Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 18

میرا روم کدھر ہے مجھے آرام کرنا ہے حیاء نے سامنے بیٹھی آمنہ شاہ سے پوچھا تھا
ایک منٹ بیٹا سکینہ آپ کو آپ کے روم میں چھوڑ آئے گی وہ سکینہ کو آواز دے کر اپنے پاس آنے کو بول رہیں تھیں
آرام تو میں تمہیں کرواتا ہوں حیاء ایک دفعہ اکیلے ہاتھ لگو بس میرے انس دانتوں کو پستے ہوئے حیاء کو دل ہی دل میں بولا تھا جو بے باکی سے کسی کی بھی پرواہ کیے بینا بول رہی تھی
سکینہ جاؤں حیاء بیٹی کو انس کے روم میں چھوڑ آؤ وہ سکینہ کو حیاء کی طرف اشارہ کر کے بولیی تھیں
آنٹی میں نے انس کے روم کا نہیں بولا میں نے میرے روم کا بولا ہے حیاء کے بولنے پر انس اور آمنہ ایک ساتھ سب نے اس کی طرف دیکھا تھا
پر بیٹا تم انس کے ساتھ ہی رہو گی اسی لئے بولا ہے
آپ کو کس نے کہا آنٹی میں انس کے ساتھ انس کے روم میں رہوں گی میں نہیں مانتی ابھی اس رشتے کو زبردستی کی ہے آپ کے بیٹے نے میرے ساتھ اتنی جلدی مان جاؤں اس اکڑوں مزاج انسان کو اپنا مزاجی خدا کبھی نہیں میں تو صرف ماما کے لیے اس گھر میں آئی ہوں ورنہ تو میں اس گھر میں قدم نہ رکھتی اسی لئے مجھے کوئی میرا اپنا روم دیں جہاں میں اور زویا رہیں گیں
وہ آئبرو اُٹھ کر احد کی طرف دیکھ کر بولی تھی جو اب منہ کھولے اسے دیکھ رہا تھا
جب تک میرا روم نہیں سیٹ ہو جاتا میں انس کے روم میں شیفٹ ہو جاتیں ہوں انس احد کے روم میں سو جائے گا ٹھیک ہے وہ ان کی طرف دیکھ کر ایک فیصلہ کرتے ہوئے بولتی سب کو خیران کر گئی تھی
انس غصے سے اور احد بےچارگی لیے حیاء کو دیکھ رہا تھا جو خود تو اطمنان سے کھڑی تھی پر انس اور احد کا سکون چھین چکی تھی
حاضر سکون سے بیٹھا ان دونوں کو مسکراتے ہوئے دیکھ کر انجوائے کر رہا تھا یہ جانے بغیر کے اگلا دھماکا وہ اس پر کرنے والی ہے
اور فریحہ بھی میرے ساتھ میرے کمرے میں رہیے گی جب تک اس کے اگزمز نہیں ہو جاتے میں اس کی پڑھائی پر کوئی کمپرومائز نہیں کر سکتی
حیاء کی بات سے حاضر جو بہت سکون سے بیٹھا ان دونوں کو دیکھ رہا تھا ماتھے پر بل ڈالے سیدھا ہوا تھا
جس سے احد اور انس نے ایک دوسرے کو دیکھ کر اب اس کی خالت کو انجوائے کیا تھا
حیاء آپو میں بھی آپ کے ساتھ سو جاؤ پری کے بولنے پر سب نے اسے دیکھا تھا اور اب سب حیاء کی طرف دیکھ رہے تھے وہ اس کا ریکشن دیکھنا چاہتے تھے پری کے لیے
یہ بھی کوئی پوچھنے کی بات ہے تم بھی ہمارے ساتھ سوؤں گی تم دونوں کو پڑھاؤں گی میں
حیاء کی باتیں سن کر وہاں بیٹھی خواتین نے اپنی ہنسی کو بہت مشکل سے کنٹرول کیا تھا
سکینہ وہ بڑے والا روم صاف کروا دو یہ چاروں وہی رہیں گے خنا شاہ سب کے چہروں کو دیکھ کر اپنی ہنسی کو مشکل سے روکتے ہوئے اس سے بولی تھیں
اُن تینوں کی شکلیں دیکھنے والی تھیں
ظالم سماج ہے تمہاری بیوی خود تو تمہارے ساتھ رہتی نہیں ہماریوں کو بھی لے کر اُڑ گئی ہے اتنی مشکل سے اتنا ڈھونڈنے کے بعد تو میری معصوم سی خسینہ ملی تھی اور تمہاری ظالم کھڑوس بیوی نے سارے راستے بند کر دیے میرے احد انس کے کان میں اپنے دل کی باتیں کرتا رونے کی ایکٹنگ کر رہا تھا
بس کر دے ناکام عاشق کہی کے ہم سب بھی تیرے ساتھ ہیں وہ دیکھا حاضر لالہ تک کی نہیں چلنے دی اس نے تو اور میں کیا چیز ہیں اس میری جنگلی پری کے اگے
کیا کیا کہا جنگلی بھی اور پری بھی واہ انس توسی گریٹ ہو احد کے بولنے پر انس کا دل کر رہا تھا وہ انچی آواز میں قہقہہ لگائے
ہاں یار لڑنے میں جنگلی اور شکل میں میری چشمہ والی پری انس ٹھنڈی آہ بھر کر بولا تھا
خنا بہوں سب جلدی سے کھانا لگاؤ بچیاں بھوکی ہوں گی اور ویسے بھی کھانے کا وقت ہو رہا ہے
ہاں میں نے تو صبح کا کچھ نہیں کھائے اور نہ حیاء آپو نے زویا بچوں کی طرح منہ پھیلا کر بولی تھی
احد نے مسکراتے ہوئے بہت دلچسپی سے اسے دیکھا تھا آج اس طرح اسے پہلی دفعہ بولتے ہوئے سن رہا تھا
تھوڑی دیر بعد خنا سب کو ڈائنگ ٹیبل پر بلانے کے لیے آئیں تھیں سب ہی اَٹھ کر چلے گئے تھے پری زویا کو بھی اپنے ساتھ لے گئی تھی
چلو حیاء تم بھی کچھ کھا لو فریحہ کے بولنے پر حیاء نے سر اُٹھا کر اس کی طرف دیکھا تھا
مجھے نہیں بھوک فریحہ میرا دل نہیں چاہ رہا حیاء پھر سے چہرا نیچے کیے اپنے ناخنوں کو چھبا رہی تھی
حیاء تمہیں میڈیسن بھی کھانی ہے ایسے کیسے چلے گا تمہاری طبیعت خراب ہو جائے گی ورنہ اَٹھ جاؤ شاباش فریحہ اسے بچکارتے ہوئے بولی تھی
کس چیز کی میڈیسن کھانی ہے حیاء تم نے انس جو پاس ہی کھڑا سب سن رہا تھا وہ بولا تھا
پاگل پن کی دوائیاں کھاتیں ہوں میں پاگل پن کے دورے پڑھتے ہیں مجھے وہ انس پر غصہ کرتے ہوئے بولی تھی
سکینہ آنٹی ہو گیا روم صاف حیاء اوپر سے آتی ہوئی سکینہ سے بولی تھی
جی جی چھوٹی بہوں ہو گیا ہے صاف چھوڑ اؤں آپ کو آپ کا سامان بھی رکھ دیا ہے بس آپ بولیں گی تو سیٹ بھی کروادیتی ہوں
نہیں نہیں آپ مجھے بس وہاں اس روم میں چھوڑ آئیں باقی میں کر لو گی
فریحہ تم اور زویا بھی آ جانا کھا کر تب تک میں آرام کر لو مجھے بھوک نہیں ہے وہ بولتے ہوئے انس کو نظرانداز کرتیں وہاں سے اوپر روم کی طرف چلی گئی تھی
انس بس اسے غصہ سے جاتے ہوئے دیکھتا ہی رہ گیا تھا
تم سیدھی ہونے والی ہوئی ہو حیاء جلدی ہی بدو بست کرنے والا ہوں تمہارا ایسے تو تم ٹھیک ہونے سے رہی وہ بولتے ہوئے ڈائنگ ٹیبل کی طرف چلا گیا تھا
حاضر جب کافی دیر فریحہ کو آتے نہ دیکھ تو اَٹھ کر اس کے پاس گیا تھا جہان وہ گم سی اوپر سیڑھیوں کی طرف دیکھ رہی تھی
ہوں کہاں گم ہو وہ اس کے گال کو اپنے الٹے ہاتھ سے سہلا کر بولا تھا ایک ہاتھ کمر پر رکھ کر اسے اپنے پاس کیا
وہ بس گم ثم سی ہوئی اسے دیکھ رہی تھی
حاضر نے مسکراتے ہوئے اس کے چہرے پر پھونک ماری تھی جس سے فریحہ ہوش میں آتے ہوئے اس سے پیچھے ہونے لگی تھی
میرے خیالوں میں گم ہو کیا حاضر اس کے چہرے کے ایکسپریشن دیکھتے ہوئے مسکرا کر بولا تھا
وہ اسے خود سے پیچھے کرتے ہوئے وہاں سے ڈائنگ کی طرف چلی گئی تھی
حاضر نے آگے بڑھ کر اس کے ہاتھ کو اپنے ہاتھ میں لیتے ہوئے آگے بڑھ گیا تھا اس کے ساتھ
حیاء نہیں آئی خنا شاہ نے فریحہ کے بیٹھنے پر اس سے پوچھا تھا
نہیں وہ نہیں کھانا چاہتی کھانا جب بھوک لگے گی تو تو کھا لے گی فریحہ نے سر جھک کر جواب دیا تھا
پر آپو ماما نے بولا تھا زویا ابھی بول ہی رہی تھی کہ فریحہ کے بولنے پر چپ کر گئی
زویا چپ کر کے کھانا کھاؤں فریحہ نے اسے گھوری سے نوازا تھا
انس نے ائبرو اُٹھا کر تجسّس سے زویا اور فریحہ کی طرف دیکھا تھا
فریحہ کے بولنے پر کسی نے دوبارہ حیاء کے بارے میں نہیں پوچھا تھا
بولو زویا کیا کہا تھا ماما نے انس کے پوچھنے پر زویا نے پہلے انس اور پھر فریحہ کی طرف دیکھا تھا
کھچ۔۔۔۔۔۔۔۔۔کچھ نہیں بولا ماما نے وہ بولتے ہوئے پھر سے کھانے پر جھک گئی تھی
فریحہ نے بھی کانپتے ہوئے ہاتھوں سے کھانے پر جھک گئے تھی کسی نے نوٹ کیا نہ کیا پر انس اور حاضر نے اس کا کانپتے ہوئے نوٹ کیے تھے
❤️❤️❤️❤️
❤️❤️❤️❤️
فریحہ اپنے روم میں آ کر سو جانا حاضر اوپر جاتیں ہوئی فریحہ کو بولا تھا جو اسے کوئی بھی جواب دیے بینا زویا کو لے کر اوپر چلی گئی تھی
کھانا کھا لینا تھا تم نے حیاء آج نہ میڈیسن بھی نہیں کھائی نہ تم نے وہ حیاء کے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے بولی تھی جو صوفے پر لیٹی ہوئی تھی اوپر کمبل لے کر تقریباًن سو چکی تھی
گاڑی میں کھایا تھا سینڈوچ میں نے اور اب فریحہ نیند آ رہی ہے مجھے تم لوگ بھی سو جاؤ میں یہاں سو جاؤں گی تم تینوں وہاں بیڈ پر سو جانا حیاء نیند میں بولی تھی
ٹھیک ہے وہ اُٹھ کر بیڈ پر ا گئی تھی موبائل کی رنگ پر اپنے موبائل کو دیکھنے لگی جس پر حاضر کا میسج آیا ہوا تھا
Fariha come to your now
فریحہ نے میسج پڑھ کر موبائل کو سائیڈ پر رکھا دیا تھا اور خود اپنے بیگ کی طرف چلی گئی تھی جہاں ابھی سارا سامان اپنی جگہ پر رکھنے والا تھا
زویا تم نے چینج نہیں کرنا کیا فریحہ نے بیگ کھولتے ہوئے زویا کو آواز دی تھی اس کا جواب نہ پا کر پیچھے دیکھا تو اسے سوئے ہوئے پا کر مسکرا دی تھی
کیا کر رہی ہو فریحہ پری اندر آتے ہوئے فریحہ سے بولی تھی جو بیگ میں سے اپنے لیے کپڑے نکل رہی تھی
کچھ نہیں بس چینج کرنے کا سوچ رہی ہوں اسی لیے کپڑے نکل رہی تھی پلیز دروازہ بند کر دو کمرے کا فریحہ مسکرا کر بولی تھی
سو جاؤ پری تم بھی صبح کالج بھی جانا ہے ہے میں بھی چینج کر کے سو رہی ہوں نیند آ رہی ہے مجھے فریحہ اپنے کپڑے لے کر واشروم کی طرف جاتے ہوئے بولی تھی
حیاء آپو آپ کی کال آ رہی ہے پری حیاء کے پاس پڑھے موبائل کو بجتے دیکھا کر بولی تھی
کس کی کال ہے پری ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ حیاء نیند میں ڈوبی آواز میں بولی تھی
انس جانو لکھ ہے اوپر پری مسکراتے ہوئے بولی تھی
فون اُٹھا کر بات کر لو تم ہی تمہارا ہی لالہ ہے زیادہ مت ہنسوں میں نے نہیں اس نے گاڑی میں میرا موبائل لے کر اپنا خود کا نمبر اس نام سے سیف کیا تھا
ہیلو لالہ حیاء آپو تو سو رہیں ہیں جی دیتی ہوں پری فون اُٹھا کر اب حیاء کے پاس آئی تھی
یہ لے وہ آپ سے بات کرنا چاہتے ہیں پری نے اس کی طرف موبائل کر کے بولا تھا
فون اُٹھا کر باہر پھینک دو اب دوبارہ مجھے مت اُٹھانا پری سونے دو میرا سر دھک رہا ہے پلیز مجھے ریسٹ کی ضرورت ہے وہ پری کو بول کر پھر سے سو گئی تھی
کس کی کال ہے پری فریحہ باہر نکل کر بولی تھی لالہ کی انس لالہ کی
فون بند کر کے سو جاؤ اب تم بھی نہیں کرنا چاہتی وہ بات یہ نہ ہو حیاء ہم دونوں کو بھی اُٹھا کر باہر پھینک دیے اسی لیے اپنی جگہ سنبھالوں اور سوتیں بنو فریحہ اسے مسکرا کر بولتی ہوئی اپنے بستر میں گھس گئی تھی
پری فون بند کیے بینا فون حیاء کے پاس رکھ آئی تھی
فری حیاء آپو کو کیا ہوا ہے پری کے بولنے پر فریحہ نے اس کی طرف دیکھا تھا
کچھ نہیں ہوا پری بس تھک گئی ہے وہ سو جاؤ
❤️❤️❤️❤️
اہاہاہاہا ہاہاہاہاہا انس واہ تمہاری سہی واٹ لگنے والی ہے فون باہر پھینک دو مجھ سے کنٹرول نہیں ہو رہا کوئی تو مجھے روکوں احد انس کا مزاق بناتے ہوئے بولا تھا
تیری ظالم سماج بیوی ہماری بیویوں کو بھی ہمارے پاس نہیں آنے دے رہی کمینے اچھا ہوا تیرے ساتھ بہت چاہ تھا رخصتی کروانے کا ہمارا بھی کباڑا کروا کے رکھ دیا ہے ہائے میری معصوم خسینہ کو تو ٹھیک سے دیکھنے بھی نہیں دیا تیری جنگلی چڑیل نے احد ہنستے ہوئے اب اپنے دل کا بوجھ ہلکا کر رہا تھا
بکواس بند کر خبر دار جو اسے کچھ بولا اسے جنگلی صرف میں بول سکتا ہوں تمیز کے ساتھ رہ بڑی ہے تم سے رشتہ میں انس اپنی طرف سے روب سے بولا تھا
بڑا آیا شیر بنے والا میں کرتا ہوں سیدھا حیاء کو احد انس کی نکل اتار کر بولا تھا
آدھر حاضر لالہ کی ان کے ہاتھ نہیں آئی جو سچ میں معصوم ہے تو تمہاری چڑیل کیسے قابو آ جاتیں جو شیطان کی نانی ہے پوری
ہائے یہ میرے چھوٹے چھوٹے دکھ کوئی تو سمجھا دو مجھے میری معصوم سی پری سے ملوا دو احد رونے کی ایکٹنگ کرتے ہوئے بولا تھا
بس کر دو یہ احد اپنے ڈرمے سہی پھپھا کٹنی آنٹی لگ رہیے ہو تم اور نکلو تم دونوں میرے روم سے چلو شاباش یہ نہیں کہ بیوی نہیں ہے تو تم دونوں کو پاس سولا لوں گا چلو نکلوں ادھر سے حاضر ان کو اشارہ کرتے ہوئے بولا تھا
اوکے لالہ ویسے بھی ہم آپ کے پاس سونے بھی نہیں تھے والے آپ کا کیا بار رات کو ہمیں ہی بھابھی سمجھ کر جھپی شیپھی ڈال لو احد دروازے سے اپنا چہرا اند کرتے ہوئے بول کر بھاگ گیا تھا
دفع ہو جاؤ احد حد سے زیادہ بدتمیز ہو گیے ہو تم حاضر پیچھے سے اسے کشن مارتے ہوئے بولا تھا
تمہیں کیا انویٹیشن دینا پڑھے گا جانے کا حاضر اب انس سے بولا تھا جو احد کی بات سے مسکرا رہا تھا
ٹھیک ہے لالہ جا رہا ہوں آپ تو تپ گے ہوئے ہیں آج انس بھی بولتے ہوئے بھاگ گیا تھا
دفع ہو جاؤ تم ہی تو اس فساد کی جڑ کو لے کر آئے ہو حاضر سوچتے ہوئے لیٹ گیا تھا
ایک دفعہ ہاتھ تو لگ جاو میرے فریحہ سارے حساب برابر کروں گا میرے بولنے پر بھی نہیں آئی تم دیکھ اب میں کرو گا تمہیں سیدھا
❤️❤️❤️❤️❤️
اف کیا ہے یار روم میں پانی بھی نہیں رکھ سکتیں یہ
لڑکیاں اب خود پہلے کچن ڈھونڈنا حیاء اور پھر پانی لے کر آنا پیاس بھی اتنی زیادہ لگی ہے کیا کروں جانا تو پڑھے گا چلا حیاء ہمت کر اور اُٹھ جا حیاء کمبل میں سے نکل کر باہر پانی لینے کے لیے گئی تھی
کہا جانا ہے وہ اس طرف گئیں تھیں آنٹی وہ والی یہاں اس طرف ہو گا یقیناًن کچن وہ ہال سے گزرتے ہوئے دوسری طرف جاتیں بولی تھی
شکر ہے مل گیا وہ کچن میں پہچا کر بولی تھی پانی پینے کے بعد اوپر جانے لگی تھی جب وہ ڈائنگ ہال میں پیچھی تو سائیڈ سے گزر کر وہاں سے باہر نکلنے لگی تھی کے وہاں کی رہداری سے کسی نے اسے اپنی طرف کھینچا تھا حیاء کو لگا وہ انس ہو گا
انس چھوڑو مجھے بدتمیز انسان وہ چلا کر اپنی کلائی اس سے چھڑانے کی کوشش کرتے ہوئے بولی تھی جو اسے دیوار کے ساتھ لگا چکا تھا
ششش آواز نہیں میں انس نہیں ہوں دوسری طرف کی آواز سے حیاء نے جب اس کی طرف دیکھا تو اسے مقابلہ پر اور بھی غصہ آ گیا تھا
ہمت بھی کیسے ہوئی تمہاری مجھے چھونے کی حیاء امن کو دیکھ کر اس کی گرفت سے خود کو چھوڑواتے ہوئے بولی تھی
ہمت کی بات مت کرو جاناں اس دفعہ انس شاہ مجھ پر بازی لے گیا میری محبت مجھ سے چھین کر مجھے زندگی کی سب سے بڑی ہار دی ہے انس شاہ نے پر جلدی ہی میں اس ہار کو جیت میں بدل لوں گا میں چھین لوں گا انس سے تمہیں حیاء اپنا بنا لوں گا بہت جلد زبردستی کی ہے نہ اس نے تمہارے ساتھ
وہ ابھی اور بھی کچھ بول رہا تھا حیاء کو لگا اس کے کان سن سے کاسر ہو گیے ہیں سب وہ پھٹی پھٹی آنکھوں سے بس امن کو دیکھ رہی تھی جو اس کے لیے ایک نئی مصیبت بن کر آ گیا تھا
حیاء کا دوسرا ہاتھ اُٹھا تھا اور امن کے چہرے پر اپنا نشان چھوڑ گیا تھا امن اس کے تھپڑ سے پیچھے ہوا تھا
خبر دار جو آئندہ کوئی بھی بکواس کی ہو مجھ سے میں کوئی غلام یا باندھی ہوں تم دونوں بھائیوں کی جب جس کا دل کیا ضد اور انا کا مسئلہ بنا کر حاصل کر لیا مجھے حیاء غصے سے دیکھتے ہوئے بولتی امن کو خیران چھوڑ کر وہاں سے جا چکی تھی
پیچھے کھڑے انس کو امن کو پڑھنے والے تھپڑ نے سکون دیا تھا وہ کھل کر مسکرا تھا اور مسکراتے ہوئے واپس اپنے روم کی طرف چلا گیا تھا
ہاہاہاہاہاہا میری جنگلی سی حیاء آج تو خوش کر دیا تم نے امن شاہ کو اس کی اوقات دیکھا کر انس سوچتے ہوئے وہاں سے نکل گیا تھا
جتنا مرضی غصہ کر لو حیاء ہونا تو تم کو میرا ہی ہے امن شاہ کا وہ اپنے گال پر ہاتھ رکھ کر وہاں سے چلا گیا تھا
❤️❤️❤️❤️❤️
حیاء سب سے پہلے سوئی تھی تم اور سب اُٹھ گئے ہیں تم ابھی تک نہیں اُٹھی ہو اُٹھ بھی جاؤ یہ کوئی ٹائم تو نہیں ہے سونے کا اب دیکھوں تو سہی دس بجنے والے ہیں یار اُٹھ بھی جاؤ میری پیاری سی بہن فریحہ حیاء کا کمبل کھنچتے ہوئے ساتھ ساتھ اس کا اُٹھ بھی رہی تھی
اوکے یار اُٹھ گئیں ہوں تم لوگ چلو میں دس منٹ میں فریش ہو کر آئی اور تم کالج کیوں نہیں گئیں دونوں حیاء نے فریحہ سے پوچھا تھا
وہ مجھ سے اُٹھا نہیں گیا اسی لیے اور پری کا تو آگے ہی دل نہیں کرتا جانے کا فریحہ منہ بنا کر بولتی ہوئی باہر نکل گئی تھی
حیاء بھی کچھ دیر بعد فریش ہو کر باہر آئی تھی وہ ابھی بھی رات والے کپڑوں میں تھی ڈھیلے سے ریڈ کلر کے شرٹ ٹروزر پر ہم رنگ کا ڈوپٹہ لیے آنکھوں پر گلاسز کو ٹھیک کرتے ہوئے چل رہی تھی
اسلام وعلیکم وہ علیشہ کو کمرے سے باہر نکلتا دیکھا کر سلام کیا تھا
وعلیکم السلام کیسی ہو بیٹا آپ وہ اس کے سر پر پیار دیتے ہوئے بولیں تھی آخر کو وہ ان کے اکلوتے بیٹے کی بیوی تھی اور اوپر سے پسند بھی تھی انس کی ان کی نظر میں
جی ٹھیک ہوں آپ ابھی اُٹھ کر نیچے جا رہیں ہیں وہ ان سے بولی تھی
نہیں بیٹا ایک تمہارا میاں ہے جو اُٹھنے کا نام نہیں لیتا اسی کا کمرا ہے اسی کو اُٹھانے کے لیے آئی تھی پر مجال ہو جو بارہ سے پہلے اُٹھ جائیں
انٹی آپ جائیں میں آج خود اپنے مجازی خدا کو جگا کر لے کر آتیں ہو آپ چلیں میں بس آئی وہ پراسرا سی مسکراہٹ کے ساتھ بولی تھی
علیشہ شاہ مسکرا کر اس کے سر پر ہاتھ رکھ کر چلی گئیں تھیں
اب دیکھوں انس شاہ تمہیں کیسا مزاہ چکھاتیں ہوں میں تم کو وہ اس کے کمرے میں داخل ہوتے ہوئے شطر سی مسکراہٹ لیے بولتی اس کی طرف بڑھی تھی
اس کے پاس پڑھا ہوا پانی کا پورا جگ اَٹھ کر اس کے سر پر پھینک چکی تھی اور خود دروازے کے پاس جا کر تماشہ دیکھنے لگی
انس پانی گرنے سے ہڑبڑا کر اُٹھا تھا اور حیاء کے قہقہہ لگانے سے اسے ساری بات سمجھ آئی تھی وہ غصے سے اس کی طرف بڑھا تھا جو قہقہہ لگاتے ہوئے باہر بھاگی تھی انس بھی اسے آوازیں دیتے ہوئے اس کے پیچھے بھاگا تھا
حیاء روک جاؤ آج میں تمہیں چھوڑوں گا نہیں وہ حیاء کے پیچھے بھاگتے ہوئے بولا تھا جو اب بھاگ کر لاؤنچ میں آ گئی تھی جہاں سب بڑے بیٹھے ہوئے کچھ باتیں کر رہے تھے
ہائے بڑی بی بچا لیں مجھے آپ کا پوتا میرا قتل کرنے؛ والا ہے حیاء بھاگتے ہوئے بڑی بی کے پاس بیٹھا گئی تھی جو حیاء کے اس رویہ سے خوش ہوگئیں تھیں
انس کو دیکھ کر سب نے قہقہہ لگایا تھا جو پورا بیگھا ہوا تھا کپڑے بال گیلے ہو چکے تھے
آپ سب ہنس رہیے ہیں میں چھوڑوں گا نہیں اس حیاء کو کیا خال کیا ہے دیکھے اس نے میرا وہ بڑی بی کے پاس بیٹھی حیاء کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولا تھا جو بہت مزے سے بڑی بی کے بھگل میں بیٹھی دل جلانے والی مسکراہٹ لیے انس کو دیکھ رہی تھی
نہیں ایسی کوئی بات نہیں ہے یہ اُٹھ نہیں رہا تھا تو مجھے اس کو جگانے کا یہ طریقہ سب سے اچھا لگا تو اسی لیے پھر میں نے یہ طریقہ اپنایا ہے وہ معصومیت کے سارے ریکارڈ توڑتے ہوئے بولی تھی
ٹھیک ہے ٹھیک ہے انس جاؤ اب جا کر چینج کر لو جاؤ شاباش حیاء کو کچھ کہنے کی ہمت بھی مت کرنا چلو جاؤ عالیشان کے بولنے پر وہ اسے وارن کرتے ہوئے بولا تھا
دیکھتی جاؤ تم اس کا بدلہ تو میں لے کر رہوں گا وہ اس کو انگلی دکھاتے ہوئے بولتا وہاں سے چلا گیا تھا پیچھے حیاء اس کو زبان چڑھائی تھی
آجاؤ حیاء بیٹا ناشتہ کر لو آپ بھی آمنہ کے بولنے پر وہ مسکراتے ہوئے ڈائنگ ہال کی طرف چلی گئی تھی
پیچھے سب حیاء کے اس روپ کو دیکھ کر مسکرا دیے تھے
❤️❤️❤️❤️❤️
زرتاشہ کو میں چھوڑ دوں گا اور لے بھی آئے کروں گا پر جب تک اگزیمز نہیں شروع ہو جاتیں آپ تب تک اس کو رہنے دیں جانے کو میں اس کو گھر ہی پڑھا لوں گا اور یہ اگزیمز دے لے گی
وہاں اکیلے کیسے جائے گی اسی لئے آپ حیاء کو بھی کال کر کے پوچھ لیں اب یہی بہتر ہے کہ دونوں صرف اگزیمز ہی دیں تو اچھا ہو گا
سلال نورین سے ناشتہ کرتے ہوئے بولا تھا جو غور سے اس کی باتیں سن رہیں تھیں
ہم ٹھیک ہے پھر تو مجھے بس یہ ہی چاہیے تھی کہ یہ اچھی تعلیم حاصل کر سکے وہ مسکراتے ہوئے سلال سے بولیں تھیں
آپ کی بھی ٹکٹ بوک کروا دی ہے میں نے اور حیاء سے بات ہوئی تھی میری وہ سب ٹھیک ہے پریشان مت ہوئیے گا پر پھر کرتا ہوں اسے کال زر اور زویا کے سکول کے لیے
ہماری ٹکٹ کہاں کی بک کروائی ہے تم نے عادل صاحب مسکرا کر بولے تھے
نورین کے حیاء لوگوں کے نام سے ان کی آنکھوں میں نمی آ گئی تھی جیسے سلال اور عادل صاحب نے دیکھ لیا تھا پر بات بدلنے کے لیے عادل نے سلال سے پوچھا تھا
آپ لوگوں کے ہنی مون کی ٹکٹیں ہیں اور زرتاشہ کے پاس میں ہوں اس کے لیے پریشان مت ہوں وہ مسکراتے ہوئے زرتاشہ کی طرف دیکھ کر بولا تھا جو سلال کی بات سن کر خیران ہوتے ہوئے اب لب چبا کر سلال کو رونے والی شکل سے دیکھ رہی تھی
اب تو آؤ گی نہ تم میرے ہاتھ جا لینے دو بابا اور نورین آنٹی کو وہ زرتاشہ کے پاس اس کے کان میں جھکتے ہوئے بولا تھا
جبکہ نورین اور عادل آپس میں باتیں کر رہے تھے اسی لئے سلال اور زرتاشہ کی طرف دھیان نہیں تھا