Rate this Novel
Episode 11
باری باری سب رسم کر رہے تھے فریحہ وہاں سائیڈ پر پڑھی چیر پر بیٹھی ہوئی تھی وہ پوری فیملی کو دیکھ کر مسکرا رہی تھی
اب سب کزنز ہنسی مذاق کرتے ہوئے رسمے کر رہے تھے
چلوں فری میرے ساتھ تم بھی رسم کرو جا کر وہ اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے اس طرف لے کر جاتے ہوئے بولی تھی
یار پری مجھے نہیں جانا تم جاؤ میں دیکھ رہیں ہوں سب میں یہی بیٹھی ہو پلیز وہ پنا ہاتھ اس کے ہاتھ میں سے نکلاتے ہوئے بولی تھی
اوکے ٹھیک ہے وہ مسکرا کر وہاں سے چلیں گیں تھی۔۔۔۔۔۔۔
او شیٹ جب وہ بیٹھنے لگی تو اس کا ہاتھ لگنے سے پاس پڑھی کولڈنرک کا گلاس ہاتھ لگنے سے اس کے لہنگے پر گر گیا
ابھی صاف کرنا پڑھے گا ورنہ یہ صاف ہی نہیں ہو گا وہ اُٹھتے ہوئے اندر کی طرف جانے لگی یہ دیکھے بنا کے
عاقب شاہ سٹیج کی طرف بڑھ رہیے تھے رسم کے لیے وہ مردان خانے کی طرف تھے اسی لئے وہ لیٹ آئے تھے رسم کے لیے فریحہ انہوں کو نہ دیکھ سکی
اگر آج دیکھ لیتی تو پھر سے اسی مقام پر کھڑی ہوتی جس پر آج سے کچھ سال پہلے تھی
عاقب شاہ سٹیج پر بیٹھ کر رسم کرنے لگے ساتھ میں آنیہ بھی تھی رسم کرنے کے بعد زینی کے سر پر ہاتھ رکھ اُٹھ گیے تھے
پاس کھڑی انیہ کو اپنے ساتھ لگایا تھا
عاقب بابا کی تو جان ہے نہ انیہ میں پری مسکراتے ہوئے بولی تھی
ہاں میری اتنی پیاری بیٹی جو ہے اور بیٹیاں تو سب سے پیاری ہوتیں ہیں باپوں کو وہ اس کے ماتھے پر پیار کرتے ہوئے بول کر نیچے اتر کر واپس مردان کی طرف بڑھ گیے تھے
عاقب بابا تو سب سے زیادہ سوئٹ ہیں غصہ تو بابا کو چھو کر نہیں جاتا پری سب کے سامنے مسکراتے ہوئے بولی تھی
پر کوئی بھی یہاں عاقب شاہ کی اصلیت نہیں جانتا تھا کہ اس سوئٹ سے انسان نے کتنے لوگوں کی شخصیت کو تباہ کر کے رکھ دیا ہے
کچھ ایسی بھی ہستیاں ہیں جو باپ کے ہوتے ہوئے بھی یتیموں کی طرح زندگیاں گزار رہیں ہیں
❤️❤️❤️❤️
مہندی کی تقریب ختم ہو گئی تھی سب لڑکیاں دوسرے
ہال میں بیٹھی مہندی لگ رہی تھیں
فریحہ بھی ان کے ساتھ بیٹھی اپنے ہاتھوں پر مہندی لگ رہی تھی
کتنی پیاری لگ رہی ہے یار فریحہ تمہارے ہاتھوں پر پری اسے دیکھ کر مسکراتے ہوئے بولی تھی
ہاں بہت پیاری ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ کون لڑکی ہے آنیہ فریحہ کو دیکھتے ہوئے نازیہ سے بولی تھی نازیہ پری کی خالہ زاد
یہ یہ لڑکی فریحہ ہے پری کی دوست پری لے کر آئی ہے اسے اپنے ساتھ تبریز لالہ کی شادی کے لئے وہ مصروف سے انداز میں اس کے ہاتھوں میں مہندی لگاتے ہوئے بولی تھی
ہو یہ پری بھی پتہ نہیں کیسی کیسی لڑکیوں سے دوستیاں رکھتیں ہے وہ منہ بسورتے ہوئے بولی تھی
واہ زینی آپو آپ کی مہندی تو سب سے پیاری ہے ہے نہ فری وہ تینوں اس پاس ہی بیٹھی ہوئی تھی
فریحہ نے اس کی بات پر مسکراتے ہوئے سر ہاں میں ہلایا تھا
تم بہت پیاری ہو فریحہ زینی مجھے اپنی اپنی سی لگتی ہو وہ اسے دیکھتے ہوئے بولی تھی
شکریہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔فریحہ اس کی بات پر مسکرا دی تھی
پریوش جاؤ اب تم ہم دونوں کے لیے گرم سی چائے لے کر آؤ میرے کمرے میں آ جانا چلو فریحہ تم میرے ساتھ میرے روم میں
زینی جو مہندی لگ چکی تھی فریحہ اور پری کو بولتے ہوئے اپنے کمرے کی طرف فریحہ کو لے گئیں تھی
❤️❤️❤️❤️
اس وقت فون سب خیریت تو ہے نہ عادل نورین کا فون اُٹھتے ہوئے بولے تھے جنہوں نے رات کو ایک بجے ان کو فون کیا تھا
عادل مجھے آپ سے بات کرنی ہے میں نے بہت سوچا ہے وہ اپنی بات بول کر چپ ہوئیں تھیں
می میں تیار ہوں آپ سے شادی کرنے کے لیے صرف اپنی بیٹیوں کے مستقبل کے لئے یہ فیصلہ میں نے کیا ہے
وہ سانس کو ہوا میں خارج کرتے ہوئے بولیں تھیں
عادل صاحب اس کی بات پر مسکرائے تھے اور سکون سے آنکھوں کو موندے سر کرسی کی پشت پر ٹکا دیا تھا
آپ کی بات سے مجھے خود میں سکون اترتا ہوا محسوس ہوا ہے نور وہ آنکھیں بند کیے مسکرا کر بولے تھے
دوسری طرف نورین ان کی بات پر مسکرا بھی نہیں سکی تھیں بس لب بیچے ان کو سن رہیں تھیں
آپ کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے نور آپ کو اپنے اس کیے فیصلہ پر کبھی بھی پچھتاوا اور شرمندگی نہیں ہو گی بس اتنا چاہتا ہوں کہ مجھ پر یقین رکھے گا
جی بہتر۔۔۔۔۔۔۔۔۔وہ دو لفظی جواب دے کر پھر سے چپ کر گئیں تھیں
فون کو رکھا دیا تھا اپنا سر ہاتھوں میں گرا کر بے آواز آنسو سے رونے لگ گئیں تھیں
پتہ نہیں قسمت کہاں لے کر جائے گی میری بچیوں کو اس نئی مصیبت کو میں اکیلے نہیں خال کر سکتی تھکنے لگی ہوں میں شاید اب کسی کے ساتھ کی ضرورت ہے تم چاروں کے لیے مجھے
اس دنیا سے اکیلے نہیں لڑ سکتیں میں تم چاروں کے نگل جائیں گے لوگ تم سب کو اسی لیے تم سب کے لیے میں اب عادل سے شادی کروں گی تکے تم سب کو بھی ایک مضبوط سہارا مل جائے
وہ زویا کو دیکھتے ہوئے اس کے سر پر پیار کرتے ہوئے بولیتی دوسری سائیڈ پر لیٹ گئیں تھیں
❤️❤️❤️❤️❤️.
ہائے اللہ جی یہ بند کیا ہر وقت کچن میں ہی پایاں جاتا ہے جب بھی آؤں مجھ سے پہلے پہنچا ہوا ہوتا ہے پریوش عالی کو کچن میں دیکھ کر بڑبڑائی تھی پر آج واپس جانے کی غلطی نہیں کی تھی
باہر ہی بڑبڑاتی رہو گی یا اندر بھی داخل ہو گی عالی شاہ بنا مڑے ہی پری سے بولا تھا
ہائے مجھے لگتا ہے اس بندے کے سر کے پیچھے بھی آنکھیں موجود ہیں جو اس کو بینا موڑے بھی سب نظر آ جاتا ہے وہ منہ میں بولتے ہوئے چائے کے لیے فریج سے دودھ نکلنے لگی تھی
تمہیں کافی بنانیں آتیں ہے عالی اسے کافی میں چمچ ہلاتے ہوئے دیکھ رہا تھا جو اب ڈرتے ہوئے چائے بنانے کی تیاری کر رہی تھی
جی جی مجھے نہیں آتیں میں کیا کرو گی سیکھ کر اتنی کڑوی تو ہوتیں ہے اسی لیے میں نہیں پیتی اور نہ ہی میں بناتیں ہوں وہ کڑوا سا منہ بناتے ہوئے بولی تھی
تو ٹھیک ہے اب سیکھ لو کیوں کہ مجھے پسند ہے کافی اور میں روزانہ رات کو کافی پی کر سوتا ہوں اسی لیے اب تم سیکھ لو تکے بعد میں کوئی مشک نہ ہو وہ کافی کو ہلا کر اس کے سیپ لیتے ہوئے بول رہا تھا
تو میں کیا کروں آپ پیتے ہیں تو وہ خیران ہوتے ہوئے اس سے بول رہی تھی جو اسے ہی دیکھ رہا تھا
جلد ہی تمہیں بتاؤں گا کہ تم کیا کرو گی اگر میں پیتا ہوں تو وہ اس کو بازوں سے پکڑ کر اپنی طرف کھینچتے ہوئے بولا تھا
زیادہ زبان مت چلایا کرو میرے سامنے مجھے بولنے والی لڑکیاں نہیں پسند سنا تم نے وہ غصے سے سرد لہجے میں بولا تھا
چھوڑیں مجھے عالی آپ نے سمجھ کیا رکھا ہے مجھے مجھ سے زبردستی کریں گے ہر بات پر مجھے ڈانٹتے ہیں آپ میری غلطی نہ بھی ہو تو آپ مجھے اتنا سناتیں ہیں وہ آنکھوں میں آنسو لیے نم لہجے میں اس سے بولی تھی
عالی اس کی بات پر مسکرا دیا تھا۔۔۔۔۔
اب دیکھیں کیسے میرے رونے پر مسکرا رہیں ہے آپ کو مجھے دکھ دے کر سکون ملتا ہے نہ وہ روتے ہوئے اس سے بول رہی تھی
ہاہاہاہاہا ہاہاہاہاہا پری تم رو بھی سیرس طریقہ سے نہیں سکتی وہ اس کے رونے پر چوٹ کرتے ہوئے بولا تھا
وہ اس کے ہاتھ جھٹک کر اس سے دور ہوئی تھی
پری ابھی کوئی حق نہیں رکھتا تم پر ورنہ تمہیں بتاتا کے تمہارے رونے سے مجھے فرق پڑھتا ہے یا نہیں وہ اس کے قریب جھکتے ہوئے بولتا باہر نکل گیا تھا
ہنو بڑے آئے مجھے ڈرانے والے پیچھے پری منہ بسور کر آنسو کو صاف کر کے چائے بنانے لگی
❤️❤️❤️❤️❤️
احد تم زینی احد کو اپنے کمرے میں دیکھ کر چلائی تھی
مجھے لگا تم میری شادی پر بھی نہیں آؤ گے وہ روتے ہوئے اس کے گلے لگیں بولیں تھیں
آپ ایسا سوچ بھی کیسے سکتیں ہیں کے میں اور آپ کی شادی پر نہ آؤں بڑا بھائی ہوں آپ کا وہ اس کے سر پر پیار دیتے ہوئے بولا تھا
چھٹیاں لے کر آیا ہوں اس دفعہ بہت سی اب تو جوب مزا کریں گے وہ اسے ساتھ لیے بیڈ پر بیٹھا کر بولا تھا
آپ ماما سے مل لیے ۔۔۔۔۔۔۔ وہ اس کے ساتھ ہی لگی بول رہی تھی
ہاں نیچے ہی تھے سب سب سے مل کر آیا ہوں آپ کا پوچھا تو آپ اوپر تھیں اسی لئے یہاں ہی آ گیا تھا مہندی تو بہت خوبصورت لگائی ہے آپ نے وہ اس کے ہاتھوں کو دیکھ کر بولا تھا جہاں اب مہندی سوکھ چکی تھی اور احد کے ساتھ لگنے سے اتر بھی رہی تھی
زینی اس کی بات پر مسکرا دی تھی
او یہ کون ہے پیاری سی لڑکی وہ باتیں کرتے ہوئے دور بیٹھی فریحہ سے بولا جو اسے ہی مسکرا کر دیکھ رہی تھی اور اس کے پوچھنے پر سیدھی ہوتے ہوئے اپنی نظریں اس پر اے ہٹائیں تھیں
یہ یہ پیاری سی لڑکی میری دوست ہے جیسے میں پیاری ویسے میری دوست بھی پیاری پری جو باہر سے آئیں تھی آتے ہوئے احد کو جواب دیتے ہوئے بولی تھی
او واہ آج تو پری کے ہاتھ کی بدمزا چائے پینے کو ملے گی احد مسکرا کر اُٹھا اور پری کے ہاتھ میں پکڑے ٹریے میں سے ایک چائے کا کپ اُٹھ کر پینے لگا
نوٹ بیڈ پری تم تو اچھی چائے بنانے لگی ہو اب وہ اس کے سر پر ہلکے سے تھپڑ مارا کر بولا تھا
احد لالہ نہیں بناتیں میں اچھی چائے چھوڑ دیں وہ ٹرے کو ٹیبل پر رکھ کر احد کی طرف گئی تھی جو اب اسے مسکراتے ہوئے پیچھے ہوا تھا
نہیں جاناں ایسے کیسے میں برداشت نہیں کر سکتا کے یہ پیاری سی لڑکی تمہاری چائے پی کر بے ہوش ہو جائے وہ فریحہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولتا پری کے اپنی طرف بڑھنے پر اس کی پہنچ سے دور ہوا تھا
میں آپ کو چھوڑونے نہیں والی لالہ آپ مجھے تنگ کر رہیں ہے وہ اس کے پیچھے بھاگتے ہوئے بولی تھی
ہاہاہاہاہا شکر ہے کوئی تو ہے جو پری کو بھی تنگ کرتا ہے باہر سے آتا عالی احد سے بولا تھا
کیسا ہے جگر وہ اس کے گلے لگتے ہوئے بولا تھا
پیچھے پیچھے حاضر بھی وہی آ گیا تھا وہ سب سے مل رہا تھا
فریحہ سب کو ایسے ملتے ہوئے دیکھ کر آنکھوں میں نمی لیے مسکرا رہی تھی اس کی نظروں میں خسرت تھی رشتوں کی اپناؤں کی چاہتوں کی۔۔۔۔۔۔۔اس نے ایسے کوئی بھی رشتے نہیں دیکھے تھے
پر وہ اس بات سے انجان تھی کہ جن رشتوں کو وہ خسرت سے دیکھا رہی ہے وہ اس کے اپنے ہیں
حاضر کی نظر فریحہ پر گئی تھی جو سب کو مسکراتے ہوئے دیکھ رہی تھی
خود پر حاضر کی نظر محسوس کر کے اس نے نظریں جھکا لی تھی اپنے ہاتھوں کو مسلنے لگیں تھی
میں تمہیں ہر رشتہ دوں گا فریحہ جس کی تمہیں چاہ ہے حاضر اس کی نظروں کی حسرت پڑھ چکا تھا وہ جانتا تھا کہ فریحہ کا کوئی بھی اپنا نہیں ہے پر وہ یہ نہیں جانتا تھا کے اس کا اپنا خاندان ہی اس کا بھی خاندان ہے
پیاری لڑکی آپ کیوں ایسے اداس ہو گئیں ہیں احد فریحہ کو بولا تھا جو نظروں کو نیچے جھکائے بیٹھی ہاتھ کو مسل رہی تھی
نہ۔۔۔۔۔۔۔ نہ۔۔۔۔۔۔ نہیں تو ایسا تو نہیں ہے وہ سر کو اُٹھ کر اس سے مسکرا کر بولی تھی
گھبرائیں مت میں بھی آپ کا بھائی ہوں جیسے میں پری کا بھائی ہوں ویسے ہی احد اس سے بولا تھا جو اس کی بات پر کھل کر مسکرا دی تھی
شکریہ آپ کا ورنہ میرا کوئی بھائی نہیں تھا اب سے میرے بھی آپ بھائی ہوئے وہ مسکراتے ہوئے بولی تھی
احد نے آگے بڑھ کر اس کے سر پر ہاتھ رکھ تھا پری بھی مسکراتے ہوئے فریحہ کے ساتھ لگ گئی تھی
خاضر فریحہ کو اپنے گھر والوں کے ساتھ خوش دیکھ کر خوش تھا
ویسے مجھے بہت خیرانگی ہو رہی ہے تم جیسی سمجھ دار لڑکی پری جیسی بے وقوف سے دوستی کیسے کر سکتی ہے احد سیرس بات کرتے ہوئے آخر میں شرارت سے بولا تھا
لالہ یہ دیکھ آحد لالہ مجھے تنگ کر رہیں ہیں پری حاضر کی طرف دیکھ کر بولی تھی جو اپنی نظروں کو فریحہ پر کیے ہوئے تھا
خبردار احد جو تم نے میری پری کو تنگ کیا وہ مصنوعی غصے سے احد کو دیکھ کر بولا تھا
ہاہاہاہاہا اوکے لالہ میں آپ کی چمچی کو تنگ نہیں کروں گا وہ مسکراتے ہوئے پھر سے پری کو چھیڑتے ہوئے بولا تھا
اس بلا کو صرف تم ہی تنگ کر سکتے ہو ورنہ تو حاضر لالہ ہمیں زندہ نہ چھوڑیں اپنی لاڈلی کو تنگ کرنے پر عالی احد کے کان میں بولا تھا جس پر احد نے اپنی مسکراہٹ کو بمشکل روکا تھا
اسی لیے بول رہا ہوں مجھ سے ٹریننگ لے لو فیوچر میں کام آئے گی ۔۔۔۔۔۔ یہ تمہاری بے وقوف پری ورنہ تم کو پورے گھر میں ڈانس کروائے گئی وہ بھی اس کے کان میں بولا تھا جس سے عالی نے اسے گھوری سے نوازا تھا
لالہ آپ کہاں کھو گئے ہیں کہی کسی لڑکی وڑکی کا چکر تو نہیں ہے جو بے بات مسکرا بھی رہیں ہیں اور ۔۔۔۔۔سمجھ تو گئے ہوں گے میری بات احد حاضر کو مسکراتے ہوئے دیکھ کر بولا تھا
ہاہاہاہاہا احد تم نے ثابت کر دیا کے افسر بہت تیز اور ہر کسی کے چہرے کو پڑھنے والے ہوتے ہیں حاضر کے مسکرا کر کہنے پر احد اور عالی کبھی ایک دوسرے کو دیکھتے اور کبھی حاضر کو
دوسری طرف فریحہ کو اپنے پاؤں میں سے جان نکلتیں ہوئی محسوس ہو رہی تھی وہ بے بسی سے حاضر کی طرف دیکھ رہی تھی
جو احد اور عالی کو مسکرا کر دیکھ رہا تھا
لالہ کیا جو میں سوچ رہا ہوں وہ سچ ہے نہ کریں لالہ اس دفعہ کیا میں آپ کی شادی بھی اٹینڈ کر کے جاؤ گا احد اس کے پاس جا کر اس کے گلے لگ کر بولا تھا
لالے کی جان بہت جلد خوشخبری دوں گا سب کو وہ اس سے ملتے ہوئے بولا تھا
سچی لالہ ایم سو ہیپی آپ کی شادی پر میں اس دفعہ سے بھی زیادہ کپڑے لو گی پری بچوں کی طرح خوش ہوتے ہوئے بولی تھی
اس لڑکی کو کپڑوں کے علاوہ کچھ نہیں سوجتا پتہ نہیں میرے یار کا کیا بنے گا احد جان باجھ کر عالی کے کان میں بولتے ہوئے اپنے سر پر ہاتھ مار کر پھپےکٹنی عورتوں کی طرح بولا تھا
جس پر عالی نے اس کی کمر پر ایک مکا مارا تھا جس سے وہ اپنی کمر پکڑتے ہوئے مصنوعی آہ پکار کرنے لگا
جس پر سب ہنسنے لگے تھے
دوسری طرف فریحہ کو اپنی دھڑکنوں کو سنبھالنا مشکل ہو رہا دل کا کوئی کونا حاضر کی چاہ کرنے لگا تھا حاضر کو پانے طلب دل میں بسنے لگی تھی پر دماغ اس کی نفی کر رہا تھا
پر لالہ آپ کو لگتا ہے دادا مان جائیں گے مجھے نہیں لگتا خاندان کے باہر وہ کبھی مانے گئے عالی کے کہنے پر فریحہ اور احد دونوں نے عالی کی طرف دیکھا تھا اور ایک وہ ہی مطمئین سا مسکرا رہا تھا
حاضر کو کوئی بھی منا نہیں کر سکتا وہ مسکراتے ہوئے پورے کنفیڈنس سے بولا تھا
یہ چیز لالہ اس میں میں بھی آپ کے ساتھ ہوں وہ مسکراتے ہوئے اسے بولا تھا کیونکہ وہ جانتا تھا حاضر کی کشتی پار لگنے سے ہی اس کی بھی کشتی پار لگے گی
دوسری طرف عالی کی بات سن کر فریحہ کے دل پر دماغ نے برتری حاصل کر لی تھی اور فریحہ نے اپنی محبت کو پھر سے اسی کونے میں سولا لیا تھا وہ نہیں چاہتی تھی ان چاہا رشتہ جس میں کسی ایک کی بھی محلافت ہو
وہ اپنی ماں کی طرح کی بربادی خود کے لیے نہیں چاہتی تھی اسی لئے لب بیچے نیچے چہرہ جھکے اپنے آنسو کو ضبط کرنے کی پوری کوشش کر رہی تھی
یہ انس صاحب نظر نہیں آئے مجھے احد کے پوچھنے پر عالی نے بھی سر ہلائے تھا
ہاں میں نے بھی اسے آج کہیں نہیں دیکھ پورا وقت نظر نہیں آیا عالی بولا تھا
وہ کسی دوست کے پاس گیا تھا کسی ضروری کام سے مجھے فون کر کے بول دیا تھا اس نے حاضر کے بولنے پر سب مطمئین ہو گیے تھے
زینی ان کی باتوں میں کب کی سو چکی احد اسے سوتے ہوئے دیکھ کر اس پر کمبل ٹھیک کرتے ہوئے اُٹھ. تھا
پری اور فری چلوں تم دونوں بھی اب آرام کرو پھر صبح بھی سب تیاریاں کرنیں ہیں احد کے بولنے پر وہ دونوں بھی اُٹھ کر باہر نکل گئیں تھیں
فریحہ نے باہر نکل کر سوک کا سانس لیا تھا ورنہ حاضر کی بولتی نظریں اسے پریشان کر رہیں تھیں
پیچھے حاضر عالی اور احد بھی باہر نکل کر مردان کی طرف چلیے گئے تھے جہاں ابھی بھی بڑے بیٹھے صبح کی تیاریوں میں اہم کاموں میں مصروف تھے
❤️❤️❤️❤️❤️
کہاں تھے تم انس اس وقت کہاں سے آ رہیے ہو تم انس جو باہر سے آیا اپنے کمرے میں آ کر بیٹھا تھا آنیہ اس کے روم میں آ کر بولی تھی
کہی نہیں باہر ایک ضروری کام تھا اسی لیے وہاں گیا تھا وہ بیڈ پر بیٹھا اپنے پاؤں سے شوز اُترتے ہوئے بولا تھا
کون سا ایسا کام تھا جو گھر کی شادی سے بھی اہم تھا کہ تم اب گھر آ رہیے ہو وہ غصے سے دبے ہوئے لہجے میں بولی تھی
میں تمہیں کسی بھی چیز کو بتانے کا پابند نہیں ہو آنیہ اسی لئے جاؤ یہاں سے مجھے آرام کرنا ہے وہ بھی غصے سے اس پر غرایا تھا
انس میں مانگ ہوں تمہاری جلدی ہی شادی ہونے والی ہے ہماری وہ اس پر چلائی تھی
ہونے والی ہو ہوئی تو نہیں نہ اور ویسے بھی تم منگ ہو میر نہ کے بیوی سنا تم نے اور یہ سب پوچھنے کی اجازت میں اپنی بیوی کو بھی نہیں دوں گا
وہ اسے سے بھی تیز لہجے میں بولتے ہوئے آنیہ کو چپ کروا گیا تھا
اپنے دل سے اس حیاء کو نکل دینا ورنہ مجھ سے برا کوئی نہیں ہو گا سنا تم نے میری ہر پل نظر ہے تم پر اگر تم نے کچھ بھی غلط کرنے کی کوشش کی تو جان لینا دادا حیاء کو کسی لائک نہیں چھوڑیں گے
وہ اس کو انگلی دیکھتے ہوئے بولی تھی
تم مجھے انس شاہ کو چلنج کر رہیں ہو وہ بیڈ سے کھڑا ہوتے ہوئے اپنے ہاتھوں کو باندھے اس کیا آنکھوں میں دیکھا کر بولا تھا
تو انیہ عاقب شاہ نہ تم انس کی ہو اور نہ میں تمہیں اپنا بناؤں گا یہ انس شاہ کا وعدہ ہے تم سے وہ دل جلانے والی مسکراہٹ لیے انیہ کو جلا گیا تھا
انس یو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نو آنیہ شاہ انگلی نیچے کر لو اور خود کو میرے خیالوں سے نکل لو اب تو میں حیاء انس شاہ کا ہوں وہ اس کی بات کو کاٹتے ہوئے اسے بہت کچھ باور کروا گیا تھا
انیہ کو سکون برباد کر کے خود جا کر بیڈ پر لیٹ کر آنکھوں کو بند کر گیا تھا
مجھے حیاء کے خواب دیکھنے دو شاباش جاؤں یہاں سے دروازہ بند کرتے ہوئے جانا وہ آنکھوں کو بند کیے ہوئے بولتا انیہ کو جلا چکا تھا
میں بھی دیکھتی ہوں تم حیاء کے کیسے ہوتے ہو وہ چلا کر بولتے ہوئے دروازہ کو زور سے بندہ کرتے ہوئے باہر نکل گئی تھی
ہاہاہاہاہا آنیہ شاہ تم کیا جانو انس شاہ تو کب سے حیاء کا ہو چکا ہے وہ قہقہہ لگاتے ہوئے بولا تھا
جو میں جان چکا ہوں اس کے بعد دادا بھی حیاء کو مجھے سے دور نہیں کر سکتے مجھے تو بس تمہاری اور حیاء کی جنگ دیکھنی ہے اپنے لیے اہاہاہاہا وہ قہقہہ لگاتے ہوئے تصور میں حیاء اور آنیہ کو سوچ کر مسکرا رہا تھا
میری جنگی سی حیاء کیسے لگے گی تمہیں مارتے ہوئے وہ خود ہی اپنی سوچوں پر مسکرا کر آنکھوں کو بند کر گیا تھا
