Rate this Novel
Episode 29
اف خدایا میرا سر فریحہ جب اُٹھی تو اپنے سر پر ہاتھ رکھ کر بولی تھی
رات کو روتے روتے کب آنکھ لگی پتہ ہی نہیں چلا اب دن کے گیارہ ہو رہیے تھے
میں اتنی دیر سوتیں رہیں ہوں اور سر اتنا کیوں بھاری ہو رہا ہے وہ اپنا سر ہاتھوں میں گرا کر خود سے ہی باتیں کررہی تھی
رات کو واقع سوچ کر ادھر اُدھر دیکھنے لگی تھی حاضر کو اس کی نظر صوفے پر بیٹھے حاضر پر پڑھی جو سخت تیور لیے اسے ہی دیکھ رہا تھا
جلدی سے اپنا ڈوپٹہ اٹھا کر کندھوں پر پھیلا تھا جو پاس ہی پڑھا ہوا تھا
حاضر اس کی ہر خرکت کو دلچسپی سے دیکھ رہا تھا پر ظاہر نہیں کیا
نیند پوری ہو گئی ہے تو جلدی سے ریڈی ہو جاؤ ہمیں خویلی کے لیے نکلنا ہے حاضر اسے بول کر صوفے سے اَٹھ کر باہر نکلنے لگا تھا
پر خویلی کیوں آپ ہی نے تو بولا تھا اب یہی رہنا ہے فریحہ اسے پیچھے سے آواز دیتے ہوئے بولی تھی
تم میرے ساتھ رہنا نہیں چاہتی میں تمہیں چھوڑ نہیں سکتا اسی لیے بہتر ہے تم خویلی رہو اور میں یہاں تاکہ تم مجھ سے دور کھل کر سانس لے سکو یہاں تو میرا سگریٹ ہی تمہیں سانس نہیں لینے دے گا اور ویسے بھی تم مجھے دیکھنا بھی نہیں چاہتی وہ بینا پلٹے بولا تھا
فریحہ شاک ہوئی اس کی سب باتیں سن رہی تھی آنکھوں میں نمی آ گئی تھی
ایک لمحہ حاضر نے اس مڑ کر دیکھا تھا جس کی آنکھیں سرخ اور سوجھی ہوئیں تھیں پھر ایک نظر دیکھتے ہوئے کمرے سے باہر نکل گیا تھا
فریحہ گرنے کے انداز میں پھر سے بیڈ پر لیٹی تھی آنسو آنکھوں سے پھسلنے لگے تھے وہ بے آواز آنسو سے رو رہی تھی
حاضر خود فریحہ کو دیکھ کر بےچین تھا کسی پل قرار نہیں آ رہا تھا اس کی آنکھیں اسے تکلیف دے رہی تھی بہت کچھ تھا ان میں شکوہ غم بہت کچھ
کیا کروں فریحہ آپ کو خود سے دور تو نہیں کرنا چاہتا پر ہمارے رشتے کے لیے ضروری ہے یہ سب تاکہ آپ سمجھ اس کو وہ دل میں سوچتے ہوئے بولا تھا
تب ہی اسے فریحہ نیچے آتے ہوئے دکھائی دی تھی ہاتھ میں اس کا ہینڈ بیگ بھی تھا
چلیں فریحہ نے نیچے آ کر حاضر سے کہا تھا
بی بی جی ناشتہ کر لیں آپ زیبا فریحہ سے بولی تھی
مجھے نہیں بھوک مجھے نہیں کرنا فریحہ بولتے ہوئے اپنے بیگ سے موبائل نکل کر اس کی طرف متوجہ ہو گئی تھی
تم جاو زیبا حاضر فریحہ کی طرف تیور چڑھا کر دیکھتے ہوئے بولا تھا
جاؤ ناشتہ کرو جا کر ہمیں نکلنا ہے پھر وہ گھڑی پر وقت دیکھتے ہوئے بولا تھا
مجھے بھوک نہیں ہے میں پہلے ہی بتا چکی ہوں اسی لیے چلیں نکلتے ہیں ہم فریحہ بولتے ہوئے باہر کی طرف قدم بڑھانے لگی تھی
فریحہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ حاضر غرایا تھا
آپ کو میری پروا نہیں ہونی چاہیے جب وہاں مجھے آزاد چھوڑ رہیں ہے تو یہ ناٹک بھی بند کر دیں کے آپ کو پروا ہے میری
فریحہ جواب دیتے ہوئے وہاں سے باہر نکل گئی تھی
حاضر غصے سے خود بھی باہر نکل گیا تھا
بینا اس کی طرف دیکھے اپنی طرف کا دروازہ کھولتے ہوئے گاڑی میں سوار ہو کر ڈار سے دروازہ بند کر دیا تھا
فریحہ بھی دوسری طرف آرام سے جا کر بیٹھی تھی
حاضر نے گاڑی کو فل سپیڈ سے چلانا شروع کر دیا تھا
حاضر کیا کر رہیں ہیں آپ آہستہ چلائیں پلیز
پلیز حاضر فریحہ اب اس کے ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بولی تھی
اس کے ہاتھ رکھنے سے حاضر نے جھٹکے سے گاڑی کو روکا تھا اور اس کے اسی ہاتھ کو اپنے ہاتھ میں لے کر کھینچتے ہوئے اپنے سامنے کیا تھا
کیوں کر رہی ہو فریحہ تم میرے ساتھ اس طرح کیوں میری محبت کو آزمائش بنا رہی ہو دن با دن کیوں فریحہ کیوں عاقب شاہ کے کیے کی سزا مجھے دے رہی ہو تم وہ اسے کندھوں سے تھام کر بول رہا تھا
Hazer you hurting me
فریحہ روتے ہوئے بولی تھی اسے لگ رہا تھا اس کے کندھوں دھنس جائیں گے
Dam it you hurting me more
حاضر چلایا تھا
فریحہ کی آنکھوں سے نکلتے ہوئے آنسو کو دیکھ کر اسے چھوڑتے ہوئے پھر سے گاڑی کی طرف متوجہ ہو گیا تھا گاڑی پھر سے ہوائوں سے باتیں کرنے لگی تھی
فریحہ لب بیچے بیٹھی رہی تھی دوبارہ کو لفظ بھی نہیں نکلا تھا بس اپنی ہتھیلی کی پشت سے اپنے آنسو کو بار بار صاف کر رہی تھی
چہرہ صاف کرو اپنا ٹھیک سے اور سب سے مل کر سیدھا اوپر اپنے اور میرے مشترکہ روم میں جانا تماشا مت کریٹ کرنا میں تھوڑی دیر تک واپس چلا جاؤں گا نہیں رہتا تمہارے قریب اب تب تک نہیں آوں گا تمہارے قریب جب تک تم خود نہ چاہو
پر ایک بات ہمیشہ یاد رکھنا تم صرف اور صرف حاضر شاہ کی ہو
خویلی پہچا کر حاضر فریحہ سے بولا تھا اور گاڑی پورچ میں کھڑے کر کے باہر نکلا تھا دوسری طرف فریحہ کا ہاتھ پکڑ کر اسے باہر نکالا تھا اور اپنے ساتھ اندر لے گیا
فریحہ سب سے مل کر اوپر روم میں چلی گئی تھی
حاضر اس کی پوشت ہی دیکھتا رہ گیا تھا
بابا میں بھی چلوں گا اب تھوڑی دیر زمینوں پر جاؤں گا پھر شہر کے لیے نکل جانا ہے بس فریحہ کو چھوڑنے آیا تھا پندرہ دن ہیں پری اور وہ اپنے اگزمز دے لیں پرسوں سے شروع ہیں اسی لئے فریحہ کو چھوڑنے آیا تھا
حاضر اکبر شاہ سے بولتے ہوئے سب سے پیار لے کر آخری بار اوپر کی طرف دیکھا تھا جہان اس کی دشمن جان گئی تھی اور پھر باہر نکل گیا تھا
❤️❤️❤️❤️❤️
انس صبح اُٹھا تھا حیاء اس کے ساتھ لگی سو رہی تھی اس نے اٹھتے ہوئے اس کے سر پر پیار کیا تھا اور پھر اس کا سر تکیہ پر رکھا کر خود باہر نکل آیا تھا
بخار کل سے کم ہو گیا تھا دن کا ایک بج رہا تھا انس کچن میں کھڑا ناشتہ بنا رہا تھا جب حیاء اُٹھ کر اس کے پاس آئی تھی
انس مجھے بھوک لگی ہے انس جو تقریباًن ناشتہ بنا چکا تھا اس کی طرف دیکھنے لگا جس کو بخار نے ایک ہی دن میں کیا بنا دیا تھا رنگ زرد ہو رہا تھا
بس بن گیا ہے چلو بیٹھوں تم میں تمہیں دیتا ہوں
یہ لو کھاؤں وہ اس کے آگے ناشتہ لگاتے ہوئے بولا تھا جو ابھی بھی اسی کے کل والے کپڑوں میں تھی
تمہارے کپڑے رکھے ہیں میں نے اندر کھا کر چینج کر لینا پھر میں تم کو تمہارے گھر چھوڑ دوں گا
انس کی بات سن کر حیاء کے کھاتے ہوئے ہاتھ روک گیے تھے وہ غور سے اسے دیکھنے لگی تھی
تمہاری طبیعت نہیں ٹھیک اسی لیے چھوڑ رہا ہوں اس بھول میں مت رہنا کہ وہاں چھوڑ کر بھول جاؤں گا تمہیں میں وہ اس کے گال پر اپنا ہاتھ مس کرتے ہوئے بولا تھا
وہ اس کی نظروں کے سوال اور خود کے لیے بے اعتباری پڑھ چکا تھا اسی لیے بولا تھا
ٹھیک ہے وہ ایک لفظی جواب دے کر نظر کو جھکا گئی تھی پر اب کھائی کچھ بھی نہیں جا رہا تھا اس سے چائے کے سپ لیتے ہوئے اُٹھ کر کمرے کی طرف بڑھ گئی تھی
حیاء ناشتہ کون کرئے گا انس اسے جاتے ہوئے دیکھ کر بولا تھا
بس ہو گیا اب بھوک نہیں ہے وہ اسے دیکھ بینا بولی تھی
انس خیریت سے اسے دیکھ رہا تھا جس نے صرف دو بائٹ لی تھی اور ناشتہ چھوڑ کر چلی گئی تھی
اندر روم میں آ کر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی تھی
کیا انس چھوڑ دے گا مجھے وہ بھی بابا کی طرح مجھ پر الزام لگائے گا اگر اسے پتہ چلا گیا کے ایک رات میں باہر گزا کر آئی تھی تو کیا چھوڑ دیے گا مجھے جیسے پہلی شادی ٹوٹ گئی تھی میری
پر انس سے محبت ہو گئی ہے مجھے اگر اس نے بھی چھوڑ دیا تو اس دفع سچ میں مر جاؤں گی میں وہ روتے ہوئے زمین پر بیٹھی ہوئی تھی
باہر کھڑا انس اس کی سسکیوں کو دروازے کے ساتھ لگا سنا رہا تھا
سمیٹنا چاہتا ہوں پر ابھی وقت نہیں ہے حیاء جلدی ہی تم میری پناہوں میں ہو گی حیاء
حیاء دس منٹ میں نیچے آ جاؤ میں گاڑی نکلنے لگا ہوں پھر تمہیں چھوڑ آؤں گا وہ باہر سے ہی اسے آواز دیتے ہوئے نیچے کی طرف چلا گیا تھا
گاڑی میں بالکل خاموشی تھی آج حیاء انس سے نہیں لڑ رہی تھی اور نہ انس حیاء سے لڑا تھا
دھیان رکھنا اپنا جلدی ہی تمہیں لینے آؤں گا وہ باہر نکلتی ہوئی حیاء کا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لے کر ہونٹوں سے لگا کر بولا تھا
حیاء کی ویران آنکھوں میں اسے ایک چمک نظر آئی تھی پھر اسے کچھ دیر دیکھنے کے بعد وہ باہر نکل گئی تھی
وہ تب تک اسے جاتے ہوئے دیکھتا رہا جب تک وہ آنکھوں سے اجل نہیں ہو گئی
بہت جلد ہی تم پر لگی ہر تہمت ہر الزام کو مٹا دوں گا میں یہ انس شاہ کا وعدہ ہے تم سے حیاء ابھی تمہیں ضرورت ہے خود کے ساتھ رہنے کی میری قربت تم برداشت نہیں کر پاؤ گی پر کچھ دن بس کچھ دن میں پھر آؤں گا تمہیں لینے ہمیشہ کے لیے
سوچتے ہوئے گاڑی کو آگے بڑھا لیے گیا تھا
❤️❤️❤️❤️
زویا اور زرتاشہ دونوں آج سکول آئیں ہوئی تھی کیونکہ دونوں کے اگزمز تھے
سلال اور احد دونوں کھڑے اپنی اپنی والی کا انتظار کر رہیے تھے
شکر ہے یار یہ دونوں شکل سے ایک جیسی نہیں ہیں ورنہ مسئلہ ہو جاتا احد کے بولنے پر سلال نے اسے گھوری سے نوازا تھا
میری والی ویسے زیادہ خوبصورت ہے احد سامنے دیکھتے ہوئے بولا تھا جہان سے ان دونوں نے آنا تھا
تمہیں آفسر کس نے بنا دیا احد سلال جل کر بولا تھا
میری قابلیت نے بنایا ہے مجھے وہ سامنے سے آتیں ہوئی زرتاشہ اور زویا کو دیکھ کر بولا تھا
تمہیں دیکھ کر لگتا نہیں ہے کے تم، ۔۔۔۔۔وہ اپنی بات ادھوری چھوڑ گیا تھا
زیادہ جلو مت بولتے ہوئے آگے بڑھ کر زویا کا ہاتھ تھامنے لگا تھا
مجھے زر کے ساتھ جانا ہے ہم دونوں نے اکھڑے پڑھنا ہے پلیز آپ جائیں میں سلال بھائی کے ساتھ جاؤں گی وہ احد کا ہاتھ اگنور کرتے ہوئے سلال کی گاڑی میں بیٹھ گئی تھی
احد غصے سے اسے دیکھتا ہی رہ گیا تھا جو اسے پوچھے بینا ہی گاڑی میں سوار ہو گئی تھی
زرتاشہ بھی اس سے سلام کرنے کے بعد گاڑی میں بیٹھ گئی تھی
احد غصے سے وہاں سے اپنی گاڑی لے کر نکل گیا تھا
زویا بری بات ہے آپ کو احد سے پوچھ کر پھر گھر جانا چاہیے تھا دیکھا اب وہ غصے ہو گیا ہے سلال گاڑی میں بیٹھ کر زویا کو سمجھاتے ہوئے بولا تھا
سوری بھائی میں گھر جا کر کال کر کے سوری کر لوں گی
ہم گوڈ گرل وہ مسکراتے ہوئے بولتا گاڑی کو گھر کی طرف موڑ چکا تھا
❤️❤️❤️❤️❤️
پورا مہینہ ہونے والا نہ حاضر خویلی میں نہیں آیا تھا پری اور فریحہ کے اگزمز کی وجہ سے شادی پندرہ دن سے مہینے بعد کر دی تھی اور اب پورا مہینہ گزر گیا
دو دن بعد شادی شروع ہونے والی تھی
فریحہ آج نہ گھر جاتے ہوئے زویا اور حیاء آپو کو بھی ساتھ لے جاتیں ہیں پری فریحہ سے بولی تھی
ٹھیک چلو وہ آ گئی گاڑی چلتے ہیں فریحہ اور پری گاڑی میں بیٹھ کر وہاں کے لیے نکل گئیں تھیں
السلام علیکم فریحہ اور پری نے گھر میں داخل ہو کر سلام کیا تھا جہاں زویا حیاء زرتاشہ اور سلال بیٹھے ٹی وی پر مووی دیکھ رہے تھے
وعلیکم السلام وہ چاروں بھی مسکرا کر اکھڑے بولے تھے
واہ پری آج اتنے دن بعد شکل دکھائی ہے حیاء اس کے گلے ملتے ہوئے بولی تھی
آپو میں تو مصروف تھی اگزمز میں آپ نے بھی گھر تشریف لے کر آنے کی زہمت نہیں کی پری منہ بنا کر صوفے پر بیٹھتے ہوئے بولی تھی
میں زویا اور زرتاشہ کو اب اکیلا کیسے چھوڑ سکتی تھی اسی لئے حیاء نے اپنی طرف سے جھوٹ بولا تھا
چلیں ٹھیک ہے پھر آج تیاری کریں ہم آپ دونوں کو لینے آئے ہیں پرسوں سے شادی شروع ہے اور پھر بعد میں ریسیپشن بھی ہے اسی لئے
پری جاناں کچھ کھاؤں گی سلال تم ہمارے لیے پیزا آڈر کرو گے حیاء بات بدلتے ہوئے بولی تھی
حیاء آپو جب تک پیزا آتا ہے آپ تیاری کر لیں خویلی جانے کی پری بھی اپنی بات کی پکی تھی
سوری پری تم زویا کو لے جاؤ کل ماما آنے والی ہیں میں ان کو مل کر ہی جانے کا سوچوں گی حیاء کندھے اچکا کر بولتے ہوئے بات ہی ختم کر گئی تھی
پر آپو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پری ابھی بولتی حیاء اس کی بات کاٹ کر بولی تھی
چھوڑو پری سب زویا آپ اپنی تیاری کر لو چلوں جاؤ شاباش وہ زویا کو بولی تھی جو مسکرا کر وہاں سے چلی گئی تھی
سلال نے ائبرو اُٹھ کر حیاء کو دیکھ تھا جو اسے بالکل اگنور کر گئی تھی وہ لب بیچے حیاء کو ایک نظر دیکھ کر وہاں سے کار کی کی کیز لے کر باہر نکل گیا تھا
احد بھی آ رہا ہے کیا حیاء فریحہ اور پری دونوں کو محاتب کرتے ہوئے بولی تھی
جی انا تو ہو گا ان کا بھی تو ریسیپشن ہے پری اسے دیکھتے ہوئے بولی تھی
احد بھی غصے سے اس سے اگلے دن واپس چلا گیا تھا اور دوبارہ ابھی تک واپسی کو کوئی بھی اتاپتہ نہیں تھا
زویا اسے بہت دفع فون کر چکی تھی پر احد نے اس کے ساتھ کوئی رابطہ نہیں کیا تھا اسی لئے وہ بھی ابھی تک اپنے گھر ہی تھی واپس نہیں گئی تھی
کیسے ہوئے تم دونوں کے اگزمز حیاء ان دونوں سے پوچھنے لگی تھی
میرے تو کافی اچھے ہوئے ہیں پری کا مجھے نہیں پتہ فریحہ مسکراہٹ کے ساتھ پری کو دیکھ کر بولی تھی
اس کے کیسے اچھے ہو سکتے ہیں عالی کی یاد میں سوگ منا رہی ہے پری تو عالی گیا کسی اور کی گود میں حیاء دل جلانے والی مسکراہٹ سے بولی تھی
پلیز حیاء آپو اس کمینے انسان کی بات نہ کریں میرا دل دکھتا ہے پری لب بیچے بولی تھی
اوہ میری جان رو مت اللہ نے تمہارے لئے سب سے بہتر رکھا ہوا ہے اور وہ تمہیں مل رہا ہے حیاء اس کے پاس جا کر اسے اپنے ساتھ لگا کر بولی تھی
پری کی آنکھوں میں آنسو اگیے تھے پر وہ پھر بھی مسکرا دی تھی
پھر سلال کے آنے پر سب نے پیزا کھائے تھا اور وہ تینوں ڈرائیور کے ساتھ چلیں گئیں تھی واپس
تم نے کیا سوچا ہے کب آئے گا انس تمہیں چھوڑ کر کیا بھول گیا ہے اس نے تمہیں لاوارث سمجھ رکھا ہے سلال وہاں بیٹھا غصے سے بولا تھا حیاء کو
جب اس کا دل کرئے گا آ جائے گا تمہیں کیا تکلیف ہے حیاء اس کی بات کو سیریس نہ لیتے ہوئے بولی تھی
حیاء زندگی کوئی مزاق نہیں ہے اپنے بارے میں سوچوں اور دونوں ایک دفعہ مل کر فیصلہ کرو پرسوں ماما بھی آ جائیں گی میں نہیں چاہتا ان کو کسی بھی بات کا پتہ چلے اسی لیے بات کرو انس سے سلال اسے سمجھاتے ہوئے بولا تھا
حیاء اسے دیکھتے ہوئے اپنا رح سامنے ٹی وی کی طرف موڑ گئی تھی
❤️❤️❤️❤️❤️
ماضی
جیسے ہی حیاء کہ عمر بڑھنے لگی تھی وہ اپنے باپ کے ہر الفاظ کا مطلب بھی جانے لگی تھی
وہ اپنی ماں کی مشکلات کی وجہ خود کو سمجھنے لگی تھی اسی لئے کہی دفعہ خودکشی کرنے کی کوشش کر چکی تھی
ڈاکٹر کو چک کروانے پر پتہ چلا تھا کہ وہ
(Pstd)
نفسیاتی مریض کا شکار ہو گئی تھی وہ ہمیشہ خود میں گم ہونے لگی تھی ماما کو روتے دیکھتی تو ان کو ہنسانے کی کوشش کرتی
پھر ایک دن ایسا آیا کے اس کی جوڑوا بہنوں کی پیدائش کا پتہ چل تو عاقب شاہ ان کو چھوڑ کر واپس اپنی دنیا کا رح کر گیا تھا
نورین کو بے سہارا چھوڑ کر اس مشکل وقت میں شانزے نے نورین کی مدد کی تھی
شانزے کو ایک بیٹا بھی ہمیشہ اس کے ساتھ ان کے گھر آتا تھا
نورین اب گھر بیٹھے اپنی چار بیٹیوں کی کفالت کرنے لگی تھی بہت سے محتصر کاموں کو کرنے لگی جس سے ان کے گھر کا گزارہ ہونے لگا تھا
وقت جیسے تیسے گزار رہا تھا زرتاشہ اور زویا بھی بڑی ہوگئی تھیں
عادل کو جب پتہ چلا سب کا تب تک عادل اپنی زندگی میں آگے بڑھ چکا تھا اس کی شادی ہو چکی تھی اور اس کا بھی ایک بیٹا تھا
پر پھر بھی اس نے شانزے کے توسط سے نورین اور اس کی فیملی کا ویزہ لگاوا کر نورین کی چھپے طریقے سے مدد کی تھی
شانزے خود بھی اپنے میاں کے ساتھ اور دو بیٹوں کے لندن ہی رہتی تھی
وہ اپنے ماں باپ سے ملنے آتیں تھی اور اب وہ بس نورین کے لیے ابھی آئی تھی لندن سے ساتھ اس کا بیٹا بھی آیا تھا
نورین نے بھی لندن شیفٹ ہو کر اپنی پڑھائی کے ساتھ اپنی بچیوں کو بھی سیٹل کرنا شروع کر دیا تھا
حیاء اب آگے سے بہتر ہونے لگی تھی پر باپ کے الزامات نے اتنا اثر کیا تھا کے حیاء نے رونا چھوڑ دیا تھا اندر سے خود کو ایک ہول میں بند کر لیا تھا
اپنے آپ کو اس نفسی دور سے بچانے کے لیے دوائیوں کا استعمال کرنے لگی تھی راتوں کو اُٹھ جاتی تھی
فریحہ خود کو سنبھال چکی تھی وہ اپنی پڑھائی پر توجہ دینے لگی تھی
پر اس نے شادی جیسے لفظ پر بھروسہ کرنا چھوڑ دیا تھا چھوٹی سی عمر میں ان کے تجربات نے ان کو ان کی عمروں سے بھی بڑا کر دیا تھا
پھر ان کی زندگی میں روحان آیا تھا شانزے کا بیٹا وہ حیاء کے ساتھ ہائی سکول میں پڑھتا تھا حیاء اس کے ساتھ رہ کر پھر سے جینے لگی تھی
مسکراتی تو وہ تھی پر وہ اندر سے بھی مسکرانے لگی تھی یہ نورین کو لگتا تھا پر کوئی بھی حیاء کے دل کو نہیں جان پایا تھا ابھی تک و
نورین حیاء کو ٹھیک ہوتے دیکھ کر خوش تھی
پر وہ نہیں جانتی تھی کہ ایک طوفان پھر سے ان کی زندگیوں کو تباہ کرنے کے لیے آ رہا ہے جو اس دفعہ سچ میں ان کی زندگی کو پھر سے کہی سال پیچھے لے جائے گا
❤️❤️❤️❤️
ماضی
ہیلو حیاء کسی ہو روحان اس کے پاس آ کر بولا تھا
السلام علیکم میں ٹھیک ہوں آپ سناؤ کیسے ہو وہ مسکراتے ہوئے سلام کر کے بولی تھی
وعلیکم السلام تم تو مجھے شرمندہ ہی کر دیتی ہو یار وہ سر پر ہاتھ پھیر کر بولا تھا
نہیں تو ایسی بات نہیں ہے وہ پھر سے اپنی کتاب کی طرف متوجہ ہو گئی تھی یار تم تو میری سب سے اچھی پیاری سی دوست ہو وہ اس کے گال کھنچتے ہوئے بولا تھا
روحان پلیز مجھے ہاتھ مت لگایا کرو وہ اس کے ہاتھ کو پیچھے کرتے ہوئے بولی تھی
سوری یار ہم تو دوست ہے نہ وہ مسکراتے ہوئے اس دیکھ کر بولا تھا
جی دوست ہیں پر دوستوں کی ایک لمیٹ ہوتی ہے اور مجھے نہیں پسند یہ سب اسی لئے پلیز دور رہا کرو
میں چلتی ہوں ماما ویٹ کر رہیں ہوں گی حیاء اسے بولتے ہوئے وہاں سے نکل گئی تھی
کب تک بھاگوں گی مجھ سے حیاء میڈم انا تو تمہیں میرے پاس ہی ہے تم روحان کی طلب بن گئی ہو اور جو چیز میری طلب بن جائے اسے میرا ہونا ہی پڑھتا ہے وہ مسکراتے ہوئے خود سے بولتے ہوئے وہاں سے چلا گیا تھا
❤️❤️❤️❤️❤️
ماضی
کیسا رہا دن میری بیٹی کا حیاء جب اندر آئی تھی تو نورین اس سے مسکراتے ہوئے بولی تھی
اچھا تھا ماما وہ ان کے گال پر پیار دیتے ہوئے بولی تھی
فریحہ بھی آ گئی ہے کیا حیاء صوفے پر بیٹھتے ہوئے بولی تھی
ہاں آ گئی ہے روحان کیسا ہے شانزے بھی آج آنے کا بول رہی تھی بول رہی تھی کے آج رات کو چکر لگائے گی
وہ ٹھیک ہے ماما پتہ نہیں آج کل اجیب سا ہو گیا ہے مجھے ایسا ٹریٹ کرتا ہے جیسے میں کوئی چھوٹی بچی ہوں حیاء منہ بسور کر بولی تھی
تمہیں کیسا لگتا ہے حیاء روحان نورین سے شانزے نے آج آنے کی بابت کچھ لفظوں میں سمجھائی تھی اسی لیے وہ حیاء سے پوچھ رہیں تھی
اچھا ہے ماما میں نے اس کا اچار تو نہیں ڈالنا جو آپ اتنے تجسس سے پوچھ رہیں ہیں
اگر میں اسے تمہارے لیے چن لوں تو تم میری بات مان جاؤ گی وہ اسے دیکھتے ہوئے بولی تھی جو ان کو خیران نظروں سے دیکھا رہی تھی
ماما کیسی باتیں کر رہیں ہیں آپ پلیز بس کر دیں آگے ہم کم دھوکے تو نہیں کھا چکے جو اب پھر سے بابا کی لگائی گئی تہمتیں آپ پر اور مجھ پر مجھے ناجائز اولاد کہنا آپ بھول تو نہیں سکتی ہیں
یہ ہمارا پیچھا کبھی بھی نہیں چھوڑ سکتی یہ ہی چیز ہمارے آنے والے کل کو بھی برباد کر دے گی
کوئی بھی انسان نہیں چاہتا کہ اس کی بیوی ناجائز اولاد ہو میرا باپ مجھے اپنی بیٹی نہیں مانتا ماں آپ سمجھنے کی کوشش کریں
کل کو روحان بھی درکار دے گا مجھے
حیاء شانزے سب جانتی ہے بیٹا اور وہ اسی سلسلے میں آج آرہی ہے وہ بھی روحان کے کہنے پر نورین کے لفظوں نے حیاء پر بمب گرایا تھا
ماما پلیز ان کو روک لیے مجھے روحان میں کوئی دلچسپی نہیں ہے حیاء بولتے ہوئے اَٹھ کر جانے لگی تھی
میں ہاں بول دوں گی شانزے کو اچھا ہے روحان تمہارے لیے حیاء
حیاء نے جاتے ہوئے اپنی ماں کے الفاظ سنیں تھے اور سختی سے اپنے لب بیچے اپنے کمرے میں چلی گئی تھی
اللہ روحان کو میری بیٹی کے حق میں بہتر کرنا انہوں نے دل سے دعا کی تھی
پر وہ نہیں جانتی تھیں کے جس کو وہ اس کا محافظ بنا رہیں ہیں یہ ہی روحان ان کی بیٹی کو ایک گہرا زہم دینے والا ہے
❤️❤️❤️❤️❤️
ہیلو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
السلام علیکم کیا میری جان مجھے تو تم بھول ہی گی ہو ریان نے آنیہ کو فون کیا تھا اور اس کے فون اُٹھانے پر شروع ہو گیا تھا
تم ٹھرکی آفیسر تمہیں چین نہیں ہے کیا ایک پل بھی آنیہ غصے سے بولی تھی
جان وہ بندہ جو تم نے اپنی گاڑی کے نیچے دے کر مار دیا ہے اس کی رپورٹ کارڈ ابھی بھی میرے پاس ہے تو جو بھی بولنا ہوا سوچ سمجھ کر بولنا ریان کمینی سی ہنسی ہنس کر بولا تھا
بہت ہی کوئی کمینے ہو تم سچ میں ریان مجھے بیلک میل کرنا بند کر دو غلطی سے ہوا تھا مجھے سے میں نے جان بوجھ کر نہیں کیا تھا
کوئی بات نہیں جان غلطی سے ہی سب ہوتا ہے میں بھی کیا کروں میرا دل بھی تم پر اب غلطی سے آ گیا ہے اور اب صرف تمہارے پیار کی ہی طلب کرتا ہے اسی لئے خود کو تیار رکھوں جلدی ہی تم میری پناہوں میں ہو گی
میں تمہیں خود سے دور کبھی بھی نہیں جانے دوں گا جاناں وہ مسکراتے ہوئے بولا تھا
تمہارا ٹھرکپن ہو گیا ہو تو میں سونے لگی ہوں
ہاں جی سو جائیں جتنا سونا ہے سو لو اوکے بعد میں شکایت مت کرنا میری نیند پوری نہیں ہونے دیتے آپ ریان منہ بنا کر بولا
آنیہ اس کی بات کا مطلب سمجھ کر سرخ ہو گئی تھی
بہت ہی کوئی کمینے انسان ہو تم ریان
جان ابھی کمنیہ پن تو تم میرا دیکھو گی شادی کے بعد وہ ہنستے ہوئے بول تو آنیہ کا دل زور سے ڈھڑکنے لگا تھا
دل کی رفتار کو بولو اتنی سی بات پر تیز نہ ہو ابھی تو یہ کچھ بھی نہیں ہاہاہاہاہا
بائے ٹھرکی انسان آنیہ دل کو سنبھال کر فون بند کرتے ہوئے لیٹ کر سو گئی تھی پر ابھی بھی ریان کی باتیں اس کے کانوں میں گونج رہی تھیں
یہ پہلا احساس ہے میرا ریان کے کوئی مجھے بھی چاہتا ہے میرا دل تمہاری باتوں سے ڈھڑکنے لگا ہے
محبت میرے دل پر دستخط دینے لگی ہے ریان خان میرا خان آنیہ خود سے ہی بولتے ہوئے مسکرا دی تھی
جاناں جب تم آؤ گی میرے پاس تمہیں حود سے محبت کرنے پر مجبور کر دوں گا ریان مسکراتے ہوئے بولا تھا
دونوں طرف محبت اپنی جگہ بنا چکی تھی اب وقت ہی بتا سکتا تھا کے آگے کیا ہو گا
