Rate this Novel
Episode 1
پلیز مجھے جانے دو میں نے کیا کیا ہے تمھارا اس کے دونوں ہاتھ بیڈ کے ساتھ بندھے ہوئے تھے اور وہ روتے ہوئے چلا رہی تھی
ہاہاہاہاہ ہاہاہاہاہ آف تم چیز ہی ایسی ہو کہ میرا دل آ گیا ہے تم پہ وہ آنکھوں میں خباثت لیے بولا تھا اور ہاتھ میں پکڑے حرام مشروب کو پیتے ہوئے قہقہہ ہوا میں چھوڑا تھا
سوچا تھا آج کی ڈیل میں تم کو آگے بھچ دوں گا پر کیا کرو وکی کا دل آ گیا ہے تم پر وہ اس کے چہرے پر اپنی انگلی پھیرتے ہوئے بولا
نہیں نہیں پلیز جانے دو مجھے میری ماما میرے ویٹ کر رہیں ہو گئے
آف اتنی قیامت چیز کو کون چھوڑ دے چھوئے بنا وہ اس پر جھکنے لگا تھا کے پیچھے سے اس کسی نے پکڑ کر نیچے گرا دیا اور اس کے ہاتھ پر گولیاں ماری اور دوسری طرف اس کے ساتھیوں میں سے ایک لڑکی آگے بڑھ کر اس لڑکی کی ریسوں کو کھولا تھا
وہ ڈر کے مارے اس کے پیچھے چھپ گئی تھی
پلیز مجھے گھر جانے دیں مجھے میری ماما کے پاس جانا ہے
وہ چھوٹی سی لڑکی تھی جو ان سے ڈر کے چھپ
رہی تھی جو اس کے محسن تھے
اُٹھاؤ اس حرام خور کو وہ اپنے ساتھیوں سے بولا تھا اور آفسر آپ ان سے پوچھ کر ان کو ان کے گھر تک پہنچانے کا انتظام کریں وہ ڈری ہوئی معصوم صورت لیے کسی کے بھی دل میں اترنے کی کشش رکھتی تھی اور وہ اسے بہت دلچسپی سے دیکھ رہا تھا بالکل پاک حسن تھا اسکا
اس کو گھر کیوں نہیں چھوڑا کر آئے تم لوگ وہ اسے ادھر ہی روتے ہوئے دیکھ کر بولا تھا
سر ان کو اگزامینر کیے بنا نہیں جانے دیا جائے گا یہ یہاں کا رول ہے ہم کچھ نہیں کر سکتے یہ اب ہمارے ہاتھ میں نہیں ہے یہ اس ملک کا قانون ہے
اور اگزامینر سے اس بچی کا کیا ہو گا ہم اس سے آگے ہی پریشان ہیں
تو اس کے علاوہ کوئی حل وہ ان سے بولا
جی ایک ہے اگر ان سے ہم بولیں کہ یہ ہم میں سے کسی کی بہن یا بیوی ہے تو پھر وہ بھی ثبوت کے ساتھ
کیا کیا بکواس ہے یہ اب اسے تو یہاں سے بھجوانا ہے پر کیا کیا جائے
سر برا نہ مانیں تو آپ کر لے نکاح ہم دونوں تو آگے ہی شادی والے ہیں
وقتی طور پر ہی سر اس کے آنکھیں نکالنے پر وہ گھبرا کر بولا
ہم اور کچھ ہی دیر میں وہ اس کی بیوی بن چکی تھی اور اسے گھر پہنچایا جا چکا تھا
❤️❤️❤️❤️
حیاء کی بچی کہا ہو تم ہماری بڑی بہن ہونے کا فرض بھی ادا کر لیا کرو کبھی فریحہ کچن میں کھڑی کھانا بناتے ہوئے بول رہی تھی
جی حضور خادم کو یاد کیا خادم حاظر ہو گیا حیاء فریحہ کے آگے جھکتے ہوئے بولی
آ آ آ آئی کیا کرتی ہو یار آئی اماں میں مر گئی فریحہ کی بچی میں تمہارا خون پی جاوں گی میری کمر توڑ دی تم نے زار بھی شرم ہو جو تم میں بڑی بہن ہوں میں تمہاری
ہاں تو بڑی بہن ہونے کا فریضہ بھی انسان کو ادا کرنا چاہیے فریحہ ہاتھ نچاکر بولی
ک ک کیا مسئلہ ہے نہیں بنتا یار یہ کھانا مجھ سے اللّه کی پناہ معاف ہی رکھو مجھے
تو برتن ہی دھو دو یار فریحہ بے چارگی سے بولی یار کیا مصیبت ہے بڑی بہن ہوں تمہاری کل کو دوسرے گھر چلے جانا ہے میں نے میری قدر کر میری خدمات کیا کرو نہ کے مجھے سے کام لیا کرو
اف میرے خدا اس لڑکی کے ڈرامے مجھے لگتا ہے میں بڑی ہوں اور یہ چھوٹی ہے تم کو ایسا شوہر ملے جو تم سے خوب سے کام کروائے اور تمہاری پٹائی بھی کرے فریحہ مزاق میں اس سے بولی تھی
پر کبھی کبھی مزاق میں کی ہوئی بات بھی سچ ہو جاتی ہے
نہ بابا نہ میں تو ایک امیر سا بندہ سیٹ کرو گی اور پھر اس سے شادی اور پھر سب سیٹ نوکر ہوں گے ہر طرف اف مزا ہی آ جائے گا حیاء مزے لے کر بول رہی تھی
آ ہی نہ جائے تم کو کہی مزا
وہ دونوں ایسے ہی آپس میں لڑتی تھیں اور پھر سے ایک ہو جاتی تھیں
وہ چاروں ایک دوسرے کے بنا نہیں رہ سکتی تھی ان تینوں کی ایک دوسرے میں جان بستی تھی
تب ہی ان کو زویا آتی دکھائی دی
زویا بچے ادھر آؤ دیکھو تمہاری فری آپی مجھے کھا جائے گی کچا
آپی میں تھک گئی ہوں سونے لگی ہوں وہ سکول سے ابھی آئی تھی اسی لیے تھکے لہجے میں بولتی ہوئی وہاں سے چلی گئی
یہ میڈم تھک گئی ہے اور دوسری زرتاشہ بیگم سوئی پڑھی ہوئی ہے حیاء بولی تھی
اسے کیا ہوا کھانا بھی نہیں کھایا فریحہ پریشانی سے بولی
سکول میں کچھ کھا لیا ہو گا حیاء بولی تو فریحہ نے بھی ہاں میں سر ہلائے اور پھر وہ دونوں لڑ کر اب مل کر کام کر رہیں تھیں
❤️❤️❤️❤️❤️
نورین شاہ اور عاقب شاہ دونوں نے پسند کی شادی کی تھی نورین شاہ تو اپنی نانی کے پاس رہتی تھی اسی لئے اس کی مامیوں نے اس سے جان چھڑوانے کے لئے عاقب شاہ کے کہنے پر رخصت کر دیا تھا بنا نورین سے پوچھے
نورین بہت خوبصورت اور خوب سیرت تھی ایک کمی تھی تو وہ تھی پیسے کی اسی لئے ان کی مامیوں کو امیر گھرانوں کی لڑکیوں کی ضرورت تھی اور ان کے بیٹوں کے دل آرہے تھے اس پر اسی لیے انہوں نے اسے جلدی ہی عاقب شاہ کے ساتھ رخصت کر دیا خس کم جہاں پاک کی طرح
اور عاقب شاہ کو اس کے گھر والوں نے پسند کی شادی پر گھر سے نکال دیا تھا
وہ نورین کو ایک علیحدہ فلیٹ میں لے کر آ گیا تھا پہلے پہل تو سب ٹھیک تھا پر جب اس کے ہاں پہلی بیٹی کی پیدائش ہوئی تو اس نے غصے سے نورین کو بولنا چھوڑ دیا اور پھر دوسری بیٹی کے پیدائش پر وہ اسے مارتا بھی تھا اور پیسے نہ ہونے کی وجہ سے اس کے ساتھ انتہائی بد تر سلوک کرتا
پر وہ صبر سے سب برداشت کر لیتی اپنی بیٹیوں کے لیے
حیا اپنی ماں کو دیکھ کر چپ کر روتی اور فریحہ کو ایسی جگہ چھپا دیتی جس سے اس تک اپنی ماں کی سسکیوں کی آواز نہ پہنچے
حیاء یہ سب دیکھ کر اپنی ماں کے گلے لگ کر روتی تو اس کی ماں بھی پھوٹ پھوٹ کر رو دیتی
تب حیاء نے خود سے فیصلہ لیا اور خود پر ہر وقت ہنسنے اور مسکراتے رہنے کا ایک چہرا لگا لیا جب اس کی ماں دکھی ہوتی تو وہ ان کو اپنی شرارتوں سے ہنساتی اور تب سے وہ ایسی بن گئی تھی
پھر جب زویا اور زرتاشہ کا پتہ چلا عاقب شاہ کو تو وہ ایک دن گھر سے نکلے تو واپسی کی راہ کبھی نہ لی
نورین نے اکیلے اپنی چاروں بیٹیوں کی پروریش کی ان کی کوششوں سے ان نے لندن کا ویزہ اپلائی کیا اور پھر اپنی بیٹیوں کے ساتھ وہاں جا کر بس گئیں
وہ چارو ایک دوسرے کو مکمل کرتی تھیں
حیاء یونیورسٹی کی سٹوڈنٹ تھی اور فریحہ کالج کی اور زویا اور زری کے سکول کا آخری سال تھا اور ان کی ماں نے لندن آ کر خود بھی پڑھائی کی تھی اور اب وہاں ایک پاکستانی کمپنی میں جاب کرتی تھیں اور اب ان کا ٹرانسفر پاکستان ہو گیا تھا اسی لیے وہ سب اب وہاں شفٹ ہو رہے تھے
❤️❤️❤️❤️
ماما پلیز سنبھال لیں خود کو ہم آپ کے ساتھ ہیں حیاء اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر اسے تسلی دیتے ہوئے بولی
انہوں نے پاکستان میں قدم رکھا تھا اور یہاں ان کی بہت سی بری یادیں تھی پر اپنے ملک کی مٹی سے بڑھ کر تو کچھ نہیں ہے
وہ اپنی آنکھوں کی نمی کو صاف کر کے ان کو لینے آئی گاڑی میں بیٹھ گئیں تھیں اور پھر گاڑی ایک بہت خوبصورت سے علاقے میں روکی اور وہ سب باہر آئی گھر کے اند داخل ہوئے
ماما گھر تو کافی خوبصورت ہے فریحہ بولی
واو یہاں تو سب کو اپنا اپنا روم ملے گا حیاء خوشی سے چہکی تھی
ماما میں تو آپ کے ساتھ ہی رہو گی زویا بولی تھی زری نے بھی زویا کی ہاں میں ہاں ملائی
ٹھیک ہے اب سب جاو فریش ہو لو ابھی بہت سے کام ہیں تم لوگوں کے ٹرانسفرز بھی ہو چکے ہیں اور پرسوں سے سب نے جانا ہے اور پڑھائی پر فوکس کرنا ہے اوکے یہ دو دن ہیں بس آرام کے اس کے بعد تم لوگ سمجھ گئے ہو گے میری باتیں
جی ماما تینوں اکٹھی بولیں تھیں اور پھر وہ سب مسکرا دی تھیں اور اپنے اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئی تھیں
نورین ان کو مسکراتے دیکھا کر ان کے لیے دل سے دعا کی تھی
❤️❤️❤️❤️❤️
اچھا گھر ہے حیاء بیڈ پر لیٹتے ہوئے خود سے بولی تھی اور آنکھیں بند کر لی تھیں آنسو اس کی آنکھوں سے نکل رہیے تھے
سب کے سامنے مسکرانے والی حیاء اکیلے میں ایسے ہی روتی تھی اپنی ماں کی اذیت یاد کر کے جو ہمیشہ اسکا اپنا باپ دیتا رہا تھا آج پھر اسکے زہم تازہ ہو گئے تھے
حیاء کہاں ہو تم فریحہ کی آواز پر جلدی سے آنسو صاف کیے
یار وہ مجھے۔۔۔۔۔۔۔۔ کیا ہوا ہے حیاء تم روئی ہو اس نے جب بات کرتے کرتے حیاء کا چہرا دیکھا تو اسکی ناک جو ہمیشہ سرخ ہو جاتی تھی رونے سے دیکھ کر پوچھا
نہیں تو میں کیوں رونا ہے وہ اسے بولتے ہوئے جلدی سے واشروم میں بند ہو گئی
فریحہ خاموش ہو گئی تھی وہ جانتی تھی کہ یہ ہمیشہ ہوتا ہے پر وہ کسی پر ظاہر نہیں کرتی اور فریحہ بھی ان یادوں کو دل سے نکل نہیں پاتی تھی وہ بچی نہیں تھی جو کچھ سمجھ نہ پاتی وہ بھی سب سمجھتی تھی اپنے باپ کی ہر بات کو
❤️❤️❤️❤️❤️
بڑی بی بی حاضر سائیں آ گئے ہیں نوری دوڑتی ہوئی بڑی بی کے پاس آئی تھی
میرا پترا آ گیا ہے نوری نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو حاظر شاہ پیچھے کھڑا تھا
لمبا چھوڑا خوبصورت مغرور ناک سفید سلوار سوٹ کے اوپر کلی چادر کندھوں پر وہ جب بھی گاؤں آتا تھا ہمیشہ ہی شلوار قمیض میں ہوتا تھا
وہ اس گھر کے سب سے بڑے بیٹے اکبر شاہ کا بڑا بیٹا حاضر شاہ تھا غصے کا تیز اور اپنی انا کا ملک جو چیز چاہتا وہ حاصل کر لیتا پر بڑی بی کا لاڈلا اور اپنی ماں اور باپ کی آنکھوں کا تارا اور دادا شاہ کا غرور تھا وہ
دادا شاہ اس کی کسی بات سے منع نہیں کرتے تھے آخر کو وہ اس گھر کا سب سے بڑا چشم وچراغ تھا
بڑی بی سے ملنے کے بعد دوپہر کا وقت ہو رہا تھا اسی لیے سب نے مل کر کھانا کھایا
انس تمہاری پڑھائی کیسی جا رہی ہے حاضر نے انس سے پوچھا تھا جو کے اس کے چھوٹے چچا کا بڑا بیٹا تھا علیشان شاہ کا بڑا بیٹا انس شاہ خود کی طرخ نایاب اور خوبصورت اور غرور تو ان کا خاندانی تھا کسی کو بھی اپنی جوتے کی نوک پر نہ رکھتا
اچھی جا رہی ہے بھائی وہ مسکرا کر بولا تھا
اور تمہارا کالج کیسا جارہا ہے پری بیٹا پریوش حاظر کی بہن اپنے نام کی طرح پری تھی وہ بھی اور اب کالج کی سٹوڈنٹ تھی وہ بھی سنجیدہ طبیعت کی مالک تھی پر غرور نہیں تھا اس میں
اس گھر میں دادا شاہ جن کا نام اکرم شاہ اور ان کی بیوی جن کو سب بڑی بی بولتے تھے ان کے چار بچے تھے بڑا اکبر شاہ اور اس کی بیوی حنا شاہ اور دو بچے حاضر شاہ اور تبریز شاہ اور پریوش شاہ
حاضر شاہ گھر کا بڑا بیٹا تھا اس لیے سب اس سے ڈرتے تھے
اور دوسرا بیٹا حسین شاہ اور ان کی بیوی آمنہ شاہ تھی اور ان کا بیٹا احد شاہ اور امن شاہ تھے اور بیٹی زینی
اور تیسرا بیٹا علیشان شاہ اور بیوی علیشہ شاہ اور بڑا بیٹا انس اور بیٹی خبہ شاہ
اور آخری بیٹا عاقب شاہ جس کا صرف ایک بیٹا عالی بھی ہوبہو حاضر شاہ کی طرح تھا اور اس کی سب سے زیادہ بنتی بھی اسی سے تھی شاہ اور بیٹی آنیہ شاہ تھی
یہ تھے شاہ ہاؤس کے لوگ مکمل اور خوشحالی تھی ان کے پاس غرور تھا ان کی رگوں میں پر اسی شاہ ہاؤس کی اولاد کہی اور بھی پل رہی تھی ان کی سفاکی تھی کہ ان کو سڑکوں پر چھوڑ دیا تھا مرنے کے لیے پر اللہ سبحان تعالیٰ بڑا مہربان ہے اور اللہ نے ان کی حفاظت کی تھی اور اب دادا شاہ خود ان کو لے کر آنے والے تھے اس گھر میں بہت جلدی ہی جس سے ان کے گھر کے لوگوں کے غرورر بھی ٹوٹنے والے تھے
❤️❤️❤️❤️
باجی اُٹھ جاو یونیورسٹی کا ٹائم ہو گیا ہے فریحہ حیاء کو اُٹھاتے ہوئے بول رہی تھی حیاء کو باجی لفظ سے چڑ تھی اسی لیے جب بھی فریحہ نے اسے تنگ کرنا ہوتا تھا اسے باجی بول دیتی تھی
پلیز یار سونے دوں کل چلیں جائیں گے آج دل نہیں ہے وہ نیند سے بے حال ہوتی بول رہی تھی
تمہیں جانا ہے کل تو کل ہی چلی جانا پر پلیز ہمیں چھوڑ آؤ وہ اسکے چہرے سے کمبل کھینچتے ہوئے بولی تھی
ماما کو بول دو نہ میرا دل نہیں ہے وہ پھر سے کمبل کو اوپر لے چکی تھی
آ آ آ حیاء حیاء وہ دیکھو فریحہ چیختے ہوئے بولی تھی
ک ک کیا ہے حیاء اس کے چیخنے سے اک دم ہربڑا کر اُٹھی تھی
چلو اب اُٹھ گئی ہو تو تیار ہو کر نیچے آجاو وہ کہتے ہوئے وہاں سے بھاگ چکی تھی
فری کی بچی میں تم کو چھوڑوں گی نہیں وہ غصے سے دانت پیس کر بولی تھی
پہلے پکڑ تو لو اس نے اپنا سر اس کے کمرے میں کر کے دوبارا بول کر زبان چڑاتی گم ہو گئی تھی
حیاء کو مجبوراً اُٹھنا ہی پڑھا اور فریش ہونے کے لیے اپنے کپڑے لے کر واشروم میں چلی گئی
❤️❤️❤️❤️
حیاء بیٹا تم دونوں کو اپنے ساتھ لے کر جاو گی زویا کو سکول چھوڑو گی اور اسے کالج اور خود بھی یونیورسٹی جانا ہے تم نے آج تو فریحہ گئی تھی تم کو اُٹھانے آئندہ تم خود سب سے پہلے یہاں موجود ہو گی
وہ اسے سمجھاتے ہوئے بولی تھیں
جی اماں جانی وہ مسکرا کر بولی تھی اور پھر چاروں نے ناشتہ کیا اور نکل گئیں تھیں
اللہ حفاظت میں رکھے تم چاروں کو وہ ان کو جاتے دیکھا کر دل میں بولی تھیں اور پھر خود بھی اپنی گاڑی لے کر نکل گئی تھیں
❤️❤️❤️❤️❤️
چلو آ گیا آپ کا کالج آپ پہلے تشریف لے کر جائیں حیاء کار کو اس کے کالج کے باہر روکتے ہوئے بولی تھی
اور پھر زویا اور زری کو چھوڑ کر خود بھی یونیورسٹی کے لئے نکل گئی تھی
اپنی گاڑی پارکنگ میں کھڑی کر کے اندرداحل ہوئی
او اب کلاسز کہاں ہو گی وہ منہ کو سیٹی کے سٹائل میں بناتے ہوئے بولی تھی
عام سے کرتا ٹراوزر میں گلے میں ڈوپٹہ لیے کندھے پر بیگ ڈالے آنکھوں پر نظر کا چشمہ اپنی کلاس کے بارے میں سوچ رہی تھی جیسے سوچنے سے کلاس مل جائے گی
اف سوچنے سے کلاس تھوڑی مل جائے گی کسی سے پوچھتی ہوں وہ خود سے ہی باتیں کرتی کوئی پاگل گمان ہو رہی تھی
ہیلو اکسکوزمی آپ بتا دیں گے ایم بی اے کی کلاسز کس ڈیپارٹمنٹ میں ہیں وہ ایک لڑکی سے بولی اور پھر اس کی بتائی جگہ کی طرف چلی گئی ڈھونڈتے ڈھونڈتے اسے اس کی کلاس مل ہی گئی تھی
کلاس میں دیکھا تو سر کھڑے تھے اس نے ان سے اجازت لے کر کلاس میں داخل ہوئی اور ایک لڑکی کے ساتھ جگہ خالی دیکھ کر بیٹھ گئی
باقی کلاس اسے دیکھ کر حیران ہوئی کیونکہ کلاسز مڈ ٹرمز میں تھی
ہیلو سٹوڈنٹ یہ ہیں ہماری کلاس کی نئی سٹوڈنٹ مس حیاء اور ان کا ٹرانسفر ہوا ہے یہاں
اوکے اب ہم کلاس شروع کرتے ہیں اس کا تعارف کروانے کے بعد کلاس میں لیکچر شروع ہو گیا اور وہ پوری طرح سے اس میں گم تھی
ہیلو میرا نام ہے زوحا پیار سے مجھے سب زوحی بولتے ہیں کلاس کے ختم ہونے کے بعد اسکے ساتھ والی لڑکی بولی تھی
اس نے بھی اس سے سلام لیا اور دونوں اپنی باتیں کرنے لگی
بس تم نہ ان شاہ لوگوں سے بچ کر رہنا باقی کوئی مسئلہ نہیں
کیوں یہ شاہ لوگ بندے کھاتے ہیں وہ مسکراتے ہوئے شررات سے بولی تھی
مت پوچھو بندے کھانے سے کوئی کم بھی نہیں ہیں یہ وہ لہجے میں خوف لیے بولی
میری طرف سے جدھر مرضی جائے میں یہاں پڑھنے آتی ہوں ان کو منہ بھی نہ لگاؤں میں
ہاہاہاہاہ اچھا چلو کینٹین چلتے ہیں مجھے بھوک لگی ہے زوحی حیاء سے بولی تھی
ہمم چلو ویسے میرا دل نہیں کچھ کھانے کو بس تم کو کھاتا ہوا ہی دیکھوگی
وہ دونوں کینٹین سے اپنی کھانے کی چیزیں اُٹھا کر باہر گراؤنڈ کی ٹیبلز پر آ کر بیٹھ گئی تھیں
تھوڑا آرام سے کھا لو اتنی بھی کیا جلدی ہے وہ اسے جلدی جلدی کھاتے ہوئے دیکھا کر بولی تھی
تب ہی ایک لڑکی حیاء کے پاس سے گزری اور جان بوجھ کر اس کے ہاتھ پر گرما گرم چائے پھینک کر چلی گئی تھی اور محسوس ایسے کروا رہی تھی جیسے غلطی سے گر گئی ہو
حیاء کا غصے سے پارا ہائی ہو گیا تھا
حیاء یہ بہت بدتمیز لڑکی ہے اور آنیہ شاہ کی بیسٹ فرینڈ کوئی اس سے پنگا نہیں لیتا دفع کرو تم اسے رائمہ رانا ہے اس کا نام
اب اس کو ایسے ہی چھوڑ دیا تو کل سے یہ زیادہ بدتمیز ہو جائے گی ہمارے ساتھ اسی لئے مزا تو اسے دینا ہی پڑھے گا
زوحا یہ کافی پکڑ کر میرے ساتھ آؤ وہ زوحا سے بولی تو وہ ڈرتے ہوئے کافی کو پکڑنے اس کے ساتھ چلنے لگی
رائمہ جو کے اپنے دوستوں آنیہ شاہ اور انس شاہ امن شاہ واجب رابی کے ساتھ بیٹھی ہوئی تھی وہ دوستوں کا ایک گروپ تھا
Say sorry to me
Otherwise, you will be responsible for the outcome
وہ لفظ چبا چبا کر مسکراتے ہوئے بولی تھی
وہ اسے کھڑے ہو کر آنکھوں کو گما کر بولی نہیں بولو گی جو کرنا ہے کر لو رائمہ رانا ہوں میں
مجھے کسی کا ڈر نہیں جب میرے پاس ایسے دوست
وہ ابھی کچھ اور بھی بولتی حیا نے زوحا سے کافی کا کپ لے کر اس کے ہاتھ پر پھینک دیا تھا
چلو اب اپنے سوکالڈ دوستوں کو بولو تمہاری جلن ختم کریں وہ اپنے دونوں ہاتھوں کی انگلیوں سٹی کر کے بولی تھی
وہ سب بھی اس کو دیکھ کر کھڑے ہو گئے تھے
ویسے پھینکنی تو تمہارے منہ پر چاہیے تھی آئندہ سوچ سمجھ کر پنگا لینا میں حیاء ہوں حیاء بنتِ نور سمجھی وہ اسے آنکھیں نکالتے ہوئے بولی تھی اور زوحا کا ہاتھ پکڑ کر لے گئی تھی
پیچھے آئمہ غصے سے اسے بس دیکھتیں رہ گئی تھی
اور وہاں کھڑے انس کے چہرے پر ایک جاندار مسکراہٹ آئی تھی
❤️❤️❤️❤️
حیاء یہ تم نے کیا کر دیا وہ اب ہمارا پیچھا نہیں چھوڑنے والی
جب بھی موقع ملے گا ہمیں ذلیل کیا کرے گی
ہاں تو جب وہ ہمیں ذلیل کرے ہم اسے دوبارا ذلیل کر کے بدلہ پورا کر لے گے کیسا وہ اس کے کندھے پر ہاتھ مار کر مسکراتے ہوئے بولی
چلو اب کلاس میں چلیں ٹائم ہونے والا ہے وہ اس کا ہاتھ پکڑ کر لے جاتے ہوئے بولی
یار تم تو بہادر ہو میرا کیا ہو گا زوحا ڈرتے ڈرتے بولی تھی
کچھ نہیں ہو گا یار بس تم بول دینا کے یہ میری دوست نہیں ہے زبردستی مجھے ساتھ لے کر گومتی ہے اور پھر وہ تم کو اپنی سازش کو حصہ بنا لے گی تو تم مجھے سب بتا دینا اوکے حیاء تو اسے بول رہی تھی جیسے یہ سب ہونے والا ہو
تم تو ایسے بول رہی ہو جیسے وہ یہ سب کرنے والی ہو
ہاں نہ یار ڈراموں میں تو ایسا ہی ہوتا ہے
تم ڈرامے دیکھتی ہو
نہیں تو میں تو خود ایک ڈراما ہوں یہ میری بہن بولتی ہے
ہاں سچ ہی بولتی ہے وہ ویسے زوحا کے کہنے پر وہ اس کے پیچھے پیچھے بھاگی تھی
❤️❤️❤️❤️
فریحہ کلاس میں جا کر بیٹھی تھی
اسلام وعلیکم آپ ہے نئی سٹوڈنٹ آپ نے اچانک کیوں چھوڑا اپنا کالج ساتھ والی لڑکی نے اس سے پوچھا
وعلیکم السلام جی میں ہی ہوں بس میری اماں جانی کا ٹرانسفر یہی ہو گیا تھا اسی لیے فریحہ کو وہ لڑکی کافی باتونی لگی تھی جو آتے ہی سوال بھی پوچھ رہی تھی
آپ میری دوست بنے گی آپ کو لگا ہو گا میں بہت باتیں کرتی ہوں پر نہیں ایسا نہیں ہے ہمارے گھر میں کوئی مجھ سے بات نہیں کرتا اتنی میں چھوٹی ہوں نہ اسی لئے سب سمجھ تو گئی ہوںگی سب
ٹھیک ہے آج سے ہم فرینڈ وہ اس کی بات پر مسکراتے ہوئے بولی
ہیلو میرا نام ہے پریوش اور آپ کا
میرا نام فریحہ اور پھر دونوں باتیں کرتے ہوئے ایک دوسرے کا اپنے بارے میں بتانے لگی
ویسے تو ہم یہ پاس ہی گاؤں ہمارا ادھر ہی رہتے ہیں 40 منٹ کا راستہ ہے پر تم دیکھو گی تو پہچانا نہیں پاو گی کہ یہ گاؤں ہے یہ شہر وہ اسے ہنستے ہوئے بتا رہی تھی
تم آنا زینی آپو اور تبریز لالہ کی شادی پر پندرہ دن بعد ہے مزہ آیا گا تم کو
اما جانی اجازت نہیں دیں گی وہ مسکراتے ہوئے بولی تھی
وہ تم مجھ پرچھوڑ دوان کو میں منا لو گی تم بس آ جانا پھر خوب مزے کریں گے وہ اسے خوش ہوتے ہوئے
بچوں کی طرح بتا رہیں تھی
پری تم کتنی پیاری ہو یار کسی ڈول کی طرح وہ اس کے گال کھنچ کر بولی تھی
او واہ تم نے بھی مجھ حاضر لالہ کی طرح پری بولا سو سوئٹ آف یو وہ اپنے دونوں ہاتھوں کو آپنے چہرے کے نیچے رکھ کر آنکھوں کو بچوں کی طرح گھوما گھوما کر باتیں کر رہی تھی
ہاہاہاہاہ ہاہا پری میرا تو دل آ گیا ہے تم پر اگر میں لڑکا ہوتی تو تم سے شادی کر لیتی وہ قہقہہ لگاتے ہوئے بولی
او فری تم بھی نہ وہ اس کی باتوں پر سرخ ہوتے ہوئے چہرا شرم سے نیچے جھکا گئی
ہاہاہاہاہ او واہ پری تم بلش کر رہی ہو یار تم کتنی معصوم ہو وہ اس کے گال کھینچنتے ہوئے بولی اور پھر دونوں کھلکھلا کر ہنس دی تھی
پر جلد ہی پری کی معصومیت کوئی اپنے پیروں کے نیچے کچلنے والا تھا
❤️❤️❤️❤️
نورین فائل پر کام کر کے اب تھک کر اپنا سر کرسی کی پشت پر رکھے آنکھوں کو بند کیے کسی گہری سوچ میں تھیں
عاقب آپ کی بے وفائی کے باوجود میں نے آپ سے رشتہ نہیں ختم کیا پر پھر بھی آپ نے ہمیں بیچ راہ میں چھوڑ دیا آنکھوں سے آنسو بہ رہے تھے زخم ابھی بھی تازہ تھے
میں جانتی تھی آپ شادی شدہ ہیں پہلے بھی پھر بھی آپ نے شادی کی مجھ سے زبردستی اور پھر میری بیٹیوں اور مجھے چھوڑ کر چلے گئے بنا کسی قصور کے اور میری حیاء کی تو شخصیت تک تباہ کر دی آپ نے آپ کی وجہ سے وہ آج اندر سے ٹوٹی ہوئی ہے وہ باہر سے جتنا مرضی مسکرا لے پر اندر سے ٹوٹ چکی ہے میں ماں ہوں اسکی سب سمجھتی ہوں میں اور میری فری ڈرپوک ہو گئی اپنے باپ تو سائبان ہوتا ہے پر وہ ہی فری مرد زات سے ڈرنے لگی ہے صرف اپنے باپ کی وجہ سے
اور میری سب سے چھوٹی دونوں میری کھوکھ میں تھی جب ان دونوں کو تو باپ پیدا ہونے سے پہلے ہی چھوڑ گیا ان کی معصومیت اور بچپنے کی اللہ حفاظت کرئے اور مجھے تو آپ جاتے ہوئے اپنے نام سے بھی بے داخل کر گے
اور ان کی آنکھ سے ایک آنسو کا قطرہ گرا جیسے جلدی سے انہوں نے صاف کر لیا
میم آپ کو سر عادل اپنے آفس میں بلا رہیں ہے ان کو بول کر چلی گئی تو وہ بھی فائل اُٹھا کر ان کے آفس کی طرف نکل گئی
