ لگا کر کمرے میں لے گیا تھا
آپ کے جانے کے بعد بھی میں یہاں رہوں گی کیا وہ اپنی ناک چڑھا کر بولی تھی
نہیں اپنے روم میں رہنا پھر جب میں آؤں گا ہم بہت بڑا ریسیپشن رکھیں گے پھر تمہیں سب کے سامنے اپنے روم میں لے کر جاؤں گا وہ ہنستے ہوئے اس سے بولا تھا
واہ سچ میں پھر میں بھی دلہن بن جاؤں گی کتنا مزہ آئے گا نہ خوب سارا میکاپ جیولری پیارے پیارے کپڑے کتنا کچھ ہو گا وہ اسے بچوں کی طرح اکساٹید ہو کر بتا رہی تھی
ہاں اور بھی بہت کچھ ہو گا وہ اسے اپنی طرف کھینچ کر بولا تھا جو بیڈ کے پاس کھڑی لمبی لمبی ہنک رہی تھی
اور کیا۔۔۔۔۔۔۔ وہ آنکھوں کو جپکھا کر بولی تھی
اور میں ۔۔۔۔ہوں گااور،۔۔۔۔۔تم بس ۔۔۔اور کوئی تیسرا نہیں ہو گا وہ اسے اپنے اوپر گرائے اس کے بالوں کو اس کے کان کے پیچھے کرتے ہوئے بولا تھا
باقی کہاں جائیں گے پھر اس کے بولنے پر سلال نے اسے گھور سے نوازا تھا
گھور کیوں رہیے ہیں وہ منہ بنا کر بولی تھی
سلال اسے اپنے نیچے کرتے اس کے ہونٹوں کو قید کر گیا تھا
وہ پوری آنکھوں کو کھول کر اسے خود سے پیچھے کر رہی تھی پر سلال کے سامنے اس کی کوئی کوشش کام نہیں آئی
یہ سزا اسی لیے دی ہے کیونکہ کے تم میرے رومانس کا سارا موڈ خراب کر دیتی ہو جب میں واپس آؤں تو سمجھ دار بن جانا ورنہ میں نے تمہیں اپنے طریقے سے سمجھانا ہے
وہ طریقہ تمہیں سمجھ نہیں آئے گا اسی لئے تمہیں مشکل ہو جائے گی وہ اس سے پیچھے ہوتے ہوئے اسے منہ بنائے دیکھ کر بولا تھا
منہ مت بناؤ سو جاؤ وہ اسے اپنے حصار میں لے کر خود میں بیچتے ہوئے آنکھوں کو بند کر گیا تھا
زرتاشہ نے سلال کو سینے پر مکا مارا تھا سلال اس کی ننھی سی کوشش پر مسکرا دیا تھا
اس کے گال پر پھر سے زور سے کس کی تھی جس سے زر نے اسے گھور دی اور اس کے انکھ مارنے پر نظر نیچے کرتے ہوئے سوتی بن گئی تھی
سلال نے بھی لائٹ آف کر دی تھی اور زرتاشہ کو ساتھ لگا کر سو گیا تھا
❤️❤️❤️❤️❤️
حاضر فریحہ کے اُٹھنے سے پہلے ہی اُٹھ چکا تھا وہ ابھی نیچے نہیں آئی تھی سب مرد بیٹھے کھانا کھا رہیے تھے
فریحہ گھبرائیں ہوئی نیچے آئی تھی حا۔۔۔۔۔۔حاضر پلیز مجھے ماما کے گھر جانا ہے جلدی لے جائیں وہ پریشان سی بولی تھی
is everything okay Friha
وہ اس کے پاس جا کر اسے کندھوں سے تھام کر بولا تھا
سب نے فریحہ کی طرف دیکھا تھا جو گھبرائی ہوئی تھی
انس بھی وہی بیٹھا ہوا تھا احد دادا عاقب شاہ اکبر عالیشان سب ہی وہی تھے وہ اسے اس طرح دیکھ کر پریشان ہوئے تھے
نہیں کچھ بھی ٹھیک نہیں ہے حیاء ہسپتال میں ہے مجھے جانا ہے ابھی لے جائیں پلیز وہ حاضر کا ہاتھ تھام کر بولی تھی
کیا ہوا ہے حیاء کو انس جلدی سے اُٹھ کر اس کے پاس آ کر بولا تھا
فریحہ نے اس کی طرف دیکھا تھا پر جواب نہیں دیا منہ موڑ کر حاضر کی طرف متوجہ ہو گئی تھی
سکینہ جاؤ فریحہ بی بی کی چادر لے کر آؤ وہ اسے بولتے ہوئے فریحہ کو اپنے حصار میں کر گیا تھا جو رو رہی تھی
میں آپ سے پوچھا رہا ہوں کیا ہوا ہے فریحہ کو انس چلایا تھا فریحہ پر
آواز نیچے رکھو انس تمہاری بیوی ہے تمہیں اتنا نہیں پتہ اسے کیا ہوا ہے وہ کہاں ہے کس حال میں ہے پورا مہینہ ہو گیا ہے اسے اور تمہیں کوئی خبر بھی ہے کہ نہیں حاضر اس پر چلایا تھا
پر لالہ میں کسی ضروری کام سے گیا تھا وہ شرمندہ ہوا تھا
حاضر نے انس کو غصے سے دیکھا تھا اور سکینہ سے شال کے کر فریحہ کے کندھوں پر دی تھی اور اسے گھورتے ہو دادا کو بتا کر باقی کسی سے بھی بات کیے بینا وہاں سے فریحہ کو ساتھ لے کر نکل گیا تھا
انس پتہ کرو کیا ہوا ہے بچی کو دادا شاہ گھبر کر اس سے بولے تھے اب ہی پریشان تھے سوائے عاقب شاہ کے وہ ریلکس سے بیٹھے ہوئے تھے جیسے ان کو کسی کی پرواہ نہ ہو
دادا میں شہر کے لیے نکل رہا ہوں میں وہاں پہنچ کر آپ کو فون کر دوں گا انس ان کو بتا کر باہر کے لیے نکل گیا تھا
زویا بچی سے کوئی بھی اس بارے میں بات مت کرنا اکیلی کہی گھبرا نہ جائے دادا بول کر خود بھی باہر نکل گیے تھے
سب ہی یہ ان کر پریشان ہو گیے تھے علشیہ شاہ کو انس پر رہ رہ کر غصہ آ رہا تھا وہ غصے سے اوپر روم میں چلی گئی تھی
عالیشان شاہ علیشہ شاہ کے پیچھے گئے تھے
آپ کیوں غصے میں ہیں وہ علیشہ کو کندھوں سے تھام کر اپنے سامنے کر کے بولے تھے جو کمرے میں ادھر سے اُدھر چکر لگا رہیں تھی
آپ کا بیٹا مجھے ہمیشہ ایسے ہی تنگ کرتا پتہ نہیں اب کیا ہوا ہو گا حیاء کو پلیز مجھے بھی لے جائیں مجھے پتہ ہے رات کو بارات ہے پر میں کیا کروں مجھے سکون نہیں مل رہا
کہی انس نے کچھ الٹا سیدھا نہ کر دیا ہو وہ ان کو دیکھتے ہوئے افسوس سے بولی تھی
ٹھیک ہے آپ ریلکس ہو جائیں میں پتہ کرتا ہوں پھر ہم شہر کے لیے نکلتے ہیں ویسے بھی ابھی ٹائم تو ہے آپ گھبرائیں تو مت وہ ان کو اپنے ساتھ لگا کر بولے تھے
پھر علشیہ کا گال تھپتھپا کر باہر نکل گیے تھے
❤️❤️❤️❤️
ہیلو میں کیا سزا دوں آج انس نے طالب کو کال کی تھی اور کال اُٹھاتے ہوئے بولا تھا
شاہ جی رات کو آپ کو بہت دفع کال کی تھی پر آپ نے فون بند کر دیا تھا طالب نے ڈرتے ہوئے اسے بتایا تھا
شاہ جی حیاء بی بی نے ۔۔۔۔۔۔ وہ بولتے ہوئے روکا تھا
کیا ہوا تھا اسے جلدی بتاؤ مجھے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شاہ جی وہ انہوں نے خودکشی کرنے کی کوشش کی تھی یہ معلومات ملی تھی مجھے پر اب وہ ٹھیک ہیں وہ ڈرتے ہوئے بولا تھا
ڈیم کس ہسپتال میں ہے وہ جلدی سے ڈریس بجھ دو وہ اسے بولتے ہوئے فون بند کر گیے تھا
انس کا دل کر رہا تھا وہ کچھ کر جائھ
ڈیم اچھا نہیں کیا تم نے حیاء اپنے آپ کو نقصان پہنچا کر میرے غصے کو ہوا دیتی ہو ایسا کر کے وہ سٹرانگ پر مکا مار کر بولا تھا گاڑی ہوا سے باتیں کر رہی تھی
انس کے چہرے پر اعزیت تھی تھی حیاء کو کھو دینا کا ڈر تھا
آج تم نے انس شاہ کو ڈرا دیا ہے حیاء میں وہی بندا ہوں جو کسی سے نہیں درتا پر تمہیں کھو دینے سے ڈر لگتا ہے مجھے میرا عشق ہو تم وہ عزیت لیے خود سے بول رہا تھا
کیوں چھوڑ دیا تمہیں میں نے اکیلا اتنے دن سوچتے ہوئے فون کو دیکھنے لگا تھا جہاں طالب نے ہسپتال کا اڈریس بجھ تھا
وہ لب بیچے گاڑی کو اس راستے پر ڈال چکا تھا
❤️❤️❤️❤️❤️
حیاء یہ کیا ڈرمہ تھا فریحہ اس کے سر پر کھڑی اسے گھور کر بول رہی تھی
کچھ نہیں بس ایڈونچر کرنے کا موڈ تھا سوچا خودکش کر لوں وہ مسکراتے ہوئے فریحہ کو بولی تھی
فریحہ نے اسے دیکھ کر لب بیچے تھے حاضر بھی پاس ہی کھڑا تھا
نورین اور عادل صاحب بھی پاس ہی دوسری طرف بیٹھے ہوئے تھے
حیاء تمہیں انس نے کچھ کہا ہے کیا تو مجھے بتاؤ میں اسے سیدھا کر دوں گا حاضر اس کے سر پر ہاتھ رکھ بولا تھا
حیاء نے حاضر کر سر پر ہاتھ رکھنے سے اس کی طرف نم آنکھوں سے دیکھا تھا
میں بھائی ہوں تم لوگوں کا بڑا سمجھ کر ہی بتا دو اس نے کچھ کہا ہے تو
نہیں ایسا کچھ نہیں ہے حیاء نم آنکھوں سے مسکراتے ہوئے بولی تھی
انس باہر کھڑا سب سن رہا تھا اور اپنے غصے کو کنٹرول کرنے کی کوشش کر رہا تھا
غصے کو بہت مشکل سے کنٹرول کرتے ہوئے اندر آیا تھا سرد نگاہوں سے حیاء کی طرف دیکھا تھا جو فریحہ کی بات پر ہنس رہی تھی
انس کو دیکھ کر اس کے لب سکڑے تھے
ابھی وہ کچھ بولتا ڈاکٹر اندر آئی تھی
کیسا فیل کر رہیں ہیں آپ اب وہ اس کی ڈراپ دیکھ کر اسے نرس کو تبدیل کرنے کا بول کر اسے چیک کرتے ہوئے پوچھ رہیں تھی
آپ کے ہزبنڈ کدھر ہے ڈاکٹر کے پوچھنے پر اس کی نظر بے ساختہ انس پر گئی تھی اور حیاء نے اپنے لب بیچے تھے
آپ میں سے ان کے ہزبنڈ کون ہیں وہ حاضر اور انس کو دیکھ کر بولی تھی
جی میں ہوں انس آگے بڑھ کر بولا تھا
ہم تھوڑی دیر تک چھٹی دیے دیں گے ہم بس یہ ڈراپ ختم ہو جائے ان کا ریگولر چیکاپ کروانے لے کر آنا ہے آپ نے زہم بھی جلدی ٹھیک ہو جائے گا پر کھانے پینے کا اچھے سے دھیان رکھنا ہے
آپ اب ایسا کوئی قدم مت اُٹھائیں گا
ان کا زیادہ سا دھیان رکھنا ہے آپ نے ان کے لیے اور ان کے بےبیز کے لیے ضروری ہے ورنہ ان تینوں کی جان کو خطرہ ہو سکتا ہے
آپ کو اسی لیے بول رہی ہوں کیونکہ آپ ان کے ہزبنڈ ہیں
انس ان کی بات سن کر خیران ہوا تھا
کیا مطلب تین جانے کون سی تین جان انس نے خیریت سے ڈاکٹر کو بولا تھا جو حیاء سے باتیں کر رہیں تھی اور حیاء صرف انس کے چہرے کی طرف دیکھا رہی تھی جو خیران ہوا کبھی ڈاکٹر کو اور کبھی حیاء کو دیکھا رہا تھا
آپ اس بارے میں نہیں جانتے کہ آپ کی بیوی ایکسپکٹ کر رہی ہے ڈاکٹر انس کی طرف دیکھ رہی تھی
آپ سچ بول رہی ہیں انس مسکراتے ہوئے ڈاکٹر سے بولا تھا جو خیران ہوئی انس کو دیکھ رہیں تھی
میں آپ سے جھوٹ کیوں بولوں گی ان کا ہر طرح سے خیال رکھنا ہے آپ نے ڈاکٹر انس کر گھورتے ہوئے بول کر حیاء کا گال تھپتھپا کر باہر نکل گئی تھی
آنٹی کیا ڈاکٹر سچ بول رہیں تھی انس مسکراتے ہوئے نورین کے قدموں میں بیٹھ کر پوچھ رہا تھا جو انس کے تصورات سے مطمئن ہو گی تھی بہت حد تک
جی مبارک ہو آپ کو عادل صاحب نے انس کو جواب دیا تھا نورین نے بھی اپنے آنسو کو صاف کرتے ہوئے ہاں میں سر ہلا تھا
لالہ ایم سو ہپی وہ حاضر کے گلے لگ گیا تھا جو خود بھی مسکرا کر اسے دیکھ رہا تھا
مبارک ہو لالہ کی جان اب کوئی غلطی مت کرنا ورنہ اس دفعہ میں تمہیں سزا دینے میں سب سے پہلے کھڑا ملوں گا وہ اس کا کندھ تھپتھپا کر بولا تھا
فریحہ بھی حیاء سے مسکرا کر ملی تھی
حیاء کو دیکھ کر انس کے مسکراتے ہوئے لب سکڑ گیے تھے اور غصے سے اس کی طرف دیکھا تھا
تم نے جانتے ہوئے بھی سوسائیڈ کی کوشش کی حیاء تم ایسا کسے کر سکتی ہو
نورین نے دور بیٹھے اپنے لب بیچے تھے حیاء انس کو غصہ میں دیکھ کر گھبرا گئی تھی
اگر تمہارے ساتھ اس وقت یہ جان نہ جوڑھی ہوتی تو تمہیں میں آج بتاتا کے انس شاہ ہے کون وہ اس کے قریب جا کر اس کے کان میں غریا تھا اور اس کی گال کو اپنے الٹے ہاتھ سے سہلایا تھا
تم نے مجھ پر اعتبار نہ کر کے بہت برا کیا اگر تمہیں کچھ ہو جاتا حیاء تو پھر
انس کو اس وقت کسی کی بھی پرواہ نہیں تھی
جب تک ڈرپ ختم ہوتی ہے میں باہر ہوں جب ختم ہو جائے گی میں حیاء کو اپنے ساتھ لے جاؤں گا انس اونچی آواز میں بولتے ہوئے غصے سے باہر چلا گیا تھا
حیاء نے گہرا سانس لیا تھا ایک طرف سے دل پرسکون ہو گیا تھا پر انس کا ڈر بھی تھا کہ وہ کسے ریکٹ کرئے گا گھر جا کر
حاضر بھی سب سے ایکسکوز کر کے انس کے پیچھے گیا تھا
دیکھا حیا ایک دفعہ بھی تم نے انس پر اعتبار کرنے کی کوشش نہیں کی اتنی جلدی بھی نہیں کرنی چاہیے ہر چیز کی اپنے آپ کو سنبھالو اب اور آنے والی زندگی کے لیے تیار کرو خود کو جو پاسٹ تھا اسے بھول جاؤ
کوشش کرو خود میرا بچہ سب ٹھیک کرنے کی اپنے رشتہ میں آنا مت آنے دینا وہ اس کو ساتھ لگا کر بولی تھی
فریحہ نے بھی اس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے کر اسے تسلی دی تھی
ماما پر انس وہ گھبراہٹ لیے بولی تھی
کچھ نہیں ہو گا سب ٹھیک ہو جائے گا انس ناراض ہے جلدی سب بھول جائے گا منا لینا اسے اپنا خیال رکھو اپنے لیے نہ سہی ان کے لیے وہ نورین کی بات سن کر مطمئن سا مسکرا دی تھی
عادل صاحب نے بھی اس کے سر پر ہاتھ رکھا تھا اسے تسلی دی تھی
اب تمہارا میاں تو تمہیں لے کر ہی جائے گا وہ مسکراتے ہوئے حیاء کو بولے تھے حیاء بھی ان کی بات پر مسکرا دی تھی
❤️❤️❤️❤️
جی بابا ہم تھوڑی دیر تک آ جائیں گے آپ کو آنے کی ضرورت نہیں ہے انس فون پر عالیشان سے بولا تھا
اوکے سہی ہے اللہ خافط کہتے ہی فون رکھ دیا تھا
سگریٹ کو جلا کر پینے لگا تھا ہسپتال کے باہر گارڈن میں بینچ پر بیٹھا سامنے دیکھی جا رہا تھا چہرے پر سخت تصر تھے آنکھوں میں آگ لیے دل کو ٹھنڈا کرنے کی کوشش کر رہا تھا
لالہ میں غصے نہیں ہونا چاہتا پر اس وقت خود کو کنٹرول کرنا مجھے بہت مشکل لگ رہا ہے دل کر رہا ہے ساری دنیا تباہ کر کے رکھ دوں
انس حاضر کے پاس آ کر بیٹھنے سے سامنے دیکھتے ہوئے حاضر سے محاطب ہوا تھا
لالے کی جان سنبھالوں خود کو تمہیں تو سب معلوم ہے وہ کس کس حالات سے گزر چکی ہے پھر بھی اتنا غصہ
سمجھنے کی کوشش کرو اسے تم بھی تو پورا مہینہ ہوا اسے مڑ کر پوچھا تک نہیں پھر وہ ایسا ہی سوچے گی
پر لالہ اس نے ایک دفعہ بھی نہیں سوچا کہ اب وہ اکیلی نہیں ہے اس کے ساتھ ننھی سی جان بھی ہے اگر اسے یہ میرے بچے کو کچھ ہو جاتا تو میں خود کو بھی ختم کر لیتا
آج انس شاہ جس کی انا غصہ ہر وقت اس کے ناک پر رہتا تھا بچوں کی طرح حاضر کے ساتھ لگ کر رویا تھا
چاچو کی سزا کیا وہ مجھے اور میرے بچے کو دے گی اس روحان کو تو میں اچھا مزہ چکھا کر آیا ہوں جیل میں سڑ رہا ہے کمینہ کہی کا انس لہجے میں زہر لیے بولا تھا
ہاہاہاہاہا لالے کی جان دل خوش کر دیا توُ نے وہ اس کی کمر تھپتھپا کر بولا تھا
اب ٹھنڈا کر اپنا غصہ اور حیاء کو سنبھالنا ہے تم نے اسے کئیر کی ضرورت ہے تمہاری اسی لئے ہو سکے تو غصہ مت کرنا حاضر اسے سمجھاتے ہوئے بولا تھا
جی لالہ آپ فکر نہ کریں اپنی بہن کی انس شیریر سا مسکرایا تھا
ویس تم ہم سے تیز نکلے حاضر کی بات پر انس نے قہقہہ لگایا تھا
ہاہاہاہاہا سوری لالہ پر کیا کروں اس دفعہ میں نے سب کو پیچھے چھوڑ دینا ہے وہ حاضر کے ہاتھ پر ہاتھ مار کر بولا تھا
دونوں کھلکھلا دیے تھے
لالہ میں بہت بہت خوش ہوں میں بتا نہیں سکتا میرا دل کر رہا ہے ساری دنیا کو بتاؤں انس مسکراہٹ کے ساتھ بولا تھا
حاضر کی باتوں سے وہ کافی حد تک نارمل ہو گیا تھا
لالے کی جان خوشی تو ہو گی یہ احساس ہی ایسا ہے وہ مسکراتے ہوئے اس کے گلے لگ گیا تھا
❤️❤️❤️❤️❤️
