Rate this Novel
Episode 6
نورین کی آج آفس میں ضروری میٹنگ آ گئی تھی اس لیے وہ زرتاشہ اور زویا کو سکول سے سیدھا اپنے آفس لے آئیں تھیں
تم دونوں میرے آفس میں بیٹھو میری میٹنگ ہے میں ایک گھنٹے تک فری ہو جاؤں گی پھر ہم ساتھ گھر جائیں گے وہ ان کو اپنے روم کا بتا کر خود میٹنگ روم میں چلیں گیں تھیں
زویا نورین کے پورے کمرے کو گوم گوم کر دیکھ رہی تھی دوسری طرف زرتاشہ صوفے پر بیٹھ کر اس کی پشت پر سر رکھ کر آنکھوں کو بند کر گئیں تھی
زری یار تمہیں سونے کے علاوہ کوئی کام نہیں ہے کیا وہ اسے آنکھیں بند کرتے دیکھا کر بولی تھی
زویا یار مجھے نیند آ رہی ہے تم جاؤ پورے آفس میں گوم آؤ وہ آنکھوں کو بند کیے ہوئے ہی نیند کے خمار میں بولی تھی
ہاں تمہارے پاس اور کام بھی کیا ہے میں جا رہیں ہوں باہر وہ دونوں تھیں تو جوڑوا پر دونوں کی شکلیں اور عادتیں بالکل مختلف تھیں
جاؤ میں تمہیں کون سا روک رہیں ہوں وہ آنکھوں کو بند کیے ہی بول رہی تھی
زویا اسے نہ میں سر ہلاتیں ہوئی باہر نکل گئی تھی
سلال جو آج آفس آیا ہوا تھا چلاتے ہوئے نورین کے آفس کے سامنے سے گزرنے لگا تو وہاں سے زویا کو نکلتے دیکھ کر اسے تجسس ہوا تو وہ ان کے آفس میں داخل ہوا تھا
سامنے زری کو آنکھیں بند کیے بیٹھے دیکھ کر اس کے چہرے پر جاندار مسکراہٹ آگئی تھی
اوہ تو یہ میڈم آج یہاں آئیں ہوئی ہے اسی لئے تو میں سوچوں میرا دل کیوں کر رہا ہے آج آفس آنے کا وہ مسکراتے ہوئے اس کی طرف بڑھتے ہوئے بولا تھا وہ اسے اس دن نورین کے ساتھ جاتے دیکھا چکا تھا اسی لئے وہ جان چکا تھا کے وہ نورین کی بیٹی ہے
سلال نے آگے بڑھ کر اس کے چہرے پر پھونک ماری تھی جس سے اس کے چہرے پر آئے بال اُڑے تھے
زرتاشہ کو نہ ہلتے دیکھ کر اس کے چہرے پر آیا بالوں کی لیٹ کو کھینچا کر کان کے پیچھے کیا تھا
کیا تکلیف ہے زویا تمہیں خود تو چین نہیں لیتی مجھے تو لینے دو وہ غصے سے آنکھوں کو کھولے بنا ہی بولی تھی
میرا چین لوٹ کر خود یہ مس چین سے لیٹی ہوئیں ہیں ابھی بتاتا ہوں سلال نے اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے کھینچ کر کھڑا کر دیا تھا
ک کیا ہوا ہے وہ ہڑبڑ کر اُٹھی تھی
ابھی تو کچھ نہیں ہوا وہ اس کو آنکھیں جبکاتے ہوئے دیکھ کر بولا تھا جو کب سے اس کے اُٹھانے سے آنکھوں کو بار بار جبک کر اپنی نیند کو بھاگنے کی کوشش کر رہی تھی
ہاہاہاہاہا ہا سلال کو اس کے انداز پر ہنسی آئی تھی تو وہ قہقہہ لگاتے ہوئے ہنسنے لگا
وہ ہو مائے کیوٹ فیری….. مجھے لگتا ہے تمہیں نیند بہت پیاری ہے
ک….. ک…. کون ہیں آپ میں ابھی ماما کو بتاتیں ہوں آپ ماما کے آفس میں کیا کر رہے ہیں وہ اس سے اپنا ہاتھ چھوڑتے ہوئے باہر کی طرف جانے لگی
نہ نہ تم جانتیں نہیں میں کون ہوں یہاں کے بوس کا بیٹا اگر تم نے اپنی ماما کو بتایا تو میں اپنے ڈید سے بول کر تمہاری ماما کو اس آفس سے باہر نکلوا دوں گا وہ اسے ڈراتے ہوئے بولا تھا
اس کی بات پر اس کے باہر جاتے قدم روک گیے تھے اور وہ واپس اس کی طرف مڑی جو اب سکون سے نورین کے آفس ٹیبل پر ہاتھ بندھے بیٹھ اسے غور سے دیکھ رہا تھا
جو سکول یونیفارم میں چھوٹی سی بچی لگ رہی تھی باکول سلال کے اب وہ کیا کر سکتا تھا جب اس کا دل اس بچی پر آگیا تھا
ہاں اگر تم نہ بتاؤں تو میں ڈید کو کچھ نہیں بتاؤں گا وہ اس کی خالت سے لطف لیتے ہوئے اپنی مسکراہٹ کو چھپا کر بولا تھا
زرتاشہ رونے والی شکل بنا کر سلال کو دیکھتی اپنے ہاتھوں کو آپس میں بیچے ہوئے کھڑی تھی
آنکھیں نیند کے ٹوٹنے کی وجہ سے سرخ ہو رہی تھیں
اور ان سرخ آنکھوں میں آئی نمی سلال کو بھاگی کر رہیں تھی
وہ بےاختیار اُٹھا کر اس کی طرف بڑھا تھا اور اس کا چہرہ تھوڑی سے پکڑ کر اوپر کرتے ہوئے اس کی آنکھوں میں دیکھتا ہاتھ بڑھا کر آنکھوں میں آئی نمی کو صاف کرنے لگا
پلیز آپ ماما کو مت نکالیں گا میں کسی کو نہیں بتا رہی کچھ بھی وہ روتے ہوئے بولی تھی
اوکے ٹھیک ہے ٹھیک نہیں بتا رہا صاف کرو پہلے اپنے آنسو تم وہ پیچھے ہوتے ہوئے اس سے بولتا منہ دوسری طرف موڑ کر گہرے گہرے سانس لیتا اسے ایک نظر دیکھتے ہوئے باہر نکل گیا تھا
پیچھے زرتاشہ سوں سوں کرتیں پھر سے صوفے پر بیٹھ گئی تھی باہر قدموں کی آوازوں کو سنتے ہوئے جلدی سے آنسو کو صاف کر گئی تھی
چلو زری ماما بولا رہیں ہیں باہر میٹنگ ختم ہے اب گھر چلتیں ہیں وہ اسے بولتے ہوئے باہر نکل گئی تھی
زری بھی اپنا بیگ اُٹھ کر باہر نکلی تھی راستہ میں سلال اسے سامنے ہی نظر آیا تھا
سلال نے مسکرا کر اسے آنکھ ماری تو وہ غصے سے اپنی نظریں نیچے کیے جلدی سے دور کر لیفٹ کی طرف بڑھ گئی تھی جہاں نورین اور زویا کھڑی تھیں
تم مجھے اتنی جلدی بھول بھی گئی ہو پر کوئی بات نہیں جلد ہی تمہیں میرے علاوہ کوئی اور یاد نہیں رہیے گا وہ پراسرر سا مسکراتے ہوئے اسے جاتے ہوئے دیکھ رہا تھا
سارا سٹاف آج سلال کو مسکراتے ہوئے پہلی دفعہ دیکھا رہا تھا اور خیران بھی ہو رہا تھا
جھٹکا تو عادل صاحب کو بھی لگا تھا اپنے بیٹے کو دیکھ کر وہ سلال کی ہر خرکت کو دیکھ چکے تھے
زری کو آنکھ مارتے ہوئے بھی دیکھ چکے تھے
عادل خود نہیں سمجھ پا رہیں تھے کہ وہ اپنے بیٹے کے لیے خوش ہوں یا نہ
اسی لئے وہ چپ چاپ اپنے آفس میں داخل ہو گئے تھے
❤️❤️❤️❤️❤️
حیا گاڑی کھڑی کر اندر داخل ہوئی تھی شکر تھا اس وقت ابھی کوئی بھی نہیں آیا ہوا تھا اسی لیے وہ چپ چاپ سڑیوں کی طرف بڑھ گئی تھی
حیا بیٹا کھانا کھاؤں گی اماں بی نے حیا کو سڑیوں سے اوپر جاتے دیکھ تو اسے آواز دے کر بولیں تھیں
نہیں اماں بی میں یونیورسٹی میں آج کھا لیا تھا میرا سر میں درد ہے میں سونے لگی ہوں کوئی مجھے پریشان نہ کریں وہ سامنے ہی چہرے کیے بولتے ہوئے جلدی جلدی اوپر چلیں گئی تھی
پیچھے اماں بی سر ہلاتے ہوئے کیچن کی طرف بڑھنے لگیں تو فریحہ کو اندر آتے دیکھ کر پھر سے روک گئی تھیں
فریحہ نے بمشکل خود کو کنٹرول کرتے ہوئے ان سے سلام لیا تھا
اماں بی ماما نہیں آئی ابھی فریحہ نے ان سے پوچھا اور خود صوفے پر بیٹھ گئی تھی
نہیں فون کیا ہے ابھی تھوڑی دیر تک پہنچنے والی ہیں
ٹھیک ہے میں فریش ہو لو پھر آپ کے ساتھ کھانا لگانے میں مدد کرتیں ہوں
❤️❤️❤️❤️
حیا کمرے میں آ کر دروازہ بند کر کے وہی دروازے کے ساتھ بیٹھتی چلی گئی آنسو آنکھوں سے نکل رہیے تھے
اپنا چہرہ گھٹنوں میں دیے بیٹھیں ہوئی تھی اس کی سسکیاں پورے کمرے میں گونج رہی تھیں
جب رو رو کر تھک گئی تو آہستہ سے اُٹھ کر بیڈ کی طرف گئی تھی
آنکھیں سرخ ہو رہیں تھی سر درد سے پھٹ رہا تھا بمشکل اپنے سیڈٹیبل کے درز سے سر درد کی دوائی لے کر پانی کے ساتھ نگل گئی
بیڈ پر لیٹتے ہوئے پھر سے اپنی بے بسی پر رونے لگی
تم خود کو کتنا بھی مضبوط کر لو حیا مردوں کے آگے نہیں چل سکتی تمہاری عورت کا سائبان ہمیشہ مرد ہی ہوتا ہے
ہمارا تو کوئی سائبان نہیں ہے آج اسی لیے انس شاہ میں اتنی ہمت ہوئی کے وہ مجھ سے زبردستی یہ سب
وہ سوچتے ہوئے پھر سے رونے لگی باہر سب کے آنے کی آوازوں کو سن کر اس نے اپنے منہ پر ہاتھ رکھ کر اپنی سکیوں کی آوازوں کو روکا تھا
ورنہ اس کا دل کر رہا تھا وہ اونچی اونچی روئے
آج مجھے نفرت محسوس ہورہی ہے عاقب شاہ آپ سے جو باپ کہلانے کے لائق نہیں ہیں
دوسرا شخص جو میرا مجازی خدا بن گیا ہے وہ بھی میرے لیے قابل نفرت ہے دو مرد جو عورت کی زندگی کا حاصل ہوتیں ہیں آج ان دونوں رشتوں سے نفرت محسوس ہو رہیں ہیں مجھے
وہ سوچتے ہوئے رو رہی تھی یہ تو کبھی بھی نہیں سوچا تھا
یہ رشتے کیوں روٹھ گیا ہے ہم سے کیوں نہ باپ کا پیار ملا اور جس رشتے کے لیے دل میں احساس تھے آج وہ انس شاہ نے خود سے منسوب کر کے وہ بھی چھین لیے ہیں
اپنی آنا کی نظر کر دیا مجھے وہ سسکی تھی پھر اپنا چہرہ تکیہ میں دیے روتے روتے نیند کی وادیوں میں اتار گئی تھی
❤️❤️❤️❤️
حیا نہیں آئی اماں بی سب بیٹھے تھے کھانا کھانے کے لے تو نورین نے بیٹھتے ہوئے اماں بی سے پوچھنے لگی
جی بیٹا وہ آئی ہے کمرے میں ہے وہ بول رہیں تھی کے اس نے یونیورسٹی میں ہی کھا لیا تھا اب نہیں بھوک اسی لئے سونے لگی ہے
ہم اچھا نورین پرسوچ آواز میں بولی تھیں اور پھر سب کھانا کھانے لگے
ماما مجھے آپ نے پری کو اجازت دی تھی کہ میں اس کے ساتھ جاؤں شادی پر رہنے کے لیے فریحہ کھانا کھاتے ہوئے آہستہ سی آواز میں اپنی ماں سے بولی تھی
جی میں نے ہی اجازت دی ہے وہ بچی اتنی منت سے بول رہیں تھی میرا دل نہیں کیا اسے نہ کرنے کو اسی لیے میں نے ہاں کر دی کیوں کیا ہوا تم نہیں جانا چاہتی کیا
ماما نہیں اتنے دن میرا دل نہیں ہے رہنے کو اسی لیے فریحہ چاولوں میں چمچ چلاتے ہوئے بول رہیں تھی
کوئی بات نہیں بیٹا دو دن کی بات ہے آپ کو اچھا نہ لگا تو اسی وقت فون کر دینا میں بجھوا دوں گی کسی کو لینے کے لیے آپ کو باقی آپ کی خود کی مرضی آپ جانا چاہے یا نہ وہ مسکراتے ہوئے اسے مطمئن کرتیں ہوئیں بولی تھیں
جی اچھا ماما فریحہ مسکرا کر سر ہلا گئی تھی
میرا خود کا دل نہیں ہے تمہیں کہی بھی بجھنے کا پر کیا کرو میں چاہتی ہوں کہ تم سب دنیا کو جانو یہاں رہنے کے طریقے اپناؤں کب تک میں تم لوگوں کو اپنے پروں میں چھپا چھپا کر رکھوں گی
آپ سب کو میرے بعد بھی تو اس دنیا کو فیس کرنا ہے اسی لئے چاہتی ہوں تم چاروں اس دنیا میں رہنے کا ڈھنگ سیکھو وہ دل میں سوچ رہیں تھیں
آپنی باتوں کو زبان پر لا کر اپنی بچیوں کو پریشان نہیں کرنا چاہتی تھیں
وہ کبھی زویا اور فریحہ کو تو کبھی زرتاشہ کو دیکھتی ان چاروں میں ان کی جان تھیں پوری دنیا تھی ان کی بیٹیاں ان کی
وہ اب چاہتی تھیں کہ ان کی بیٹیاں اب ان کے سہارے کے بنا دنیا میں چلنا سیکھے
❤️❤️❤️❤️❤️
سر آپ کی بہن کی شادی ہے تو آپ چھٹیاں نہیں لے گئے آفیسر اس سے پوچھنے لگا تھا
کو کرسی پر بیٹھے ٹانگیں سامنے پڑھی چیر پر رکھے بند آنکھوں میں کسی معصوم کا چہرہ دیکھتے ہوئے لبوں میں سگریٹ دبائے زہمی سی مسکراہٹ لیے ہوئے تھا
شیر خان کچھ پتہ چلا جس کام کا میں نے تمہیں بولا تھا وہ آنکھیں بند کیے ہوئے اس کی بات کا جواب دیے بنا اپنی بات بولا تھا
سر میرے آدمی وہاں پر بہت سے چکر لگا چکے ہیں پر ان کی کوئی خبر نہیں ہے پر ایک خبر ملی ہے جو شاید آپ کے لیے خوش آئین ہو
شیر خان کے بولنے پر اس نے جلدی سے سگریٹ کو منہ سے نکل کر نیچے پھینکا کر اس کو پاؤں سے مسلتے ہوئے اس کی طرف خوشگور نظروں سے دیکھ تھا
سر خبر ملی ہے کہ ان کے گھر والے پاکستان میں شفٹ ہو چکے ہیں اور اب شاید یہی رہیں گے
باقی میرے بندے کوشش کر رہے ہیں جلد ہی ان کا پتہ بھی مل جائے گا
شیر خان مجھے جلد ہی رزلٹ چاہیے کتنے دن سے تم ایک کام نہیں کر پارہیے اس کے بولنے پر شیر خان نے نظریں نیچے کر لی تھیں
سر جلد ہی آپ کو اب رزلٹ دوں گا وہ پر ازم سے بول کر اس کے اشارے پر کمرے سے باہر نکل گیا
کیوں میرے دل کے تار چھیڑا کر خود مجھ سے دور چلی گئی ہو آ جاؤ میرے پاس کتن اور تڑپنا باقی ہے وہ سوچوں میں اس معصوم حسینہ سے محاتب تھا
ایک دفعہ مل جاؤں ساری دنیا سے چھین کر تمہیں اپنی پناہوں میں لے لو گا اور بس تمہیں میری بن کر رہنا ہے احد شاہ کی معصوم حسینہ وہ مسکراتے ہوئے
اسے سوچتے ہوئے آنکھوں کو پھر سے بند کر گیا تھا
❤️❤️❤️❤️❤️
حیاء اُٹھ جاو شاباش یہ دوائی کھا لو دیکھوں تمہیں کتنا بخار ہو رہا ہے نورین اسے رات کے کھانے کے لیے اُٹھانے آئیں تھیں تو حیاء کو بخار میں دیکھا کر ڈاکٹر کو بولوائے تھا
وہ اب اسے چیک کر کے! دوائی دے گیے تھے
اماں جانی مجھ سے نہیں کھائی جائیے گی یہ وہ اُٹھ کر بیٹھتے ہوئے ان کی گود میں سر رکھ کر پھر لیٹ گئی تھی
حیاء کھاؤں گی نہیں تو ٹھیک کیسے ہو گی میرا بچے وہ اس کے بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوئے بولی تھیں
اماں جانی ہمارا کوئی اپنا کیوں نہیں ہے جو ہمیں اس دنیا کے برے لوگوں سے محفوظ رکھے ہم سب پر سایہ بن جائے ہمیں انچ نہ آنے دیں جیسے سب کے ہوتے ہیں باپ دادا نانا کوئی بھی تو نہیں ہے ایسا رشتہ ہمارا وہ بولتے ہوئے رو پڑھی تھی
م میں تو ہوں نہ آپ کے پاس اللہ کے بعد آپ سب کی حفاظت کرنے کے لیے وہ حیاء کی باتوں سے ان کے اندر کچھ ٹوٹا تھا پر پھر بھی وہ خود کو سنبھل کر بولیتی اس کے ماتھے پر پیار کیا تھا
اماں جانی آ آپ شادی کر لیں کوئی ہمارا بھی اپنا اور محافظ ہو گا جو ہم سب کو سارے برے لوگوں سے پروٹیکٹ کرئے گا
حیاء بس کرو باتیں مجھے لگ رہا ہے بخار تم پر کچھ زیادہ ہی اثر کر گیا ہے اُٹھو شاباش یہ دوائی کھاؤ اور پھر آرام کرو کل یونیورسٹی بھی جانا ہے وہ اس کی باتوں کو گول کر کے اسے دوائی کھلاتے ہوئے بولیں تھیں
اماں جانی ٹھیک ہے دوائی کھا لو گی پر کل نہیں جا رہیں میں یونیورسٹی پلیز وہ منہ بسور کر دوائی کھاتے ہوئے بولتی ان کو ہنسنے پر مجبور کر گئی تھی
ٹھیک ہے مت جانا وہ اسے دوبارا بستر پر لیٹ کر اس پر کمبل دیتے ہوئے اس کے ماتھے پر ہاتھ رکھ کر بجار چیک کر کے اسے سوتے ہوئے دیکھ کر باہر نکل گئیں تھیں
ایسا تو کبھی بھی نہیں بولتی پتہ نہیں اس لڑکی کو کیا ہو گیا ہے آج کل حیا کی باتیں نورین کو پریشان کر رہیں تھیں
مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہی کیا کروں میں اللہ پلیز مجھے کوئی راستہ دیکھ دیں میری بچیوں کی حفاظت کریں وہ اللہ سے دل میں مخاتب تھیں
❤️❤️❤️❤️❤️
پری آج کالج جانے کو کوئی ارادہ نہیں ہے کیا زینی نے صبح صبح پری کو گھر میں گھومتے ہوئے دیکھ کر پوچھا تھا
نہیں آپو آج سے کالج سے چھٹیاں آج ہم آپ کو ہلدی لگائے گئے اور آج ڈھولکی بھی رکھیں گے مزہ آیا گا بہت پری خوش ہوتے ہوئے بولی تھی
ہم تم تو سارے پروگرام بنا کر بیٹھی ہوئی ہو مس پری زینی کیچن میں کھڑی خود کے لیے چائے بنا رہیں تھی
اپ کے سر میں درد ہو رہا ہے کیا وہ زینی کو اپنا سر دباتے ہوئے دیکھ کر بولی تھی
ہاں پتہ نہیں کچھ دنوں سے بہت زیادہ ہیڈاک شروع ہو گئی ہے جا ہی نہیں رہیں زینی سر پر ہاتھ رکھ بولی تھی
شادی تو سر پر ہے اس کی پریشانی ہو گی علیشہ شاہ جو کیچن میں کھڑی تھیں زینی کے ساتھ وہ بولیں
نہیں چچی ایسی بات نہیں ہے بس ویسے ہی وہ منہ نیچے کیے لب دانتوں سے دباتے ہوئے بولی تھی
کوئی بات نہیں بچے تم جاؤں آرام کرو میں چائے تمہارے کمرے میں بھیجوں دیتی ہوں وہ اسے کیچن سے باہر بجھتے ہوئے بولیں تھی
علیشہ شاہ بہت نرم دل اور ملن سار عورت تھیں پر دوسری طرف ان کے دونوں بچے زیدی اور اپنی ہر بات منوانے والے تھے
پری بھی زینی کے ساتھ اس کے کمرے میں چلی گئی تھی
زینی آپو آپ لیٹو میں آپ کا سر دبا دیتی ہوں وہ اسے پیار سے بولی تھی
زینی اس کی بات پر مسکرا دی تھی پر سر دبانے کے لیے نہ کر دیا تھا جاو شاباش تیاری کرو رات کی جا وہ اس کے گال تھپتھپا کر بولی تھی
پری بھی ان کو مسکراتے ہوئے دیکھ کر باہر نکل گئی تھی
تبریز آپ کی بے روحی مجھے پاگل کر رہیں ہیں کیسے برداشت کرؤں گی میں سب وہ بیڈ پر بیٹھتے ہوئے سر کو ہاتھوں میں گر کر بولی تھی
کیوں خود سے بےگانہ کر دیا ہے مجھے میں تو آپ کی محبت تھی نہ تو پھر کیوں ہمارے رشتے میں غلط فہمیاں پیدا ہو گئی ہیں وہ سوچتے ہوئے دل میں تبریز سے بول رہی تھی
میں خبہ کو تو معاف کر سکتی ہوں پر آپ کو کبھی نہیں جتنی میں ازیت میں ہوں اس وقت وہ آپ سوچ بھی نہیں سکتے
خود سے بولتے ہوئے اپنی آنکھوں میں آئے آنسو کو ہاتھ کی پشت سے صاف کرنے لگی
❤️❤️❤️❤️
ہیلو حیاء کہاں ہو میں کب سے تمہارا انتظار کر رہیں ہوں آج آئی کیوں نہیں ہو
زوحا کلاس میں بیٹھی حیاء کا انتظار کر رہی تھیں پر وہ ابھی تک نہیں آئی اسی لیے اب اسے فون کر کے پوچھ رہی تھی
کیوں ایک دن میں ایسا کیا ہو گیا کے تمہیں بخار ہو گیا حیاء جھوٹ مت بولو سچی سچی بتاؤ کیوں نہیں آئی حیاء کا جواب سن کر زوحا اس سے بولی تھی پیچھے بیٹھا انس حیاء کا نام سن کر پوری طرح سے اس کی باتوں پر متوجہ تھا
اچھا ٹھیک ہے پھر تم اپنا دھیان رکھنا میں کل تمہیں لینے آؤں گی اور تمہیں کل پارٹی میں ضرور آنا ہے سمجھی کل کوئی بھانہ نہیں چلے گا
ہاہاہاہاہا زوحا حیاء کی بات سن کر ہنستے ہوئے فون بند کر گئیں تھی
حیاء کیوں نہیں آئی امن شاہ تجسس کے ہاتھوں مجبور ہو کر زوحا سے پوچھنے لگا
اس کی طبیعت نہیں ٹھیک اسی وجہ سے آج نہیں آئی کیوں آپ کو کیا مسئلہ ہے زوحا اسے جواب دیتے ہوئے آئی بروز اُٹھ کر بولی تھی
مجھے کیا مسئلہ ہو گا بس ویسے ہی پوچھا ہے کلاس فیلو ہے میری اسی لیے وہ اسے جواب دیتے ہوئے واپس اپنی جگہ پر مڑ گیا تھا
امن شاہ کو دیکھ کر انس کے چہرے پر ایک کمینی سی مسکراہٹ آئی تھی پر وہ جلد ہی اسے چپا گیا تھا
تم کیا جانو امن شاہ وہ اب تمہیں کبھی بھی نہیں مل سکتی وہ سوچتے ہوئے امن کی طرف دیکھ رہا تھا جو بے چین سا لگ رہا تھا
وہ ہو تو میری جاناں کی طبیعت خراب ہو گئی ہے لگتا ہے دیدار کرنے جانا ہی پڑھے گا بہت جلد آ رہا ہے تمھارے پاس انس شاہ وہ حیاء کو سوچتے ہوئے اس کو میسج کرنے لگا
پھر کچھ سوچتے ہوئے موبائل پھر سے جیب میں رکھ لیا
❤️❤️❤️❤️❤️
آج فریحہ اکیلے ہی کالج آئی تھی آج پری نے کالج سے چھٹی کی تھی اسی لئے وہ اکیلے ہی بے زار اور بور ہوتے ہوئے سارے لیکچر لے رہی تھی
یہ کس کا فون ہے فریحہ اپنے موبائل پر کسی انجانے نمبر سے کال آتے دیکھا کر بولی تھی
ہیلو اسلام وعلیکم فریحہ کے بولنے پر مقابل کے چہرے پر مسکراہٹ آئی تھی
وعلیکم السلام کیسی ہیں آپ مس فریحہ دوسری طرف کی آواز سن کر فریحہ کے ماتھے پر غصے سے بل پڑھے تھے
آپ آپ نے کیوں کال کی ہے مجھے فریحہ خود کے غصے کو کنٹرول کر کے بولی تھی
زہنصیب آپ مجھے میری آواز سے پہچان گئیں ہیں
دوسری طرف کی بات سن کر فریحہ نے غصے سے لب بیچے تھے پر بولی کچھ نہیں تھی
میں بس یہ کہنا چاہتا ہوں کہ مجھے آپ سے ملنا ہے آج تھوڑی دیر تک میں پہچ رہا ہوں آپ کے کالج کے باہر آپ مجھے باہر ملیے حاضر کی بات سن کر فریحہ کا دل کیا وہ اس کے سامنے آئے تو وہ اس کا منہ توڑ دے
پر مجھے آپ سے ملنے میں کوئی دلچسپی نہیں ہے سو اس لیے مجھ سے دور رہیں تو آپ کے لیے اچھا ہو گا سمجھے آپ وہ غصے سے بولتے ہوئے فون رکھ چکی تھی
حاضر کی کال پھر سے آنے لگی تھی پر فریحہ نے فون بند کر دیا
ہہ سمجھ کیا رکھا ہے مجھے میں ملوں گی اس سے غصے سے بولتے ہوئے اپنی کلاس کی طرف چلی گئی تھی
ڈیم ٹھیک ہے مت ملو میں خود ہی مل لوں گا تمہیں بہت اکڑا رہیں ہو نہ تم خود سیدھا کروں گا تمہیں میں وہ غصے سے سٹرانگ پر ہاتھ مار کر بولا تھا
ان تم نے میرے غصے کو خود ہی ہوا دی ہے مس فریحہ اب انجام کے لیے بھی تیار رہنا اس کی آنکھیں لال انگارا ہو رہیں تھیں غصے کی وجہ سے
وہ خود کے سر کو سیٹ کی پشت پر رکھ کر خود کو ریلکس کرنے کی کوشش کر رہا تھ
