Rate this Novel
Episode 19
حیاء بیٹا ناشتہ تو ٹھیک سے کر لو کھانا بھی نہیں کھایا تھا تم نے
حیاء ناشتہ کرنے کے لیے بیٹھی تھی عاقب شاہ کو اپنے سامنے دیکھ کر چائے اُٹھا کر جانے لگی تھی کہ ان کی آواز پر پیچھے مڑ کر دیکھا تھا
نہیں ہوں میں آپ کا بیٹا خبر دار جو آئندہ یہ چھوٹا پیار جتانے کی کوشش کی ہو آپ اپنے بچے سنبھال لیں جو آپ کے پاس ہیں ہم صرف اور صرف نورین عادل کی بیٹیاں ہیں سنا آپ نے حیاء آنکھوں میں غصے لیے چائے کو ٹیبل پر رکھ کر دونوں ہاتھوں کو ٹیبل پر رکھ کر غرائی تھی
پر بیٹا میری بات تو سنو لو ایک دفعہ عاقب شاہ لہجے میں بے چارگی لیے بولے تھے
میں نے کہا نہ مت بولیے بیٹا میں کچھ نہیں بھولی ہوں مسٹر عاقب شاہ اپنی ماں کے جسم پر لگے ہر زہم یاد ہیں مجھے میرا بچپن میری بہنوں کا بچپن تک چھین لیا آپ نے
یہ دیکھ رہیں ہیں آپ اسے اسے شادی جیسے رشتے سے نفرت ہے آپ کی وجہ سے اور اسے دیکھے جس کا باپ کا مطلب تک نہیں پتہ وہ یہ تک نہیں جانتی کہ باپ ہوتا کیا ہے اچھا ہی ہوا جو نہیں جانتی آپ جیسا باپ ہونے سے بہتر ہے کہ ہمارا باپ مر جاتا
ہمیں نہیں ہے کسی باپ کی عادت ہماری ماں ہمارے لیے سب کچھ ہے
بہت کچھ ہے بتانے کو میرے پاس پر آپ جیسے بے حس انسان کو بتا کر کیا کروں گی جیسی تو یاد تک نہیں ہوں گی ہم آپ کو تو یہ بھی یاد نہیں ہو گا کے کیا کیا کر چکے ہیں آپ ہم سب کے ساتھ
اپنی بیٹی تک کو
Stop it Haya
جاو یہاں سے ابھی جاو
فریحہ کے چیخنے پر حیاء نے لب بیچے تھے اور غصے سے دیکھتے ہوئے وہاں سے جانے لگی تھی
حیاء کی باتوں سے سب کو سانپ سونگ گیا تھا ہال میں بیٹھے سب بڑے بھی وہاں آ چکے تھے دونوں بہنوں کو غصے میں دیکھ رہے تھے
انس بھی حیاء کو دیکھ رہا تھا جو لب بیچے اپنے آنسو کو کنٹرول کرتے ہوئے خود کو کچھ کہنے سے باز رکھے ہوئے تھی
چلو میرے ساتھ فریحہ اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے اپنے ساتھ لے گئی تھی جو چپ بے حس بنی اس کے ساتھ جانے لگی تھی
حاضر بھی وہاں موجود سب دیکھ کر چپ کر گیا تھا
عاقب شاہ شرمندگی سے سر کو جکا گئے تھے آنسو ان کی آنکھوں سے نکل رہیے تھے پر اب ان کے یہ آنسو کچھ بھی بدل نہیں سکتے تھے
یہ آنسو ساری زندگی کے تھے
پر یہ آنسو سچ میں سچے تھے کیا
❤️❤️❤️❤️
کب تک چلے گا یہ سب سنبھالوں تم دونوں اپنی اپنی بیویوں کو آگے گھر میں پھر سے شادی آنے والی ہے اسی لئے اب کوئی بھی ہنگامہ نہیں چاہتا میں دادا شاہ حاضر اور انس کو بولے تھے جو کے بیچ میں بیٹھے ہوئے تھے
عاقب شاہ تم بھی خود پر کنٹرول رکھو آج تمہیں اپنی بیٹیوں پر پیار آنے لگ پڑھا ہے اتنی دیر بعد جیسے پہلے ان کو بھول کر بیٹھے ہوئے تھے اب بھی بھول جاؤ
بس کر دیں بابا آپ نے ہی مجبور کیا تھا مجھے ان کو چھوڑنے کے لیے سارے تو دروازہ بند کر دیے تھے مجھ پر آپ نے اور آج آپ اپنے پوتوں کے عشق معشوق میں بہت ساتھ دے رہیں ہیں میری دفع مجھے گھر سے ہی نکل دیا تھا عاقب شاہ کھڑے ہوتے ہوئے غصے سے بولے تھے
ہاں دے رہا ہوں ساتھ کیوں کہ ان کی پہلی پہلی شادی ہے تمہاری طرح ان کو شادی اور دو بچوں کے بعد پیار نہیں ہوا ہم نے تمہیں اس لیے نہیں بھیج تھا شہر کے پڑھنے کے لیے کے وہاں جا کر شادی کر لو مجھے کیا پتہ تھا تم شادی کر کے بچیوں کو پیدا کر کے چھوڑ اییے ہو
واہ بابا کیا بات ہے میرے لمحہ لمحہ کی خبر تھی آپ کو اور آپ کو یہ تک معلوم نہیں تھا کہ میری بیٹیاں بھی ہیں آج آپ کو اپنی پوتیوں پر جو پیار آ رہا ہے سب بے سود ہے تب کیوں نہیں لے کر آیے ان کو جب میں بے حس چھوڑ آیا تھا وہ سر کو ہاتھوں میں تھام کر بیٹھ گیے تھے
بس کر دو عاقب شاہ ہو گئی تھی ہم سے غلطی پر جب ہمیں احساس ہوا تب تک وہ یہاں سے کہیں دور جا چکی تھیں بہت ڈھونڈا تھا ہم نے پر وہ نہیں ملیں دادا شاہ بھی اپنے لہجے میں تھکن لیے بولے تھے
سب چھوٹے بڑے ان کی باتوں کو سن رہیں تھے اور خیریت میں بھی تھے کے اتنا سب ہو چکا تھا اور کسی بھی بچے کو پتہ تک نہیں تھا
دادا چاچو غلطی تو سب سے ہو چکی ہے اور بگتان بھی آپ س کو پڑھے گا دوسری غلطی حاضر لالہ اور انس نے کی غلطی مجھ سے بھی ہوئی ہم سب ان کے گناہگار ہے ہر ایک نے صرف اور صرف اپنا سوچا ہے آج بھی وہ یہاں ہیں تو صرف ہماری خود غرضی کی وجہ سے آحد ان کی بات سن کر طنزیہ مسکراہٹ سے بولا تھا
حاضر لالہ ایسے مت دیکھیں مجھے جب فریحہ کو آپ کے چھوٹ کا پتہ چلیے گا تو اعتبار وہ آپ پر کبھی بھی نہیں کر پائے گی احد حاضر کے دیکھنے پر اس سے بولا تھا
بس آج کے بعد اس بارے میں کوئی بات نہیں ہو گی احد سن لیا سب نے پلیز سب جائیں اور اپنی اپنی تیاریاں کریں کچھ دن تک فری ہو کر میں اور فریحہ شہر والے بنگلہ میں شیفٹ ہو جائیں گے
حاضر وہاں سے اَٹھا تھا اور سب کو بولتے ہوئے نکل گیا تھا
احد پیچھے افسوس سے سر ہلا کر رہا گیا تھا بس
انس کو تو خود کے کیے پر کبھی شرمندگی ہوئی نہیں تھی اس لیے وہ بھی سکون سے انگڑائی لیتے ہوئے سگریٹ نکل کر اسے جلاتے ہوئے وہاں سے چلا گیا تھا
❤️❤️❤️❤️❤️
حیاء تمہارا دماغ تو ٹھیک ہے کیا بکواس کرنے والی تھی تم سب کے سامنے فریحہ حیاء پر چلا رہی تھی جو گم سم سی بیڈ پر گری ہوئی لیٹی تھی اوپر پنکھے کو گور رہی تھی
حیاء بس کر دو کب تک خود کو اس کیے کے لیے تکلیف دو گی جس میں تمہاری کوئی غلطی نہیں ہے بھول جاؤ سب میں سب دیکھتی ہوں تمہاری آنکھوں میں مجھے تمہاری ہر ہنسی اور غم کا پتہ چل جاتا ہے
خود پر جتنی بھی خول چڑھا لو بہن ہوں تمہاری بچپن کا ساتھ کچھ بھی نہیں چھوپا ہوا مجھ سے فریحہ اس کے پاس کھڑی بول رہی تھی جو شاید کچھ سن نہیں رہی تھی یا سنانا نہیں چاہتی تھی
پلیز فریحہ تھوڑی دیر اکیلے چھوڑ دو گی مجھے حیاء اسے دیکھے بینا بولی تھی
حیاء پلیز ٹھیک ہے انس نے بہت برا کیا ہے پر سب کچھ بھول کر نئی زندگی شروع کر لو اس کے ساتھ میں خوش دیکھنا چاہتی ہوں تم کو
سٹاپ فریحہ تمہیں کیا لگتا ہے انس مجھے اس داغ کے ساتھ قبول کر پائے گا کبھی بھی نہیں اسے اپنی ہر چیز پرفیکٹ چاہیے اور میں پرفیکٹ نہیں ہوں میں اگر یہاں ہوں تو صرف تم دونوں کے لئے اور ماما کے لیے ورنہ مجھے معلوم ہے جلدی بعید انس سب جان گئے تو وہ مجھے خود ہی چھوڑ دیے گا وہ تلحظ سا مسکرا کر بولی تھی
اچھے کی امید رکھو حیاء اس میں تمہارا تو کوئی قصور نہیں ہے فریحہ اس کی مسکراہٹ میں چیپے دکھ کو محسوس کر کے بولی تھی
ہاہاہاہاہا اسی لیے تو اتنی خوش رہتی ہوں کہ اس میں میرا قصور نہیں ہے فریحہ میں جینا چاہتی ہوں کھل کر اگر میں انس کی طرف قدم بڑھا دون گی تو وہ مجھے ایک دن توڑ کر رکھ دے گا اسی لئے میں نہیں چاہتی کہ میں اس کے قریب بھی جاؤں
میں دوبارہ ٹوٹنا نہیں چاہتی فریحہ میں جینا چاہتی ہوں وہ سب نہیں سوچنا چاہتی اور جب جب انس میرے قریب آتا ہے سب مجھے تکلیف دیتا
اور ویسے بھی عاقب شاہ کا ہی لگتا ہے کچھ اور مجھے نفرت محسوس ہوتیں ہے ان سب سے میری ماں کی تربیت ایسی نہیں ہے ورنہ میں سب کو مزا چکھا دوں
ایک بات مجھے اور معلوم ہوئی ہے میں انس شاہ کی ضد ہو صرف کیوں کہ وہ امن سے بدلہ لینا چاہتا تھا اسی لیے اس نے اس کی ضد میں مجھ سے نکاخ کیا ہے حیاء اوپر پنکھے کو گھورتے ہوئے بولی تھی
ہاں ہو تم میری ضد اور انا پیچھے سے انس کے بولنے پر فریحہ نے مڑا کر دیکھا تھا حیاء نے ابھی بھی اس کی طرف نہیں دیکھا بلکہ اس کے آنے سے اپنی آنکھوں کو بند کر لیا تھا
پلیز فریحہ باہر جائیں گی مجھے بات کرنیں ہے حیاء سے انس فریحہ سے بولا تھا جو سر ہلاتے ہوئے باہر نکل گئی تھی
ہان اب بولو کیا بول رہی تھی تم کے تم میری ضد کا نتیجہ ہو ہاں انس روم کا دروازہ بند کرتے ہوئے اس کی طرف بڑھتے ہوئے بول رہا تھا
اتنی حسین بلا کو کیوں نہ کوئی اپنا بنانا چاہیے گا تم ضد کے ساتھ ساتھ میرا اٹریکشن بھی ہو وہ آنکھیں بند کی ہوئی حیاء پر جھکا ہوا بولا تھا وہ اپنے ایک ہاتھ سے اس کے چہرے کو سہلاتے ہوئے بولا تھا
دفع ہو جاؤ انس شاہ میں کوئی چیز نہیں ہوں جس پر تم اٹریکٹ ہو گیے اور اسے حاصل کر لو گے میں جیتا جاگتا انسان ہوں وہ اس کا ہاتھ جھٹکتے ہوئے بولی تھی
مائے سوئٹ ہاٹ وائف اس ہاتھ کو جھٹکنے کی کوشش بھی مت کرنا آئیند ورنہ تمہیں انس شاہ کا اصلی روپ دکھاؤں گا بولتے ہوئے اس کے ہاتھوں کو قابو کرتے ہوئے اس کے ہونٹوں پر جھک گیا تھا
حیاء کی لاکھ کوششوں پر بھی نہ وہ اس سے اپنے ہاتھ چھوڑا پا رہی تھی اور نہ ہی اسے دور کر پارہی تھی
کیا کرو جان نکاح کا اثر ہے اور ایک تمہارا حمار ہے میں خود پر قابو نہیں رکھ پاتا وہ حیاء کی آنکھوں سے گلاسز اتار کر اس کی آنکھوں میں آئی نمی کو دیکھ کر مسکراتے ہوئے بولا تھا
جو بھی سمجھنا ہے سمجھو پر نہ تو مجھ سے دور جانے کا سوچنا اور نہ ہی مجھے خود سے دور کرنے کا سوچنا ورنہ جو میں کرو گا نہ تم جیسی نازک جان برداشت نہیں کر پائے گی
اتنا تو تم جان ہی چکی ہو کے مجھے روک پانا تمہارے بس کی بات نہیں ہے
وہ اس پر جھکا مسکراتے ہوئے حیاء کو دیکھ رہا تھا جو اسے کھا جانے والی نظروں سے دیکھ رہی تھی
اب کیا نظروں سے نگلنے کا ارادہ ہے کیا سوئٹ ہاٹ
انس پیچھے ہٹوں مجھ سے وہ جاؤ یہاں سے چھوڑو میرے ہاتھ وہ غصے سے اس پر غرائی تھی جو اس کے نزدیک بیٹھا اس کے چہرے پر اپنا ہاتھ پھیر رہا تھا
تمہیں بے بس دیکھ کر مجھے بہت مزا آتا ہے حیاء
حیاء دی جنگی چڑیل جو کسی کے قابو نہیں آتیں وہ صرف اور صرف انس شاہ کے قابو آتیں ہے وہ اس کے ناک سے اپنا ناک مس کرتے ہوئے بولا تھا
انس ایک بات پوچھنا چاہتی ہوں پوچھا لوں حیاء انس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے ایک امید سے بولی تھی
تمہیں پوچھنے کی ضرورت کب سے پڑھ گئی مجھ سےتم تو انس شاہ کو. حکم کیا کرو انس مسکر بولا تھا
تم اتنے ڈھیٹ اب ہوئے ہو یا بچپن سے ہی اتنے دھیٹ تھے حیاء جس انداز میں بولی تھی
انس اس کی بات پر ایک جاندار قہقہہ لگا گیا تھا پر چھوڑا اس کو پھر بھی نہیں تھا
یہ ڈھیٹ پن نہیں پیار ہے میرا وہ اس کے کان کے قریب جا کر بولتا اس کی کان کی لو کو اپنے ہونٹوں سے چھو کر پیچھے ہوتے ہوئے مسکراہٹ کے ساتھ باہر نکل گیا تھا
حیاء ابھی بھی اپنی جگہ پر اسی طرح لیٹی ہوئی تھی کچھ آنسو کے قطرے اس کی آنکھوں سے بہ نکلے تھے
جن کو وہ بے دردی سے صاف کر گئی تھی
باجی آپ کا ناشتہ رکھ دوں باہر سے سکینہ اندر آ کر بولی تھی
نہیں مجھے نہیں چاہیے لے جائیں آپ
انس صاحب نے بولا ہے کے ضرور کھا لیں وہ بولتے ہوئے باہر نکل گئیں تھیں
انس شاہ کیا ہو تم میں نہیں جان پا رہی وہ اپنے آنسو صاف کرتے ہوئے اُٹھ گئی تھی
❤️❤️❤️❤️❤️
تم دونوں یہاں میری یاد کیسے آ گئی احد شیرو اور ریان سے ملتے ہوئے بولا تھا
مجھے تو شیرخان نے بتایا تیری شادی کا اور تو اور تو دلہن بھی لے آیا ہم بھول ہی گیا واہ کیسا یار ہے تو ریان احد کے گلے ملتے ہوئے اس سے ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے بولا تھا
کیا یار تو جانتا تو ہے نہ میری ساری سچویشن پھر بھی یہ بول رہا ہے اور شیر خان تمہارے پیٹ میں کوئی بات کبھی بھی نہیں بجتی احد ریان سے بات کرتے کرتے شیر خان سے بولا تھا
اسے چھوڑ اپنی سناؤ کیسی ہیں بھابھی ہمیں بھی ملوا دو ریان کے بولنے پر احد نے برا سا منہ بنایا تھا
اتنے برے برے منہ کیوں بنا رہا ہے
کیا بتاؤں یار میری وہ تو آئی ہے ساتھ اپنے ایک باڈی گارڈ بھی لے کر آئی ہے وہ ابھی تک مجھے نہیں ملی تمہیں کہاں سے ملوا دو وہ ٹھنڈی آہ بھر کر بولا تھا
ہاہاہاہاہا ہاہاہا واہ احد تمہیں بھی کوئی قابو کرنے والی آ ہی گئی ہے ورنہ تم تو کسی کے ہاتھ آنے والوں میں سے نہیں ریان احد کی شکل دیکھ کر قہقہہ لگاتے ہوئے بولا تھا
کیا میں تو آگے ہی اس کے قابو میں تھا باڈی گارڈ کو لا کر تو اس نے تو میری بینڈ ہی بجا کر رکھ دی ہے احد دکھی عورتوں کی طرح بول رہا تھا
تمہیں تو اللہ پوچھے تمہیں ظالم بیوی ملے جو تمہیں ناگن ڈانس کروائے احد اس کے قہقہہ لگانے پر آنکھیں نکل کر بولا تھا
تم مجھے چھوڑو اپنی خیر مناؤ اور اپنی ناگن کو سنبھالو جو تمہیں جیسے ناگ کو قابو کر سکتی ہے وہ کچھ بھی کر سکتی ہے ہاہاہاہاہاہا احد میں دیکھنا چاہتا ہوں تیری ناگن اور اس کے باڈی گارڈ کو بھی جو دونوں تجھ جیسے جن کو قابو کر کے بیٹھی ہوئی ہیں ریان اور شیرو اس کی خالت پر قہقہہ لگا رہیے تھے جب کے احد ان کو کھا جانے والی نظروں سے دیکھ رہا تھا
تم دونوں منحوس ہو تم دونوں کو میری آہ لگے گی میرا مزاق بنا رہیے ہو
اچھا ٹھیک ہے ٹھیک نہیں بناتے ہمیں بھابھی سے تو ملوا دو اور ان کے باڈی گارڈ سے بھی ریان اپنی ہنسی کو کنٹرول کرتے ہوئے بولا تھا ورنہ تو اس کا دل کا احد کی خالت پر قہقہہ لگانے کو کر رہا تھا
دفع ہو جاؤ منحوس انسان میری آہ تیرا پیچھا کر رہی ہے آج سے احد اُٹھ باہر جاتے ہوئے بولا تھا بھابھی کو تو تم دونوں اب ریسیپشن پر ہی ملنا میں تم دونوں کے لیے کچھ لے کر آیا کھانے پینے کو
ہاہاہاہاہا ایسی آہوں کا تو انتظار ہے تیرے جیسی ناگن ہمیں بھی مل جائے ہم بھی ڈانس کرنا چاہتے ہیں ریان شیرو کے ہاتھ پر ہاتھ مار کر بولا تھا
ریان کا فون رنگ کیا تو وہ فون سننے کے لیے باہر نکلا تھا بات کرتے ہوئے اس کی نظر سامنے بیٹھی آنیہ پر گئی تھی جو چیر پر بیٹھی کہی کھوئی ہوئی آسمان کی طرف دیکھ رہی تھی
ریان اس کی طرف دیکھا رہا تھا کہ بے اختیار ہی چلتے ہوئے اس کی طرف گیا تھا کب سے جیسے در بدر ڈھونڈا تھا وہ یہاں تھی
ہیلو مس آنیہ کیسی ہیں آپ پہچانا مجھے وہ فون کو بند کرتے ہوئے اپنے دونوں ہاتھوں کو جیب میں ڈال کر اس کی طرف دیکھتے ہوئے مسکرا کر بولا تھا
آ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔آپ آپ یہاں کیا کر رہیے ہیں آنیہ اس کو دیکھ کر اٹک آٹک کر بولی تھی
دیکھیں لے میں نے کہا تھا نہ آپ کو کے میں آپ کو پتال میں سے بھی ڈھونڈ لوں گا اور آج آپ میرے سامنے ہیں آپ کو اپنی شرط تو یاد ہو گی نہ وہ پر آسرا سا مسکرا کر بولا تھا
آنیہ نے بے بسی سے اپنے لب بیچے تھے اور اَٹھ کر وہاں سے جانے لگی تھی
بہت جلدی آ رہیے ہیں میرے گھر والے مس آنیہ شاہ اسی لیے اپنی شرط کے مطابق کوئی بھی چوچا کے بغیر مجھے ہاں میں جواب چاہیے ورنہ آپ مجھے جانتی تو ہیں وہ کیس دوبارہ اوپن بھی ہو سکتا ہے اور وہ اوپن ہو گیا تو آپ کے گھر والے ویسے بھی آپ سے کوئی تعلق نہیں رکھنا چاہیے گے ایم رئٹ وہ جاندار مسکراہٹ آنیہ کی طرف اُچھال کر اس کے راستے میں کھڑا بولا تھا
آ۔۔۔۔۔۔۔آپ ۔۔۔۔۔۔ایسا ک۔۔۔کچھ نہیں کریں گے وہ اس کی طرف دیکھتے ہوئے نم لہجے میں بولی تھی
تو ایسی غلطیاں انسان کو نہیں کرنیں چاہیے جس سے اسے بعد میں پچھتانا پڑھے وہ اس کے قریب جاتے ہوئے اس کے بالوں کو پیچھے کرتے ہوئے بولا تھا
افسر اپنی حد میں رہو وہ اس کے ہاتھ کو جھٹکتے ہوئے آنکھوں میں غصہ لیے بولی تھی
اوہ جاناں حد میں ہی تو ہوں حدود پار کرنے کی بری عادت تم میں ہیں وہ دل جلانے والی مسکراہٹ سے بولتا آنیہ کو زہر لگا تھا
اتنی بری عادتیں ہیں مجھ میں تو پھر مجھ سے رشتہ کیوں جوڑنا چاہیے ہو
کیوں کہ ریان خان کو عادت ہے برائی کو جڑ سے اکھاڑنے کی اور تمہارے اندر کی برائی کو دور کرنا چاہتا ہوں میں وہ جیب سے سگریٹ نکل کر اسے جلا کر منہ سے لگاتے ہوئے بولا تھا
بے خودا انسان میں نے بہت بڑی غلطی کر دی تم سے مدد لے کر وہ غصے سے اس پر غرا کر بولی تھی
ہاہاہاہاہا میری مدد کے بغیر تم جیل میں سڑ رہی ہوتی اس وقت اور بے خودا تو میں سچ میں بہت ہوں وہ اس کے چہرے پر سگریٹ کا دھواں چھوڑتے ہوئے بولا تھا
وہیات انسان دور ہو مجھے سے وہ کھانستے ہوئے بولی تھی
جاناں اب اس کی عادت ڈال لو دو چیزیں میری زندگی میں اہم ہیں ایک میری جاب اور دوسرا سگریٹ اور تیسری بھی ہو سکتی ہے اگر تم چاہو تو وہ ایک آنکھیں دباتے ہوئے بولا تھا
ریان تم یہاں ہو میں تمہیں دوسری طرف دیکھ رہا تھا احد اس کے پاس آتے ہوئے بولا تھا جو آنیہ کے ساتھ کھڑا تھا
ہاں تمہاری بہن سے باتیں کر رہا تھا وہ مسکراتے ہوئے سگریٹ کو نیچے پھینک کر بولا تھا
ہاہاہاہاہا کزن سے باتیں یا اپنی گرلفرنڈ سگریٹ سے عشق لڑا رہا تھا
جو بھی سمجھانا ہے سمجھ لو ویسے تم اپنی بہن کا تعارف نہیں کروں گے مجھے سے وہ آنیہ کی طرف دیکھ کر بولا تھا جو احد کو دیکھ کر اسے گھبرائی ہوئی لگ رہی تھی
ہان کیوں نہیں آنیہ یہ ہے میرا جگی دوست ریان اور ریان یہ ہے میری سوئٹ اور پیاری بہن اور کزن آنیہ شاہ احد مسکرا کر دونوں کو بولا تھا
اسلام وعلیکم میں چلتی ہو اندر ماما بولا رہیں ہوں گی آنیہ جلدی سے سلام کر کے وہاں سے نکل گئی تھی
کیا احد یار مجھے میری ناگن مل رہی تھی تم آ گیے بیچ میں بات بھی نہیں کرنے دی ریان احد سے بولا تھا
جس پر آحد نے منہ کھو کر اسے دیکھا تھا
منہ بند کر یہ بتا دو رشتہ ایکسپٹ کر لو گے نہ اگر ماما بابا کو بھیج دوں تو وہ اس کے ساتھ چلتے ہوئے بولا تھا
کیوں نہیں یار تجھے سے اچھا اور کون ہو سکتا ہے اگر تو سیرس ہے تو میں دادا سے رات کو بات کروں گا اتنی شادیاں ہو رہیں ہیں گھر میں تیری بھی کر دیتے ہیں احد مسکرا کر اس کے سامنے آتے ہوئے بولا تھا
چلا پھر بات کر لینا اور خوش ہو جاو اب تیری آہ مجھے لگ گئی ہے ریان قہقہہ لگاتے ہوئے بولا تھا
جس پر دونوں نے ایک ساتھ قہقہہ لگایا تھا
❤️❤️❤️❤️❤️
سب پھر سے شادی نامہ شروع ہو گیا ہے پہلے ہی ہمیں اکھٹی شادیاں کر دینی چاہیے تھیں ابھی دن ہی کتنے ہوئے ہیں تبریز اور زینی کی شادی کو اب پھر سے اتنی تیاریاں شروع سے کرنیں پڑھے گی ویسے بھی خاندان کے باہر سے انیں ہے بارت تو ہر چیز پرفیکٹ ہونیں چاہیے آمنہ شاہ علیشہ سے بولی تھیں جو ان کی باتوں پر مسکرا کر سر ہاں میں ہلا رہیں تھیں
ہاں اور ویسے بھی بابا چاہیتے ہیں کے آنیہ اور پری کا بھی ساتھ ہی ہو جائیں آنیہ کے لیے بھی بابا اور اکبر شاہ دیکھ رہیں ہیں مجھے تو لگ رہا ہے دو نہیں بلکہ اس دفعہ تین ہوں گی
ہمارے گھر تو اب روز ہی کوئی نئی چیز ہو رہی ہے رانیہ شاہ بولتے ہوئے افسودا ہوئیں تھی
میں نے سوچا تھا آنیہ میری نظروں کے سامنے رہیے گی پر جو بھی ہے اللہ اس کے حق میں بہتر کرئے
اللہ بہتر کرنے والا ہے آپ پریشان نہ ہوں اس کا جوڑ بھی اللہ نے بہت بہترین بنایا ہوا ہو گا جو جلدی ہی مل جائے گا علیشہ مسکراہٹ لیے ان سے بولیں تھیں
انشاءاللہ وہ ان کی بات پر مسکرا کر بولی تھیں
میری خبہ بھی تو ہے نہ میں خود بہت پریشان ہوں یہ لڑکی اور لڑکا دونوں ہی میری نہیں سنتے مجھے نہیں سمجھ آتیں یہ وہاں اس گھر میں کیسے رہیے گی
کچھ نہیں ہوتا سب لڑکیاں ہی ایسی ہیں آپ فکر مت کریں اچھے ہیں وہ عارف رانا اور ثانیہ رانا بیٹی بنا کر رکھیں گے ہماری بیٹی کو خنا شاہ علیشہ کو تسلی دیتے ہوئے بولے تھے
اللہ آپ کی کہی بات سچ کر دے اور واجب میری بیٹی کو خوش رکھے بس وہ مسکرا کر بولی تھیں
بابا نے ابھی کسی بھی گھر کی لڑکی سے اس بارے میں بات نہیں کی ہے ان کو جب بتانے کا کہا جائے گا تو تیاریاں تو تب ہوں گیں نہ وہ ہی تو ہمارے ساتھ سب تیاریاں کروائیں گی رانیہ شاہ سب کی طرف دیکھ کر مصروف سے انداز میں بولیں تھیں
ہو جائیں گی تیاریاں بھی آپ فکر مت کریں علیشہ شاہ کے بولنے پر خنا شاہ نے بھی ان کی تقعد کی تھی
