Rate this Novel
Episode 37
ناشتہ کرو اُٹھ کر حاضر کمرے میں آیا تھا ہاتھ میں پکڑا ناشتہ ٹیبل پر رکھا تھا
فریحہ کو دیکھا کر گہری سانس ہوا میں چھوڑی تھی اپنا غصہ ٹھنڈا کرنے کی کوشش کرتے ہوئے فریحہ کی طرف بڑھا تھا جو بیڈ کے پاس نیچے بیٹھے سر گھٹنوں میں دیے رونے میں مصروف تھی
فریحہ کیوں کر رہی ہو تم میرے ساتھ اس طرح چاہتی کیا ہو تم مجھ سے یار کیا کروں میں وہ اس کے پاس بیٹھا اسے اپنے سامنے کرتے ہوئے اپنا چہرہ اس کے چہرے کے قریب کرتے ہوئے بولا تھا
خود تم نے ہی بولا تھا مجھے کے دور رہیں مجھ سے دور جاؤں تو پھر بھی تم روتی ہو اور پاس تم آنے نہیں دیتی میں نہیں سمجھ پا رہا تمہیں وہ اس کے ماتھے سے اپنا ماتھا ٹکا کر بولا تھا
حاضر۔۔۔۔۔۔۔ آپ ۔۔۔۔۔۔۔۔ کو مجھے ۔۔۔۔۔بتانا۔۔۔۔۔ تو چاہیے تھا معافی مانگنی چاہیے تھی۔۔۔ پر آپ ۔۔۔تو مجھ پر ہی غصے۔۔۔ ہونے لگے تھے
وہ روتے ہوئے اس سے منہ بنا کر بول رہی تھی
حاضر اسے اس طرح بات کرتے دیکھ کر مسکرا دیا تھاپر اپنی مسکراہٹ چھپا گیا تھا
جاناں اتنی سی بات ہے تو پہلے بتا دیتی میں غصہ کرنے کی بجائے تم سے معافی مانگ لیتا وہ اس کے چہرے پر دونوں ہاتھوں کو رکھ کر اس کی آنکھوں پر اپنے لب رکھتے ہوئے بولا تھا
Am so sorry my love
وہ اسے دیکھتے ہوئے بولتا اس کے ہونٹوں پر جھک گیا تھا
اس سے پہلے کے فریحہ کچھ بولتی حاضر نے اسے بولنے کا موقع ہی نہیں دیا
حاضر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فریحہ نے اس کے چھوڑنے پر اسے گھور سے نوازا تھا
آئندہ جب جب میری جاناں مجھ سے ناراض ہو گی میں اسی طرح مناؤں گی وہ اس کی ناک پر اپنے ہونٹ رکھ کر بولا تھا
تم نے کل میرا سپرائز بھی خراب کر دیا تھا پاگل لڑکی اتنا اچھا پلن کیا اور تم نے
آپ سوچ بھی نہیں سکتے میں کس طرح فیل کر رہی تھی میرا دل کر رہا تھا میں کہی چلی جاؤں وہ نظروں کا جھکائے حاضر کی گود میں بیٹھی ہوئی بولی تھی
سوچنا بھی مت مجھ سے دور جانے کا ورنہ جان لینے میں ایک منٹ نہیں لگاؤں گا تمہاری وہ اس کا چہرا اپنی طرف کرتے ہوئے بولا تھا
اوکے حاضر وہ اس کی گال پر پیار کرتے ہوئے بولی تھی جس سے حاضر کا غصہ جاگ کی طرح ٹھنڈا ہو گیا تھا وہ اسے گود میں اُٹھا کر صوفے پر لے گیا تھا
چلو میری جاناں اب ناشتہ کریں مجھے بھی بھوک لگی ہے بہت وہ اسے صوفے پر بیٹھا کر بریڈ کے نوالے اس کے منہ میں ڈالنے لگا تھا جو فریحہ مزے سے کھا رہی تھی
یار اب مجھے بھی کھلا دو مجھے بھی بہت بھوک لگی ہے
آپ نے بھی نہیں کیا ناشتہ وہ اس کے منہ میں ڈالتے ہوئے بولی تھی
نہیں جب تک میری جاناں بھوکی ہے میں کیسے کر لیتا ناشتہ وہ کھاتے ہوئے اسے کی گال کھینچتے ہوئے بولا تھا
حاضر آپ مجھ سے اتنا پیار کرتے ہیں میں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ مجھے کبھی آپ جیسا ہمسفر ملے گا
میں ڈرتی تھی شادی لفظ سے بھی فریحہ آنکھوں میں آنسو لیے بولی تھی
مجھے بھی نہیں معلوم تھا مجھے اتنی کیوٹی سی وائف ملے گی
پلیز رونا نہیں حاضر کی جان ہو تم وہ اس کے آنسو کو صاف کر کے بولا تھا
دونوں ایک دوسرے کو دیکھ کر مسکرا دیے تھے
❤️❤️❤️❤️❤️❤️
آج ریسیپشن تھا سب کا اسی لئے سب تیار ہو کر ہال کے لیے نکل گیے تھے سب وہی موجود تھے انس نے ایک پل بھی حیاء کو خود سے دور نہیں کیا تھا وہ پورے ہال میں اس کی کمر پر ہاتھ رکھ کر اسے کے ساتھ ساتھ چل رہا تھا
کیا بات ہے انس پیچھا کیوں نہیں چھوڑ رہیے میرا وہ جھنجھلا کر بولی تھی
جان سوچنا بھی مت ایک منٹ بھی میں تم کو اکیلا نہیں چھوڑا سکتا کچھ فضول بہ کھا لو تم رات کو آئسکریم تو کھا لی تھی پر دیکھا صبح کیا ہوا تھا تمہاری تو وامنٹنگ ہی نہیں تھی روک رہی
پاگل ایسی حالت میں ایسا ہی ہوتا ہے ابھی آگے جا کر دیکھنا کیا حال کرتی ہوں میں تمہارا پھر بھی بھگتے رہنا میرے پیچھے وہ اپنے دانت پیستے ہوئے بولی تھی
جان اپنے بچوں کے لیے میں کچھ بھی کر سکتا ہوں تم جیسی چڑیل کو بھی جھیل سکتا ہوں اور جب میری پیاری سی بیٹی آ جائے گی تو میں اور وہ تم سے خوب فائٹ کیا کریں گے
توبہ ہے انس تم نے سوچ بھی لیا کے کیا ہو گا ہاں میں نے تو نام بھی سوچ لیے ہیں
اف اللہ جی انس کیا چیز ہو تم ۔۔۔۔۔
نام تو سن لو میں اپنی بیٹی کا نام عدن رکھوں گا انس اسے اپنے سامنے کیا بولا تھا
پاگل ہو گیے ہو عدن لڑکوں کا نام ہوتا ہے حیاء اپنا ماتھا پیٹھتے ہوئے بولی تھی
پاگل تم جو بھی ہو رکھوں گا تو میں عدن ہی یہ میرا فیصلہ ہے اور زمین نکل جائے کہی بھی پر نام تو عدن ہی ہو گا میری خوبصورت پری کا وہ خیالوں میں سوچتے ہوئے حیاء کو مسکرانے پر مجبور کر گیا تھا
جو بھی ہو میری بلا سے لڑکے کا نام میں رکھ لوں گی حیاء سوچتے ہوئے بولی تھی
اگر دونوں لڑکیاں ہوئیں تو پھر دوسری کا نام بھی میں ہی رکھوں گا انس مسکرا کر بولا تھا
دیکھنا دوسرا لڑکا ہی ہو گا میرا شیر حیاء فرضی کالر بنا کر بولی تھی
ہاہاہاہاہا تم دونوں کی شیر شیرنی آ گئی ہو تو اپنے خیالوں کی دینا سے نکل آؤ اور خود کو دیکھو تم دونوں اپنے بیڈروم میں نہیں کھڑے بلکہ یہ ہال ہے احد مسکرا کر ان دونوں کو دیکھ کر بولا تھا
جو دونوں لڑتے ہوئے ایک دوسرے کے بالکل قریب کھڑے تھے حیاء اس کے گلے میں باہوں کو ڈال کر کھڑی تھی اور آنس نے اس کی کمر پر ہاتھ رکھا ہو تھا
حیاء احد کی بات سے جلدی سے پیچھے ہوئی تھی جس پر انس نے پھر سے اس کو اس کی کمر سے پکڑا کر اپنے قریب کر لیا تھا
تمہیں کیا تکلیف ہے بیوی ہی میری چل نکل یہاں سے جا اپنی کے پاس انس اسے آنکھیں دکھا کر بولا تھا
جس پر احد قہقہہ لگاتے ہوئے وہاں سے چلا گیا تھا
❤️❤️❤️❤️❤️
ہال کی لائٹ بند ہوئی تھی تینوں جوڑیاں ایک ایک کر کے ہال میں داخل ہوئی تھیں
ان پر دونوں طرف سے پھولوں کی برسات ہوئی تھی شرارے چلنے لگے تھے دونوں طرف سے تینوں جوڑیاں ایک ایک کر کے آگے بڑھتے ہوئے سٹیج پر جا کر بیٹھ گئیں تھی
حیاء پرسوں ہمارا ریسیپشن بھی ہے یار ہم بھی ایسا ہی آئے گے انس حیاء کے گرد گھیرا تنگ کرتے ہوئے بولا تھا
حیاء نے اسے منہ بن کر دیکھا تھا جس پر انس مسکراہٹ لیے بس اسے ہی دیکھتا رہ گیا تھا
انس سامنے دیکھو وہ اس کا چہرہ سامنے کرتے ہوئے بولی تھی انس مسکراتے ہوئے سامنے ہی دیکھنے لگا تھا
کیا کروں جان آج پیاری ہی اتنی لگ رہی ہو کے نظر تم سے ہٹ ہی نہیں رہی وہ سامنے دیکھتے ہوئے بولا تھا
ٹھیک ہے مسکے لگانا بند کر دو اب وہ منہ بنا کر بولی تھی
میں خبہ آپو سے مل کر آئی چلو میرے ساتھ وہ اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے سٹیج پر لے کر جانے لگی
پھر سب سے ملی تھی انس بھی سب سے مل کر اسے آرام سے نیچے لے کر آیا تھا میں دادا لوگوں کے پاس جا کر انتظامات دیکھ کر آیا اسے چیر پر بیٹھا کر اس کے گال تھپتھپا کر چلا گیا
پیچھے حیاء مسکر دی تھی
دور کھڑی علیشہ شاہ انس کی خوش دیکھ کر بہت خوش تھی وہ دور سے ہی دونوں کی بلائیں لے کر نہیں تھک رہیں تھی
سب ہی اپنی اپنی دینا میں خوش اور مگن تھے
باہر بیٹھا عاقب شاہ اپنی جلن کی آگ میں جل رہا تھا سب کچھ ہوتے ہوئے بھی اس کے پاس کچھ نہیں تھا وہ حالی ہاتھ وہاں اکیلا بیٹھا ہوا تھا
کس نے اس کی زات کو افسوس کے قابل بھی نہیں جانا تھا
❤️❤️❤️❤️
ریان زیادہ شوہیے مت ہو ہاتھ چھوڑ دو میرا اب سب دیکھ رہیں ہیں آنیہ ریان سے اپنا ہاتھ چھڑاتے ہوئے بولی تھی
نو میری مغرور سی خسینہ یہ ہاتھ میں کسی کے ڈر سے چھوڑ نہیں سکتا وہ اس کے ہاتھوں کو ہونٹوں کے ساتھ لگا کر بولا تھا
بہت کوئی بدتمیز ہو آپ ریان خان وہ اس کی بے باکی پر بولی تھی
جان وہ میں تمہیں رات کو ہی بتاؤں گا کہ کتنا بدتمیز ہوں میں وہ اسے شریر نظروں سے دیکھتے ہوئے بولا تھا
بے شرم انسان بھی ہو تم تو آنیہ اس کی بات پر سرخ ہوتے ہوئے بولی تھی
وہ تو تم مجھے ساری رات ہی بولتی رہی ہو اب تو بس کر دو یار وہ مسکراتے ہوئے اس کے ہاتھ کو اپنے چہرے پر پھیر کر بولا تھا
ریان پلیز یار مت تنگ کرو مجھے سب دیکھ رہیں ہیں برا لگتا ہے اس طرح وہ اس سے اپنا ہاتھ کھچتے ہوئے بول رہی تھی
اوکے جاناں نہیں کرتا تم لگ ہی اتنی پیاری رہی ہو میرا دل تمہیں ہی دیکھنے کو کر رہا ہے وہ اس کا ہاتھ ہونٹوں سے لگا کر مسکراتے ہوئے بولتا نیچے چلا گیا تھا
آنیہ نے سکھ کا سانس لیا تھا
رانیہ شاہ آئی تھی اس کے پاس اور اس سے گلے لگی تھی
کسی ہے میری بیٹی ٹھیک ہو نہ بالکل خوش ہو نہ تم آنیہ وہ اسے اپنے ساتھ لگا کر بولی تھی
آپ کو کیا لگا رہا ہے ماما کسی لگ رہیں ہوں میں آپ کو وہ مسکراتے ہوئے بولی تھی
بہت بہت خوش وہ اس کے ماتھے پر پیار دیتے ہوئے بولی تھی
ماما ریان بہت بہت اچھے ہیں میری سوچ سے بھی زیادہ میں بہت خوش ہوں انکے ساتھ وہ ان کا ہاتھ پکڑ کر بولی تھی خوشی اس کے چہرے سے پھوٹ رہی تھی
رانیہ اسے خوش دیکھ کر اس سے مل کر مسکراتے ہوئے وہاں سے اُٹھ کر چلی گئی تھی
❤️❤️❤️❤️
خبہ بھی اپنی دوستوں کے درمیان بیٹھی ہوئی تھی واجب سب سے ملنے کے بعد نیچے چلا گیا تھا اب وہ اکیلی اپنی دوستوں کے ساتھ مصروف تھی
تب ہی اس کے پاس علیشہ شاہ اور عالیشان شاہ آئے تھے وہ دونوں سے مسکراتے ہوئے ملی تھی دونوں نے اسے پیار کیا تھا عالیشان شاہ خبہ کو پیار دے کر وہاں سے چلیے گے تھے
خوش ہو نہ تم خبہ وہ اس کے گال پر ہاتھ رکھ کر بولی تھی
جی ماما میں خوش ہوں جو ڈر تھا میرا اب نہیں ہے وہ مسکراتے ہوئے ان کے گلے لگ کر بولی تھی
علشیہ شاہ مسکرا دی تھی اور اسے پیار کرتے ہوئے نیچے چلی گئی
دور کھڑے واجب نے مسکرا کر خبہ کی طرف دیکھا تھا جس کی آنکھوں میں اسے کل کی طرح کا خوف محسوس نہیں ہوا تھا بلکہ وہ خوش تھی خبہ کی مسکراتے ہوئے نظر واجب کی طرف گئی تھی جو اسے ہی دیکھ رہا تھا
خبہ نے جلدی سے نظروں کو جھکا لیا تھا واجب اس کی اس ادا پر مسکرا کر رہ گیا تھا
خبہ اپنے ہاتھوں کو مسلتے ہوئے پھر سے اپنی دوستوں پر توجہ کرنے لگی پر دل ابھی بھی تیز دھڑک رہا تھا واجب کی نظریں خود پر محسوس کر رہی تھی جو ساری دنیا کو بھولے بس اسی کو دیکھ رہا تھا
وہ خبہ کی گھبراہٹ محسوس کر کے مسکراتے ہوئے دوسری طرف متوجہ ہو گیا تھا
❤️❤️❤️❤️
عالی سب نیچے چلیے گیے ہیں آپ کیوں نہیں جا رہیے پری عالی کو دیکھ کر بولی تھی جو بہت آرام سے سٹیج پر بیٹھا پری کو ہی دیکھی جا رہا تھا
کیا کروں جاناں نظریں کہتی ہیں تم کو ہی دیکھتا رہوں وہ اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے اپنی طرف کرتے ہوئے بولا تھا
عالی نہ کریں سامنے ہی لالہ ہیں وہ دیکھ کر کیا بولیں گے پری اس سے پیچھے ہوتے ہوئے بولی تھی
کچھ نہیں بولتے ان کی بھی اپنی اپنی بیوی ہے دیکھا نہیں تمہارے لالہ تو مجھ سے بھی زیادہ رومانٹک ہیں
عالی مسکراہٹ کے ساتھ بولا تھا
حاضر اور فریحہ کو آتے دیکھ کر پری نے عالی کو ہلایا تھا پر وہ اس کا ہاتھ پکڑ کر اس میں موجود رنگز سے کھیلنے میں اس طرح مصروف تھا کہ اسے پتہ ہی نہیں چلا کے حاضر اس کے سر پر کھڑا ہے
مجھے نہیں پتہ تھا میرا بھائی اتنا جورو کا غلام ہے حاضر کے بولنے پر عالی ایک دم سے گھبرا گیا تھا
لالہ آپ نے تو مجھے ڈرا ہی دیا اور ویسے بھی میں تو بڑوں کے نقشے قدم پر ہی چلوں گا وہ بھی ڈھیٹوں کی طرح مسکراہٹ لیے بولا تھا
حاضر نے اس کی بات پر قہقہہ لگایا تھا
فریحہ اور پری ایک دوسرے کو دیکھ کر شرمند سی ہو گئیں تھی
وہ دونوں مسکراتے ہوئے ایک دوسرے کے گلے لگے تھے اور عالی حاضر کے ساتھ نیچے چلا گیا تھا
کسی ہو میری جان فریحہ بھی پری سے ملی تھی
میں ٹھیک ہو تم سناؤ آج لگ رہا ہے لالہ کا رنگ تم پر چڑھ گیا ہے پری مسکراہٹ کے ساتھ بولی تھی
ہاہاہاہاہا جیسے تم پر عالی کو چڑھ چکا ہے ویسے ہی مجھ پر بھی تمہارے لالہ کا رنگ چڑھا ہوا ہے
دونوں مسکرا کر ایک دوسرے سے باتیں کرنے لگی تھی
❤️❤️❤️❤️❤️
تھوڑی دیر میں وہی ہال میں پھولوں کی ایک دیوار بنائی گئی تھی ایک طرف امن شاہ اور دوسری طرف عائشہ رضی تھی انس کی خالہ کی بیٹی آج امن کا نکاح اس کے ساتھ تھا جو کے امن کی رضامندی سے ہو رہا تھا
سب کے سامنے نکاح ہوا تھا پھولوں کی دیوار کو ہٹا کر امن عائشہ کی طرف گیا تھا اسے دیکھا تو دیکھتا ہی رہ گیا تھا دل کی ایک بیٹ مس ہوئی تھی لاکھ حیاء اس کے دل میں تھی پر یہ نکاح کا اثر تھا جو اب عائشہ ہی ساری زندگی اس کی ہونے والی تھی
عائشہ کو دیکھ کر آگے بڑھا تھا اور اسے کندھوں سے تھام کر ماتھے پر پیار کیا تھا اور مسکرا دیا تھا
میں وعدہ کرتا ہوں ہمیشہ تمہارے ساتھ مخلص رہوں گا ہم دونوں کے درمیان کبھی کسی تیسرے کو نہیں آنے دوں گا وہ اسے بولا تھا
تب سب ہی مسکراہٹ کے ساتھ دونوں سے ملے تھے ملنے کے بعد عائشہ کو وہاں سے لے جایا گیا تھا
❤️❤️❤️❤️❤️
چلو یہ بلا تو ٹل گئی انس منہ بنا کر بولا تھا جس پر حیاء نے اسے گھوری سے نوازا تھا
کیا ہے اسے کیوں گھور رہی ہو جانم اتنا ہنڈسم لگ رہا ہوں کہ نظر نہیں ہٹھ رہی وہ مسکراتے ہوئے اسے دیکھ کر بولا تھا جو اسے گھورتے ہوئے برے برے منہ بنا رہی تھی
پلیز یہ منہ ٹھیک کرو ویسے میرا دل ہے میری عدن کو بھی تمہاری طرح گلسز لگی ہوں کتنی کیوٹ لگے گی
اف اللہ انس تم کیا ہو مجھے یقین نہیں ہو رہا یہ تم ہو جس انسان کا غصہ نہیں جاتا تھا آج کس طرح کی باتیں کر رہا ہے حیاء خیران ہوتے ہوئے بولی تھی
کیا کروں اپنے بچوں کے لیے نرم ہا گیا ہوں ورنہ تم جیسی چڑیل کے ساتھ ایسے ہی بندے کا گزار ہونا تھا وہ اس کے گال کھنچتے ہوئے بولا تھا
حیاء بس منہ بنا کر رہ گئی تھی پر وہ مطمئن تھی کہ اس کی آنے والی اولاد کو وہ سب جھیلنا نہ پڑھتا جو اس نے برداشت کیا ہے
❤️❤️❤️❤️❤️
ماما میں آج زرتاشہ کو باہر لے کو جانا چاہتا ہوں کل ویسے بھی چلا جاؤں گا تو آج میں اور زرتاشہ باہر ڈنر کر لیں
ہاں جی بیٹا بیوی ہے آپ کی آپ کو اجازت کی ضرورت نہیں وہ اس کے سر پر ہاتھ رکھ کر اسے بولی تھی وہ مسکراتے ہوئے ان کو دیکھ کر اوپر چلا گیا تھا
عادل اب تو بس بھی کر دیں چھوڑ دیں یہ ناراضگی وہ ان کے کندھے پر سر رکھ بولی تھی جو ان سے ناراض تھے
نورین آپ نے مجھے بتانا بھی پسند نہیں کیا کے عاقب شاہ آپ کو دھمکیاں دے رہیں تھے مجھے بہت دکھ ہوا ہے کہ آپ مجھے اپنا نہیں سمجھتی وہ افسوس سے بولے تھے
مجھے اس وقت پریشانی میں کچھ سمجھا نہیں آ رہا تھا میں کیا کروں پر میں آپ کو چھوڑنے کا تصور بھی نہیں کر سکتی تھی عادل یہ بات آپ کو پتہ ہونی چاہیے وہ ان کی طرف دیکھ کر بولی تھی
اب بس کر دیں معافی دیے دیں مجھے وہ ان کے ہاتھ کو اپنے ہاتھ میں لیتے ہوئے بولی تھی
میں آپ سے ناراض نہیں ہوں بس وعدہ کریں کے آپ کا غم میرا غم ہو گا اور کوئی بھی بات نہیں چھپائیں گی آئندہ آپ مجھ سے وہ ان کے ہاتھوں پر اپنی گرفت مضبوط کرتے ہوئے بولے تھے
جس پر نورین نے مسکرا کر ہاں میں سر ہلایا تھا عادل صاحب نے ان کے ماتھے پر اپنے لب رکھ دیے تھے اور دونوں مسکرا دیے تھے
❤️❤️❤️❤️❤️
سلال زرتاشہ کو باہر لا کر آیا تھا وہ اسے اپنے سپیشل کاٹیج میں لے کر آیا تھا جہان وہ جب اکیلا رہنا چاہتا تھا تب وہ وہاں آتا تھا
وہ خوبصورت سا کاٹیج اس نے اپنے آرام کے لیے بنایا تھا جو بہت خوبصورت تھا
اس کے باہر پھولوں کا ایک چھوٹا سا باغ اور اس کی سائیڈ پر دوسری طرف جھیل تھی جس کے گرد رنگ برنگے پھول تھے وہ جھیل بہتے ہوئے جہاں سے گزرتی تھی وہاں ایک چھوٹا سا پل بنایا گیا تھا
سلال نے اسی باغ میں اپنا ڈنر پلن کیا تھا
وہ جب زرتاشہ کے ساتھ آیا تو وہ بچوں سی خوشی لیے سب دیکھ رہی تھی
واہ سلال یہ سب کتنا پیارا ہے رات کے اندھیرے میں وہاں لگی لائٹس کی وجہ سے وہ منظر اور بھی خوبصورت ہو گیا تھا
ادھر بعد میں آنا پہلے میرے ساتھ چلو وہ اس کا ہاتھ پکڑ کر اندر کاٹیج میں لے گیا تھا چھوٹا سا کاٹیج ہر طرح سے نفیس اور خوبصورت سیجاہوا تھا
سب کتنا خوبصورت ہے سلال یہ آپ کا ہے شیشے کی وال اور نیا سٹائل کا فرنیچر تھا زرتاشہ سب دیکھ کر بولی تھی
نہیں یہ ہمارا ہے وہ اسے اپنے روم میں لے جا کر بولا تھا روم بھی بہت خوبصورت تھا ہر چیز اس میں سفید رنگ کی تھی زرتاشہ گھول گھول گھوم کر سب دیکھ رہی تھی
ادھر آؤ زر وہ اسے اپنے پاس بلا کر بولا تھا جو اس کی بات سے اس کی طرف گئی تھی
یہ باکس لو اور یہ کپڑے پہن کر دو منٹ میں تیار ہو کر نیچے آؤ اور ہاں بالوں کو کھلا ہی چھوڑ دینا میں انتظار کر رہا ہوں تمہارا وہ اسے ایک باکس دے کر خود باہر نکل گیا تھا
تھوڑی دیر بعد زرتاشہ باہر آئی تھی سلال نے اپنی نظریں فون سے اُٹھا کر اسے دیکھا تو دیکھتے ہی رہ گیا تھا
وہ بیلک شارٹ فراک پہن کر بالوں کو کھلا چھوڑ کر میکاپ سے پاک چیرا گھبرائی ہوئی باہر نکلی تھی سلال بے خودی میں ہی اس کو دیکھتے ہوئے اس کی طرف آیا تھا
اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے اپنی طرف کھینچا تھا جو گھبرائیں ہوئی اس کی باہوں کے حصار میں تھی
تم ہر روپ میں میرے دل کے تار ہمیشہ چھڑ جاتی ہو وہ اس کے چہرے پر آئی لٹ کو کھنچتے ہوئے بولا تھا
سلال باہر چلیں وہ اس کی نظروں سے کنفیوز ہوتے ہوئے بولی تھی
جی چلوں وہ اس کے گرد حصار بنا کر اسے باہر لے گیا تھا جہان اس نے ڈنر کا اہتمام کیا تھا
دونوں نے باتیں کرتے ہوئے کھانا کھایا تھا زرتاشہ خوش ہوتے ہوئے اس سے باتیں کر رہی تھی
بہت خوبصورت ہے یہ سب سلال جب آپ واپس آئیں گے تو ہم یہاں شیفٹ ہو جائیں گے کتنا مزا آیے گا وہ جوش سے خوش ہوتے ہوئے بولی تھی
سلال اس کی باتوں پر مسکرا رہا تھا
سلال پلیز میری پیچرز لے یہاں زیادہ سی وہ اَٹھ کر جھیل کے پاس جا کر بولی تھی سلال نے اس کی کہی تصویریں لی تھی
آپ بھی آئیں نہ میرے ساتھ تصویر بنائے جب آپ جائیں گے تو میں دیکھ کر یاد کیا کروں گی وہ مسکراتے ہوئے بولی تھی پھر خود بھی اس کے ساتھ بیٹھا کر اپنی اور اس کی تصویر لی تھی
زرتاشہ جو جھیل کے کنارے پر ہو رہی تھی اس سے پہلے کے اس کا پاوں پھسلتا سلال نے اس کی کلائی پکڑا کر اسے اپنی طرف کھینچ لیا تھا
وہ گرنے کے ڈر سے سلال کے سینے سے لگ گئی تھی
سلال نے اسے خود میں بھیچ لیا تھا اس نے ڈرتے ڈرتے سر اوپر کیا تھا
سلال مجھے لگا آج میں اس میں گر کر ڈوھوب جاؤں گی اور۔۔۔۔۔۔
ششش ایک اور لفظ تمہارے منہ سے نہ سنوں میں وہ اس کے ہونٹوں پر انگلی رکھ کر بولا تھا
زرتاشہ نے مسکرا کر اس کے گال پر اپنے ہونٹ رکھ دیے تھے
زر تم مجھے یاد کرو گی وہ اسے اپنی گود میں بیٹھا کر بولا تھا
میں آپ کو بہت یاد کروں گی بہت زیادہ وہ اس کے گلے میں باہوں کو ڈالے اس کے کندھے پر سر رکھ کر بولی تھی
میرا دل کر رہا ہے وقت یہی روک جائے اور مجھے کہی نہ جانا پڑھے بس میں ہوں اور تم ہو دوسرا کوئی نہ ہو وہ اسے دیکھتے ہوئے بولا تھا
پھر اپنا موبائل نکل کر اپنی اور اس کی ایک تصویر اس طرح بنائی تھی زرتاشہ اسے دیکھ کر مسکرا دی تھی سلال نے اپنی جیب میں سے ایک رنگ نکلی تھی زر اپنا ہاتھ ادھر کرو زرتاشہ نے اس کے ہاتھ میں رنگ دیکھ کر مسکرا کر اس کے آگے ہاتھ کیا تھا
سلال نے اس کے ہاتھ میں رنگ پہنائی تھی اور اس کے ہاتھوں کو اپنے ہونٹوں سے لگا لیا تھا
زرتاشہ مسکرا کر سلال کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھ کر اس کے کندھے پر سر رکھ کر آنکھوں کو بند کر گئی تھی
زر تم سونے لگی ہو کیا سلال اسے آنکھیں بند کیے دیکھ کر بولا تھا
نہیں مجھے سکون محسوس ہو رہا ہے آپ کے ساتھ میں بس آپ کو محسوس کر رہی ہوں وہ آنکھوں کو بند کیے بولی تھی
سچ زر یہ تم بول رہی ہو سلال خیران ہوتے ہوئے بولا تھا
سلال جب آپ آئیں گے تو آپ کی زر اور بھی بڑی بڑی باتیں کیا کرئے گی وہ سلال کے چہرے پر ہاتھ رکھ کر بولی تھی
سلال اس کی بات سے مسکرا دیا تھا اور اسے باہوں میں اَٹھا کر اندر لے گیا تھا کیوں کہ تھوڑی دیر بعد ان کو گھر کے لیے نکلنا تھا
❤️❤️❤️❤️❤️
زرتاشہ اور سلال گھر آئیے تھے سلال سوئی ہوئی زرتاشہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا تھوڑی دیر بعد اسے نکالنا تھا
زر میرا دل نہیں کر رہا تمہیں چھوڑ کر جانے کو دو سال دو سال کسے رہوں گا تمہارے بینا میں وہ سوئی ہوئی زرتاشہ کا ہاتھ تھام کر اسے اپنے چہرے پر پھیر کر بولا تھا
پھر اس کے قریب ہوتے ہوئے اس کی ہونٹوں کر نرمی سے چھو کر پیچھے ہو گیا تھا خود کی آنکھوں میں آئی نمی کو اپنے اندر اتارا تھا
تم جان ہو میری میری ماما کے جانے کے بعد میرے دل کے سب سے قریب ہو تم تمہیں بھی اپنے ساتھ لے جاتا پر ابھی تمہیں وقت دینا چاہتا ہوں پر جلدی ہی تمہاری خواہش پر تمہیں دلہن بنا کر اپنے روم میں لے کر آؤں گا
وہ اسے مسکراتے ہوئے دیکھ کر بولا تھا اپنا پیک کیا ہوا بیگ اُٹھایا تھا اور اسے ایک نظر دیکھ کر باہر نکل گیا تھا
اپنا بہت بہت خیال رکھنا نورین اسے پیار کرتے ہوئے بولی تھی آپ اپنا اور بابا کا بھی بہت خیال رکھے گا وہ ان کی پیشانی پر پیار کرتے ہوئے
عادل صاحب سے ملا تھا بابا میری زر کا بہت خیال رکھے گا میں جلدی ہی آ جاؤں گا میرے لیے سب سے اہم ہے وہ وہ ان سے مل کر بولا تھا
نورین سلال کی اتنی کئیر پر مسکرا دی تھی
زرتاشہ تمہاری امانت ہے سلال جب تم آؤ گے تو پورے دھوم دھام سے اسے تم کو سونپ دیے گے نورین مسکراہٹ لیے بولی تھی
سلال ان دونوں سے مل کر آخری نظر اوپر کمرے کی طرف ڈالی تھی جہاں زرتاشہ سوئی ہوئی تھی پھر سر کو جھٹکتے ہوئے باہر نکل گیا تھا
بہت جلدی آؤں گا میری جان پھر ہم ہمیشہ ساتھ رہیں گے کوئی ہمیں جدا نہیں کر پائے گا وہ گاڑی میں سوار ہو کر خود سے بولا تھا
گاڑی ڈرائیور نے ائرپورٹ کی طرف بڑھا دی تھی
