Rate this Novel
Episode 35
حیاء چلو چلیں انس کمرے میں اندر آتے ہوئے بولا تھا
واہ حیاء یہ کیا بات ہوئی تمہیں جانا نہیں تیار کیوں نہیں ہوئی ابھی تک انس حیاء کو بستر پر لیٹے دیکھ کر بولا تھا جو سکون سے لیٹ کر موبائل یوز کر رہی تھی
میرا دل نہیں انس طبیعت ٹھیک نہیں لگ رہی وہ منہ بنا کر موبائل کو دیکھتے ہوئے ہی بولی تھی
حیاء تم مت جاؤ پر میرے بےبی نے جانا ہے کیونکہ ان کی اکلوتی پھوپھو کی شادی ہے اور وہ اسے مس نہیں کر سکتے اسی لیے چلو شاباش دو منٹ کے اندر تیار ہو جاؤ وہ اس کے کپڑے الماری سے نکل کر اس کو بستر سے باہر کھنچتے ہوئے اس کے ہاتھ میں اس کے کپڑے تھاما کر بولا تھا
دس منٹ ہیں تمہارے پاس جلدی سے تیار ہو کر نیچے آؤ میں نیچے کھڑا ہوں سب چلیں گے ہیں صرف تمہیں اور مجھے چھوڑ کر وہ اس کے گال تھپتھپا کر بولتے ہوئے اس کی سنے بغیر باہر نکل گیا تھا
حیاء برے برے منہ بنا کر تیار ہونے چلی گئی تھی
❤️❤️❤️❤️
احد تم ابھی تک یہی ہو انس احد کو باہر کھڑے دیکھ کر بولا تھا
جی جناب آپ کی سالی صاحبہ ابھی تک نہیں آئی احد منہ چڑھا کر بولا تھا
ہاہاہاہاہا میری سالی یا تمہاری بیوی انس نے سگریٹ کو منہ سے لگا کر احد کے کندھے پر ہاتھ مارا تھا
ویسے کمینے تو بڑا تیز نکالا ہم تو ادھر منہ ہی تکتے رہ گئے اور تو ابا جان بنے کی تیاری بھی کر چکا ہے پتہ نہیں اپنی قسمت کب اوپن ہو گی
کیا کیا کیا اوپن ہاہاہاہاہاہا ہاہاہا احد تو پورے کا پورا نمونہ ہے میری جان
دفع ہو جاؤ پیچھے کمینے انسان وہ اسے پیچھے کرتے ہوئے بولا تھا
وہ دیکھ آ گئی زویا انس نے احد کا کندھا ہلایا تھا جو موبائل پر کچھ ٹائپ کر رہا تھا
احد نے زویا کو دیکھا تو دیکھتا ہی رہ گیا تھا بیلک کلر کی میکسی پہنے بالوں کو کھلا چھوڑ کر ہلکے سے کیا میکاپ اس کے حسن کو چار چاند لگا رہیے تھے
السلام علیکم لالہ اس نے انس کو سلام کیا تھا
وعلیکم السلام بچے کسی ہو آپ وہ اس کے سر پر ہاتھ رکھ کر بولا تھا
میں تو ٹھیک ہوں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔وہ ابھی کچھ بولتی
چلو جان ہم چلیں آگے ہی لیٹ ہو رہیے ہیں ہم نے بارات کے وقت تک پہنچانا ہیں یہ تو بارت کے ساتھ آئیں گے وہ زویا کا بازو کھنچتے ہوئے اپنی گاڑی کی طرف لے گیا تھا اسے فرنٹ سیٹ پر بیٹھا کر گاڑی کو اس کے راستے کی طرف لے کر بڑھ گیا
انس بے زار ہوتے ہوئے گاڑی میں بیٹھا تھا تھوڑی دیر گزری تھی گاڑی کا دروازہ کھلا تھا اور حیاء اندر آ کر بیٹھ گئی تھی
انس نے جب کھڑکی سے چہرے حیاء کی طرف کیا تو وہ اسے دیکھتا ہی رہ گیا تھا جو لال رنگ کی میکسی پہنے آنکھوں پر گلاسز لگائے آج بھی ہمیشہ کی طرح انس کو اپنے دل میں اترتی ہوئی محسوس ہوئی تھی
انس کیا اب رات یہی گزارنے کا ارادہ ہے حیاء بے زار سی بولی تھی
بہکنے کو تیری نظروں کا فسوں ہی کافی ہے “”
“” جام تو پیمانو نے بدنام کر رکھے ہیں
(شعر رائٹنگ بائے مائے فرئنڈ مینڈک)
انس حیاء کی آنکھوں سے گلاسز اتارتے ہوئے بولا تھا
جانِ انس تمہیں دیکھ کر تو یہی دل کر رہا ہے کے رات یہی گزار لوں وہ اس کی طرف دیکھتے ہوئے گاڑی کو سٹارٹ کر کے بولا تھا
اب تمہارے بچوں نے پھوپھو کی شادی نہیں کھانی حیاء منہ بنا کر بولی تھی
انس نے گاڑی چلاتے ہوئے اس کا ہاتھ پکڑ لیا تھا جس پر کٹ تھا س کا ہاتھ پکڑ کر اسے اپنے ہونٹوں سے لگایا تھا
حیاء نے اسے دیکھا تھا جس کے چہرے پر اطمینان تھا اور آنکھوں میں پیار
انس کیا میرا پاسٹ ہماری آنے والی زندگی میں زہر گھول سکتا ہے حیاء اس کے ہاتھ میں موجود اپنے ہاتھ کی انگلیوں کو اس کے ہاتھ کی انگلیوں میں پھنسا کر بولی تھی
حیاء مجھے سب پتا ہے تمہارا پاسٹ میں جو بھی تھا میں اس بارے میں بات نہیں کرنا چاہتا پلیز سٹاپ دیس انس سامنے دیکھتے ہوئے حیاء سے بولا تھا اور اس کے ہاتھ پر اپنی گرفت کو اور بھی مضبوط بنا کر اسے اپنے ہونے کا احساس دیا تھا
ویسے انس میرا دل آج کل بہت اعجیب ہو رہا ہے حیاء منہ بنا کر بولی تھی
کیا ہو طبیعت خراب ہو رہی ہے کیا انس پریشان سا بولا تھا
ہاں دل خراب ہوتا ہے اور تمہیں پتہ ہے آج کل میرا دل کر رہا ہے کے میں سگریٹ پی لوں وہ انس سے مزاق کرتے ہوئے بولی تھی
واٹ تم پاگل ہو گئی ہو کیا سگریٹ پیوں گی کیا انس خیران ہوتے ہوئے غصے سے بولا تھا
ظاہر ہے تمہارے بچے ہیں اسی لیے سگریٹ پینا چاہتے ہیں تمہاری طرح وہ منہ بنا کر باہر دیکھتے ہوئے اپنی ہنسی کو کنٹرول کرنے کی کوشش کر رہی تھی
کبھی بھی نہیں سوچنا بھی مت کے میرے بچے سگریٹ کو ہاتھ بھی لگائے گئے انس غصے سے اسے گھورتے ہوئے بولا تھا
جان کیا کرو باپ پر گیے ہیں بچے تو باپ پر ہی جاتے ہیں ویسے بھی مجھے کچھ ہو گیا تو تم ہی تو ان کو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
خبر دار جو آگے ایک لفظ بھی منہ سے نکالا ہو تو اپنے ہاتھوں سے جان لے لوں گا تمہاری وہ گاڑی کو ایک جھٹکے سے روک کر حیاء کو اپنی طرف کھینچ کر بولا تھا
انس موت تو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ ابھی کچھ بولتی انس اس کے لفظوں کو اس کے ہونٹوں پر اپنے ہونٹ رکھ کر قید کر چکا تھا
حیاء اس کے جنونی پن پر اسے خود سے دور دھکیل رہی تھی جو انس نے اس کا دوسرا ہاتھ بھی اپنے ہاتھ میں قید کر کے روک دیا تھا
پا۔۔۔۔پاگل ہو چکے ہو انس یہ کیا پاگل پن تھا یہ تمہارا کمرا نہیں ہے ہم سڑک پر ہیں وہ اپنی ہتھیلی کی پشت سے اپنے ہونٹ پر لگے خون کو صاف کرتے ہوئے اس پر غرائی تھی جو اب گاڑی چلا رہا تھا
یہ لو اس سے صاف کر لو وہ اسے ٹیشو دیتے ہوئے بولا تھا
جب جب تم اس طرح کے لفظوں کو اپنی زبان سے نکالوں گی تب تب میرا جنون اور پاگل پن دیکھو گی مس حیاء انس شاہ وہ سامنے دیکھتے ہوئے اس کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھ کر بولا تھا
ویسے تم مجھے جنگلی بولتے ہو پر تم خود جنگلی ہو حیاء تپی ہوئی بولی تھی
ہاں تو جنگلی کے لیے جنگلی بننا پڑھتا ہے میری جنگلی چڑیل وہ اس کے گال کھنچتے ہوئے بولا تھا
تم جنگلی جن وہ بھی اس کو اسی کے انداز پر اس کے گال کھنچتے ہوئے بولی تھی
انس اسے مسکرا کر دیکھتے ہوئے گاڑی کو روکا تھا کیونکہ کے باتوں میں ان کی منزل آ چکی تھی
وہ حیاء کو کمر سے تھام کر گاڑی سے باہر لے کر اندر ہال میں گیا تھا
ماما یہ لے آپ کی بہو اور دھیان رکھیے گا اس کا وہ اسے علشیہ شاہ کے پاس چھوڑ کر باہر کی طرف نکل گیا تھا
علشیہ نے مسکراتے ہوئے اسے پیار کیا
❤️❤️❤️❤️
بارات آ گئی تھی پہلے عالی آیا تھا پھر ریان اور پھر واجب تینوں کے لیے علیحدہ علیحدہ سٹیج تھے نکاحِ ہو چکا تھا اسی لیے اب کھانے کے بعد دلہنوں کو لے کر آنا تھا
سب ہی اپنی اپنی جگہ مصروف تھے
خبہ کے تو ہاتھ پاؤں ٹھنڈے ہو رہیے تھے مہندی والی رات واجب کا جنونی روئیہ دیکھ کر خبہ کے رہیے سہیے اوسان بھی ختہ ہو چکے تھے وہ گھبراہٹ لیے بیٹھی ہوئی تھی
آنیہ کہی حد تک خود کو نارمل رکھے ہوئے تھی پری فریحہ کا ہاتھ پکڑ کر بیٹھی ہوئی تھی گھبراہٹ اس کے چہرے پر بھی تھی
حیاء چلتے ہوئے آنیہ کے پاس آئی تھی
آنیہ نے نظریں اُٹھا کر اسے دیکھا تھا اور پھر مسکراتے ہوئے صوفے سے اُٹھ کر اسے گلے لگا لیا تھا
سوری حیاء میں نے تمہارے ساتھ بہت برا روئیہ رکھا اب میں نئی زندگی تمام پورانی رنجشوں کو بھول کر شروع کرنا چاہتی ہوں
جو بھی ہو سوتیلی ہی سہی تمہاری بڑی بہن ہوں حیاء نے بھی مسکرا کر اسے گلے لگا لیا تھا
وہاں بیٹھے سب مسکرا دیے تھے حیاء پری سے اور پھر خبہ سے بھی ملی تھی
شکریہ بہت بہت حیاء مجھے پھوپھو بنانے کے لیے میں بہت خوش ہوں کہ جلدی ہی کوئی مجھے پھوپھو بولے گا خبہ اسے کے گلے لگی بولی تھی
اور مجھے کیا بولے گا پری بھی جلدی سے بولی تھی
تمہیں بولے گا ظالم مامی آنیہ ہنستے ہوئے بولی تھی اور مجھے اور فریحہ کو خالہ آنیہ ہنستے ہوئے حیاء کی طرف دیکھ کر بولی تھی جو مسکرا رہی تھی
انس باہر کھڑا اسے مسکراتے ہوئے دیکھ کر خوش ہوا تھا
چلیں اب سب لڑکیوں کو باہر لے کر جانا ہے خنا شاہ اندر آ کر بولی تھی
چلو میں حاضر کو بھیجتی ہوں تم لوگ بس آ جانا وہ بولتے ہوئے باہر نکل گئیں تھی
پری کو حاضر اور فریحہ نے دونوں سائیڈ سے پکڑا تھا
خبہ کو انس اور حیاء نے اور آنیہ کو زویا اور زینی نے پکڑا ہوا تھا اور تینوں کو سٹیج تک لے کر گیے تھے
عالی نے پری کی طرف ہاتھ بڑھایا تھا ۔۔۔۔ میری بہن کا بہت سا خیال رکھنا حاضر نے پری کا ہاتھ اس کے ہاتھ میں دیتے ہوئے کہا تھا
پری کی نظریں نیچے جھکی ہوئی تھی عالی نے پری کا ہاتھ پکڑا کر اسے اپنے ساتھ بیٹھا لیا تھا
بالکل پری لگ رہی ہے آج میری پری وہ پری کے پاس بیٹھا اس کی طرف رح کیے بول رہا تھا جو گھبرائیں اس کی طرف دیکھ بھی نہیں پا رہی تھی
یار اگر تو نے میری بہن کو ایک بھی دکھ دیا تو منہ توڑ دوں گا تمہارا انس واجب کے ہاتھ میں خبہ کا ہاتھ دیتے ہوئے بولا تھا
بس کر یار تیری یہ بہن ہی کافی ہے مجھ جیسے معصوم کا منہ توڑنے کے لیے واجب مسکراتے ہوئے اسے بولتا خبہ کے ہاتھ کو اپنے ہاتھ میں لے کر سٹیج پر اپنے ساتھ لے گیا تھا
واجب اپنی گرفت میں خبہ کی لرزش صاف محسوس کر رہا تھا جو اس کے قریب بیٹھے ہوئے بھی لرزہ رہی تھی
واجب نے اس کے گود میں پڑھے ہاتھ کو اپنے ہاتھ میں لے لیا تھا
ابھی مت گھبراؤں ابھی کچھ نہیں کروں گا گھر جا کر ہی سارے بدلے پورے کروں گا جو جو بدتمیزی تم نے میرے ساتھ کی ہے اس کا حساب دینا ہے واجب اس کے قریب جھکا اس کے کان میں سرگوشی نما بولا تھا
آنیہ ہاتھ خولا رکھنا ہمارے بچارے لڑکے پر جوتے سے نہ مارنا بس تھپڑ ہی مارنا ورنہ نشان بن جاتے ہیں تو اگر نشان بن گیے تو ہمارا بچارا آفیسر کسی کو منہ دکھانے لائک نہیں رہیے گا
زینی کے ہاتھ میں سے ریان کے ہاتھ میں آنیہ کا ہاتھ رکھتے ہوئے احد بولا تھا آنیہ سے جس پر ریان نے اس پر لانت بھیجی تھی اور آنیہ کے ہاتھ کو اپنے ہاتھ میں لے کر سٹیج کی طرف بڑھ گیا تھا
احد کی بات سے آنیہ کے چہرے پر مسکراہٹ آئی تھی
مسکرا لو جتنا مسکرانا ہے میڈم گھر جا کر سارے حساب لوں گا ریان مسکراتے ہوئے آنیہ کو بولا تھا جو اس کی بات سے اسے دیکھنے لگی تھی
زویا احد کی بات پر کھلکھلا دی تھی احد اس کی ہنسی میں کہی کھو گیا تھا وہ بس اسے ہی دیکھ جا رہا تھا جو زینی کے پاس کھڑی احد کی بات پر ہنستی جا رہی تھی
بس کر دو جاناں نظر لگ جائے گی احد اسے کے گرد اپنا حصار بنا کر اسے اپنے قریب کرتے ہوئے بولا تھا
نہیں لگتی آپ کی نظر مجھے کیوں کہ آپ کو مجھ سے پیار ہے اور پیار کی نظر نہیں لگتی وہ مسکراتے ہوئے بولی تھی
احد بھی اسے دیکھ کر مسکرا دیا تھا پھر کچھ سوچ کر اس کی مسکراہٹ سکڑ گئی تھی
❤️❤️❤️❤️
بڑے سب رسموں میں مصروف تھے لڑکیوں نے سب رسمیں کر لی تھیں
حیاء چیر پر بیٹھی سامنے سٹیج پر دیکھ رہی تھی
طبیعت تو ٹھیک ہے نہ حیاء بڑی گم سم بیٹھی ہوئی ہو فریحہ حیاء کے پاس آ کر بیٹھی اس سے بات کرنے لگی تھی
ہاں ٹھیک ہوں بس تھکاوٹ محسوس ہو رہی ہے یار بور ہو گئی ہوں حیاء منہ بنا کر بولی تھی
ہاہاہاہاہا اچھا تب ہی حیاء کا فون رنگ ہوا تھا
ہیلو السلامُ علیکم ماما جی کیا بول رہیں ہیں آواز نہیں آ رہی حیاء کان کی دوسری سائیڈ پر ہاتھ رکھ کر سننے کی کوشش کر رہی تھی
مجھے دو میں دوسری سائیڈ پر جا کر ماما سے بات کرتی ہوں فریحہ حیاء سے موبائل لے کر دوسری سائیڈ پر بات کرنے چلی گئی تھی جہاں کم لوگ تھے تاکہ آواز آ سکے
فریحہ ماما سے بات کر کے واپس ا رہی تھی کہ اسے حاضر کی آواز سنائی دی جو شاید کسی سے مسکرا کر باتیں کر رہا تھا اس کے ساتھ کوئی اور بھی تھا
فریحہ مسکرا کر اسے دیکھنے لگی تھی حاضر کے ساتھ کھڑے شخص کو دیکھ کر فریحہ کا رنگ اُڑ گیا تھا
حاضر کی بات سن کر اس کے رہیے سہے اَسان بھی ختہ ہو چکے تھے منہ پر ہاتھ رکھ کر اسے دیکھتے ہوئے آنکھوں میں آئی نمی کو کنٹرول کرتے ہوئے الٹے قدم پیچھے ہوئی تھی
نہیں حاضر آپ ایسا نہیں کر سکتے میرے ساتھ وہ روتے ہوئے پاس ہی برائڈل روم کے صوفے پر بیٹھی خود سے بول رہی تھی
روتے روتے وقت کا پتہ نہیں چلا اپنا چہرہ واشروم میں جا کر دھو کر باہر نکلی تو رخصتی ہو رہی تھی
وہ بھی چپ کر کے خود کو سنبھالتی وہاں سب کے ساتھ کھڑی ہو گئی تھی
ہو گئی بات ماما سے حیاء نے پیچھے سے آ کر کہا تھا
ہاں ہو گئی اس نے مصنوعی سا مسکرا کر فون حیاء کو دیا تھا
چلائیں جاناں تم تھک گئی ہو گی انس پیچھے سے حیاء کے گرد حصار بنا کر بولا تھا
میں تو کب کی تھک گئی ہوں پر شاید آپ کے پاس ٹائم نہیں ہے اسی لئے اب آئیں ہیں حیاء کے منہ بنا کر کہنے پر انس مسکرا دیا تھا
چلو پھر تمہیں آئسکریم کھلاؤں گا جاتے ہوئے کیوں کہ مجھے آئسکریم پسند ہے اور تمہیں بھی اور ۔۔۔۔آگے تم سمجھ گئی ہو گی انس مسکراتے ہوئے اپنا جملہ ادھورا چھوڑ کر بولا تھا
فریحہ ان دونوں کو مسکراتے ہوئے باتیں کرتے دیکھ کر خوش ہوئی تھی دل سے حیاء کے لیے دعا کرنے لگی تھی ہمیشہ خوش رہنے کی
انس اتنے آپ شرم والے چلیں اب دیر کس بات کی ہے پر ماما کو بتا دیں
جی حضور بتا دیا ہے اب چلو آپ وہ اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے لے گیا تھا
بائے فریحہ حیاء اسے بائے کرتے ہوئے وہاں سے چلی گئی
فریحہ کی جب سامنے نظر پڑھی تو اس کو دور کھڑے حاضر نےاپنی طرف آنے کا اشارہ کیا تھا
آحد بھائی مجھے بھی اپنے ساتھ لے جائیں جو فریحہ اگنور کرتے ہوئے احد کے ساتھ اس کی گاڑی میں بیٹھ گئی تھی
حاضر نے غصے سے دور کھڑی فریحہ کو احد کی گاڑی میں بیٹھتے دیکھا لیا تھا
وہ جب تک اس طرف آیا احد کی گاڑی خویلی کے لیے نکل گئی تھی کیونکہ کے اس میں خنا شاہ اور رانیہ شاہ تھی جن کو خویلی پہلے پہچانا تھا
حاضر غصے سے مٹھیوں کو بھیچے بس گاڑی کو دیکھتا ہی رہ گیا تھا
ٹھیک ہے مس فریحہ حاضر شاہ جلدی ہی تمہیں بتاؤں گا حاضر سے پنگا لینے کا نتیجہ حاضر غصے سے سگریٹ سلگتا اپنی گاڑی کی طرف بڑھ گیا تھا
❤️❤️❤️❤️❤️
خبہ کا ہاتھ ابھی بھی واجب کی گرفت میں تھا واجب کی گرفت کی سختی خبہ محسوس کر سکتی تھی
وہ اپنی سانس روکے باہر کی طرف دیکھ رہی تھی ایک گھر والوں سے جدا ہونے کا غم دوسرا واجب کا سخت رویہ اس کی آنکھوں میں نمی لیا آیا تھا
آنسو باہر آنے کو بے تاب تھے گاڑی اپنی منزل کی طرف بڑھ رہی تھی واجب کا گھر ہال سے پندرہ منٹ کی دوری کا تھا
گاڑی جلدی ہی ان کے ویلا تک پہنچ گئی تھی گاڑی سے اتر کر واجب نے خبہ کا ہاتھ پکڑ کر اسے اپنے ساتھ اندر لے کر جانے لگا
دونوں پر ہر طرف سے پھولوں کی برسات ہو رہی تھی
ثانیہ رانا نے آگے بڑھ کر خبہ کے سر پر پیار کیا تھا یہ غریبوں کو بانٹھ دینا اور کچھ پیسوں کو دونوں کے سر سے پھیر کر اپنے ساتھی کھڑی زیر کو دیے تھے
پھر وہ خبہ کو صوفے پر بیٹھایا تھا
واجب کہا جارہی ہو تھوڑی سی رسموں کے بعد چلے جانا بس یہ رسمیں کر لیں ثانیہ کے کہنے پر وہ جو ڈرائنگ روم کی طرف بڑھ رہا تھا واپس صوفے پر بیٹھ گیا تھا
سب لڑکیوں نے مل کر رسمیں کی تھی واجب اُٹھ کر اپنے دوستوں کے پاس چلا گیا تھا خبہ کو روم میں بیٹھا دیا گیا تھا
بیٹا یہ تکیہ سیدھا کر لو تھوڑا آرام سے بیٹھ جاؤ میں کچھ کھانے کو بھی بھیجواتی ہوں اور گھبرانا بالکل بھی نہیں ہے میں بھی تمہاری ماما ہی ہوں واجب نے تنگ کیا تو میں خود اسے پوچھ لوں گی بولتے ہوئے ثانیہ اس کو بیٹھا کر چلی گئی تھی
❤️❤️❤️❤️❤️
فریحہ خود کو بمشکل سنبھال کر اوپر اپنے روم کی طرف بڑھ گئی تھی
بیڈ پر گہرنے کے انداز میں لیٹی تھی اپنا سر تکیہ پر رکھ کر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی تھی
آپ نے میرا اعتبار توڑ دیا حاضر مجھے توڑ دیا کیسے کر سکتے ہیں آپ ایسا آپ نے مجھے سے شادی کرنے کے لیے وہ سب کیا اس انسان کے ساتھ مل کر فریحہ نے حاضر کو اس وقت رعب کے ساتھ دیکھ لیا تھا
کیا حاضر پلان بہت اچھا گیا تھا ہمارا بھابھی مل ہی گی تمہیں تم نے مجھے پلان میں شامل کر لیا ورنہ تو میرا ارادہ تھا تمہاری دعوت کرنے کا رعب حاضر سے ہنستے ہوئے بولا تھا
کوئی نہیں تم نے فریحہ کو حاصل کرنے میں اتنا میرا ساتھ دیا میرے لیے یہ ہی بہت ہے حاضر مسکراتے ہوئے اس سے بولا تھا
فریحہ کے کان میں ان دونوں کی باتیں گونجی تھیں فریحہ سب سوچ کر پھر سے رونے لگی تھی اپنی اپنے منہ پر ہاتھ رکھ کر بامشکل اپنی آواز کو روکنے کی کوشش کی تھی
میں معاف نہیں کروں گی حاضر آپ کو میں نے اپنا مان اپنا اعتبار ختہ کے اپنا آپ تک آپ کو سونپ دیا اور آپ نے میرے سب ارمانوں پر پانی پھیر دیا مجھے بےوقوف بنایا وہ روتے ہوئے کب کی نیند کی وادیوں میں چلی گئی تھی
❤️❤️❤️❤️❤️
انس میں تھک گئی ہوں اب انس اور حیاء آئسکریم کھا کر واپس ا رہیے تھے حیاء انس کے کندھے پر سر رکھ کر بولی تھی
جاناں گھر ہی جا رہیں ہیں پھر جا کر آرام کر لینا انس اس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے کر بولا تھا
ہم اچھا انس نے محسوس کیا تھا حیاء غنودگی میں جا رہی تھی اسی لئے اس نے اس کے گرد اپنے ہاتھ سے حصار بنا لیا تھا
گاڑی خویلی روکتے ہوئے انس نے آرام سے اسکا سر دوسری سائیڈ پر کر کے نیچے اتر کر دوسری طرف سے دروازہ کھول کر حیاء کو اپنی گود میں اَٹھا کر اندر لیا گیا تھا
السلام علیکم وہ سب کو سلام کرتے ہوئے حیاء کو اوپر اپنے روم میں لیا گیا تھا
پیچھے عالیشان اپنے بیٹے کو دیکھ کر مسکرا دیے تھے علشیہ کو آنکھوں سے اشارہ کیا تھا جو ان کے اشارہ کرنے پر خود بھی مسکراتے ہوئے وہاں سے چلی گئی تھی
انس اسے بیڈ پر لٹا کر اس پر کمبل دیتا پیچھے ہوا تھا
پھر مسکراہٹ کے ساتھ آگے بڑھ کر اس کی گال پر اپنے لب رکھے تھے
انس تم میری نیند کا فائدہ مت اٹھاؤ حیاء آنکھوں کو بند کیے ہوئے ہی بولی تھی
کیا ہو گیا بیوی ہو تم میری تمہارا فائدہ نہیں اُٹھاؤں گا تو اور کس کا اُٹھاؤں گا کہتی ہو تو کوئی اور دیکھ آتا ہوں انس اس کے دائیں بائیں ہاتھ رکھے ہوئے بولا تھا
سوچنا بھی مت جان لے لوں گی تمہاری وہ اس کی کالر پکڑ کر غصے سے بولی تھی
مجھے یہ بتاؤ اس دن وہ چڑیل کون تھی کلب میں جو اتنی قریب تھی تمہارے وہ انس کو غصے سے دیکھتے ہوئے بول رہی تھی
انس کے چہرے پر مسکراہٹ آ گئی تھی
ایک بات کہنا چاہوں گا تم اور بس تم انس شاہ کی جان ہو دل کی دھڑکن ہو وہ اس کے کان میں بولتے ہوئے اس پر اپنے لب رکھ گیا تھا
مجھے لگتا ہے تمہاری تھکاوٹ اتار گئی ہے وہ حیاء کو اپنی آنکھوں میں دیکھتے پا کر بولا تھا
جو اس کی بات پر مسکرا دی تھی
حیاء نے اسے کالر سے پکڑ کر اس کا سر نیچے کیا تھا اور اس کے ماتھے پر اپنے لب رکھ دیے تھے
آج میں پھر بولنا چاہوں گی انس مجھے آپ سے سچ میں بہت محبت ہے آپ مان ہیں میرا سب کچھ جانے کے بعد بھی آپ نے مجھ سے نفرت نہیں کی ورنہ مجھے لگتا تھا آپ مجھ سے نفرت کرنے لگیے گے وہ اس کے کالر اپنے ہاتھوں میں دبوچے ہوئے انس کے دل کو سکون دے رہی تھی
انس اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے اس پر جھکا تھا
اسی خاندان کے دو افراد میں سے ایک نے حیاء کی زندگی کو رول دیا تھا اور ایک نے اسے اپنی محبت سے سمیٹ لیا تھا
انس نے اپنی محبت کو پا کر اسے اپنا مان اور محبت بخشی تھی غلطیاں سب سے ہوتی ہیں
حیاء بھی خود کو اسے سونپتے ہوئے اطمنان سے آنکھوں کو موند گئی تھی
محبت کرنا آسان ہوتا ہے پر اسے نبھا پانا مشکل عمل ہے
❤️❤️❤️❤️
آنیہ بے زار سا چہرہ بنا کر بیڈ پر بیٹھی ہوئی تھی شملہ خان اسے ابھی ابھی یہاں بیٹھا کر گئی تھی
ریان کی دھمکی کی وجہ سے اس نے چینج نہیں کیا تھا ورنہ اب تک چینج کر لیا ہوتا
السلام علیکم وہ اپنے ہی خیالوں میں گم تھی جب ریان نے اس کے پاس بیٹھ کر سلام کیا تھا
وعلیکم السلام آنیہ نے چہرہ نیچے جھکائے ہی سلام کا جواب دیا تھا
تمہیں ایک سٹوری سناتا ہوں ریان اس کے پاس اس کی گود میں سر رکھ کر لیٹ گیا تھا
آنیہ نے خیران ہوتے ہوئے اس کی بے باقی اس کو گھوری سے نوازا تھا جس کو پوری طرح اگنور کر کے بولا تھا
ایک آفیسر ہوتا ہے اس کی ڈیوٹی ایک یونیورسٹی میں لگا دی جاتی ہے وہ آفیسر ہمیشہ لڑکیوں سے دور بھاگتا ہے پر اب اس کی ڈیوٹی لگ گئی یونیورسٹی میں ہزاروں لڑکیوں کے بھیچ وہ اس کے کان کے اویزے کو چھیڑا کر بولا تھا
آنیہ تجسس سے اسے سن رہی تھی
پھر اسے وہاں ایک لڑکی ملتی ہے جو ایک معصوم سی لڑکی کو تنگ کر رہی ہوتی ہے اور ناک چڑھا کر غصہ سے اسے دھکا دیتی ہوں چلی جاتی ہے
پتہ آفیسر کا دل کس پر آتا ہے ریان اس کا ہاتھ پکڑ کر اپنے بالوں پر رکھتے ہوئے بولا تھا
کس پر آتا ہے آنیہ بے اختیار ہی اس سے پوچھ بیٹھی تھی ویسے تو ہیرو کو دل معصوم لڑکی پر آنا چاہیے پر پتہ نہیں کیوں اس آفیسر کا دل اس مغرور نک چڑھی لڑکی پر آ جاتا ہے
اس کیا ناک پر رہنے والی انا اور مغروری اس کے دل پر جا کر ٹھا کر کے لگتی ہے وہ اس کی ناک دابا کر ہاتھ سے گن بناتے ہوئے اسے اپنے دل پر رکھ کر بولا تھا
پر وہ مغرور حسینہ تو کسی اور کے پیچھے بھاگتی ہے جو سراب ہے بس پر وہ اس سراب کے پیچھے بھاگتی ہے آفیسر دل برداشتہ ہو کر اپنی ڈیوٹی کے ختم ہونے پر یونیورسٹی کے ساتھ اس لڑکی کو بھی بھول جانے کی کوشش میں پھر سے اپنے کام میں خود کو مگن کر لیتا ہے
آنیہ اس کی باتوں میں مگن اسے غور سے سنتے ہوئے اس کے بالوں میں اپنا ہاتھ پھیرنے لگی تھی جس سے ریان کے چہرے پر مسکراہٹ آ گئی تھی
پر قسمت کو تو کچھ اور ہی منظور تھا پر وہ نک چڑھی حسینہ اس آفیسر کے ہی ایک آدمی کا ایکسیڈنٹ کر دیتی ہے اور وہ اتنا گھبرا جاتی ہے کے اسے سمجھ ہی نہیں آتا کہ اب کیا کرنا ہے
اور پھر آگے تم جنتی ہو کیا ہوا وہ آنیہ کی طرف دیکھتے ہوئے مسکرا دیا تھا جو خیریت سے اسے دیکھ رہی تھی
ایک بات رہ گئی وہ آدمی مرا نہیں تھا بس اس نے میرے کہنے پر مرنے کا ناٹک کیا تھا اور تم میری مغرور خسینہ اتنا بھی نہ جان پائی کے اتنے سے ایکسیڈنٹ سے کون مرتا ہے بلا وہ مسکراتے ہوئے اس کی طرف دیکھتے ہوئے بولا اَٹھ کر بیٹھا تھا جو غصے سے لال ہوئے اسے دیکھ رہی تھی
یو چیپ آفیسر تم نے میری جان سہولی پر چڑھا دی اور یہ سب تھا باقی بھیچ میں مجھ سے کبھی بھی بات مت کرنا وہ بیڈ سے اٹھتے ہوئے جانے لگی تھی
ریان نے اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے اپنی طرف کھینچتے ہوئے اسے خود پر گرا لیا تھا
ایک بات تم نے غور سے نہیں سنی کے اس آفیسر کا دل اپنی مغرور خسینہ پر ایا گیا تھا وہ اس کے کانوں سے اویزے اتارتے ہوئے بولا تھا آنیہ اس سے اپنا چھڑوا رہی تھی
چھوڑ دو مجھے وہ اس کے ہاتھ لگانے سے کانپتے ہوئے بول رہی تھی
آنیہ مجھے بہت محبت ہے تم سے جب سے تمہیں دیکھا تھا یہ دل تمہاری چاہ کرتا تھا ہر وقت تمہیں پانا چاہتا تھا میری محبت کو بے مول مت کرنا وہ اس کے ماتھے پر اپنا لمس چھوڑ کر بولا تھا
آنیہ نے گھبرا کر اس کی آنکھوں میں دیکھا تھا جہان اسے اپنے لیے محبت ہی محبت نظر آ رہی تھی
میں تم سے اجازت چاہتا ہوں وہ اس کے بالوں کو ڈوپٹہ سے آزاد کرتے ہوئے بولا تھا
آنیہ نے مسکرا کر مزحمت بند کر دی تھی اپنا سر اس کے سینے پر رکھ دیا تھا
تم نے سچ کہا میں ہمیشہ سراب کے پیچھے بھاگتی رہی اور خود کو ہمیشہ اعزیت دیتی رہی
پر اب مجھے سکون چاہیے محبت چاہیے اس دل کی چاہتا چاہیے وہ اس کے دل کے مقام پر انگلی رکھتے ہوئے بولی تھی
ریان کے چہرے پر مسکراہٹ آ گئی تھی
آنیہ نے اپنا چہرا اوپر اُٹھا کر اس کے ماتھے سے اپنا ماتھا ٹکا دیا تھا
ریان وہ مغرور نک چڑھی آج سے ابھی سے صرف اور صرف اپنے آفیسر کی ہے
ریان نے مسکرا کر اسے اپنے گلے لگا لیا تھا آنیہ نے بھی اطمینان سے اپنی آنکھوں کو موند کیا تھا اب زندگی میں محبت تھی
آنیہ نے سراب کے پیچھے بھاگنا چھوڑ کر محبت کو اپنا لیا تھا ریان کو خود سپردگی دے دی تھی
