Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 22

زویا کدھر ہے اور آج تو پری بھی نہیں آئی ابھی تک فریحہ نے حیاء سے پوچھا تھا
زویا احد کے پاس ہے حیاء جو بستر پر لیٹی ہوئی سونے کی کوشش کر رہی تھی فریحہ سے بولی تھی
کیا کیا زویا احد کے پاس ہے تم نے اسے جانے دیا فریحہ نے خیران ہو کر پوچھا تھا
ہاں بیوی ہے اس کی اسی لیے جانے دیا میں نے اسے تم بھی جاؤ جانا چاہتی ہو تو میں نہیں روک رہی یہ زویا کے لیے بہتر لگا مجھے کیونکہ میں نہیں چاہتی کہ وہ بھی ہماری طرح بکھر جائے میں چاہتی ہوں وہ احد کے ساتھ اپنے رشتہ کو مضبوط بنایا ماما بھی یہی چاہتی ہے اسی لئے تو انہوں نے رخصتی کا فیصلہ کیا تھا
مجھے نہیں لگتا احد برا انسان ہے اس نے زویا کی مشکل میں مدد کی تھی کل اس کی باتیں سن کر مجھے ایسا لگا جیسے وہ بھی ہماری طرح ہو رہی ہے ہم نے ان دونوں کو ہمیشہ اس چیز سے بچا کر رکھا پر میں نے کل. اس کی باتوں سے یہ ہی بات سمجھی کے وہ بھی ہماری طرح بکھرنے لگی ہے
میں نہیں چاہتی فریحہ تم یا وہ کوئی بھی اس رشتے کو برا کہے عادل انکل بھی تو ہیں نہ وہ کیسے ماما کے لیے ہمیشہ کھڑے رہیے ہیں ان کو ماما سے محبت تھی محبت ہمیشہ عاقب شاہ کی طرح کی نہیں ہوتی ان میں کوئی عادل بھی ہوتا ہے جو اپنی محبت کی سانس کے ساتھ سانس لیتا ہے
بس دعا کرو اللہ اس کے حق میں بہتر کر دے اور احد ہمیشہ ہماری چھوٹی پری کو خوش رکھے حیاء مسکرا کر بولی تھی
تم کو نیند کے علاوہ کچھ نہیں سوجھتا میں پری میڈم کو دیکھ کر آتیں ہوں وہ نہیں ملی آج مجھے وہ حیاء کو آنکھیں بند کیے دیکھ کر بولی تھی اور باہر نکل گئی تھی
فریحہ گی نہیں جاو یہاں سے نہیں جانا تو میرے بالوں کو چھوڑ دو تنگ مت کرو سونے دو یار تھوڑا دیر بعد اسے اپنے پیچھے محسوس ہوا تھا کوئی اس کے بالوں کے ساتھ کھیل رہا ہے اسی لیے وہ مڑے بینا بولی تھی
فریحہ تو کب کی جا چکی ہے انس اس کے کان کے بلکل قریب جا کر سرغوشی میں بولا تھا
میں نے سوچا میری وائف اکیلی ہے ہے تو کیوں نہ اسے کمپنی دی جائے
اپنی کمپنی اپنے پاس رکھو اور کسکو یہاں سے خبر دار میرے حسین بالوں کو ہاتھ بھی لگایا ہو وہ اس کی طرف مڑا کر غصے سے بولی تھی
کسی لڑکی ہو تم یار میں اتنا رومینٹک ہو رہا ہوں اور تم ہو کہ میرا موڈ خراب کر رہی ہو
وہ بمشکل اپنی آنکھوں کو کھول کر اسے دیکھنے لگی تھی جو اس سے بات کرتے ہوئے اس کے دیکھنے پر مسکرایا تھا
کیا بہت ہنڈسم ہوں میں جو تمہاری نظر نہیں ہٹ رہی مجھ پر سے انس اسے اپنی طرف دیکھتے پا کر مسکرا کر بولا تھا
ہاں بہت ہنڈسم اور خوبصورت ہو تم وہ اپنا ہاتھ اس کی گال پر رکھ کر اس کی آنکھوں میں دیکھ کر بولی تھی
مجھے محبت ہونے لگی ہے تم سے انس شاہ تمہیں بھی مجھ سے محبت ہے کیا حیاء اس کے چہرے پر اپنے دونوں ہاتھ رکھ کر اس کی طرف دیکھتے ہوئے ایک آس سے پوچھ رہی تھی
تمہیں کیا لگتا ہے حیاء وہ دلچسپی سے اس کی خرکت کو دیکھ رہا تھا وہ اسے کھوئی ہوئی لگی تھی
وہ اس کے محبت کے انکشاف سے خوش ہوا تھا پر ظاہر کچھ نہیں کیا تھا
مجھے لگتا ہے میں تمہاری ضد ہوں جیسے تم بس جھکانا چاہتے ہو توڑنا چاہتے ہو وہ خود کو کمپوز کر کے اپنا روح اوپر کی طرف کر کے بولی تھی
اور ایسا تمہیں کیوں لگتا ہے حیاء وہ ابھی بھی اپنا روح اس کی طرف رکھ کر بولتے ہوئے اس کا چہرا اپنی طرف کر کے بولا تھا
تم نے آج تک صرف مجھے نیچا ہی دیکھایا ہے مجھے ٹارچر کیا ہے اسی لیے مجھے لگا تمہیں مجھ سے ضد ہے وہ دوٹوک لہجے میں بولی تھی
تم نے کب مجھ سے پیار سے بات کی حیاء تم نے بھی تو مجھ سے سب کے سامنے بدتمیزی ہی کی ہے اور ہم شاہ ہیں بدتمیزی برداشت نہیں کرتے
ہاں یہ علیحدہ بات ہے کہ بدتمیزی کر سب لیتے ہو تم شاہ لوگ حیاء منہ بن کر بولی تھی
تو تم کیا ہو تم بھی تو شاہوں کا خون ہو وہ اس کے گال پر اپنا انگوٹھا پھیرتے ہوئے بولا تھا
نہیں میں نہیں ہوں شاہوں کا خون میں صرف نورین کی بیٹی ہوں صرف نورین کی وہ نورین پر زور دیتے ہوئے بولی تھی
جب سے تم میری زندگی میں آئے ہو میں سانس بھی کھل کر نہیں لے پائی اور اس گھر میں آنے کے بعد تو ویسے ہی مجھے خود میں گھٹن سی محسوس ہو رہی ہے حیاء اس کے ہاتھ کو پیچھے کرتے ہوئے پھر سے اپنی ٹون میں آ گئی تھی
پری اور آنیہ کی شادی کے ساتھ ہمارا ریسیپشن بھی ہے دادا کا حکم ہے انس اسے اوپر دیکھتے ہوئے دیکھ کر بولا تھا
مجھے جب تم سے کوئی رشتہ ہی نہیں رکھنا تو یہ سب ریسیپشن کا ناٹک کیوں ہو رہا ہے ہر چیز زبردستی مصلحت کیوں کی جا رہی ہے ہم پر پہلے فریحہ پر اور اب مجھ پر کیوں وہ اَٹھ کر بیٹھ گئی تھی غصے سے انس کی طرف دیکھ کر بولی تھی
ریسپشن کے بعد تم میرے ساتھ میرے کمرے میں رہو گی وہ اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے اپنے اوپر گراتے ہوئے اس کی کمر پر حصار بنا کر بولا تھا
حیاء نے غصے سے اس کی طرف دیکھ تھا جو اس کے چہرے پر آئی بالوں کی لٹ کو اپنی انگلی پر لیپٹ رہا تھا چہرے پر مسکراہٹ تھی
ہاں میں زبردستی کروں گا کیونکہ تم میری ہو اسی لئے سارے حق رکھتا ہوں میں تم پر میرا بس چلے تو تمہاری سانسیں بھی اپنے نام کر لوں وہ مسکراہٹ کے ساتھ اس کی لٹ کو کھینچتے ہوئے بولا تھا
You are mine only mine
اگر میں کہوں کے میں کسی اور کے بھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ششش خبر دار جو زبان سے کچھ غلط بھول کر بھی نکالا ہو زبان کھنچ لوں گا تمہاری وہ اسے بالوں سے پکڑا کر اس کا سر اوپر کرتے ہوئے غرایا تھا
ہاہاہاہاہا انس خود تو تمہارے تعلق کہی لڑکیوں سے ہیں اور تم کیا کیا کرتے پھرتے ہو مجھے سوچ کر گین آتی ہے تم سے درد سے آنکھوں کو بند کرتے ہوئے انسو کے ساتھ قہقہہ لگاتے ہوئے بولی تھی
انس شاہ کریکٹر کا اتنا گرا ہوا نہیں ہے حیاء انس شاہ کے ہر گری پڑھی کو منہ لگا لے میں انس شاہ ہوں سنا تم نے وہ اس پر اپنی گرفت مضبوط کرتے ہوئے غصے سے غرایا تھا
اچھا ٹھیک ہے یار سو جاؤ مجھے نیند آ رہی ہے پر بس اتنا یاد رکھنا میں بے گناہ ہوں میں نے کچھ غلط نہیں کیا تم میرے دل میں آنے والے پہلے شخص ہو قابض ہو رہیے ہو تم مجھ پر اگر زبردستی کرو گے تو بھاگی ہو جاؤں گی وہ اس کے سینے پر سر رکھے آنکھوں کو موندے بول رہی تھی
میں بہت تھک گئی ہوں سکون چاہتی ہوں انس مجھے سکون چاہیے
انس حیاء کی باتوں سے خیران ہوا تھا اس کی گرفت خود بخود ڈھیلی ہو گئی تھی اسے حیاء ہوش میں نہیں لگ رہی تھی وہ غنودگی میں بولتے ہوئے اب سو چکی تھی
حیاء تم نے کوئی میڈیسن لی ہیں کیا حیاء وہ اسے اپنے اوپر سے ہٹاتے ہوئے ساتھ لیٹا کر بول رہا تھا جو اب سو چکی تھی
ہاں لی ہیں مجھے سکون چاہیے ماما چاہیے مجھے ماما کے پاس جانا ہے وہ انس کے ساتھ لگی غنودگی میں بولی تھی
پگل لڑکی پتہ نہیں کیا چاہتی ہے میں سمجھا نہیں پا رہا پر جو بھی ہو اب میری جان بنتی جا رہی ہو
وہ اسے اپنے ساتھ لگا کر اس کے ماتھے پر پیار کرتے ہوئے خود بھی آنکھیں بند کر گیا تھا
کبھی کبھی ہمیں لگتا ہے کہ سب ٹھیک ہو رہا ہے پر قسمت پھر سے کوئی نہ کوئی کھیل کھیل جاتی ہے اور رشتوں میں تو آزمائش لازم ہے
محبت سچی ہو تو ہر آزمائش بھی پار کر جاتیں ہے
❤️❤️❤️❤️
فریحہ پری کے کمرے میں گئی تو تو وہ بیڈ پر سوئی ہوئی تھی
اف یہ میڈم یہاں سوئی ہوئی ہیں فریحہ بولتے ہوئے اس کے پاس بیٹھ گئی تھی
پری چالاک لڑکی تم بھی سو گئی ہو ادھر حیاء کی آنکھیں بھی بند ہو رہیں تھیں ایک میں ہی ہوں جو ادھر سے ادھر چکر لگا رہیں ہوں
وہ بھی وہی لیٹ گئی تھی موبائل کو پکڑ کر اس پر گیم کھیلنے لگی تھی
گاڑی کی آواز پر جب اُٹھ کر کھڑکی سے دیکھ تو حاضر شاہ کی گاڑی اندر داخل ہوئی تھی حاضر کو دیکھ کر اپنی سانس بحال کرنے لگی دل سو کی رفتار سے ڈھڑکنے لگا تھا حاضر کی باتیں یاد کر کے جلدی سے پری
کے ساتھ اس کے کمبل میں گھس کر چہرے تک کمبل کر لیا تھا اور خود کو ریلکس کرتے ہوئے سونے کی کوشش کرنے لگی
اللہ جی بچا لیں اس بلا سے وہ ڈھرکتے دل کے ساتھ پتہ نہیں کون کون سے قرآنی ورد کر رہی تھی جیسے حاضر کوئی انسان نہیں جن ہو جو پڑھنے سے منظر سے غائب ہو جائے گا
❤️❤️❤️❤️
حاضر بیٹا کھانا کھاؤ گے خنا شاہ نے حاضر سے پوچھا تھا جو باہر سے آ کر ان کے پاس بیٹھا ان سے باتیں کر رہا تھا
نہیں ماما آج باہر دوست کے ساتھ ڈنر کر کے آیا ہوں آپ فکر نہ کریں اور آپ کو بولا تھا میں نے کچھ وہ سنجیدگی لیے بولا تھا
بیٹا میں نے فریحہ سے بات نہیں کی تھوڑا سا وقت دو میں اسے سمجھا دوں گی آہستہ آہستہ ہی ہے نہ ایک دم تو سب نہیں سیکھ سکتی وہ ویسے بھی ابھی شادی کے ہنگامے شروع ہونے والے ہیں اس کے بعد نارمل روٹین میں آ گیا تو وہ بھی اپنی زمیدری کو سنبھال لے گی
خنا شاہ اسے سمجھاتے ہوئے بولی تھی جس پر اس نے سر ہلا دیا تھا
جو بھی ہو فریحہ شاہ آج اگر تم مجھے میرے کمرے میں نہ ملی تو صبح تم کو میں خود سزا دوں گا وہ غصے سے دل میں بولا تھا
ماما میں صبح شہر جاؤں گا فریحہ بھی جائے گی میرے ساتھ اسے اپنی ماما سے ملنا ہے پھر شاید ہمیں کچھ دن وہی لگ جائیں حاضر ان کو بولتے ہوئے اُن کے ماتھے پر پیار کرتے ہوئے اُٹھ کر اوپر کی طرف بڑھ گیا تھا
خنا شاہ اسے جاتے دیکھ کر مسکرا کر اسے دعائیں دینے لگیں تھیں
حاضر نے جب کمرے میں قدم رکھا تو سارا کمرا سائیے ساییے کر رہا تھا فریحہ کا ناموں نشانہ نی دیکھ تھا حاضر کو وہ غصے سے فریحہ لوگوں کے کمرے میں گیا تھا
روم کا ڈور لاک تھا اسی لیے دوبارہ غصے سے کمرے میں جا کر ادھر سے ادھر ٹہل رہا تھا
میرے کہنے کے باوجود تم نے نہیں مانی میری بات اب پھر بھگتنا سب کی جدائی صبح تیار رہنا اپنی سزا کے لیے مس فریحہ حاضر شاہ
وہ زہرہندک لہجے میں خود سے ہی بولا تھا اور مسکرا دیا تھا
تمہارا نام جب میرے نام کے ساتھ جوڑ جاتا ہے تو اور بھی پیارا. ہو جاتا ہے میری جان وہ دل میں اس سے محاتب تھا
❤️❤️❤️❤️
حیاء کی صبح جب آنکھ کھولی تو اپنے ساتھ سوۓ انس پر نظر پڑی تھی جو اسے اپنے حصار میں لے کر سوئے ہوا تھا
اف کیا کیا بول دیا میں نے بھی نیند میں حیاء کو اپنی رات والی ساری کہی باتیں یاد آنے لگی تھیں
رات کو نیند کی دوائی کھانے کی وجہ سے نیند میں تھی اس کا دماغ اور دل کی باتیں زبان پر آ گئیں تھیں
ہائے یہ کیا سوچ رہا ہو گا میرے بارے میں کیا کچھ نہیں بولا میں نے اسے وہ اس کے چہرے کی طرف دیکھ کر بولی تھی
پھر ہاتھ بڑھا کر اس کی ڈاڑھی کے بالوں کو چھو کر محسوس کر رہی تھی کمینے کی ڈاڑھی میرا دل لے جاتی ہے
اور یہ ناک پر رہنے والی انا میرے ساتھ میرا دل بھی توڑ دیتی ہے وہ انس کی ناک پر انگلی رکھ کر اسے دباتے ہوئے بولی تھی
ہوش تو حیاء کے تب اُڑے جب انس کی گرفت اس کے گرد مضبوط ہوئی اور وہ اپنا چہرا اس کی گردن میں دے گیے
بولوں چپ کیوں ہو گئی ہو حیاء انس اس کی گردن میں ہی اپنا چہرا دیے بولا تھا
حیاء کو اس کے ہونٹ اپنی گردن کو چھوتے محسوس ہو رہیے تھے اس کی قربت سے حیاء کو سانس لینا محال لگا رہا تھا
انس چھوڑو مجھے وہ درد سے کراہ کر بولی تھی کیونکہ کے انس اب اپنی ڈاڑھی کے بالوں کو حیاء کی گردن پر رگڑا رہا تھا جس سے اس کی گردن جلنے لگی تھی
خود ہی تو بولا کمینے کی ڈاڑھی تمہارا دل لے جاتی ہے اب اس کو محسوس بھی تو کرو وہ چہرا اوپر اُٹھ کر بولا تھا
میں نے کب بولا ایسا میں نے تو ایسا کچھ نہیں بولا وہ صاف مکر گئی تھی
سچ میں تم نے نہیں بولا وہ آئبرو اُٹھ کر اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بولا تھا
انس جانے دو مجھے میں فریش ہو لوں مجھے ماما کے پاس بھی جانا ہے اور تم مجھے لے کر جاؤں گئے کیونکہ میری ماما کو لگنا چاہیے کہ میں بہت خوش ہوں تم جیسے اکڑو کے ساتھ وہ منہ بنا کر بولیتی اسے پیچھے کرنے لگی تھی
ایک شرط ہے پھر لے جاؤں گا ورنہ تم بھی اچھی طرح جانتی ہو مجھے کے زمین ادھر کی اُدھر ہو جائے تمہیں کوئی نہیں لے کر جاسکتا تمہیں اسے کڑو بولنے پر غصہ آیا پر وہ پھر بھی اس کی طرف مسکرا کر دیکھ کر بولا تھا
کون سی شرط ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ اسے آنکھوں کو چھوٹا کرتے ہوئے بولی تھی
شرط یہ ہے کہ وہ اس کے ہونٹوں پر انگوٹھا پھیرتے ہوئے مسکرایا تھا
نو انس نو پیچھے ہیٹو وہ اسے دھکا دینے کی کوشش کرنے لگی انس نے اس کی ساری کوششوں کو ضائع کر دیا تھا
اس کے ہونٹوں پر جھک گیا تھا حیاء نے غصے سے دوسرے ہاتھ سے اس کے بالوں کو پکڑ کر کھنچا تھا
پر انس نے پھر بھی اس نہیں چھوڑا ۔۔.۔۔۔۔۔۔۔۔
جنگلی ہو تم پوری وہ پیچھے ہوتے ہوئے اس کے ہاتھ کو اپنے بالوں سے پیچھے کرتے ہوئے بولا تھا پھر اس کے دونوں ہاتھوں کو اپنے ہاتھ میں لے کر اپنے ہونٹوں سے لگا کر مسکرایا تھا
تیار ہو جانا لے جاؤں گا تمہیں سوئٹ جنگلی چڑیل وہ اسے چھوڑ کر اَٹھا تھا بیڈ سے اور جاتے ہوئے مڑا کر اسے دیکھ کر بولا تھا
تم جنگلی ہو میں نہیں انس نے باہر نکلتے ہوئے حیاء کی آواز کو اپنے پیچھے سنا تھا اور بے ساختہ ہی مسکرا دیا تھا
علیشہ شاہ نے جب انس کو مسکراتے ہوئے حیاء کے کمرے سے نکلتے دیکھ تو ان کو اپنے دل میں سکون اترتے ہوئے محسوس ہوا تھا
وہ انس کو اس کے کمرے میں بلانے کے لیے آئین تھی پر اسے کمرے میں نہ پا کر واپس جا رہیں تھیں وہ انس کو دیکھ کر خود بھی مسکرا کر نیچے چلی گئیں تھیں
❤️❤️❤️❤️
احد کی آنکھ کھلی تو اپنے پاس زویا کو دیکھ کر بے اختیار ہی اس کے چہرے پر مسکراہٹ آ گئی تھی
جو اس کو زور سے پکڑ اس کے سینے پر سر رکھ کر سوئی ہوئی تھی
کہاں کہاں نہیں ڈھونڈا تمہیں میرے دل کے تار چھیڑ کر خود تو تم گم ہی ہو گئی تھی وہ اس کے چہرے پر سے بالوں کو پیچھے کرتے ہوئے اس سے باتیں کر رہا تھا
میری معصوم سی خسینہ تم کیا جانو کتنا پیار ہو گیا ہے مجھے تم سے
میں تم کو بہت بہادر دیکھنا چاہتا ہوں اتنا بہادر کے تم ہر ایک سے اپنے حق کے لیے لڑ سکو تمہیں دینا میں اس رب کی زات کے علاوہ کسی کا بھی ڈر نہ ہو
افٹرول تم ایک افسر کی بیوی ہو اور وہ تمہارے جیسے چھوٹے دل کی نہیں ہوتیں میری معصوم سی پری وہ اس کے ناک پر اپنے ہونٹ رکھتے ہوئے بولا تھا
پھر اسے خود میں بیچ لیا تھا جیسے کھو جانے کا ڈر ہو
تم کو کبھی بھی خود سے دور نہیں کرنا چاہتا اپنے ساتھ لے جاؤں گا جب اگلی دفعہ آؤں گا تو میرا سوئٹ بے بی
زویا جاناں اُٹھ جاؤ فریش ہو کر ناشتہ بھی کرنا ہے دس بج گئے ہیں صبح کے وہ اسے جگاتے ہوئے بولا تھا
میرا دل نہیں کر رہا اَٹھنے کو آپ نہ اُٹھائیے مجھے سونے دییے نہ پلیز وہ اس کے ہاتھ کو پیچھے کرتے ہوئے بولی تھی
اگر تم نہیں چاہتی کہ میں رات والی کوئی بھی خرکت کروں تو جلدی سے اَٹھ جاؤ جانم وہ اس کے کان کے قریب سرغوشی کرتے ہوئے بولتا اس کے کانوں کی لو کو کاٹتے ہوئے بولا تھا
زویا جلدی جلدی سے آنکھوں کو کھول کر سیدھی ہو کر بیٹھ گئی تھی وہ اس کی خرکت سے لال ٹماٹر ہو گئی تھی
احد اس کا یہ روپ دیکھ کر مسکراتے ہوئے اَٹھا تھا اور اس کے گرد اپنا گیرا تنگ کر کے اس کے کندھے پر سر رکھ چکا تھا
تم تو سرخ ہو رہی ہو زویا وہ اس کے کان کے قریب بول رہا تھا اسے اس کے لبوں کی سرسراہٹ اپنے کان کے پاس محسوس ہو رہی تھی
احد۔۔۔۔۔۔۔ میں ۔۔۔۔۔۔۔جاتیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ہوں وہ اٹکتے ہوئے بولتی اپنے گرد حصار کو توڑنے کی کوشش کرتے ہوئے جانے لگی تھی پر احد نے بھی گرفت مضبوط بنا کر رکھی ہوئی تھی
جب تلک میں نہ چاہیوں تم مجھے سے دور نہیں جا سکتی مائے لاٹل وائف ایک بات اب تم روز میرے کمرے میں سویا کرو گی اوکے وہ اس کی گال پر پیار دے کر اسے چھوڑتے ہوئے بول کر خود پھر سے بیڈ پر لیٹ گیا تھا
زویا نے جلدی سے دور لگا دی تھی اور روم سے باہر نکل گئی تھی
کل سے اپنا سب سامان ادھر شیفٹ کر لو کیونکہ یہ اب تمہارا کمرا ہے اسے احد کی آواز پیچھے سے سنائی دی تھی اور وہ مسکراتے ہوئے وہاں سے بھاگ گئی تھی
❤️❤️❤️❤️
سب ڈائنگ ٹیبل پر بیٹھے ہوئے تھے سوائے حیاء کے حیاء اپنا ناشتہ کھانا کمرے میں ہی کرتیں تھیں کسی نے بھی اسے نہیں روکا تھا جب سے اس دن والا واقع ہوا تھا
البتہ فریحہ اور زویا سب کے ساتھ ہی بیٹھتی تھیں
حاضر فریحہ کو کھا جانے والی نظروں سے دیکھ رہا تھا جو خاموشی سے اپنے ناشتے پر جھک کر بیٹھی ہوئی تھی جیسے ناشتے سے بڑھ کر دینا میں کوئی ضروری کام ہی نہ ہو
خود پر حاضر کی نظروں محسوس کر رہی تھی اسی لئے تو سر اوپر نہیں اُٹھ رہی تھی
فریحہ تیار ہو جانا کچھ دیر تک میں زمینوں کا چکر لگا کر واپس آ کر تمہیں لے جاؤں گا حاضر ناشتے والے ٹیبل سے اٹھتے ہوئے سنجیدگی سے فریحہ سے محاتب ہوا تھا فریحہ نے بھی مسکراہٹ کے ساتھ اوپر چہرا اٹھایا تھا جب حاضر کی سنجیدگی دیکھی تو جلدی سے ہاں میں سر ہلاتے ہوئے دوبارہ ناشتہ پر جھک گئی تھی
آپو مجھے بھی آپ کے ساتھ جانا ہے ماما کے پاس زویا فریحہ سے بولی تھی
جی ضرور جانا تم بھی تمہیں میں خود لے جاؤں گا پاس بیٹھا احد فریحہ کے جواب دینے سے پہلے بولنے لگا تھا
اوکے ٹھیک ہے وہ مسکراتے ہوئے احد سے بولی تھی
کہاں جانے کا پروگرام ہے تم دونوں کا وہاں بیٹھے عاقب شاہ فریحہ سے بولے تھے. فریحہ نے کوئی جواب نہیں دیا تھا فریحہ بینا کوئی جواب دیے اَٹھ گئی تھی
احد بھی زویا کو اپنے ساتھ لے کر اوپر چلا گیا تھا
عاقب شاہ چہرے پر بے چارگی لیے ہوئے بیٹھے رہ گیے تھے پر آنکھوں میں اجیب سی پراسرایت تھی
❤️❤️❤️❤️
آنٹی وہ میں ماما کے پاس جارہیں ہوں حیاء علیشہ سے آ کر بولی تھی جو اپنے کمرے میں کھڑی الماری میں کچھ دیکھ رہیں تھیں
اچھا اچھی بات ہے مل آؤ آپ جا کر وہ اس کے سر پر پیار دیتے ہوئے بولیں تھیں
حیاء نے ان کو مسکراتے ہوئے دیکھ تھا جو بھی تھا وہ اسے ہمیشہ ہی اچھی لگیں تھی کیونکہ اُنہوں نے ہمیشہ حیاء سے پیار سے بات کی تھی
ایک منٹ روک جاؤ وہ اسے باہر جاتے ہوئے دیکھ کر بولی تھی
جی یہ کیا ہے آنٹی مجھے کیوں دے رہیں ہیں آپ وہ خیران ہوتے ہوئے ان کو دیکھنے لگی تھی جو اس کے ہاتھ میں کنگن پہنا رہیں تھی
یہ میں نے ہمیشہ سے انس کی دلہن کے لیے رکھے تھے اس طرح کے چار ہیں دو جبہ کے لیے اور دو انس کی دلہن کے لیے تھے اور اب اسی لئے تمہیں دیے ہیں ویسے بھی ماما کے پاس جا رہی ہو اچھا لگے گا کے تم حالی حالی جاؤ نئی شادی ہے بے شک ویسی نہیں ہے جیسی ہونی چاہیے تھی پر پھر بھی تم میرے بچے کی پسند ہو
اور میرا انس میری جان ہے اور اس کی پسند مجھے بہت عزیز ہے ویسے بھی میری بیٹی بہت پیاری اور کیوٹ ہے وہ اس کی ناک دبا کر بولی تھی
میں آپ کو گلے لگانا چاہتی ہوں پر ابھی اتنا ظرف نہیں ہے مجھ میں وہ سوچتے تلخ سا مسکرا دی تھی اور ان کو بائے بولتے ہوئے وہاں سے چلی گئی تھی
تم موم کے پاس کیا کر رہی تھی انس نے سامنے سے آتی ہوئی حیاء کو بولا تھا جو ابھی تک اپنے ہاتھ کو دیکھ رہی تھی جس میں کنگن تھے
اوہ واہ موم نے تمہیں دے دیے وہ اس کے ہاتھ کو دیکھ کر اسے اپنے ہاتھوں میں لے کر ان کو دیکھ کر بولا تھا
یہ میری نانی کے تھے جو انہوں نے موم کو دیے تھے وہ اس کے ہاتھ کو پکڑ کر بولا تھا
چھوڑو چلو اب چلیں ماما اب ویٹ کر رہیں ہوں گی وہ اس سے اپنا ہاتھ کھینچنے کی کوشش کر رہی تھی جو اس کے ہاتھ کو اپنے ہاتھوں میں لے کر دیکھ رہا تھا
فائنلی تم نے اپنے آپ کو میری ماما کی بہوؤں مان ہی لیا وہ اسے اپنے قریب کرتے ہوئے اس کی آنکھوں میں دیکھا کر بولا تھا
انہوں نے پیار سے دیے تھے اسی لئے میں نے لے لیے تھے ورنہ مجھے کوئی شوق نہیں ہے وہ غصے سے اسے دیکھتے ہوئے بولی تھی
ہاں تو پیار سے وہ اپنا بیٹا بھی دیے رہیں ہیں وہ بھی لے لوں نہ جانِ انس وہ اس کو تیار ہوئے دیکھ کر پیار سے چشمے کو اتار کر بولا تھا
یہ تمہارا چشمہ ہے نہ جو مجھے بہت پیارا لگتا ہے وہ اسے اپنی آنکھوں پر پہن کر بولا تھا
حیاء اسے پہن کر مجھے کچھ نظر نہیں آ رہا انس شرارت سے اس کے چہرے پر ہاتھ مارتے ہوئے بولا تھا
بے خودا انسان اتارو اسے واپس کرو مجھے ابھی اتنی بھی آندھی نہیں ہوئی کے اسے پہن کر تمہیں کچھ نظر ہی نہ ائے
ہاہاہاہاہا ہا ہا ہا مائے سوئٹ چشمش چڑیل یہ لو پہنوں وہ اسے گلاسز پہنا کر بولتے ہوئے اسے اپنے ساتھ لے کر جانے لگا