Rate this Novel
Episode 8
حیاء آپو اُٹھ جائیں ماما بول رہیں ہیں کے آج ہمیں آپ سکول چھوڑ کے آؤ گی
تم دونوں کا سکول کب ختم ہو گا روز مجھے تنگ کرنے آ جاتیں ہو آج تو سونے دیتیں مجھے کتنے دن بعد سکون سے سوئی تھی وہ جھنجھلاتے ہوئے بولی تھی
آپو یہ کس کے کپڑے ہیں زویا نیچے سے شاپنگ بیگ اُٹھ کر بولی جو رات کو انس رکھ کر گیا تھا
زویا چھوڑو اسے تم جاؤ میں بس دس منٹ میں آرہی ہوں وہ زویا کے بولنے پر جلدی سے اس سے شاپنگ بیگ لے کر اسے باہر بجھتے ہوئے بولی تھی
کیا مصیبت ہے انس شاہ جہنم بنا دی ہیں تم نے میری زندگی رات کا سارا واقعہ یاد کر رونے والی ہو چکی تھی
حیاء آپو آ بھی جائیں زرتاشہ کی آواز سن کر جلدی سے منہ دھو کر نیچے چلیں گیی تھی
حیاء آپو آپ ہمیں آج لینے بھی آئیے گی ماما بول رہیں تھیں زرتاشہ باہر نکلتے ہوئے بولی تھی
حیا نے بے زار سی شکل بنائیں تھی زرتاشہ اس کے گال پر پیار کرتے ہوئے مسکرا کر باہر نکل گئی تھی
سامنے کھڑے شخص نے زرتاشہ کو غصے سے دیکھ تھا وہ جو اپنے دھیان سے اندر بڑھنے لگی تھی سلال کو سامنے دیکھ کر اس کا منہ کھلا گیا تھا
زرتاشہ نے پیچھے مدد کے لئے دیکھ تو حیاء وہاں سے اسے چھوڑ کر جا چکی تھی اور زویا اندر چلی گئی تھی زرتاشہ ڈرتے ہوئے آہستہ آہستہ اپنے قدم اندر کی طرف لینے لگی
ک……. ک…….. کیا ہے چھوڑیں مجھے وہ زرتاشہ کو کھینچتے ہوئے اپنی گاڑی کے پاس لے گئے تھا صبح کا وقت تھا ایسی لیے وہاں کوئی نہیں تھا وہ بھی سردیوں کی صبح
خبردار آئندہ تم نے اپنی بہن تک کو پیار کیا ہو جان سے جاؤ گی میرے ہاتھوں وہ اس کا چہرا دبوچتے ہوئے بول رہا تھا
م میں ماما اور عادل انکل کو بتاؤں گی آپ کا آپ مجھے تنگ کرتے ہیں زرتاشہ اس سے ڈرگئی تھی پو ڈرتے ڈرتے ہوئے بول رہی تھی
زری میں کسی سے ڈرتا نہیں ہوں جاؤ اب اور میری بات اپنے ذہین میں رکھنا جو میرا ہے وہ صرف میرا ہے سمجھی وہ اسے چھوڑتے ہوئے بولتا تب تک دیکھتا رہا جب تک وہ اندر نہیں چلی گئی
کیا مطلب ہوا اس کی بات کا زری اس کی باتوں کو سوچ رہی تھی
دفع کرو زری یہ بہت بدتمیز ہے چلو اندر وہ سوچتے ہوئے اندر چلی گئی
❤️❤️❤️❤️
زینی میری بات سنو جو اپنی ہی سوچوں میں گم نیچے کی طرف بڑھ رہی تھی تبریز کے بولنے پر سر اُٹھ کر اسے دیکھنے لگی اسے دیکھ کر لب بیچے بینا اس کی بات کا جواب دیے آگئے بڑھ گئی
زینی میں تم سے بات کر رہا ہوں پلیز میری بات تو سنو تبریز نے جاتیں ہوئی زینی کی کلائی پکڑ کر اپنے سامنے کیا تھا
چھوڑیئے مجھے زینی سرخ آنکھوں سے اسے دیکھتے ہوئے بولی اس کی سرخ آنکھیں اس کے رونے کی گواہی دے رہیں تھیں
صرف دو منٹ مجھے سے بات کرنیں ہے……….. پلیز آج اس کے لہجے میں کوئی غرور نہیں تھا
پر مجھے آپ سے کوئی بات نہیں کرنیں آپ یہ حق کھو چکے ہیں میں یہ شادی صرف اور صرف اپنے والدین اور اس خاندان کی عزت کے لیے کر رہیں ہوں ورنہ میں آپ کی شکل بھی نہیں دیکھنا چاہتی مجھ سے اور کوئی امید مت رکھیے گا وہ غصے سے اس سے اپنا ہاتھ چھوڑوتیے ہوئے بول رہیں تھی
زینی………… تم بہت زیادہ بول رہیں ہو تبریز کو اس کی باتوں سے غصہ آیا تھا
ہاہاہا واہ اور آپ جو بولیں وہ کچھ نہیں میں بولوں تو زیادہ مسٹر تبریز آپ مجھ سے امید رکھنا چھوڑ دیں کیونکہ آپ کے لیے میرے دل میں اب کچھ نہیں بچا…..
میرے ہر احساس کو آپ نے خود اپنے ہاتھوں سے دفن کیا ہے
مجھے بے اعتبار کر کے دوسروں کی باتوں میں آکر اب میرا دل خالی ہے اس میں کوئی بھی احساس آپ کے نام کا نہیں ہے…….اسی لیے سوچ لیں آپ کی محبوبہ آپ کا انتظار کر رہیں ہو گی اسی سے شادی کر لیں وہ ہنستے ہوئے طنزیہ اس سے بولی تھی
زینی تبریز کو اس کی بات پر غصہ آیا تھا اسی لئے اس کا ہاتھ اُٹھ تھا پر وہ خود کو کنٹرول کر گیا ہاتھ ہوا میں ہی رہ گیا
ہاہاہا تکلیف ہوئی میری بات سے اور یہ ہاتھ کیوں روک دیا مار لیتے مجھے یہ کام بھی پورا کر لیتے وہ ہنستے ہوئے جنونی انداز میں بولتے ہوئے تبریز کو خوفزدہ کر گیی تھی
مر گی ہے وہ زینی جو آپ سے پیار کرتیں تھی اب صرف یہ خاندان کی بیٹی ہے جو صرف اس خاندان کی عزت کے لیے آپ سے شادی کر رہیں ہے سنا آپ نے چھوڑیں مجھے وہ اس سے اپنا ہاتھ چھوڑوتیے ہوئے خود کو کنٹرول کرتیں واپس اپنے کمرے کی طرف مڑ گئی تھی
پیچھے تبریز کو لگ رہا تھا اس نے سب کھو دیا ہے اپنی محبت کو بے اعتبار کر کے آج وہ خالی ہاتھ رہی گیا تھا
❤️❤️❤️❤️
تم کہاں جانے کی تیاری میں ہو حیاء فریحہ کے کمرے میں آئی تو اسے الماری سے کپڑے نکلتے ہوئے دیکھ کر بولی تھی
میں پری کے ساتھ جا رہیں ہوں اس کے بھائی کی شادی پر دو دن وہیں رہنے کا پلان ہے ماما سے ریکوسٹ کی تھی پری نے اسی لیے تیاریاں کر رہیں ہوں
کب تک جانا ہے حیاء اسے بیگ میں کپڑے رکھنے میں مدد دیتے ہوئے بولی تھی
ابھی تھوڑی دیر میں نکل جاؤں گی………… آج تم نے بھی تو جانا تھا نہ پارٹی میں اس کا کیا بنا
ہمم وہی سوچ رہیں ہوں کیا کروں جاؤں یا نہ دل نہیں ہے پر زوحا دو دفع فون کر چکی ہے راستے میں حیاء بولتے ہوئے بیڈ پر پڑے اس کے سامان کو اُٹھ کر اسے دے رہی تھی
چلی جاؤ جلدی آ جانا ویسے بھی گھر میں اکیلی بور ہو جاؤں گی…. اس سے اچھا ہے وہاں تھوڑی دیر زوحا کے ساتھ انجوائے کر لینا
ہمم سوچتیں ہوں چلو تمہارا کام ہو گیا نہ آؤ اب مجھے ناشتہ بنا دوں…… حیاء اس کا کام پورا ہوتے ہوئے دیکھ کر بولی تھی
حیاء تم بچی نہیں ہو…… اپنے کام خود بھی کر لیا کرو
اچھا کر لو گی ابھی تو بنا دو وہ اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے باہر لے جاتے ہوئے بولی تھی
بیل ہوئی ہے تم کچن میں جاؤ میں دروازے پر دیکھتی ہوں بیل کی آواز پر وہ اسے کچن میں بھیجتے ہوئے بولی تھی
فریحہ اسے آنکھیں دکھاتے ہوئے کچن کی طرف چلی گئی تھی
جی آپ کون حیاء باہر ایک لڑکی کو دیکھ کر بولی تھی
ہیلو حیاء آپو میں پری وہ حیاء کے گلے لگ کر پیار دیتے ہوئے ایسے بول رہیں تھی جیسے بہت پہلے سے جانتی ہو
آپ تو بہت خوبصورت سی ہیں میں نے سمجھا پتہ نہیں کتنی بڑی اور سخت سی ہوں گی پری حیاء کو دیکھتے ہوئے بولی جا رہی تھی
مجھے لگتا تھا میں ہی زیادہ باتیں کرتیں ہوں پر مجھے کیا معلوم تھا یہ مجھ سے بھی بڑی ایٹم ہے وہ دل میں سوچتے ہوئے مسکرا رہی تھی
اوہ مجھے تو یاد ہی نہیں رہا میں پری کو لینے آئی ہوں آپ بھی چلیں نہ میرے ساتھ مزہ آئے گا وہ بولتے ہوئے اس کی طرف دیکھنے لگی
نہیں میں نہیں جا سکتی پھر کبھی جاؤں گی….. وہ اس کے گال تھپتھپا کر بولتے ہوئے اسے کچن کی طرف فریحہ کے پاس لے گئی تھی
فریحہ وہ پیچھے سے فریحہ کے گلے لگ گئی تھی تم کوکنگ بھی بنا لیتیں ہو وہ اس کے گلے لگنے کے بعد اسے ناشتہ بناتے ہوئے دیکھ کر بولی تھی
جی کر لیتیں ہوں جاناں پہلے سلام لے لیا کرو پھر اگلی باتیں شروع کیا کریں سمجھی وہ اسے پیار کرتے ہوئے بولی تھی
پری چایے پینی ہے تم نے یا تمہارے لیے بھی ناشتہ بنا دوں
میں بھی ناشتہ کروں گی میں ڈرائیور کے ساتھ آئی ہوں وہ مارکیٹ تک گیا ہے اسی لئے ابھی ٹائم ہے ہمارے پاس تو اس لیے مجھے بھی ناشتہ کرنا ہے میں نے گھر بھی نہیں کیا وہ مسکراتے ہوئے بول رہی تھی
شکر ہے نہیں آیا وہ فریحہ نے دل میں شکر کا سانس لیا تھا
حیاء دونوں کو غور سے دیکھا رہیں تھی
حیاء آپو ایسے کیوں دیکھ رہیں ہیں کیا میں اتنی خوبصورت لگیں ہوں آپ کو پری مسکرا کر اس سے بول رہی تھی
وہ نہ…………… حیاء ابھی بول ہی رہی تھی کہ
ہاں مجھے پتہ ہے میں پری کی طرح ہوں سب یہی بولتیں میں اپنے نام کی طرح پری ہوں وہ آنکھوں کو جھپکتے ہوئے بولتی حیاء کو بھی مسکرانے پر مجبور کر گئی تھی
ہاں پری تو تم ہو پر تب تک جب تک بولو نہ حیاء اسے بولتے دیکھا کر مسکرا کر بولتے ہوئے آدھی بات اپنے دل میں ہی سوچ کر رہ گئی تھی
ہاں جی یہ تو میری چھوٹی سی پری ہے فریحہ باہر آتے ہوئے ٹیبل پر ناشتہ لگاتے ہوئے بولی تھی
پری اس کی بات پر مسکرا دی تھی
پری میں ہوں اس سے ڈری ڈری ایسی بولنے والی پری سے اللہ دور ہی رکھے…… حیاء بول نہیں پائیں تھی بس سوچ کر ہی رہ گئی تھی
تم دونوں ناشتہ کر لو تب تک میں تیار ہو کر آئی فریحہ ان کو بولتے ہوئے اوپر اپنے کمرے کی طرف چلیں گیں
آپو………. پری ابھی بول ہی رہیں تھی
نہ پری کھاتے ہوئے نہیں بولتے گناہ ملتا ہے کھانا چپ کر کے کھاتے ہیں…….. توبہ ہے یہ لڑکی بول بول کر میرے کان کھا دے گی حیاء جان بوجھ کر ایسے بولتے ہوئے اسے چپ کروا گئیں تھی
جی اچھا آب نہیں بولتی مجھے نہیں پتہ تھا ورنہ میں تو اتنی باتیں کرتیں ہوں شکر ہے آپ نے بتا دیا شکریہ آپ کا آپو پری تو پری ہے وہ پھر بھی بولنے سے کہاں باز آ سکتی تھی
حیاء اسے پھر سے بولتے دیکھ کر بمشکل جلدی جلدی اپنا ناشتہ ختم کرنے لگیں
اب مجھے پتہ چلا لوگوں مجھے کیسے برداشت کرتیں ہوں گے
وہ فریحہ بھی آ گئی پری فریحہ کو دیکھ کر بولی تھی
چلیں فریحہ پریوش فریحہ سے بولی تھی اور اس کے ہاتھ سے اس کا بیگ لے لیا تھا
میں ماما سے صبح ہی مل لیا تھا ماما کا دھیان رکھنا اوکے اللہ حافظ وہ حیاء سے ملتی اسے ماما کا دھیان رکھنے کا بولتی وہاں سے پری کے ساتھ نکل گئی تھی
❤️❤️❤️❤️
ہیلو جی بولو کیا تکلیف ہے یار جب بولا تو ہے نہیں دل کر رہا آنے کا تو کیوں بار بار کال کر کے تنگ کر رہی ہو زوحا کب سے کال کر رہیں تھی آخر تنگ آ کر اس نے کال اُٹھ کر دوسری طرف کی بینا سنے شروع ہو چکی تھی
دس منٹ صرف دس منٹ ہیں تمہارے پاس جلدی سے تیار ہو کر نیچے آؤ میں نیچے کھڑا ہوں نہ نہیں سننا چاہتا میں آج تم میری پارٹنر ہو ٹائم شروع ہوتا ہے اب
ٹائم ختم ہوتے ہی میں آ کر تمہیں خود تیار کر کے لے کر جاؤں گا اوکے اسی لئے جلدی دس منٹ میں پہچا جانا دس میں سے اب نو منٹ ہیں
یہ پاگل انسان میرے پیچھے ہی پڑھ گیا ہے حیاء اپنا سر پکڑ کر بیٹھ گئی تھی بیل کی آواز پر موبائل کو دیکھنے لگیں
آٹھ منٹ……..وہی کپڑے پہنا جو میں لے کر آیا تھا انس کا میسج پڑھ کر جلدی سے اُٹھ کر کپڑے لیتے ہوئے واش روم میں بند ہو گئی تھی
جلدی جلدی تیار ہوتے ہوئے نیچے گئیں تھی اماں بی کو بتاتیں ماما کو میسج کرتے ہوئے گیٹ سے باہر نکل رہی تھی انس سامنے ہی کھڑا تھا
حیاء کو آتے ہوئے دیکھ کر اپنی آنکھوں کو جھکانا بھول گیا تھا جو اپنی ہی دھیان سے موبائل پر لگی ہوئی گیٹ سے نکلتے ہوئے اس کی طرف بڑھ رہی تھی
بےبی پنک کلر کا فرک جس پر نفیس سا دھاگے کا کام تھا سائیڈ پر ڈوپٹہ لیے آدھے بالوں کو کیچر میں جکڑے اب اس کی طرف غصے سے دیکھا رہیں تھی
چشمش بہت خوبصورت لگ رہی ہو تمہارا چشمہ میرا دل نکال لیتا ہے انس اسے غصے میں دیکھ کر مسکرا کر بولا جو اپنا چشمہ صاف کرتے ہوئے اسے پہن رہی تھی
زیادہ دانت مت نکالوں چلوں یہاں سے وہ اسے بولتے ہوئے گاڑی کے دوسری طرف جا کر بیٹھ گئیں تھی
انس مسکراتے ہوئے بیٹھ کر گاڑی کو آگے بڑھا چکا تھا
❤️❤️❤️❤️❤️
آپ کوئی ضروری کام تھا مجھے بلا لیتے نورین عادل کو اپنے آفس روم میں آتے دیکھ کر بولی تھی
ہاں ضروری کام تھا ایسی لیے جلدی میں ہوں یہ کچھ پیپرز ہیں ان پر جلدی سے سگنیچر کر دیں عادل ان کے آگے کچھ پیپرز رکھ کر بولا تھا
کس چیز کے پیپرز ہیں یہ نورین ان سے پیپرز لے کر عادل صاحب کو جلدی میں دیکھا کر بنا پڑھے سائن کرنے لگیں
عارف کریم کی کمپنی کی ڈیل کی فائل بنانیں ہیں اسی لئے اسی کے پیپرز ہیں
وہ جلدی میں بولے تھے
یہ لے ہوگئے ہیں سائن وہ ان کو پیپرز دیتے ہوئے بولیں تھیں
شکریہ آپ کا وہ مسکراتے ہوئے ان سے پیپرز لے کر بولے تھے اور پھر غور سے پیپرز کو دیکھ رہیں تھے اور مسکرا بھی رہیں تھے
اتنا مسکرا کیوں رہیں ہیں وہ ان کو مسکراتے ہوئے دیکھ کر بولی تھی جو اب فائل کو دیکھتے ہوئے مسکرا رہیے تھے
کچھ نہیں بس ایسے ہی آج لگ رہا ہے جیسے ساری دنیا جیت لی ہو وہ ان کی طرف دیکھت
دیکھتے ہوئے بول کر نورین کو خیران چھوڑ کر باہر نکل گے تھے
پتہ نہیں ان کو کیا ہو گیا ہے اب نورین سوچتے ہوئے پھر سے اپنے کام میں لگ گئیں تھیں
❤️❤️❤️❤️
سر آج آپ گھر جا رہیں ہیں شیروں اس کے فلیٹ میں موجود تھا اس کے ساتھ اسے اپنا سامان پیک کرتے ہوئے دیکھ کر بولا تھا
ہاں گھر جا رہا ہوں کیونکہ تم تو مجھے مایوس کرچکے ہو ایک لڑکی کا پتہ نہیں لگا پا رہیں تم یہ جانتے ہوئے بھی کے کتنی اہم ہے وہ میرے لیے میری منکوحہ ہے وہ
یہ بھی جانتے ہو کہ چھوٹی ہے وہ اس چیز کو نہیں سمجھ سکتی کہی کچھ غلط نہ ہو جائے ڈر ہے مجھے اب واپس آ جاؤں ایک دفعہ حویلی سے ہو کر پھر خود اسے ڈھونڈ لو گا چاہے وہ زمین کے کسی بھی کونے میں چھپی ہوئی ہو
اسے میں لے آؤں گا اپنے پاس وہ شیر خان سے بولا تھا
سر میں پوری کوشش کر رہا ہوں پر کوئی سراغ نہیں مل رہا اب ان کی ماں کی کمپنی سے ہی کچھ حاصل کرنا پڑھے گا
جہاں وہ کام کرتیں تھیں شاہد وہی سے پتہ چل سکھے شیر خان کے بولنے پر احد نے خیران نظروں سے اس کی طرف دیکھ
شیر خان تمہیں میرے ساتھ اتنی دیر ہو گئی رہتے ہوئے پھر بھی تم وہ غصے سے بولتے ہوئے اپنی بات کو بیچ میں ہی چھوڑ گیا تھا
تم اب تک میری ساس کے آفس میں پتہ نہیں کرو سکے واہ شیرخان تمہاری عقل سچ میں گھاس چیرنے چلیں گئیں ہے
شیر خان اس کے ساس کہنے پر مسکرا دیا تھا اور اپنی مسکراہٹ کو چھپانے کے لئے منہ کو نیچے کر گیا تھا
شیر خان مسکرانا بند کرو اور میرے آنے سے پہلے پتہ میرے ہاتھ میں ہونا چاہیے سنا تم نے وہ اسے بولتے ہوئے باہر جانے کا اشارہ کر کے خود اپنے کپڑے لے کر واش روم میں چلا گیا تھا
یس سر مل جائے گا اور شیر خان بھی باہر نکل گیا
❤️❤️❤️❤️
پارکنگ میں گاڑی روکنے کے بعد انس باہر نکلا تھا
حیاء انس کے باہر نکلنے سے پہلے ہی باہر نکل کر یونیورسٹی کی طرف چلی گئی تھی
انس اسے مسکرا کر جاتے ہوئے دیکھ رہا تھا پھر خود بھی سر جھٹکتے ہوئے ہوئے اس کے پیچھے چلا گیا
حیاء تم جتنے تم کو میں نے فون کیے ہیں مجھے لگا تم نہیں آؤ گی زوحا حیاء کو دیکھتے ہوئے شروع ہو گئی تھی
ہاں دل تو نہیں تھا پر بس تمہارے لیے آ گئی ہوں وہ مسکراتے ہوئے صاف چھوٹ بول گئی تھی
لاسٹ سمسٹر کے سٹوڈنٹس کی آج سٹیج پر پرفارمنس تھی سب سٹوڈنٹ وہاں جمع تھے
حیاء زوحا کے ساتھ کھڑی تھی
انس لوگوں کا گروپ بھی وہیں کھڑا تھا جن میں آنیہ انس امن وجب رائمہ رابی سب تھے
انس کی ساری نظر حیاء پر تھی حیاء اپنے اوپر انس کی نظر محسوس کر کے کنفیوز ہو رہیں تھی
چلو زوحا کہی دوسری طرف چلتے ہیں حیاء انس کی نظروں سے گھبراتے ہوئے بولی تھی
کیا یار یہی کھڑی رہو ورنہ ایک دفعہ گیے تو واپسی پر جگہ ہی نہیں ملنی یہاں کھڑے ہونے کی زوحا کے بولنے پر وہ چپ کر کے اپنے لب کاٹنے لگ گئی تھی
اسلام وعلیکم کیسی ہیں آپ حیاء امن شاہ جو کب سے کھڑا حیاء کو دیکھ رہا تھا آخر دل کے ہاتھوں مجبور ہوتے ہوئے اس کی طرف بڑھا
میں ٹھیک ہوں آپ سنائیں حیاء نے بھی مسکراتے ہوئے جواب دیا تھا
ساتھ ہی میوزک شروع ہوا تھا اور کچھ سٹوڈنٹ پروفوم کرنا شروع کر چکے تھے
آپ کی طبیعت اب کیسی ہے میں نے سنا تھا آپ ٹھیک نہیں ہیں بخار ہو گیا تھا وہ مسکراتے ہوئے حیاء سے باتیں کرنے لگا تھا
حیاء بھی مسکرا کر اس کی باتوں کا جواب دے رہیں تھی
دوسری طرف انس کا غصے سے پارا ہائی ہو چکا تھا وہ غصے سے آگے بڑھا تھا اور حیاء کا ہاتھ پکڑ کر اسے باہر لے کر آیا گیا تھا
پیچھے سب کو خیران پریشان چھوڑ کر امن تو زوحا اور اس کے دوست بھی اس کے پیچھے بھاگے تھے
انس کیا بدتمیزی ہے چھوڑ ایسے میں حاضر لالہ سے تمہاری شکایت لگاؤں گا زیادہ تیز مت بن امن پیچھے سے بولا تھا
دفع ہو جاؤ سب ورنہ مجھ سے برا کوئی نہیں ہو گا وہ غصے سے اپنے پیچھے آنے والوں پر زور سے غرایا تھا اس کی غراہٹ سے حیاء بھی ڈر گئی تھی
ان سے لڑتے ہوئے انس کی گرفت ڈیلی ہوئی تھی اسی لئے حیاء جلدی سے اس سے اپنا آپ چھوڑاتیں ہوئے امن کی طرف بڑھ گئی تھی
سمجھا لو اپنے اس پاگل بھائی کو میرا پیچھا چھوڑ دے خود تو پاگل ہے مجھے بھی پاگل کر دے گا وہ امن سے بولی تھی پر جب انس کو خود کے قریب آتے دیکھا تو ڈر کر امن شاہ کے پیچھے چپ گئیں تھی
انس دور رہ حیاء سے امن انس اور حیاء کے بیچ میں آیا گیا تھا
کیوں کیا کر لے گا تو انس بھی غصے سے امن کا کلر پکڑا کر بولا تھا
حیاء صرف انس شاہ کی ہے اس پر کسی نے بھی نظر رکھی تو آنکھیں نکال لیو گا سنا تو نے
انس کی بات پر سب نے حیرت سے اس کی طرف دیکھ تھا ان میں مطمئن تھا تو واجب تھا باقی منہ کھولے اسے دیکھ رہیے تھے
کیا بکواس کر رہے ہو تم انس آنیہ آگے بڑھ کر غصہ سے اس کی طرف دیکھا کر بولی تھی
انس نے ضبط سے مٹھیاں بیچھ لی تھیں آنکھیں لال انگارا ہو گئیں تھیں
بولو نہ انس شاہ کون ہوں میں تمہاری کس حق سے مجھے بول رہیں تھے کے میں تمہاری ہوں حیاء بھی آگے بڑھتے انس کا کلر دبوچے ہوئے بولی تھی
انس شاہ کسی سے نہیں ڈرتا حیاء وہ اس کی کمر کے گرد ہاتھ ڈال کر بولتا اسے اپنے قریب کرتے ہوئے بول رہا تھا
پھر اپنے لب اس کے ماتھے پر رکھ دیے تھے
پیچھے کھڑی آنیہ غصے سے آگے بڑھی تھی اور حیاء کو انس سے پیچھے کر کے تھپڑ مارنے لگی تھی
خبر دار آنیہ جو تم نے حیاء پر ہاتھ اُٹھانے کی کوشش کی ہو وہ اس کا اُٹھ ہاتھ ہوا میں ہی روکتے ہوئے بولا تھا
حیاء یہ سب دیکھتے ہوئے آنکھوں میں آنسو لیے باہر کی طرف ہی بڑھ گئی تھی وہ دوڑتے ہوئے یونیورسٹی کی بیک سائیڈ کی طرف چلیں گئیں تھیں
انس حیاء کو جاتے ہوئے دیکھ کر وہ بھی اس کے پیچھے بھاگا تھا
پیچھے سب کو سکتے میں چھوڑ گیے تھے
