Rate this Novel
Episode 7
حیاء طبیعت ٹھیک ہے اب آپ کی نورین حیاء کو کھانا کھاتے ہوئے دیکھ بولی تھیں جو کھانے کا نام کر رہیں تھی ابھی تک کھایا کچھ نہیں تھا
جی ماما آگے سے ٹھیک ہے طبیعت وہ بمشکل ہنس کر بولی تھی
چلو تم دونوں کھا لیا ہے تو سب چیزیں اُٹھاؤ اور کچن میں رکھ کر آؤ اور اپنے اپنے کمروں میں جاؤ نورین زرتاشہ اور زویا کو بولتے ہوئے اُٹھی تھیں
اور فریحہ آپ میرے لیے ایک کپ چائے بنا کر میرے روم میں بجھوا دو حیا شاباش آپ بھی جاؤ اور آرام کرو میں لائبریری میں ہوں تھوڑا سا کام کر لو
وہ ان سب کو بولتے ہوئے اوپر سٹیڈی میں چلیی گئیں تھیں
فری پلیز ایک کپ میرے لیے بھی وہ وہ جاتی ہوئی فریحہ کو بولی تھی
فریحہ مسکرا کر سر ہلاتے ہوئے چلیں گئی تھی
❤️❤️❤️❤️❤️
اتنی رات ہو گی ہے نیند نہیں آ رہی بھوک بھی لگ رہی ہے کیوں کہ نہ کچھ کھا ہی لو پری سوچتے ہوئے اپنا کمفرٹ پیچھے کرتے ہوئے اپنے بستر سے باہر نکلتی کچن کی طرف گئی
اس وقت کچن میں کون ہو سکتا ہے کچن کی طرف جاتے ہوئے دیکھ تو کچن کی لائٹ اون اتھی
اندر جا کر دیکھتی ہوں شاید زینی آپو ہوں مجھے بھی کچھ بنا دیں گی کھانے کے لیے وہ اندر داخل ہوتے ہوئے بولی تھی
پر اندر کا منظر دیکھ کر اس کی سانس روکنے لگی
ی یہ یہاں کیا کر رہیں ہیں آج تو زندہ نہیں چھوڑیں گے اس دن کا بدلہ تو ضرور لیں گے چل پری بھاگ چل یہاں سے پری عالی شاہ کو کچن میں دیکھا کر اپنے قدم واپس موڑ لیے
پریوش واپس آؤ عالی کی روب دار آواز سے پری کے قدم وہیں جم گیے تھے
ج ج جی وہ اپنے لب کاٹتے ہوئے اس کی طرف منہ کر کے بولی تھی
مجھے دیکھ کر واپس کیوں جا رہی تھی وہ اپنی کافی ٹیبل پر رکھتے ہوئے بولتا اس کی طرف قدم بڑھانے لگا
آج تو پکا گلا دبا دے گا یہ کھڑوس انسان اللہ جی آج بچا لیں آئندہ ان سے کبھی پنگا نہیں لیو گی وہ دل میں بولتی اسے اپنی طرف بڑھتے ہوئے دیکھ کر پیچھے قدم لے رہی تھی
کچھ پوچھ رہا ہوں تم سے وہ آہستہ آواز میں دانت پیستے ہوئے غرایا تھا
بھاگ پری آج تو اس میں پکا جن آ چکا ہے بھاگ ورنہ آج تو تیرا قتل پکا وہ عالی کو غصہ میں دیکھا کر وہاں سے بھاگنے لگی
کہاں کہاں بھاگ رہی ہو ہاں تمہیں لگتا ہے تم مجھ سے بھاگ سکتی ہو اس سے پہلے کے وہ وہاں سے بھاگتی عالی نے اس کا ہاتھ کھینچ کر اسے دیوار کے ساتھ لگایا تھا
سوری عا عالی بھائی آئندہ آئندہ آپ کو کبھی بھی تنگ نہیں کروں گی پکا پرومس وہ اسے اپنے قریب دیکھ کر بولی تھی
میں نے تمہیں پہلے بھی سمجھائے تھا کے میں تمہارا بھائی نہیں ہوں اس لیے مجھے بھائی مت بولا کرو اتنی سی بات تمہاری عقل میں کیوں نہیں بیٹھتی وہ غصے سے اپنی بات چبا چبا کر بولا تھا
س سوری آئندہ نہیں بولوں گی اب جانے دیں مجھے ڈر کی وجہ سے اس سے بولا بھی نہیں تھا جا رہا
ہم آئندہ دھان رکھنا وہ اس کے چہرے پر آئی لیٹ کو پیچھے کرتے ہوئے بولا تھا
ہاں کس لیے آئی تھی تم یہاں کچن میں وہ اس کے چہرے کو غور سے دیکھا رہا تھا ڈری ہوئی پری اسے اچھی لگ رہی تھی
وہ وہ مجھے بھوک لگی تھی اس لیے کچھ کھانے کے لیے آئی تھی پر اب بھوک نہیں ہے وہ لب کاٹتے ہوئے بولی تھی
کیوں اب کیوں نہیں ہے بھوک وہ اپنی ہاتھوں کی انگلی سے اس کے ہونٹوں کو دانتوں سے آزاد کرتے ہوئے نہ میں سر ہلا رہا تھا
پلیز مجھے جانے دیں میرا سانس بند ہو جائے گا ورنہ عالی کی خرکتوں سے پریوش کو اپنی جان جاتے ہوئے محسوس ہو رہی تھی
ششش پری جلدی ہی تمہیں اپنے نام کرنے والا ہوں میں اسی لیے جب حاضر ادا تم سے میرے بارے میں پوچھے تو تم ان کو ہاں میں جواب دو گی وہ اس کے ہونٹوں پر اپنی انگلی رکھتے ہوئے اپنا ماتھا اس کے ماتھے سے جوڑ کر بولا تھا
اگر تم نے نہ کرنے کی کوشش کی تو تمہاری جان میں خود اپنے ہاتھوں سے لے لو گا بات کرتے کرتے وہ اپنے ہاتھوں کو اس کی گردن پر رکھ کر بولا تھا
پری کی خوف سے آنکھیں پھیل گئی تھیں
عالی سفاکی سے مسکراتے ہوئے پری کو دیکھتے ہوئے اپنا کافی کا مگ اُٹھا کر باہر نکل گیا
پیچھے پری کو لگا اس کی جان ہوا ہو گئی ہو
ہائے اللہ میں اس کے ساتھ شادی میں تو دونوں صورتوں میں ماری جاؤں گی یہ تو دونوں صورتوں میں مجھے جنت میں بھیج کر رہیے گا
اللہ جی کہاں پھنسا دیا اب تو بھوک بھی مر گئی
وہ بڑبڑاتے ہوئے کچن سے باہر نکل کر اپنے کمرے کی طرف چلی گئی
❤️❤️❤️❤️❤️
حیاء یہ لو میں ماما کو دینے جا رہیں ہوں چائے یہ پی کر تم جا کر آرام کرو فریحہ اسے چائے دیتے ہوئے خود اوپر سٹیڈی روم میں چلی گئی
عادل پلیز ہم میٹنگ کے بارے میں بات کریں تو ٹھیک ہے ورنہ میں فون رکھنے لگیں ہوں عادل کی بات سن کر نورین غصے سے بولی تھیں
نورین آپ کیوں نہیں میری بات سمجھنے کی کوشش کر رہیں آپ ایک دفعہ اپنی بیٹیوں سے بات کرنے کی کوشش تو کریں وہ مان جائیں گی شادی کوئی اتنا بڑا ایشو تو نہیں ہے
عادل شادی سچ میں اتنا بڑا ایشو نہیں ہے پر میری اور آپ کی شادی ایک بہت بڑا ایشو ہے آپ بھی جوان بیٹے کے باپ ہیں اور میں بھی چار جوان بیٹیوں کی ماں ہوں اس بات کو سمجھنے کی کوشش کریں تو آپ کے لیے بہتر ہو گا نورین بے زار سے لہجے میں بولی تھیں
ان کی شادی کے بعد بھی تو آپ کو کسی سہارے کی ضرورت ہو گی…. اور ویسے بھی سلال کو کوئی اعتراض نہیں ہے مجھے نہیں لگتا آپ کی بچیوں کو بھی کوئی اعتراض ہو گا
عادل ہم بعد میں اس بارے میں بات کریں گے میٹنگ کی بات بھی صبح کر لیں گے وہ ان کو بولتے ہوئے دوسری طرف کی کوئی بھی بات سنے بنا فون بند کر گئی
تھک کر اپنا سر صوفے کی پشت پر رکھا کر آنکھوں کو بند کر گئیں تھی سب سوچتے ہوئے آنسو بختیار ہی آنکھوں سے نکلنے لگے تھے
فریحہ جو باہر کھڑی ان کی باتوں کو سن رہیں تھی اندر آ کر ٹیبل پر کپ رکھ کر اپنی ماں کو دیکھنے لگی
نورین نے اپنے گھٹنوں پر کسی کے ہاتھ کو محسوس کیا تو جلدی ہی اپنی آنکھوں کو کھول کر دیکھا
فریحہ کو دیکھ کر انہوں نے اپنے آنسو کو صاف کر کے اس کے سر پر ہاتھ رکھ جو اب اپنا سر ان کی گود میں رکھ کر زمین میں بیٹھی ہوئی تھی
کیا ہوا ہے میری جان کو وہ اس کے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے بولیں تھیں
ماما آپ……. آپ…. عا……. عادل انکل کی بات مان جائیں پلیز بمشکل اٹک اٹک کر بولی تھی
فریحہ یہ کیسی باتیں کر رہی ہو تم فریحہ کی بات سے نورین کا اس کے بالوں پر چلاتا ہاتھ روک گیا تھا
ماما میں ٹھیک بول رہیں ہوں آپ کو اپنی زندگی کے بارے میں بھی سوچنا چاہیے وہ اپنا سر اٌٹھا کر ان کی طرف دیکھتے ہوئے بولی تھی
فریحہ جاؤ اپنے روم میں اسی وقت وہ غصے سے اسے ہاتھ کے اشارے سے بولی تھی
پر ماما پلیز میری بات تو……….. س
میں نے کہا جاؤ اسی وقت وہ غصے سے چلا کر اس کی بات کو بیچ میں ہی کاٹتے ہوئے بولیں تھیں
ٹھیک ہے ماما میں جا رہی ہوں پر آپ کو عادل انکل کے حق میں ہی فیصلہ دینا ہو گا وہ آنسو بھری آنکھوں سے بولتے ہوئے وہاں سے چلی گئی تھی
نورین نے بے بسی سے اپنا سر ہاتھوں میں گرا لیا تھا
کیسے سمجھاؤں میں سب کو میری زندگی میں کیسی کے لیے بھی اب جگہ نہیں ہے
❤️❤️❤️❤️❤️
حیاء اپنی چائے لے کر باہر لان میں آگئی تھی بینا کسی شال اور جرسی کے
دسمبر کی ٹھنڈی ہوائیں چل رہی تھیں حیاء کو ٹھنڈی ہوا سکون دے رہیں تھی وہ آنکھیں بند کر کے لان میں پڑھے بینچ پر بیٹھ گئی تھی وہ آہستہ آہستہ چائے کے سپ لیتے ہوا کو اپنے آرپار جاتے ہوئے محسوس کرتے ہوئے مسکرائی تھی
دور کھڑا وجود اسے بینا اپنی پلکوں کو جھپکئے دیکھ رہا تھا اس وقت اسے حیاء کی مسکراہٹ دنیا کی سب سے زیادہ خوبصورت چیز لگ رہی تھی
مسکراتے ہوئے حیاء نے اپنی آنکھوں کو بند کر کے اپنی چائے کو بینچ پر رکھتے ہوئے اپنے ہاتھوں کو ہوا میں پھیلایا تھا
انس شاہ اپنے ہاتھ اپنی جیبوں میں ڈالے کھڑا اس کی خرکتوں کو پوری دلچسپی سے دیکھ رہا تھا اسے اس وقت وہ اپنی دنیا میں کھوئی ہوئی کوئی بچی سی لگ رہی تھی جو انس شاہ کے دل پر قابض ہوتے ہوئے محسوس ہو رہی تھی
وہ آہستہ آہستہ اپنے قدم اُٹھتے ہوئے آیا اور اس کے پاس بینچ میں خالی جگہ پر بیٹھ گیا پاس پڑھی اس کی چائے کا کپ اُٹھ کر اپنے ہونٹوں سے لگا لیا اور پوری دلچسپی سے اسے دیکھتے ہوئے چائے کے سیپ لینے لگا
دسمبر کی سرد ہوائیں
اور دوسرے ہاتھ میں چائے
واللہ واللہ حیاء تم تو شاعر ہوتی جا رہی ہو وہ اونچی آواز میں خود سے ہی بولی تھی
ہاہاہاہاہا حیاء کی بات سے بے ساختہ انس کا قہقہہ گونجا تھا وہ چائے کو بینچ پر رکھتے ہوئے ہنس رہا تھا
حیاء پلیز شاعرا بھی تمہارے شیر سن کر توبہ کر رہیں ہوں گے
تم یہاں کیا کر رہے ہو وہ انس کو دیکھ کر غصے سے غرائی تھی اوپر سے انس کا اس پر ہنسنا ایسے مزید غصہ دلا گیا تھا
انس دفع ہو جاؤ یہاں سے اسی وقت وہ اسے ہنستے دیکھ کر غصے سے بول رہی تھی
انس کے ہنستے ہوئے چپ ہوتا اس کی طرف بڑھا تھا حیاء کی بات سے انس کو غصہ آ گیا تھا اس نے غصے سے اس کا منہ دبوچ لیا
کتنی دفع بتاؤں میرے ساتھ بکواس مت کیا کرو وہ غصے سے اس کے چہرے کو دبوچے ہوئے بولا تھا
چھوڑو انس مجھے کیسا پیار ہے یہ تمہارا وہ اپنے دونوں ہاتھوں سے اس سے اپنا چہرہ چھوڑنے کی کوشش کر رہیں تھی
پیار تم سے کس نے کہا کہ مجھے تم سے پیار ہے وہ اسے جھٹکے سے چھوڑتے ہوئے بولا جو بینچ پر گری تھی
وہ اس پر جھکتے ہوئے بول رہا تھا
میری نظر میں تم صرف میری انا کا مسئلہ تھی پیار تو میں صرف اپنی منگ سے آنیہ شاہ سے کرتا ہوں وہ اسے جتاتے ہوئے اس کی آنکھوں میں دیکھ کر بولتا حیاء کو منجمد کر گیا تھا
اب تم صرف میری صرف میری انس شاہ کی ملکیت ہو تم پر صرف میرا حق ہے تم چاہو یا نہ تمہیں صرف میرا ہی رہنا ہے وہ اس پر جھکا اسے بالوں سے پکڑا کر بولا تھا
حیاء کو لگ رہا تھا کے جیسے وہ تپتے صحراؤں کی مسافت پر ہو
وہ انس کی طرف خیران نظروں سے دیکھا رہی تھی جو اسے پل میں بےمول کر چکا تھا
اس نے انس سے خود کا چھوڑونے کی کوشش نہیں کی تھی ایک آنسو بے اختیار ہی اس کی آنکھوں سے نکل آیا تھا جیسے وہ بے دردی سے صاف کرتے ہوئے ہنس دی تھی
انس شاہ تمہاری ملکیت بنے سے بہتر ہے میں خود کو ختم کر لوں وہ ہنستے ہوئے آخر میں ایک ایک لفظ پر زور دیتے ہوئے بولتی اسے اندر سے ہلا گئی تھی
جاناں ایسا سوچنا بھی مت خود کو تھوڑا سا بھی نقصان پہنچایا تو جو تمہارے پیچھے رہ جائیں گے ان کو بھی میں جینے لائک نہیں چھوڑوں گا یہ وعدہ ہے انس شاہ کا تم سے اسی لیے خود کو نقصان پہنچانے سے پہلے سو دفع سوچنا
سنا تم نے وہ اسے کمر سے پکڑ کر اپنے قریب کر کے اس کے کان میں سرگوشی کر رہا تھا پھر آہستہ سے اس کے کان کی لو کو اپنے لبوں سے کاٹتے ہوئے حیا کو کانپنے پر مجبور کر گیا تھا
چھوڑو مجھے انس شاہ وہ اسے خود سے پیچھے دھکیلتے ہوئے رو رہی تھی
اس نے روتی ہوئی حیاء کو خود میں بیچ لیا تھا وہ اسے زور سے ہگ کیے اس کے بالوں پر لب رکھے اسے اپنے ہونے کا احساس دلا رہا تھا
دور رہو مجھ سے انس پلیز چھوڑ دو مجھے تمہیں تمہاری انا کی تسکین چاہیے نہ پوری یونیورسٹی میں میں تمہارے قدموں میں بیٹھ کر معافی مانگ لو گی پر مجھے چھوڑ دوں مجھ طلاق دے دو وہ روتے ہوئے اس سے بول رہی تھی
میں جان لے لو گا تمہاری حیاء اگر تم نے پھر سے یہ لفظ اپنی زبان سے نکالا تو سن لو تم اور اپنے ذہین میں بیٹھ بھی
You are mine only mine
وہ اسے اپنے روبرو کرتے ہوئے اس کی آنکھوں میں دیکھا کر بولا تھا
اسی لئے اب صرف سوچوں میں اور دل میں مجھے ہی رکھوں اوکے مائے سوئٹ ہارٹ وہ اس کے گال تھپتھپا کر بولا تھا
اندر جاؤ جلدی حیاء باہر بہت سردی ہے وہ سرد لہجے میں بولا تھا اور ہاں
صبح ضرور آنا ہے تم نے پارٹی میں میں تمہارا انتظار کروں گا اگر نہ آئی تو خود تمہیں لینے آ جاؤں گا اوکے مائے جاناں وہ اس دیکھتے ہوئے الٹے قدم لیتے ہوئے بولتا جہاں سے آیا تھا واپس چلا گیا
حیاء روتے ہوئے اندر کی طرف بڑھ گئی تھی
حیاء روم میں آئی تو وہاں اس کے بیڈ پر ایک شاپنگ بیگ پڑھا ہوا تھا وہ ابھی اس کی طرف بڑھی تھی کہ اس کے موبائل پر میسج کی بپ ہوئی
حیاء صبح یہ ہی پہن کر آنا اور ساتھ میں ایک آنکھ مارتا ہوا آیموجی تھا
حیاء نے بے بسی سے بیٹھتے ہوئے اپنا سر اپنے ہاتھوں میں گرا لیا
انس شاہ اگر مجھے اپنوں کی فکر نہ ہوتی تو میں تمہیں بتاتیں کے حیاء کون ہے وہ غصے سے بولتے ہوئے بیڈ پر پڑھے شاپنگ بیگ کو اُٹھا کر نیچے پھینکتے ہوئے بولی تھی
❤️❤️❤️❤️❤️
کیا ہو گیا ہے عالی تمہیں کیوں وہ بےوقوف لڑکی تمہارے دل پر قابض ہوتی جا رہی ہے عالی شاہ اپنے کمرے کی بالکنی میں کھڑا ایک ہاتھ میں کافی لیے اسے پی رہا تھا
وہ خود سے ہی مسکرایا جا رہا تھا اس کی باتوں کو سوچ کر
مجھے پسند بھی آیا تو کون بے وقوف میری فیلنگز کو ساری زندگی نہیں سمجھ پائے گی
ہائے اللہ جی یہ بندہ مسکراتا بھی ہے وہ عالی شاہ کو دیکھ کر بولی تھی پری کو نیند نہیں آ رہی تھی اسی لئے وہ بھی اپنی بالکنی میں آئی تھی
کتنا خوبصورت ہے کاش اس کے ڈمپل کو ہاتھ لگا سکتی وہ اپنے چہرے کے نیچے ہاتھ رکھ کر اسے مسکراتے ہوئے دیکھ رہی تھی
پری کیا سوچ رہی ہو تم وہ بھی اس کھڑوس کے بارے میں استغفراللہ یہ جن تو میرے حواسوں پر سوار ہو رہا ہے کہی جادو وایو تو نہیں کر دیا اس نے اتنی رات کو کیسے پور اسرا سا مسکرا بھی رہا ہے
تب ہی عالی کی نظر بھی اس پر پڑھی تھی اس نے پری کو گور کر دیکھا تھا
اور اشارے سے اندر جانے کا بولا
پری منہ بناتیں ہوئے اسے آنکھیں دیکھتے ہوئے اندر کی طرف بڑھ گئی
پیچھے عالی اس کی خرکت پر مسکرا دیا تھا وہ ہمیشہ اس کے سامنے ایسے ہی رہتا تھا سخت ترین پر دل میں اس بےوقوف کو بسا کر بیٹھا تھا
میری بےوقوف پری مسکراتے ہوئے خود سے بولتا کافی کا آخری سیپ لیتا اندر روم کی طرف چلا گیا
❤️❤️❤️❤️
تبریز میں آپ سے بہت محبت کرتی ہوں آپ زینی کے ساتھ کیسے شادی کر سکتے ہیں تبریز جو اپنے روم میں اپنی فائلوں کو دیکھ رہا تھا خبہ کے بولنے پر سر اُٹھ کر اسے دیکھنے لگا
کیا بکواس کر رہی ہو تم ہمت بھی کیسے ہوئی اس بکواس کی تمہاری وہ اپنی فائلوں کو ٹبیل پر رکھتے ہوئے غصے سے غرایا تھا
میں آپ سے پیار کرتی ہوں سنا آپ نے بہت کوشش کی آپ دونوں کو الگ کرنے کی پر آپ پھر بھی اسی سے شادی کر رہیں ہیں
مجھے لگا آپ نہ کر دیے گئے پر پھر بھی آپ اسے ہی اپنا رہیں ہیں کیوں تبریز کیوں نہیں سمجھ پا رہے میری محبت کو وہ دبی آواز میں چیخی تھی اس پر
یہ اوقات ہے تمہاری میری نظر میں تمہاری ہمت بھی کیسے ہوئی ہم دونوں کے درمیان غلط فہمیاں ڈالنے کی وہ اس کے چہرے پر تھپڑ مار کر بولا تھا
خبہ اپنے چہرے پر ہاتھ رکھ کر بس اسے دیکھ رہی تھی
تم نے مجھے تھپڑ مارا……. یہ تمہاری بھول ہے تبریز شاہ کے زینی کو میں تمہارا ہونے دوں گی سنا تم نے وہ نفرت کرتیں ہیں تم سے
اور اس نفرت کی وجہ بھی تم خود ہی ہو وہ زہریلی سی مسکراہٹ لیے اسے بولتی ہوئی باہر نکل گئی تھی
باہر کھڑی زینی اس کی باتیں سن رہی تھی خبہ کو باہر نکلتے دیکھ کر جلدی سے اپنے کمرے میں بند ہو گئی تھی
اتنی بے اعتباری تبریز کے کسی کی باتوں میں آ کر آپ اپنی محبت تک کو بھول گئے یہ جانتے ہوئے بھی آپ نے مجھ پر شک کیا کے بچپن سے میرے دل کی گہرائیوں میں صرف آپ کا نام ہے پھر بھی
کیوں وہ روتے ہوئے بولی تھی
دوسری طرف تبریز کا دل کر رہا تھا وہ جبہ کی جان لے لے……. کیسے شک کر سکتا ہوں میں اپنی محبت پر کیسے ڈیم وہ غصے سے دیوار پر مکا مارتے ہوئے بولا تھا
❤️❤️❤️❤️❤️
فریحہ آج کالج نہیں گئی تھی اسی لئے آج نماز پڑھ کر سو گئی تھی
فون کی بیل پر سوئے ہوئے ہی نیند میں بمشکل موبائل کو ڈھونڈ کر کان سے لگایا تھا
ہیلو فری آج تیار رہنا میں آؤں گی تمہیں لینے کے لیے پری جلدی سے فریحہ سے بولتے ہوئے حاضر کو موبائل دیتی خنا شاہ پری کی ماما کے آواز دینے پر ان کے پاس جلدی سے چلی گئی
پری کو پتہ تھا فریحہ نہ کرئے گی اسی لئے اسے مطلب کی بات بولتی بنا فون کو بند کیے وہاں سے جا چکی تھی
پری انسان سلام لیتا ہے پہلے کوئی حال چال پوچھتا ہے پھر اپنی بات بولتا ہے وہ نیند کی خماری میں بولی تھی دوسری طرف حاضر اس کی بات پر مسکرایا تھا پر بولا کچھ نہیں
اور دوسری بات جاناں میں نہیں آ رہی آج اس لیے اپنے کھڑوس بھائی کو لے کر میرے سر پر مت آنا کل حیاء کے ساتھ آجاؤن گی اور بارت کے بعد واپسی ہو گی میری وہ نیند میں ہی آنکھوں کو بند کیے ہوئے بول رہی تھی
میں نے آپ سے پہلے بھی کہا تھا کہ آپ آرہی ہیں سنائی نہیں دیا تھا آپ کو حاضر اس کی بات پر غصہ سے سرد لہجے میں بولتا فریحہ کو آنکھیں کھولنے پر مجبور کر گیا تھا
How dare you talk to me in this tone
وہ اپنے انگلش ایکسنٹ میں بولی تھی
فریحہ کے اس طرح بولنے سے حاضر کی مسکراہٹ گہری ہوئی تھی
جلد ہی بتاؤ گا کہ کیسے ہوئی مجھے میں ہمت ایسے بات کرنے کی اسی لئے جلدی ہی اُٹھ جاو اور تیاری کرو ہم لینے آ رہیں ہیں تم کو
نہ آئی تو پھر کل میرے گھر والے تمہارے گھر ہوں گے وہ مسکراتے ہوئے اس کی بات سننے بنا فون بند کر چکا تھا
فریحہ اس کی بات سمجھتے ہوئے جھنجلاہٹ کا شکار ہو گئی تھی
جتنا دور رہنے کی کوشش کر رہیں ہوں اتنا ہی تم مجھ پر سوار ہونے کی کوشش کر رہیں ہو کیوں مجھے برباد کرنا چاہتے ہو وہ آنکھیں بند کیے تصور میں اس سے باتیں کرتے ہوئے بول رہی تھی
میرے دل میں مت آؤ حاضر شاہ جب ہمیں جانو گے تو تم بھی بابا کی طرح ہمیں چھوڑ جاؤ گے سب چھوڑ جاتیں ہیں ہمیں بابا ہمارے نہیں ہوسکے تو تم کہاں سے ہمارے ہو گے نہیں آنے دوں گی تم کو اپنے دل میں میرے دل میں کوئی بھی نہیں آ سکتا
وہ پورے اعزم سے خود سے بولی تھی
میں ضرور جاؤں گی شادی میں پر اپنے دل کو تمہاری طرف نہیں جانے دوں گی وہ سوچتے ہوئے َاُٹھتی اپنے کپڑے لیتی فریش ہونے کے لیے چلی گئی تھی
ایک دفع آجاؤ تم سب تمہیں اپنا لیے گے اور بہت جلد تم یہاں پورے حق سے میرے پاس ہو گی میری محبت تمہیں اپنا بنا ہی لے گی وعدہ ہے یہ میرا تم سے وہ مسکراتے ہوئے موبائل کو جیب میں ڈال کر بولا تھا
دونوں خود سے وعدے کر رہیے تھے پر قسمت ان کے لیے کیا فیصلہ کرنے والی تھی یہ کوئی نہیں جانتا تھا
