Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 9

فریحہ پریوش کے ساتھ آ تو گئی تھی پر اندر سے ڈر رہی تھی کیونکہ کے وہ کبھی بھی ایسے کسی کے گھر نہیں آئیں تھیں
پریوش سارے راستے اس سے باتیں کرتے ہوئے آئی تھی اور فریحہ بس مسکرا کر اس کی باتیں سن رہیں تھی فریحہ حاضر کے ریکشن کے لیے بھی پریشان تھی
گاڑی ایک شاندار محل نما خویلی میں آ کر روکی تھی پری کے نیچے اترنے پر فریحہ بھی اس کے پیچھے اُتری تھی
چلو فری اندر پری فریحہ کا ہاتھ پکڑ کر اندر کی طرف بڑھ گئی تھی
فریحہ ساری حویلی کو غور سے دیکھا رہیں تھی وہ حویلی اتنی بڑھی تھی کہ کوئی بھی اس میں کھو جائے فریحہ نے سوچتے ہوئے سر کو چھٹکا تھا
ماما یہ دیکھیں میری دوست پری اپنی فریحہ کو اپنی ماما کے سامنے کرتے ہوئے بولا رہی تھی
ادھر آؤ بچے یہاں میرے پاس وہ اسے اپنے پاس صوفے پر جگہ بناتے ہوئے بولی تھی
میں ابھی چچی اور زینی آپو کو بھی بولا کر لاتیں ہوں سب کو بتاؤں گی میری دوست آئیں ہے اور ماما آپ کو پتہ ہے حاضر بھائی بول رہیے تھے ہم اسے ہمیشہ اپنے پاس رکھ لیں گے پری جاتے ہوئے خنا شاہ سے بولی تھی جس پر فریحہ اور خنا نے پری کو خیران ہوتے ہوئے دیکھا تھا پری یہ بول کر وہاں سے جا چکی تھی
پیچھے خنا شاہ اور فریحہ کے رنگ اُڑ چکے تھے
تم گھبراؤ نہ تمہیں پتہ ہے یہ ایسی ہی ہے جھیلی سی وہ فریحہ کا اُڑا ہوا رنگ دیکھ کر بات سنبھلتے ہوئے بولیں تھیں
فریحہ ان کی بات پر مسکرا بھی نہیں سکی تھی
کہیں میں نے کچھ غلط تو نہیں کر دیا یہاں آ کر میرا دل کیوں گھبرا رہا ہے فریحہ آگے ہی گھبرائیں ہوئیں تھی پری کی بات نے اسے اور بھی پریشان کر دیا تھا
سب آ کر فریحہ سے ملے تھے اب پری سب کو اپنے کالج کی باتیں بتا کر ہنسا رہی تھی
فریحہ بھی سب کی باتوں سے لطف لے رہیں تھی پری کی کسی بات پر مسکرائی تھی تب ہی سامنے سے حاضر اور تبریز آئے تھے
حاضر فریحہ کو سب کے ساتھ مسکراتے ہوئے دیکھ کر اسی کو دیکھی جا رہا تھا خنا شاہ کی نظر جب حاضر پر گئی تو اسے فریحہ کی طرف مسکرا کر دیکھتے ہوئے دیکھ کر کچھ غلط ہونے کا احساس ہو رہا تھا
تبریز اور حاضر کے سلام کرنے پر سب نے ان کی طرف مسکراتے ہوئے دیکھ تھا فریحہ کے مسکراتے ہوئے ہونٹ سیکڑ گیے تھے
خنا کی نظریں اب حاضر سے ہوتے ہوئے فریحہ کی طرف گئی تھیں جو بے زار سا چہرہ لیے اپنے لب کاٹتی ادھر اُدھر دیکھ رہی تھی
زینی تبریز کو دیکھ کر جلدی سے اُٹھتے ہوئے اپنے روم کی طرف بڑھ گئی تھی زینی کے جانے پر سب مسکرا دیے تھے پر تبریز کا دل بے چین ہو گیے تھا
پری بیٹا جاؤ فریحہ کو اپنے روم میں لے جاؤ تھک گئی ہو گی تھوڑی دیر آرام کر لے پھر رات کو مہندی کی تیاری بھی کرنی ہے
خنا کے کہنے پر فریحہ نے شکر کا سانس لیا تھا اور مسکرا کر ان کو دیکھتے ہوئے اوپر کی طرف چلیں گئیں تھیں دونوں
حاضر کی نظروں نے فریحہ کا اوپر تک پیچھا کیا تھا
اللہ میرے بچے کے حق میں سب بہتر کر دے اس کے ساتھ کچھ غلط نہ ہونے پائے خنا حاضر کا فریحہ کو دیکھ کر کہلکلاتا ہوا چہرہ دیکھ کر دل میں اس کے لیے دعا کر رہیں تھیں
ماں کی دعا تو اللہ کبھی بھی رد نہیں کرتا
❤️❤️❤️❤️
حیاء میری بات سنو انس حیاء کے پیچھے بھاگتے ہوئے بول رہا تھا جو تیزی سے یونیورسٹی کی دوسری سائیڈ پر بھاگ رہیں تھی
دفع ہو جاؤ انس ہرگز میرے پیچھے مت آنا نفرت ہے مجھے تم سے خوشیاں مناؤں جا کر مجھے ذلیل ہی تو کرنا چاہتے تھے نہ تم اب کیا تکلیف ہے
ساری کلاس کے سامنے تماشا بنا کر مزہ نہیں آیا جو پوری یونیورسٹی میں تماشا بنانا چاہتے ہو
حیاء روکتے ہوئے الٹے قدم لیتی انس سے بول رہی تھی
حیاء میری بات تو سنو انس اس کی طرف بڑھتے ہوئے بولا تھا
خبر دار جو میری طرف قدم بھی لیا ہو بزدل انسان اتنی ہی ہمت ہے نہ تو سب کے سامنے بتاتے سب کو کون ہوں میں تمہاری وہ چیختے ہوئے بول رہی تھی
حیاء ادھر آؤ ورنہ میں خود اپنے ہاتھوں سے تمہاری جان لے لو گا حیاء کی باتوں سے غصے ہوتے ہوئے بولا تھا
اچھا ہے ایک ہی دفعہ مار دو روزہ روز کی بےعزتی سے تو بہتر ہے وہ سرد لہجے میں بولی تھی
تمہاری بہنیں سکول میں ہے نہ انس پراسرار سا مسکرا کر بولا تھا تم جتنا دور مجھے سے جاؤ گی وہ تم سے دور ہو جائیں گی وہ اسے ڈراتے ہوئے پر سکون سا ہاتھ بندھے کھڑا ہو گیا تھا
یو تم ان کو بیچھ میں کیوں لے کر آتے ہو بزدل انسان ہمت ہے تو مجھ سے مقابلہ کرو وہ انس کی بات سن کر وہی روک گئیں تھی
ہاہاہاہاہا کیا کروں میری جنگلی پری کیونکہ تم ایسے میرے ہاتھ نہیں آتیں چلو شاباش ادھر آؤ میرے پاس ورنہ…………….! وہ بولتے ہوئے اپنی بات ادھوری چھوڑ گیا تھا
حیاء سر جھٹک کر آنکھوں میں آئی نمی کو کنٹرول کرتے ہوئے اس کی طرف قدم بڑھانے لگیں تھی
میں نے تمہیں پہلے بھی کہا تھا مجھ سے دور جانے کی کوشش مت کرنا پھر بھی تم میری ایک بھی بات نہیں سنتی کیوں حیاء بولو انس اسے اپنے قریب کرتے ہوئے اس کی کمر پر ہاتھ رکھ کر بولا تھا
کیوں کہ مجھے تم سے انتہائی نفرت محسوس ہوتیں ہے مجھے جب بھی موقع ملے گا میں تمہیں چھوڑ دوں گی حیاء مسکرا کر اپنے لفظوں سے انس کو آگ لگا چکی تھی
چھوڑو گی تو تم تب جب میں تمہیں چھوڑنے دوں گا زمین میں زندہ گاڑ دوں گا پر کسی اور کا ہونے نہیں دوں گا سمجھی تم وہ اسے دیوار سے لگا کر اس کے کان کے قریب سرگوشی میں بولتے ہوئے اس کے کان کی لو کو کاٹتے ہوئے بولا تھا
حیاء اس کی خرکت پر سرخ ہوتے ہوئے اسے خود پیچھے دھکیل رہیں تھی
ہاہاہاہا اتنے میں ہی حیاء میڈم کی ہوا نکل گئی انس ہنستے ہوئے اپنے لب اس کی گال پر رکھ کر بولا تھا
پیچھے ہو گلیز انسان خبر دار جو مجھے چھوا بھی ہو وہ اپنے ہاتھوں سے اس کا چہرہ پیچھے کرتے ہوئے بولی تھی
ایسے کیسے پیچھے ہو جاؤں ڈیر وائف وہ اس کے ہاتھ کو اپنے ہاتھ میں لے کر اپنے ہونٹوں سے لگا کر بولا تھا
حیاء حیاء زوحا کی آواز پر انس نے پیچھے مڑ کر دیکھا تھا پر اسے چھوڑ نہیں
جی بولیں کیا کام ہے آپ کو انس نے اپنے ماتھے پر بَل ڈال کر اسے دیکھ کر بولا تھا
چھوڑو مجھے انس حیاء زوحا کو دیکھ کر اس سے پھر غصے سے بولی تھی
بیوی ہو میری ایسے کیسے چھوڑ دوں وہ بول حیاء کو رہا تھا پر دیکھا زوحا کو تھا
بیوی کے نام پر زوحا کا منہ کھول گیا تھا
منہ بند کرو زوحا یہ کمینہ انسان ہے انس کے چھوڑنے پر وہ زوحا کے پاس جا کر بولی تھی
ہاں میں حیاء کا کمنہ ہوں ہیں نہ حیاء وہ حیاء کے پیچھے کھڑے ہو کر اس کے کندھے پر سر رکھ کر اس کے کرد حصار باندھ کر بولا تھا
ہاہاہاہاہا ہاہا زوحا نے انس کی بات سن کر قہقہہ لگایا تھا
حیاء کی آنکھیں دکھانے پر چپ کر کے سر کو نیچے جھکا کر اپنی ہنسی کو کنٹرول کرنے لگی
دفع ہو جاؤ انس چھوڑو مجھے جانا ہے میں گھر جا رہیں ہوں
زوحا میری بیوی کا خاص دھیان رکھنا ٹھیک ہے وہ اس کے گال پر پیار کرتے ہوئے بول کر وہاں سے چلا گیا
حیاء غصے اور شرم سے اسے دیکھتے ہوئے اپنے گالوں کو صاف کرنے لگی
حیاء یہ سب کیا زوحا حیران ہوتے ہوئے بولی تھی
بہت لمبی کہانی ہے یار دفع کرو اس منحوس انسان کو بہت جلد خود ہی چھوڑ دے گا اس جیسے لڑکے اور کر بھی کیا سکتے ہیں
ہاں یہ تو ہے انس کے لیے اپنے خاندان کے علاوہ کسی بھی دوسری لڑکی کو عزت کے قابل نہیں سمجھتا لڑکیوں کو ٹیشوپیپر کی طرح یوز کر کے چھوڑ دینا اس کا مشغلہ ہے
حیاء لب بیچے اسے سن رہی تھی آنکھوں میں آئی نمی کو بمشکل کنٹرول کرتے ہوئے مسکرا دی تھی
حیاء کوئی اور بات تو نہیں ہے مجھے آج انس شاہ پہلے والا انس نہیں لگا تھا آج اس کی آنکھوں میں جنون تھا میں نے پہلے کبھی بھی اسے اس طرح کرتے نہیں دیکھا کسی بھی لڑکی کے لیے زوحا حیران ہوتے ہوئے اسے سب بتا رہیں تھی
ہاہاہاہاہا جاناں ان لوگوں کا کوئی دین ایمان نہیں ہوتا چھوڑو اسے اندر چلو پھر تھوڑی دیر تک گھر جانا ہے میں نے حیاء بولتے ہوئے اس کے ساتھ اندر کی طرف بڑھ گئی تھیں
❤️❤️❤️❤️❤️
فریحہ روم میں آ کر لیٹ گئی تھی
فری تم تھک گئی ہو کیا پری فریحہ سے پوچھتے ہوئے اس کے پاس بیٹھ گئی تھی جو تھکاوٹ کی وجہ سے آنکھوں کو بند کر رہیں تھی
ہاں یار نیند نہیں پوری ہوئی اسی لیے نیند آنے لگ پڑی ہے رات کو بھی ٹھیک سے نہیں سو پائیں تھی اسی لیے وہ نیند کی بھوجل آواز لیے بولی تھی
اچھا ٹھیک ہے تم آرام کرو میں نیچے ہوں تب تک تم سو لو پھر رات کو بھی تو دیر تک جاگتے رہنا ہے پری نے بولتے ہوئے جب فریحہ کی طرف دیکھ تو اسے سوئے ہوئے دیکھ کر مسکراتے ہوئے باہر نکل گئی
کہا جا رہی ہو تم اور تمہاری دوست کہاں ہے حاضر جو سیڑھیوں سے اوپر آ رہا تھا پری کو نیچے جاتے دیکھا کر بولا تھا
لالہ میں نیچے جا رہی ہوں اور وہ تو سو گی ہے اسی لئے میں نیچے ماما کے پاس جا رہیں ہوں کوئی کام نہ ہو ان کو اسی لئے
ہم ٹھیک ہے وہ اس کی بات پر سر ہلاتے ہوئے اوپر کی طرف بڑھ گیا تھا
اس کے قدم بےاختیار ہی پری کے کمرے کی طرف بڑھ گیے تھے
سامنے دشمن جان کو سوتے دیکھ کر مسکراہٹ اس کے چہرے پر ا گئی تھی
حاضر آگے بڑھ کر اسے دیکھنے لگا تھا وہ چلتے ہوئے اس کے پاس آیا تھا
ابھی اس کی طرف ہاتھ بڑھنے ہی لگا تھا کہ اس کا موبائل رنگ کرنے لگا
موبائل کے رنگ کرنے سے فریحہ کی آنکھیں کھول گئیں تھیں
وہ وہاں اپنے قریب حاضر کو کھڑے دیکھ کر جلدی سے سیدھی ہو کر اپنا ڈوپٹہ ٹھیک کیا تھا
حاضر فون کو بند کر کے اس کی طرف دیکھ رہا تھا جو گھبرائیں ہوئی خود کو کمپوز کرنے کی کوشش کر رہیں تھی
آ آ……….. آپ یہاں کیا کر رہیں ہیں فریحہ اسے خود کے اتنے قریب دیکھ کر بولی تھی جو بالکل اس کے بیڈ کے پاس کھڑا اسے گھور رہا تھا
تمہیں دیکھ رہا تھا کے سچ میں تم یہاں ہو میرے پاس میرے گھر میں وہ پیچھے ہوتے ہوئے ڈریسنگ سے پشت لگا کر کھڑا ہو گیا تھا پر نظریں ابھی بھی فریحہ کی طرف ہی تھیں
پل…….. پلیز جائیں یہاں سے میرا تماشا مت بنائیے گا یہاں اور ویسے بھی میری یہاں صرف اور صرف پری کے لیے آئیں ہوں کسی خوش فہمی میں مبتلا مت ہوں ڈرتیں نہیں ہوں میں کسی سے
اچھا کسی سے نہیں ڈرتیں تم اب تمہارا سانس کیوں روکنے لگا گیا ہے اس کی بات سن کر حاضر فریحہ کے بالکل نزدیک آ گیا تھا اس کے بیڈ پر بیٹھ کر اس کے قریب ہوتے ہوئے بولا
فریحہ ڈر کے مارے بیڈ کے ساتھ لگ گئی تھی اسے اتنا خود کے قریب دیکھ کر خوف سے سانس لینا بھی مشکل لگ رہا تھا
حاضر اس کی آنکھوں میں خوف دیکھا کر مسکرایا تھا اور مسکراتے ہوئے اس کے پاس سے اُٹھ گیا تھا
اتنا مت ڈرو کھا نہیں جاؤں گا تمہیں خود کو اس ماحول میں ڈالنے کی کوشش کریں فریحہ…… آگے آپ نے اسی ماحول میں رہنا ہے وہ مسکراتے ہوئے اس کو بول کر بہت کچھ باور کروتیں ہوئے باہر نکل گیا تھا
پیچھے فریحہ لب بیچے اس کے لفظوں سے پریشان ہو گئی تھی
اف میرے خدایا یہ تو پیچھے ہی پڑ گیا ہے….. جتنا دور جانے کی کوشش کرتیں ہوں اتم ہی پاس آتا ہے…… کیسے اعتبار کر سکتیں ہوں میں کسی پر بھی محبت تو دو دن کی ہوتی ہے سب کی اور ویسے بھی اس طرح کے خاندان کے لوگ ہم جیسوں سے کیوں تعلق جوڑنے لگے
وہ اپنا سر بیڈ کی پشت کے ساتھ لگائے آنکھوں میں نمی لیے تلخز سا مسکرا دی تھی
❤️❤️❤️❤️❤️
حیاء زوحا کے ساتھ کھڑی سٹیج پر چل رہا شو دیکھ رہیں تھی وہ خود پر انس کی نظروں کو محسوس کر رہی تھی جو اس سے تھوڑی دور دیوار کے ساتھ پشت لگا کر کھڑا حیاء کو دیکھ رہا تھا
حیاء اس کے دیکھنے سے بے زار ہوتی لب بیچے بمشکل کھڑی تھی
زوحا چلو یار اب بس بھی کرو چلو گھر چلتے ہیں
حیاء بس دس منٹ وہ عادی کو ایک دفعہ گانے دو پھر اسے دیکھ کر چلیں گے وہ سامنے دیکھتے ہوئے بولی تھی
ٹھیک ہے میں باہر ہوں تم آ جانا جب تک میں باہر تمہارا انتظار کرتیں ہوں حیاء اسے بولتے ہوئے باہر نکل گئی تھی
حیاء ڈیپارٹمنٹ کی سیڑھیوں پر بیٹھی ہوئی تھی تب اچنک سے آنیہ اس کے سر پر کوک کا گلاس پھنک دیا
کیا بدتمیزی ہے یہ آنیہ حیاء اس پر غصہ سے غرائی تھی
ہاہاہاہاہا ہاہاہاہاہا ابھی تو شروعات ہے میری جان آگے آگے دیکھو تمہارے ساتھ کرتیں کیا ہے آنیہ شاہ اس نےاور رائمہ نے قہقہہ لگایا تھا
پیچھے کھڑا انس سب دیکھ رہا تھا
آنیہ اپنی حد میں رہنا ورنہ جوابی کارروائی مجھے بھی کرنی آتیں ہے سمجھی تم وہ اسے انگلی دیکھاتے ہوئے بولی تھی
کیا بدتمیزی ہے یہ آنیہ انس آنیہ کا ہاتھ پکڑ کر اسے اپنے سامنے کرتے ہوئے غرایا تھا
یہ تمہاری وجہ سے ہو رہا ہے سب خبر دار اگر تم مجھے حیاء کی حمایت کرتے ہوئے دیکھے تو میں نے تمہاری ہر حرکت کو برداشت کیا ہے پر حیاء کے قریب رہنا میں ہرگز برداشت نہیں کروں گی آنیہ غصے سے انس پر چلائی تھی
اب داد حضر کو فیصلہ کرنا ہی ہو گا اور جلد ہی ہماری شادی ہو گئی وہ انس کو بولتے ہوئے حیاء کی طرف مسکرا کر دیکھ رہی تھی جس کا اس کی باتوں سے رنگ اُڑا تھا
حیاء نے اپنا چہرا دوسری طرف موڑ لیا تھا
چلو انس ہم گھر چلیں آنیہ انس کا ہاتھ پکڑ کر اسے اپنے ساتھ لے کر جانے لگی
انس بنا کچھ کہے آنیہ کے ساتھ چلا گیا تھا
پیچھے حیاء لب بیچے کھڑی تھی زوحا بھی آ چکی تھی
ہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہا سوئٹی تمہیں کیا لگا انس شاہ جس پر ہر لڑکی مرتی ہے وہ تمہارا دیوان ہے وہ صرف اور صرف آنیہ شاہ کا ہے دوسری ہر لڑکی کو یوز کر کے ٹیشو کی طرح پھینک دیتا ہے وہ رائمہ حیاء کے سامنے آتے ہوئے بولیتی کار کی چابی کو اپنی انگلی پر گھومتے ہوئے وہاں سے نکل گئی تھی
حیاء تم ٹھیک ہو زوحا دوڑتے ہوئے حیاء کے پاس آئی تھی
تمہیں میں ٹھیک لگ رہی ہوں دیکھو تو سہی اس حبسِ نے سارے میرے نیا کپڑے خراب کر دیے اتنے مہنگے تو لیے تھے ایک دفعہ مل جائے یہ آنیہ شاہ اس کا منہ توڑ دوں گی میں…….. حیاء اپنی آنکھوں میں آئیں ہوئی نمی کو چھپا کر ریلکس طریقہ سے زوحا سے بات کر رہی تھی
زوحا حیاء کے اس انداز میں بولنے پر مسکرا دی تھی
حیاء مجھے لگا تمہیں انس شاہ کا انداز بُرا لگا ہو گا وہ حیاء کے ساتھ چلتے ہوئے بول رہی تھی
مجھے مجھے کیوں اس کا رویہ برا لگے گا وہ میرا کیا لگاتا ہے……….. حیاء مسکراتے ہوئے بولتی اپنا ہر درد چھپا گئی تھی
حیاء جو انس شاہ وہاں بول رہا تھا وہ کیا تھا زوحا اسے دیکھ کر بولی تھی
میں نے تمہیں اس وقت بھی بولا تھا دفع کرو اسی لیے جاناں اس پر غور نہ کرو وہ مجھے کبھی توڑ نہیں سکتا حیاء مسکرا کر بولی تھی
جو پہلے سے ٹوٹا ہو اسے کوئی نہیں توڑ سکتا کوئی بھی نہیں وہ دل میں سوچ کر خود ہی اپنی سوچ پر مسکرا کر زوحا کے ساتھ گھر کے لیے نکل گئیں تھی
ضروری نہیں رُخ کے کھنچے جانے سے جان جائے
کبھی کبھی کسی انسان کے چلیں جانے سےبھی
جان چلی جاتیں ہے
❤️❤️❤️❤️❤️
بابا مجھے آپ سے بات کرنی ہے سلال عادل کے کمرے میں داخل ہو کر بولا تھا
ہمم بیٹھو کیا بات کرنی ہے عادل صاحب آفس میں بیٹھے ہوئے تھے اپنی کسی فائل پر کام کر رہے تھے اپنی فائل بند کر کے سائیڈ پر رکھا دی تھی کیونکہ وہ جانتے تھے ان کا بیٹا اپنے ہر معاملے میں کتنا جنونی ہے
وہ کبھی بھی برداشت نہیں کر سکتا تھا کہ اس کے بات کرتے ہوئے اس کے باپ کا دھیان ایک منٹ بھی کسی چیز پر ہو
بابا وہ مجھے………. سلال بات کرتے ہوئے سر اُٹھ کر عادل کو دیکھنے لگا جو اسے ہی دیکھ رہیے تھے
آج میرے بیٹے کو ایسا کیا چاہتے کے وہ آپنی بات کہتے ہوئے ہچکچا رہا ہے عادل صاحب اسے دیکھ کر دلچسپی سے بولے تھے
بابا مجھے زرتاشہ چاہیے ہر قیمت پر آپ نورین آنٹی سے بات کریں اور جلد از جلد اسے میرے نام سے منصوب کر دیں وہ عادل کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے ایک جنون سے بولا تھا
عادل کو بہت حد تک سلال کے ارادوں کا پتہ لگا چکا تھا اسی لیے وہ ریلکس تھے پر پریشانی تو نورین کی تھی اور دوسرا زرتاشہ ابھی بہت چھوٹی تھی
پر سلال تم جانتے ہو وہ چھوٹی ہے تم سے بہت ویسے بھی ابھی وہ پڑھائی کر رہیں ہے اسے سے بڑی دو بہنیں ہیں اس کی عادل صاحب اسے سمجھاتے ہوئے بولے تھے
مجھے زرتاشہ ہر حال میں اپنے نام سے منصوب چاہیے چاہے اس میں نورین آنٹی اور زرتاشہ کی رزمندی ہو یا نہ اور یہ میرا آخری فیصلہ ہے وہ کھڑا ہوتے ہوئے دونوں ہاتھوں کو ٹیبل پر رکھ کر عادل صاحب کی طرف جھکتے ہوئے ان کی آنکھوں میں دیکھ کر جنونی انداز میں بولا تھا
دس دن ہیں آپ کے پاس ورنہ مجھے خود ہی کوئی قدم اُٹھانا پڑھے گا
سلال تم کچھ بھی ایسا غلط کام نہیں کرو گے ورنہ مجھ سے برا کوئی نہیں ہو گا میں خود نورین سے بات کر لوں گا سنا تم نے پر وقت دو تھوڑا سا مجھے
تمہیں بھی مجھ سے وعدہ کرنا ہو گا کہ تم جاؤ گے امریکہ اپنی سٹیڈی کے فام پورے کرنے تو میں بھی وعدہ کرتا ہوں زرتاشہ تمہاری ہو گی
ٹھیک ہے ڈیڈ میں ضرور جاؤں گا پر پہلے زر کے نام کے ساتھ میرا نام جوڑا جائے گا تب میں اپنے فام کمپلیٹ کرنے کے لیے امریکہ چلا جاؤں گا
آگے آپ کی مرضی زر تو میری ہو کر رہیے گی اب یہ آپ پر ہے کہ آپ اس کی ماما کو منا لیتے ہیں یا پھر مجھے ہی کچھ…………آپ سمجھ تو ہوں گے میری بات وہ مسکراتے ہوئے بول کر وہاں سے نکل گیا تھا
کبھی نہیں سدھرے گا یہ لڑکا وہ کچھ سوچتے ہوئے اپنی کرسی پر بیٹھ گئے تھے اور پھر سے فائل کو کھول چکے تھے