Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 24

بتاؤ کون سا پسند ہے ان میں سے واجب سامنے لگے ڈریسز کی طرف اشارہ کرتے ہوئے خبہ سے بولا تھا جو نظروں کو جھکائے اپنی آنکھوں کی نمی کو روک کر کھڑی تھی
جو ۔۔۔۔۔۔۔۔جو ۔۔۔۔بھی پسند ہے لے لے مجھے کوئی اعتراض نہیں خبہ کے نہ بولنے پر واجب نے اس کے ہاتھ پر زور دیا تھا جو واجب کے ہاتھ میں تھا جس سے خبہ نے ڈر کر آٹکتے ہوئے بولی تھی
تم کیا اللہ میاں کی گائے ہو جو تمہاری کوئی پسند نہیں وہ سامنے ڈریسز پر نظر ڈالتے ہوئے بولا تھا
ہاں مجھے ہی پسند کرنے چاہیے کیونکہ کے میں نے ہی تو دیکھنا ہے تمہیں وہ اپنی بات بول کر خود ہی جواب دے کر بولا تھا
پھر وہاں کھڑی لڑکی کو بلا کر چار پانچ ڈریسز دیے تھے جن کو پیک کرنے کا بولا تھا
تم تو کافی آسان ہدف ہو میرے لیے تمہیں تو سیدھا کرنا میرے بائیں ہاتھ کا کام نکل آیا وہ خبہ کو اپنے سامنے کرتے ہوئے بولا تھا جو بے بسی سے بس اسے دیکھ رہی تھی
سر یہ لے آپ کے بیگز اور آپ کا کارڈ وہ اسے کپڑوں کا بیگ اور اس کا کارڈ دیتے ہوئے بولی تھی جو اس نے شکریہ ادا کرتے ہوئے لے کر خبہ کا ہاتھ پکڑتے ہوئے اپنے ساتھ لے گیا تھا
تبریز نے بتا دیا مجھے سب جو تم نے ان کے ساتھ کیا واجب دل جلانے والی مسکراہٹ کے ساتھ اس سے بولا تھا جو اپنے سر پر ہوئے دھماکے پر خیران اور پریشان ہوئے اپنا گلا تر کرتی اس کے ہاتھ میں دابے اپنے ہاتھ پر سحتی محسوس کرتے ہوئے اس کے ساتھ کھینچی چلی جا رہی تھی
وہ اسے گاڑی میں جھٹکے سے دھکا دیتے ہوئے پیچھے گاڑی میں سامان رکھ کر خود بھی دوسری طرف بیٹھ گیا تھا
مجھے تم سے محبت ہونے لگی تھی میں نے رشتہ کے لیے بھیجا تھا ماما بابا کو جب سے تمہاری مکاری کا پتہ چلا ہے مجھے تم سے نفرت محسوس ہونے لگی ہے دل کرتا ہے تمھارے اس خوبصورت چہرے کا ہشر بگاڑ دوں
وہ اس کا منہ دبوچتے ہوئے غرایا تھا
نہیں نہیں خبہ چلائی تھی ایک دم منظر بدلا تھا تو اس نے دیکھا واجب خیران ہوتے ہوئے اس کو دیکھ رہا تھا
کیا ہوا ہے تمہیں شاپنگ کے بعد تم ایسے سوئی تھی جیسے گدھے گھوڑے تم نے ہی سب بیچے ہوں واجب گاڑی چلاتے ہوئے بولا تھا
تو کیا وہ سب خواب تھا خبہ آنکھوں کو ملتے ہوئے واجب کی طرف دیکھ کر بولی تھی
کچھ کھاؤں گی واجب اسے خیران پریشان دیکھ کر بولا تھا
نہیں نہیں گھر چھوڑ دیں بس مجھے وہ اس سے بول کر پھر سے دوسری طرف اپنا رح کر چکی تھی
واجب نے سمجھا شاید آتے والے واقعہ کی وجہ سے اس طرح بیہو کر رہی ہے اسی لیے چپ چاپ سامنے دیکھتے ہوئے گاڑی کو ان کے گھر کے راستے پر ڈال چکا تھا
رات کافی ہو چکی تھی اور شاپنگ پر ٹائم لگ گیا تھا
❤️❤️❤️❤️❤️
نہیں ہے یہ میری بیٹی یہ تم پیچھے سے اپنے عاشق کا گناہ اٹھا کر لے کر آئی ہو وہ اس کے بالوں کو ہاتھ سے پکڑ کر کھچتے ہوئے بول رہا تھا
وہ سہمی ہوئی صوفے کے ساتھ لگ کر بیٹھی لرزا رہی تھی آنکھوں کو بند کیے اپنی ماں کی سسکیاں اور درد بری کرہ کو سن کر اس نے اپنے کانوں پر ہاتھ رکھ لیا تھا پر پھر بھی دوسرے بے رحم انسان اسے مارنا نہیں چھوڑا تھا
پلیز میری بیٹی کو مت مارنا مجھے جتنا مرضی مار لو اس کو مت مارنا ماں نے جب اسے صوفے کے پاس لرزاتے ہوئے وجود کو دیکھ جو سہمی ہوئی سی کانوں پر ہاتھ رکھ کر بیٹھی ہوئی رو رہی تھی اس کی طرف اس انسان کو بلٹ لے جاتے دیکھ کر چلا کر کہا تھا
وجود میں اتنی بھی ہمت نہیں تھی کہ اسے اُٹھاکر بچا سکتی بس روتے ہوئے بے بس سی اپنی بیٹی کو دیکھ رہی تھی جس کے چہرے پر آنسو تھے اور اس کی دل چیر دینے والی چیخیں پورے گھر میں گونج رہیں تھی
اور وہ بے رحم بنا اسے اپنی بے رحمی کا نشانہ بنا رہا تھا
یہ تمہارا گند ہے اسے مار کر میرے دل کو تسکین ملتی ہے وہ بلٹ کو زمین پر پھینکتے ہوئے ان دونوں وجود کو ایک غلط بھی نظر ڈالے بینا وہاں سے چلا گیا تھا
ماں نے بہت مشکل سے رینگتے ہوئے اپنے وجود کو اس کے پاس لے کر گئیں تھی اور اسے اپنے ساتھ لگا کر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی تھی
پر اس بچی نے اپنے ننھے ننھے ہاتھوں سے مسکراتے ہوئے اپنی ماں کی آنکھوں میں آئے آنسو صاف کیے تھے ماں نے اس کے ہاتھوں کو اپنے ہونٹوں سے لگا لیا تھا ایسا ہی تھا ان کا آپس میں ساتھ
پھر ایک وجود الماری سے روتے ہوئے نکل کر آیا تھا اور دوڑ کر اپنی ماں اور بہن کے گلے لگا کر رونے لگا تھا
ماں نے ان دونوں کو اپنی آغوش میں چھپا لیا تھا اس کے بے آواز آنسو ان کے بالوں میں بہنے لگے تھے
❤️❤️❤️❤️❤️
وہ جب اُٹھی تو اس کا پورا جسم پسینے سے تر تھا
پانی پانی بولتے ہوئے جب سائیڈ پر ہاتھ مارا تو وہاں کچھ نہیں تھا اپنے حواس بحال کرتے ہوئے اَٹھی تھی اور باہر نکلی تھی
آوازیں نیچے سے آ رہیں تھی ہنسنے کی حیاء بمشکل خود کو سنبھال کر نیچے اتر رہی تھی آخر سیڑھی سے لڑکھڑاتی اس سے پہلے پاس کھڑی فریحہ نے اس کی طرف دیکھ کر چیخ ماری تھی
کیا ہوا ہے حیا نورین اور عادل بھی دورتے ہوئے اس کے پاس گیے تھے جو پیسنے سے تر لگ رہی تھی
پانی پانی چاہیے مجھے حیاء نورین کے گلے لگی بولی تھی حیاء کو نورین نے اپنے ساتھ لگا کر صوفے تک لے گئیں تھی
کیا ہوا ہے بچہ نورین فریحہ سے پانی کا گلاس لے کر اس کے منہ سے لگا کر بولی تھی جو اس نے جلدی جلدی پی کے ان کی گود میں سر رکھ کر لیٹ گئی تھی
کچھ نہیں ماما بس ویسے ہی طبیعت نہیں ٹھیک ماما تو شاید گولی کھانی کی وجہ سے اتنا پسینہ آیا ہے بخار فیل ہونے لگا تھا تو گولی کھا لی تھی شاید اسی لیے اتنا سب ہوا وہ اپنی ماں کی گود میں سر چھپا گئی تھی
نورین ماں تھیں اپنی بیٹی کی رگ رگ سے واقف تھی وہ جانتی تھی کہ وہ کبھی بھی اپنا کوئی غم ان کو نہیں بتائے گی اسی لئے چپ کر گئیں تھیں
بہت دفع کوشش کر چکیں تھی کہ وہ اپنی فیلنگ ان سے شیر کر لے اپنے دکھ ان کو بتا دیے پر وہ ہمیشہ مسکر دیتی تھی اور نورین کچھ نہیں کر پاتی تھی
تم نے تو ڈرا دیا ہمیں سلال منہ بناتے ہوئے بولا تھا
اچھا چلغوزے تم بھی ڈرتے ہو کسی چیز سے حیاء اپنا سر اوپر اُٹھ کر سلال سے بولی تھی
کیا کیا کیا کہا نے میں اتنا خوبصورت ہنڈسم بندا تم کو چلغوزہ لگتا ہوں سلال دل پر ہاتھ رکھ کر اپنی توہین پر خیران ہوتے ہوئے بولا تھا
نہیں نہیں تم چلغوزے نہیں ہو وہ تو بہت مہنگے ہیں تم تو مونگپھلی ہو سستی سی وہ نورین کی گود میں سر رکھے بولی تھی
سب نے ایک ساتھ قہقہہ لگایا تھا سلال کی خیران شکل دیکھ کر
حاضر بھائی چلے گئے اور تم یہاں کیا کر رہے ہو وہ فریحہ سے بولتے ہوئے احد کی طرف دیکھا کر بولی تھی جو سب کے بھیج بیٹھا ہنس رہا تھا
بری بات حیاء بھائی کو ایسے نہیں بولتے نورین کے بولنے پر وہ کچھ کہتے کہتے روکی تھی
جی ماما وہ نورین کے ہاتھوں کو اپنے لبوں سے لگا کر مسکراتے ہوئے بولی تھی
بابا ماما آپ پیکنگ کر لیں جا کر پھر رات کو تھوڑا آرام کر لیجیے گا سلال کے بولنے پر عادل صاحب نے مسکر کر اپنے بیٹے کو دیکھ تھا
ہاں یہ چاہتا ہے کے کہی آپ یہاں رہ ہی نہ جائیں اور اس کا زر کے ساتھ اکیلے رہنے کا سپنا ٹوٹ ہی نہ جائے پر اسے کیا پتہ جب تک ماما نہیں آنے والی اس کی ایک عدد حسین بہن ادھر ہی روکئے گی اس کا گھر جانے کا پروگرام نہیں ہے اور وہ پوری اجازت کے ساتھ یہاں آئی ہے حیاء دل جلانے والی مسکراہٹ کے ساتھ بولی تھی
یاہو سچ میں آپو زرتاشہ اَٹھ کر چلائی تھی جس پر سلال نے اسے کھا جانے والی نظروں سے دیکھا تھا
جی میرا بچا میں پوچھا کر آئی تھی آنٹی سے وہ نورین کی طرف دیکھ کر بولی تھی جو اسے سوالیہ انداز میں دیکھ رہی تھی
واہ آپو پھر تو مزہ آئے گا زرتاشہ کے بولنے پر سلال اسے گھور رہا تھا
پر آپو میں کیسے رہو گی آپ کے بغیر زویا کے بولنے پر احد نے اسے دیکھ تھا جو اسے پوری طرح اگنور کرتے ہوئے حیاء کی طرف آئی تھی
بچو پوچھو لو احد سے تم بھی رہی رہ لینا حیاء احد کی طرف دیکھتے ہوئے زویا کو بولی تھی
نہیں نہیں زویا نہیں رہ سکتی کیونکہ میں بھی تو تھوڑی سی چھٹی پر آیا ہوں کچھ دن تک چلے جانا ہے میں نے احد جلدی جلدی سے بولا تھا
سب اس کی جلد بازی پر مسکرا دیے تھے
پر مجھے تو رہنا ہے یہاں زویا منہ بنا کر بولی تھی
بیٹا بری بات جب احد جائے گا تو آپ آ جانا زیادہ دن کے لئے یہاں نورین نے زویا کو پیار سے سمجھایا تھا
جی ماما وہ ان کے گلے میں باہوں کو ڈال کر بولی تھی
فریحہ کی تو حیاء کی بات سے سہی معنی میں جان گئی تھی حیاء کی وجہ سے تو حاضر سے بچتی آئی تھی اور اب کیسے کرئے گی
پر فریحہ نہیں جانتی تھی آج وہ حیاء کے ہوتے ہوئے بھی کچھ نہیں کر سکے گی
ماما آپ جائیں انکل کے ساتھ پیکنگ کر لے حیاء ان کی گود سے اَٹھ کر بولی تھی
نورین مسکراتے ہوئے عادل کے ساتھ اوپر چلی گئی تھی
کیا تم تم کیوں نہیں جاؤ گی آج پلیز حیاء چلو واپس ہمارے ساتھ فریحہ حیاء کے پاس آ کر اس کے کان کے قریب گھبرائی ہوئی بولی تھی
فریحہ جاناں یہ تمہاری جنگ ہے جو ان تمہیں خود ہی لڑنی ہے میں کب تک تمہارے ساتھ رہوں گی اسی لئے خود کو بہادر کر لو اب ہر جگہ میں تمہاری حفاظت نہیں کر سکتی اب تمہیں اپنی حفاظت خود کرنی ہے اور ویسے بھی میں نے حاضر کی آنکھوں میں تمہارے لئے پیار دیکھ ہے ہاں تھوڑا جنونی ہے پر وہ تو سب شاہ ہی جنونی ہیں حیاء مسکراہٹ لیے فریحہ کو بولی تھی جو بس چپ کر کے اسے دیکھتی رہ گئی تھی
ہمیں اب چلنا چاہیے کافی دیر ہو گئی ہے احد زویا کی طرف دیکھ کر بولا تھا
ہیلو نمونے تھوڑی دیر روک جاؤ پھر چلیے جانا احد نے حیاء کے اس طرح بولنے پر اسے آنکھیں دکھائی تھی
کیا ایسے کیوں گھور رہیے ہو تم دونوں نمونوں کو ہماری اتنی پیاری پیاری شاہزادیاں مل گئیں ہیں ورنہ تم دونوں کو تو کوئی منہ نہ لگائیں حیاء دونوں کو آگ لگاتے ہوئے مسکرا کر بولی تھی
ایک چیچوندر اور دوسرا چلغوزہ آپس سوری مونگپھلی دونوں ایک سے بڑھ کر ایک نمون
کیا کیا ہیلو میڈم ہم پر لڑکیاں جان دیتی ہے اور تم حد ہو گئی احد منہ بنا کر بولا تھا
دفع ہو جاؤ حیاء سلال نے صوفے پر پڑھے کشن میں سے ایک کشن اُٹھا کر اسے مارا تھا
ہاہاہاہاہا حیاء نے اسے پھر سے مارا تھا جو اس کے احد کے منہ پر جا کر لگا تھا حیاء اسے دیکھ کر ہنس دی تھی
وہ فریحہ تمہاری سوری کا ڈرائیور بھی آ گیا حیاء نے حاضر کو آتے دیکھ کر کہا تھا
فریحہ حاضر کو دیکھ کر سہی معنوں میں گھبرا گئی تھی
چلے گھر حاضر نے فریحہ سے پوچھا تھا
نہیں مجھے نہیں جانا آج مجھے بھی یہی رہنا ہے سب کے ساتھ آپ جائیں فریحہ نے حاضر کو ٹکا سا جواب دیا تھا
فریحہ اپنا بیگ لے کر آئیں اور اپنی ماما سے مل لیں ہمیں گھر کے لیے نکلنا ہے حاضر سخت لہجے میں فریحہ کی طرف دیکھا کر بولا تھا
میں نے کہا نہ مجھے نہیں جانا صبح آ کر لے جائیے گا فریحہ بھی فیصلہ کن لہجے میں بولتی حاضر کو غصہ دلا گئی تھی
کس نے بھی بیچ میں داخل اندازی نہیں کی تھی سب چپ کر کے انہیں دیکھ رہیے تھے
فریحہ کیا بدتمیزی ہے یہ میں نے آپ کو یہ تو نہیں سکیا پیچھے سے نورین آ کر بولی تھی جو حاضر کی آواز سے نیچے آئیں تھی
ماما میں تو بس فریحہ ابھی کچھ بولتی ۔۔۔۔۔۔۔۔
بری بات ہے بیٹا جب وہ بول تو رہیے ہیں جانا ہے تو کل کیا اور آج کیا شاباش ادھر آؤ مجھ سے ملو اور جاؤ کافی ٹائم ہو گیا ہے وہ اسے پیار سے پچکارتے ہوئے بولی تھی
زویا اور فریحہ دونوں ماں سے ملیں تھیں کافی دیر ان کے گلے لگی رہی تھی اور پھر دونوں پیار کرتے ہوئے ان کو بائے بولتے ہوئے اپنی اپنی گاڑی میں سوار ہو گئی تھی
حاضر نے احد کو اپنے پاس بلائے تھا اور کچھ بولنے کے بعد دونوں آپس میں ملتے ہوئے نکل گیے تھے
❤️❤️❤️❤️❤️
گاڑی چلاتے ہوئے حاضر کا موڈ کافی خراب تھا فریحہ نے اس کی طرف ایک دفع دیکھ کر دوبارہ نہیں دیکھا تھا
آج پھر پری کے ساتھ ہی سو جاؤ گی وہ سوچتے ہوئے آنے والے وقت کے لیے ڈر رہی تھی
گاڑی کو کسی انجانی جگہ کی طرف جاتا دیکھ کر فریحہ نے حاضر کی طرف دیکھا تھا جو سیریس سا بیٹھا سامنے دیکھا رہا تھا
ہم۔۔۔۔ہم کہاں جا رہیے ہیں اس نے ڈرتے ہوئے حاضر سے پوچھا تھا
حاضر نے لال ہوتی اپنی آنکھوں سے اسے دیکھ تھا آنکھوں میں واضع ناگواری تھی جس کو دیکھ کر واپس اس نے اپنا رح سامنے کر لیا تھا پر بولا کچھ نہیں تھا
فریحہ بس اسے دیکھتے ہوئے اپنے لب ہی چبا کر رہی گئی تھی
گاڑی ایک بنگلوں میں داخل ہوئی تھی فریحہ خیران پریشان سی حاضر کو دیکھ رہی تھی جو کچھ بھی بولے گاڑی کو اندر داخل کر چکا تھا اب گاڑی کا انجن بند کرتے ہوئے گاڑی سے باہر نکلا تھا
فریحہ گاڑی سے باہر نہیں آئی تھی ۔۔۔۔۔۔
کیا تمہیں انویٹیشن دوں باہر آنے کا وہ کچھ دیر اس کے باہر آنے کا انتظار کرتے ہوئے اس کی طرف کا دروازہ کھولتے ہوئے غصے سے بولا تھا
فریحہ بینا کچھ کہے اتر کر حاضر کے پیچھے چلنے لگی تھی
رات کے سائے شام کی تھوڑی سی رنگینی کو بھی ختم کرتے ہوئے آسمان کو کلا کر چکے تھے
آسمان پر بدلوں کا ڈیرا تھا جیسے ابھی برسنے کو تیار ہوں پر ہوائیں ان کو برسنے سے روکے ہوئے تھی
وہ ان کو اپنے رح کی طرف اُڑا کر لے جا رہیں تھی پر اب تو یہ وقت ہی تہ کر سکتا تھا کے بادل برس جائیں گے یا ہوائیں ان کو اُڑ کر اپنے ساتھ لے جائیں گی
❤️❤️❤️❤️❤️
سلال دین کہی باہر لے جاؤ ہمیں آئسکریم ہی کھلا لاؤ پلیز بھائی نہیں میرے وہ منہ بنا کر سلال سے بولی تھی
ہاں جی مجھے تو بہت پسند ہے آئس کریم پلیز لے جائیں زرتاشہ بھی سلال سے بولی تھی
ہاں ٹھیک ہے لے جاؤ گا پہلے ایک کس دو ادھر وہ اپنے گال پر اشارہ کرتے ہوئے بولا تھا
شرم کر جاؤں تھوڑی سلال میں بھی یہاں بیٹھی ہوئی ہوں حیاء اسے شرم دلاتے ہوئے بولی تھی
تم شرم کرو اور باہر ہمارا انتظار کرو ہم بس آ جاتے ہیں وہ اس پر گاڑی کی چابی پھکتے ہوئے مسکراہٹ کے ساتھ بولتا حیاء کو جلانے کی کوشش کر رہا تھا
حیاء اُٹھتے ہوئے کشن اس کے سر پر مار کر وہاں سے باہر نکل گئی تھی
کم بے بی جلدی ورنہ دیر نہ ہو جائے وہ اسے اپنی طرف کھینچتے ہوئے بولتا خود ہی اس کی گال پر اپنے ہونٹ رکھ چکا تھا اب وہ اس کا رح سامنے کرتے ہوئے اس کے ہونٹوں کو آرام سے چھوتے ہوئے پیچھے ہوا تھا اور مسکراتے ہوئے سرح ہوئی زرتاشہ کو اپنے ساتھ باہر لے گیا تھا جو اس کی گرفت میں کپ کپا رہی تھی
سلال باہر نکلا تو حیاء فرنٹ سیٹ پر بیٹھی گاڑی کو باہر نکل رہی تھی
سلال اسے آنکھیں دکھاتے ہوئے زرتاشہ کو لے کر پیچھے بیٹھا گیا تھا حیاء نے بغیر کسی ایکسپریشن کے گاڑی آئسکریم پالر کی طرف بڑھا دی تھی
سلال نے زرتاشہ کے گرد ہاتھ رکھ کر اسے اپنے قریب کیا ہوا تھا جو ابھی بھی خود میں سمٹی ہوئی تھی
اتنا کیوں ڈر رہی ہو جاناں ابھی تو کچھ نہیں کیا میں نے وہ اس کے کان کے قریب جا کر بولتا اس کے کان کی لو کو اپنے ہونٹوں سے چھو کر اسے اور بھی سمٹنے پر مجبور کر گیا تھا
گاڑی آئسکریم پالر پر روک کر وہ تینوں اترے تھے اور آئسکریم منگوائی تھی
وہ تینوں آئسکریم آ جانے پر اب مزے سے آئسکریم کھا رہے تھے
حیاء خود میں منگن آئسکریم کھا رہی تھی جیسے وہ اس دنیا میں نہ ہو سلال نے دیکھ تھا وہ اسے کچھ الجھن میں لگی تھی
❤️❤️❤️❤️
انس جب سے حیاء کے گھر سے آیا تھا بے مقصد سڑک پر گاڑی کو ادھر سے ادھر دوڑوا رہا تھا
گاڑی میں بیٹھتے ہوئے کتنے ہی سگریٹ پھونک چکا تھا اسے رہ رہ کر اپنے اوپر غصہ آ رہا تھا
وہ غصے میں اتنے بڑے بول بول تو آیا تھا پر اب پچھتا بھی رہا تھا کیونکہ کے وہ چھوٹی بات نہیں کر کے آیا تھا
نہ چاہتے ہوئے بھی وہ حیاء کے کردار کو نشانہ بنا کر آیا تھا
موبائل پر میسج کی بیپ سے موبائل فون کو دیکھ تو اس میں آئے میسج سے اس کا خون کھول گیا تھا اس نے گاڑی سٹارٹ کی اور تھوڑی ہی دیر میں گاڑی ہوائوں سے باتیں کرنے لگی تھی
اپنی منزل پر پہنچ کر اس نے جب دیکھ تو اس کی آنکھیں غصے سے لال انگارا ہو گئیں تھی
سامنے ہی حیاء اور سلال کھڑے تھے زرتاشہ ابھی ابھی گاڑی میں بیٹھی تھی کیونکہ وہ وہاں سے نکلنے لگے تھے
سلال نے اپنی آئسکریم کی چمچ میں سے آئسکریم اس کے چہرے پر لگا دی تھی جس پر وہ اس کا ہاتھ پکڑ کر مڑوڑ رہی تھی
انس حیاء کے ہاتھ میں سلال کا ہاتھ دیکھ کر غصہ سے باہر نکلا تھا
اور ان کی طرف بڑھا تھا جو اپنی ہی دھن میں ایک دوسرے کے ساتھ شرارتوں میں مگن تھے زرتاشہ اندر بیٹھی ان دونوں کو دیکھ کر کہلکلا رہی تھی اس کی ہنسی نہیں روک رہی تھی سلال کو مار کھاتے دیکھ کر
حیاء کے ایک سائیڈ پر آئسکریم لگی ہوئی تھی
کیا تماشا ہے یہ پیچھے سے انس نے آ کر حیاء کا ہاتھ پکڑ کر اپنی طرف کھینچتے ہوئے کہا تھا
میں وہاں اپنے کیے پر شرمندہ ہو رہا تھا اور تم یہاں رنگ رلیاں منا رہی ہو مجھے بے سکون کر کے خود خوشی سے قہقہہ گونج رہیے ہیں تمہارے وہ حیاء کا چہرا دبوچ کر اس پر غرایا تھا
حیاء بے یقینی سے اس کے لفظوں کو سن رہی تھی اسے ایسا لگ رہا تھا جیسے وہ آج سے پیچھے پھر اپنے ماضی میں کہی گم گئی ہو اسے اب انس کا بولا ہو کوئی بھی لفظ سنائی نہیں دے رہا تھا
انس تم غلط سمجھ رہیے ہو ہم تو بس سلال کے بولنے پر انس نے اسے ایک مکا منہ پر مارا تھا جس سے وہ پیچھے گرا تھا زرتاشہ بھی جلدی سے باہر آئی تھی پر اس وقت انس اپنے ہوش میں نہیں لگا رہا تھا
پاگل ہو گیے ہو انس اس وقت تم چھوڑو مجھے اور دفع ہو جاؤ یہاں سے ابھی اسی وقت وہ سلال کے منہ سے خون نکلتے دیکھ کر انس پر چلائی تھی
ہاں تمہیں اس کے پاس چھوڑ دوں تاکہ تم دونوں خوب انجوائے کر سکو انس کی بات حیاء کا ہاتھ اٹھا تھا
انس خیران ہوا اپنی گال پر ہاتھ رکھ گیا تھا
تمہاری ہمت بھی کس طرح ہوئی انس شاہ پر ہاتھ اُٹھنے کی وہ حیاء کو بالوں سے پکڑا کر اس کا چہرہ اپنی طرف کر کے بولا تھا
جس طرح تمہاری ہمت ہوئی مجھ پر اور میرے کردار پر تہمت لگانے کی انس شاہ میں کمزور نہیں ہوں سنا تم نے محبت ہونے لگی تھی مجھے تم سے پر تم نے ثابت کر دیا کے تم واقعی ہی میری محبت کے لائک نہیں ہو حیاء اس سے اپنے بالوں کو چھڑاتے ہوئے پھینکاری تھی
تمہیں تو میں بتاؤں گا میری جان آج رات تمہاری اوقات کیا ہے بہت شوق ہے نہ دوسرے کے ساتھ گمنے کا اب دیکھوں میں کیا کرتا ہوں تمہارے ساتھ وہ اسے کھینچتے ہوئے بولا تھا
چھوڑ اسے سلال جو پیچھے کھڑا تھا انس کے آگے آتے ہوئے بولا تھا
ہاتھ نہیں ہاتھ مت اُٹھانا ورنہ اس دفع جو بول تم نے ہمارے پاکیزہ رشتے کے بارے میں بولے ہیں برداشت میں بھی نہیں کرنے والا وہ اس کے مکے کے لیے اٌٹھے ہاتھ کو اپنے ہاتھ سے روکتے ہوئے بولا تھا حیاء کا ہاتھ اس کے ہاتھ سے چھڑا کر اسے اپنے پیچھے کیا تھا
خبر دار جو تم میری بہن کو اس کی اجازت کے بغیر یہاں سے لے کر گیے ہو وہ اسے انگلی سے ورن کرتے ہوئے بولا تھا
حیاء زر دونوں گاڑی میں بیٹھو سلال اونچی آواز میں بولا تھا پر دیکھ ابھی انس کی ہی طرف تھا جو غصے سے حیاء کو دیکھ رہا تھا
حیاء اپنی گاڑی میں جا کر بیٹھو انس کی کرخت زدہ آواز آئی تھی
حیاء ان سنی کرتے ہوئے سلال کی گاڑی میں بیٹھنے لگی تھی
حیاء آج تو جا رہی ہو بہت جلد میں تمہیں بتاؤں گا تم نے کتنی بڑی غلطی کی ہے اس کے ساتھ جا کر انس حیاء کے پاس جا کر اس کو کلائی سے پکڑتے ہوئے گاڑی کے ساتھ لگا کر اس کے کان میں بولتے ہوئے اس کی کان کی لو کا اپنے دانتوں میں زور سے دبا کر حیاء کو سسکنے پر مجبور کر گیا تھا اور بہت کچھ باور کرواتے ہوئے اسے کی کلائی کو جھٹکے سے چھوڑ کر وہاں سے نکل گیا تھا
پیچھے حیاء اس کے لفظوں سے بس بت بنی اسے دیکھ رہی تھی سلال کے بولنے پر لب بیچے گاڑی میں سوار ہو گئی تھی
پلیز ماما کو اس بارے میں کچھ مت بتانا تم دونوں وہ گاڑی کی سیٹ کی پشت کے ساتھ سر ٹکا کر آنکھوں کو بند کیے بولی تھی
حیاء دن میں بھی کیا انس آیا تھا سلال نے گاڑی کے فرنٹ میرر سے پیچھے حیاء کو دیکھتے ہوئے کہا تھا حیاء کو آنکھیں کھول کر خود کی طرف خیران دیکھتے ہوئے سلال کو اپنی بات کی تصدیق ہو گئی تھی
مجھے چوکیدار انکل نے بتایا تھا کوئی آیا تھا دن کو حیاء بی بی پہلے اس کے ساتھ ہی آئیں تھی اور پھر اس نے اس کو اسی وقت جاتے بھی دیکھ تھا
مجھے کیوں لگا رہا ہے وہ انس ہی تھا۔۔۔۔۔۔۔۔
پلیز سلال میں اس بارے میں کوئی بات نہیں کرنا چاہتی فلوقت سو پلیز سٹاپ دیس ٹاپک وہ اپنا روح گاڑی کے باہر موڑ کر بولی تھی
سلال بھی لب بیچے گاڑی چلانے لگا تھا
زرتاشہ خاموشی سے سب سن رہی تھی
سلال نے مسکراتے ہوئے زرتاشہ کے ہاتھ کو اپنے ہاتھ میں لے لیا تھا سلال کے ایسا کرنے سے زرتاشہ نے اس کی طرف دیکھ تھا جو مسکرا کر گاڑی چلا رہا تھا