Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 2

حیاء آپو ہمیں آئسکریم کھانی ہے زری اور ذویا دونوں بولی تھی
کوئی ضرورت نہیں ہے سیدھا گھر چلو تم حیاء ہم لیٹ ہو جائے گے ادھر فریحہ بولی تھی
فریحہ کے بولنے پر ان دونوں کا منہ بن گیا اور وہ دونوں رونے والی شکل بنا کر باہر دیکھنے لگیں
واہ یس حیاء آپو یو آر دی بسٹ وہ دونوں اس کو گاڑی آئسکریم پلر روکتے دیکھا کر بولی تھیں
تم لوگوں کے لیے کچھ بھی اب چلو جلدی اور پھر گھر بھی نکلنا ہے ورنہ اما جانی غصے ہو گئیں
یار تمہیں کیا ضرورت تھی آگے ہی لیٹ ہو رہیں تھے وہ بے زار سی گاڑی سے نکلتے ہوئے حیاء کو دیکھ رہی تھی جس کے چہرے پر صرف مسکراہٹ ہی تھی
جان بچیاں ہیں مزے کرنے دوں چلو اندر تم بھی لے لو یا یہی لے آؤ سڑی شکل مت بناؤ یار
وہ اس کے گال کھنچ کر بولی تھی اور وہ دونوں تو کب کی بھاگ چکی تھیں کب کی اندر
دفع ہو جاو حیاء وہ اس کا ہاتھ پیچھے کرتے ہوئے بول رہی تھی تو حیاء اسے وہی چھوڑتی اندر کی طرف بھاگی جہاں وہ دونوں اسے آوازیں دے رہی تھیں
آ کیا ہے دیکھا کر نہیں چل سکتے فریحہ جو خود میں مگن چل رہی تھی سامنے سے آتے حاضر کو نہ دیکھ پائی اور اس سے ٹکرا گئی جو فون سننے باہر آیا تھا اور وہ بھی اپنی دھن میں چل رہا تھا اسی لئے دونوں کی ٹکر ہو گئی اور فریحہ بے چاری اپنا ماتھا سہلا رہی تھی
اسے لگ رہا تھا وہ کسی انسان سے نہیں بلکہ کسی دیوار سے ٹکرا گئی ہو
کہاں رہ گئی ہو میڈم آئی نہیں ابھی تک اور یہ کون ہے اتنا ہنڈسم اور آنکھیں تو لاجواب ہے یار حیاء اسے آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر دیکھتی بولی تھی
منہ بن کرو چلو اندر بس ٹکرا گئی تھی ان سے میں
وہ اس کا ہاتھ پکڑکر کہنچتے ہوئے بولی تھی پر وہ حیاء تھی کیسے اس کے ساتھ چلی جاتی جب تک حاضر سے بات نہ کر لے
دوسری طرف وہ اسے خیرانگی سے دیکھ رہا تھا جواسے کوئی پاگل ہی لگی تھی اور شوک تو اسے اس کیا اگلی بات سے لگا
کیا آپ کو اس سے ٹکرانے سے پیار نہیں ہوا
حیاء
فریحہ زور سے غرائی تھی اور دوسری طرف وہ اسے حیران اور پریشانی سے دیکھنے لگا
ہاں نہ فری ناولز میں تو ایسا ہی ہوتا ہے وہ پر سوچ لہجے میں بولی
اف پاگل لڑکی وہ اسے بولتے ہوئے وہاں سے کھینچ کر لے جانے لگی
ویسے تم ہو بہت چرمننگ وہ اسے پیچھے سے آواز دیتے
ہوئے بولی تھی
کیا بکواس ہے حیاء تمہاری عقل کہاں گی ہے بولتے ہوئے تھوڑا تو سوچا کرو وہ اسے سمجھ رہی تھی
یار پیارا تھا وہ تمہیں پسند کر لیتا تو شادی کر
Enough is enough.
حیاء بس کر دیا کرو کتنی دفعہ بولا ہے میں نے مجھے اس ٹوپک پر بات نہیں کرنی
اس کو تم دفعہ کرو تم وہ تو میرا مزاق تھا شادی کیوں نہیں کرنی تم نے مجھ سے پہلے تمہاری شادی ہو گی اور یہ میرا فیصلہ ہے سنا تم نے وہ اس کو آنکھیں نکال کر بولی تھی
اماں ہو تم میری کیا جو ایسے بول رہی ہو
جی ہوں اور سب بابا کی طرح نہیں ہوتے یار سمجھو اس بات کو
وہ پہلے مزاق اور پھر سنجیدہ لہجے میں بولی
ہیلو آپ دونوں کی لڑائی ہو گی ہو تو مجھے راستہ دیں گی اندر جانے کا
جی ضرور مسٹر ہنڈسم حیاء ٹھرکی پن سے بولی تھی تو فریحہ نے اسے آنکھیں نکالی تھیں
کیا ہے تمھارے لیے پسند آ گیا ہے مجھے وہ حیاء اسے تنگ کرتے ہوئے بول رہی تھی
اور خاضر ان کی باتوں سے بہت مشکل سے اپنا غصہ کنٹرول کرنے کی کوششیں کر رہا تھا
بہت فضولیات بری پڑھی ہے آج کل کے لوگوں میں وہ نحوست سے بولتا اپنی چیر پر بیٹھ گیا تھا
آپو آپ دونوں کہاں تھیں ہم تو کھا چکے ہیں زری اور زویا بولی تھیں
چلو تم بھی فری آن کے ساتھ جا کر بیٹھو میں بل پے کر کے اپنے لئے اور تمہارے لئے پیک کروا کر لے آتی ہوں
وہ ان کو کار کی کیز دیتے ہوئے خود اندر کی طرف بڑھ گئی
❤️❤️❤️❤️
وہ اندر داخل ہو کر بل پے کر کے اپنا پیک لے کر جب باہر نکلنے لگی تو سامنے بیٹھی شخصیات کو دیکھ کر اسے لگا وہ آج گر جائے گی
اس کی آنکھوں میں آنسو آ گئے اس نے خود کو بمشکل کرسی کے سہارے کھڑا رکھا ہوا تھا
عاقب شاہ اس کی زبان پر بابا کی جگہ خود با خود یہ نام نکل آیا تھا
سامنے بیٹھے اسی لڑکے کے ساتھ اور ساتھ میں تین چار اور لڑکے لڑکیاں بیٹھی ہوئی تھیں اور وہ ان سے ہنس ہنس کر باتیں کرتے ہوئے نظر آ رہیے تھے
ہمارے ساتھ ایسا کر کے بھی یہ شخص خوش اور مطمئن ہے
اور پھر وہ روتے ہوئے وہاں سے دورتی ہوئی باہر کی طرف نکلی اور سامنے سے آتے ہوئے انس اور آنیہ سے ٹکرا گئی اس کے ہاتھوں سے ساری آئسکریم نیچے گر گئی
انس نے اس کی طرف دیکھا جو اپنے ہی خیالوں میں گم آنکھوں میں بے شمار آنسو لیے کبھی آئسکریم اور کبھی انس کو کھوئے ہوئے انداز میں دیکھ رہی تھی
اور پھر اچانک ہی وہاں سےروتے ہوئے بھاگ گئی
بنا نیچے سے اپنی آئسکریم کے پیک اُٹھائے
آنیہ تو منہ بسور کر اندر داخل ہو گئی تھی جبکہ انس شاہ کہی دیر اس کی آنکھوں میں گم ہو گیا تھا وہ آج اسے کوئی معصوم سی بچی لگی تھی
اور پھر سر جھٹکتے ہوئے اندر کی طرف بڑھ گیا
❤️❤️❤️❤️
فریحہ پلیز تم گاڑی چلا لو مجھے سے نہیں چلے گی مجھے لگ رہا ہے میری طبیعت ٹھیک نہیں ہے وہ خود کو سمبل کر بولی تھی
کیا ہوا ہے آپو آپ کو زری اور زویا بولی تھیں
کچھ نہیں ہوا میری جان بس ویسے ہی سر میں دار شروع ہو گیا ہے
فریحہ جان گی تھی کے کوئی تو بات ہے پر وہ ان کے سامنے نہیں پوچھنا چاہتی تھی اسی لئے چپ چاپ گاڑی آگے بڑھ دی
❤️❤️❤️❤️
نورین جب سے گھر آئی تھی کافی پریشان تھی ادھر سے اُدھر چکر لگا رہی تھی
کس مشکل میں پھنس دیا عادل آپ نے مجھے میں کیسے اس عمر میں چار بچیوں کے ساتھ نئی زندگی شروع کر سکتی ہوں
اور وہ پھر ان کی باتیں سوچنے لگی
رومیسہ میں یہ نہیں بولا رہا کے آپ کو ضرورت ہے کسی ساتھ کی پر آپ کی بچیوں کو کو بھی ضرورت ہے باپ کے سائے کی کل کو لوگ آپ سے پوچھے گئے تو کیا جواب دیں گی آپ
اسی لئے سوچیں اس پروپوزل کے بارے میں میں آپ کا ساتھ چاہتا ہوں باقی سب آپ پر چھوڑتا ہوں میں آپ کو آپ کی بیٹیوں کے ساتھ قبول کرنا چاہتا ہوں ان کو باپ کا پیار دوں گا بھروسہ رکھے مجھ پر
پلیز عادل میں یہ پروپوزل نہیں ایکسپٹ کر سکتی وہ اسے نہ بولتے ہوئے باہر نکلنے لگی
میں آپ کی ہاں کا انتظار کروں گا عادل کی آواز اسے پیچھے سے سنائی دی تھی
وہ اپنی سوچوں کو جھٹکتے ہوئے بچیوں کی آوازوں سے ہوش میں آئیں تھیں
زری اور زویا ان کے گلے لگی ان کے گالوں پر پیار کرتی ہوئی شروع ہو چکی تھی آج کی رود سنانے
ماما بہت مزہ آیا وہ دونوں بولی چلو شاباش اب تم دونوں چینج کر کے آو اور تب تک میں لانچ لگتی ہوں اور وہ دونوں اپنے روم میں چلی گئیں
فریحہ اور حیاء بھی صوفے پر بیٹھی ہوئی ان دونوں کو جاتے ہوئے دیکھ رہی تھیں
حیاء تو اپنے خیالوں میں کہی گم لگی تھی رومیسہ اس سے بولی
کیا ہوا ہے میرا بچہ انہوں نے آگے بڑھ کر اسے اپنے پاس کرتی پیار سے بولیں تھیں
تو وہ ان کے گلے لگتی پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی
کیا ہو گیا ہے میرے بچے کیوں رو رہی ہو وہ اسے روتے ہوئے دیکھا کر بول رہی تھیں
ماما وہ… وہ آج بھی خوش اور مطمئن تھے انہیں ہماری یاد ہی نہیں آتی وہ سب سے مسکرا مسکرا کر باتیں کر رہیں تھے
ہمیں ایسے چھوڑ کر بھی وہ مطمئن کیسے ہو سکتے ہیں ماما انہوں شرمندگی نہیں ہوتی وہ ان کے گلے لگی روتے ہوئے بولی تھی
فریحہ بھی اس کی باتوں سے اپنے لب بیچے اسے سن رہی تھی اور پھر چپ چاپ اُٹھ کر وہاں سے اپنے کمرے میں چلی گئی
بس بہت ہوا انہوں کو ان کے خال پر چھوڑ دوں اور اپنی لائف پر توجہ دوں سن تم نے میری بیٹی اتنی بزدل نہیں ہو سکتی
وہ اسے پیار کرتے ہوئے بولیں تھیں چلو اُٹھو اور فریش ہو کر آؤ پھر سب مل کر کھانا کھاتے ہیں
جی ماما وہ اپنے آنسو صاف کرتی مسکرا کر وہاں سے چلی گئی تھی
نورین نے اپنی آنکھوں میں آئے آنسو کو صاف کیا اور پھر اُٹھ کر کیچن کی طرف چلیں گئی تھیں
❤️❤️❤️❤️
خاضر اپنے بستر پر لیٹا بے اختیار ہی فریحہ کو سوچنے لگا کیا تھا اس کی آنکھوں میں
جس کو خاضر جیسا شخص بھی بلا نہیں پا رہا تھا اسے وہ پہلی نظر میں اپنی اپنی سی لگی تھی
کیا نام تھا…….. ہاں فری فری نام لیا تھا اس دوسری لڑکی نے وہ مسکراتے ہوئے بولا تھا
خاضر شاہ جو کسی بھی خوبصورت سے خوبصورت لڑکی کو خاطر میں نہیں لے کر آتا آج وہ ایک عام سی لڑکی جو دیکھنے میں بے شک بہت خوبصورت تھی پر خاضر نے اس سے بھی خوبصورت لڑکیوں کو کبھی بولنا پسند نہیں کیا تھا
پر آج اس لڑکی میں اسے الگ ہی بات لگی کیونکہ باقی لڑکیوں کی طرح وہ اس کی طرف مائل نہیں ہوئی تھی
اسے ایک نظر دیکھنا بھی گوارا نہیں کیا تھا
وہ آنکھیں بند کیے ہوئے اسے ہی دیکھ رہا تھا
ڈھونڈنا پڑے گا اب تم کو
وہ خود سے ہی مسکرا کر بات کر رہا تھا جب پریوش اندر داخل ہوئی
لالہ پلیز یہ کچھ سوال سمجھ نہیں آ رہیں مجھے ان کو سمجھ دیں وہ بچوں کی طرح منہ بناتے ہوئے بولی بچے آپ نے انس لالہ سے یا انیہ سے پوچھا لینے تھے
لالہ وہ دونوں سڑی شکلوں والے مجھے کچھ نہیں بتاتے
بُری بات ہے پری ایسے نہیں بولتے بڑے ہیں وہ تم سے وہ سخت لہجے میں بولا
اچھا لالہ آپ مجھے بس یہ بتا دیں پلیز
اچھا کیا سمجھنا ہے
اور پھر وہ اسے سمجھانے لگا اور وہ غور سے سب سمجھنے کی کوشش کرنے لگی تھی
❤️❤️❤️❤️❤️
انس شاہ اپنے دوستوں کے ساتھ بار میں بیٹھا ہوا تھا ہاتھ میں حرام مشروب پکڑے سامنے لڑکیوں اور لڑکوں کو ڈانس کرتے دیکھا رہا تھا
اور ایک ہی گھونٹ میں ختم کر کے اُٹھا اور ڈانس فلور پر جا کر ایک لڑکی کو کہنچتے ہوئے اپنی باہیوں میں کر کے اس کے ساتھ ڈانس کرنے لگا
وہ لڑکی بھی انس شاہ کو دیکھ کر اس کے ساتھ چپک گئی تھی اور بیٹ پر اس کے ساتھ اسکی گردن میں باہیوں کو ڈالے بالکل اس کے قریب تھی کہ ہوا بھی نہ گزرا پائے
وہ اس کی گردن میں منہ دیے اس پر پیار نچھاور کر رہا تھا
اس سے پہلے کے وہ آگے کوئی خرکت کرتا اس کا فون رنگ ہوا اور وہ اسے اُٹھا کر سنتا اس لڑکی کو دھکا دیتے ہوئے وہاں سے نکلتا چلا گیا
اور پیچھے وہ لڑکی پیر پیٹکتی ہوئی رہ گئی
اور پھر اسے باڑ میں بجھتی مزے سے پھر سے دوسرے لڑکے کے ساتھ ڈانس کرنے لگی
❤️❤️❤️❤️❤️
پریوش اپنے ہی دھیان سے سے نیچے آ رہی تھی کے سامنے آتے عالی سے ٹکرا گئی
پاگل لڑکی آندھی ہو کیا دیکھا کے نہیں چل سکتی آنکھیں کیا کمرے میں بھول آئی ہو
میں تو آنکھیں کمرے میں بھول آئی ہوں آپ اپنی آنکھوں کو کہاں بھول کر آئے ہیں وہ بھی اسے دوبادو جواب دیتی بولی تھی
میرے آگے زیادہ ٹر ٹر نہ کیا کرو سمجھی
میں آپ کو کوئی مینڈک لگتی ہوں جو ٹر ٹر کروں گی وہ آنکھیں پٹ پٹا کر بولی
بہت بدتمیز ہو گی ہو تم پریوش وہ غصے سے غرایا تھا
تو آپ کون سا تمیز دار ہیں وہ بھی اس کو اسی کے انداز پر جواب دے کر لاجواب کر رہی تھی
اور پھر وہ غصے سے اسے پیچھے کرتے ہوئے وہاں سے چلا گیا
دیکھا لو گا میں تم کو وہ جاتے ہوئے غصے سے بولا تھا
تو اتنی دیر سے کیا کر رہے تھے وہ بھی پیچھے سے جواب دیتی بھاگ گئی تھی.
اف اتنا ضروری کام تھا وہ دماغ پر ضرور ڈالتے ہوئے بولی
کون سا ضروری کام تھا میری بہن کو امن بولا تھا
وہ ہی تو یاد نہیں آ رہا امن لالہ وہ اپنے سر پر ہلکے سے تھپڑ مارا کر بولی
ہاہاہاہاہاہا کوئی خال نہیں پری تمہارا پتہ نہیں تمہارا کیا بنے گا اللہ کی پناہ
اس کا تو جو بنے گا بنے گا اس کے اس کا کچھ نہیں رہیے گا زینی ہنستے ہوئے بولی تھی
زینو آپو اب آپ بھی وہ منہ بسور کر بولی تھی
ہاہاہاہاہ میری جان تم ہو ہی اتنی کیوٹ تمہیں تنگ کیا بنا ہمارا کھانا کہاں ہزم ہوتا ہے زینی اس کے گال کہنچ کر بولی تھی
اور آپ بھی بہت پیاری ہے تبریز بھائی بول رہیں تھے کے تمہاری بھابھی بڑی پیاری ہیں وہ اسے آنکھ مار کر بولی تھی
بہت بدتمیز ہو گی ہو تم پری وہ اسے کشین مارتے ہوئے بولی تھی
اور آپ خوبصورت وہ بھی اس کے ہی انداز میں اس کے گال کہنچ کر بولی تھی
او بس کر دو تم دونوں ایک دوسرے کی تعریف کرنا بندہ بشر ادھر بھی ہے کوئی ہماری بھی تعریف کر دو کے آپ بہت کیوٹ ہیں وغیرہ وغیرہ
امن منہ بناتے ہوئے ان دونوں کی نقل اتارتے ہوئے بولا تھا
ہاہاہاہاہاہا ان دونوں نے امن کو دیکھ کر قہقہہ مارا تھا
یہ تینوں ایسے ہی تھے ہنس-مکھ سے اور ان میں ایک تھا احد جو سب سے الگ رحم دل
باقی سب میں تو مغروری کی جھلک دکھائی دیتی تھی
❤️❤️❤️❤️❤️
ماما آپ کیا کر رہیں ہیں ادھر صبح صبح زری نورین کو لان میں پودوں کی باغبانی کرتے دیکھ کر بولتی نورین کے پاس بیٹھ گئی تھی
میں یہاں پر اپنی بیٹیوں کے لیے گلاب کا پودا لگا رہی ہوں وہ اسے مسکراتے ہوئے دیکھا کر بولی تھی
ماما جب میں ہوں آپ سب کے پاس تو پھر گلاب کی کیا ضرورت پیچھے سے حیاء آتے ہوئے بولی تھی
ہاہاہاہاہا ہاہاہاہاہا آپو آپ اور گلاب نہ کریں ایسے مزاق زویا ہنستے ہوئے بول رہی تھی
وہ سب وہاں اکھڑی ہو گئیں تھیں اور حیا کی بات پر مسکرا دی تھیں
زویا آج تمہارا ناشتہ کنسل تم خود بناؤ جا کر باقی سب آ جائیں
وہ منہ بناتے ہوئے وہاں سے چلی گئی تھی
ماما جانی آپ کو کیا ہوا ہے کوئی ٹینشن ہے کیا فریحہ ان کے پاس جاتے ہوئے بولی تھی
نہیں میرے بچے مجھے کیا پریشانی ہو گئی پہلے تو وہ گھبرائیں پھر خود کو مضبوط ثابت کرتے ہوئے جواب دیا
جی سہی چلیں اندر ناشتہ کر لیں آپ بھی وہ ان کو بولتی خود بھی اندر کی طرف بڑھ گئی تھی
عادل کس مشکل میں پھنسا دیا ہے مجھے وہ پھر سے عادل کی باتوں کو سوچتے ہوئے بولی تھیں
❤️❤️❤️❤️
حیاء مجھے ایسے کیوں لگ رہا ہے ماما کچھ پریشان ہیں انہیں کوئی چیز پریشان کر رہی ہے
مطلب کہنا کیا چاہ رہی ہو تم حیا اور فریحہ دونوں کیچن میں دوپہر کے لیے کھانا بنا رہیں تھیں جب بھی ان کو چھٹی ہوتی تھی وہ دونوں مل کر خود ہی کام کرتیں تھیں
میں نے ان کو گہری گہری سوچوں میں گم دیکھا ہے وہ ایسا تو نہیں کرتیں آگے اور پریشان بھی لگتی ہیں وہ مجھے آج کل فری پرسوچ انداز میں حیاء کو سب بتا رہی تھی
ٹھیک ہے خود ہی پتہ لگانا پڑھے گا ماما تو نہیں بتانے والی
ویسے ایک بات بولوں برا نہ مناؤ تو حیا اس کے ہاتھ سے چمچا لیتے ہوئے بولی کے کہی بات سن کر وہ اس کے سر پر ہی نہ مار دے
ہمیں ماما کی شادی کر دینی چاہیے مزاق نہیں کر رہی انہوں کو بھی حق ہے خوشیوں کا جینے کا
اور مجھے لگتا ہے عادل انکل بسٹ ہیں ماما کے لیے وہ پوری منصوبہ بندی کر کے بولی تھی
حیاء اگر ماما نے سن لیا تو ہمارا سر ہی پھوڑ دیں گیں
وہ حیا کو ڈارتے ہوئے بولی تھی
ورنہ تو ایسے بھی حیا کی بات پسند آئی تھی
چلو جلدی کرو ابھی زری بھوک کا رونا لے کر آجائے گی فریحہ حیا سے چمچہ لیتے ہوئے بولی
پھر دونوں جلدی جلدی کھانا بنانے لگیں
❤️❤️❤️❤️
زینی اپنے کمرے میں بیٹھی کپڑوں کو ان کی ترتیب سے رکھ رہیں تھی کچھ دن بعد زینی اور تبریز شاہ کی شادی شروع ہونے والی تھی گھر میں
آ آ آپ….. یہاں کوئ کوئی….. کام تھا کیا زینی تبریز کو غصے سے اندر داخل ہوتے ہوئے دیکھ کر بولیں تھی جو اس کی طرف بڑھ رہا تھا
کیا بکواس کرتیں رہیں ہیں آپ سب سے وہ غصے سےاس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے دانت پیستے ہوئے بولا تھا
ک.. ک.. کیا بول رہیں ہیں آپ میں نے کیا بولا زینی اسے غصے میں دیکھا کر آگے ہی ڈر گئی تھی اس کے اس طرح بولنے سے
ڈرتے ہوئے بولی تھی
پہلے بکواس کرتی ہو…. اور پھر انجان بھی بن جاتیں ہیں واہ کیا کہنے آپ کےوہ اس کا بازوں دبوچے غصے سے بولا تھا
آ…. آپ…… کیا کہنا چاہ رہے ہیں مجھے سچ میں نہیں سمجھ آ رہی
بہت جلدی سمجھا دوں گا ایک دفع میری دسترس میں آ جائیں وہ غصے سے جیسے آیا تھا ویسے ہی اسے غصے سے دھکیلتے ہوئے باہر نکل گیا
میں نے کیا کیا اب وہ روتے ہوئے اپنا سر ہاتھوں میں گرا کر بیڈ پر بیٹھ گئی
باہر کھڑی خبہ زینی کو دیکھ کر پر اسرار سا مسکرا کر آگے بڑھ گئی تھی
حسد رشتوں کو نگل جاتی ہے خبہ بھی اپنے حسد میں زینی اور تبریز کے رشتے کو نگل رہی تھی