Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 25

فریحہ حاضر کے پیچھے پیچھے اندر داخل ہوئی تھی جو اب جا کر ہال کے صوفے پر بیٹھا تھا فریحہ بھی پاس ہی پڑھے صوفے پر بیٹھ گئی تھی
اسلام وعلیکم بڑے شاہ جی ایک ملازمہ نے آیا کر حاضر کو سلام کیا حاضر جو دلچسپی سے فریحہ کو دیکھ رہا تھا جو سر کو جھکئے اپنے ہاتھوں کو آپس میں میسل رہی تھی
وعلیکم السلام یہ ملوں اپنی بری بی بی جی سے میری بیوی ہے وہ فریحہ کی طرف اشارہ کر کے بولا تھا جو اب اسے دیکھ رہی تھی
معذرت شاہ جی میں نے دھیان نہیں دیا وہ سر کو جھکا کر اب فریحہ کو سلام کرتے ہوئے دور کر کچن میں جا کر دونوں کے لیے کولڈرنک لے کر آئی تھی اور ان کے آگے پیش کی تھی جب بھی حاضر آتا تھا وہ ایسے ہی سب سے پہلے سلام کرنے کے بعد اس کی خدمت کرتے تھے
مجھے اندر کوئی بھی مرد ملازم نظر نہیں آنا چاہیے جب تک یہاں میری بیوی میرے ساتھ ہے حاضر کے بولنے پر وہ سر کو ہلا گئی تھی
فریحہ خیران ہوئی بس اسے دیکھ رہی تھی جس کا ہر اندر ہی الگ تھا آج ۔۔۔۔۔۔
کھانے کا انتظام کرو جا کر حاضر اسے حکم دیتے ہوئے بولا تھا
ہم گھر کب جائیں گے فریحہ نے ڈرتے ہوئے اس سے پوچھا تھا
تو تم کو یہ کیا گھر نہیں لگا رہا وہ آئبرو اَٹھ کر بولا تھا
میں یہی رہتا ہوں خویلی کبھی کبھی جاتا ہوں تم میری بیوی ہو اسی لیے تم بھی میرے ساتھ یہی رہوگی حاضر جواب دیتے ہوئے سگریٹ کو سلگا کر اس کو منہ سے لگا گیا تھا
فریحہ نے ایسا کرنے سے نخواست سے اپنا سر جھٹکتے ہوئے اپنی ناک پر ہاتھ رکھ لیا تھا
حاضر اسے دیکھتے ہوئے مسکرا کر اپنا ہاتھ بڑھا کر اسے اپنی طرف کھینچ چکا تھا
اتنی نفرت ہے اس سے وہ اس کے منہ پر دھواں چھوڑتے ہوئے بولا تھا
فریحہ کو اس کی سیمل سے ابکائی آنے لگی تھی اس نے بمشکل اپنے ناک پر ہاتھ رکھا کر اس سے دور جانے کی کوشش کی تھی
نہ میری جان دور نہیں آج دور نہیں جا سکتی تم مجھے سے وہ اس کے کمر پر ہاتھ ڈال کر اس کی گردن میں منہ دیے بولا تھا
پلیز حاضر وہ ممنائی تھی اپنی گردن پر حاضر کے لمس کو محسوس کرتے ہوئے اور سگریٹ کی سیمل دونوں سے فریحہ کو جان جاتے ہوئے محسوس ہو رہی تھی
زیبا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حاضر کے ایک دفعہ بولنے پر وہ بوتل کے جن کی طرح آگئی تھی
بی بی جی کو ان کے بیڈروم میں چھوڑ کر آؤ وہ فریحہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولا تھا
فریحہ اپنی جان چھوٹ جانے پر جلدی سے اپنا سانس بحال کرتے ہوئے اس کے پیچھے بھاگی تھی
حاضر اس کی جلد بازی پر سر ہلا کر رہا گیا تھا
یہ یہ روم ہے بڑے شاہ جی کا وہ اسے روم میں چھوڑ کر خود چلی گئی تھی
کیا مصیبت ہے یار اب یہاں رہنا پڑھے گا وہ جھنجھلاتے ہوئے بیڈ پر بیٹھی تھی چینج کرنے کے لیے بھی کچھ نہیں ہے کیا کروں ان کپڑوں میں تو ساری رات نہیں گزر سکتی وہ اپنے کپڑوں کو دیکھ کر بولی تھی
باجی یہ آپ کے کپڑے ایک چھوٹی سی لڑکی ایک بیگ لے کر کمرے میں آئی تھی
جی بڑے شاہ جی نے دیے ہیں وہ اسے دیتے ہوئے چلی گئی تھی
اچھا تو پوری تیاری کے ساتھ لے کر آیے ہیں مجھے یہ اس نے دیکھا تو اس میں اس کے کپڑے تھے جو شاید خرید کر لائیے گیے تھے ابھی
فریحہ نے غصے سے اُٹھا کر شاپر نیچے پھینکا تھا جو اندر آتے ہوئے حاضر شاہ کے قدموں میں گرا تھا
زیبا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ اتنی زور سے چلایا تھا کے فریحہ بھی ڈر کر کھڑی ہو گئی تھی
جی جی ۔۔۔۔۔۔۔بڑے شاہ جی ۔۔۔۔۔۔۔۔وہ ہانپتے ہوئے آئی تھی
یہ شاپر اُٹھا کر لے جاؤ یہاں سے ابھی وہ غصے سے اس پر غرایا تھا پر نظریں ابھی بھی فریحہ پر تھی جو اسے دیکھ کر سہمی ہوئی کھڑی ہو گئی تھی
اس کے جاتے ہی حاضر آہستہ آہستہ اس کی طرف قدم بڑھانے لگا تھا آنکھیں غصے اور ضبط سے لال ہو گئیں تھی
کیوں چاہتی ہو کے میں تمہارے ساتھ برا پیش آؤ فریحہ وہ اسے اپنی طرف کھینچتے ہوئے کمر پر ہاتھ رکھ کر اپنے قریب کرتے ہوئے بولا تھا
فریحہ نے سہمی ہوئی نظروں سے اس کی طرف دیکھا تھا زبان تو جیسے حاضر کے ڈر سے گونگی ہو گئی تھی
اب تم وہ رہی میری الماری اس میں میرے پڑھے ہوئے کپڑوں میں سے ہی کپڑے پہن لینا وہ غصے سے بول تھا
میں میں وہ کیسے فریحہ کے بولنے پر اس نے اسے گھور کر دیکھا تھا
یہ تو ان کپڑوں کو پھینکنے سے پہلے سوچنا چاہیے تھا مائے سوئٹ ہارٹ وائف وہ اس کے گال پر اپنا الٹا ہاتھ رگڑتے ہوئے بولا تھا
خود کو ہر چیز کے لیے تیار رکھوں مس فریحہ کیوں کہ اب میں تمہیں میرا اصلی روپ دکھائی دے گا اب تمہیں پتہ چلے گا اصلی حاضر شاہ ہے کون وہ اس کے ہونٹوں پر اپنا انگوٹھا پھیرتے ہوئے فریحہ کو کچھ بھی سمجھنے کا موقع دیے بینا اس کے ہونٹوں پر جھکا تھا
اپنا غصہ اس پر اتارنے لگا تھا فریحہ اپنے دونوں ہاتھ اس کے سینے پر رکھ کر اسے خود سے دور کرنے لگی تھی وہ جتنا اسے خود سے دور کرنے کی کوشش کرتی وہ اس پر اپنی گرفت اور بھی مضبوط کر دیتا تھا
جتنا خود سے دور کرو گی اس سے دوگنا مجھے اپنے پاس پاؤ گی کیونکہ تمہارا ہر راستہ اب صرف حاضر شاہ کی طرف ہی آتا ہے تم صرف میری ہو صرف میری حاضر شاہ کی وہ اسے چھوڑتے ہوئے اس کے بالوں میں ہاتھ دے کر اس کا چہرہ اپنے چہرے کے بلکل قریب کرتے ہوئے بولا تھا
فریحہ نے اپنی آنکھوں کو بند کر لیا تھا آنسو آنکھوں سے بہ رہیے تھے
حاضر کو اس پر رحم آیا تھا اس نے اسے اپنے سینے میں بیچ لیا تھا
مت کیا کرو ایسا میرے ساتھ فریحہ کے مجھے تم پر غصہ آیے مجھے تمہارا جنون ہے کیوں نہیں سمجھ پا رہی تم میں پاگل ہو جاتا ہوں جب تم مجھ سے دور جانے کا بولتی ہو میرا دل بند ہونے لگتا ہے
فریحہ اس کے سینے میں منہ چھپائے سسکی تھی حاضر نے اس کا چہرہ اوپر کر کے باری باری اسکی آنکھوں پر اپنے لب رکھ دیے تھے پھر اس کے ماتھے پر اپنے لب رکھتے ہوئے پھر سے اسے اپنے ساتھ لگا لیا تھا
میں تمہیں پہلے بھی بول چکا ہوں میں عاقب شاہ نہیں ہوں میرا ایمان اتنا گرا ہو نہیں ہے فریحہ کے میں اپنی محبت کو ان چیزوں کی سزا دوں جو اس کے بس میں نہیں ہیں بیٹا یا بیٹی اس رب کے سوا کسی کے بس کی بات نہیں ہے ایک بار یقین کر کے دیکھ لو مجھ پر فریحہ تمہیں مجھے ہمیشہ اپنے ساتھ پاؤ گی
تم کہو گی تو ساری زندگی اس ناسور کو بھی چھوڑ دوں گا ہاتھ تک نہیں لگاؤں گا وہ اپنے سگریٹ کی بات کرتے ہوئے بولا تھا فریحہ نے سر اُٹھا کر اس کی طرف دیکھا تھا جو اسے مسکراہٹ لیے دیکھ رہا تھا
ہاں مجھے پتہ ہے تم ایسے ناسور بولتی ہو وہ اس کی ناک سے اپنی ناک رگڑتے ہو بولا تھا
فریحہ پھر سے اس کے سینے میں منہ چھپا گئی تھی
اب کیا پہنوں میں وہ ایسے ہی منہ دیے بولی تھی
جو میں نے کہا ہے اب تو وہی پہنا پڑھے گا صبح ہی کچھ شاپنگ کر کے لے کر آ سکتا ہوں اب میں وہ اس کے بالوں پر اپنے ہونٹ رکھے ہوئے بولا تھا
فریحہ کو ریلکس ہوتے دیکھ کر وہ خود بھی ہلکا ہو گیا تھا
روکو میں دیتا ہوں تمھیں وہ اسے اپنے ساتھ لگایا ہوئے الماری کی طرف بڑھا تھا اور اس میں سے ایک ٹروزر اور شرٹ نکل کر دی تھی
یہ ۔۔۔۔۔۔یہ نہیں آنے والی مجھے حاضر وہ اسے ہاتھوں میں پکڑا کر لہراتے ہوئے بولی تھی
آج تو ایڈجسٹ کرنا پڑھے گا میری جان وہ کندھے اچکاتے ہوئے بولا تھا
اتنا غصہ کرتے ہیں آپ میں نہیں پہنے والی یہ گندی سی شرٹ اور یہ آپ کا ٹروزر وہ اس کی طرف اچھالتے ہوئے بولی تھی
سوچ لو پھر نہ ہو یہ بھی نہ ملے صبح تک ان کام والے کپڑوں میں رہ لو گی وہ الماری کھول کر ان کو رکھنے لگا تھا واپس
نہیں دے دیے وہ پھر سے کھنچتے ہوئے ان کو لے کر واشروم میں بند ہو گئی تھی
تب ہی زیبا کھانا لے کر کمرے میں آئی تھی
ادھر لگا دو اور تم جاؤ اب اپنے کوارٹر میں تمہارا کام ختم
وہ سر ہلا کر وہاں سے چلی گئی تھی
تم نے چینج کیوں نہیں کیا حاضر نے فریحہ کو انہیں کپڑوں میں واپس آتے دیکھ کر کہا تھا
میں نہیں وہ پہن سکتی اجیب سے ہیں سب وہ منہ بنا کر بولتے ہوئے حاضر کے کپڑے حاضر کے اوپر پہنکتے ہوئے بولی تھی
ہاہاہاہاہا اہاہاہاہا فریحہ نے حاضر کو دیکھ کر قہقہہ لگایا تھا کیونکہ فریحہ کے کپڑے پھینکنے پر شرٹ جا کر حاضر کے منہ پر گیری تھی
حاضر نے شرٹ منہ سے ہٹا کر غصے اس کی طرف دیکھ تھا جو کھلکھلا کر ہنس رہی تھی حاضر کے دیکھنے پر اس کی ہنسی کو بریک لگا تھا جو اب غصے سے اس کی طرف بڑھا تھا
بہت ہنسی آ رہی ہے وہ اس کے چہرے پر آئی لٹ کو پیچھے کرتے ہوئے آبرو اُٹھا کر بولا تھا
جی وہ ہاں میں سر ہلاتے ہوئے پھر سے ہنس دی تھی
وہ ہسنی تھی تو ہنستی ہی جا رہی تھی ہنستے ہنستے حاضر نے دیکھا تھا کہ اس کی آنکھوں میں آنسو آ گیے تھے جو اب ہنستے ہوئے رو دی تھی
حاضر اسے دیکھا رہا تھا اور اسے ہاتھ بڑھا کر اپنے ساتھ لگا لیا تھا اور اسے اپنے ساتھ صوفے تک لے گیا تھا وہاں بیٹھا کر اسے پانی پالا تھا
ریلکس ہو جاؤ کون سی ایسی باتیں ہیں جو تمیں پریشان کرتیں ہیں وہ اسے اپنے ساتھ لگائے ہوئے بولا تھا
فریحہ کچھ نہیں بولی تھی بس حاضر کر ساتھ لگی ہوئی تھی
ٹھیک ہے بعد میں بات کریں گے ابھی کھانا کھا لو تم وہ اسے کھانا ڈال کر دیتے ہوئے بولا تھا
فریحہ نے چپ چاپ لے لیا تھا
❤️❤️❤️❤️
ماما آپ لوگوں تیار بھی ہو گیے ہیں حیاء اندر آ کر عادل اور نورین کو صوفے پر تیار بیٹھ کر بولی تھی
ہان جی ٹائم دیکھیں جانے کا ہو چکا ہے عادل صاحب مسکر کر بولے تھے
سلال یہ کیا ہوا ہے تمہیں نورین سلال کے منہ پر لگے زہم کو دیکھ کر بولیں تھی
کچھ نہیں ماما آپ کی بیٹی نے مجھے دھکا دیا ہے بتاو زرتاشہ کیوں دھکا دیا تم نے مجھے سلال زرتاشہ کی طرف دیکھ کر بولا تھا جو خیران ہوئی اسے دیکھ رہی تھی
حیاء بمشکل خود کو کنٹرول کیا تھا کیونکہ یہ اسی کی وجہ سے ہوا تھا پر سلال نے بات سنبھال لی تھی
ماما یہ دوسری لڑکیوں کو دیکھ رہیے تھے کہ ان کا پاؤں پھسل گیا اور یہ منہ کی طرف نیچے گر گیے تھے زرتاشہ
سلال کی طرف دیکھ کر بولی تھی
کیا کیا میں اور لڑکیوں کی طرف دیکھوں گا لڑکیاں میری طرف دیکھتی ہیں میڈم وہ اس کی طرف دیکھتا منہ بنا کر بولا تھا
اچھا سب چھوڑو مجھے سہی سے بتاو کیا ہوا ہے نورین وہ ان کو تنبی کرتے ہوئے بولیں تھی
کچھ نہیں ماما بس چھوٹا سا ایکسیڈنٹ ہوا تھا بس مجھے ہی لگی تھی تھوری سی سلال جھوٹ بولا تھا کیونکہ وہ ان کو زیادہ پریشان کر دیتا اگر انس کے بارے میں بتاتا تو
کیا تم لوگ ٹھیک تو ہوں نہ عادل صاحب اور نورین پریشانی سے بولے تھے
بابا ماما ٹھیک ہیں سب چلے اب تیار ہوں جائیں ٹائم نہیں ہے وہ ان کو اُٹھاتے ہوئے بولا تھا پھر وہ سب سے ملیں تھے
نورین بھی ان سے ملی تھی اور سب ان کو گاڑی تک چھوڑنے آئے تھے
اپنا بہت سا دھیان رکھنا تم تینوں وہ تینوں کو پیار کرتے ہوئے بولتی عادل کے ساتھ گاڑی میں بیٹھ گئیں تھی
گاڑی جب تک گیٹ کے باہر نہیں نکل گئی تھی وہ تینوں وہی کھڑے رہیے تھے پھر ان کے جاتے ہی اندر چلیے گئے تھے
حیاء اوپر اپنے روم کی طرف بڑھ گئی تھی
سلال صرف ٹھنڈی سانس لے کر رہا گیا تھا اور اسے جاتے ہوئے دیکھتا ہی رہ گیا
زر تمہیں چائے بنانی آتیں ہے وہ صوفے پر بیٹھ کر زرتاشہ کو بولا تھا جو کنفیوز سی کھڑی تھی
نہیں مجھے تو نہیں آتیں وہ نہ میں سر ہلا کر بولی تھی
چلوں پھر کچن میں میرے ساتھ تمہیں چائے بنانا سیکھا دوں وہ صوفے سے اُٹھ کر اس کا ہاتھ پکڑ کر کچن میں لے جاتے ہوئے بولا تھا
وہ اسے انسٹرکشن دینے لگا زرتاشہ ویسے ہی کر رہی تھی چولہے کے پاس کھڑی چائے کے پکنے کا انتظار کر رہی تھی کے پیچھے سے سلال نے آ کر اسے ہگ کر لیا تھا اس کے کندھے پر سر رکھ کر کھڑا تھا
زر آج جو ہوا تم اس کے بارے میں کیا کہنا چاہوں گی وہ اس کے کان کے پاس سرغوشی کرتے ہوئے بولا تھا
مجھے میری بہن اور آپ پر پورا بھروسہ ہے آپو میری جان ہیں انس بھائی نے بہت غلط کیا ان کے ساتھ وہ اس کے اس طرح بولنے پر تھوڑا گھبرائی تھی پر پھر پورے کنفیڈنس سے اسے جواب دیا تھا
اچھا آپو جان ہے تو پھر میں کیا ہوں وہ اس کے کان سے اپنے ہونٹ ٹیچ کرتے ہوئے بولا تھا اس کی باتیں سن کر وہ ریلکس ہو گیا تھا وہ جانتا تھا کے زرتاشہ چھوٹی ہے اسی لیے نہ سمجھی میں سچ میں ہی کچھ غلط نہ سمجھ جائے
آ ۔۔۔آ۔۔۔۔۔ آ ۔۔۔۔آپ۔۔۔۔۔ بھی ہیں زرتاشہ نے اس کی خرکت سے کانپی تھی اور اپنے لب دانتوں سے چبانے لگی تھی
می۔۔۔۔۔۔ می۔۔۔۔ میں کیا ہوں وہ بھی اسی کی نکل اتار کر بولا تھا
پلیز سلال آپ میری نکل اتار رہیں ہیں پیچھے ہٹ جائیں میں چائے ڈال لوں ورنہ وہ جل جائے گی وہ اسے پیچھے کرتے ہوئے بولی تھی
اوکے سوئٹ ہارٹ وہ اس کے گال پر اپنے لب رکھتے ہوئے پیچھے ہوا تھا کیونکہ اس کے نزدیک جانے سے وہ سچ میں کانپ رہی تھی
وہ اسے غور سے دیکھ رہا تھا جو آدھی چائے کپ میں اور آدھی نیچے پھینک رہی تھی
سلال کو اسے دیکھ کر ہنسی آ رہی تھی پر پھر بھی چپ کر کے اسے دیکھ رہا تھا جو اب کپ اسے کی طرف لے کر آئی تھی
لو یو جاناں وہ اس کے ہاتھ سے کپ لے کر اسے اپنی طرف کھینچتے ہوئے اپنے ساتھ لگا کر بولا تھا
واہ مزا آ گیا بہت مزے کی بنائی ہے چائے زر تم نے وہ اسے قریب کیے اس کے ہونٹوں کو چھو کر بولا تھا زر اس کے ایسا کرنے سے سرخ ہوگئی تھی اور نظروں کو جھکا گئی تھی جو اب بھی اسے اپنے ساتھ لگا کر چائے پی رہا تھا
چلو شاباش تم جا کر روم میں سو جاؤ میں بس آیا میرے روم میں وہ اسے قریب کیے بولتے ہوئے چھوڑ کر خود کچن کی شلف پر بیٹھ گیا تھا
زرتاشہ اس کے چھوڑنے پر وہاں سے بھاگ گئی تھی
سلال مسکراہٹ لیے کپ کو لبوں سے لگائے اسے جاتا دیکھ رہا تھا
❤️❤️❤️❤️
زویا گھر آ کر سب سے ملنے کی بعد اپنے کمرے میں آ گئی تھی احد جب فری ہو کر کمرے میں آیا تو اسے زویا کہی نظر نہیں آئی تھی تو اسے غصہ آ گیا تھا
اپنے کمرے سے باہر نکل کر جب باہر حیاء والے کمرے میں گیا تو وہ اسے وہاں سوئی ہوئی ملی تھی جو مزے سے سو رہی تھی
وہ غصے سے اس کی طرف بڑھا تھا اور اسے اپنی باہوں میں اُٹھا کر اپنے کمرے کی طرف بڑھا گیا تھا آرام سے بستر پر لٹا دیا تھا
اور خود کمرے کا دروازہ بند کر کے دوسری طرف جا کر لیٹ گیا تھا
اس کے چہرے پر آئے بالوں کو پیچھے کیا اور اس کی گال پر اپنے لب رکھ دیے تھے
کتنی معصوم اور چھوٹی سی ہو تم دل کرتا ہے تمہیں خود میں سما لوں وہ اس کے چہرے کو چھوتے ہوئے بول رہا تھا
بے خود سا ہوتے ہوئے اس کو اپنے نزدیک کرتے ہوئے اس کے ہونٹوں پر جھک گیا تھا
زویا نیند میں سے ہڑبڑا کر اَٹھی تھی اپنے اوپر جھکے احد کو دیکھ کر اسے اپنے ہاتھوں سے پیچھے کرنے لگی تھی احد نے اس کے دونوں ہاتھوں کو اپنے ہاتھ سے قابو کرتے ہوئے ان کو پیچھے بیڈ سے لگا دیا تھا
شش جاناں آج تمہیں سزا دوں گا تم نے میری بات نہیں مانی نہ میرے بولنے کے باوجود تم اس کمرے میں گئی تو کیوں وہ اوپر اَٹھ کر اس کی آنکھوں میں دیکھ کر بولا تھا جہاں وہ گھبرائی ہوئی اسے دیکھ رہی تھی
اس کے دونوں ہاتھوں کو قابو میں کیے وہ اب اس کی گردن پر ہونٹ رکھ چکا تھا زویا اس کی گرفت سے اپنے ہاتھ کھینچ رہی تھی
احدنے سر اُٹھا کر دیکھ تو اس کی آنکھوں میں آنسو تھے جیسے دیکھا کر احد اس کے آنسو صاف کر کے پیچھے ہوا تھا اس کے ہاتھوں کو آزادی دیتے ہوئے اسے خود میں بیچ کر آنکھوں کو بند کر گیا تھا
سو جاؤ زویا اب آنکھیں مت کھولنا وہ اس کی بالوں میں اپنا چہرہ چھپائے بولا تھا
گھبرائی ہوئی زویا نے جلدی جلدی آنکھوں کو بند کر لیا تھا
❤️❤️❤️❤️
زینی کب سے لائچ میں بیٹھی تبریز کا انتظار کر رہی تھی جو آج گھر نہیں آیا تھا ابھی تک وہ اس کا انتظار کرتے ہوئے باہر ہی صوفے پر سو گئی تھی
تبریز کی آج باہر دوستوں کے ساتھ دعوت تھی پر اتنی دیر ہو گئی تھی اسی لیے زینی پریشان سی اس کا انتظار کر رہی تھی
تبریز خویلی پہچا تو اندر داخل ہو کر جب سامنے دیکھ تو اسے خیریت کا جھٹکا لگا تھا زینی اتنی سردی میں سمٹی ہوئی باہر صوفے پر بینا کسی گرم چیز کے بیٹھے بیٹھے سو رہی تھی
تبریز نے جلدی سے آگے بڑھ کر اسے اپنی باہوں میں اُٹھایا تھا اور اپنے کمرے کی طرف بڑھا گیا تھا
تبریز کے اُٹھانے سے اس کی آنکھیں کھول گئیں تھی
آپ کب آئے میں آپ کا کب سے انتظار کر رہی تھی وہ نیند سے جھگاتے ہوئے اس کی گردن میں باہوں کو ڈالے بولی تھی
میرا انتظار کیوں کر رہی تھی وہ اس کو اٹھا کر چلتے ہوئے بولا تھا
کیوں کہ مجھے آپ کی فکر ہو رہی تھی آپ اتنی دیر تک آئے نہیں تھے
تبریز اس کے منہ پھلا کر بولنے پر مسکرا دیا تھا اور زینی کی اتنی فکر کرنا اس کے دل کے تار ہلا رہا تھا
میری فکر کرنی ہے تو پھر مجھے معاف کر کے کریں میری فکر وہ اسے بیڈ پر رکھتے ہوئے بولا تھا دروازہ بند کر کے اس نے اپنی گرم چادر کندھوں سے اتاری تھی اور مسکرا کر اس کے سامنے بیڈ پر بیٹھ گیا تھا
مجھے آپ سے محبت ہے تبریز تب سے جب سے ہمارا رشتہ بھی تہ نہیں ہوا تھا وہ اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بولی تھی
تبریز اس کی بات سے کھل کر مسکرا دیا تھا
میں آپ کے بینا نہیں رہ سکتی میں آپ کی اتنے دن کی ملنے والی محبت سے خود کو خاص سمجھنے لگی ہوں وہ اس کے قریب جا کر اس کے ماتھے پر اپنے لب رکھ کر بولی تھی
پھر اس اپنے لب اس کی گال پر رکھے تھے اور اس کے گلے لگ گئی تھی
تبریز نے بھی خوشی سے اسے گلے لگا لیا تھا
I love you so much my sweet heart
وہ اسے خود میں بیچتے ہوئے اس کی گردن پر اپنے ہونٹ رکھتے ہوئے بولا تھا
زینی مسکراتے ہوئے اس کے سینے میں منہ چھپا گئی تھی
جانِ تبریز میری طرف تو دیکھوں وہ اس کے چہرے کو اوپر کر کے بولا تھا جو آنکھوں کو بند کیے گہری گہری سانس لے رہی تھی
تم آج سے مجھے ہمیشہ اپنا پابند پاؤ گی میری جان وہ اس کے ماتھے پر لب رکھتے ہوئے بولا تھا اور پھر اس کے ہونٹوں پر جھک گیا تھا
زینی نے تبریز کی غلطیوں کو معاف کر دیا تھا وقت لگا تھا پر تبریز کے ساتھ اور پیار نے زینی کو مجبور کر دیا تھا اسے معاف کرنے پر آج دونوں کی زندگی کی بہترین شروعات ہوئی تھی
❤️❤️❤️❤️❤️
ماضی
عادل صاحب یونیورسٹی کے دور سے ہی نورین کو پسند کرتے تھے عادل اور عاقب شاہ دونوں آپس میں گہرے دوست تھے
عاقب شاہ ایک حسد پسند آدمی تھے وہ پہلے سے شادی شدہ تھے اور ہال ہی میں اللہ نے ان کو ایک بیٹا بھی دیا تھا اور ان کی بیوی پھر سے ایکسپکٹ کر رہی تھی
نورین کو ان کی کلاس کی ہی تھی عادل نورین کو پسند کرتے تھے اور یہ بات وہ بہت دافع عاقب شاہ کو بھی بتا چکے تھے
وہ اپنی تعلیم کے بعد ان کے گھر رشتہ لے کر جانا چاہتے تھے پر وہ چاہتے تھے کہ پہلے وہ اس قابل ہو جائیں کے وہ نورین کو خود کے بل پر سنبھال سکے
پر قسمت نے ایسا کھیل کھیلا کے عاقب شاہ نے حسد میں عادل کو نیچا دکھانے اور نورین کی معصومیت کو حاصل کرنے کے لیے اس کی مامیوں کو لالچ دے کر. اس سے شادی کر لی تھی اس نے نورین کو اس کی تعلیم بھی مکمل نہیں کرنے دی اور اس کا شادی کر کے اپنے فلیٹ میں لے گیا تھا
جب دادا شاہ کو اس بات کا علم ہو تو انہوں نے عاقب شاہ پر ہر دروازہ بند کر دیا تھا اس کے بینک اکاؤنٹ تک سیل کروا دیے تھے
اس کا خویلی میں داخل ہونا بھی بند ہو گیا تھا بہت کوشش کرنے پر بھی اسے وہاں جانے نہ دیا جاتا تھا
ان کا ہر پاسا الٹا ہو گیا تھا عادل صاحب اپنے دوست کے داغا کرنے پر خاموش ہو گیے تھے بس صرف اپنی پڑھائی پر توجہ دیتے عاقب شاہ سے بالکل کٹ چکے تھے ان کو عاقب شاہ سے نفرت محسوس ہوتی تھی جن نے جان بوجھ کر اپنی ضد اور انا میں اپنی فیملی کے ہوتے ہوئے بھی نورین کی زندگی برباد کی اور عادل کی خوشیاں بھی کھا لی تھیں