Rate this Novel
Episode 32
دونوں طرف سے لڑکے والے آ گیے تھے اب تھوڑا دیر میں نکاح شروع ہونے والا تھا تینوں دلہنوں کے چہروں پر ڈوپٹہ کیا گیا
خبہ اندر سے پوری طرح ڈرئی ہوئی تھی واجب کے اس دن کے روئیہ کی وجہ سے اس پر واجب کا ڈر اتنا زیادہ تھا کہ وہ اندر سے کانپ رہی تھی
آنیہ غصے سے لال ہورہی تھی کیونکہ آنیہ کے پاسٹ کی وجہ سے وہ ریان کو انکار نہیں کر پائی تھی ورنہ وہ ریان کو کبھی منہ بھی نہ لگاتی بقول آنیہ کے
پری کے ہاتھ پاؤں ٹھنڈے پڑ رہیے تھے اپنی بچپن کی محبت کو کھونے کا دکھ اسے اندر ہی اندر کھائے جا رہا تھا چہرے پر ڈوپٹہ تھا پر پری کے آنسو بہ رہیے تھے محبوب کو کھو دینے پر اور محبوب کی جدائی پر خود کو سنبھالا تھا پری نے کیوں کہ
ان دونوں کا نکاح ہو چکا تھا اور اب پری کی باری تھی جیسے جیسے پری کے کان میں نکاح کے بول بولے جا رہیے تھے پری کے ہوش کھل گیے تھے وہ نہیں سمجھ پا رہی تھی کہ وہ خوش ہو یا غصہ اسی لئے لب بیچے قبول ہے بولا دیا اور پھر وہ پریوش عالی شاہ بن چکی تھی
عالی کے نام ہو چکی تھی عالی کی پری
حاضر نے سب کو اپنے ساتھ لگایا تھا جب پری کو اپنے ساتھ لگایا تو وہ اس کے ساتھ لگ کر رو دی تھی فریحہ بھی پری کے پاس ہی کھڑی تھی
چپ میرا بچہ آپ تو یہی رہنے والی ہو اسی گھر میں اسی لیے اب رونا نہیں وہ اس کے سر پر پیار دے کر بولا تھا
پاس کھڑی فریحہ کو مسکراتے ہوئے آنکھ ماری تھی
فریحہ نے اسے گھوری سے نواز آ تھا
حاضر پری کو واپس بیٹھا کر خود وہاں سے چلا گیا تھا
مبارک ہو بہت بہت میری جان کیسا لگا سپرائز فریحہ پری کو ساتھ لگا کر بولی تھی جس پر پری نے اس کی کمر پر مکا مارا تھا
مجھے بہت رولایا سب نے اور تم بھی اسی میں شامل تھی وہ اسے گھورتے ہوئے بولی جس پر فریحہ کھکلا دی تھی پری بھی مسکرانے لگی اس کے دل کو سکون مل گیا تھا
❤️❤️❤️❤️❤️
تینوں دلہنوں کو اکٹھے لا کر سٹیج پر بیٹھایا گیا تھا وہاں بہت بڑا سٹیج بنایا گیا تھا ہر دلہن کے لیے اس کی علیحدہ جگہ تھی اور ساتھ لڑکوں کے لیے بھی بیٹھنے کی جگہ تھی سامنے سٹیج کے خالی جگہ رکھی گئی تھی
جہاں ڈانس فلور بنایا گیا تھا
پری اپنا سر نیچے کیے بیٹھی ہوئی تھی خبہ پریشان سی اور انیہ بے زار سی شکل بنا کر بیٹھی تھی
تب ہی لائٹ آف ہوئی تھی
پیچھے سونگ اون ہوا تھا سپاٹ لائٹ میں ایک سایہ سا آیا تھا وائٹ کپڑے پہنے کندھوں پر شال لیے حاضر کی کاپی لگ رہا تھا
Jaanam dekh lo MIT gayi dooriya
Main yahan hoon, yahan hoon, yahan
عالی گانے کے بول پر ڈانس کرتے ہوئے سٹیج کے سامنے آیا تھا
جس پر پری نے اپنا چہرا اُٹھا کر اسے دیکھا تھا جو سٹیج کے سامنے کھڑا گانے کے بول کے مطابق اس کے سامنے باہوں کو پھلائے کھڑا تھا
Jaanam dekh lo MIT gayi dooriya
Main yahan hoon, yahan hoon, yahan
پری نے شرما کر پھر سے سر کو جھکا لیا تھا
Kaisi sarhadein kaisi majbooriyan
Main yahan hoon, yahan hoon, yahan
وہ اوپر جا کر اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے نیچے لے کر آیا تھا
پری نے عالی کے ہاتھ پکڑنے پر اسے گھوری سے نوازا تھا جس کو عالی نے پوری طرح اگنور کر دیا تھا
اسے اپنے ساتھ ڈانس فلور پر لا کر کپل ڈانس کرنے لگا تھا
Tum chhupa na sakogi main woh raaz hoon
Tum bhoola na sakogi woh andaaz hoon
Goonjta hoon jo dil main toh hairan ho kyun
Main tumhare he toh dil ki toh awaaz hoon
وہ اسے گول گول گما کر بولا تھا
پری اس کے ہر انداز پر خیران ہوئے اسے دیکھ رہی تھی گول گول گھومتے ہوئے وہ اس کی کمر پر ہاتھ رکھ کر اسے اپنے قریب کر گیا تھا
اس وقت وہ دونوں ایسے تھے جیسے کوئی بھی انہوں کو نہیں دیکھا رہا ہو وہ دونوں ہی ایک دوسرے میں گم ہو چکے تھے
Sun sako toh suno dhadkanon ki zuban
Main yahan hoon yahan hoon yahan
بولتے ہوئے عالی نے اسے پھر سے گھوما کر اپنے قریب کرتے ہوئے اس کے ماتھے پر اپنے لب رکھے تھے
پری نے نمی کے ساتھ اس کی آنکھوں میں دیکھا تھا جو اسے دیکھ کر مسکرا رہا تھا
پھر سب کے تالیاں بجانے اور ہوٹنگ پر وہ دونوں مسکرائے تھے عالی اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے سٹیج پر لے گیا تھا اور دونوں وہی بیٹھ گئے تھے
Chaha tujhe Maine wafa se
Maanga tujhe maie duaa se
سپاٹ لائٹ پھر سے اون ہوئی تھی اور واجب گاتے ہوئے ڈانس فلور پر آیا تھا
سب کی تالیوں پر خبہ نے بے زار ہوتے ہوئے دیکھا تو واجب کو دیکھ کر خیران رہ گئی تھی
Chaha tujhe Maine wafa se
Maanga tujhe maie duaa se
اگلی لائن دوسری طرف سے سپاٹ لائٹ پڑھنے پر ریان نے گائی تھی جس پر نہ چاہتے ہوئے بھی رانیہ کے چہرے پر مسکراہٹ آ گئی تھی
Chaha tujhe Maine wafa se
Paaya tujhe teri adaa se
واجب بولتے ہوئے ریان کی طرف گیا تھا
Chaha tujhe teri wafa se
Paaya tujhe teri adaa se
ریان بولتے ہوئے واجب کی طرف اور پھر دونوں ایک دوسرے کی کمر سے کمر لگا کر گا رہیے تھے پر دیکھ سامنے رہیے تھے جہاں خبہ اور رانیہ بیٹھی ہوئی تھیں
Karam hadha Se hai zyaada mujhpa tera
دونوں سٹیج کی طرف بڑھے تھے اور اپنی اپنی والی کے پاس گیے تھے
Haath rakh de tu dil pa zara
Haath rakh de tu dil pa zara
دونوں ان کو کھڑا کر کے بولے تھے اور پھر مسکرا کر ان کے ماتھے پر لب رکھتے ہوئے گانے کو ختم کرتے ہوئے بیٹھ گئے تھے اپنی اپنی جگہ پر
اچھا کمینے آفیسر بہت اچھا گا لیتے ہو تم آنیہ منہ بنا کر بولی تھی
ہاں گا بھی لیتا ہوں اور رومنس بھی اچھا کر لیتا ہوں وہ کل بتاؤں گا تمہیں بتاؤں گا کیا پریکٹیکل کر کے دکھاؤں گا اور یہ تمہاری زبان ہے نہ جو اسے بھی ٹھیک کروں گا
ریان کے مسکرا کر بولنے پر آنیہ کو سہی معنی میں اپنی جان جاتی ہوئی محسوس ہوئی تھی
خبہ اپنا گلا تر کرتے ہوئے واجب سے اپنا ہاتھ چھڑانا چاہ رہی تھی جو اس نے خبہ کی طرف گھوری سے دیکھتے ہوئے ناکام بنا دیا تھا
خبہ واجب رانا اب یہ ہاتھ ہمیشہ میرے ہاتھوں میں ہی رہیے گا اسی لئے اس کو خود سے دور کرنے کی کوشش مت کرنا سنا تم نے وہ اس پر آہستہ سے غرایا تھا
جس پر خبہ اپنے لب کچل کر ہی رہ گئی تھی
پلیز ان پر ظالم تو مت کرو وہ اسے تنگ کرتے ہوئے بولا تھا جس پر خبہ نے اسے خیران ہوتے ہوئے دیکھ کر نظریوں کو نیچے کر لیا تھا
فریحہ مسکراتے ہوئے سب کو دیکھ رہی تھی تب ہی اسے اپنی کمر پر کسی کے حصار کو لمس محسوس ہوا تھا
حاضر مسکراتے ہوئے اس کے گرد اپنے بازوں سے حصار بنا کر اس کے ساتھ کھڑا ہو گیا تھا
میری بیوی آج مجھے اتنی خوبصورت لگ رہی ہے کیوں نہ ایک کپل ڈانس ہم بھی کر لیں وہ اس کی طرف مسکراتے ہوئے دیکھ کر بولا تھا جو اسے اپنے قریب دیکھ کر گھبرائیں تھی
سوچنا بھی مت وہ حاضر کو ورن کرتے ہوئے بولی تھی جو اسے مسکرا کر دیکھ رہا تھا
ہاہاہاہاہا ڈر گئی ہے حاضر اس کے انداز پر ہنس کر بولا تھا
اوپر سٹیج پر رسمیں کی جا رہیں تھی حاضر بھی فریحہ کا ہاتھ پکڑ کر اسے اوپر لے کر آیا تھا اور سب کے درمیان بیٹھ کر رسم کرنے لگا فریحہ کو بھی رسم کرنے کا بولا تھا
سب کے ساتھ رسم کرنے کے بعد وہ اس کا ہاتھ پکڑ کر نیچے لے کر آیا تھا اور اسے خنا شاہ کے پاس چھوڑ کر خود مردان کی طرف چلا گیا
فریحہ بھی اپنے ہی دھیان میں تھی اس نے بھی زویا پر دھیان نہیں دیا تھا کے وہ یہاں ہے بھی کے نہیں
احد اس سے ناراض سہی پر اس کی نظروں نے کہی دفعہ اسے ڈھونڈا تھا اس کی روتی ہوئی آنکھیں جب بھی احد کے سامنے آتیں وہ بے چین ہو جاتا اور اب تو وہ اسے ہر جگہ دیکھ چکا تھا پر وہ اسے کہی نظر نہیں آئی تھی
شاید ناراض ہے اسی لئے کسی کونے میں نہ ہو وہ اسے ادھر اُدھر ڈھونڈتے ہوئے بولا تھا
کہاں ہو میری جان ایک دفعہ دیدار تو کروا دو اتنی مشکل سے خود کو قابوں کیا تھا کے تم سے دور رہوں وہ سوچتے ہوئے اپنی ماں کی طرف آیا تھا
احد زویا کدھر ہے تمہارے ساتھ نہیں ہے کیا ہمارے ساتھ بھی نہیں آئی آج نہیں ملی مجھے ابھی تک یہاں وہ احد کے انکار کرنے پر پریشان ہوتے ہوئے بولی تھی
ان کی بات سے خود احد بھی پریشان ہو گیا تھا
ماما میں دیکھتا ہوں وہ ان کو بولتے ہوئے اندر گیا تھا
اندر بھی ہر طرف دیکھا تھا وہ اسے کہی نظر نہیں آئی تھی
اپنے روم میں گیا یاد آنے پر اپنے سر پر ہاتھ مارتے ہوئے جب ڈریسنگ روم میں گیا
شٹ شٹ پاگل لڑکی زویا اُٹھ جاؤ میری جان وہ اس کے گال تھپتھپا کر بول رہا تھا اس کا سر اپنی گود میں رکھا تھا جو زمین پر پڑھی ہوئی روتے ہوئے سو گی تھی
ہاتھ مت لگائے مجھے مجھے آپ سے کوئی بات نہیں کرنی وہ اس کی گود سے سر اٌٹھا کر اس سے دور ہوئی تھی
زویا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔احد نے اس کی طرف ہاتھ بڑھا کر اسے اپنے قریب کیا تھا
چھوڑ دیں مجھے جائیں یہاں سے کیوں آئیں ہیں اب مرنے دیں مجھے یہاں اکیلے ہی وہ اسے خود سے دور کرنے کی کوشش کر رہی تھی جسے احد کی گرفت نے ناکام بنا دیا تھا
بکواس بند رکھا کرو اپنی خبر دار جو مرنے کا نام لیا ہو وہ اس کا چہرا اپنے ہاتھ میں دبوچ کر بولا تھا
زویا اس کے انداز پر سسکی تھی وہ اتنی سختی کی عادی نہیں تھی نہ احد نے اس کے ساتھ اس طرح کا روئیہ پہلے رکھا تھا
احد کو غصہ میں دیکھ کر آنکھوں کو بند کیے روئی جا رہی تھی
چلو منہ دھو کر نیچے جاؤں خبردار یہ رونے کا ناٹک کیا ہو وہ اسے سیدھا کھڑے کرتے ہوئے بولا تھا
نہیں جانا مجھے جائیں یہاں سے غلطی کر دی جو یہاں آ گئی میں نہیں آنا چاہیے تھا مجھے میں صبح ہی چلی جاؤں گی یہاں سے وہ غصے سے اپنا ڈوپٹہ نیچے پھینکتے ہوئے
کبرڈ سے اپنے عام پہنے والے کپڑے نکل کر وہاں سے جانے لگی تھی
بہت زبان چلنے لگی ہے تمہاری وہ اسے دیوار سے پن کرتے ہوئے بول کر اس کے ہونٹوں پر جھک گیا تھا آج پہلی دفعہ احد نے اپنا سارا غصہ زویا پر اتارا تھا
بہت تکلیف ہوئی ہے نہ اس سے بھی زیادہ تکلیف ہوئی تھی مجھے جب تم میرا ہاتھ جھٹکتے ہوئے آگے بڑھ گئی تھی وہ اس سے پیچھے ہوتے ہوئے اس کے ہونٹوں سے خون صاف کرتے ہوئے طنزیہ سا مسکرا کر بولا تھا
زویا نے روتے ہوئے اس کی آنکھوں کی طرف دیکھا تھا جہاں کبھی محبت ہوتی تھی آج وہاں اسے غصہ نظر آ رہا تھا
تم نے میری محبت دیکھی تھی نہ اب دیکھنا میرا غصہ اب یہاں سے جانے کا نام بھی مت لینا مس زویا ورنہ تم احد شاہ کو اپنے معاملے میں بہت سفاک پاؤ گی
وہ اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے سفاکیت سے بولا تھا
دومنٹ نہیں لگاؤں گا اور تم میرا وہ روپ دیکھوں گی جو میں تمہیں نہیں دکھانا چاہتا میں بھول جاؤں گا کے تم چھوٹی ہو اسی لیے میرے غصے کو اب ہوا نہ دینا وہ اپنا ہاتھ کی پشت کو اس کی گردن پر پھیرتے ہوئے بولا تھا
چلوں میرے ساتھ نیچے اب رسم کرنی ہے ہم دونوں کو جلدی سے منہ دھو کر آؤ وہ اسے واشروم کی طرف دھکیل کر بولا تھا
زویا اس کے ہر روپ کو خیران پریشان سی دیکھ رہی تھی
واشروم میں بند ہو گئی تھی روتے ہوئے اس کی سسکیوں کی آواز احد کو باہر تک سنائی دے رہیں تھی
جو لب بیچے خود کو کنٹرول کر کے بیٹھ گیا تھا
زویا بند کرو یہ رونے کا ناٹک جلدی کرو وہ اسے ڈانٹتے ہوئے بولا تھا زویا جلدی اپنا چہرہ دھو کر باہر آئی تھی
احد نے ایک نظر اس کی طرف دیکھا تھا جو سادگی میں بھی خوبصورت لگ رہی تھی اسے برش دے کر اسے بالوں کو ٹھیک کرنے کا بول کر اس کے بال ٹھیک کر کے اسے اپنے ساتھ لے گیا تھا
پھر دونوں نے رسم کی احد اسے فریحہ کے پاس چھوڑ کر خود دوسری طرف چلا گیا تھا
زویا اپنے لب کاٹتے ہوئے خود کو رونے سے روکے ہوئے تھی
احد کی دور کھڑے بھی اس پر نظر تھی جو خود میں ہی گم چیر پر بیٹھی گم سم سی سب دیکھ رہی تھی
احد کے دل کو کچھ ہوا پر وہ لب بیچے اسے اگنور کر گیا تھا
احد کو اسے سے بہت محبت سہی پر زویا نے اس کا اس دن ہاتھ جھٹک کر احد کی انا کو ٹھس پہنچائی تھی اسی لئے احد زویا سے اتنا غصہ ہو رہا تھا
پر وہ یہ نہیں جانتا تھا کہ اس کی انا میں وہ زویا کو خود سے دور کر رہا ہے
❤️❤️❤️❤️
ماما ماما اوپر آئیں حیاء آپو کو دیکھیں زرتاشہ چیختے ہوئے اوپر سے آوازیں دے رہی تھی
سب دورتے ہوئے اوپر گیے تھے حیاء کو دیکھ کر نورین وہی دروازے پر سن سی کھڑی ہو گئی تھی ان سے ایک قدم بھی نہیں ہلا جا رہا تھا
عادل صاحب اور سلال نے دورتے ہوئے حیاء کے پاس گیے تھے جس کے ہاتھ سے خون بہہ رہا تھا
سلال اور عادل نے خود کو سنبھالا تھا
سلال اُٹھاؤ اسے جلدی جلدی لے کر چلو ہسپتال وہ اسے باہوں میں اُٹھا کر دورتے ہوئے گاڑی میں بیٹھ کر اسے لے گئے تھے
پیچھے نورین سن سی وہی کھڑی تھی
ماما کیا ہوا ہے آپو کو زرتاشہ اپنی ماں کے ساتھ لگی بولی تو ان کو ہوش آیا تھا
زرتاشہ ڈرائیور کو بولو چلو میرے ساتھ وہ خود کو سنبھال کر ڈرائیور کو عادل کو فون کرنے کا کہا تھا اور ہسپتال کی طرف نکل گئی تھی
گھر میں اکیلی زرتاشہ ہی رہ گئی تھی بس
حیاء کسی ہے عادل نورین روتے ہوئے ان سے بولی تھی سلال جو سر کو ہاتھوں میں گرا کر بیٹھا تھا نورین کے بولنے پر ان کی طرف دیکھا تھا جو ان کو ٹوٹی ہوئی لگیں تھی
پریشان مت ہوں نورین وہ ٹھیک ہو جائے گی عادل صاحب ان کو اپنے ساتھ لگ کر بینچ پر بیٹھایا تھا
ڈاکٹر باہر آئی تھی وہ سب کھڑے ہوئے تھے
آپ کی پیشنٹ ٹھیک ہے خون کی ضرورت تھی لگا دیا ہے شکر کرنا چاہیے آپ کو اللہ کا کے ان کے بےبی بھی سیف ہے ورنہ اگر دیر ہو جاتی تو ان کو بچانا مشکل ہو جاتا ہمارے لیے
ان کو بہت کئیر کی ضرورت ہے بہت کمزور ہیں وہ بہت خیال کی ضرورت ہے پلیز ہو سکے تو ان کو ٹینشن سے دور رکھیں یہ پولیس کیس تھا عادل صاحب صرف آپ کے لیے میں نے کوئی ایکشن نہیں لیا
بہت بہت شکریہ آپ کا ڈاکٹر رائمہ عادل صاحب بولے تھے وہ نورین کو بھی حوصلہ دیتی ہوئی وہاں سے چلی گئی تھی
حیاء نے پھر سے ایسا کیوں کیا ہے کیا مجھ سے پھر سے غلطی ہو گئی ہے انس کو حیاء کو سونپ کر کیا میں نے غلط کیا حیاء کے ساتھ نورین وہی بیٹھی سر کو ہاتھوں میں گرا کر روتے ہوئے بول رہی تھی
حیاء پرگنٹ ہوتے ہوئے کیسے یہ قدم اٹھا سکتی ہے کیسے اپنے ساتھ اس جان کا بھی خطرے میں ڈال سکتی ہے جو ابھی اس دنیا میں بھی نہیں آئی اور انس جانتا ہے کہ وہ ۔۔۔۔۔۔۔نورین اپنی بات ادھوری چھوڑ گئی تھی
ماما سنبھلے خود کو ابھی کچھ بھی مت پوچھیں گا اس سے پلیز وہ آگے ہی بہت سٹریس میں ہے اور پھر وہ عادل اور نورین کو اس دن کی بھی سب باتیں بتا دی تھی
سلال مجھے تم سے یہ امید نہیں تھی اتنا سب ہو گیا مجھے تو بتا سکتے تھے نہ تم وہ اس پر غصہ سے چلا کر بولے تھے
بابا مجھے لگا حیاء سب ٹھیک کر لے گی اور ویسے بھی وہ حیاء کو لے کر گیا تو مجھے لگا سب ٹھیک ہو گیا ہے ان کے درمیان سلال کے بولنے پر عادل نے اسے گھوری سے نوازا تھا
نورین اپنے آپ کو سنبھال کر اندر روم میں گئی تھی جہاں حیاء تھی ہوش میں آگئی تھی نورین کو سامنے دیکھ کر اس کی آنکھوں میں پانی آ گیا تھا
پیچھے پیچھے عادل اور سلال بھی داخل ہوئے تھے
کیا تھا یہ حیاء کیوں مجھے جیتے جی مارنا چاہتی ہو پہلے مجھے مارنا تھا پھر خود مرتی کیوں حیاء کیوں کیا تم نے ایسا ایک دفعہ اپنی ماں کو کچھ نہیں بتا سکتی تھی
کیا مجھ پر بھروسہ نہیں وہ اس کے سامنے کھڑی بولی تھی جو نظریں نیچے کیے رو رہی تھی
کاش میں مر جاؤں تاکہ تمہیں سکون مل جائے گا
ماما پلیز ایسا مت بولیں حیاء نے تڑپ کر ان کی طرف دیکھا تھا
سلال اور عادل صاحب بھی نورین کی بات سے ان کی طرف دیکھنے لگے تھے
ایک دفعہ بھی نہیں سوچا کے تمہارے ساتھ ایک ننھی سی جان بھی جھڑ چکی ہے اس کا بھی نہیں سوچا تم نے حیاء اگر اسے ہی کچھ ہو جاتا تو کیا معاف کر پاتی خود کو تم وہ اس کے پاس آئی اسے کندھوں سے تھام کر بولی تھی
ماما میں ڈر گئی تھی بہت زیادہ ڈر گئی تھی مجھے لگا بابا کی طرح انس بھی مجھے اور میرے بچے کو اپنا نہیں مانے گا میں ایک اور حیاء نہیں چاہتی تھی جو پل پل اعزیت برداشت کرئے
میں خود کی ذات پر اور کوئی بھی تہمت برداشت نہیں کر سکتی تھی اسی لیے یہ سب کیا میں نے وہ نورین کے ساتھ لگی روتے ہوئے آج پہلی دفعہ آپنا ہر دکھ ان کو بتا رہی تھی
حیاء تمہاری ماں اتنی کمزور نہیں ہے کہ تمہیں اور اس بچے کو سنبھال نہ سکتی ہو
ماما میں تھک چکی ہوں خود کو سمٹتے سمٹتے میں نہیں سنبھال پاؤں گی نہ خود کو اور نہ ہی ۔۔۔۔۔۔۔
ابھی وہ کچھ اور بولتی نورین نے اسے چپ کروا دیا تھا
بس حیاء اور کچھ نہیں سنا چاہتی میں آئندہ کوئی بھی ایسا قدم اُٹھانے سے پہلے یہ سوچ لینا کے تمہاری ماں تمہاری اس خرکت سے مر جائے گی وہ اس کا چہرہ اپنے ہاتھوں میں تھام کر اس کی آنکھوں میں دیکھ کر بولی تھی
ماں میری زندگی میں آنے والے دونوں مردوں میرا باپ اور روحان نے مجھے پل پل اعزیت دی ہے اور اس دفعہ اگر انس نے بھی اس طرح ہی کیا تو میں مر جاؤں گی ماں اس دفعہ میری اکیلے کی ذات نہیں ہے اس دفعہ میرے ساتھ ایک جان ہے
وہ روتے ہوئے ان سے بول رہی تھی
بس میری جان اب ایک اور لفظ نہیں میں ہوں اپنے بچے کے پاس میں تو ابھی سے شاپنگ کرنے جاؤں گی اپنے چھوٹے سے بےبی کے بےبی کے لیے میں بہت خوش ہوں وہ اس کے ماتھے پر پیار دے کر بولی تھی
ماما ایک نہیں دو بےبی حیاء اپنی ماں کی مسکراتی ہوئی آنکھوں میں دیکھ کر خود بھی مسکرا کر بولی تھی
کیا کیا ماما ہم اتنے بےبی کیسے سنبھالے گیے ایک زرتاشہ ایک حیاء اور دو نیا سلال مسکراتے ہوئے خیریت سے بولا تھا
زرتاشہ کدھر ہے حیاء کے پوچھنے پر خوش ہوئی نورین جس نے حیاء کو اپنے ساتھ لگایا تھا بولی
وہ تو اکیلی ہیں گھر میں میں جلدی سے آ گئی تھی نورین پریشان ہو کر بولی تھی
ماما میں جاتا ہوں آپ پریشان مت ہوں وہ حیاء سے مل کر باہر نکل گیا تھا سلال بھی پریشان ہوا تھا اور بار بار اسے فون کرنے لگا پر وہ نہیں اُٹھا رہی تھی
❤️❤️❤️❤️
خبہ دوسری سائیڈ پر بنی راہداری سے گزار کر کمرے میں جا رہی تھی جہاں سب بیٹھے ہوئے تھے
اچانک کسی نے اسے پیچھے سے اپنی طرف کھینچ لیا تھا جو ڈر کر دیوار کے ساتھ لگی تھی
وہاں اندھیرے ہونے کی وجہ سے سامنے والے کا چہرہ دکھائی نہیں دے رہا تھا خبہ خوف سے کانپتے ہوئے اسے دیکھ رہی تھی
جو شاید اس کے خوف سے لطف اندوز ہو رہا تھا
جانِ واجب دڑو مت میں ہوں وہ اس کے کان میں سرگوشی کرتے ہوئے بولا تھا
اتنا خوف زدہ کیوں ہو رہی ہو تمہاری طرف کوئی نظر بھی اُٹھا کر دیکھے تو اس کی آنکھیں نکل لوں گا ہاتھ لگانا تو دور کی بات ہے وہ اس کے کان میں بولتے ہوئے اس کی کان کی لو کو اپنے دانتوں سے کاٹتے ہوئے بولا تھا
خبہ کی خوف سے جان نکل رہی تھی اس کی گرفت واجب کی شرٹ پر مضبوط ہو گی تھی آنکھوں کو ڈر سے بند کر لیا تھا
واجب نے جیب سے لائٹر نکل کر جلایا تھا اور خبہ کے چہرے کے سامنے کیا تھا جس سے خبہ اور بھی خوفزدہ ہو گئی تھی آنکھوں کو اور بھی زور سے بند کر لیا تھا جیسے کبوتر بلی سے بچنے کے لیے کرتا ہے
بہت خوبصورت لگ رہی تھی آج وہ اس کے چہرے پر پھونک مارتے ہوئے بولا تھا اس کی بات سن کر خبہ نے آنکھیں کھولی تھیں
واجب کو سامنے دیکھا تھا جو مسکراہٹ لیے اسے ہی دیکھ رہا تھا اپنا گلا تر کرتے ہوئے واجب کو دھکا دے کر وہاں سے بھاگنے کی کوشش کرنے لگی تھی
جیسے واجب نے اس کی کلائی کو زور سے پکڑا کر اسے اپنی طرف کھینچتے ہوئے بالکل سینے سے لگا لیا تھا
واجب کے اس طرح کرنے سے خبہ کے رہے سہے اوسان بھی ختہ ہو گیے تھے
جان مجھے سے دور جانے کی کوشش تب تک مت کرنا جب تک میں تمہیں خود سے دور نہ کر دوں وہ اس کے ہونٹوں پر اپنی شہادت کی انگلی پھیرتے ہوئے بولا تھا
واجب پلیز جانے دیں مجھے خبہ منمائی تھی جس کو وہ پوری طرح سے نظرانداز کرتے ہوئے اس کی گردن پر اپنا ہاتھ پھیرنے لگا تھا
خبہ ڈر اور شرم سے آنکھوں کو بند کیے ہوئے تھی
واجب اسے خوف میں دیکھتے ہوئے اس کے ہونٹوں پر جھکا تھا
تم صرف اور صرف واجب رانا کی ہو کسی اور کو اپنے دماغ سے نکل دو تمہارے لیے اچھا ہو گا ورنہ تم میرا اسی طرح کا جنونی پن دیکھوں گی
وہ اس کے ہونٹوں پر اپنا جنون اتار کر بولا تھا خبہ خوف سے روتے ہوئے سر کو ہاں میں ہلا گئی تھی
گوڈ گرل بولتے ہوئے جہاں سے آیا تھا وہاں غائب ہو گیا تھا
خبہ اپنی سانسوں کو بحال کرتے ہوئے خود کو کمپوز کرتے ہوئے اپنے آنسو صاف کر کے پری کے روم کی طرف چلی گئی تھی جہاں سب اسے بلا رہیے تھے
❤️❤️❤️❤️
سب واپس آ کر پری کے روم میں بیٹھے ہوئے تھے زویا پری کے پیچھے بیڈ پر ٹیک لگا کر بیٹھی ہوئی تھی اس کے ساتھ ہی زینی بھی بیٹھی ہوئی تھی جس نے زویا کو اپنے ساتھ لگایا ہوا تھا
سب ہنس کر باتیں کر رہیے تھے رانیہ اپنے روم میں چلی گئی تھی
روم میں خبہ صوفے پر بیٹھی تھی اس کے ساتھ ہی احد بیٹھا ہوا تھا
سامنے بیڈ پر پری زینی زویا اور فریحہ بیٹھی تھی
سائیڈ چیر پر حاضر تھا دوسری طرف انس بھی وہی موجود تھا امن بھی ان کے ساتھ تھا اور ساتھ میں ان سب کی کچھ کزنز بھی تھی
حاضر کی پوری نظر فریحہ پر تھی کسی کی بھی پرواہ کیے بغیر وہ اس پر نظر رکھے ہوئے تھی
سب آپس میں ہنس کر باتیں کر رہیے تھے
اب اگلی باری امن کی ہے دادا نے تو امن کے لئے لڑکی بھی پسند کر لی ہے انس دل جلانے والی مسکراہٹ کے ساتھ بولا تھا جس پر امن نے اسے گھور کر دیکھا تھا
ہاں جی اور جلدی ہی اس کو بھی پیاکے گھر بجوا دیا جائے گا انس کے بولنے پر سب نے قہقہہ لگایا تھا
ہاں ہمارا انس تو پیا کے گھر جا چکا ہے میں کیوں نہ پیچھے رہ جاؤں امن نے بھی اس کو اس کے طریقے سے جواب دیا تھا
احد نے زویا کی طرف دیکھا تھا جس کی آنکھیں سوجھی ہوئیں تھیں اور اب شاید نیند کی وجہ سے آنکھیں بند کر رہی تھی
وہ اُٹھ کر زینی کی طرف گیا تھا
لائیں میں اسے روم میں لے جاؤں میں بھی جا رہا ہوں سونے وہ زینی کے پاس ہو کر جھک کر اسے اٹھانے لگا تھا
نہیں چھوڑا دو اسے جاؤ تم جا کر سو جاؤ یہ یہی سو جائے گی زینی اسے غصے سے دیکھ کر بولی تھی
زینی کے اس طرح بولنے پر احد نے ان کی طرف دیکھا تھا جن کی آنکھوں میں اسے غصہ دکھا تھا
سب اپنی ہی باتوں میں مصروف تھے کسی کا دھیان ان کی طرف نہیں تھا کیونکہ دونوں بیڈ کی دوسری سائیڈ پر تھے
یہ مت سمجھانا کے مجھے اس نے کچھ بتایا ہے میں نے ہی بھیجا تھا اسے وہ تو نہ سمجھ ہے اسے کیا پتہ ان چیزوں کا پر اس کی آنکھوں نے مجھے ساری کہانی بتا دی ہے اسی لیے اب دور رہو اس سے زینی اسے آنکھیں دکھا کر بولی تھی
احد لب بیچے ان کو دیکھتے ہوئے پیچھے ہو گیا تھا زویا کو ایک نظر دیکھا تھا جو اپنا سر زینی کی گود میں رکھ کر سو رہی تھی
اسے دیکھنے کے بعد وہاں سے چلا گیا تھا اپنے کمرے میں
ڈیم کیا مصیبت ہے احد جو غصے نہیں ہوتا تھا آج غصے سے پاگل ہو رہا تھا زویا کی وجہ سے باہر گیا تھا لائبریری والی سائیڈ پر جہاں حاضر کے دراز میں سگریٹ رکھے ہوئے تھے
وہاں سے نکل کر اپنے کمرے میں آ کر پینے لگا تھا
زویا میں نہیں کرنا چاہتا تم پر غصہ پر اب میں اپنا اختیار کھو رہا ہوں میرے سامنے مت آنا میں بھول جاؤں گا سب اور تم میری شدتیں سہ نہیں پاؤ گی
وہ سگریٹ کا کش لیتے ہوئے دھواں ہوا میں چھوڑ کر خود سے ہی بولا تھا
