Rate this Novel
Episode 4
شاہ جی یہ لے آپ کی فائل اس میں سب انفارمیشن موجود ہے وہ کہاں رہتی ہیں کتنی بہنیں ہیں سب انفارمیشن موجود ہے اس میں طالب انس کو فائل دیتے ہوئے بولا تھا
انس نے اس سے فائل لے کر اسے جانے کا اشارہ کیا وہ سر ہلاتے ہوئے سلام کرتا باہر چلا گیا
طالب انس کا خاص آدمی تھا وہ اس کے ساتھ بچپن سے تھا اس کی حفاظت سے لے کر اس کے ہر اچھے برے کام کا ساتھی تھا
اس وقت انس اپنے فلیٹ میں موجود تھا جو شہر سے تھوڑی دور تھا انس زیادہ تر وہی پایا جاتا تھا
اس کے ہاتھ میں حیا کی ساری انفارمیشن تھی جو اس نے طالب سے نکالنے کے لیے کہا تھا
وہ فائل کو مسکرا کر پڑھ رہا تھا پڑھنے کے بعد فائل کو ٹیبل پر پھینکتے ہوئے سگریٹ کو منہ میں دباتے ہوئے صوفے کی پشت پر سر کو رکھ کر خود کو پرسکون کرنے کی کوشش کرنے لگا
بہت جلد تمہیں پتہ چل جائے گا کہ تم نے کس سے پنگا لیا ہے
مجھ پر انس شاہ پر ہاتھ اُٹھنے کی کوشش کی مجھے پسند آیا تمہارا ایٹیٹیوڈ وہ مسکراتے ہوئے دوسرے ہاتھ کو اپنے سر کے بالوں پر پھیرتے ہوئے بولا تھا
پر تمہارا غرور اور اکڑ مجھے پسند نہیں آیا اسے تو میں توڑ کر رہوں گا انس شاہ جس کو توڑنے کے لیے آتا ہے اسے توڑ کر ہی رہتا ہے
اب تو تم انس شاہ کی زید بن چکی ہو اور انس شاہ اپنی ہر ذید پوری کر کے رہتا ہے
وہ سگریٹ کو نیچے گراتے ہوئے پاؤں سے مسل کر مسکراتے ہوئے آنکھوں کو پھر سے بند کر گیا تھا
❤️❤️❤️❤️
ماما مجھے آپ سے اجازت چاہیے تھی فریحہ ڈائنگ ٹیبل پر بیٹھی سب کے ساتھ ناشتہ کرتے ہوئے نورین سے بولیں تھی
ماما میں پری کے ساتھ چلی جاؤں شاپنگ پر فریحہ بہت مشکل سے یہ بات بولی تھی… اور پھر اپنے لب کاٹنے لگی
سب نے حیرت سے فریحہ کو دیکھ تھا حیا کے لب فریحہ کو دیکھ کر مسکرائے تھے پر وہ جلد ہی اپنی مسکراہٹ چھپا گئی تھی
ہاں ٹھیک ہے چلیں جانا پر جلدی ہی واپسی ہونی چاہیے تمہاری
چلو جلدی سے سب ناشتہ کرو اور باہر آ جاؤ میں انتظار کر رہیں ہوں آپ تینوں کا
تم بھی حیا جلدی سے کرو اور ٹائم سے اپنی یونیورسٹی پہنچوں
مجھے اپنی بیٹیوں پر پورا بھروسہ ہے
نورین نے فریحہ کو دیکھ جو اپنے لب کاٹ رہیں تھی اور تحمل سے بولتیں ہوئی اس کے سر پر ہاتھ رکھ کر ان تینوں کو باہر آنے کا بولا کر چلیں گیں
میں تو نکل رہیں ہوں تم تینوں بھی جلدی کرو حیا ان
کو بولتے ہوئے باہر نکل گئی
❤️❤️❤️❤️
بابا آپ نورین آنٹی سے شادی کرنا چاہتے ہیں سلال عادل سے ناشتہ کرتے ہوئے بولا تھا
عادل نے اس کی بات پر حیران ہوتے ہوئے دیکھ تھا سلال جو ان کی لائف کے بارے میں بات کرنا بھی پسند نہ کرتا تھا آج بہت تحمل سے سب پوچھتے ہوئے ان کو حیران کر گیا تھا
ہاں کر رہا ہوں میں ان سے شادی جب ان کا مثبت جواب آ گیا ہم شادی کر لیں گے عادل اسے غور سے دیکھتے ہوئے بولے تھے
ہمم ٹھیک ہے وہ پراسرا سا مسکرا یا تھا
مجھے خوشی ہوئی آپ کی شادی کا سن کر اور جلدی ہی آپ کا داماد بننا چاہیوں گا
بولتے ہوئے اپنی آدھی بات کو ذہین میں ہی سوچ کر مسکرا دیا تھا
عادل صاحب اس کی ہر ایک حرکت کو دیکھ رہیے تھے ان کو کچھ غلط ہونے کا احساس ہو رہا تھا پر پھر بھی وہ اسے بولے کچھ نہیں
میری شادی کے تو تم خلاف تھے اب کیوں وہ آئی برو اُٹھا کر بولے تھے کیونکہ وہ جانتے تھے ان کا بیٹا کو سیدھی چیز نہیں ہے کچھ تو پک رہا ہے اس کے ذہین میں
او پلیز کبھی تو مجھ معصوم پر شک کرنا چھوڑ دیا کریں بیٹا ہوں آپ کا آپ تو مجھے پتہ نہیں کیا سمجھتے ہیں
ہاں خوب سمجھتا ہوں میں تمہیں بھی اور تمہاری خرکتوں کو بھی وہ اسے جتاتے ہوئے بولتے اُٹھ کر باہر کے لیے نکل گئے تھے
ابھی تو آپ کو کچھ پتہ نہیں کے میں کیا کرنے والا ہوں وہ مسکراتے ہوئے سینڈوچ منہ میں ڈالتے ہوئے خود سے ہی بولا
❤️❤️❤️❤️❤️
یار پری تم نے بولا تھا ہم جلدی ہی ختم کر لیے گئے سب بس بھی کر دو یار تم تھکی نہیں ہو ابھی تک فریحہ بے زار ہوتے ہوئے بولی تھی
وہ دونوں کب سے شاپنگ مال میں گوم رہیں تھی ان کو ڈرائیور چھوڑ گیا تھا یہاں
پر پری کو کب سے ہی کوئی چیز بھی پسند نہیں آ رہیں تھی فریحہ پوری طرح سے تھک چکی تھی
میں نے یہ ڈریس پسند کیے ہے تم بتاؤ ان تینوں میں سے کون سا لو پری پورسوچ انداز میں ڈریسز کو دیکھتے ہوئے بولی تھی
جو بھی زیادہ پسند ہے وہ لے لو مجھے تو سب ایک ہی جیسے دیکھ رہیں ہیں میرے کپڑے تو ہمیشہ حیا ہی لیتیں ہے اسی لیے تو تمہیں بولا تھا مجھے لے کر جانے کو کوئی فائدہ نہیں
فریحہ چہرہ نیچے کیے بے زار سا بولتی اپنا سر دبا رہی تھی
یہ والا لے لو حاضر جو کب سےان دونوں کے پیچھے کھڑا ان کی باتیں سن رہا تھا پری سے بولا
لالہ آپ آ گیا پری خوشی سے پیچھے مڑا کر دیکھتی چیخی تھی
تم نے بلائے تھا تو میں کیسے نہ آتا وہ اسے پیار کرتے ہوئے بولا تھا اس کی نظر فریحہ کی طرف گئی تھی جو اسے
خیرانگی سے دیکھا رہی تھی اس کے اس طرح دیکھنے پر جلدی سے چہرہ دوسری طرف کر لیا
اوہ یہ پری کا بھائی ہے حیا کیا کر دیا تم نے ہمیشہ مجھے شرمندہ ہی کرونا تم وہ حاضر کو دیکھتے ہوئے دل میں حیا سے بولی تھی
پ پری تم اپنے لالہ کے ساتھ شاپنگ کر لو میں حیا کو کال کر کے اس کے ساتھ گھر چلیں جاؤں گی
فریحہ شرمندہ ہوتے ہوئے اپنا بیگ اُٹھائے پریوش سے بولی تھی
کیا مطلب ہے یار تم میرے ساتھ ہی جاؤں گی بس یہ دیکھو یہ ڈریسز پسند کر لیے ہے میں نے اب ہمارا کام ختم باقی تو سب آگے ہی لے چکے ہیں
لالہ آپ اب ہمیں کھانا کھالا دیں بس پھر ہم فریحہ کے گھر جائیں گے اور اس کی ماما سے اجازت لیں گے تبریز لالہ کی شادی پر جانے کے لئے ہے نہ فری پری اس کا ہاتھ پکڑ کر بولی
مجھے کھانا نہیں کھانا تم بس مجھے گھر چھوڑ دو ماما ویٹ کر رہیں ہوں گی وہ اپنا چہرا نیچے کیے لب چباتے ہوئے بولی تھی
چلو پری تمہاری دوست کو پہلے چھوڑ دیتے ہیں شاید یہ ہمارے ساتھ کھانا نہیں چاہتی اسی لئے انہوں کو پہلے گھر چھوڑ آئیں حاضر پیمنٹ کرتے ہوئے فریحہ کی بات سنتا ہوا سحت تیور سے بولا تھا
نہیں ایسی تو کوئی بات نہیں فریحہ اس کی بات پر اپنا چہرا اوپر کر کے حاضر سے بولی تھی جو اب بے زار سا اپنے موبائل فون میں مگن تھا
تو پھر نکہرے کس بات پر ہیں وہ آئی برو اُٹھ کر بولا
پری مجھے گھر چھوڑ دو گی یا حیا کو کال کر لو فریحہ حاضر کی بات پر غصے سے جلدی سے پری سے بولی تھی اسے حاضر کی نکہرے کرنے والی بات بُری لگی تھی
نہیں نہیں پلیز تم غصہ مت کرو ہم چھوڑ دیں گے لالہ تو بس ویسے ہی پری نے فریحہ کو غصے میں دیکھ کر جلدی
سے بات کو سنبھالا تھا
ٹھیک ہے میں جا رہیں ہوں تم آجاؤ فریحہ جلدی سے بول کر باہر نکل گئی تھی
اف میرے خدایا لالہ کیا ہو گیا ہے آپ کو آپ ایسے تو نہیں کرتے آگے ہی اتنی مشکل سے لے کر آئی تھی میں اسے اور آپ نے کیا کر دیا اب جلد ی چلیں کہی وہ اکیلا ہی نہ نکل جائے
پری اسے غصے سے سناتے ہوئے باہر فریحہ کی طرف بھاگی تھی
ہم بہت نکہرے ہیں میڈم کے پر مجھے بھی سیدھا کرنا آتا ہے سب کو وہ لفظوں کو چبا چبا کر بولتا شپکیپر سے کپڑوں والے بیگ لیتا باہر نکل گیا
❤️❤️❤️❤️
آج ہو گئی نہ دیر تمہیں حیا دیکھنا کلاس شروع ہو گئی ہو گی اور سر سے آج تو پکا بےعزتی ہے
وہ خود سے بولتے ہوئے جلدی جلدی کلاس کی طرف جا رہی تھی
سر میں آ جاؤں کلاس میں داخل ہوتے ہوئے سر سے بولتی ہوئی ان کی اجازت ملتے ہی اپنے لیے بیٹھنے کی جگہ تلاش کرنے لگی
کیونکہ آج زوحا کے ساتھ رابعہ بیٹھے چکی تھی
ہالی جگہ ملتے ہی جلدی سے وہاں بیٹھ گئیں
یہ لے لو وہ بیٹھی سر کے بتائے ہوئے نوٹس لکھ رہی تھی کہ اپنے ساتھ بیٹھے امن کو پن دینے لگی جو کب سے اپنے پینسل کو چلانے کی کوشش کر رہا تھا
شکریہ امن نے مسکراتے ہوئے اس سے پنسل لے لی اور پھر دونوں اپنا کام کرنے لگے
دور بیٹھے انس نے ان دونوں کو مسکراتے دیکھ کر اپنی مٹھیوں کو زور سے بیچا تھا اس کی آنکھوں میں آگ جلانے لگی تھی سب کچھ تباہ کر کے رکھ دینے کی آگ
بہت ہی کوئی بے وفا ہو تم ایک دن ایک دن کیا میں لیٹ ہو گئی تم نے میری جگہ تک کسی دوسرے کو دے دی میں ناراض ہوں تم سے لیکچر ختم ہونے کے بعد حیا اُٹھ کر زوحا کے پاس گئی تھی اور اسے بولتے ہوئے چہرے دوسری طرف کر گئی
اوہ ہیلو میڈم یہ تمہارا ایک دن نہیں ہے روز کا کام ہے تمہارا پلیز ڈرامے مت کیا کرو تمہاری ایکٹینگ زرا بھی اچھی نہیں ہے زوحا اس کا چہرہ اپنی طرف کرتے ہوئے بولی تھی
زوحا مجھے تم سے یہ امید نہیں تھی وہ منہ بناتے ہوئے بولتی اس کے سامنے بیٹھ گئی تھی
ہاہاہا اور مجھے تو تم سے کوئی امید ہے ہی نہیں زوحا نے بھی اس کے جواب میں جواب دیا
یہ لے آپ کی پنسل امن اسے مسکرا کر اسکی پنسل دیتے ہوئے بولا تھا
ایٹس اوکے بڈی تمہیں ضرورت ہے تو تم رکھ سکتے ہو حیا نے اسے مسکر کر اسے جواب دیا تھا
شکریہ وہ بولتے ہوئے پنسل کو اپنے پکٹ میں رکھنے لگا تھا کہ
یہ کیا کر دیا تم نے
انس نے اس سے پنسل لے کر اُٹھا کر باہر پھینک دی
دور رہو ہر ایک اس انسان سے جس سے میں نہیں چاہتا کہ تم ملو وہ حیا کی آنکھوں میں اپنی سرخی مائل آنکھوں ڈالتے ہوئے بولا
میں پابند نہیں ہوں تمہاری کے جیسے تم بولو گے ویسا میں کروں گی حیا بے خوف لہجے سے اسے جتاتے ہوئے بولی تھی
تو ہو جاؤ گی بہت جلد وہ اس کے کان کے قریب جھک کر بولتے ہوئے مسکراہٹ اُچھل کر باہر نکل گیا
دوسری طرف کھڑی آنیہ رائمہ اور امن انس کے روئیے سے خیران ہوئے تھے وہ انس جو کیسی لڑکی کو بلائے نہ حیا کے ساتھ اس طرح کرتا ان کو خیران کر گیا تھا
حیا غصے سے سرخ چہرے لیے اسے جاتے ہوئے دیکھ رہی تھی
دفع کرو یار چلو ہم لائبریری چلیں زوحا حیا کا ہاتھ پکڑ کر بولی تھی
کیا کیا بولا تم نے حیا حیران ہوتے ہوئے اس کی طرف دیکھنے لگی
اوہ ماں آج تو سب مجھے خیران کر رہیں ہیں حیا زوحا کے بولنے پر قہقہہ لگاتے ہوئے بولی تھی
دفع ہو جاؤ حیا تم اس لائق ہی نہیں ہو کے تمہارے ساتھ ہمدردی کی جائے زوحا اس کے قہقہہ لگانے پر اس کا ہاتھ جھٹکتے ہوئے بولیتی باہر نکل گئی
ہاہاہاہاہا سوری یار مجھے جھٹکا لگا تم کیفے جانے کی بجائے لائبریری جانے کا بولا واللہ آج سب مجھے ہارٹاٹیک کروا کر رہیں گے
وہ زوحا کے پیچھے بھاگتے ہوئے بولتی ہنس رہی تھی
امن اسے دیکھتے ہوئے مسکرایا تھا
تم کیوں اسے دیکھ کر اتنا مسکرا رہیے ہو واجب اسے مسکراتے دیکھا کر بولا
کچھ نہیں اس کی بات پر مسکرا رہا ہوں
امن شاہ کے دل کو لگی ہے یہ لڑکی امن اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر بولا تھا
واہ ہو تم دونوں بھائی اس کے پیچھے پاگل کیوں ہو رہیے ہو امن
انس کسی لڑکی کے پیچھے پاگل نہیں ہوتا لڑکیاں اس کے پیچھے پاگل ہوتیں ہیں
میرا تم کہ سکتے ہو مجھے لگ رہا ہے میں اس کے پیچھے پاگل ہو رہا ہوں امن اس کے کندھے پر ہاتھ مارتے ہوئے بولا تھا
تو دونوں ہنستے ہوئے وہاں سے نکل گیے تھے
❤️❤️❤️❤️
لالہ اب یہاں کیوں روک دی آپ نے گاڑی فریحہ کو گھر چھوڑ کر آنا تھا نہ ہم نے حاضر کے گاڑی روکنے
پری ہم لینچ کر لیں پھر ہم آپ کی دوست کو بھی چھوڑ دیں گے حاضر نے گاڑی کو روکتے ہوئے بول پری سے رہا تھا پر نظریں بیک میرر سے فریحہ کی طرف تھیں
جو اس کے گاڑی روکنے پر بدمزا ہوئی تھی اور بےزاری سے گاڑی سے نکل گئی تھی
پری آئندہ میں تمہارے ساتھ کبھی بھی نہیں آؤں گی تم نے اپنے بھائی کو کیوں بلایا وہ پری سے آہستہ آہستہ باتیں کرتے ہوئے بولا رہیں تھی
پلیز ناراض تو مت ہو لالہ نے پے منٹ کرنی تھی نہ اسی لیے وہ معصومیت سے بولتی فریحہ کو ہنسنے پر مجبور کر گئی تھی
اتنی معصوم کیوں ہو تم پری وہ اس کے گال کہنچتے ہوئے بولی تھی
ہممم حاضر کب پیچھے کھڑا ان دونوں کی باتیں سن رہا تھا خود کو گنوار ہوتا دیکھ کر اس نے پیچھے سے ہنکر بری تھی
چلیں لالہ پری فریحہ کی بات پر شرماتے ہوئے حاضر کی ہنکر پر جلدی سے بولتی اسے آگے کرتی دونوں اس کے پیچھے ہوٹل میں داخل ہو گئیں تھیں
کیا کھاؤں گی فریحہ تم پری مینوں کاڑد پڑھتے ہوئے فریحہ سے بولی تھی جو بےدلچسپی سے ادھر اُدھر دیکھتی اپنے ہاتھوں سے کھیل رہیں تھی
کچ کچھ بھی جو تم کھاؤ گی کھا لو گی میں بھی وہ اسے جواب دیتے ہوئے پھر سے اپنے ہاتھوں سے کھیلنے لگ گئی تھی وہ حاضر کی نظروں کو خود پر محسوس کر رہیں تھی
جو مینوں کاڑد کو کم فریحہ کو زیادہ دیکھا رہا تھا فریحہ کا بس چلتا تو وہ یہاں سے بھاگ جاتیں پر پری کے لیے مجبور تھی
لالہ ہمارے لیے یہ یہ منگوا دیں پری کے بولنے پر حاضر نے آڈر دیا جو کچھ دیر بعد ویٹر ٹیبل پر لگا کر جا چکا تھا
فریحہ نے اپنی پلیٹ میں تھوڑے سے چاول ڈالے اور کھا کم رہیں تھی ان کے ساتھ کھیل زیادہ رہی تھی حاضر اس کی ہر ایک ایک خرکت کو غور سے دیکھا رہا تھا جو اسے شاید خود سے بھی بےزار سی لگ رہی تھی
فری یار کچھ کھاؤں تو پری کو کب سے انہیں چاولوں کے ساتھ کھیلتے دیکھ کر پری بولی تھی
پری بہت دیر ہو چکی ہے اب چلتیں ہیں ماما ناراض ہو جائیں گی ورنہ فریحہ پریشانی سے بولی تھی
تم دونوں چلو میں بل پے کر کے آ رہا ہوں حاضر اسے انکمفرٹیبل دیکھا کر بولا تھا
پھر پری اور وہ اسے اس کے گھر چھوڑ کر آئیے تھے پری نے اندر جا کر نورین کو فریحہ کو شادی پر لے کر جانے کے لیے منا لیا تھا
اور اب وہ گاڑی میں بیٹھی ہوئی حاضر کے کان کھا رہیں تھی
پری تمہاری دوست کیا تمہارے لیے بہت اہمیت رکھتی ہے حاضر اسے فریحہ نامہ سنتے ہوئے بولا تھا
جی بھائی بہت اہم ہے میرے دل کرتا ہے اسے اپنے پاس ہی رکھ لو پری بچوں سی معصومیت لیے بولی تھی
تو ٹھیک ہے رکھ لیتے ہیں اسے اپنے پاس حاضر آنکھوں میں اس کا چہرہ لیے بولا تھا
پر کیسے رکھیں گے اس کی ماما نہیں مانے گی اور فریحہ تو خود بھی کبھی نہ رہیے ہمارے پاس
ہاہاہاہا مائی کیوٹ پری تم نہیں سمجھو گی….. پر بہت جلد تم کو پریکٹیکل کر کے بتاؤں گا کیسے رکھنا ہے اسے اپنے پاس وہ معنی حیزی سے بولا تھا
پر وہ بھی پری تھی وہ سیدھی بات نہیں سمجھ پاتی تھی تو یہ کیسے سمجھ جاتیں
❤️❤️❤️❤️❤️
کیا مصیبت گلے پڑھ گئی تھی فریحہ روم میں آ کر اونچی اونچی آواز میں بول رہی تھی
کیوں میڈم کون سی مصیبت گلے پڑھ گی ہے تمہارے حیا جو فریحہ کے بیڈ پر لیٹی اس کا انتظار کر رہی تھی اس کی آواز سن کر بولی
ت تم تم میرے روم میں کیا کر رہی ہو اس وقت فریحہ آئی برو اُٹھ کر بولتی اس کے ساتھ بیڈ پر گرنے کے انداز میں بیٹھ گئی تھی
کچھ نہیں تم سے بات کرنے کے لیے آئی تھی ایک ضروری بات ہے حیا لیٹے لیٹے ہی ناہنوں کے ساتھ کھیلتے ہوئے بولی تھی
کیا بات ہے جو اتنی ضروری ہے کہ تم میرے روم میں آئی وہ تم پر زور دیتے ہوئے بولی تھی
ہاں ضروری بات تھی ورنہ میں تمہارے روم میں کیوں آنے لگی وہ اُٹھتے ہو فریحہ کے پاس آئی تھی
فریحہ آج جب میں یونیورسٹی تھی تو عادل انکل کی کال آئی تھی حیا نے فریحہ کے چہرے پر سوال پڑھ کر بولنا شروع کیا
کیا مطلب مطلب کیوں آئی تھی کال فریحہ حیران ہوتے ہوئے بولی تھی
وہ ملنا چاہیے ہیں ہم دونوں سے پر وہ چاہتے ہیں ہم ماما کو نہ بتایئں کچھ بھی کے ہم ان سے ملنے جا رہیں ہیں
پر ایسا کیوں ہے کیوں نہ ماما کو بتائیں ہم کوئی خاص وجہ
یہ تو مجھے بھی نہیں معلوم یار انہوں نے ڈریس سینڈ کیا ہے کال جائیں گے ہم اسی لئے تم ماما کو بولنا کل میں تم کو اپنے ساتھ لے کر جاؤں گی
پر یار ماما کو بتایا بنا جانا مناسب ہو گا فریحہ پرسوچ ہو کر بولی تھی
فریحہ مجھے لگتا ہے جیسے یہ بات ماما کے بارے میں ہی ہے اسی لئے ہمیں جانا چاہئے ہو سکتا جیسا میں سوچ رہی ہوں ویسے ہی ہو حیا مسکراتے ہوئے اسے کندھوں سے پکڑا کر بولی تھی
اور تم کیا سوچ رہیں ہو…… نہ کرو حیا مجھے نہیں لگتا ایسی کوئی بات ہو گی فریحہ نہ میں سر ہلاتے ہوئے بولی تھی
میری جان اگر یہ بات ہوئی جو میں سوچ رہیں ہوں تو میں تو اسی وقت ہاں کردوں گی اماں کا رشتہ پکا کر کے آؤں گی میں وہ ناچتے ہوئے بولی تھی
توبہ کروں حیا اماں جانی سے جوتے کھاؤں گی تم. کوئی بکواس کام نہ کرنا جس سے تمہارے ساتھ مجھے بھی جوتے پڑھے فریحہ اس کی بات پر مسکرا دی تھی پر پھر بھی اندر سے ڈر رہی تھی
نورین کے ریکشین سے
فریحہ دعا کرو ہماری اماں جانی کی دنیا میں بھی خوشیاں آجائیں حیا اسے دیکھ کر مسکرائی تھی
اور پھر ہم تمہاری شادی کریں گے اور تمہاری شادی کر کے ہمارے گھر میں سکون ہو جائے گا
حیا اسے تنگ کرتے ہوئے بولی تھی
دفع ہو جاؤ حیا وہ اس کی بات پر اسے اپنے کمرے سے باہر نکلتے ہوئے بولتی اپنے روم کا دروازہ بند کر گئی تھی
شادی کے نام پر فریحہ کے سامنے کسی کا مسکرتا ہوا چہرہ آیا تھا اور وہی اس کی ایک بیٹ مس ہوئی تھی
یہ یہ میں کیا سوچ رہیں ہوں نہیں ایسا کبھی نہیں ہو سکتا وہ کہا اور میں کہا سوچتے ہوئے اس کی آنکھیں سے ایک آنسو گرا تھا اور وہ آنکھوں میں نمی لیے مسکرا دی تھی
ہم جیسوں کا کوئی نہیں ہوتا جن کا باپ چھوڑ گیا ہو انہوں کو ان کو کوئی دوسرا کیوں اپنائے گا وہ بے دردی سے اپنی آنکھوں میں آئی نمی صاف کرتے ہوئے بولی تھی
ضروری نہیں ہوتا جو ہم سوچیں وہی ہو اللہ ہماری تقدیر بہتر لکھنے والا ہے
