Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 34

احد صبح اُٹھ کر پری کے کمرے میں گیا تھا جہاں زویا اسے سامنے ہی بیڈ پر سوئی ہوئی ملی تھی
رات کو زینی کی وجہ سے اسے نہیں لے جا پایا تھا اسی لئے اب آیا تھا
اسے نیند میں ہی آرام سے اُٹھایا تھا اور اپنے روم کی طرف لے گیا تھا
مجھے بے سکون کر کے خود گدھے گھوڑے سب بیچ کر سو رہی ہے ابھی بتاتا ہوں تمہیں
بیڈ پر پھینکنے کے اندز پر پٹکا تھا اسے جس سے وہ ہڑبڑا کر اُٹھ کر بیٹھ گئی تھی
غنودگی میں جب آنکھوں کو کھول کر دیکھا تو احد کو سامنے ہی جیب میں ہاتھ ڈال کر کھڑے پایا تھا جو اسے ہی دیکھ رہا تھا
کیوں سوئی تھی اس روم میں وہ اپنے ہاتھوں کو اس کے دائیں بائیں رکھ کر اس پر جھکا غرایا تھا
آپ۔۔۔۔۔آپ ۔۔۔۔نے ہی تو بولا تھا مت آنا میرے سامنے وہ اٹک اٹک کر بولی اس نے کہاں دیکھا تھا احد کا سخت روئیہ بھی اسی لیے ڈر گئی تھی احد سے
آگے تم میری کتی باتیں مناتی ہو جو یہ مان لی وہ اپنا چہرہ اس کے بالکل قریب کر کے بولا تھا اتنا قریب کے اسکی سانسوں کی تپش وہ اپنے چہرے پر محسوس کر کے آنکھوں کو بند کر گئی تھی
بولو زویا وہ اس کا چہرہ کو ہاتھوں میں تھام کر بولا تھا
مجھے۔۔۔۔۔۔ ڈر ۔۔۔۔۔. لگ ۔۔۔۔۔۔رہا تھا۔۔۔۔ آپ سے آپ مجھ پر غصہ تھے آپ بھی مجھے بابا کی طرح مارتے جیسے ماما کو مارتے تھے بابا وہ سسکتے ہوئے بولی تھی
احد اس کی بات سن کر اس سے پیچھے ہو گیا تھا
زویا روتے ہوئے احد کی طرف دیکھنے لگی تھی جو بیڈ سے کھڑا ہو کر حیران نظروں سے اسے دیکھنے لگا تھا
اور ہاتھ بڑھا کر اسے اپنی طرف کھینچا تھا
میں تمہیں کبھی بھی نہیں ماروں گا زویا جان ہو تم میری میں بس غصے تھا تم سے یار اب دیکھنا میں غصہ بھی نہیں کروں گا
وہ اس کے آنسو کو صاف کر کے اسے اپنے ساتھ لگا کر بولا تھا
پرومس کریں غصے بھی نہیں ہوں گے وہ اس کے آگے ہاتھ کر کے بولی تھی
پرومس میری جان وہ اس کے ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر اسے خود میں بھیچ کر بولا تھا
اب میں آئندہ آپ کو کبھی بھی چھوڑ کر نہیں جاؤں گی اور نہ کوئی بھی کام آپ سے پوچھے بینا کروں گی
وہ اس کی گال پر کس کرتے ہوئے بولی تھی
احد نے مسکرا کر اسے اپنے ساتھ لگا لیا تھا
چلو آؤ نیچے چل کر ناشتہ کریں وہ اسے اپنے ساتھ لگا کر لے گیا تھا
❤️❤️❤️❤️
حیاء انس کی گاڑی میں بیٹھی ہوئی تھی وہ اسے ہسپتال سے سیدھا اپنی گاڑی میں خویلی لے کر جانے کے لیے نکل گیا تھا
گاڑی خویلی داخل ہوئی تھی
اب اندر جا کر کوئی بھی ڈرمہ مت کرنا وہ اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے اپنی طرف کھینچ کر بولا تھا جو باہر دیکھ رہی تھی
خود باہر نکلا تھا اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے اپنے ساتھ اندر لے کر جانے لگا
سامنے ہی دادا اور بڑی بی بیٹھے تھے وہی سب بڑے بھی تھے عاقب شاہ بھی اپنی کہر زادہ نظروں سے اسے دیکھ رہیے تھے جس کی وجہ سے سب گھر والے پریشان ہوئے بیٹھے تھے
کیسا ہے میرا پتر بڑی بی حیاء کو اپنے ساتھ لگا کر بولی تھی
یہ تو اس کا روز کا کام ہے عاقب شاہ نے اس کے ہاتھ کا زہم دیکھ کر اپنے لفظوں کا زہر گھولا تھا
حیاء نے نم آنکھوں سے ان کی طرف دیکھا تھا انس کی نظریں حیاء کی طرف تھی جو آنکھوں میں نمی لیے اب چہرا نیچے کیے بیٹھی تھی
باہر سے حاضر اور فریحہ بھی آئے تھے
یہ لی جی مٹھائی سب منہ میٹھا کر لیں حاضر صوفے پر بیٹھ کر مٹھائی کا ڈبیہ سب کے سامنے رکھ کر بولا تھا سب نے اس خیریت سے اس کی طرف دیکھا تھا
کیا دادا ایسے کیوں گھور رہیے ہیں خوشخبری ہے حاضر دادا سے مسکراتے ہوئے بولا تھا جو اس کی باتیں سمجھ نہیں پا رہیے تھے
دادا آپ کو کوئی بڑے دادا جی بولنے والا بھی آنے والا ہے یا آنے والی ہے حاضر ان کے منہ میں مٹھائی ڈال کر بولا تھا
ہمارا انس بہت تیز نکلا حاضر مسکراتے ہوئے بولا تھا حاضر کی بات پر سب ہی مسکرا دیے تھے سوائے عاقب شاہ کے
دادا حاضر لالہ جیلس ہو رہیے ہیں کے میں زیادہ تیز ہوں ان سے انس ڈھیٹوں کی طرح بولا تھا
وہاں بیٹھی حیاء اور فریحہ شرم سے نظریں ہی نہیں اُٹھا پا رہیں تھی
بڑی بی نے حیاء کو ساتھ لگا کر پیار کیا تھا پھر علیشہ شاہ بھی اس کے پاس آئی تھی
حیاء تم سوچ بھی نہیں سکتی میں کتنی خوش ہوں وہ اسے اپنے ساتھ لگا کر پیار دیتے ہوئے بولی تھی سب نے ہی حیاء کے سر پر ہاتھ رکھا تھا اور پیار دیا تھا
تمہارا ہی بچہ ہے نہ یہ انس عاقب شاہ کے بولنے پر سب نے خیران ہو کر ان کی طرف دیکھا تھا
ان کی بات سن کر حیاء لڑکھڑائی تھی آنکھوں سے آنسو نکلنے لگے تھے خیریت سے عاقب شاہ کی طرف دیکھا تھا جن کا اچھے بنے کا ناٹک بھی ختم ہو گیا تھا
بس چاچو ایک لفظ اور مت کہیے گا میری بیوی کے بارے میں میں ساری دنیا کو تباہ کر کے رکھ دوں گا جس نے حیاء کے کردار پر انگلی بھی اُٹھائی میں اسے زندہ زمین میں گاڑ دوں گا
انس نے غصے سے بولتے ہوئے حیاء کی طرف دیکھا تھا جس کو علیشہ شاہ نے سہارا دیا تھا حیاء کی حالت ایسی تھی جیسے کاٹو تو بدن میں خون نہ ہو
میرے بچے یا اس کی ماں کے بارے میں کسی نے بھی کوئی لفظ کہا تو مجھ سے برا کوئی نہیں ہو گا اور بہت مان ہے نہ آپ کو بہت جلد آپ کو ثبوت دوں گا میں بہت پچھتاوا ہو گا آپ کو آپ کی ہر غلطی کا
پر آپ کر کچھ نہیں پائیے اسی لئے جو بھی بولنا ہے ہمیشہ سنبھال کر بولا کریں
سب ہی خیریت سے انس اور عاقب شاہ کو دیکھ رہے تھے
انس آگے بڑھا تھا اور کسی کی بھی پرواہ کیے بغیر حیاء کو اپنی باہوں میں اُٹھا کر اوپر اپنے کمرے کی طرف چلا گیا تھا
انس نے محسوس کیا تھا وہ اس کی باہوں میں لرزہ رہی ہے
حیاء نے خود کی سسکیوں کو روکا کر اپنا چہرہ اس کے سینے میں چھپا لیا تھا تاکہ انس اسے روتے ہوئے نہ دیکھ پائے
پلیز چاچو ہم سب اتنے خوش ہیں خوش رہنے دیں سب کو حاضر بھی غصہ سے بولا تھا
عاقب شاہ غصے سے وہاں سے چلے گئے تھے
سب ایک دوسرے کو دیکھ کر خوش ہوئے تھے جو بھی تھا اس گھر کی یہ پہلی اگلی نسل تھی کیوں نہ کوئی خوش ہوتا علیشہ اور عالیشان کے تو پاؤں زمین پر نہیں ٹک رہیے تھے
کیوں کہ ان کے اکلوتے بیٹے کی اولاد آنے والی تھی خوشی تو بنتی تھی
❤️❤️❤️❤️
ماضی
حیاء روحان آیا ہے اس کے ساتھ جاؤ نکاح کے لئے ڈریس پسند کر لو جا کر نورین حیاء کے پاس آ کر بولی تھی جو اپنی سٹیڈی کرنے میں مصروف تھیا
ماما ان کو بولے میں کہی نہیں جا رہی وہ اپنی پسند کا ہی لے آئیں حیاء نے صاف جواب دیا تھا اور دوبارہ اپنی سٹیڈی پر فوکس کرنے لگی تھی
نورین اسے دیکھتے ہوئے واپس چلیں گئی تھی
السلام علیکم مس حیاء روحان نے اندر آتے ہوئے اسے سلام کیا تھا جو اپنے ہی دھیان سے نیچے زمین پر ہی بیٹھی ہوئی پڑھ رہی تھی
حیاء نے سر اُٹھا کر اسے دیکھا تھا
وعلیکم السلام وہ بول کر دوبارہ سے اپنی سٹیڈی کرنے لگی تھی پر روحان کے بیٹھنے پر لب بیچے گئی تھی
کیوں کہ وہ اس کے سامنے اپنی سٹیڈی نہیں کر پا رہی تھی
روحان پلیز آپ خود ہی جا کر لیں آئیں میں نہیں جانا چاہتی مجھے پڑھنا حیاء سر کو جھکائے ہی بولی تھی
پلیز حیاء میں تمہیں ساتھ لے کر جانا چاہتا ہوں تم سے کچھ باتیں کرنا چاہتا ہوں
آپ کو جو بھی بات کرنی ہے یہی کر لیں پلیز میں کہی نہیں جانا چاہتی وہ بولتے ہوئے لب چبا رہی تھی
ہم روحان اسے کچھ دیر دیکھتا رہا پھر اُٹھ کر اسے کے پاس گیا تھا اسے ہاتھ بڑھا کر کھڑا کیا تھا
حیاء جان دل میں بس چکی ہو تم چھونا چاہتا ہوں تمہیں میری ماما بول رہیں ہیں رخصتی نہیں کرنی پر میں تمہیں چھونا اور پانا چاہتا ہوں میں صاف بات بولوں گا
مجھے ریلیشن رکھنا ہے تمہارے ساتھ نکاح کے بعد وہ اس کے قریب کھڑا اپنی ہاتھ کی انگلی کو اس کے چہرے پر پھیر کر گردن تک لے جا کر بولا تھا
حیاء اس سے ڈر کر پیچھے ہوئی تھی اس کی باتوں سے حیاء کانپنے لگی تھی
جان کانپوں مت میں چاہتا ہوں تم کو وہ اس کے قریب ہوا تھا حیاء اپنے قدم پیچھے لینے لگی تھی نیچے زمین پر پڑھی کتابوں کو پاؤں میں روندتے ہوئے اس کی طرف بڑھا رہا تھا جو آنکھوں میں خوف لیے اسے دیکھ رہی تھی
. جاؤ یہاں سے روحان وہ اس کے قریب آیا تو حیاء اسے پیچھے دھکیل کر غصے سے اونچی آواز میں چلا کر بولی تھی
تم مجھے غصہ مت دالا رہی ہو وہ اسے کمر سے پکڑ کر قریب کرتے ہوئے بولا تھا
چھوڑو مجھے روحان چھوڑو وہ اس کے ہاتھ کو اپنی کمر سے روتے ہوئے ہٹنے کی کوشش کر رہی تھی
ڈر لگ رہا ہے جان ایک بات یاد رکھوں میں نکاح کے بعد تم سے ہر ریلیشن رکھنا چاہتا ہوں اور اس کے لیے تم بھی مجھے روک نہیں پاؤ گی وہ اس کی گردن پر جھک کر بولا تھا
ماما ماما وہ چلائی تھی
شش آواز نہیں ورنہ جان لے لوں گا تمہاری وہ اس کے منہ پر ہاتھ رکھ کر بولا تھا
یہ چھوٹے سے دماغ کو زیادہ تکلیف مت دیا کرو جلدی ہی میری ہونے والی ہو تم اب تم پر تم سے بھی زیادہ حق میرا ہو گا میں جیسے چاہے مرضی تمہارے ساتھ چلو
اور ہاں اپنی ماں کی طرح کوئی عاشق رکھا تو زندہ زمین میں گاڑ دوں گا
وہ بولتے ہوئے حیاء کو سن کر گیا تھا حیاء کو لگا آج وہ زندہ نہیں رہ پائے گی
اتنی تم پارسا سب جانتا ہوں تمہیں تم اپنے ماں کے عاشق کی بیٹی ہوں اس دن سن لی تھی میں نے تمہاری موم اور اپنی موم کی باتیں
کوئی ایسے تو الزام نہیں لگاتا ویسے بھی تمہاری موم ایک رات وہی تھی وہ اس کے چہرے پر ہاتھ پھیر کر بولا تھا جو روحان کی باتوں کی وجہ سے سفید پڑھ چکا تھا ایسے لگا رہا تھا جیسے احیاء کے اندر خون کی بوند تک نہ ہو
وہ اس کی ذات کو طوفان کی زدہ میں کر کے خود وہاں سے نکل گیا
نہیں نہیں ایسا نہیں ہو سکتا کوئی تہمت نہیں برداشت کر سکتی میں اب میری موم نے کچھ نہیں کیا میں بابا کی ہی بیٹی ہوں
وہ کانوں پر ہاتھ رکھ کر روتے ہوئے بول رہی تھی وہ کانوں پر ایسے ہاتھ رکھے ہوئے تھی جیسے اردگرد گرد کی آواز کو کان تک پہنچنے سے روک رہی ہو
پورا کمرہ میں اس کی سسکیاں گونج رہیں تھی
وقت ایک بار پھر سے آزمائش لے کر آیا تھا
جس پر سب سے زیادہ بھروسہ کیا وہ بھی آج مان توڑ کر جا چکا تھا
❤️❤️❤️❤️❤️
انس نے آرام سے اسے بیڈ پر رکھا تھا
اس نے اُٹھا کر اپنے اوپر کمبل لے لیا تھا اور اپنا چہرہ اس میں چھپا گئی تھی
انس اس کے پاس کھڑا اس کی ساری کارروائی چپ کر کے دیکھ رہا تھا جو اب اپنے اوپر کمبل کر لیٹی ہوئی تھی
انس کو اس کی گھٹی گھٹی سسکیوں کی آواز باہر تک آ رہی تھی
اس نے گہری سانس ہوا کے سپرد کی تھی اور بیڈ پر بیٹھ کر اس کے چہرے پر سے کمبل پیچھے کیا تھا
کچھ بھی بولے بغیر اسے اپنے ساتھ لگا لیا تھا وہ انس کا سہارا پا کر شدت سے رو دی تھی
میں ڈرتی تھی انس انہیں لفظوں سے مجھے ڈر لگتا ہے کوئی میرے وجود کی طرح میری آنے والی اولاد کے وجود کی بھی نفی نہ کر دے
اسے کے وجود کو بھی گند نہ بولے تہمت سے ڈرتی تھی میں جو مجھ پر لگتی یا ننھی سی جان پر
میں نے اسی لیے خود کو ختم کرنے کا سوچا تھا میں ایک دفعہ ڈری ضرور تھی پر تہمت کا ڈر مجھ پر زیادہ ہاوی ہو چکا تھا
میں جس اعزیت سے ساری زندگی گزرتی آئی ہوں میں کبھی بھی نہیں چاہتی تھی کہ یہ بھی اسی چیز سے سفر کرئے
وہ انس کے سینے سے لگی سسکتے ہوئے رو رہی تھی
ایک دفعہ مجھ پر بھروسہ کیا ہوتا ایک دفعہ بات تو کرتی حیاء میں بہت برا ہوں پر اتنا بھی گرا ہوا نہیں ہوں
ہاں میں جانتا ہوں میں نے تمہیں کوئی ایسا اعتماد نہیں دیا کے تم مجھ پر بھروسہ کرتی الزام لگایا تمہاری ذات پر اس کے لیے میں معافی چاہتا ہوں تم سے
پر تمہیں ایک دفعہ مجھ سے بات کرنی چاہیے تھی اگر تمہیں کچھ ہو جاتا تو
اس چیز کے لیے میں تمہیں معاف نہیں کروں گا حیاء وہ اسے خود سے علیحدہ کر کے بولا تھا جو اسے دیکھ رہی تھی
تم نہیں جانتی مجھے لگا تھا میری خود کی جان جا رہی ہے
آرام کرو اب رات کو بارات ہے اسی لئے تمہیں بھی جانا ہو گا وہ اسے بیڈ پر لیٹا کر بولا تھا
انس پلیز میں ایسا نہیں چاہتی تھی مجھے کچھ سمجھ نہیں آئی تھی اس وقت حیاء اس کی شرٹ پکڑ کر بولی تھی
جو بھی تھا وہ اب اپنے رشتے کو ٹھیک کرنا چاہتی تھی اس میں موجود دوریوں کو سمیٹنا چاہتی تھی
انس مسکراتے ہوئے اس کے ہاتھوں سے اپنی شرٹ کو چھڑو کر اس کے ہاتھوں کو اپنے ہاتھوں میں لے کر اس کے ہونٹوں پر جھک گیا تھا
اس دفعہ حیاء کو اس کے لمس میں پہلے جیسی سختی محسوس نہیں ہوئی تھی
انس نے بھی محسوس کیا تھا اس دفعہ حیاء نے بھی اسے خود سے دور کرنے کی کوشش نہیں کی
اب پتہ چلا میں تم سے ناراض نہیں ہوں اگر نہیں پتہ چلا تو پھر سے بتا دیتا ہوں وہ اس کے گال سہلاتے ہوئے اس کی آنکھوں میں دیکھ کر بولا تھا
حیاء نے اس نظریوں کو نیچے جھکا لیا تھا
حیاء آج تم اپنی ہر ادا سے مجھے دیوانہ بنا رہی ہو وہ اس کے نظروں کو جھکانے پر اسے مسکراتے ہوئے دیکھ کر بولا تھا
مجھے لگا میری حیاء ہمیشہ جنگلی چڑیل ہی رہیے گی پر تم تو اب روزانہ ہی میرا کہا غلط کرتی جا رہی ہو
انس۔۔۔۔ حیاء نے انس کے ہنستے ہوئے کہنے پر اس کے سینے پر مکا مارا تھا جس پر انس نے اس کا ہاتھ پکڑ کر اپنے ہونٹوں سے لگا لیا
لو یو میری جان بس اب ٹینشن بالکل نہیں لینی میں ہر قدم پر تمہارے ساتھ ہوں جب جب تم خود کو مشکل میں ہو گی مجھے اپنے ہم قدم پاؤ گی تم
وہ اس کے ماتھے کے ساتھ اپنا ماتھا ٹکا کر بولا تھا حیاء نے مسکرا کر آنکھوں کو بند کر لیا تھا
انس کتنی ہی دیر اس کے پاس اس کا ہاتھ پکڑ کر بیٹھا رہا تھا
جب اسے محسوس ہوا وہ سو گئی ہے تو وہ آہستہ سے اُٹھا تھا اس کے ماتھے پر اپنا لمس چھوڑتا باہر نکل گیا تھا
❤️❤️❤️❤️❤️
پری جو حیاء کے کمرے کی طرف جا رہی تھی راستہ میں عالی اس کے سامنے آ گیا تھا عالی کو دیکھ کر پری غصے سے دوسری سائیڈ سے نکلنے لگی تو عالی نے تمام جگہ سے راستہ بند کر دیا تھا
مجھے جانے دیں وہ اپنی نظروں کو نیچے کیے بولی تھی
عالی کے لبوں پر مسکراہٹ آ گئی تھی
جان ایسے کیسے جانے دوں اپنا گفٹ لے کر جانا مجھ سے وہ پری کا ہاتھ پکڑ کر اسے اسی کے کمرے میں لے گیا اور دروازہ بند کر کے پری کو اس کے ساتھ پن کیا تھا
عالی کیا ہے چھوڑئے مجھے جائیں یہاں سے عالی اس کے بالکل قریب کھڑا تھا پری کو گھبراہٹ میں دیکھ کر عالی کے چہرے پر مسکراہٹ آ گئی تھی
جاناں ابھی سے اتنا گھبرا رہی ہو تو بعد میں کیا ہو گا تمہارا ابھی تو صرف پاس کھڑا ہوں بولتے ہوئے اس نے اپنے لب پری کی گال پر رکھ دیے تھے
عا۔۔۔لی۔۔۔۔۔پلیز ۔۔۔۔۔ وہ گھبراتے ہوئے بولتی اس کے سینے پر ہاتھ رکھ کر اسے دور کرنے کی کوشش کر رہی تھی
گفٹ دے بھی دوں اور لے بھی لوں پھر چلا جاؤں گا رات کو تم نے اپنے اردگرد اتنے لوگ جمع کیے ہوئے تھے تم سے مل نہیں پایا میں وہ اس کے بالوں کی لٹ سے کھیلتے ہوئے بولا تھا
ک۔۔۔یا گفٹ ۔۔۔ہ۔۔۔۔۔وہ ابھی بول ہی رہی تھی کے عالی اس کے لبوں کو اپنی دسترس میں لے چکا تھا
پری اس کی قربت میں گرنے والی ہو گئی تھی
عالی نے اس کے گرد اپنا حصار تنگ کرتے ہوئے اسے گرنے سے بچایا ہوا تھا
جان کیسا رہا گفٹ وہ اسے چھوڑتے ہوئے اس کے کان میں سرگوشی نما بولتا اس کے کانوں پر اپنے لب رکھتا اس کے چہرے کو دیکھنے لگا جو اس کی قربت میں سرح انار ہو چکا تھا
پری سے گھبراہٹ میں نظریں بھی نہیں اُٹھائی جارہیں تھی
عالی۔۔۔۔پلیز جائیں یہاں سے وہ گھبرائی بولی تھی عالی نے محسوس کیا تھا پری کانپ رہی ہے
جان ابھی تو جا رہا ہوں پر رات کے بعد مجھے کہاں بھیجوں گی اور خود کو کیسے مجھ سے دور کر پاؤ گی کیونکہ اب تم جلد ہی میری دسترس میں آنے والی ہو
اور یہ قید ساری عمر کی قید ہے جس میں سے عالی شاہ تمہیں ساری زندگی نکلنے نہیں دے گا وہ اس کے سرخ ہوئے چہرے کو دیکھ کر بولا تھا
پری کی زبان آج جیسے اس کا ساتھ نہیں دے پا رہی تھی وہ اسے ایک نظر دیکھ کر پھر سے سر کو جھکا گئی تھی
وہ اسے کے ماتھے پر اپنے لب رکھتے ہوئے مسکرا کر وہاں سے چلا گیا تھا
اس کے جاتے ہی پری نے گہرا سانس لیا تھا ایک شرمیلی سی مسکراہٹ اس کے چہرے پر آ گئی تھی
❤️❤️❤️❤️
آج تینوں لڑکیوں کی بارات تھی اور سب بڑوں نے مل کر فیصلہ کیا تھا کہ ریسیپشن بھی تینوں کا ایک ہی دن رکھا جائے گا
اسی لئے سب مصروف تھے سب اپنی اپنی تیاری کر رہیے تھے
احد مجھے زیادہ سا میکاپ کرنا ہے آج پلیز زویا تیار کھڑے احد کو بولی تھی جو تھری پیس میں ہنڈسم لگ رہا تھا
آپ اتنے پیارے لگ رہیں ہیں مجھے بھی پیارا لگنا ہے زویا احد کے پیچھے پیچھے پھر رہی تھی کیونکہ کے احد نے اسے میکاپ کرنے سے منا کیا تھا اور زینی نے اسے احد کی اجازت لینے بھیجا تھا اس کی اجازت کے بغیر میکاپ کرنے سے منا کر دیا تھا
میکاپ کے بغیر بھی تم کیوٹ سی پری لگتی ہو مجھے نہیں پسند تمہارا میکاپ کرنا وہ اس کے گال کھنچ کر شیشے کی طرف چہرا کیے بالوں کو کنگی کرنے لگا
احد میں نہیں چاہتی آپ میرے علاوہ کسی کو دیکھیں اسی لئے میں زیادہ پیاری لگنا چاہتی ہوں اگر میں پیاری نہ لگی تو آپ بس وہاں میکاپ والی لڑکیوں کو ہی دیکھتے رہیں گے
ہاہاہاہاہا میری کیوٹی میں صرف تمہیں ہی دیکھوں گا کیونکہ احد شاہ صرف اپنی لیٹل وائف کا ہی ہے وہ اس کا ناک دبا کر بولا تھا
جاو ریڈی ہو جاؤ ورنہ لیٹ ہو جاؤ گی وہ الماری میں سے اس کے کپڑے نکال کر اسے دیتے ہوئے بولا تھا
جاناں احد شاہ صرف اپنی جانان کا ہے اور اسی کی جاناں صرف اسی کی ہے اسی لیے سوچنا بھی مت ایسا الٹا سیدھا وہ اسے اپنے ساتھ لگا کر بولا تھا جو منہ بنا کر وہاں سے جا رہی تھی
تھوڑا سا کر لوں بس تھوڑا سا ۔۔۔۔۔
ہاہاہاہاہا اوکے میری کیوٹی بس تھوڑا سا ہی وہ اس کو اسی کے انداز میں بولا تھا اور گال تھپتھپا کر اسے چھوڑ دیا تھا
وہ مسکراتے ہوئے اس کی گال پر اپنے لب رکھ کر وہاں سے بھاگ گئی تھی
سوری جاناں تمہیں چھوڑ کر جانا ضروری ہے ورنہ نہ جاتا یہ وقت ہم دونوں کے لیے مشکل ہو گا پر وقت کا کام گزرنا ہے اور وہ گزر جائے گا
دعا کرنا بس میرے لیے وہ دل میں زویا سے محاطب تھا کیونکہ اسے اب کسی خاص مشن پر جانا تھا اور وہ نہیں جانتا تھا وہاں کتنا عرصہ لگا جاتا سال یا شاید دو سال بھی
وہ گہری سانس لیتے ہوئے سب کچھ اللہ پر چھوڑ کر مطمئن ہو گیا تھا کیونکہ وہ یہ سب صرف اپنے وطن کے لئے کر رہا تھا
❤️❤️❤️❤️
فریحہ تیار ہو کر روم میں آئی تھی اس نے ریڈ میکسی پہنی ہوئی تھی
بالوں کا میسی سا جھوڑا بنا کر بیڈ پر بیٹھ کر اپنے پاؤں میں اپنی ہیل پہن رہی تھی جو بندہ ہونے کا نام نہیں لے رہی تھی
اف میرے خدا اس نے جھنجھلاتے ہوئے جوتے کو نیچے پھینکا تھا
اندر آتے ہوئے حاضر کی نظر فریحہ پر پڑھی تو وہ اسے ٹرانس کی کیفیت میں بس دیکھی جا رہا تھا
اپنے اوپر نظروں کی تپش محسوس کر کے فریحہ نے سامنے دیکھا تھا جہان حاضر آنکھوں میں محبت لیے اسے دیکھی جا رہا تھا
فریحہ نے گھبراتے ہوئے اپنے لب کاٹنے لگی تھی
آج تو حاضر بھائی کی خیر نہیں یا یوں کہوں تمہاری خیر نہیں فریحہ کے کان میں پری کے بولے لفظ گونجے تھے
حاضر آہستہ آہستہ قدم اُٹھاتے ہوئے فریحہ کی طرف بڑھا تھا
حاضر کے بڑھتے قدموں سے فریحہ کی دل کی دھڑکن بھی بڑھ رہی تھی
حاضر وہ۔۔۔۔۔۔
وہ ابھی کچھ بولتی حاضر نے نیچے پڑھی اس کی ہیل اُٹھائی تھی اور اس کے قدموں میں بیٹھ گیا تھا
اس کے پاؤں کو اپنے گھٹنے پر رکھا آرام سے پاس پڑھے ڈریسز سے اس کی پازیب لے کر اس کے پاؤں میں پہنائی تھی فریحہ اس کی ہاتھوں کے لمس سے گھبراہٹ کا شکار ہو گئی تھی
حاضر فریحہ کی طرف دیکھتے ہوئے اس کے پاؤں میں اب اس کی ہیل پہنا رہا تھا اور پھر اسی طرح دوسرے پاؤں میں بھی
وہ انسان جو کسی کے آ گے جھکتا نہیں تھا آج محبت کے ہاتھوں اپنے محبوب کے قدموں میں بیٹھا ہوا تھا
اس کا دوسرا پاؤں بھی زمین پر رکھنے کے بعد اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے خود کے قریب کیا تھا
فریحہ نے نم آنکھوں سے حاضر کو دیکھا تھا اس کو پری نے بہت دفعہ بتایا تھا حاضر لالہ کس طبیعت کے ہیں اسی لئے فریحہ خیران تھی حاضر کو اپنے قدموں میں بیٹھا دیکھ کر
شش رونا بالکل نہیں ہے وہ اس کی آنکھوں کی نمی کو دیکھ کر بولا تھا
فریحہ روتے ہوئے ہنس دی تھی حاضر بھی اسے مسکراتے دیکھ کر مسکرا دیا تھا
فریحہ نے اپنے پاوں اُٹھا کر اس کے ماتھے پر اپنے لب رکھے تھے
حاضر نے اس کو کمر سے تھام کر سہارا دیا تھا
میں بہت خوش ہوں حاضر بس میرا اعتبار مت توڑھے گا وہ اس کے ماتھے سے اپنا ماتھا ٹکا کر بولی تھی
چلیں اب وہ اس سے پیچھے ہوتے ہوئے بولتی باہر کی طرف بڑھنے لگی تھی
ایسے کیسے وہ اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے اپنی طرف کھینچ کر اسے موقع دیے بینا اس کے ہونٹوں کو قید کر چکا تھا
حاضر بہت بدتمیز ہیں آپ وہ اس کے سینے پر مکا مار کر بولی تھی
حاضر نے مسکرا کر اسے ساتھ لگا لیا تھا اس کے بالوں میں سے کیچر نکال دیا تھا
جاناں بالوں کو کھلا چھوڑ دو بولتے ہوئے اس کے سر پر پیار دیتے ہوئے اس کا ہاتھ تھام کر باہر لے گیا تھا جہاں سب تھے
ماشاءاللہ نظر نہ لگے میرے بچوں کو خنا شاہ دونوں کو سیڑھیوں سے اترتے دیکھ کر مسکراتے ہوئے بولی تھی
بڑی بی بھی مسکرا دی تھی سب کو خوش سا دیکھ کر اور فریحہ اور حاضر کی بلائے اتارنے لگی تھی
دادا جی بھی اپنے سب سے پیارے پوتے کو اتنا خوش دیکھ کر مسکرا دیے تھے جو بھی تھا سب اپنی جگہ پر ٹھیک ہو رہا