Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 3

نورین نے زرتاشہ زویا اور فریحہ کو خود کالج چھوڑ کر آتیں تھی حیا ان کی وجہ سے اکثر اپنے لیکچر مس کر دیتیں تھی
زوحا کتنا کھاتی ہو تم یار حیا ٹوٹس بناتے ہوئے اپنا چہرا اوپر کر کے زوحا سے بولی جو کب کی اس کے پاس بیٹھی چپس ٹوس رہیں تھی
تم کو کیا مسئلہ ہے میرے کھانے سے خود تو کھاتیں نہیں کچھ مجھے تو کھانے دو میرے کھانے پر نظر نہ لگاؤں زوحا چپس منہ میں ڈالتے ہوئے بولی
موٹی بھینس ہو جاؤں گی کھا کھا جس طرح تم کھاتیں ہو اللہ ہی حافظ ہے تمھارا خرچا اُٹھانے والوں کا
حیا نے افسوس سے اس کی طرف دیکھ کر ایک مکا اس کی کمر پر مارا کر بولی تھی
ان دونوں کی آپس میں کافی اچھی دوستی ہو چکی تھی
حیا تمہیں اللہ پوچھے میری کمر توڑ دی تم نے وہ ہاتھ سے اپنی کمر سہلاتے ہوئے بولی
دفع ہو کر ٹوسو تم میں جا رہیں ہوں لائبریری وہ اپنی کتابوں کو اُٹھاتے ہوئے گراؤنڈ سے اُٹھتے ہوئے بولی تھی
روکو یار میں بھی اتیں ہوں زوحا اپنی چپس کو ختم کرتے ہوئے اس کے پیچھے بھاگی تھی
نہیں تم جاؤ کچھ اور ٹوس لو جا کر کچھ رہ نہ جائے تمہارا حیا چلتے ہوئے اس کی طرف مڑا کر بولی تھی
آ آ سنبھل کر چلیں حیا زوحا سے باتیں کرتے ہوئے سامنے آتے انس کا نہ دیکھ پائیں تھی اور اس سے ٹکرا گئی تھی
اب حال یہ تھا کہ وہ اس کی کمرا پر ہاتھ رکھ کر اسے سنبھالے ہوئے تھا حیا نے گرنے کے خوف سے آنکھیں بند کر لی تھیں
انس حیا کے چہرے کی طرف دیکھتا بے خودی میں اپنا دوسرا ہاتھ بڑھا کر اس کے چہرے سے بالوں کو پیچھے کرنے لگا
انس کی اس حرکت سے حیا نے پٹ سے آنکھوں کو کھولا اور اپنی پوزیشن کا اندازہ ہوا تو جلدی سے انس کے ہاتھ کو پیچھے جھٹکتے ہوئے اسے بھی پیچھے دھکیل کر خود کو اس کی گرفت سے آزاد کیا
انس جو کسی ٹرنس کی کیفیت میں تھا حیا کے جھٹکنے سے ہوش میں آتا اسے دلچسپی سے دیکھنے لگا جو اب اپنی کتابوں کو نیچے سے اُٹھاتے ہو بڑبڑا رہیں تھی
آج کل کے لڑکوں کو ہیرو بنانے کا بہت شوق ہے وہ اپنی کتابوں کو نیچے سے اُٹھاتے ہوئے بڑابڑا رہیں تھیاور دوسری غلط نظر بھی انس پر ڈالے بنا آگے بڑھ گئی تھی
شکریہ تو ادا کرتیں جاؤ وہ اسے جاتا دیکھا کر بولتا اس کی کلائی سے پکڑ کر اسے اپنی طرف کھینچتے ہوئے بولا تھا
چھوڑوں وہ اس سے اپنی کلائی چھوڑتے ہوئے اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بولی تھی
پہلے شکریہ بولو پھر سوچوں گا چھوڑنے کا انس کو اسے تنگ کرنے میں مزا آ رہا تھا
انتہائی کوئی گھٹیا انسان ہو تم وہ اپنے دوسرے ہاتھ سے اسے تھپڑ مارتے ہوئے بولی تھی
نہ نہ میری جان یہ غلطی مت کرنا اپنے لفظوں اور عمل سے تم مجھے غصہ دلا چکی ہو وہ اس کا دوسرا ہاتھ بھی ہوا میں ہی پکڑ کر بولا تھا
انس کی آنکھوں میں غصہ سے خون اترتا محسوس ہوا تھا حیا کو
کتنا گھٹیا ہوں میں ابھی تمہیں اندازہ نہیں ہے پر…. پر بہت جلدی تمہیں اندازہ کروا دوں گا وہ پراسر سا مسکراتے ہوئے بولتا اس کے دونوں ہاتھوں کو جھٹکتے ہوئے بولا تھا
ڈرتیں نہیں میں تم سے میری طرف سے جہنم میں جاؤوہ بھی اس کی آنکھوں میں غصہ سے دیکھتے ہوئے بولتی اپنی کتابوں کو اٹھاتے ہوئے زوحا کا ہاتھ پکڑ کر وہاں سے نکل گئیں
بہت جلدی ڈرو گئی تم مجھے سے پناہ مانگوں گی میرے کہر سے کسی کے لائک نہیں چھوڑوں گا تمہیں وہ آنکھوں میں غصہ اور جنون لیے بولتا ہوا یونیورسٹی سے باہر نکل گیا تھا
❤️❤️❤️❤️❤️
کیسا کمینہ انسان ہے یہ یہ دیکھو حیا اسے مختلف مختلف الفاظ سے نوازتے ہوئے زوحا کے سامنے اپنی کلائی کر کے بولی جو انس کے پکڑنے سے پوری ریڈ ہو چکی تھی
میں نے تو تمہیں پہلے ہی بولا تھا ان منحوسوں سے دور رہو ان سے پنگا لینا اچھی بات نہیں زوحا اس کی کلائی دیکھ کر افسوس سے بولی تھی
یار میں نے کب پنگا لیا اس سے خود ہی میرے سامنے آیا تھا وہ اپنے ڈپارٹمنٹ کی سڑیوں میں بیٹھ گئیں تھیں
سارا موڈ خراب کر دیا ابھی اتنے نوٹس بنانے والے ہیں اور میرا دل نہیں کر رہا اب وہ بے زار ہوتے ہوئے بولیں تھی
چلوں دفع کرو آو کچھ کھانے کے لیے جاتیں ہیں زوحا خوش ہوتے ہوئے اس کا ہاتھ پکڑ کر بولی
ہاں جی تمہیں تو بس یہ ہی کام ہے دنیا میں کھاؤں پیو موج کرو پرھنا مت وہ اس کے ساتھ چلتے ہوئے بولی تھی
ہاں تو ٹھیک ہے نہ آگے پتہ نہیں کھانے کو ملے گا بھی کے نہیں وہ منہ بسورتے ہوئے بولی تھی
زوحا بس کر دو تم آکسیجن کے بنا تو رہ لو گی پر کھانے کے بنا نہیں میں مان ہی نہیں سکتی تم کھانا چھوڑ دو
ہاہاہاہاہا زوحا اس کی بات پر ہنس دی تھی حیا بھی اسے مسکراتے دیکھ کر مسکرا دی تھی
❤️❤️❤️❤️
شاہ حویلی میں شادی کی تیاریاں عروج پر تھیں عورتوں کی دوڑے بازاروں میں لگیں ہوئی تھی اور مردہ گھر کی ہر تیاری کو بھرپور طریقے سے سرانجام دے رہے تھے
گھر کی سب سے پہلی شادی ہے اسی لئے کوئی کمی نہیں رہنی چاہیے
اکرم شاہ اپنے بیٹوں سے بولے تھے
جی آپ فکر ہی نہ کریں ساری دنیا دیکھتی رہ جائے گی خسین شاہ اکبر کے پہلو میں بیٹھے مسکرا کر بولے تھے
بابا حیام انڈسٹری والوں کو بھی بولنا ہے کیا باقی سب کو تو پیغام پہنچایا جا چکا ہے بس یہی ایک انویٹیشن رہ گیا ہے بس
ہاں انہوں کو بھی پیغام پہنچانا ہے باقی سب انڈسٹریل کو اطلاع بھجوں دینا کوئی بھی خاص مہمان نہ رہ جائے ہمارا داداشاہ بولتے ہوئے اُٹھ کر وہاں سے چلے گئے تھے
ان کے پیچھے اکبر اور عاقب بھی نکل گیا تھے
زینی بیٹا میرا لیے ایک کپ چائے بھجوا دینا زینی جو کیچن کی طرف جا رہیں تھی خسین شاہ کی بات سن کر مسکراتے ہوئے ہاں میں سر ہلا کر چلی گئی
❤️❤️❤️❤️
سکینہ یہ چائے بابا کو دے آؤ زینی اسے چائے بنا کر دیتے ہوئے بولتی اپنے لیے کافی بنا رہی تھی
اور تھوڑی تھوڑی دیر بعد اپنے س کو ہاتھ سے دبا بھی رہی تھی
کس بات پر سر دار کر رہا تمہارا تبریز جو کہ پری کو دیکھنے کے لیے آیا تھا زینی کو ایسے کرتے دیکھ کر بولا تھا
وہ اس کی آواز پر پیچھے مڑا کر تبریز کو دیکھنے لگی جو غصے سے اسے دیکھا رہا تھا
زینی نے بنا اسے جواب دیے واپس اپنے کام میں لگ گئی
میں نے تم سے کچھ پوچھا ہے وہ غصے سے آگے بڑھ کر اسکا بازوں پکڑتے ہوئے اپنے سامنے کر کے بولا تھا
میں آپ کو کوئی بھی بے توکی بات کا جواب دینا مناسب نہیں سمجھتی سنا آپ نے وہ بھی غصہ سے غراتے ہوئے بولی تھی
یہ سوچ ہے تمہاری تم ہر طرح سے پابند ہو میری ہر بات کا جواب دینے کی خبردار جو آئندہ تم نے مجھ سے اونچی آواز میں بات کی زبان کاٹ کر ہاتھ میں رکھ دوں گا
وہ اس کا چہرہ دبوچتے ہوئے بولتا وہاں سے نکل گیا
اور ہاں جلدی سے کافی بھجواؤں میرے کمرے میں
پیچھے زینی آنکھوں میں نمی لیے اسے دیکھ رہی تھی
آپ تو ایسے کبھی نہیں تھے پھر کیوں کر رہے ہیں ہے میرے ساتھ ایسے وہ دیوار سے اپنا سر ٹکا کر بولی تھی آنکھوں سے آنسو نکل آئے تھے
کس بات پر اتنے رونے روئیے جا رہیں ہیں خبہ اسے روتے دیکھا کر بولی تھی
ہاہاہاہاہا میں نے کہا تھا نہ تم سے انکار کر دو پر تمہیں بہت مان تھا تبریز کی محبت پر دیکھا لی اس کی محبت وہ ہنستے ہوئے اس پر طنزیہ لہجے میں بولی تھی
مجھے اب بھی مان ہے ان کی محبت پر تم جو مرضی کر لو نہ میں ان کو چھوڑوں گی اور نہ وہ مجھے زینی اپنے آنسو صاف کرتے ہوئے مسکر کر بولتی اس پوری طرح سے جلا گئی تھی
ہن محبت وہ منہ بناتے ہوئے بولتی وہاں سے پیر پٹکتے ہوئے چلی گئی
تو یہ بات تھی آپ خبہ کی باتوں میں آ کر میرے ساتھ یہ سلوک کر رہیں ہیں ایک دفعہ بھی مجھے کچھ پوچھے اور سنے بنا
آپ نے میری محبت کا مان توڑا ہے تبریز اس کے لیے میں آپ کو معاف نہیں کروں گی کبھی بھی نہیں
وہ روتے ہوئے بے دردی سے اپنے آنسو کو صاف کرتے ہوئے بولتی وہاں سے باہر نکل گئی تھی
❤️❤️❤️❤️
تمہارا ٹیسٹ کیسا ہوا فری پری اور فریحہ کلاس سے باہر نکل رہیں تھیں تب پریوش فریحہ سے بولی
ٹھیک تھا کچھ چیزیں میں سمجھ نہیں پائی تھی اسی لیے ورنہ باقی تو سب ٹھیک ہے تم سناؤ تمہارا کیسا ہوا
فریحہ اپنے نوٹس کو ترتیب سے رکھتے ہوئے بولی
میرا تو ایک دم بکواس ہوا ہے رات کو لالہ سے سمجھا بھی تھا پر پھر بھی کچھ پلے نہیں پڑا
ہاہاہاہاہا پری کوئی خال نہیں تمہارا فریحہ اس کے گال کہنچتے ہوئے بولی تھی
چلو اسے چھوڑو تم یہ بتاو کل ٹائم ہو گا نہ کالج کے بعد میرے ساتھ شاپنگ پر چلو گی مجھے کچھ کپڑے دیکھنے ہے
وہ اس کی منت کرتے ہوئے بولی تھی
امو جانی نہیں مانے گی تم جانتی تو وہ کتنی سحت طبیعت کی ہیں
یار پلیز ماما کو منا لو بس دو گھنٹے کی بات ہے ہم ایک دو شاپ پر جائیں گے اور پھر جلدی ہی واپس پری چھوٹکی بجاتے ہوئے بولی تھی
میں کوشش کرو گی اگر ماما مان گئیں تو پھر ضرور ساتھ چلوں گی
شکریہ تمہارا بہت بہت اور تم بھی آؤ گی میرے لالہ کی شادی پر میں خود آؤ گی تمہارے گھر انویٹیشن لے کر اور آنٹی کو بھی مانا لو گئی پری مسکرا کر بولی تھی
ہاں آجاؤں گی اگر امو جانی مان گیں تو فریحہ مصروف سے انداز حیا کو میسج کرتے ہوئے بولی تھی
تم اپنی اموجانی کے بغیر کچھ نہیں کر سکتیں ہر بات ان سے پوچھنا ہوتیں ہے
جی ہاں ہر بات ان سے ہی پوچھوں گی نہیں تو اور کس سے پوچھوں وہ منہ بناتے ہوئے بولی تھی
بابا سے نہیں پوچھ سکتیں کیا وہ کیا ماما سے بھی سخت ہیں کیا پری لاپروائی سے بولی تھی
پری کی بات سے فریحہ کے چہرے پر ایک سایا سا آ کر گیا تھا وہ اپنے لب کو دانتوں سے کاٹنے لگی تھی
کیا ہوا ہے تمہیں کیا بابا کے نام پر ایسے کیوں ہو گئی ہو پری اسے پریشان دیکھا کر بولی تھی
کچھ نہیں بابا نہیں ہیں میرے وہ اپنے آنسو کو بمشکل ضبط کر کے مسکرا کر بولی تھی
سوری یار مجھے نہیں معلوم تھا وہ سوری بولتی اسے دوسری باتیں کرنے لگی
فریحہ بھی اس کی باتوں پر دھیان دینے لگی وہ باپ کو پوری طرح سے اپنے ذہین سے جھٹکے کی کوشش کرتی مسکرا کر اس کی باتوں کو سننے لگی
پر اندر سے اس کے دل کو تکلیف ہوئی تھی
❤️❤️❤️❤️
نورین اس وقت میٹنگ روم میں بیٹھیں سب کے ساتھ میٹنگ اٹینڈ کر رہیں تھی
مس نورین آپ کل کے اٹنڈس کی فائل لے کر میرے روم میں آئیے عادل صاحب کے کہنے پر نورین نے بے بسی سے ان کو دیکھا
جو اسے پوری طرح اگنو کرتے ہوئے بابر اپنے روم کی طرف بڑھ گیے
نورین بے بسی سے اُٹھتے ہوئے اپنے کبن سے فائل لے کر عادل صاحب کے روم کی طرف بڑھ گئیں تھیں
یہ رہی سر فائل وہ ان کے آگے فائل رکھ کر واپس مڑا گئیں
میں نے آپ کو جانے کے لیے نہیں بولا مس نورین عادل غصے سے اسے جاتے ہوئے دیکھا کر بولیں تھی
پلیز عادل میں اس بارے میں کوئی بات نہیں کرنا چاہیتی وہ بنا مڑے بولیں تھیں
کیوں کیوں نورین کیوں مجھے آپ مجھے بے بس کر
رہیں ہیں شادی جیسا پاک بندھن بنانا چاہتا ہوں میں آپ کے ساتھ آپ کیوں نہیں سمجھ رہیں میری بات وہ نورین کا رخ اپنی طرف کر کے بولے تھے
میں میں اپنی بیٹیوں کے سامنے شرمندہ نہیں ہونا چاہتی اب ان کی شادی کی عمر میں میں کیسے شادی کر سکتیں ہوں عادل آپ کیوں نہیں سمجھ رہیے میری باتوں کو
کیا بس یہی بات ہے تو میں خود بات کرو گا آپ کی بیٹیوں سے اور ان کو اپنی بیٹیاں بنا لوگا مجھے پورا یقین ہے کہ وہ کبھی بھی انکار نہیں کریں گی
پلیز عادل پھر بھی میرے یہ ہی فیصلہ ہے اب میں نہیں کرنا چاہتی اس بارے میں بات وہ ان کو دو ٹوک بولتے ہوئے باہر نکل گئیں تھیں
تو ٹھیک ہے نورین ایسے نہیں مانے گی تو مجھے ہی کوئی خال نکالنا پڑے گا وہ پر سوچ سا مسکرا کر بولتے دوبارہ سے اپنی فائل کو سٹیڈی کرنے لگ گئے تھے
❤️❤️❤️❤️
زری اور زویا سکول کے باہر کھڑی اپنی ماما کا انتظار کر رہیں تھیں
زری میں وہاں بیٹھی ہوں جب ماما آئیے تو مجھے بولا لینا زویا زرتاشہ کو بولتے ہوئے اندر جا کر بینچ پر بیٹھ گئی تھی
واہ کتنی پیاری ہے زرتاشہ دور سڑک پر ایک سفید کلر کی بلی کو دیکھ کر اس کی طرف بڑھ گئی تھی
وہ وہیں درخت کے پاس بیٹھی اسے گود میں رکھ کر ہاتھوں سے سہلا رہیں تھی
واہ کیٹی تم تو بہت کیوٹ ہو…. ماما آ جائیں تو ان سے پوچھا کر تمہیں ساتھ لے جاؤں گی
تھوڑی ہی دور ایک لڑکا اپنی گاڑی سے ٹیک لگائے ہاتھ
میں سگریٹ پکڑے آنکھوں کو بند کیا کھڑا تھا زرتاشہ کی آواز پر آنکھیں کھول کر اسے گور سے دیکھنے لگا
اب وہ زمین پر بیٹھ گئی تھی اور اپنے ہاتھوں سے اپنی گود میں بیٹھا کر باتیں اور پیار کرنے لگیں
دور کھڑا سلال اس کی خرکتوں سے محفوظ ہوتا اسے دیکھ کر مسکریا تھا
پھر آگے بڑھ کر اس کے پاس چلا گیا
ہیلو یہ میری کیٹی ہے لاو مجھے واپس دو وہاں اس کے پاس بیٹھ کر اشار کرتے ہوئے بولا
یہ یہ آپ کی ہے پر یہ اب مجھے یہاں سے ملی ہے زرتاشہ کا اس کی بات پر منہ بن گیا پر پھر بھی ہمیت کر کے بولی تھی
وہ اس کے ایکسپریشن دیکھ کر مسکرا رہا تھا اسے اس چھوٹی سی لڑکی کو تنگ کرنے میں مزہ آ رہا تھا
وہ سلال جو کسی لڑکی کو منہ لگانا پسند نہیں کرتا تھا اس چھوٹی سی لڑکی کی طرف کھینچا چلا آیا تھا
اس کے ہاتھ بے اختیار ہی اُٹھے اور اس کے چہرے پر آئے بالوں کو اس کے کان کے پیچھے کرنے لگا
کوئی دوسری لڑکی ہوتی تو اس کے چھونے سے آسمانوں میں اُڑتی پر وہاں بھی زرتاشہ تھی
جو ہے تو چھوٹی سی پر اتنی سمجھ تو رکھتیں تھی کہ ہر رشتے کا ایک تکدس ہوتا ہے
زرتاشہ نے اس کی اس خرکت پر اسے غصے سے گوری سے نوازا پر دوسری طرف بھی سلال تھا زیدی اور جنونی انسان کسی کی پرواہ نہ کرنے والا
آپ نے ہاتھ بھی کیسے لگایا مجھے وہ غصے سے اس کا ہاتھ جھٹکتے ہوئے بولی تھی
جیسے تم نے میری کیٹی کو ہاتھ لگایا آج تو ہاتھ جھٹکا ہے آئندہ کوشش بھی کی ہاتھ پیچھے کرنے کی تو پھر دیکھنا
میں آئندہ آپ سے ملوں گی ہی کیوں یہ لے اپنی کیٹی میری طرف سے باڑہ میں جائیں وہ بلی کو وہی چھوڑتی جلدی سے اُٹھتی وہاں سے جانے لگیں
سلال کو جب ایک چیز پسند آ جائیں وہ اس کی ہو کر ہی رہتی ہے وہ جاتی ہوئی زرتاشہ کو دیکھ کر بولتا کیٹی کو اپنے ہاتھوں میں پکڑا کر اپنی کار کی طرف بڑھ گیا
اب تمہیں میرے پاس ہی رہنا ہے جلد ہی تمہاری چھوٹی دوست بھی تمہارے پاس ہو گئی وہ اسے پیار کرتے ہوئے بولتا گاڑی کا دروازہ بند کر گیا تھا
وہ تب تک وہی کھڑا رہا جب تک زرتاشہ کو لینے کوئی آیا اور لے کر چلا گیا
وہ پر اسرار سا مسکراتے ہوئے اپنی گاڑی میں سوار ہو کر نکل گیا
❤️❤️❤️❤️
زری تمہیں کیا ہوا ذویا نے زری کو کھڑکی کے باہر دیکھتے ہوئے دیکھا کر بولا
کچ کچھ نہیں ہوا مجھے مجھے کیا ہو گا وہ زبردستی کا مسکرا کر بولی تھی
وہ دونوں پیچھے بیٹھی ہوئی تھیں اور فریحہ آگے نورین کے پاس بیٹھی ہوئی تھی
اسلام وعلیکم ماما حیا نے جب ان کی گاڑی کو اندر داخل ہوتے دیکھ تو جلدی سے باہر آ کر سلام کیا
اوہ آج تو بہت جلدی گھر آ گئیں ہیں آپ وہ اسے پیار کرتے ہوئے بولتیں پانچویں اندر داخل ہو گئیں تھیں
جی آج لسٹ والا لیکچر فری تھا تو اسی لیے جلدی واپس آگئی
آپ سب فریش ہوں لیے میں کھانا لگاتیں ہوں اماں بی کے ساتھ مل کروہ ان کو بول کر کیچن کی طرف چلیں گئی
اماں بی ان کے ساتھ رہ رہیں تھی ان کو عادل گاؤں سے لے کر آئے تھے نورین کی مصروفیات کی وجہ سے اب وہ ان کے گھر رہ رہیں تھیں
وہ ان کے گھر کھانے پکانے کے کام کرتیں تھیں
عادل صاحب نے نورین کا ہر مشکل میں ساتھ دیا اسی لئے اب وہ ان کی باتوں سے پریشان تھیں
ماما آپ کا آج کا دن کیسا گزرا حیا کے پوچھنے پر نورین چونکی تھی اور عادل کی باتیں ذہین میں گردش کرنے لگیں تھیں
نورین کے پرسوچ اندا پر حیا نے فریحہ کی طرف دیکھا تھا جیسے اسے کچھ باور کروا رہیں ہو
حیا کے دیکھنے پر اس نے بے بسی سے کندھے اچکا دیے تھے
ماما سب ٹھیک ہے نہ حیا کے بولنے پر وہ چونکتی مسکرا کر ہاں میں سر ہلا گئیں تھیں اور واپس اپنے کھانے پر جھک گئیں تھیں
حیا نے بھی دوبارہ ان کو محاتب نہیں کیا اور پھر سب چپ چاپ کھانا کھانے لگیں