Rate this Novel
Episode 30
یار پری اتنی زیادہ مہندی لگا دی ہے سب ہاتھ ہی بھر دیے ہیں فریحہ کے دونوں ہاتھوں پر پری نے مہندی لگوائی تھی اسی لئے فریحہ مہندی کو دیکھ کر بولی تھی
وہ دیکھو زویا کیسے خوشی خوشی لگوا رہی ہے تم بھی چپ کر جاؤں پری اسے گھور کر بولی تھی پری کے خود کے دونوں ہاتھوں اور پاؤں پر مہندی لگی ہوئی تھی
یار ٹھیک ہے اب تو تھوڑی سوکھ بھی گئی ہے میں سونے جا رہیں ہوں تمہارے کمرے میں ابھی سب موجود ہیں میں اپنے روم میں جا رہیں ہوں وہ اسے بولتے ہوئے اپنے روم کی طرف چلی گئی تھی
اف اب لیٹوں کیسے دونوں ہاتھوں میں تو مہندی ہے اوپر کیسے لوں گی کمبل فریحہ پور سوچ انداز میں خود سے ہی بولی تھی
چلو آج مینج کر لیتی ہوں وہ بیڈ پر لیٹتے ہوئے پاؤں سے ہی کہنچ کر الٹا سیدھا کمبل اپنے اوپر کے کر ہاتھوں کو باہر کی جانب کر کے لیٹ گئی تھی لیٹتے ہی نیند اس پر مہربان ہو گئی تھی
حاضر لیٹ گے رات کو آیا تھا وہ بھی دادا شاہ کے حکم سے کیوں کے شادی کے انتظامات بھی اسے سب کے ساتھ مل کر دیکھنے تھے
وہ فریحہ کی وجہ سے نہیں آ رہا تھا پر اب دادا کی وجہ سے اور شادی کی وجہ سے آیا تھا پر جو بھی تھا فریحہ کی یاد بھی دل کو ستا رہی تھی اس کی ایک جھلک دیکھنے کو دل کر رہا تھا جس نے خود بھی دوبارہ حاضر سے رابطہ نہیں کیا تھا
حاضر مردان سے ہوتے ہوئے اپنے کمرے میں آیا تھا پری کے کمرے سے لڑکیوں کی ہنسنے کی آوازیں آ رہین تھی
یقین فریحہ بھی یہی ہو گی وہ ٹھنڈی سانس ہوا کے سپرد کر کے اپنے دل پر پھتر رکھ کر آگے اپنے روم کی طرف بڑھ گیا تھا
تھکا تھکا سا روم میں داخل ہوا تو سامنے فریحہ کو لیٹے پایا تھا جس کا ایک ہاتھ بیڈ سے نیچے لیٹک رہا تھا اور آدھے بال بیڈ پر اور آدھے اس کے چہرے پر بھکرے ہوئے تھے
حاضر اسے ٹرانس کی کیفیت میں دیکھتے ہوئے آگے اس کی طرف بڑھنے لگا تھا بیڈ پر اسے کے پاس جا کر بیٹھ گیا تھا
کیوں ہمیشہ میرا دل کو بہکنے پر مجبور کر دیتی ہو جاناں وہ اسے کے چہرے پر سے بال پیچھے کرتے ہوئے اس کے چہرے کو دیکھتے ہوئے بولا تھا
بے خودی میں ہی اپنا وعدہ بھولتے ہوئے اس کے ہونٹوں پر جھک گیا تھا ان پر اپنا پیار نچور کرتے ہوئے آہستہ سے پیچھے ہوا تھا کہ فریحہ کی آنکھیں نہ کھل جائیں
پاگل کر دو گی تم مجھے مجھے اب مت آزمائش میں ڈالنا فریحہ اب بس جلدی ہی میری بن جانا وہ اسے کے ماتھے پر پیار دے کر خود کو کنٹرول کرتے ہوئے تھکاوٹ کے باوجود باہر بالکنی میں چلا گیا تھا
❤️❤️❤️❤️
پری مہندی لگوا کر اسے دیکھ رہی تھی آنکھوں میں نمی لیے مسکرا دی تھی
سب اس کے کمرے میں بیٹھے ہوئے تھے وہ وہاں سے اُٹھ کر اوپر چھت پر چلی گئی تھی دیوار سے ٹیک لگائے آدھے چاند کو دیکھ رہی تھی آنکھوں سے آنسو نکل رہیے تھے
کل میں کسی اور کے نام ہو جاؤں گی وہ سارے وعدے دعوے جھوٹے نکلے عالی شاہ تمہارے وہ طنزیہ لہجے میں خود ہی سے بولی تھی
یہ مہندی تمہارے نام کی لگانے کا سوچا تھا میں نے پر
ہم ضروری تھوڑی ہے ہر خواہش پوری ہو وہ ٹھنڈی سانس لیتے ہوئے بولی تھی آنکھوں کو بند کیے کافی دیر سے کھڑی تھی آنسو آنکھوں سے بہہ رہے تھی
اپنے پاس ایک جانی پہچانیں خوشبو محسوس کر کے پری نے بے اختیار ہی اپنے لب دانتوں تلے دبائے تھے
انہیں تکلیف مت دو ان پر میرا حق ہے وہ اس کے ہونٹوں کو دانتوں سے آزاد کرتے ہوئے بولا تھا
پری نے پٹ سے آنکھوں کو کھولا تھا اور بھی پیچھے ہونا چاہا تھا پر پیچھے دیوار تھی عالی اس کے بالکل پاس کھڑا تھا اتنے پاس کے اس کی سانسیں پری کو اپنے چہرے پر محسوس ہو رہی تھی
پلیز عالی پیچھے ہٹ جائیں مجھے جانا ہے نیچے وہ اسے بولی تھی کیونکہ اس کے ہاتھوں پر مہندی ابھی تازہ لگی ہوئی تھی
اگر نہ ہٹوں تو عالی اس کے اور بھی قریب جاتے ہوئے بولا تھا اتنا قریب کے پری کو اپنا سانس لینا بھی محال لگ رہا تھا
میں کسی اور کی امانت ہوں عالی میرے قریب مت آئیں میں کل کسی اور کے نام ہو جاؤں گی یہ مہندی کسی اور کے نام کی ہے یہ سانس سب کچھ ختہ کے میں بھی کسی اور کی ہونے والی ہوں کوئی حق نہیں ہے آپ کا مجھ پر
اسی لئے جتنا ہو سکے آپ مجھ سے دور رہیں ویسے بھی آپ کی بھی تو پری آنے والی ہے پھر کیوں آتے ہیں میرے پاس میرے قریب وہ گہرے گہرے سانس لے کر اس پر چلائی تھی
تم صرف عالی شاہ کی ہو صرف عالی شاہ کی تمہاری مہندی تمہاری سانسیں ختہ کے تم بھی صرف اور صرف عالی شاہ کی ہو میں یہ دینا تباہ کر دوں گا اگر تم کو کسی نے مجھ سے چھینا تو اگر تم سوچ رہی ہو کے میں ایسا کچھ کہوں گا تو تم غلط ہو عالی دل جلانے والی مسکراہٹ کے ساتھ اس سے پیچھے ہو تھا
دور پیچھے ریلنگ کے ساتھ لگ کر بیٹھ گیا تھا مسکراتے ہوئے پری کو دیکھ تھا جس کی آنکھوں میں اسے قرب دکھائی دیا تھا
وہ اسے ایک قرب سے دیکھتے ہوئے جانے لگی تھی
میری بات سن کر جاو وہ پیچھے سے اسے آواز دے کر بولا تھا
میری پری کو تم تیار کرو گی ہمارے نکاح والے دن اور یہ میں بول نہیں رہا حکم دے رہا ہوں وہ اس کے کندھے کے پاس اپنا چہرا کیے اس کے کان کے بالکل قریب جا کر بولا تھا
پری نے اپنے لب بیچتے ہوئے وہاں سے دوڑ لگا دی تھی
عالی اسے روتے ہوئے جاتے دیکھ کر مسکرایا تھا
پتہ نہیں تم کیا کرو گی جب تم کو پتہ چلے گا میرے اور اپنے رشتے کا وہ سر پر ہاتھ مارتے ہوئے وہاں کھڑا باہر کا منظر دیکھنے لگا تھا
❤️❤️❤️❤️❤️
یہ دیکھیں کتنی اچھی لگی ہے نہ مہندی زینی کمرے میں آ کر اپنے ہاتھوں کو تبریز کے آگے کر کے بولی تھی
ہاں بہت پیاری ہے وہ اس کے چہرے کی طرف دیکھ کر بولا تھا جو سادگی میں بھی خوبصورت لگ رہی تھی
چہرے پر بال بکھر ہوئے تھے
تبریز ۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ چیخیں تھی جو اس کی مہندی دیکھنے کے بجائے اس کے چہرے کی طرف دیکھ رہا تھا
کیا یار کیا کروں میری نظر تمہارے چہرے سے نہیں ہٹ رہی وہ اسے اپنے پاس کر کے بولا تھا
لاؤ تمہاری مہندی میں اپنے ہونٹوں سے چوم لوں تبریز اس کے ہاتھ پکڑ کر بولتا اس کے ہاتھوں پر اپنے لب رکھ چکا تھا
ہاہاہاہاہا سو سوئٹ تبریز زینی کھلکھلا کر ہنسی تھی
جی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تبریز نو چھوڑیں مجھے میری مہندی خراب ہو جائے گی
تبریز اسے اپنی طرف کھینچتے ہوئے اس پر جھک کر اس کے لبوں کو قید کر چکا تھا زینی اپنے مہندی والے ہاتھوں اس کے سینے پر رکھ کر اسے پیچھے دھکیلنے لگی تھی
اب کیا بولو گی وہ پیچھے ہوتے ہوئے بولا تھا جو گہرے سانس لیتے ہوئے اسے گھوری سے نواز رہی تھی
پیچھے ہوجائے تبریز آپ کی وجہ سے میری مہندی خراب ہو گئی وہ اس کے سامنے اپنے ہاتھوں کو لہر کر رونی شکل بنا کر بولی تھی
چلو مہندی تو گئی کام سے اب تم بچو مجھ سے وہ اس کی گردن پر لب رکھ چکا تھا
تبریز پلیز ۔۔۔۔ وہ اس کے ہونٹوں کو اپنی گردن پر محسوس کرتے ہوئے کانپتے لہجے میں بولی تھی
جی جانِ تبریز بہت مشکلات سے ملی ہو تمہیں مجھے اب ایسے کیسے جانے دو وہ اپنا چہرہ اوپر اُٹھ کر اس کے ہونٹوں کو چھو کر بولا تھا
میں آپ سے ناراض ہوں آپ نے مہندی خراب کر دی میری اسی لیے آج نو رومانس چلیے پیچھے ہٹ جائیں مجھے سونا ہے وہ اسے دھکا دے کر بولی تھی
ہاہاہاہاہا واہ آپ بولو گی تو میں مان جاؤں گا آپ کو ایسا کیوں لگتا ہے وہ اس کی گردن پر جھکا تھا
تبریز
You hurting me
زینی اپنی گردن پر جلن محسوس کرتے ہوئے چلا کر بولی تھی
اس کو ہرٹ کرنا نہیں پیار کرنا بولتے ہیں وہ مسکراتے ہوئے زینی کی ہر بات کو اگنور کرتے ہوئے اسے اپنے قابو میں کر چکا تھا
زینی بھی اس کی محبت میں اپنا آپ اسے سونپ گئی تھی
❤️❤️❤️❤️❤️
زوحا وہ ڈاکٹر تمہارے جاننے والی ہے نہ حیاء زوحا سے گاڑی چلاتے ہوئے بولی تھی
ہاں جی میری جاننے والی ہے میری آپو کی دوست کی بہن ہے تم فکر مت کرو سب ٹھیک ہو گا اور مجھے تو لگتا ہے خوشخبری ہے زوحا خوش ہوتے ہوئے بولی تھی
اسی بات کا تو ڈر ہے زوحا وہ ڈرتے ہوئے بولی تھی
کیوں اس بات کا کیوں ڈر ہے تمہیں تو خوش ہونا چاہیے کہ تمہاری زندگی مکمل ہونے والی ہے فیملی مکمل ہو جائے گی ایک چھوٹا سا انس یا پھر حیاء آئے گی
زوحا کی بات سے حیاء نے اس کی طرف دیکھا تھا
مجھے کوئی حیاء نہیں چاہتے حیاء سپاٹ لہجے میں بولی تھی
زوحا نے خیران ہو کر اسے دیکھا تھا
حیاء کو کافی دن سے اپنی طبیعت ٹھیک نہیں لگ رہی تھی اور چیک کرنے پر جو خبر اسے ملی تھی اس نے حیاء کو ہلا کر رکھا دیا تھا
اسی لئے اب سہی طرح سے کنفرم کروانے کے لیے زوحا کے ساتھ ڈاکٹر کے پاس جا رہی تھی
ڈاکٹر سے چیک کروانے کے بعد اب وہ بیٹھی ڈاکٹر کے آنے کا انتظار کر رہی تھی
ڈاکٹر مسکراہٹ کے ساتھ آئی تھی اور ہاتھ میں پکڑا الٹرسائونڈ کے پیپر کو اپنی ڈسکرپشن کے ساتھ اٹیچ کرنے لگی تھی
مبارک ہو آپ کے ٹونز ہیں ڈاکٹر کے بولنے پر حیاء کی آنکھیں پوری طرح کھل گئیں تھی
جو ایک سے بچنا چاہ رہی تھی سوچ کر ہی اسے سانس لینا محال ہو رہا تھا
زوحا نے زور سے چیخ ماری تھی سچی آپو وہ ڈاکٹر سے مسکرا کر بولی تھی
جی جی بالکل سچ ہے پر حیاء آپ کو بہت زیادہ احتیاط اور کئیر کی ضرورت ہے ٹھیک خوراک رکھنی ہوگی آپ کو ورنہ آپ کی جان کو بھی خطرہ ہو سکتا ہے
دو بےبی کئیری کرنا مشکل ہوتا ہے اور ویسے بھی تم کافی ویک ہو اسی لیے وہ اسے دوائی لکھ کر دیتے ہوئے بولی تھی
زوحا کی مسکراہٹ اندر ہی نہیں تھی جا رہی حیاء شاک سی بس ہوں ہاں میں جواب دے رہی تھی
کیا انس مان جائے گا یہ اس کے ۔۔۔۔۔۔۔ حیاء سوچتے ہوئے پریشان تھی
اس نے تو اس دن کے بعد مڑ کر میری طرف نہیں دیکھا حیاء سوچتے ہوئے ان سے سلام لیتے ہوئے باہر نکل آئی تھی
حیاء پلیز سب الٹی پلٹی سوچوں کو ختم کر دو اور خوش رہو ورنہ تم نے سنا نہ ڈاکٹر نے کیا کہا کے تمہیں کیر کی ضرورت ہے
پلیز زوحا اس وقت اس بارے میں کسی سے بات مت کرنا اوکے وہ اسے سمجھاتے ہوئے بولی تھی
ٹھیک ہے پہلے تم انس سے بات کر لو باقی سب تو ویسے بھی ٹھیک ہے اور انس بھی خوشی سے پاگل ہو جائے گا اس جیسے دو نمونے آنے والے ہیں وہ خوش ہوتے ہوئے بول رہی تھی
چلو چلیں گھر وہ اسے بولتے ہوئے گاڑی میں سوار ہو کر نکل گئیں تھی
حیاء اسے گھر چھوڑ کر خود بھی گھر آئی. تھی اور چپ چاپ سیدھا اپنے کمرے میں چلی گئی تھی
انس مان جائے گا یہ اس کا بچہ ہے
یا روحان اور بابا کی طرح مجھے بدکردار بول دے گا
اگر کوئی لڑکیاں ہو گئیں تو کیا وہ حیاء بن جائیں گی انس کے دھتکار نے پر وہ روتے ہوئے دیوار سے لگی سوچ رہی تھی
مہینہ ہو چکا تھا اسے مختلف سوچوں اور وسوسوں کو پالے ہوئے
اور اب نئی چیز اسے پریشان کرنے لگی تھی
وہ رو رہی تھی بے آواز آنسو سے
میں کیا کروں میرے اللہ کوئی رستہ دے دو مجھے وہ اپنے پیٹ پر ہاتھ رکھ کر روتے ہوئے بولی تھی
❤️❤️❤️❤️
انس کہا ہو تم ابھی تک خویلی کیوں نہیں آئے کیا تماشا لگایا ہوا ہے تم نے آج تمہاری بہن کی شادی شروع ہو رہی ہے اور تم علیشہ شاہ انس کو فون کر کے بول رہی تھی
جی ماما آج آ جاؤں گا آپ فکر مت کریں شام تک وہی موجود ملوں گا انس بے زار سا بولا تھا
انس پر حیاء ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ابھی وہ کچھ بول ہی رہیں تھی کہ انس نے فون بند کر دیا
اب یہ لڑکا پتہ نہیں کیا کر رہا ہے بس حیاء کو لے کر آ جائے
خبہ ایسے کیوں بیٹھی ہوئی ہو کچھ تیاریاں کرو اپنی رات کو مہندی اور نکاح ہے کل رخصتی ہے کیا ہے یہ سب وہ اب خبہ کے پاس کھڑی اسے بول رہی تھی جو بستر میں گھوس کر لیٹی ہوئی تھی
ماما وہ علیشہ کو دیکھ کر ان کے گلے لگ گئی تھی
ماما مجھے بہت ڈر لگ رہا ہے یہ سب کیسے ہو گا مجھے سے نہیں ہو پائے گا ماما وہ روتے ہوئے علیشہ سے بول رہی تھی
خبہ بچے روتے نہیں ہیں میری جان سب ٹھیک ہو جائے گا وقت لگے گا آہستہ آہستہ بس تم نے واجب کے مطابق خود کو ڈال لینا ہے اوکے میری جان وہ اسے سمجھا رہیں تھی
جس کو اس نے روتے ہوئے سر ہلا کر سنا تھا
چلو تیاری کرو شاباش پالر والی بھی آنے والی ہے اس نے سب کو تیار کرنا ہے یہ کپڑے تمہاری الماری میں ہیں
اللہ میری بیٹی کو بہت سی خوشیاں دے وہ اس کے ماتھے پر پیار کرتے ہوئے بولی تھی
اس کے گال تھپتھپا کر باہر نکل گئیں تھی
خبہ ان کے جانے کے بعد پھیکا سا مسکرا دی تھی واجب کے رویہ کی وجہ سے کافی پریشان تھی
اپنی الماری کی طرف بڑھی تھی
اپنے رات کو پہنے والے کپڑے دیکھ رہی تھی آنکھوں میں آنسو بھر آئے تھے
تب ہی روم میں تبریز اور زینی آئیے تھے اس نے آہٹ سے پیچھے مڑ کر دیکھا تھا ان دونوں کو دیکھ کر جلدی سے اپنی ہتھیلی سے آنکھوں میں آئی نمی کو صاف کیا تھا
پلیز زینی تبریز مجھے معاف کر دیں وہ ان دونوں کے آگے ہاتھ جوڑ کر بولی تھی
خبہ میں نے تمہیں پہلے بھی بولا تھا میں تمہیں معاف کر چکی ہوں وہ اسے اپنے ساتھ لگا کر بولی تھی
تبریز نے بھی اس کی طرف. دیکھا تھا اور اس کے سر پر ہاتھ رکھ کر مسکراتے ہوئے ان دونوں کو اکیلا چھوڑ کر باہر نکل گیا تھا
زینی تبریز صرف میری اٹریکشن اور ضد تھی اور کچھ نہیں میں نے تم سے حسد میں یہ سب کر دیا معاف کر دینا مجھے اور ہوسکے تو میرے لیے دعا بھی کرنا
میری جان ضرور اللہ تمہیں خوش رکھے واجب کو تمہارے حق میں بہتر کرئے
تبریز کو بھی اسی لیے لے کر آئی تھی کیونکہ کے تم اپنے دل میں کوئی بھوج نہ رکھو اور اپنی نئی زندگی میں خوش رہو وہ اسے اپنے ساتھ لگا کر بولی تھی
دونوں مسکرا دی تھی
چلوں اب خوشی خوشی سب چیزیں کی تیاریاں کرو باقی پیچھلی سب باتیں بھول جاؤ اوکے وہ اس کے گال تھپتھپا کر بولتے ہوئے باہر نکل گئی تھی
شکر ہے ایک بھوج تو دل سے اتر گیا خبہ نے سکون کا سانس لیا تھا
شکریہ اللہ جی باقی سب بھی ٹھیک کر دیں وہ دعا کے انداز میں بولی تھی اور مسکرا دی تھی
❤️❤️❤️❤️
فریحہ پری کے روم میں ہی تھی آج ناشتہ پر نیچے نہیں گئی تھی اسی لئے اسے معلوم نہ ہوا کے حاضر بھی آیا ہے
کیا بات ہے فریحہ تم پریشان ہو پری اس دیکھ کر بولی تھی جو بیڈ پر لیٹی ہوئی اوپر پنکھے کو گھور رہی تھی جیسے کسی سوچ میں گم ہو
تمہارے لالہ نہیں آئیں گے تمہاری شادی پر اس نے پری کو جواب دینے کی بجائے اس سے سوال کیا تھا فریحہ کی آواز سن کر باہر سے گزرتے ہوئے حاضر کے قدم روک گیے تھے
وہ ہو تو لالہ کی یاد آ رہی ہے میری بھابھی کو پری اسے تنگ کرتے ہوئے بولی تھی
ہاں آ رہی ہے یاد اور بہت زیادہ آ رہی ہے پر مجھے لگتا ہے وہ تو جیسے مجھے بھول گئے ہوں وہ نم لہجے میں اوپر دیکھتے ہوئے بولی تھی
باہر کھڑے حاضر کو لگا تھا جیسے اس کے دل کو سکون ملا ہو اس کے ہونٹوں پر مسکراہٹ آ گئی تھی
فریحہ رو تو مت میری جان وہ تو نہیں یاد کر رہیے تو تم ہی ان کو کال کر لو پری اس کے پاس بیٹھ کر اس کے آنسو کو صاف کرتے ہوئے بولی تھی
نہیں جب انہیں میری پرواہ نہیں ہے تو میں بھی ان سے کوئی رابطہ نہیں کرنے والی وہ خوش ہیں میرے بغیر تو خوش رہیں میری بلا سے وہ اپنی ہتھیلی سے آنسو صاف کر کے رح دوسری طرف موڑ گئی تھی
حاضر اس کی بات سن کر اندر آیا تھا پری حاضر کو دیکھ کر کھل کر مسکرائی تھی
حاضر نے اپنے ہونٹوں پر انگلی رکھ کر اسے چپ رہنے کا کہا تھا
پری مسکراہٹ کے ساتھ حاضر کے گلے لگنے کے بعد خاموش سے باہر چلی گئی تھی
حاضر چلتے ہوئے فریحہ کے پاس آیا تھا جو دوسری طرف رح کیے لیٹی ہوئی تھی
مت کرو پری پلیز حاضر اس کے چہرے پر آئے بالوں کو پیچھے کرتے ہوئے اس کی گردن پر اپنی ہتھیلی رکھ گیا تھا
فریحہ کو جانیں پہچانیں خوشبو محسوس ہوئی تو اپنی گردن پر رکھے ہاتھ پر اس نے ہاتھ رکھ تھا اور جلدی سے مڑ کر اس طرف دیکھ تھا جہاں حاضر اسے مسکراہٹ کے ساتھ دیکھ رہا تھا
آ۔۔۔۔۔۔۔آپ ۔۔۔۔۔۔۔آپ ۔۔۔۔۔کب آئیے وہ اٹکتے ہوئے اُٹھ کر بیٹھی تھی
میں تب آیا جب میری بیوی مجھے شدت سے یاد کر رہی تھی وہ اسے اپنی طرف کھینچتے ہوئے کھڑے کر کے اس اپنے قریب کرتے ہوئے بولا تھا
بہت یاد آ رہا تھا میں وہ اس کی گردن میں منہ دیے بولا تھا
فریحہ کو اپنی ٹانگوں میں سے جان نکلتی محسوس ہو رہی تھی
فریحہ میں نے بہت مس کیا تمہیں روز تمہارے فون کا انتظار کرتا تھا کے شاید آج آ جائے پر تم نے ایک دفع بھی مجھ پر رحم نہیں کیا وہ اپنے لمس اس کی گردن پر چھوڑتے ہوئے بولا تھا
حاضر پلیز وہ اس کی شرٹ کو مٹھیوں میں دبوچ کر بولی تھی
ابھی بھی فریحہ تم مجھ سے دور جانا چاہتی ہو وہ اس کے چہرے پر دونوں ہاتھ رکھ کر بولا تھا
اس کی بات سے فریحہ نے اپنی نظریں نیچے کر لی تھی اور لب چبانے لگ پڑھی تھی
فریحہ مجھے جواب چاہیے تم سے وہ چلایا تھا
فریحہ ڈر سے آنکھوں کو بند کیے اس سے پیچھے ہونے کی کوشش کرنے لگی تھی جو حاضر کی گرفت نے ناکام بنا دی تھا
اوکے تمہاری مرضی وہ اسے چھوڑتے ہوئے پیچھے ہوا تھا
آنکھیں غصے سے لال ہونے لگیں تھی وہی آنکھیں جو کچھ دیر پہلے مسکرا رہیں تھی اب ان میں غصہ تھا وہ فریحہ کی طرف دیکھتے ہوئے الٹے قدموں سے پیچھے ہوا تھا
فریحہ نے آنکھیں اَٹھا کر اس کی طرف دیکھا تھا جو اس کی طرف دیکھتے ہوئے پیچھے کی طرف جانے لگا تھا مڑ کر کمرے سے باہر نکلتا
مت جائیں حاضر وہ دورتے ہوئے آئی تھی پیچھے سے اسے ہگ کر لیا تھا
حاضر اپنے گرد اس کے حصار کو محسوس کر کے مسکرا دیا تھا
حاضر نے اس کے ہاتھ کو پکڑ کر اسے اپنے سامنے کیا تھا دروازے کے ساتھ پن کرتے ہوئے اس کے ہونٹوں کو اپنی دسترس میں لے لیا تھا اس دفع فریحہ نے کوئی مزاحمت نہیں کی تھی
وہ جانتی تھی اس دفع اس کی کی گئی ایک بھی مزحمت اسے حاضر سے دور کر دے گی
گوڈ گرل وہ اسے مسکرا کر چھوڑتے اس کی گال کو سہلاتے ہوئے بولا تھا
فریحہ لب بیچے نظروں کو نیچے کیے ہوئے تھی
میری طرف دیکھو فریحہ وہ اس کے بالوں میں ہاتھ ڈال کر اس کا چہرہ اوپر کرتے ہوئے بولا تھا پر اس کی نظریں نیچے دیکھ کر حاضر بولا تھا
اس کے لبوں کو اپنے انگوٹھے سے آزاد کرواتے ہوئے نہ میں سر ہلایا تھا
حاضر پلیز وہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
فریحہ میری جان دیکھوں میری طرف وہ اس کے دھکتے ہوئے سرخ گال دیکھ کر مسکراتے ہوئے بولا تھا جو کنفیوز ہوتے ہوئے آنکھوں کو اوپر نہیں اُٹھا رہی تھی
اب مجھے جاننا ہے
Do you love me
Or no
میری آنکھوں میں دیکھ کر بولو فریحہ وہ اس کے آنکھیں اوپر اُٹھ کر اسے دیکھنے پر بولا تھا حاضر کی بات سن کر اس نے نظریں پھر سے نیچے کر لیں تھی
Yes I……….l..o..ve…you
فریحہ ڈرتے ہوئے اس سے بولی تھی
میری جان تم نے آج مجھے میری زندگی کی سب سے بڑی خوشی دے دی ہے وہ اسے اپنے گلے لگا کر بولا تھا فریحہ بھی اس کے گلے لگ کر مسکرا دی تھی
وہ اس کے بالوں پر لب رکھ گیا تھا
