Rate this Novel
Episode 36
پری اپنا لہنگے ہاتھوں میں پکڑے آدھر سے اُدھر چکر لگا رہی تھی
دیکھنا مجھے تنگ کیا اب میں بھی آپ کو تنگ کروں گی مجھے اتنا رلایا اور بتایا تک نہیں کسی نے بھی نہیں بتایا مجھے
عالی روم میں آیا پری جو جھنجھلاتے ہوئے ادھر سے اُدھر پھر رہی تھی دروازہ کو بند کرتے ہوئے اس کے ساتھ ٹیک لگا کر اسے دیکھ رہا تھا جو اس بات سے لاعلم تھی
اتنا تکلیف کیوں دے رہی ہو اپنے نازک سے پاؤں کو وہ اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے اپنی طرف کھینچتے ہوئے اس کی کمر پر حصار بنا کر بولا تھا
آپ ہاتھ بھی مت لگانا مجھے اتنا تنگ کیا مجھے اتنا ٹرچر کیا میں اتنا روئی اور آپ مزے سے سب دیکھتے رہیے پری اس کے ہاتھ کو اپنی کمر سے ہٹاتے ہوئے بول رہی تھی
جاناں موقع تو دو آج سارے حساب برابر کر دوں گا جتنا روئی ہوئی اتنا ہی پیار دوں گا وہ مسکراتے ہوئے اس کے چہرے پر اپنا ہاتھ پھیرتے ہوئے بولا تھا
عالی چھوڑ دیں مجھے مجھے نہیں چاہتے آپ کا پیار وییار پیچھے جائیں مجھ سے وہ غصے سے بولی تھی
اب تو پیچھے جانا ممکن ہے ہے آج تو بالکل بھی نہیں وہ اسے خود کے اور بھی قریب کیے اس کی گردن پر اپنے ہونٹ رکھتے ہوئے بولا تھا
پری کی سیٹی گم ہو گئی تھی زبان نے ساتھ دینا چھوڑ دیا تھا منہ سے لفظ بھی نہیں نکل رہیے تھے
پری کو شرم بھی آتی ہے وہ اپنا چہرہ اس کے چہرے کے قریب کرتے ہوئے بولا تھا
پری نے ڈرتے ہوئے آنکھوں کو بند کر لیا تھا وہ عالی کی سانسوں کی تپش کو اپنے چہرے پر محسوس کر رہی تھی
عالی پلیز وہ ممنائی تھی عالی اسے چھوڑتے ہوئے اپنی الماری کی طرف گیا تھا اس میں سے کچھ نکالنے کے لیے
پری نے اپنی سانس بحال کی تھی لب کاٹتے ہوئے نظروں کو جھکا لیا تھا ہاتھوں کو مسلنے لگی تھی
ادھر آؤ پری میرے پاس عالی کی آواز پر وہ آہستہ آہستہ قدم اُٹھاتے ہوئے اس کے پاس گئی تھی
کچھوے کی چال کیوں چل رہی ہو وہ اسے کھینچتے ہوئے الماری کے ساتھ لگا کر بولا تھا
پری نے نظریں اُٹھا کر اس کی طرف دیکھا جو مسکراہٹ کے ساتھ اسے دیکھ رہا
آپ مسکراتے بھی ہیں پری اسے مسکراتے ہوئے دیکھ کر بولی تھی
ہاہاہاہا جس پر عالی نے قہقہہ لگایا تھا
ہاتھ بڑھا کر اس کے گلے میں پہنا نکلس اتارا تھا
پری گھبراہٹ کے ساتھ اسے دیکھا تھا اس کے لمس سے وہ گھبرا رہی تھی
عالی نے اس کا روح موڑ کر اس کے دوپٹہ کو اتار کر سائیڈ پر رکھا اس کے بالوں کو گردن سے پیچھے کر کے وہاں اپنے نام کا پنڈڈ پہنایا تھا
یہ میرا نام اب ہمیشہ تمہارے دل کے قریب ہو گا وہ اس کی گردن پر ہونٹ رکھ کر بولا تھا
اب بولو کیا بول رہی تھی وہ اس کا رح اپنی طرف کرتے ہوئے بولی تھی
آپ نے مجھے بہت رُلایا عالی جب نکاح ہونے لگا تھا مجھے لگا اگر میں کسی اور کے نام ہو گئی تو میں سانس نہیں لے پاؤں گی وہ سوں سوں کرتے ہوئے نظروں کو جھکائے بول رہی تھی
تمہیں مجھ پر یقین نہیں تھا کیا پری میں اپنے بچپن کے عشق کو کسی اور کے نام ہونے دیتا وہ اس کے آنسو کو صاف کرتے ہوئے بولا تھا
میری پہلی چاہتا میری پہلی محبت ہو تم پریوش عالی شاہ وہ اس کا نام اپنے نام کے ساتھ جوڑ کر بولا تھا
پری اسے دیکھ کر مسکرا دی تھی عالی نے اسے اپنے ساتھ لگا لیا تھا
عالی نے اس کے آگے اپنا ہاتھ کیا تھا جیسے پر اس نے اپنا ہاتھ رکھ کر اسے اپنی محبت کا یقین دلایا تھا
دونوں کی محبت کو منزل مل گئی تھی دونوں نے کے ساتھ نے ایک دوسرے کو مکمل کر دیا تھا
❤️❤️❤️❤️
حاضر لیٹ ہی روم میں آیا تھا جب روم میں داخل ہوا تو لائٹ جلی ہوئی تھی اور فریحہ اوندھے منہ بستر پر پڑھی ہوئی تھی
کپڑے ابھی بھی وہی پہنے ہوئے تھے حاضر جو غصے میں تھا اسے اس طرح دیکھ کر مسکراتے ہوئے آگے بڑھ کر اسے سیدھا کیا تھا اور ٹھیک طرح سے بستر پر لیٹا دیا تھا
اس کے چہرے کو دیکھتے ہوئے بے اختیار ہی اس کے پاس بیٹھ گیا
میں نے اتنا اچھا سپرائز تیار کیا تھا تمہارے لیے اور تم نے سب برباد کر دیا وہ اس کے چہرے سے بال پیچھے کرتے ہوئے سوئی ہوئی فریحہ سے باتیں کر رہا تھا
بے خودی میں وہ اسے دیکھتے ہوئے اس کے لبوں کی طرف جھکا تھا فریحہ حاضر کے لمسِ کو محسوس کرتے ہوئے نیند میں ہڑبڑائی تھی اسے خود سے دور کرنے کی کوشش کرنے لگی تھی
جو حاضر نے اس کے ہاتھوں کو اپنے ہاتھ میں لے کر ناکام بنا دی تھی
حاضر نے سمجھا تھا شاید وہ نیند میں ہے اسی لیے اسے خود سے دور کر رہی ہے
حاضر بے اختیار ہوتے ہوئے فریحہ کو مزاحمت کا کوئی بھی موقع دیے بینا اس پر مکمل طور پر حاوی ہو چکا تھا
فریحہ اس کی گرفت میں پڑھ پھڑا کر رہ گئی تھی پر آج حاضر اپنی ناراضگی بھی اس سے اسی طرح دور کر رہا تھا
حاضر اس پر اپنی محبت کی برسات کر رہا تھا پر فریحہ کے دل میں بدگمانی نے اپنی جڑیں پکڑ لی تھیں
پر اب تو وقت ہی بتا سکتا تھا کے محبت جیتی ہے یا بدگمانی
❤️❤️❤️❤️
زویا اگر میں کہی چلا جاؤں تو تم کیا کرو گی احد زویا کو اپنے ساتھ لگا کر لیٹا ہو تھا اس کا چہرہ اپنے سامنے کیے بولا تھا
تو مجھے بھی ساتھ لے جانا آپ کسے رہوں گی میں آپ کے بغیر مجھ سے نہیں رہا جاتا آپ کے بغیر اب وہ اس کی داڑھی کے بالوں پر ہاتھ پھیرتے ہوئے بولی تھی
جانِ احد فرض کر اگر تمہیں ساتھ نہ لے کر جا پایا تو وہ اس کے ہاتھوں کو اپنے چہرے پر محسوس کرتے ہوئے آنکھوں کو بند کیے بول رہا تھا زویا کے ہاتھوں کا لمس اسے سکون دے رہا تھا
میں آپ سے ناراض ہو جاؤں گی احد مجھے چھوڑ کر جانے کا سوچنا بھی مت اس دفعہ میں بھی آپ کے ساتھ جاؤں گی اور یہ میری پکی والی ضد ہے
اگر آپ مجھے نہ لے کر گیے تو میری آپ کی ناراضگی پکی ہے میں آپ سے بات کرنا چھوڑ دوں گی جب آپ دوبارہ آئیں گے وہ اس کے گال پر اپنے لب رکھتے ہوئے بولی تھی
میں تم کو منا لوں گا میری جاناں تم زیادہ دیر نہیں رہ سکتی مجھ سے ناراض وہ اس کے چہرے پر آئے بالوں کو پیچھے کرتے ہوئے بولا تھا
آپ مزاق مت کریں مجھے یقین ہے کہ آپ مجھے کبھی بھی اکیلا چھوڑ کر نہیں جاسکتے وہ اس کے سینے پر سر رکھ کر بولی تھی
کاش جاناں تمہیں بتا سکتا اس دفعہ جانا ضروری ہے پتہ نہیں کتنا عرصہ لگا جائے گا اپنے وطن کے آگے کوئی محبت بھی احد شاہ کو نہیں روک سکتی
ہوسکے تو مجھے معاف کر دینا مائے لیٹل وائف وہ سوئی ہوئی زویا سے محاطب تھا جو اس کے سینے پر سر رکھ کر لمحے میں سو گئی تھی
احد اس کے بالوں پر ہاتھ پھیرتے ہو وہاں اپنے ہونٹ رکھتے ہوئے آنکھوں کو بند کیے صرف زویا کو سوچ رہا تھا
جس سے دور جانا سب سے مشکل کام لگ رہا تھا احد کو پر جس فیلڈ کا وہ حصہ تھا وہاں محبت سے بڑھ کر اپنا ملک تھا اس کے لیے
❤️❤️❤️❤️
آ میری گردن خبہ بیڈ سے ٹیک لگائے ہی سو گئی تھی جب ہوش آیا تو محسوس کیا جیسے گردن اکڑ گئی ہو
بمشکل اپنی گردن کو ہلا کر دیکھا تھا
جو ایک جگہ پر رہنے کی وجہ سے اکڑ گئی تھی وہ دو بجے تک واجب کا انتظار کرتی رہی تھی اس کے ڈر کی وجہ سے پھر وہ کب نیند کی وادیوں میں گم ہوئی اسے کچھ خبر نہ ہوئی
اب صبح کے آٹھ بج رہیے تھے خبہ نے روم میں ارد گرد نظر ڈالی تو ایک دم ڈر گئی تھی کیونکہ واجب شرٹ لیس اس کے ساتھ دوسری سائیڈ پر سویا ہوا تھا
ہائے یہ کب آیا میری بلا سے جب بھی آیا بندہ یہ بتا دیتا ہے سیدھی ہو کے سو جاؤ ہائے اللہ میری تو گردن ہی اکٹر گئی ہے وہ اپنی گردن پر ہاتھ رکھ کر بولی تھی
پھر بیڈ سے آرام سے اتر کر الماری سے اپنے لیے کپڑے نکالے تھے اور فریش ہونے کے لیے واشروم میں چلی گئی
نہا کر نیے کپڑے پہن کر باہر نکلی تھی خود سے باتیں کرتے ہوئے ڈریسنگ کے سامنے کھڑی اپنے بالوں کو کنگی کرنے لگی بالوں کو بریش کرتے ہوئے اسے اچانک اپنی کمر ہر کسی کا ہاتھ محسوس ہوا تھا
خبہ نے اپنا گلا تر کرتے ہوئے سامنے آئینہ میں دیکھا تو اسے آئینہ میں اپنے پیچھے واجب کا عکس دکھائی دیا تھا
خبہ سے سانس لینا بھی محال ہو گیا تھا
واجب نے خبہ کے ہاتھ کی لرزش واضع محسوس کی تھی
میرا انتظار کیے بینا کسے سو گئی تم وہ اس کا رح اپنی طرف کرتے ہوئے بولا تھا
خبہ نے اپنے لب کاٹے تھے اپنی نظروں کو اٹھا کر اسے دیکھا اسے اپنی طرف دیکھتے پا کر پھر سے نظروں کا جھکا گئی تھی
میں نے کچھ پوچھا ہے ویسے تو تمہاری زبان بہت چلتی ہے اب کیا زبان گھر چھوڑ آئی ہو واجب غصے سے اس کی کمر کے گرد اپنی گرفت سخت کرتے ہوئے بولا تھا
وہ۔۔۔۔۔ وہ ۔۔۔۔۔۔میں نے اتنی دیر کیا تھا پر مجھے نہیں پتہ چلا میں کب سو گئی وہ اٹکتے ہوئے اس کے ڈر سے بولتی اپنے لب کچلنے لگی
بہت شوق ہے تمہیں وہ اس کے ہونٹوں کو انگوٹھے سے سہلاتے ہوئے بولتا اس پر جھکا گیا تھا
جبہ اس کی گردن میں ہاتھ ڈالے خود کو سنبھالنے کی کوشش کر رہی تھی
واجب کی جنونیت اور اس کے ہاتھوں کی سختی سے خبہ کو جان نکلتی ہوئی محسوس ہوئی تھی وہ گرنے کے در پر تھی
جان اگر آئید میں ساری رات نہ آؤں تو تم پر فرض ہے کے ساری رات جاگ کر میرا انتظار کرو وہ اس کو گہرے سانس لیتے ہوئے دیکھ کر بولا تھا جس کی آنکھوں سے آنسو نکل رہیے تھے
جانِ واجب اتنی سی بات پر اتنا رونا ابھی تو کچھ نہیں کیا میں نے وہ اس کے آنسو کو انگلیاں سے صاف کرتے ہوئے بولا تھا
واجب پلیز مت کریں میرے ساتھ ایسا معاف کر دیں مجھے جو بھی غلطی ہوئی مجھ سے وہ اس کے آگے ہاتھ جوڑ کر کھڑی ہو گئی تھی
ہو گئی تھی مجھ سے غلطی اپنی اٹریکشن کو پیار کا نام دیتے ہوئے زینی کی زندگی میں بھی زہر گھولا پر میں نے اب دونوں سے معافی مانگ لی ہے آپ بھی پلیز مجھے معاف کر دیں
مت دیں مجھے سزا میں برداشت نہیں کر پاؤں گی
میں کسی سے محبت نہیں کرتی واجب پلیز مجھ پر رحم کریں وہ اس کے آگے ہاتھ جوڑ کر کھڑی تھی
میں نے جو بھی کہا تھا اس دن آپ سے ڈر کر کہا تھا وہ اپنا چہرہ نیچے کیے بولی تھی
واجب نے اسے خود میں بھیچ لیا تھا
جانِ واجب آج کے بعد میرے سامنے ہاتھ مت جوڑنا اس کے ہاتھ جوڑنے سے واجب کو تکلیف ہوئی تھی
وہ اس کے ماتھے سے اپنا ماتھ جوڑ کر بولا تھا
معافی تو مجھے تم سے مانگنی چاہیے اتنی زیادہ سختی کی تم پر اور ابھی بھی اپنا جنون تم پر اتارا ہے
میں نے جب اس دن تمہیں روتے دیکھ تھا میرا دل اسی دن مجھے داغا دے گیا تھا
دل نے تمہاری خواہش کی تھی تب ہی میں نے بابا سے تمہارے لیے بات کی اور پھر تمہارا انکار کرنا میری انا کو ٹھس پہچا گیا تھا
اسی لئے جو بھی ہو وہ سب میری انا اور غصے کا نتیجہ تھا جب میری جان مجھ سے ہر پرانی رانجش نہیں رکھنا چاہتی تو پھر میں بھی کیوں پرانی باتیں کھولوں وہ اس کا چہرہ اپنے ہاتھوں میں لے کر بولا تھا
جو ریڈ رنگ کے کام والے سوٹ میں نکھری نکھری لگ رہی تھی
واجب نے اسے اپنے ساتھ لگا کر اپنے پیار اور مان کا وعدہ کیا تھا خبہ بھی سکون سے آنکھوں کو بند کر گئی تھی
واجب فریش ہو جائیں کوئی آ نہ جائے ہمیں بولانے کے لیے اسی لیے جائیں وہ اسے بولتے ہوئے خود آئینہ کی طرف آ گئی تھی جہاں واجب کے جانے کے بعد اس نے اپنے بالوں کو کنگھی کیا تھا اور ہلکا سا میکاپ کیا تھا کہ واجب آ گیا
اس کے ہاتھ میں کچھ تھا اس نے سٹول پر بیٹھی خبہ کے بال اس کی گردن سے پیچھے کر کے اس کی گردن میں دل والی چین ڈالی تھی
اپنی گردن پر واجب کی انگلیوں کا لمس سے اس نے آنکھوں کو بند کر لیا تھا
واجب نے خبہ کو آئینہ میں دیکھا تھا اور مسکراتے ہوئے اس کا رخ اپنی طرف کرتے ہوئے اس اپنے روبرو کھڑا کیا تھا
آج سے ہماری زندگی کی نئی شروعات ہے وہ اس کے ماتھے پر اپنے لب رکھتے ہوئے اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے باہر اپنے ساتھ لے گیا تھا
❤️❤️❤️❤️
حاضر جب اُٹھا تھا تو فریحہ اس کے پاس گھٹنوں میں سر دیے بیٹھی ہوئی تھی اس کی گھٹی گھٹی سسکیوں کی آواز حاضر کو سنائی دی تو وہ اَٹھ کر بیٹھا گیا تھا
کیا ہوا ہے میری جان حاضر نے اس کی طرف ہاتھ بڑھایا تھا جس کو فریحہ جھٹکتے ہوئے بیڈ سے نیچے اتر کر دور دیوار کے ساتھ لگ کر کھڑی ہو گئی تھی
حاضر نے حیران ہوتے ہوئے اس طرف غصے سے دیکھا
جو اس سے دور کھڑی سسک رہی تھی تھا
حاضر بیڈ سے اترا تھا اور فریحہ کی طرف بڑھ کر اس کے گرد ہاتھ رکھ کر اپنا چہرہ اس کے چہرے کے بالکل قریب کرتے ہوئے اسے دیکھنے لگا تھا جو شاید کافی دیر سے رو رہی تھی اس کی آنکھیں اس کے رونے کی چغلی کر رہیں تھیں
فریحہ کیوں رو رہی ہو تم اب یہ کیا نیا تماشا ہے وہ اسے کندھوں سے پکڑ کر جھنجھوڑ کر بولا تھا
جس نے اس کی گرفت میں آنکھوں کو بند کر لیا تھا
بولو فریحہ وہ غرایا تھا
آپ نے چیٹ کیا مجھے حاضر کیوں کیا آپ نے ایسا بولیں آپ نے دھوکے سے شادی کی سب ڈرمہ تھا وہ آپ سب لوگوں کا وہ روتے ہوئے حاضر کی طرف دیکھ کر بولی تھی جو خیریت سے اسے دیکھ رہا تھا
فریحہ میری جان ۔۔۔۔
نو حاضر مجھے کوئی دلیل کچھ نہیں چاہتے مجھے بس یہ بتائیں آپ نے اتنا بڑا دھوکا دیا مجھے میرے اعتبار کو توڑا کیوں حاضر کیوں وہ اس کی شرٹ کو زور سے مٹھیوں میں پکڑ کر روتے ہوئے بولی تھی
تو رات کو وہ سب رونا مجھ سے دور جانا کل میرے بولانے پر بھی احد کی گاڑی میں جانا وہ اسی غصے کا نتیجہ تھا حاضر سرد لہجے میں بولتے ہوئے فریحہ کو دیکھنے لگا تھا
فریحہ حاضر کا سرد لہجے دیکھ کر گھبراہٹ کا شکار ہونے لگی تھی
جب تمہیں یہ سب پتہ چلا تو تمہیں میرا اتنا پیار کرنا بھول گیا فریحہ کتنا چاہتا ہوں میں تم کو وہ سب بھول گیا بس یار رہا تو اتنا کے میں نے تم سے نکاخ کے لیے غلط قدم اُٹھایا تھا
میری محبت نظر کیوں نہیں آئی تمہیں فریحہ کیوں فریحہ کیوں وہ اسے کندھوں سے تھام کر بول رہا تھا
فریحہ نے جب سچ میں اس پہلو پر سوچا تو اسے شرمندگی محسوس ہوئی تھی
میں تمہیں کھونا نہیں چاہتا تھا یار اسی لئے تمہیں پانے کے چکروں میں یہ سب کیا ہو گئی غلطی تو اب کیا کروں اندھا ہو گیا تھا تمہارے سوا کوئی نہیں دکھائی دیتا تھا مجھے وہ اس کے چہرے پر ہاتھ رکھے بولا تھا
پر تم نے آج سچ ثابت کر دیا میری محبت کو بے مول کر دیا تم نے فریحہ میری محبت کے آگے تم نے اس دھوکے کو یاد رکھا وہ فریحہ کی آنکھوں میں دیکھ کر بولا تھا
فریحہ نے نہ میں سر کو ہلایا تھا اور حاضر کے ہاتھوں پر اپنے ہاتھ رکھ دیے تھے
معاف کر دیں حاضر مجھے بہت غصہ آ گیا تھا وہ اس کے ہاتھ کو اپنے ہاتھوں میں لے کر ہونٹوں سے لگا کر بولی تھی
نو فریحہ جان اس دفعہ نہیں اس دفعہ معافی اتنی جلدی کیسے دے دوں تم نے دل کو دکھایا ہے میرے وہ اس کو خود سے دور کرتے ہوئے بولا تھا جو اس کے چہرے پر اب اپنے ہاتھوں کو رکھ کر اس کے قریب ہونے کی کوشش کر رہی تھی
حاضر پر ۔۔۔۔۔. ٹھک ٹھک دروازے پر دستک ہوئی تھی
کون حاضر سرد لہجے میں بولا تھا
بڑے شاہ جی فریحہ بی بی کے گھر والے آئے ہیں ان کو نیچے سب بلا رہیں ہیں سکینہ آواز دی کر جاچکی تھی
جاؤ تم آ جاتے ہیں ہم وہ سرد لہجے میں بولا تھا اور فریحہ سے دور ہو کر واشروم میں بند ہو چکا تھا
فریش ہو کر نکالا تو دیکھا فریحہ وہی کھڑی زمین کو گھور رہی تھی
اس کو کوئی بھی موقع دیے بینا اس کی کمر پر حصار بنا کر اسے اپنے ساتھ لے کر نیچے جانے لگا تھا
گھر والوں کے سامنے کوئی تماشا مت لگانا جو بھی لڑائی ہے بس کمرے میں ہے باہر نہیں وہ اسے سمجھاتے ہوئے بولا تھا
فریحہ نے لب بھیچ کر اپنی سسکی کو روک لیا تھا اور بینا کچھ بولے چپ چاپ حاضر کے ساتھ چل رہی تھی
❤️❤️❤️❤️
نیچے گئی تو وہاں سب بڑے ہال میں بیٹھے ہوئے تھے
سلال عادل صاحب اور زرتاشہ آئے ہوئے تھے زرتاشہ حیاء اور زویا کے ساتھ جڑ کر بیٹھی ہوئی تھی
فریحہ کو آتے دیکھ کر مسکراتے ہوئے دور کر اس سے ملی تھی فریحہ بھی مسکراہٹ لیے زرتاشہ سلال اور عادل صاحب سے ملی تھی
انس حیاء کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا انس کے چہرے پر پراسرایت سی تھی وہ ٹانگ پر ٹانگ چڑھا کر بیٹھا سب کو دیکھ رہا تھا
سلال جا رہا ہے اپنی سٹیڈی کے لیے کل تو وہ آپ تینوں سے ملنے کے لیے آیا تھا عادل حیاء اور فریحہ کو دیکھتے ہوئے بولے تھے وہ جانتی تو تھی کے اس نے جانا ہے
سلال نے ان کے سر پر ہاتھ رکھ کر احد انس اور حاضر سب سے مل کر کھڑا ہوا تھا عادل صاحب بھی کھڑے ہوئے تھے
ایک بات اور عادل صاحب عاقب شاہ کی طرف مڑ کر بولے تھے جو منہ کا زاویہ بگاڑ کر بیٹھے ہوئے تھے
یہ رہی
(DNA)
ٹیسٹ رپورٹ تمہاری اور حیاء کی اور میری مسٹر عاقب شاہ عادل کھڑے اس کے آگے رپورٹ پھینکی تھی
جیسے عاقب شاہ نے خیرانگی لیے دیکھا تھا اور رپورٹ کو طنزیہ مسکراہٹ کے ساتھ ہاتھوں میں لیے کھولنے لگے تھے کیونکہ کے عادل صاحب نے ابھی رپورٹ نہیں کھولی تھی
اس پر گورمنٹ کی سیل لگی ہوئی تھی اس کا مطلب تھا کہ رپورٹ ابھی تک کھولی نہیں گئی
اب تو جان چکے ہو گیے نہ حیاء تمہاری ہی بیٹی ہے اس میں ساری سچائی ہے مسٹر عاقب شاہ عادل طنزیہ لہجے میں بولے تھے وہاں بیٹھا ہر فرد خیران تھا بس ایک انس تھا جو مسکراہٹ کے ساتھ عاقب شاہ کو دیکھ رہا تھا
عاقب شاہ عادل تمہاری طرح گرا ہو نہیں ہے کے اپنی پاک دامن محبت کی عزت کے ساتھ کھلے تم نے نورین کو میرے پاس بھیجا تھا میں نے بھی انکار اسی لیے نہیں کیا کیونکہ میں جانتا تھا کہ اگر میں انکار کرتا تو پیسوں کے لیے تم اسے کسی اور کے ساتھ رات گزارنے پر مجبور کر دیتے
اپنی محبت کو رسوائی سے بچانے کے لیے میری نظر میں وہ رقم حقیر سی تھی عادل اشارہ کرتے ہوئے بولے تھے
عادل صاحب نے دیکھا تھا عاقب شاہ ہاتھ میں رپورٹ لیے بس اسے گھورئے جا رہا تھا
تم تو اسے ظالم سفاک انسان ہو جس نے اپنی بچی تک کو ذلیل اور رسوا کر دیا تھا
پر تمہیں کو فرق نہیں پڑھتا تمہیں آج بھی کوئی احساس نہیں ہے
آئند کے بعد نورین کو کال کرنے کی جرات مت کرنا عاقب شاہ وہ کسی گرئے پڑھے انسان کی بیوی نہیں عادل رائس کی بیوی ہے سنا تم نے
جس چیز کی تم میری بیوی کو دھمکیاں دے رہیے تھے وہ اب تمہارا منہ بند ہو چکا ہو گا وہ میری محبت کے ساتھ ساتھ میری بیوی بھی ہے
حیاء آنسو بھری آنکھوں سے سب دیکھ رہی تھی عادل صاحب کی ایک ایک بات سے سب جھٹکے کی زد میں تھے
فریحہ نے حیاء کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر اسے ریلکس کیا تھا خود اس کی آنکھوں میں آنسو تھے
شکریہ انس بیٹا تمہارا میرا ہر جگہ ساتھ دینا کا اعتبار کرنے کا اسی لئے میں نے تمہیں ہر حقیقت بتا دی تھی کیونکہ مجھے اس انسان پر زرہ بھی بھروسہ نہیں تھا
انس اَٹھا کر ان کے گلے لگا تھا پھر موڑ کر حیاء کی طرف دیکھا تھا جو نظروں کو نیچے کیے رونے میں مصروف تھی
اب نظروں کو نیچے کرنے کا وقت نہیں ہے اب سر اُٹھا کر سب کو بتاؤ تم کون ہو
میں حیاء ہوں حیاء بنت نور وہ انس کے ساتھ لگی کھڑی عاقب شاہ کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بولی تھی یہ سب انس کا دیا ہوا مان تھا
آج سچ میں عاقب شاہ کی ہار ہوئی تھی آج سچ میں وہ شخص ہار گیا تھا انس نے روتی ہوئی حیاء کو خود میں بھیچ لیا تھا جو اس کے ساتھ لگی سسک رہی تھی
سلال بھی سب دیکھ کر مسکرا دیا تھا زرتاشہ کو اپنے ساتھ لگا لیا تھا اپنا خیال رکھنا حیاء سلال اس کے سر پر ہاتھ رکھ کر بولتے ہوئے سب سے مل کر باہر نکل گیا تھا
عادل صاحب ایک نظر سامنے بیٹھے عاقب شاہ پر ڈال کر ان تینوں سے مل کر دادا شاہ سے اجازت لیتے ہوئے وہاں سے چلے گئے تھے
چاچو میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ آپ اتنا گر جائیں گے کے نورین آنٹی کو طلاق لینے پر فورس کریں گے کے اگر انہوں نے طلاق نہ لی تو وہ حیاء کا ماضی ہم سب کو بتا دیں گے
آپ بھول گئے تھے میں انس شاہ ہو انس شاہ اُڑتی چڑیا کے پر گن لیتا ہے اور یہ تو پھر میری بیوی ہے مجھے اس کی انفارمیشن کیسے نہ پتا ہوتی
باقی سب عادل انکل نے کیا تھا میرے ساتھ مل کر انہیں نے مجھے بتایا سب وہ حیاء کو اپنے ساتھ لگائے اس کے بالوں پر لب رکھتے ہوئے بولا تھا
حیاء آپ ہی کی بیٹی ہے پر افسوس آپ نے اپنی بیٹیوں
کو کھو دیا ہے وہ عاقب شاہ کی طرف دیکھا کر بولا تھا جو نظروں کو نیچے جھکا کر بیٹھے تھے
دادا شاہ بھی ایک افسوس بھری نظر اس پر ڈال کر حیاء اور فریحہ کے سر پر ہاتھ رکھ نظروں میں شرمندگی لیے باہر نکل گیے تھے ان کے پیچھے پیچھے اکبر شاہ عالیشان شاہ بھی ان کے سروں پر ہاتھ رکھا تھا اور باہر دادا شاہ کے پیچھے نکل گیے کسی نے بھی عاقب شاہ کے ساتھ ہمدردی تک نہیں کی تھی نہ ہی حیاء اور فریحہ لوگوں کو کچھ بول کے ان کو معاف کر دیں
رانیہ شاہ نے گہرا سانس لیا تھا اور وہاں کھڑے عالی کو ایک نظر دیکھا تھا جو بے حس بنا بیٹھا تھا
عالی اپنے لب بیھچتے ہوئے وہاں سے حیاء کے اور فریحہ کے قریب جا کر ان کے سروں پر ہاتھ رکھا تھا
معاف کر دینا مجھے تم تینوں آج سے تم لوگوں کو جب بھی کبھی بھائی کی ضرورت ہو گی میں تم چاروں کو پہلی صف پر ملوں گا وہ باری باری تینوں کے سروں پر ہاتھ رکھ کر اوپر چلا گیا تھا اپنے روم کی طرف
انس نے حیاء کو دیکھا تھا جو ابھی بھی سر اس کے سینے میں چھپا کر رو رہی تھی
جتنا رونا ہے آج رو لو آئند میں تمہاری آنکھوں میں آنسو نہ دیکھوں وہ روتی ہوئی حیاء کو اپنے ساتھ لگا کر بولا تھا
چلوں اب ناشتہ کر لو بھوک لگی ہو گی وہ اسے اپنے ساتھ لگائے ہی ڈاینگ ٹیبل کی طرف لے گیا تھا
احد نے بھی مسکراہٹ کے ساتھ زویا کو لے کر ناشتہ کی طرف بڑھ گیا تھا
اب وہاں صرف فریحہ حاضر اور عاقب شاہ تھے
عاقب شاہ بھی وہاں سے اُٹھ گیے تھے اور شکستہ قدموں سے باہر کی طرف نکل گئے تھے
حاضر نے ایک نظر فریحہ پر ڈالی تھی اور خود ڈاینگ ہال کی طرف چلا گیا
فریحہ نے جاتے ہوئے حاضر کو دیکھ کر اپنی آنکھوں میں آئے آنسو کو صاف کیا اور جاتے ہوئے حاضر پر ایک نظر ڈال کر اوپر بھاگ گئی تھی
