Rate this Novel
Episode 21
آنیہ تیار ہو کر نیچے آؤ جلدی بابا کو حکم ہے رانیہ آنیہ کو بیڈ پر لیٹے دیکھ کر اس کی الماری سے ایک خوبصورت سا وائٹ کلر کا فراک نکال کر اس کے سامنے رکھ کر بولی تھیں
کیوں ماما کیوں آؤں میں تیار ہو کر آنیہ کو کچھ غلط ہونے کا احساس ہوا تھا اسی لیے سول پر سول پوچھا رہی تھی
ٹھیک ہے مت آؤ تمہارے دادا کو بھیجتی ہوں انہی سے پوچھا لینا رانیہ شاہ اسے غصے سے بول کر جانے لگیں تھی
آرہی ہوں ماما پلیز غصے تو مت ہوں وہ ان کو بولتے ہوئے خود اپنے کپڑے لے کر واشروم میں گھس گئی تھی
اللہ تیرا شکر ہے اتنی اچھے گھر سے میری بیٹی کے لیے رشتہ آیا ہے بس سب ٹھیک ہو جائے باپ کا کیا میری بیٹی کو نہ بھگتنا پڑے پھر سے وہ مسکراتے ہوئے اللہ سے دعا کرتے ہوئے باہر نکل گئیں تھیں
❤️❤️❤️❤️
ڈرائنگ روم میں بڑی بی کے ساتھ زویا بھی بیٹھی ہوئی تھی سب بڑوں میں بات پہلے سے ہی تہہ ہو چکی تھی ابھی تو بس فرمل طریقہ سے انگوٹھی ہی پہنائی جانی تھی
ریان کے گھر والے آئے ہوئے تھے احد پہلے سے ہی دادا کے ساتھ بات کر چکا تھا اور سب کی رزمندی سے اب ریان کے گھر والے اور ریان ان کے گھر میں موجود تھے
احد یہ کچھ زیادہ نہیں چھوٹی ریان زویا کو دیکھ کر بولا تھا جو بڑی بی کے ساتھ لگ کر بیٹھی احد کی نظروں سے گھبرا رہی تھی
دفع ہو اپنی والی کو سنبھالنے کی تیاریاں کر جو تجھ بتایا گی کے شاہ خاندان کے افراد کو گھر لے کر جانے سے کیا ہوتا ہے احد اس کی بات پر غصہ کرتے ہوئے طنزیہ انداز میں بولا تھا
بچو تم لوگ شاہ ہو تو میں بھی خان ہوں اور خان جب اپنی آئی پر آتے ہیں تو ان کے آگے نہ کوئی شاہ ٹکتا ہے اور نہ ہی کوئی با ٹکتا ہے سنا تو نے وہ بھی اس کو اسی کے انداز میں جواب دیتے ہوئے بولا تھا
ہاں جی توسی تے گریٹ ہو یا تو آنیہ سیدھی ہو جائے گی یا پھر تو سیدھا ہو جائے گا پر اتنا یقین ہے کہ کوئی ایک تو ضرور سیدھا ہو گا احد دل جلانے والی مسکراہٹ سے بولا تھا
آنیہ نیچے آئی تھی رانیہ کے پیچھے پیچھے چلاتے ہوئے اندر داخل ہوئی تھی ریان کو دیکھ کر اس کی آنکھوں میں غصہ آ گیا تھا اسے اب پوری بات سمجھ آ گئی تھی
سامنے بیٹھی شملہ اور ریاض خان نے مسکرا کر آتیں ہوئی رانیہ کے ساتھ آنیہ کو دیکھا تھا جو ریان کے کو اپنی طرف مسکراہٹ لیے دیکھتے پا کر سر کو جھکا کر خود کو غصہ کرنے سے روک رہی تھی
اسلام وعلیکم آنیہ کو جب اس کی ماما نے شملہ کے پاس بیٹھایا تو اس نے ان دونوں کو سلام کیا تھا
وعلیکم السلام کیسی ہیں بیٹا آپ وہ اس کے سر پر ہاتھ رکھ بولی تھی
بہت پیاری ہے آپ کی بیٹی وہ اس کو اپنے ساتھ لگ کر بولی تھی
ریان آنیہ کو ہی دیکھ رہا تھا جو سر کو جھکا کر شملہ کے ساتھ بیٹھی ہوئی تھی
چلیں رسم کر لیتی ہوں میرے بیٹے کی پسند تو بہت ہی خوبصورت اور لاجواب ہے وہ اس کے ہاتھ میں انگوٹھی پہناتے ہوئے بولی تھی آنیہ کا ہاتھ ان کے ہاتھوں میں لرزہ رہا تھا
کوئی بات نہیں بیٹا پہلی دفعہ ہوتا ہے سب ٹھیک ہو جائے گا گھبراؤ مت میں بھی آپ کی ماما کی طرح ہوں وہ اسے رسم کرنے کے بعد اپنے ساتھ لگا کر پیار کرتے ہوئے بولیں تھی
ریاض خان نے بھی اس کے سر پر ہاتھ رکھ تھا دادا اور عاقب شاہ اور باقی سب بڑوں نے بھی اسے اُٹھ کر پیار کیا تھا
حیاء اور فریحہ پری زینی سب ہی وہیں موجود تھے انس دلچسپی سے حیاء کو دیکھ رہا تھا جو آنیہ کو مسکراتے ہوئے دیکھ رہی تھی
چلو ایک مصیبت تو کم ہوئی حیاء کو ایسے لگا رہا تھا جیسے آج اس کے دل کو سکون مل گیا ہو
ہمیشہ خوش رہو میری بیٹی اللہ تمہیں کوئی غم نہ آنے دے عاقب شاہ نے آنیہ کو پیار کیا تھا اور روتے ہوئے اسے اپنے ساتھ لگا لیا تھا
حیاء اور فریحہ لب بیچے عاقب شاہ کو نفرت کی نگاہ سے دیکھ رہیں تھیں حیاء ایک طنزیہ مسکراہٹ سے ان کو دیکھتے ہوئے باہر نکل گئی تھی
حاضر نے جب فریحہ کی طرف دیکھ تو اس کی آنکھوں میں آنسو تھے اور چہرے پر نفرت جھلک رہی تھی عاقب شاہ کے لیے وہ اس کی ہر ادا کو غور سے دیکھ رہا تھا جو اب خاموش سے حیاء کے پیچھے چلی گئی تھی
ریان کی نظریں صرف آنیہ کی طرف تھیں جس نے چہرا اوپر اُٹھا کر دیکھا تھا اور ریان کو اپنی طرف دیکھتے پا کر نفرت سے پھر سے اپنا چہرا نیچے کر گئی تھی
تمہیں تو میں خود سیدھا کرو گا محبت میں پاگل ہو جاؤ گی میری ریان اس کے اس طرح دیکھنے سے مسکرایا تھا
کسی اجیب بات ہے نہ حیاء ایک وہ بیٹی ہے اور ہم بھی ان کی بیٹیاں ہیں پر ہمیں بیٹیاں ہونے کی سزا دی انہوں نے پل پل زہمی کیا ہماری روح کو اور آج اس بیٹی کو خوش ہونے کی دعا دیے رہیں ہیں
ہم ان کی بیٹیاں نہیں ہیں اور نہ کبھی ہو سکتیں ہیں ان کے صرف دو ہی بچے ہیں ہمارا نہ پہلے کوئی تعلق تھا نہ اب کوئی ہو سکتا ہے چھوڑو ان کی بات کو ہم صرف نورین کی بیٹیاں ہیں وہ ہی ہمارا سب کچھ ہیں سب کچھ
کل ماما سے ملنے جا رہیں ہوں ماما لوگ ترکی جا رہیں ہیں عادل انکل اور ماما اور میں سوچ رہیں ہوں ہم ان سے کل جا کر مل آئیں کل ہوئی تھی ماما سے میری بات سلال سے بھی زر سے بھی
سچ میں ماما جا رہیں ہیں مجھے بھی یاد آ رہی ہے ماما کی فریحہ اداس چہرے کے ساتھ بولی تھی
آپو مجھے بھی جانا ہے مجھے ماما کی بہت بہت یاد آ رہی ہے زویا بھی اندر آتے ہوئے حیاء کے گلے میں باہیوں کو ڈال کر بولی تھی
اوہ میری چھوٹی پری کو بھی یاد آ رہی ہے میں ضرور لے کر جاؤں گی اپنے بچے کو ماما کے پاس وہ اسے اپنے ساتھ لگا کر پیار کرتے ہوئے بولی تھی
کل تیار رہیے گا میں لے جاؤں گا آپ تینوں کو حاضر جو کب سے کھڑا ان کی باتیں سن رہا تھا اندر ان کے کمرے میں آ کر بولا تھا
ہمیں آپ کی مہربانی کی ضرورت نہیں ہے ہم خود بھی جا سکتی ہیں حیاء غصے سے حاضر کی بات سن کر بولی تھی جو اس کی بات کو برا منانے کی بجائے مسکرا دیا تھا
ہاہاہاہاہا اچھا آپ مت جائیے گا میں اپنی بیوی کو لے جاؤں گا کیونکہ اس کی پوری زمیدری نورین آنٹی سء لے کر آیا ہوں وہ ہنس کر بول حیاء کو رہا تھا دیکھ فریحہ کو رہا تھا جو اسے غصے سے گھور رہی تھی
تم کو کس نے بولا کے میں تمہیں جانے دوں گا تم کہی نہیں جا سکتی اس گھر سے مجھ سے پوچھے بینا انس اندر آ کر اسے آنکھیں نکل کر بولا تھا
میں تمہاری پابند نہیں ہوں جاؤں گی میں دیکھتی ہوں کیسے روکتے ہو تم مجھے زبردستی والا شوہر مجھے نہیں چاہتے حیاء غصے سے کھڑے ہو کر بولی تھی
اب جو بھی ہوں جیسا بھی ہوں ہوں تو تمہارا اب مانو یا نہ پر جا تم کہی بھی نہیں سکتی مجھ سے پوچھے بینا یہ بات ذہین میں ڈال لو اور ہاں یہ مات سمجھو کے تم نے خود کو مجھے سے آزدا رکھا ہوا ہے
تم اس لیے آزاد ہو کیونکہ میں نے تمہیں آزاد چھوڑا ہوا ہے حیاء انس شاہ اپنی آزادی کو ختم نہیں کرنا چاہتی تو زبان مت چلایا کرو ورنہ اُٹھا کر اپنے کمرے میں پھینک دوں گا اور آگے تم جانتی ہو سب وہ جلانے والی مسکراہٹ سے حیاء سے بولا تھا
بےحودا انسان ہو تم بہت ہی دفع ہو جاؤ یہاں سے وہیت انسان شکل بھی نہ دیکھوں میں تمہاری بڑا آیا مجھ پر روب جمانے والا
حاضر اور فریحہ انس اور حیاء کو لڑتے ہوئے دیکھ رہیے تھے
بس کر دو انس تم اور میں خود تم تینوں کو لے کر جاؤں گا صبح حاضر انس کو ڈانٹتے ہوئے بولا تھا
لالہ یہ میرا اور میری بیوی کا معاملہ ہے حیاء نہیں جائے گی تو مطلب نہیں جائے گی اگر اس نے قدم بھی باہر نکلا تو ٹانگیں توڑ دوں گا میں اس کی انس غصے سے بول کر باہر نکل گیا تھا
انس کیا بدتمیز ہے یہ حاضر جاتے ہوئے انس سے بولا تھا جو بول کر سنے بغیر نکل گیا تھا
آپ کا ہی بھائی ہے آپ سب لوگوں کو روب جمانے کی عادت ہے وہ کوئی انوکھا کام تو نہیں کر رہا آپ بھی ایسا ہی کرتیں ہیں فریحہ طنزیہ لہجے میں حاضر کو رات والی بات کا سوچ کر بولی تھی
کیوں کہ ہم بہت پوزیسو ہیں اپنی چیزوں کے معاملے میں اور تم تو بیوی ہو میری وہ فریحہ کو بولا تھا جو اسے گھور کر دیکھا رہی تھی
حیاء چپ کر کے لب بیچے بیڈ پر بیٹھی اپنے ہی کسی خیال میں گم تھی
جائیں یہاں سے ہمیں اکیلا چھوڑ دیں فریحہ بے روہی سے بولی تھی
جو میں نے تمہیں بولا تھا آج اس پر عمل کرنا ورنہ انجام کی زمیندار تم خود ہو گی بولتے ہوئے باہر نکل گیا تھا
فریحہ بھی حیاء کے پاس بیٹھ گئی تھی زویا بھی اپنی بہنوں کے پاس تھی
کیوں زندگی اتنی مشکل ہو گی ہے یار جیسے بھی تھے خوش تو تھے کچھ سمجھ نہیں پا رہی حیاء میں کیا کرو کبھی کبھی دل بند ہونے لگ جاتا ہے میرا کیوں واپس آ گئے ہم یہاں کاش وہی رہیے رہیتے یا میں پری سے کبھی نہ ملتی نہ کبھی یہاں آتیں فریحہ بیڈ پر بیٹھی آنسو کے ساتھ بول رہی تھی
یہ تو قسمت میں ہے سب ایسا ہی ہونا تھا ہم سب کے ساتھ خود زویا کو دیکھ لو وہ وہاں لندن میں ہونے کے باوجود بھی احد شاہ کے نکاح میں چلی گئی قمست ہم تینوں کو یہاں لے کر آ گئی ہے حیاء زہمی سی مسکراہٹ لیے بولی تھی
میں کچھ بھی سمجھ نہیں پا رہی حیاء کیا کروں میں کیسے دے دوں میں حاضر شاہ کے حق میں فیصلہ میرا دل کبھی اس کی طلب کرتا ہے اور دماغ ان جذبوں کی نفی کرتا ہے مجھے حاضر سے دور رہنے کی تنبیہ کرتا ہے
فریحہ اپنے دل کی بات کرتے ہوئے بولی تھی
ہاہاہا کیسی اجیب چیز ہے نہ دل میں خود جب بھی انس کے قریب جانے لگتی ہوں تو وہ پھر سے مجھے اسی کنویں میں پھینک دیتا ہے جہاں سے نکل کر میں انس کے پاس جاتیں ہوں وہ میری فیلنگز کو توڑا دیتا ہے اپنی انا اور ضد کے ہاتھوں اور میں پھر سے اسی خوفناک رات میں چلی جاتیں ہوں جس نے میری روح تک زہمی کر دی ہے
حیاء ایک تلخز سی مسکراہٹ لیے بولی تھی فریحہ نے اسے اپنے ساتھ لگا لیا تھا
پلیز اس بارے میں مت سوچا کرو اللہ اسے تمہارے حق میں بہتر کر دے گا وہ مسکراتے ہوئے اس سے بولی تھی پر وہ ہی جانتی تھی کہ وہ کس طرح مسکرائی ہے
وہ دونوں بہنیں ایک دوسرے سے خود کی فیلنگ
شیر کر رہیں تھی
زویا ان کی ساری باتیں سن اور سمجھ رہی تھی
حیاء کے ہاتھ بڑھانے سے وہ اس کے گلے لگ کر رو دی تھی
کیا ہو گیا ہے زویا تو کیوں رہی ہو شاباش روتے نہیں ہیں وہ زویا کو اپنے ساتھ لگ کر روتے ہوئے دیکھ کر بولی تھی
آپو آپ سمجھتی ہیں مجھے کچھ سمجھ نہیں اتا مجھے ہر چیز کی سمجھ ہے جو بابا نے کیا ماما کے ساتھ آپ سب کے ساتھ میں نے اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھ پر سب سن چکی ہوں ماما کی اور آپ لوگوں کی باتیں آپ لوگوں ہم دونوں سے کیوں چھپاتے ہیں سب ہم بھی تو اس فیملی کا حصہ ہیں
میں اور زرتاشہ اب چھوٹی بچیاں تو نہیں ہیں ہمیں سب سمجھ اتی ہے مجھے نہیں رہنا احد کے ساتھ مجھے آپ لوگوں کے ساتھ ماما کے پاس گھر جانا ہے گھر جانا ہے مجھے ماما کی یاد آ رہی ہے
سب احد کی وجہ سے ہوا کوئی میری فیلنگز بھی نہیں سمجھتا مجھے ماما کی بہت یاد آتیں ہے روزانہ میرا دل کرتا ہے میں ان کے پاس جاؤں پر صرف احد کی وجہ سے ماما نے مجھے یہاں بھیج دیا ہے میں آپ لوگوں کو پریشان نہیں کرنا چاہتی تھی سب بتا کر اسی لئے کچھ نہیں بتایا آپ کو
وہ روتے ہوئے بولی تھی حیاء اور فریحہ نے اسے خیران ہوتے ہوئے دیکھ تھا وہ اسے خوش دیکھ کر سمجھ رہیں تھیں کہ وہ ماما کو یاد نہیں کر رہیں پر وہ چھوٹی سی ہوتے ہوئے ان دونوں کی طرح اپنا دکھ اپنے تک ہی رکھے ہوئے تھی
بہت بڑی ہو گئی ہے زویا تو حیاء اسے پیار کر کے بولی تھی ہم ملیں گے موم سے بھی پر میرا بچہ اب احد کا اور تمہارا ایک بہت سٹرونگ ریلیشن ہے جو بہت حاض ہوتا ہے آپ کو پتہ تو ہے اور ویسے بھی اس نے آپ کو بُرے لوگوں سے بچایا تھا اس لیے ہمیشہ اس کے لیے اچھا ہی سوچنا میں تو بس مزاق کرتیں ہوں اس کے ساتھ تک وہ میری چھوٹے سے بےبی کو تنگ نہ کر سکے وہ اسے سمجھاتے ہوئے بولی تھی
پھر اسے اپنے ساتھ لگا لیا تھا
وہ نہیں چاہتی تھی کہ زویا کے دماغ میں کوئی بھی فتور بھرے جس سے اس کی زندگی میں بھی اس رشتے کے لیے غلط احساسات پیدا ہوں اسی لیے وہ اس کو پیار سے سمجھا رہی تھی کہ وہ اس رشتے کو آگے جا کر قبول کر سکے
زندگی آگے کیا موڑ مڑنے والی تھی وہ تینوں ہی نہیں جانتی تھیں پر جو بھی تھا ان کو اللہ سے اچھے کی امید تھی
❤️❤️❤️❤️
بہت ہی کوئی تم کمینے ڈھیٹ انسان ہو تم آنیہ ریان کے ساتھ بڑوں کے کہنے پر اکیلے باہر آئی تھی اور اب کونے میں کھڑی اس باتیں سنا رہی تھی
ہاہاہاہاہا اور تم میری مغرور لیلا ہو وہ اس کے چہرے پر آئی لٹ کو اس کے کان کے پیچھے کرتے ہوئے بولا تھا
یو افسر سو فٹ پیچھے رہا کرو مجھ سے وہ اس کے ہاتھوں کو غصے سے جھٹکتے ہوئے بولی تھی
یہ ہی ادا تو تمہاری مجھے مار دیتی ہے یہ ہی تمہاری مغروری اور تمہارے ناک پے رہینے والی انا اور غصہ ہی تو میرا دل لے کر چلا گیا ہے وہ اس کی ناک دبا کر بولا تھا
کنٹرول کرو خود کو میری ناک پر آنا ہے اور میرے پاوں میں ہیل کی جوتی بھی ہے جو کسی بھی دوسرے بندے کے چودہ طبق روشن کر دیتی ہے آنیہ اپنے پاؤں کی طرف اشارہ کر کے بولی تھی
ہاہاہاہاہا یو آر سو فنی مس آنیہ شاہ پر آپ کا یہ افسر خان کسی سے بھی نہیں ڈرتا آپ کی سو گولڈ ہیل سے بھی نہیں میرے پیار میں اتنی طاقت ہے کے آپ کی ہیل بھی پگل جائے گی میں صرف پیار کرنے کے لیے ہوں اور آپ کا بھی کام ہے مجھے پیار کریں وہ اس کے قریب ہوتے ہوئے اس کی آنکھوں میں دیکھ کر بولا تھا
آنیہ خود کو اس کی آنکھوں میں کھویا ہوا محسوس کرنے لگی تھی
ہوگیا نہ پیار نہ بھی ہوا تو جلد ہی ہو جائے گا میرے پیارا میں طاقت ہی اتنی ہے وہ اسے اپنی آنکھوں میں گم دیکھ کر اس کے آگے چٹکی بجا کر بولا تھا
مجھے اور تم سے پیار ہو ہی نہ جائے وہ منہ بنا کر بولی تھی
ہو جائے گا تم ٹینشن مت لو میں تمہیں مجبور کر دوں گا پیار کرنے پر میری مغرور لیلا وہ اسے آنکھوں میں پیار لیے دیکھ رہا تھا
ہو گیا تمہارا ٹھرکپن اب اندر چلیے وہ اسے گھو کر دیکھتے ہوئے اندر کی طرف جانے لگی تھی
وہ بھی مسکراہٹ لیے اس کے پیچھے چلا گیا جو وئٹ فراک پہنے بالوں کو کھلا چھوڑئے ریان کو خود پر بجلیاں گراتی محسوس ہو رہی تھی ریان کے مطابق
کہاں جا رہا ہے کمینے تو کب سے عاشق بن گیا اور تیرے ڈائلاگ تو واللہ ماشاءاللہ کہنے کو دل کر رہا ہے میرا تُو تو مجھ جیسے عاشق مزاج کو بھی پیچھے چھوڑ گیا ٹھرکی کہی کے احد جاتے ہوئے ریان کے آگے آ کر اس کا راستہ روک کر بولا تھا
کیا کروں تیرے ساتھ رہ رہ کر مجھے میں بھی کافی ٹھرکپن آ گیا ہے ورنہ ہم خان لوگ ٹھرک نہیں جھاڑتے تم شاہ تو ہو ہی شروع سے ٹھرکوں کی ٹولی سے ریان دل جلا دینے والی مسکراہٹ احد کی طرف اچھال کر بولتا احد کی اچھی خاصی بےعزتی کر گیا تھا
تو ہو گا ٹھرکیوں کی ٹولی سے تیرا خاندان ٹھرکی دفعہ ہو جا میں ابھی جا کر یہ رشتہ ختم کرتا ہوں کمینے انسان ابھی منگنی ہوئی ہے اور تو ابھی سے مغرور بہنوئیوں کی طرح بن گیا ہے احد اس کو اسی کے طریقے میں جواب دے کر اندر جانے لگا تھا
ہم خان ہیں جب ایک دفعہ منگنی ہو جائے پھر ہم اپنی منگ کو اُٹھ کر بھی لے جاتیں ہیں احد شاہ وہ اس کے کندھے پر ہاتھ مار کر بولا تھا
دفع دور ہم بھی شاہ ہیں بڑا آیا خان احد ہاتھ نچا کر بولا تھا
ہاہاہاہاہا تُو تو شاہ ہونے کے ساتھ ساتھ زنانہ بھی ہے احد پلیز ایسے لڑکیوں کی طرح مت کیا کر میری ہنسی نہیں روکتی ریان قہقہہ لگاتے ہوئے بولا تھا
ریان کے بچے دفعہ ہو جا زنانہ ہو گا تُو وہ دونوں بچوں کی طرح لڑ رہیے تھے اور پھر لڑتے لڑتے آپس کی ہی باتوں پر قہقہہ لگاتے ہوئے اندر بڑھ گیے تھے
❤️❤️❤️❤️❤️
کہاں جا رہی ہو تم احد کو آج خدا خدا کرتے ہوئے موقع مل ہی گیا تھا وہ زویا کے سامنے آتے ہوئے بولا تھا جو کمرے سے باہر نکل رہی تھی
آپ کے پاس جا رہی تھی وہ اس کا ہاتھ پکڑ کر اس کے ساتھ چلتے ہوئے بولی تھی
آپو بول رہیں تھی آپ کا اور میرا ایک سٹرانگ ریلیشن ہے اسی لئے میں نے سوچا تھوڑا وقت آپ کو بھی دے دوں وہ احد کی طرف دیکھ کر بولی تھی جو خیران ہوا کبھی اسے اور کبھی اپنے ہاتھ کو دیکھ رہا تھا جو اس کے ہاتھوں میں تھا
میرے پاس بکس بھی ہیں آج سے آپ مجھے پڑھائیں گے اور اب آپ مجھے اگزمز کی تیاری کروائیں گے کیونکہ زر بھی بول رہی تھی کے اسے سلال بھائی تیاری کروا رہیں ہیں اسی لئے آپ مجھے پڑھا دیں پھر میں بھی زر سے بولوں گی کے آپ مجھے پڑھاتے ہیں وہ آنکھوں کو جھپکا کر بولی تھی
میں پڑھا تو دوں گا پر تمہاری اپوووووووو جو ہیں وہ برداشت کر لیے گی احد آپو پر زور دیتے ہوئے بولا تھا
جی آپو نے ہی تو بولا تھا کے میں پڑھ سکتی ہوں اس طرح میں آپ کو سمجھ بھی سکتی ہوں کہ آپ کیسے انسان ہیں وہ اپنی طرف سے بہت سمجھداری سے بولی تھی
احد اس کی بات سے مسکرا دیا تھا پر وہ حیاء کی اس مہربانی کو سمجھ نہیں پایا تھا اسی لیے تھوڑا مشکوک بھی ہوا تھا
مشکوک مت ہوں آپو کا اس میں کوئی غلط مطلب نہیں ہے وہ اسے سمجھاتے ہوئے بولی تھی
تمہیں کس نے کہا میں مشکوک ہو رہا ہوں احد اس کی اتنی سمجھداری پر خیران ہوا تھا
وہ بھی آپو نے ہی بتایا تھا کہ آپ مشکوک ہو جائیں گے تب میں آپ کو بتا دوں کہ اس میں ان کا کوئی بھی غلط مطلب نہیں ہے نہ ہی ان کا کوئی فائدہ ہے اس میں آپ جیسے نکمے انسان سے ان کو کوئی فائدہ نہیں ہو سکتا زویا سیم ٹو سیم حیاء کی کہی بات اس سے بولی تھی
احد نے آبرو اُٹھا کر زویا کی طرف دیکھ تھا جو اپنی طرف سے بہت سمجھداری کی بات کر رہی تھی
چلو میری سوئٹ وائف آج تو تمہیں میں پڑھاؤں گا وہ بھی عشق والا سبق وہ اس کے ہاتھ کو مضبوطی سے پکڑ کر اپنے ساتھ لے کر جاتے ہوئے بولا تھا
حیاء چڑیل کو تو میں خود پوچھ لو گا میں نکما ہوں تو خود کون ہے چڑیل کہی کی وہ دل میں اسے خوب سُناتے ہوئے خوشی سے زویا کو ساتھ لے کر جا رہا تھا
❤️❤️❤️❤️
احد یہ کیا ہمیشہ آپ کے پاس ہی ہوتی ہے زویا کب سے آئی اس کے کمرے کی ہر چیز کو الٹ پلٹ کر کے دیکھ رہی تھی اب الماری کی طرف بڑھ کر اسے کھول کر چیزوں کو دیکھ رہی تھی کہ اس میں سے گن نکل کر دیکھتے ہوئے بولی تھی
پاگل لڑکی چھوڑو اسے احد غصے سے اس سے چھین کر بولا تھا جو پرسکون ہوا اسے ادھر سے اُدھر جاتے دیکھ رہا تھا الماری سے گن نکل کر آگے کرتے ہوئے دیکھ کر دنگ رہا گیا تھا
مجھے نہیں کرنی آپ سے بات نہ میں آپ کے ساتھ رہنا چاہتی ہوں آپ بہت برے ہیں
I hate you
احد کے غصہ کرنے سے وہ رونے والی شکل لے کر اسے دیکھنے لگی تھی اور آنکھوں میں نمی لیے اسے دیکھ کر بولی تھی
بہت شوق ہے اسے چلانے کا وہ اسے بول کر جاتے ہوئے دیکھ کر کھینچتے ہوئے اس کو الماری کے ساتھ لگا کر اس کے چہرے پر گن کو پھیرتے ہوئے بولا تھا
زویا اپنی سانس روکے پریشانی سے احد کے غصے والے روپ کو دیکھ کر نہ میں سر کو ہلانے لگی تھی
میری جان شوق ہے تو ابھی پورا کر دیتا ہوں وہ اب گن کو اس کے ہونٹوں پر رکھ کر بولتے ہوئے اس کی آنکھوں میں دیکھ رہا تھا
یہ تمہارا معصوم چہرا مجھے بہکنے پر مجبور کر دیتا ہے زویا بہت معصوم اور خوبصورت ہو تم وہ زویا کی طرف دیکھا رہا تھا جس نے ڈر سے آنکھوں کو زور سے بند کر لیا تھا
مجھے جانے دیں مجھے نہیں رہنا آپ کے ساتھ میں آپو کے پاس جاؤں گی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ ابھی کچھ بولتی احد اسے اپنی طرف کھینچتے ہوئے اس کے ہونٹوں پر جھک گیا تھا
زویا اسے روتے ہوئے پیچھے کرنے لگی تھی
تم اب یہی اس روم میں سو گی جتنے دن تک میں یہاں ہوں وہ روتی ہوئی زویا سے پیچھے ہو کر بولتا اسے اپنی باہیوں میں اُٹھا کر بیڈ پر لیٹا کر اس پر کمبل دیتے ہوئے بولا تھا
چلو جلدی سے آنکھوں کو بند کر لو میں لائٹ بند کر دوں احد اس کے سر پر پیار کرتے ہوئے بولا تھا جو غصے اور رونے والی ہوئی اسے دیکھ رہی تھی
لائٹ نہیں بند کرنی مجھے ڈر لگتا ہے وہ روتی صورت لیے بولی تھی
مائے سوئٹ وائف میں ہوں نہ پریشان مت ہو تمہارے پاس ہی ہوں میں وہ بھی اس کے ساتھ لیٹ گیا تھا
لائٹ بند کر دی تھی اور اسے اپنے ساتھ لگا لیا تھا
زویا نے بھی زور سے اسے پکڑا ہوا تھا وہ لائٹ بندہ ہونے سے ڈر رہی تھی
میں اپنی وائف کو بہت بہادر دیکھنا چاہتا ہوں زویا جب تک میں زندہ ہوں تمہیں کوئی بھی نقصان نہیں پہنچا سکتا اسی لئے تم کو ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے
مائے لائٹل وائف
یو آر مائے لائف
وہ اس کے سر پر پیار کر کے بولا تھا
زویا اس کی باتوں کو سمجھی تھی یا نہیں پر وہ اتنا جان چکا تھا کہ وہ اس کو جلد ہی ہر ڈر سے آزاد کر دے گا
زویا نے بھی آندھرا میں مسکرا کر اپنی آنکھوں کو بند کر لیا تھا آج اسے اپنی ماں اور بہنوں کے علاوہ کسی تیسرے کی آ گوش میں سکون اور تحفظ کا احساس ہوا تھا
