Rate this Novel
Episode 5
حیا پرسوں یونیورسٹی میں فریول پارٹی ہے تم آؤ گی کیا زوحا اور وہ کلاس میں بیٹھی سر کا انتظار کر رہیں تھی آج سر کافی دیر انتظار کے بعد بھی نہیں آ رہیے تھے
کیا کون سی والی پارٹی اور ہمارا انا ضروری ہے کیا حیا کے بولنے پر زوحا نے اس کی طرف حیران ہو کر دیکھا تھا اور ان کے پیچھے بیٹھے انس اور امن جو اپنے گروپ کے ساتھ بیٹھے تھے ان کے کان بھی کھڑے ہو چکے تھے
مس حیا یہ کلاس ہے آپ اپنا والیم آہستہ رکھیں تو بہتر ہو گا آنیہ اس کے اونچی آواز بولنے پر چھوٹ کرتے ہوئے بولی تھی
نہیں اماں نہیں مانے گی یار حیا آہستہ آواز میں بولتی انیہ کو اگنور کر چکی تھی
کیوں پارٹی ہی تو ہے یہاں کون سا کوئی غلط کام چلے گا
پتہ ہے مس زوحی پر میں کبھی نہیں گئی کسی بھی پارٹی پر اماں جانی سے پوچھا کر بتاؤں گی تمہیں میسج کردوں گی میں حیا لاپرواہی سے موبائل پر کچھ لکھتے ہوئے اسے جواب دے رہیں تھی
یہ مصروف کہا ہو تم موبائل پر کس کے ساتھ بات کر رہیں ہو موبائل پر جو میری طرف دیکھ بھی نہیں رہی زوحا اسے اپنے طرف توجہ نہ دیتے ہو دیکھ کر جل کر بولی تھی
میرا بوائے فرینڈ ہے حیا دانتوں کی نمائش کرتے ہوئے بولتی پیچھے بیٹھے انس اور امن کے چہرے پر غصہ لے آئی تھی
دفع ہو جاؤ تمہارا اور بوائے فرینڈ میں مان ہی نہیں سکتی زوحا منہ بسور کر بولی تھی
ہاں تو جب پتہ ہے میرا ایسا کوئی سین نہیں ہے تو پھر کیوں بکواس کر رہیں ہو حیا بھی اس کو اسی کے انداز پر جواب دیتے ہوئے بولتی غصہ دالا گئی تھی
فریحہ سے بات کر رہیں ہوں ہمیں جانا ہے کسی کام سے آج تو سوچ رہیں ہوں آج مجھے نہیں لگ رہا کوئی کلاس ہو گی اسی لئے یہاں سے نکلوں اور فریحہ کو لے جاؤں اسی بارے میں ہماری بات ہو رہیں تھی
ہاں مجھے بھی لگ رہا ہے آج کلاس نہیں ہونے والی چلو چلیں کیفے زوحا اپنا بیگ اُٹھاتے ہوئے بولی تھی
میڈم تم نکلوں میں فریحہ کو لے کر اپنے کام سے جا رہیں ہوں وہ زوحا کو بائے بولتے ہوئے وہاں سے نکل گئی تھی
❤️❤️❤️❤️
کہاں جا رہی ہو تم اور اندر کیا بکواس کر رہی تھی کے تمہارا بوائے فرینڈ ہے
انس جو حیا کے باہر نکلتے پر اس کے پیچھے آیا تھا جب وہ گاڑی کا ڈور اوپن کرنے لگی اس کا بازوں پکڑ کر اس کو اپنی طرف کھینچتے ہوئے بولا
چھوڑو مجھے حیا اس کے کہنچنے پر آنکھیں کھول کر اسے دیکھتے ہوئے بولی تھی
ہاہاہاہاہا تمہیں چھوڑ دوں نہ میری جان اب تو نہ ممکن ہے تمہیں چھوڑنا وہ قہقہہ لگاتے ہوئے اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے اسی کی گاڑی میں دوسری طرف پھینکتے ہوئے خود ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھ کر گاڑی کو لے کر یونیورسٹی سے باہر نکل گیا
کہا لے کر جا رہے ہو مجھے نکلو باہر میری گاڑی سے وہ اس سے لڑتے ہوئے بول رہیں تھی اندر سے پوری طرح سے ڈر بھی چکی تھی
چپ بلکل چپ اب آواز نکالی تو چلتی گاڑی سے نیچے ان جنگلوں میں پھینک دوں گا اور وہاں کے جانور کی خوراک بن جاو گی تم
حیا اس کی بات سے ڈر کر چپ کر گئی تھی اس کی آنکھوں میں آنسو آنے لگ گیے تھے پر وہ خود کو رونے سے روک رہیں تھی کیونکہ وہ اس کے سامنے کمزور نہیں پڑھنا چاہتی تھی
انس حیا کے چپ کر جانے سے ریلکس ہوتے ہوئے فون پر کسی کو میسج کر رہا تھا اپنی نظریں حیا پر بھی رکھی ہوئی تھیں
حیا کو یاد آیا تو اس نے جلدی سے اپنا فون نکل کر فریحہ کو فون کرنے لگی
تم نے کیا مجھے بے وقوف سمجھ ہوا ہے وہ حیا سے موبائل کھینچتے ہوئے بولا تھا موبائل کھنچ کر اپنی جیب میں رکھ چکا تھا
میں تمہاری جان لے لو گی کہا لے کر جا رہے ہو مجھے وہ اس پر غصے سے غرائی تھی
اپنا بنانے کے لیے لے کر جا رہا ہوں تمہیں تکے تمہارے بوائے فرینڈ سے چھین سکو تمہیں وہ کمنی سی ہنسی ہنس کر بولتا اسے جلا گیا تھا
بکواس بند کرو اپنی کوئی بوائے فرینڈ نہیں ہے میرا وہ غصے سے بولتے ہوئے گاڑی کا دروازہ کھولنے لگی
ہاہاہاہاہا تو کوئی بات نہیں اب سے تمہارا ایک میاں ہو جائے گا وہ زور سے قہقہہ لگاتے ہوئے بولا تھا
میرا بس چلے تو میں تمہیں اُٹھ کر گاڑی سے باہر پھینک دوں وہ غصے سے بولی تھی حیا کو وہ اس طرح پورا زہر لگ رہا تھا
ہاہاہاہاہا حیا تم سب سے الگ ہو اس سچویشن میں تو لڑکیاں رو رو کر آدھی مرنے والی ہو جاتیں ہیں پر تم مجھے ہر طرح سے حیران کر رہیں ہو
انس کو یہ لڑکی ہر طریقہ سے اپنی گیرد کر رہی تھی انس وہ تھا جس پر ہر لڑکی مرتی تھی پر یہ لڑکی اس سے ہمیشہ دور رہیں وہ اٹریکٹ کر رہی تھی انس کو آج انس خود نہیں جان پایا تھا کہ وہ یہ سب کیوں کر رہا ہے
حیا اس کی بات پر کچھ نہ بولتے ہوئے اپنا چہرا دوسری طرف کر گئی تھی
❤️❤️❤️❤️❤️
کیا ہوا ہے فریحہ یہاں کیوں کھڑی ہو فریحہ گرائنڈ میں کھڑی تھی جو کالج کے باہر والے گیٹ کے بالکل پاس تھا
یار میں حیا کا انتظار کر رہیں ہوں مجھے آنے کا بول کر ابھی تک نہیں آئی وہ فون پر ٹائم دیکھتے ہوئے بولی تھی
کیا مصیبت ہے حیا دفع ہو جاؤ فریحہ اپنے موبائل پر حیا کے اگلے آنے والے میسج پراسے دو لفظ بھجواتے ہوئے پری کے ساتھ کلاس کی طرف بڑھ گیی
اب کیا ہوا غصہ کیوں ہو اس کے غصہ کرنے پر پری اس سے پوچھنے لگی
حیا کا میسج تھا کلاس لے رہیں ہوں پلین کنسل کر دیا ہے اور مجھے آدھے گھنٹے بعد بتا رہی ہے فریحہ غصے سے بولتے ہوئے سیڑھیوں میں بیٹھ گئی تھی
ہاہاہا تمہاری بہن تمہیں کافی تنگ کرتی ہے کتنا اچھا احساس ہے نہ بہنیں ہونے کا بھی پری ہنستے ہوئے آخر میں حسرت سے بولی تھی
ہاں ہے تو پرسنا تو ہو گا تم نے کے ہر کسی کو مکمل دنیا نہیں ملتی ضروری نہیں جو میرے پاس ہو وہ تمہارے پاس بھی ہو اور جو تمہارے پاس ہے وہ میرے پاس بھی ہو
یہ دینا ہے ہی حسرتوں کے لیے ہر کوئی انسان کسی نہ کسی حسرت میں مبتلا ہے وہ مسکراتے ہوئے بولتی پری کو اجیب کیفیت کا شکار لگی تھی
فریحہ تم جو خود کو ظاہر کرتی ہو وہ ہو نہیں بہت الجھی ہوئی لگتی ہو تم مجھے تمہاری باتیں بہت گہری ہوتی ہیں پری اپنے ذہین پر زور ڈالتے ہوئے بولیتی اسے آج بڑی بڑی محسوس ہوئی تھی
ہاہاہاہاہا پری آج تو تم مجھے حیران کر گئی ہو اپنی باتوں سے تم کب سے اتنی سمجھ داری والی باتیں کرنے لگی
تم معصوم ہی مجھے پیاری لگتی ہو وہ اسے کے گال کھینچتے ہوئے اس کی باتوں کو گول کر گئی تھی
آج تو پھر تم گھر کیسے جاؤں گی حیا تو پلین کنسل کر چکی ہے نہ اور تمہیں تو اس کے ساتھ گھر جانا تھا نہ پری اس کے ساتھ سڑیوں پر بیٹھتے ہوئے بولی تھی
میں کیب لے لو گی آج وہ لاپروائی سے بولی تھی
ہم دیکھا جائے گا میرے ہوتے ہوئے کیب لو گی تم ہون پری منہ بسورتے ہوئے بولی تھی
ہاہاہاہاہا پری بس کر دو یار تمہاری ایکٹنگ بہت زیادہ اُور ہوتی ہے فریحہ ہنستے ہوئے بولی
دفع ہو جاؤ میں تم سے نہیں بول رہی وہ اس کی قمر پر مکا مارتے ہوئے بولی تھی
ہاہاہا میں صدقے جاؤں تمہارے ناراض ہونے پر بھی میری کیوٹی والی پری وہ اسکے گال کھینچتے ہوئے اس سے بولتی ہنس دی تھی
چلو اب میڈم کلاس لینے چلتیں ہے فریحہ اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے اُٹھاتے ہوئے بولتی اسے اپنے ساتھ لے کر جانے لگی
❤️❤️❤️❤️
باہر نکلو حیا انس گاڑی کو پارکنگ ایریا میں روکتے ہوئے اب حیا کے سائیڈ والا ڈور اوپن کرتے ہوئے بول تھا
میں کچھ بولا رہا ہوں تم سے سنائی نہیں دے رہا تمہیں حیا کے باہر نہ نکلنے پر وہ زور سے حیا پر غرایا تھا
حیا آخری دفعہ پوچھ رہا ہوں باہر نکلو گی کہ نہیں وہ آئی برو اُٹھ کر بولا تھا
حیا اندر سے ڈری ہوئی تھی پر انس کی ایک بھی بات کا نہ جواب دے رہیں تھی اور نہ ہی باہر نکل رہیں تھی
چھوڑو مجھے چھوڑو حیا اس کے بازوں میں چلا رہیں تھیں کیونکہ وہ حیا کو اپنی باہیوں میں اُٹھ کر باہر نکلا کر اب اوپر کی طرف بڑھ رہا تھا
چپ بالکل چپ اب آواز نہ آنے پائے تمہاری ورنہ جان لے لو گا تمہاری وہ اسے چپ کروتے ہوئے اپنے فلیٹ میں لے کر آیا تھا
خود کو تیار کر لو میرا ہونے کے لیے تھوڑی دیر میں نکاح خواں آنے والے ہیں زرا سی بھی چو چا مت کرنا اوکے سوئٹ ہارٹ اپنے روم میں لا کر چھوڑتے ہوئے
وہ اسکے گال پر ہاتھ رکھ کر بولا تھا
کبھی بھی نہیں کروں گی کبھی نہیں سنا تم نے نو نو نو وہ نہ میں سر ہلاتے ہوئے چلا کر بولی تھی آنسو اس کے رخسار کو گیلا کر رہے تھے
پر مقابل میں بھی انس شاہ تھا جو اپنی زید کا پکا جو حاصل کرنا چاہتا تھا وہ کر کے رہتا تھا
یہ دیکھو یہ کون ہے بلا وہ مسکراتے ہوئے اس کے سامنے اپنا فون کر کے بولا تھا
نہیں تم ایسا نہیں کر سکتے نہیں کر سکتے ایسا تم میں جان لے لو گی تمہاری اگر تم نے کچھ بھی بولا میری بہنوں کو وہ چلاتے ہوئے اس کے کلر پکڑ کر بولی تھی
حیا چپ چاپ ہاں کر دینا ورنہ انجام کی زمیدارتم پر ہو گی اور دوسری بات آج تو میرا کلر پکڑ لیا آئندہ ہاتھ بھی لگایا تو پھر دیکھنا انس شاہ تمہارے ساتھ کیا کرتا ہے
وہ اس کے ہاتھوں کو اپنے کلر سے جھٹکتے ہوئے ہر ایک لفظ پر زور دے کر بولتا حیا کو اپنے لفظوں سے ڈرا گیا تھا
دو منٹ مولوی صاحب آ گیے ہیں ڈوپٹہ لو سر پر اور عمل کرنا اس بات پر جو میں نے بولی ہے ورنہ انجام تم پر ہو گا جو بھی آج تمہاری بہنوں کے ساتھ ہوا
وہ فون پر واجب کا میسج دیکھتے ہوئے حیا کو بول کر باہر نکل گیا تھا
کچھ ہی دیر میں حیا کو اپنے نام کے ساتھ منصوب کر چکا تھا حیا روتے ہوئے بیڈ پر اپنے گھٹنوں میں منہ دیے بیٹھی ہوئی تھی
مبارک ہو مائے سوئٹ ہارٹ وہ اس کے پاس جا کر جھکتے ہوئے بولا تھا
حیا نے ہچکیوں سے روتے ہوئے اپنا سر اوپر اُٹھایا تھا اس کی آنکھیں لال ہو رہیں تھیں
انس کے دل کو ایک ٹھیس لگی پر وہ خود کو جلدی ہی کمپوز کر گیا تھا وہ شاہ خاندان سے تھا جہاں ان میں دل نہیں بس بے رحیمی ہی پائیں جاتی تھی
ابھی تو میں نے کچھ کیا ہی نہیں تو کس بات پر اتنے رونے ہیں جاناں وہ اس کے آنسو کو صاف کرتے ہوئے بولا تھا
حیا نے اس کا ہاتھ جھٹک دیا تھا غصے سے
اب تم صرف میری ہو تم پر صرف میری ملکیت ہے صرف میری انس شاہ کی خبر دار آئندہ میرا ہاتھ جھٹکنے کی کوشش کی تو ہاتھ توڑ دوں گا تمہارے
وہ اس کے ہاتھ جھٹکنے پر اس کو بالوں سے پکڑا کر کھڑا کرتے ہوئے غرا کر بولا تھا
حیا درد کی شدت سے آنکھوں کو بند کر گئیں تھی
اب تم ویسا ہی کرو گی جیسے میں بولوں گا سنا تم نے وہ اس کو بالوں سے پکڑے ہوئے جھٹکا دیتے ہوئے بولا تھا
حیا کے منہ سے رونے اور تکلیف کی وجہ سے لفظ نہیں نکل رہیے تھے وہ بس ہچکیاں لے رہی تھی آنکھوں کو ویسے ہی بند رکھیے ہوئے تھی
نفرت ہے انس شاہ مجھے تم سے بے انتہا نفرت انس کے چھوڑنے پر وہ پیچھے ہوتے ہوئے اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے روتے ہوئے بولی تھی
کیا کہا پھر سے کہوں وہ اس کی طرف بڑھتے ہوئے بولا تھا
وہ انس کو خود کی طرف بڑھتے ہوئے دیکھ کر پیچھے ہوتے ہوئے دیوار سے جا کر لگ گئی تھی
بولو بھی اب کیوں بولتی بند ہو گئی ہے تمہاری وہ اس کے اردگرد دونوں ہاتھوں کو دیوار پر رکھتے ہوئے بولا تھا
یو
حیا کے بولنے سے پہلے ہی وہ ایک ہاتھ اس کی کمر میں ڈالے اسے اپنے قریب کرتے ہوئے اس کے لبوں پر جھکتے ہوئے اپنا غصہ اور جنون ان پر اتارنے لگا
حیا اسے خود سے دور کرنے میں ہلکان ہو رہی تھی جب اسے لگا اس کی سانس بند ہو جائے گی وہ اس کے سینے پر مکے مارنے لگی
یہ انس شاہ کی ملکیت کا پہلا تحفہ ہے تم کو وہ مسکراتے ہوئے اس کے ہونٹوں پر اپنے انگوٹھے سے خون کو صاف کرتے ہوئے بولا تھا
حیا شرم اور خوف سے کپکپا رہی تھی انس ابھی بھی اس کی کمر پر ہاتھ رکھ کر اسے اپنے پاس کھڑے رکھے ہوئے تھا
حیا نے بمشکل اپنی آنکھوں کو اوپر اُٹھا کر اس کی طرف دیکھا تھا
حیا کے دیکھنے پر انس نے اسے شرارت سے آنکھ ماری تھی
جس سے حیا غصے اور شرم سے پھر اپنی نظریں جھکا گئیں تھی
چلو گھر چھوڑ دوں تمہیں ویسے میں نے تمہاری بہن کو میسج کر دیا تھا وہ اسے خود کے قریب کرتے ہوئے اس کے ماتھے پر اپنے لب رکھے ہوئے بولا رہا تھا
حیا اسے خود سے دور کرنے کی پوری کوشش کر رہی تھی پر پھر بھی ناکام ہو رہی تھی
اب تم مجھے خود سے کبھی بھی دور نہیں کر سکتی جب تک میں تم سے دور نہ ہونا چاہیوں وہ اس کے کان میں سرغوشی کرتے ہوئے بول رہا تھا
اس کے ہونٹ اس کے کانوں کی لو کو چھو رہیے تھے اور حیا کو کانپنے پر مجبور کر رہیے تھے حیا کو سردی میں بھی ٹھنڈے پیسنے چھوٹ رہے تھے
سمجھ گئی ہو گی تم میری بات ورنہ اور بہت سے طریقے ہیں سمجھانے کے میرے پاس وہ اس کے گال تھپتھپاتے ہوئے بولتا اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے باہر لے کر جانے لگا
حیا چپ چاپ بس اپنے لب بیچے اس کے ساتھ جانے لگی بے دردی سے اپنے آنسو کو صاف کر رہی تھی پر پھر بھی وہ اس کے گالوں پر پھسل رہیے تھے
وہ اسے گاڑی میں بیٹھ کر گاڑی کو اس کے گھر کی طرف موڑ چکا تھا
چلوں یہاں سے دو منٹ پر ہے تمہارا گھر اب تم جاؤ وہ خود گاڑی سے نکلتے ہوئے اسے ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھ کر بولا تھا
حیا نے کوئی بھی جواب دیے بنا رابوٹ کی طرح اس کی ہر بات مان رہیں تھی
حیا اب تم صرف اور صرف انس شاہ کی ہو یہ بات اپنے ذہین میں فٹ کر لو یہ لو اپنا موبائل وہ اس کی گال پر کس کرتے ہوئے اسے موبائل پکڑ کر گاڑی کا ڈور بند کر گیا تھا
خود جا کر اپنی گاڑی میں بیٹھ گیا تھا جو طالب لے کر پیچھے ہی کھڑا تھا
حیا نے زور سے اپنی آنکھوں کو بند کر کے کھولا تھا اس کی آنکھوں میں سے ایک آنسو نکلا تھا وہ اسے اپنے ہاتھ کی پشت سے صاف کرتے ہوئے گاڑی کو آگے بڑھ گئی تھی
پیچھے انس تب تک وہی کھڑا رہا جب تک حیا کی گاڑی نظروں سے اوجھل نہیں ہو گئی
چلو طالب گاڑی میں سوار ہو کر طالب سے بولتے ہوئے نکال گیا تھا
آج اس کے چہرے پر دنیا فتح کر لینے کا سا سکون تھا
کل امن کی بات واجب کے منہ سے سنا کر اس کے دل کو بے سکونی لگ گئی تھی
انس یار تیرا بھائی تو اس لڑکی کے پیچھے پاگل ہو رہا ہے جہاں تک مجھے لگتا ہے جلد ہی اسے تیری بھابھی کا رتبہ بھی دے دے گا واجب کے ہنس کر بولنے پر انس کا دل کیا وہ اس کا منہ توڑ کر رکھ دے
انس اپنی آنکھوں کو کھول کر کل والے مناظر پر ہنس دیا تھا
لو امن شاہ تمہاری بھابھی بنا دیا میں نے اسے انس زہریلی سی ہنسی ہنس کر خیالوں میں امن شاہ سے محاتب تھا
❤️❤️❤️❤️❤️
چلو فری میں تمہیں گھر چھوڑ دوں یار ڈرائیور گاڑی لے کر آیا ہے پری فریحہ کو بولی جو بکس کو اپنے بیگ میں رکھ رہی تھی
چلو چلی جاتی ہوں میں تمہارے ساتھ ہی وہ بے زار سی بولی تھی اسے حیا پر غصہ آ رہا تھا جو اس نے آج اس طرح کیا تھا
لالہ آپ وہ دونوں گاڑی میں بیٹھی تو پری حاضر کو دیکھ کر چلا کر بولی تھی
جی میں آج کام نہیں تھا حویلی جا رہا تھا تو سوچا تمہیں بھی ساتھ ہی لے جاؤں حاضر پری کو دیکھتے ہوئے فریحہ پر بھی نظر کیے بولا تھا
فریحہ اپنی نظریں نیچے کیے بس اپنے لب چبا رہی تھی وہ حاضر کا سامنا نہیں کرنا چاہ رہی تھی وہ جب بھی اس سے ملتی تھی اسے اپنا دل کسی اور ہی روح میں جاتا ہوا محسوس کرتی تھی
اب تم دونوں میں سے کوئی ایک آگے آجائے کیوں کہ
میں ڈرائیور نہیں ہوں حاضر کے بولنے پر پری مسکراتے ہوئے آگے بیٹھ گئی تھی
فریحہ نے نظریں اوپر کی تو حاضر کی مسکراتی نظریں اسے ہی دیکھ رہیں تھیں وہ پھر سے اپنی نظروں کو نیچے کر گئی تھی اور باہر دیکھنے لگیں تھی
فری دو دن ہیں پھر تم تیار رہنا میں لالہ کے ساتھ آؤں گی تمہیں لینے کے لیے شادی کے لیے تم میرے ساتھ جاؤ گی اور ہاں مجھے یاد آیا لالہ نے تمہارا ڈریس بھی لیا ہے جیسا میں نے پسند کیا تھا
وہ تم میرے ساتھ بارات پر پہین لینا ہم دونوں ایک جیسا ڈریس پہنے گے کتنا پیارا لگے گا پری مسکراتے ہوئے فریحہ سے بولی جو الجھن لیے پری کی طرف دیکھ رہیں تھی
پری سوری میں کوئی ڈریس نہیں لے سکتی تم سے میں جاتی بھی کہیں نہیں ہوں صرف تمہاری وجہ سے صرف بارات والے دن چلیں جاؤں گی
فریحہ کے بولنے پر پری اور حاضر نے اسے گھور کر دیکھا تھا
زیادہ مت بنو میں نے آنٹی سے بات کی ہے اور تم میرے ساتھ ضرور جاؤ گی اور وہی رہوں گی تین دن اور کوئی بھی بات نہیں سن رہی میں تمہاری چلو جاؤ اب آ گیا ہے تمہارا گھر
پر پری فریحہ بے چارگی سے بولی تھی وہ پوری طرح سے حاضر کو اگنور کر رہیں تھی
چلو جاؤ آنٹی ویٹ کر رہیں ہوں گی وہ بولتے ہوئے اپنا چہرا پھیر گئی تھی
فریحہ بھی منہ بناتیں باہر نکل گئی تھی
یہ دیکھو تمہاری دوست کی بک رہ گئی تم بیٹھو میں اسے دے کر آیا حاضر فریحہ کے جانے کے بعد اس کی کتاب دیکھ کر بولتا جلدی سے بک لے کر باہر کی طرف دوڑ تھا
مس فریحہ حاضر کے آواز دینے پر فریحہ نے پلٹ کر دیکھ تو حاضر کے ہاتھ میں اس کی بک تھی جو وہ جلدی میں گاڑی میں چھوڑ آئی تھی
یہ لیے آپ کی بک اور ہاں آپ شادی میں ضرور آ رہیں ہیں یہ بات میں آپ سے پوچھا نہیں رہا بلکہ بتا رہا ہوں کہ آپ ضرور آئیں گی وہ جتاتے ہوئے بولا تھا
میں آپ کے کسی حکم کی پابند نہیں ہوں میرا دل کرئے گا تو آؤں گی ورنہ نہیں فریحہ نے غصے سے آئی بروز اُٹھ کر بولا تھا
انا تو آپ کو پڑھے گا چاہے آپ کا دل کرئے یا نہ اس کو میری ضِد سمجھے یا درخواست یہ آپ پر ہے وہ اس کو مڑتے ہوئے دیکھ کر اس کی کلائی کو پکڑ کر اپنی طرف کھینچتے ہوئے غصے سے ایک ایک لفظ پر زور دیتے ہوئے بولا تھا
پھر اس کی آنکھوں میں نمی دیکھ کر اس کی کلائی چھوڑ دی تھی اس کے کلائی چھوڑنے پر فریحہ جلدی سے دورتے ہوئے اندر اپنے گھر کے داخل ہو گی
اب تمہارا ہر راستہ میرے تک ہی آئے گا چاہے تمہارا دل ہو یا نہ پیچھے حاضر لب بیچے سوچتے ہوئے بس اسے جاتے ہوئے دیکھتا ہی رہ گیا پھر واپس اپنی گاڑی کی طرف مڑ گیا
