Rate this Novel
Episode 27
احد ناشتہ لے کر کمرے میں آیا تھا سامنے زویا کو دیکھ کر مسکرا دیا تھا جو منہ بنا کر بیٹھی ہوئی تھی
چلو ادھر آؤ ناشتہ کر لو ٹھنڈا ہو جائے گا وہ اسے اپنے پاس آنے کا اشارہ کرتے ہوئے بولا تھا
زویا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میں کچھ بول رہا ہوں تم سن نہیں رہی وہ غصے سے آئبرو اُٹھا کر بولا تھا
نہیں میں نہیں سن رہی میں ناراض ہوں مجھے نہیں کرنا ناشتہ وہ منہ پھولا کر بولتے ہوئے بیڈ پر لیٹ گئی تھی اور اپنے اوپر کمبل لے لیا تھا
کیا مسئلہ ہے ناراضگی کی وجہ وہ اس کے اوپر سے کمبل اتار کر نیچے پھینکتے ہوئے اس پر جھک کر بولا تھا
پیچھے ہو۔۔ جائیں۔۔۔. میں۔۔۔۔۔میں ناشتہ کر لوں وہ گھبراتے ہوئے بولی تھی
اب تو تب ہی پیچھے ہٹوں گا جب ناراضگی کی وجہ پتہ چلے گی مجھے وہ اس کے اور بھی قریب جھکے تکیے پر ہاتھ رکھ کر اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بولا تھا
آپ ایسا کریں گے تو بالکل نہیں بتاؤں گی وہ منہ بنا کر بولی تھی اور اسے پیچھے دھکیلنے کی کوشش کی تھی جو احد نے ناکام بنا دی تھی
ناشتہ ٹھنڈا ہو جائے گا اور پھر میں نہیں کھاؤں گی پھر آپ کو دوبارہ بنا کر لے کر آنا پڑھے گا
ہاہاہاہاہا اوکے جاناں اب ناراض ہونے کا مت بولنا وہ اس کے ماتھے پر پیار دے کر بولا تھا اور اسے اٹھا کر صوفے پر بیٹھایا تھا
پھر اپنے ہاتھوں سے کھلانے لگا
واہ آج تو بڑا پیار آ رہا ہے کبھی ناراضگی کبھی پیار زویا نے بھی اس کے منہ میں ناولا ڈال تو احد مسکرا کر کھاتے ہوئے بولا تھا
ہاں پیار ہے مجھے آپ سے پر میں ناراض ہوں مجھے آج باہر گھومانے لے جائیں میں نے باہر سب دیکھنا ہے وہ کھاتے ہوئے بولی تھی
اچھا تو اسی لیے پیار آ رہا ہے ۔۔۔۔۔
نہیں تو پلیز لے کر جائیں گے نہ پکا پرومس کریں وہ اس کے آگے ہاتھ کر کے بولی تھی
اوکے جاناں پکے والا پرومس وہ اس کی ناک دبا کر بولا تھا
شکریہ بہت بہت وہ اس کے گلے لگ گئی تھی
❤️❤️❤️❤️
حیاء آپو تو اپنے روم میں نہیں ہیں سب طرف دیکھا ہے پر وہ کہی نہیں ہیں موبائل بھی ان کا یہ ہے زرتاشہ سلال کو آ کر بولی تھی
ادھر ہی ہو گی دھیان سے دیکھنا تھا سلال پریشان ہوا تھا پر پھر بھی سوچ کر بول تھا کے کہی ادھر ہی نہ ہو
پورے گھر میں دیکھا ہے وہ کہی نہیں ہیں زرتاشہ پریشان سہ بولی تھی
کہی اپنے گھر تو نہیں چلی گئیں زر نے اپنی ایک سوچ بتائی
گھر اتنی رات کو کیسے جائے گی روکو میں چوکیدار انکل سے پوچھ کر آتا ہوں سلال اسے بولتے ہوئے باہر گیا تھا
بتایا انہوں نے کچھ ۔۔۔۔۔۔۔
ہاں وہ بول رہیے ہیں رات کو کوئی گاڑی آئی تھی اور وہ اس میں بیٹھ کر چلی گئی تھی
پر کہاں اور ہمیں کیوں نہیں بتایا ۔۔۔۔۔۔
ضرور انس کے ساتھ گئی ہو گی وہ ہی کوئی دھمکی دے کر ساتھ لے کر گیا ہو گا سلال کی غصے سے رنگیں تن گئیں تھی
تو آپ کال کر کے پوچھ لیں پلیز آپو کو انس بھائی کے نمبر پر وہ ان ہی کے پاس ہیں نہ زرتاشہ پریشان سی بولی تھی
اوکے کرتا ہوں میرے پاس تو نمبر نہیں ہے پر حیاء کے موبائل سے کرتا ہوں اس میں نمبر ہو گا وہ اس سے حیاء کا موبائل لے کر اس میں نمبر کو ڈھونڈتے ہوئے بولا تھا
پھر کال کی تھی
❤️❤️❤️❤️❤️
حیاء کی آنکھ کھولی تو اپنے آپ کو انس کے حصار میں پایا تھا حیاء نے اس کے حصار سے نکلنے کی کوشش کی پر انس کی گرفت میں ہل بھی نہیں پائی تھی
انس چھوڑو مجھے وہ گہرا سانس لیتے ہوئے رات کا منظر یاد کرتے ہوئے آنکھوں سے آنسو نکلنے لگے تھے
چھوڑ دوں گا اتنی جلدی بھی کیا ہے وہ اس کی گردن میں منہ دیے نیند میں بولا تھا
حیاء کی گردن میں منہ دیے اس کی گردن پر اپنا لمس چھوڑنے لگا تھا حیاء جتنا اس سے دور جانے کی کوشش کرتی وہ اتنا ہی جنونی ہوتا جا رہا تھا
جانِ انس جتنا دور جاؤ گی اتنا ہی ہی مجھے اپنے قریب پاؤ گیا وہ اپنا چہرا اوپر کرتے ہوئے اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بولا تھا
اچانک فون کی بل ہوئی تھی انس نے بے زاریت لیے ہاتھ بڑھا کر فون کو اٹھایا تھا اپنے فون پر حیاء کا نمبر دیکھ کر پہلے خیران ہوا پھر اس کے چہرے پر مسکراہٹ آئی تھی
ہیلو سالے صاحب کیسے یاد کر لیا ہمیں انس فون کو اُٹھاتے ہوئے بولا تھا اور فون کو سپکر پر کرتے ہوئے حیاء کو اپنی طرف کھینچ کر اسے اپنے ساتھ لگائے بات کرنے لگا
تو مطلب میں ٹھیک تھا حیاء تمہارے پاس ہے دوسری طرف سلال کی آواز سن کر حیاء نے سر اوپر اٹھا کر انس کو دیکھا تھا جو اسے ہی دیکھ رہا تھا کیا نہیں تھا نظر آ رہا حیاء کو انس کی آنکھوں میں جیت کا نشا پایا لینے کا غرور تھا اس کے لہجے میں حیاء نے اسے خود سے دور دھیکنے کی کوشش کی تھی
جس کو انس کی سحت گرفت نے ناکام بنا دیا تھا حیاء کو لگ رہا تھا کے انس کی مضبوط گرفت میں اس کی کمر کی ہڈیاں ٹوٹ جائیں گی
ہاہاہاہاہا سہی پہچانے جس کی جہاں جگہ ہوتی ہے اسے وہاں ہی رہنا ہوتا ہے اور حیاء میری بیوی ہے اور اس کی جگہ صرف میرے پاس میرے پاس وہ قہقہہ لگاتے ہوئے ایک ایک لفظ چبا کر بولا تھا
حیاء کو گھر چھوڑ کر جاؤ ابھی کے ابھی سلال چیخا تھا
آواز نیچے رکھو انس شاہ کے سامنے زیادہ زبان مت چلاؤں انس بھی غصے میں اس سے زیادہ تیز لہجے میں بولا تھا
حیاء انس کے غصے والے تیور دیکھ رہی تھی حیاء کو اپنی جان ہوا ہوتے ہوئے محسوس ہو رہی تھی وہ پھر سے انس کے جنونی پن کو نہیں جھیلنا چاہتی تھی اسی لیے اپنے لب سیے بس سب سن رہی تھی
حیاء اپنی مرضی سے آئی ہے اب میرے ساتھ ہی رہیے گی وہ حیاء کے بالوں میں اپنا ہاتھ پنسا کر اس کا چہرہ اپنی طرف کرتے ہوئے بولا تھا حیاء کی آنکھوں میں آنسو تھے
بتاؤ سلال کو میری جان کے تم اپنی مرضی سے یہاں آئی ہو اور اب تم میرے ساتھ ہی یہاں رہنا چاہتی ہو وہ اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے اس کے آگے موبائل کرتے ہوئے بولا تھا
میری جان اگر نہیں چاہتی کے میں پھر سے تمہارے ساتھ برا پیش آؤں تو جلدی سے بولو وہ اس کے کان میں سرگوشی کرتے ہوئے اس کے کان کی لو کو اپنے دانتوں میں دبا کر بولا تھا
سلال پلیز میں اپنی مرضی سے یہاں ہوں اب دوبارہ فون مت کرنا حیاء اپنے آنسو کو کنٹرول کرتے ہوئے بمشکل بولی تھی
حیاء ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔سلال ابھی کچھ بولتا انس نے حیاء سے موبائل لے لیا تھا
سن لیا اب مجھے اور میری بیوی کو تنگ مت کرنا کہتے ہوئے ساتھ ہی فون بند کر دیا تھا
بہت خوب میری جان اگر تم کچھ بھی الٹا سیدھا بولتی تو پھر پیچتاوا بہت ہوتا تمہیں انس اس کا چیرا اوپر کیے اس کے ہونٹوں کو چھوتے ہوئے بولا تھا
پیچتا تو رہیں ہوں میں جو تم جیسے انسان پر ترس کھا کر آ گئی ورنہ تم اس لائک ہی نہیں تھے حیاء نے اپنی بھڑاس نکالی تھی
پچھتانا تو تمہارا مقدار ہے اب میری جان کیوں کہ تمہارا نصیب جو مجھ جیسے انسان کے ساتھ ہے کہتے ہوئے اس کے ہونٹوں کو نشانا بنایا تھا
حیاء نے اس کے سینے پر ہاتھ رکھ کر اسے خود سے دور کرنا چاہا تھا
تم اتنی چھوٹی سی جان مجھے خود سے دور نہیں کر سکتی یہ بات تمہیں میری ابھی بھی سمجھ نہیں آئی بیڈ سے انگڑائی لیتے ہوئے اُٹھ کر بولا تھا
تمہاری صرف زبان ہی تیز ہے میری جان طاقت نہیں ہے تم میں انس شاہ سے مقابلہ کرنے کی اسی لیے اپنی انرجی اپنی زبان کے لیے سنبھال کر رکھا کرو مجھ پر نہیں
چلو شاباش فریش ہو کر میرا لیے ناشتہ بناؤں وہ اسے دیکھتے ہوئے بولا تھا جو اب منہ بسور کر اپنی سائیڈ دوسری طرف کر گئی تھی
ٹھیک ہے ایسے نہیں مانوں گی وہ اسے باہوں میں اُٹھا کر واشروم میں لے کر شاور کے نیچے کھڑا کر چکا تھا اور شاور اون کر کے خود باہر نکل آیا
حیاء پر ٹھنڈا پانی گرا تو اس کی چیخیں نکل گئیں تھی بے خود انسان کمینا وہ ٹھرٹھرتے ہوئے شاور کو بند کرنے لگی
انس اس کی چیخوں اور باتوں کو سن کر مسکراتے ہوئے بالکنی میں چلا گیا تھا سگریٹ کو سلگا کر پینے لگا
فائنلی تمہیں اب کوئی بھی مجھ سے نہیں چھین سکتا تم صرف میری ہو صرف انس شاہ کی کوئی بھی تمہیں مجھ سے جدا نہیں کرسکتا تمہارا گزرا ہوا کل بھی نہیں
بہت جلد انس شاہ تمہیں سب بھول جانے پر مجبور کر دے گا تمہیں صرف یاد رہیے گا تو انس شاہ تمہارے ذہین دماغ ہر ایک میں صرف انس ہو گا صرف انس
تم انس کی اور انس صرف تمہارا ہے وہ سگریٹ کا دھواں ہوا میں چھوڑتے ہوئےاس نے خود سے عہد کیا تھا
روحان بہت جلد تمہیں سبق دوں گا تم نے میری حیاء کو دکھ دیا ہے اس کے ساتھ جو بھی کیا اس کا حساب لینے آ رہا ہے انس شاہ
❤️❤️❤️❤️❤️
گھر میں شادی کی تیاریاں ہو رہی تھی سب بڑے کمرے میں بیٹھے ہوئے تھے علیشہ شاہ خنا شاہ اور رانیہ آمنہ سب ہی وہیں تھی پری بھی سائیڈ پر بیٹھی ہوئی تھی اس کے ساتھ زویا بھی سب چیزیں غور سے دیکھا رہی تھی
جبہ ایک طرف بےزار اور اداس سی بیٹھی ہوئی تھی واجب کے روائیہ سے ڈر گئی تھی شادی کے دن جتنے پاس آ رہیے تھے تینوں کے دل اتنے ہی پریشان تھے
یہ میرے عالی کی دلہن کا ہے ایک خوبصورت سا ڈریس تھا ولیمہ کا جس کو رانیہ شاہ نے سامنے کر کہا تھا
پری کے دل کو تکلیف ہوئی تھی جب سے اسے پتہ چلا تھا کہ عالی کی بھی شادی ہے پر وہ یہ نہیں جانتی تھی کے وہ ہی عالی کی دلہن ہے
ڈریس کو دیکھ کر پری کی آنکھوں میں پانی بھر آیا تھا سامنے سے آتے ہوئے عالی نے سب کی باتیں سنتے ہوئے اپنی نظر پری کی طرف کی تھی جس کی آنکھوں میں آنسو تھے اور وہ حصرت سے اس ڈریس کو دیکھ رہی تھی عالی کے دل کو کچھ ہوا تھا
پری نے اپنی نظریں پھیر لی تھی اور مسکرا کر زویا سے باتیں کرنے لگی
میری جاناں سب آنسو صرف کچھ دن کے ہیں پھر سب ٹھیک ہو جائے گا خود سے بولا تھا
گلا کھنکار کے اندر روم میں داخل ہوا تھا پری نے نظر اُٹھا کر اسے دیکھ تھا پر ساتھ ہی اپنی نظروں کو زاویہ بدل گئی تھی
عالی نے دلچسپی سے اسے دیکھا تھا پھر مسکراہٹ لیے اپنی ماں کی طرف متوجہ ہو گیا جو اسے کپڑے دکھا رہیں تھی
عالی یہ دیکھو کیسا ہے یہ یہ سب تمہاری بیوی کے ہیں رانیہ شاہ مسکرا کر بولی تھیں
ماما یہ تو سب بہت خوبصورت ہیں اور اس پر بہت خوبصورت لگیں گے
وہ ان کپڑوں کو دیکھا کر بولا تھا
اس کے بولنے سے پری نے نم آنکھوں سے اس کی طرف دیکھا تھاوہ جانتا تھا کہ وہ اس کی طرف دیکھا رہی ہے اسی لیے مسکراہٹ کے ساتھ کپڑوں کو دیکھ رہا تھا
ماما پری دکھائی دے گی وہ بالکل عالی مسکراہٹ کے ساتھ اپنی ماں کی طرف دیکھ کر بولا تھا
عالی کی بات پر سب کا قہقہہ بلند ہوا تھا پری ہے تو پری ہی دکھے گی نہ علیشہ شاہ بولی تھی
جی بڑی ماما ہے تو سچ میں پری ہی وہ میری سوئٹ سی پری عالی پری کی طرف دیکھ کر بولا تھا جو اس کے دیکھنے سے سر کو جھکا گئی تھی
پری نے اپنے لب بیچے سر کو جھکا کر اپنے ہاتھوں کو مسل رہی تھی
یہ میری زویا کے کپڑے ہیں آمنہ شاہ زویا کو اشارہ کرتے ہوئے اپنے پاس بلا کر بولی تھی
واہ بہت پیارے ہیں یہ وہ ان کو دیکھ کر بچوں کی طرح خوش ہوتے ہوئے بولی تھی
اسے دیکھ کر عالی نے نحوست سے منہ چڑھایا تھا
میں یہ پہنوں گی عالی لالہ کی شادی پر وہ مسکراتے ہوئے عالی کے آگے کرتے ہوئے بولی تھی
دیکھیں نہ پیارے ہیں نہ وہ اس سے پوچھا رہی تھی جو اسے غصے سے دیکھتے ہوئے اُٹھنے لگا تھا
عالی بتاو زویا کو پیارا ہے نہ اس کا ڈریس رانیہ شاہ عالی سے بولی تھی
پیارا ہے وہ بولتے ہوئے اس کے سر پر ہاتھ رکھ کر چلا جانے لگا تھا کہ اس کی بات پر روک گیا
شکریہ لالہ میں نے ماما کو بھی بتایا تھا کہ میرے بھی اب لالہ ہیں اور اپنی فرئنڈز کو بھی بتاؤں گی آپ کا وہ مسکراتے ہوئے اسے بتا رہی تھی جو خیران ہوتے ہوئے اسے دیکھ رہا تھا
پری آپو آپ بھی دیکھوں یہ آپ کے ڈریس سے بھی زیادہ پیارا ہے وہ پری کے سامنے لہر کر بولی تھی سب کو دیکھا رہی تھی
خبہ بھی اسے مسکرا کر دیکھ رہی تھی
سب اسے مسکراتے ہوئے دیکھ رہیے تھے
یہ حیاء کے اور فریحہ کے یہ خبہ اور رانیہ کے خنا شاہ ان کو سب کے کپڑے دیکھا رہیں تھی پری بے دلی سے دیکھ رہی تھی
پر آنٹی میرے سب سے زیادہ پیارے ہیں زویا خوش ہوتے ہوئے بولی تھی
کس کے سب سے زیادہ پیارے ہیں احد اندر داخل ہوتے ہوئے بولا تھا
زویا کے سب سے زیادہ پیارے ہیں خنا شاہ زویا کی طرف دیکھ کر بولی تھی جو اپنے کپڑوں کو تہ کرنے لگیں تھی
میں ان کو اپنے کپڑے نہیں دکھا رہی زویا منہ پھولا کر بولی تھی
کیوں نہیں آپ نے احد کو اپنے کپڑے دکھانے علیشہ بولی تھی
ماما ان ان نے مجھے ڈانٹا تھا اور میں ناراض ہوں ان سے وہ آمنہ شاہ کے پاس اپنے کپڑے رکھ کر ان کے ساتھ لگ کر بولی تھی
تم نے میری بیٹی کو ڈانٹا احد آمنہ شاہ کے بولنے پر احد نے گھور کر اسے دیکھا تھا جو مسکرا کر اس کے ساتھ لگی احد کو دیکھ رہی تھی
احد پریشان ہوا تھا کہی کچھ اور بھی نہ سنا دے پر اس کے بولنے پر بس اسے گھوری سے ہی نواز کر رہا گیا تھا
ابھی بھی دیکھیں مجھے گھور رہیں ہیں زویا پیچھے ہوتے ہوئے اسے زبان دکھا کر بولی تھی
احد بری بات ہے مت تنگ کرو میری بیٹی کو ورنہ تمہاری پٹائی ہو گی علیشہ شاہ بولی تھی
ہاں جی وہ بھی عالی لالہ سے وہ آپ کو مکوں سے مارے گئے زویا ہنستے ہوئے بولی تھی
میں نے دیکھا تھا ٹی وی پر جب کوئی ہزبنڈ اپنی وائف کو تنگ کرتا ہے تو اس کا بھائی مارتا ہے اسے پھر
اس کی بات سے سب نے قہقہہ لگایا تھا عالی بھی اس کی بات سے مسکرا دیا تھا
پری یار جاؤ میرے لیے چائے بنا کر لا دو میری بیوی کو تو کچھ نہیں آتا احد زویا کو گھور کر دیکھتے ہوئے بولا تھا
پری تو آگے ہی وہاں سے جانے کا بہانہ ڈھونڈ رہی تھی وہ احد کے ایک دفع بولنے پر وہاں سے چلی گئی تھی
عالی اسے جاتے ہوئے دیکھتا ہی رہ گیا تھا جو اس پر نظر ڈالے بغیر وہاں سے نکل گئی تھی
میں ماما سے سکھ جاؤں گی تو پھر آپ کے لیے بنا لوں گی ابھی تو مجھے پڑھنا ہے بہت سا میرے اگزامز آنے والے ہیں آپ نے مجھے ابھی پڑھنا ہے کل میرا پیپر ہے زر کی کال آئی تھی
میں جاتی ہوں مجھے یاد آ گیا زویا اپنے سر پر ہاتھ مار کر وہاں سے بھاگی تھی
سب اس کے بچپنے پر مسکراہٹ لیے اسے جاتے ہوئے دیکھ رہیے تھے
ماما میں آپ کی بہو کو پڑھا لوں ورنہ یہ نہ ہو وہ فیل ہو جائے اور وہ اور حیاء دونوں آپ کے بیٹے کو گنجا کر دیے احد اپنے بالوں کو ہاتھ لگا کر بولا تھا
پری کو بولیے گا میری چائے میرے روم میں دے جائے ہنستے ہوئے بولا تھا
ہاہاہاہاہا سب ہنس تھے اور وہ خود بھی ہنستے ہوئے وہاں سے چلا گیا
پاگل ہی ہے دونوں میرے پیارے بیٹے کو پیاری سی چھوٹی سی پری دے دی اللہ نے آمنہ شاہ مسکراہٹ لیے بولی تھی
بس اللہ ان کو خوش رکھے ماضی کی کوئی بھی پرچھائی ان پر نہ پڑھے وہ ان کو دعا دیتے ہوئے بولی تھی
عالی ان سب کو باتیں کرتے دیکھ کر اَٹھ گیا تھا اور ویسے بھی وہ جس کے لیے بیٹھا تھا وہ ہی جا چکی تھی
❤️❤️❤️❤️
ہم تو اب کس بات کا رونا ہے عالی فریج کے ساتھ ٹیک لگا کر کھڑا پری کو دیکھ کر بولا تھا جو چائے بنانے کے لیے کھڑی تھی آنسو آنکھوں سے بہ رہیے تھے اور اپنی ہتھیلی کی پشت سے بار بار صاف کر رہی تھی
پری نے جب عالی کی بات سنی تو اس کی طرف دیکھا کر پھر سے اپنی ہتھیلیوں کو آنکھوں پر رگڑا تھا جس سے آنکھیں اور بھی سرخ ہو گئیں تھیں پر بولی کچھ نہیں تھی
پری اب مت رو کیوں کے عالی اپنی پری کو حاصل کر چکا ہے اور وہ جو میری پری ہے وہ بہت ہی خوبصورت ہے تھوڑی جھیلی سی تھوڑی شرارتی سی ہے پر بالکل ایسا لگتا ہے جیسے کسی پری کے دیس کی ہو وہ اس کے قریب اس کی پشت پر کھڑا اس کے کان میں سرگوشی کر رہا تھا
پری کے دل کی دھڑکن تیز ہو گئی تھی
دھڑکنوں کو بولوں تھم جائیں کیونکہ یہ میرا محبوب نہیں ہے یہ اب کسی اور کا ہو گیا ہے عالی اس کے کان میں بولا تھا
پری نے بے تحاشا سرح آنکھوں سے اس کی طرف دیکھا تھا جو بھی تھا اپنی عزت نفس بہت پیاری تھی اس کو
عالی شاہ میں جس کی بھی بن کر رہوں گی تمہیں فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے یہ رونا میرے ماں باپ کی جدائی کا ہے اس بھول میں مت رہنا کے میں تمہارے لئے روئوں گی وہ غصے سے بولتے ہوئے اپنے کام پر لگ گئی تھی
ہاہاہاہاہا ہاہاہاہاہا دل کو بہلانے کا خیال اچھا ہے وہ قہقہہ لگاتے ہوئے بولا تھا
پری جلدی جلدی سے چائے ڈالنے لگی تھی اس کے ہاتھ کانپ رہیے تھے
پری ایک دفع بول دو تمہیں بھی مجھ سے محبت ہے میں ساری دنیا سے لڑ جاؤں گا تمہارے لیے وہ اس کا کانپتا ہوا ہاتھ پکڑ کر بولا تھا
پری کے منہ سے سسکی نکلی تھی کیونکہ کے تھوڑی سی گرم چائے اس کے ہاتھ میں گر گئی تھی
پری کیا ہوا دکھاؤں ادھر وہ اس کا دوسرا ہاتھ بھی اپنے ہاتھوں میں لے کر بولا تھا
چھوڑیں مجھے میں اب کسی اور کی امانت ہوں وہ اس سے اپنے ہاتھوں کو چھڑاتے ہوئے بولی تھی
عالی شاہ میرے لیے میرے دادا کی عزت سے بڑھ کر کچھ نہیں ہے محبت بھی نہیں
میں ان لڑکیوں میں سے نہیں ہوں جو محبت کے لیے ماں باپ کے پیار کو روند کر اپنے لیے خوشیاں کے محل بنانے چلی جاتیں ہیں
قبروں کو روند کر محل نہیں بنا کرتے ورنہ ان قبروں میں رہنے والوں کی روحیں ساری زندگی آپ کے محل کو بسنے نہیں دیتی اور آپ نہ قبروں کے رہتے ہیں اور نہ ہی محلوں کے
پری بولتے ہوئے اس سے اپنا ہاتھوں کو چھڑوانے ہوئے چائے کا کپ لے کر وہاں سے نکل گئی تھی
واہ میری پری تو بہت سمجھدار ہو گئی ہے آج تم نے میرا دل جیت لیا پری عالی مسکراہٹ کے ساتھ بولتے ہوئے خود بھی باہر نکل گیا تھا
❤️❤️❤️❤️❤️
حیاء سردی سے تھر تھر کانپ رہی تھی ابھی انس کے ہی کپڑے پہنے ہوئے تھے اور کچن میں انس کے حکم سے ناشتہ بنا رہی تھی
چولہے کے پاس کام کر رہی تھی پر پھر بھی سردی سے دانت بج رہیے تھے حیاء کو تو ویسے ہی سردی لگتی تھی پر آج تو انس نے ٹھنڈے پانی کے نیچے کھڑا کر دیا تھا
ناشتہ بنا کر ٹیبل پر لگا کر خود اپنی چائے لے کر اندر جانے لگی تھی کہ آتے ہوئے انس نے اس کے ہاتھ سے چائے لے کر ٹبیل پر رکھتے ہوئے اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے اپنی گود میں بیٹھا کر اس کے گرد حصار بنا لیا تھا
اب بھی سردی لگ رہی ہے کیا وہ اس کے کندھے پر سر رکھ کر اس کے کان میں بول رہا تھا اس کے ہونٹ اس کے کان کو چھو رہیے تھے
وہ اسے غور سے دیکھا رہا تھا جو اس کی بلک پنٹ شرٹ پہنے آنکھوں پر گلاسز لگائے کیوٹ سا چھوٹا لڑکا ہی لگا رہا تھا
انس اسے دیکھ کر مسکرایا تھا
انس مجھے چھوڑو مجھے اندر جانا ہے ۔۔۔۔وہ اس سے گھبراتے ہوئے بولی تھی
چلی جانا پہلے ناشتہ کر لو وہ اسے سائیڈ چیر پر بیٹھاکر اس کی چیر کو اپنی طرف کھینچتے ہوئے بولا تھا
نہیں میں چائے ہی لوں گی بس وہ چائے اُٹھاتے ہوئے بولی تھی
رکھو اسے واپس اور کھاؤ اسے پہلے وہ غصے سے بولا تھا
جان دیکھی ہے اپنی اتنی سی ہو کھاؤ گی نہیں تو کیا بنے گا تمہارا وہ اب خود اس کے منہ میں نوالا ڈالتے ہوئے بولا تھا
جو اس نے منہ بنا کر کھانا شروع کر دیا تھا
چلو اب مجھے بھی کھلا دو انس اپنا چہرا اس کی طرف کرتے ہوئے بولا تھا
حیاء اسے آنکھیں دکھاتے ہوئے کھلانے لگی تھی
پاگل انسان میں نہیں کھلا رہی اب تم کو وہ اپنے ہاتھ کو کھنچتے ہوئے اس کو دوسرے ہاتھ سے دبا کر بولی تھی جس پر انس کے دانتوں کے نشان تھے جو انس نے کھاتے ہوئے کاٹا تھا
وہ اپنے ہاتھ پر پھونک مار کر اسے دیکھ رہی تھی آنکھوں میں نمی سی آ گئی تھی
وہ آنکھوں میں نمی لیے اندر بھاگ گئی تھی
انس اس کے پیچھے گیا تھا پر اس نے اندر سے دروازہ بند کر لیا تھا
اوپن اٹ حیاء ۔۔۔۔۔۔دروازے کو بجا کر بولا تھا
نہیں کروں گی اوپن جاؤ یہاں سے مجھے تھوڑی دیر اکیلے چھوڑ دو پلیز جاؤ یہاں سے وہ سسکتے ہوئے بولی تھی
انس کی سب باتیں دیا آنے لگی تھی اسی لئے سب دکھوں پر رونے بیٹھ گئی تھی وہ
کیا ہو گا جب انس کو ماضی کا پتہ چلے گا وہ بھی مجھے ہی برا بولے گا وہ بھی عاقب شاہ کی طرح سوچتے ہوئے اس کی سسکی نکلی تھی
کیا کروں میں تمہارا حیاء وہ دروازے کے ساتھ سر ٹکا کر کھڑا ہو گیا تھا
حیاء یو آر مائے لائف یار بس کبھی کبھی تھوڑا زیادہ پوزیسو اور جنونی ہو جاتا ہوں میں اسی لیے تم مجھے برداشت نہیں کر پاتیں
وہ دروازے کے ساتھ ہی اپنا سر ٹکا کر بول رہا تھا
اندر حیاء بے چین تھی اور باہر انس کے دل کو قرار نہیں تھا
